Baaghi TV

Tag: مولانا فضل الرحمان

  • رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں،تجزیہ :شہزاد قریشی

    رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں،تجزیہ :شہزاد قریشی

    رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں

    وطن کے محافظوں کی قربانیاں کسی تنخواہ یا مفاد کا نتیجہ نہیں بلکہ فرض، وفاداری اور حب الوطنی کی عظیم داستان ہیں سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر شہداء کے خون اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو الزام تراشی اور نفرت کی سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے جو قومیں اپنے محافظوں کا احترام کرتی ہیں وہ مضبوط بنتی ہیں، اور جو اپنے ہی دفاع کو کمزور کرتی ہیں وہ خود اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں

    پاکستان ایک نازک خطے میں واقع ملک ہے جہاں اندرونی اور بیرونی خطرات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ایسے حالات میں اگر ہم ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن سے اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیں تو ایک حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ وطن کی سرحدوں سے لے کر شہروں اور دیہات تک، بے شمار لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک اور عوام کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

    یہ اختلاف کا نہیں، انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں جو روزانہ اس وطن کے لیے دی جا رہی ہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی جوان شہید ہو رہے ہیں۔ کہیں ایک ماں اپنے بیٹے کو دفنا رہی ہے، کہیں ایک بہن اپنے بھائی کی جدائی کا دکھ سہہ رہی ہے، اور کہیں معصوم بچے اپنے والد کے سائے سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو اس ملک کے امن اور استحکام کے لیے ادا کی جا رہی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اوقات سیاسی اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ قومی ادارے بھی الزام تراشی کا نشانہ بننے لگتے ہیں۔ تنقید ہر جمہوریت کا حق ہے، لیکن ایسی گفتگو جو قوم کے محافظوں کی قربانیوں کو مشکوک بنا دے، وہ نہ صرف شہداء کے لواحقین کے زخم تازہ کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

    میں پوٹھوہار کی اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں جسے بجا طور پر شہداء کی سرزمین کہا جاتا ہے، یہاں کے قبرستانوں میں وطن پر قربان ہونے والوں کی قبریں موجود ہیں اور بے شمار خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے، بھائی اور والد اس ملک کے دفاع کے لیے قربان کیے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ان جنازوں کو کندھا دیا ہے، ان گھروں کا درد دیکھا ہے اور ان آنکھوں کے آنسو دیکھے ہیں جن کے پیارے وطن پر نثار ہو گئے۔

    کیا کوئی شخص صرف تنخواہ یا مالی منفعت کے لیے موت کو گلے لگاتا ہے؟ کیا کوئی ماں اپنے جوان بیٹے کو صرف ایک ملازمت کے لیے رخصت کرتی ہے؟ نہیں، یہ جذبہ اس سے کہیں بلند ہے۔ یہ وطن سے محبت، فرض شناسی اور قومی ذمہ داری کا وہ احساس ہے جو انسان کو اپنی جان تک قربان کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔

    سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور قومی شخصیات کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے ان قربانیوں کا احترام کریں۔ قوموں کی طاقت ان کے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر ہم خود اپنے محافظوں کو کمزور کریں گے، ان کی نیتوں پر سوال اٹھائیں گے اور ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیں گے تو اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔

    آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نفرت کے بجائے اتحاد، الزام کے بجائے انصاف اور تقسیم کے بجائے یکجہتی کو فروغ دیں۔ شہداء کا احترام صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے بھی کیا جاتا ہے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے، اس کے محافظ بھی ہمارے ہیں، اور ان کی قربانیاں بھی ہماری مشترکہ قومی امانت ہیں۔

    خدارا، اس وطن پر رحم کیجیے، اس کے شہداء پر رحم کیجیے، ان ماؤں کے آنسوؤں کا احترام کیجیے جنہوں نے اپنے لختِ جگر پاکستان کے نام کر دیے۔ اختلاف ضرور کیجیے، مگر اپنے ہی وطن کے محافظوں کو کمزور مت کیجیے۔

  • مولانا فضل الرحمان کے بیان کوبھارت میں شہ سرخیوں میں جگہ ملی،شرجیل میمن

    مولانا فضل الرحمان کے بیان کوبھارت میں شہ سرخیوں میں جگہ ملی،شرجیل میمن

    سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ معرکہ حق میں بھارت کوعبرتناک شکست دی ،پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کالوہا منوایا،مولانا فضل الرحمان کے بیان سے ہر پاکستانی کی دل آزاری ہوئی۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بیان کو واپس لیں،الفاظ واپس لینےسےمولانا فضل الرحمان کی عزت کم نہیں ہوگی،معاملےکوانا کا مسئلہ نہ بنائیں مولانا فضل الرحمان کے بیان کوبھارت میں شہ سرخیوں میں جگہ ملی،وہاں خوشی منائی گئی ،ایسا بیان دینے سے گریز کیاجائے جس سے ہمارا دشمن خوش ہو،مولانا فضل الرحمان کیلئے دل میں بہت احترام ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ ہمارے شہدا ہمارا فخر ہیں،ملک کیلئے لڑنے کے جذبے کی قیمت تنخواہ نہیں ہوتی،جوان گھر سےنکلتےوقت والدین سے شہادت کی دعا کی درخواست کرتے ہیں،شہدا کا رتبہ ہمیشہ بلند رہے گا، بھارت اب پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے،بیان بازی سےشہید کےرتبے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ،پاک بھارت جنگ میں پوری قوم متحد تھی،پیپلزپارٹی نےکبھی اپنی افواج کےخلاف بات نہیں کی بھارت کےخلاف ہرمحاذ پر پاکستانی غازی ڈٹے رہے،مولانا فضل الرحمان بیان واپس لیں، ان کےقدوقامت میں اضافہ ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اس بار گندم کی اچھی فصل ہوئی،منافع خوروں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کی ،سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا،17 لاکھ ٹن گندم برآمد کی،سرکاری نوٹس جاری کیےگئے کہ ذخیرہ کی گئی گندم سرکار کےحوالے کی جائےگندم مارکیٹ میں آنے سےقیمت میں 13فیصد کمی ہوئی،گندم کی ذ خیرہ اندوزی کرنے والوں کارروائیاں جاری ہے،حکومت سندھ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل کافوری نوٹس لیا،پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیراعظم کےفیصلےملکی معیشت کومدنظر رکھ کرہوں گے،گندم پرپنجاب اورسندھ نےاپنی اپنی پا لیسی بنائی،پنجاب سے افغا نستان گندم جانےکی اطلاع درست نہیں،سندھ سےپنجاب گندم جانےکےشواہد موجود ہیں آئین کےتحت گندم کی بین الصوبا ئی ترسیل نہیں روکی جا سکتی ،مصطفیٰ کمال پہلے وفاقی وزارت سےمستعفی ہوں،نشست چھوڑکرضمنی انتخاب لڑیں، پتہ چل جائے گا۔

  • ملکی اداروں کیخلاف متنازع بیان:عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا

    ملکی اداروں کیخلاف متنازع بیان:عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک متنازع بیان کے خلاف گوجرانوالا کی عدالت میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے، جس پر عدالت نے انہیں 28 جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےپنجاب کے شہر قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملکی اداروں اور خاص طور پر فوج کے حوالے سے سخت اور متنازع گفتگو کی تھی اس دوران انہوں نے فوجی جوانوں کی شہادت کے حوالے سے بھی ایک انتہائی متنازع بیان دیا تھا،اس بیان کے خلاف گوجرانوالا میں ایک سینئر وکیل کی جانب سے پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو 28 جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

    دوسری جانب کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مذہبی رہنما مولانا حافظ طاہر اشرفی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور شہداء کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے انہوں نے سیکیورٹی اداروں پر ہونے والی تنقید اور متنازع بیانات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں شہداء کے اہلِ خانہ سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ شہداء کے لواحقین ان بیانات سے شدید غمزدہ ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان پر مجھے فخر ہے اور شہداء ہمارے سر کا تاج ہیں، اس لیے شہداء کے والدین کی دل آزاری کسی بھی صورت قبول نہیں کی جا سکتی، مولانا طاہر اشرفی نے سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتےہوئےواضح کیا کہ دہشت گرد اس ملک کے امن کے دشمن ہیں جبکہ ملک کے اندر ہماری فورسز کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ فورسز کے جوان محض تنخواہ کے لیے سرحدوں کی حفاظت نہیں کر رہے بلکہ یہ جوان ہمارے اور ہمارے وطن کے پرامن مستقبل کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں پاکستان اس وقت دنیا میں امن کے داعی کے طور پر ابھر رہا ہے اور اس امن کے پیچھے ان جوانوں کا خون شامل ہے۔

    انہوں نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سیاستدان ہمارے سیکیورٹی اداروں کو اپنی تنقید کا نشانہ نہ بنائیں بلکہ سیاستدانوں کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں ہمارے جوانوں کا حوصلہ بڑھائیں سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست کے میدان میں سیاست کریں، اداروں پر سیا ست کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے اور ہم آئندہ فورسز کے جوانوں کی توہین کرنے کی کسی کو بھی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کے مبینہ خطاب پر وفاقی وزراء اور دیگر سیاست دانوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل اور مذمت کا سلسلہ شروع ہوا اور ملک کی سیاسی قیادت نے اُن سے معافی کا مطالبہ کیا۔

  • مولانا فضل الرحمان نے آج تک  مسلمانوں کے تمام شہدا کی تضحیک کی ہے،فیاض الحسن چوہان

    مولانا فضل الرحمان نے آج تک مسلمانوں کے تمام شہدا کی تضحیک کی ہے،فیاض الحسن چوہان

    استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پاک فوج کے جوان تنخواہ یا پیسے کے لیے نہیں بلکہ وطن، قوم اور اپنے نظریے کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے –
    انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں افواج پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کالوہامنوایا،جنگ میں پوری قوم متحد ہوکرافوا ج پاکستان کےساتھ کھڑی ہوئی،پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت کی جانب سے سازشیں کی جا رہی ہیں، جبکہ سرحدوں پر تعینات سکیورٹی فورسز دشمن کے عزائم ناکام بنانے کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں، مولانافضل الرحمان نے شہداسے متعلق افسوسناک بیان دیا-

    فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ میجر عدنان شہید نے اپنے ساتھی کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کی، جبکہ شہید تحسین کے والد نے اپنے بیٹے کی شہادت پر بھی ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا، جو وطن سے محبت اور قربانی کے جذبے کی روشن مثال ہے،تنخواہ سیاست دان، ڈاکٹر اور دیگر تمام پیشہ ور افراد بھی لیتے ہیں، لیکن اس بنیاد پر کسی کی خدمت یا قربانی کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔

    انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان صاحب! آپ نے نبی پاکﷺ اور خلفائے راشدین سے لے کر آج تک مسلمانوں کے تمام شہدا کی تضحیک کی ہے، میں اللہ کے کرم سے ایک لٹریری اور دیوبند خاندان سے ہوں، جس کا ناجائز تاج تم (فضل الرحمان) اپنے سر پر بٹھاکر اپنے پورے خاندان کو پالنے لگے ہو-

  • رانا ثنا اللہ خان کا شہدا کو خراجِ تحسین ،نام لئے بغیر مولانا فضل پر شدید تنقید

    رانا ثنا اللہ خان کا شہدا کو خراجِ تحسین ،نام لئے بغیر مولانا فضل پر شدید تنقید

    وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور، سینیٹر رانا ثنا اللہ خان نے شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا نام لیے بغیر ان کے حالیہ بیان پر کڑی تنقید کی ہے-

    وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے جاری بیان اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’شہادت مقصود و مطلو بِ مومن ہے، یہ اس کا نصیب ہے جو قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن، یہ راز ہم دنیا داروں، تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے، اللہ تعالیٰ شہدا کے ورثا اور غازیوں کو صبرِ جمیل اور یقینِ محکم کی دولت سے مالا مال رکھے، کیونکہ یقینِ محکم ہی ہماری آزادی اور بقا کا ضامن ہے۔

    رانا ثنا اللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مولانا فضل الرحمان کے فوجی جوانوں کی قربانیوں سے متعلق حالیہ ریمارکس پر مختلف سیاسی و حکو متی شخصیات کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

  • فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے، خواجہ آصف

    فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے، خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کےغیر ذمہ دارانہ بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے بیان کو شہداء کی قربانی کی توہین قرار دے دیا۔

    وزیردفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں کہا کہ؛مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتازمذہبی رہنما ہیں ،ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے،فوجی جوانوں کی وطن کیلئے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری ہے،کوئی شخص محض تنخواہ کیلئے اپنی قیمتی جان کی قربانی نہیں دیتا۔

    انہوں نے کہا کہ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے،عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے،آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلا ف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری ہے اور پاک فوج سمیت دیگر اداروں کےجوان اور شہری شہادتیں دے رہے ہیں ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے،مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء،غازیوں،بیواؤں اور یتیموں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

  • افغان طالبان کا  مولانا فضل الرحمان سے  شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار

    افغان طالبان کا مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار

    امارت اسلامی افغانستان کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، اور شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا،ان رہنماؤں میں وزیر دفاع ملا یعقوب، وزیر داخلہ مولانا سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی، ترجمان ذبیح اللہ مجاہد شامل تھے۔

    جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے میڈیا سیل سے جاری بیان کے مطابق امارت اسلامی کی قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ شیخ ادریس شہید کی بلندی درجات کے لیے دعاگو ہیں اور ان کی شہادت کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہیں، امارت اسلامی افغانستان شیخ ادریس کی شہادت کے غم میں برابر کی شریک ہے اور پاکستانی عوام کی طرح افغانستان کے عوام بھی شیخ ادریس کی شہادت کے غم میں برابر کے شریک ہیں،جمعیت علما اسلام اور علما اور طلبا کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چارسدہ کے معروف عالم دین اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کو 5 مئی کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا اور تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور ایک حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے۔

  • عیدالفطر پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے کارکنوں کو عبدالخیل آنے سے روک دیا گیا

    عیدالفطر پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے کارکنوں کو عبدالخیل آنے سے روک دیا گیا

    جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے عیدالفطر کے موقع پر کارکنوں کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آبائی گاؤں عبدالخیل آنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

    جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کارکنوں کی قیادت اور خانوادہ مفتی محمود سے محبت اور عقیدت مثالی ہے، اور عیدین کے مواقع پر کارکنان کی بڑی تعداد ملاقات اور دعاؤں کے لیے حاضری دیتی رہی ہے تاہم ملک میں امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی خدشات اور قائد جمعیت کی صحت و انتظامی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    جمعیت کی قیادت نے تمام کارکنوں اور ذمہ داران، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ضلع سے ہو، ہدایت کی ہے کہ وہ عید کے موقع پر عبدالخیل نہ آئیں اور ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اعلامیے میں کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان بابرکت دنوں میں اپنی قیادت کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔

  • مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج ،شرمیلا فاروقی کا   سخت ردعمل

    مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج ،شرمیلا فاروقی کا سخت ردعمل

    مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کی مخالفت پر پی پی پی کی سینیٹر شرمیلا فاروقی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر صدر مملکت نے دستخط کیے تو ملک گیر احتجاج ہوگا، تاہم صدر آصف علی زرداری نے ‘صحیح سمت میں کھڑے ہونے’ اور ‘اس قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے’ کا فیصلہ کیا اور بل پر دستخط کیے، جو آج باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکنِ پارلیمان، جو خود قانون ساز ہے، ایوان میں کھڑے ہو کر منظور شدہ قانون کو چیلنج کرتا ہے اور ریاست کو للکارتا ہے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ تمام اراکین نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایوان کو چلائیں گے، اس لیے منظور شدہ قانون کو چیلنج کرنا پارلیمان کی بالاد ستی کے خلاف ہے۔

    سینیٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کو ‘شرعی’ یا ‘اسلامی معاملہ’ قرار دے کر متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں یہ قانو ن بچیوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے بنایا گیا ہے اور اس پر پہلے بھی مشترکہ اجلاس میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔

    چیئر کی جانب سے انہیں پوائنٹ آف آرڈر تک محدود رہنے کی ہدایت بھی کی گئی، تاہم انہوں نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ وہ اس قانون کی بانیوں میں شامل ہیں اور ایوان اس کا محافظ ہے، اس لیے ان کا جواب دینا ضروری ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی-

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے،قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے یہودیوں کی دربدری کی رپورٹ مرتب کی تھی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ انہیں فلسطین میں آباد نہ کیا جائے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا، انہوں نے ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فلسطینی تو شامل نہیں لیکن نیتن یاہو کو شامل کیا گیا ہے پاکستان کو حماس اور فلسطینیوں کے موقف کو دیکھنا چاہیے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کئے جا رہے ہیں؟ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟