Baaghi TV

Tag: مولانا فضل الرحمان

  • افغان طالبان کا  مولانا فضل الرحمان سے  شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار

    افغان طالبان کا مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار

    امارت اسلامی افغانستان کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، اور شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا،ان رہنماؤں میں وزیر دفاع ملا یعقوب، وزیر داخلہ مولانا سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی، ترجمان ذبیح اللہ مجاہد شامل تھے۔

    جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے میڈیا سیل سے جاری بیان کے مطابق امارت اسلامی کی قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ شیخ ادریس شہید کی بلندی درجات کے لیے دعاگو ہیں اور ان کی شہادت کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہیں، امارت اسلامی افغانستان شیخ ادریس کی شہادت کے غم میں برابر کی شریک ہے اور پاکستانی عوام کی طرح افغانستان کے عوام بھی شیخ ادریس کی شہادت کے غم میں برابر کے شریک ہیں،جمعیت علما اسلام اور علما اور طلبا کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چارسدہ کے معروف عالم دین اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کو 5 مئی کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا اور تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور ایک حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے۔

  • عیدالفطر پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے کارکنوں کو عبدالخیل آنے سے روک دیا گیا

    عیدالفطر پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے کارکنوں کو عبدالخیل آنے سے روک دیا گیا

    جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے عیدالفطر کے موقع پر کارکنوں کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آبائی گاؤں عبدالخیل آنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

    جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کارکنوں کی قیادت اور خانوادہ مفتی محمود سے محبت اور عقیدت مثالی ہے، اور عیدین کے مواقع پر کارکنان کی بڑی تعداد ملاقات اور دعاؤں کے لیے حاضری دیتی رہی ہے تاہم ملک میں امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی خدشات اور قائد جمعیت کی صحت و انتظامی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    جمعیت کی قیادت نے تمام کارکنوں اور ذمہ داران، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ضلع سے ہو، ہدایت کی ہے کہ وہ عید کے موقع پر عبدالخیل نہ آئیں اور ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اعلامیے میں کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان بابرکت دنوں میں اپنی قیادت کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔

  • مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج ،شرمیلا فاروقی کا   سخت ردعمل

    مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج ،شرمیلا فاروقی کا سخت ردعمل

    مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کی مخالفت پر پی پی پی کی سینیٹر شرمیلا فاروقی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر صدر مملکت نے دستخط کیے تو ملک گیر احتجاج ہوگا، تاہم صدر آصف علی زرداری نے ‘صحیح سمت میں کھڑے ہونے’ اور ‘اس قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے’ کا فیصلہ کیا اور بل پر دستخط کیے، جو آج باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکنِ پارلیمان، جو خود قانون ساز ہے، ایوان میں کھڑے ہو کر منظور شدہ قانون کو چیلنج کرتا ہے اور ریاست کو للکارتا ہے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ تمام اراکین نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایوان کو چلائیں گے، اس لیے منظور شدہ قانون کو چیلنج کرنا پارلیمان کی بالاد ستی کے خلاف ہے۔

    سینیٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کو ‘شرعی’ یا ‘اسلامی معاملہ’ قرار دے کر متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں یہ قانو ن بچیوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے بنایا گیا ہے اور اس پر پہلے بھی مشترکہ اجلاس میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔

    چیئر کی جانب سے انہیں پوائنٹ آف آرڈر تک محدود رہنے کی ہدایت بھی کی گئی، تاہم انہوں نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ وہ اس قانون کی بانیوں میں شامل ہیں اور ایوان اس کا محافظ ہے، اس لیے ان کا جواب دینا ضروری ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی-

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے،قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے یہودیوں کی دربدری کی رپورٹ مرتب کی تھی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ انہیں فلسطین میں آباد نہ کیا جائے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا، انہوں نے ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فلسطینی تو شامل نہیں لیکن نیتن یاہو کو شامل کیا گیا ہے پاکستان کو حماس اور فلسطینیوں کے موقف کو دیکھنا چاہیے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کئے جا رہے ہیں؟ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟

  • ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    لاہور: مولانا فضل الرحمان نےکہا ہے کہ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے۔

    لاہور میں کنونشن سے خطاب میں جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے،پاکستان اور افغانستان کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ اب کوئی مسلح جنگ نہیں ہونی چاہیے، مسلح گروہوں کو بھی اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، سیاست اور نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اور موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں منتخب نہیں ہیں گالیوں کی سیاست بدبودار اور بدنام ہو چکی ہے،انہوں نے حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا رہا وزیرستان میں گزشتہ ایک سال میں 3 علما کے قتل کی بھی نشاندہی کی اور کہاکہ ہم سفاک قاتلوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

    مولانا فضل الرحمان نے دینی مدارس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ طلبہ کو تعلیم اور رہائش کے ساتھ فراہم کرتے ہیں، جبکہ حکومت آج اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو حالیہ غیر منطقی اقدامات ہو رہے ہیں وہ دین اسلام کے خلاف ہیں، جب کوئی تنقید کرتا ہے تو میں اپنی کمزوری کو تلاش کرتا ہوں اور اسے سنجیدگی سے لیتا ہوں۔

    قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتار ی،مودی حکومت کی سفارتی کارکردگی پر سنگین سوالات

  • مدارس کو  کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان

    مدارس کو کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان

    راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

    راجہ بازار راولپنڈی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا اشرف علی کے مشکور ہیں جنہوں نے انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت دی، آج پوری دنیا کی حکمرانی اگرچہ امریکا کے ہاتھ میں ہے لیکن ایمان کی طاقت اس کے پاس نہیں، اسی لیے دینی مدارس ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت ہمارے دینی مدارس کر رہے ہیں، ایک طرف پی آئی اے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مدارس پر قبضے کی خواہش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں،

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علامہ شبیر عثمانی کو بھی انگریز نے اپنے سامنے ان پڑھ کہا تھا، آج بھی اسی سوچ کے نقشِ قدم پر چلا جا رہا ہے اور دین کے علم کو علم تسلیم نہیں کیا جاتا،مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں،ہمیں اداروں پر اعتماد نہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا، مدارس کے تحفظ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء متفق ہیں۔ ہم مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے، مگر کسی قسم کا دھوکہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    تقریب کے دوران نعرے بازی کرنے والے طلباء کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آپ نعرے لگانے کی بجائے کام کر رہے ہوتے تو پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں جیت جاتے لوگوں کو بتایا جائے کہ مدارس سیاست انبیا کی وراثت ہے اور ہم اس مسند کے حق دار ہیں۔

  • اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں،مولانا فضل الرحمان

    اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن سیاسی بنیاد پر ایسا اقدام انتشار کو جنم دے گا –

    رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن سیاسی بنیاد پر ایسا اقدام انتشار کو جنم دے گا ،صدارتی نظام اس ملک میں پہلے بھی ناکام ہو چکا ہے،اور آئندہ بھی نہیں چل سکتا،انتخابات شفاف ہوں تو عوامی مینڈیٹ کی عزت ہوگی پاکستان کا مستقبل صرف پارلیمانی نظام سے جڑا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں عوامی رائے کا احترام نہیں کیا گیا، اور اگر الیکشن میرٹ پر ہوتے تو آج ملک مہنگائی اور استحصال کا شکار نہ ہوتامولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کو سیاست میں مثبت قدم قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ہر جماعت کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے، لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر۔

    بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قاتل کو بھارت فرار کرانے والا ملزم گرفتار

    مدارس کی رجسٹریشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قانون پاس ہو چکا ہے، لیکن عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے اگر ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، مگر آئین سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا،انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے علما کو اعزازیہ دینے کے اعلان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ عمل علماء کی توہین ہے، شریعت میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں، احتساب سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

    افریقا میں ریسکیو ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،2 غیرملکی سیاح سمیت 5 ہلاک

  • افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    کراچی:جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپنی روایات بچانے کے لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں، ایک دوسرے کو عزت دینا ہماری روایات ہیں، اعزازی ڈگری کا شکریہ مگر میں خود کو مولانا کہلوانا پسند کروں گا۔

    کراچی میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے کر آج کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے کہ وہاں سے کچھ لوگ آئے اور کارروائی کرکے چلے گئےہمیں 78 سال کی افغان پالیسی پر بات کرنی چاہیے، افغانستان کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں رہا ، ظاہر شاہ سے اشرف غنی تک ہمیں کوئی افغا ن دوست حکومت نہیں ملی، کیا وجہ ہے؟ ہم اپنا بیانیہ تیار کریں گے تو الزام ان پر ہی دیں گے مگر ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کہ یہ ہماری افغان پالیسی کا فیلیئر تو نہیں؟ اس پر بھی بحث کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں شکایات افغان حکومت سے ہیں اور ہم زور ڈال رہے ہیں ان لوگوں پر جو چالیس سال سے ہمارے مہمان ہیں، مہاجرین کو مہمان کے طور پر ڈیل کیا جائے، مہاجرین جب بھی کہیں جاتے ہیں مسئلہ بنتا ہے یہ پاک افغان دوطرفہ مسئلہ ہے دیکھنا پڑے گا یہ چالیس برسوں میں افغانیوں نے پاکستان کی معیشت میں کتنا حصہ ڈالا؟ افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، پالیسی بنائے جائے افغانیوں کی صلاحیتیں پاکستان کے لیے استعمال ہوں۔

    مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین پاکستان کہتا ہے کہ آئین سازی قرآن و سنت سے ہٹ کر نہیں ہوگی مگر ہم نے حالیہ ترامیم میں کئی قانون پاس کیے ہیں چاہیے وہ 18 سال سے کم عمری کی شادی کا بل ہو، گھریلو تشدد کا بل ہو یا ٹرانس جینڈر ایکٹ ہو، ہم نے قرآن و سنت کو پس پشت ڈال کر صرف اقوام متحدہ کے کہنے پر قانون سازی کی، اس معاملے پر بات کی جائے ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں،2018ء اور 2024ء دونوں انتخابات عوامی نہیں اسٹیبلشمنٹ کے تھے۔

    کراچی:گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    ان کا کہنا تھا کہ دفاعی حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور ہمیں اسے برقرار رکھنا چاہیے ہم پاکستان کے طاقت ور دفاع کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن دفاعی قوت کو دفاعی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں کیوں کہ سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا دفاعی قوتوں کا نہیں عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، ہمیں سیاسی اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے اگر تمام ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک آگے بڑھے گا ہمیں ایک دوسرے کی بالادستی کے بجائے آئین کی بالادستی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    پاپوانیو گنی میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی طور پر بھی غزہ میں فوجیں نہ بھیجے اور کسی بھی امن فورس کا حصہ نہ بنے، ہمیں ایک تلخ تجربہ ہےماضی میں اُس وقت کے بریگیڈیئر ضیا الحق اردن گئے تھےاور فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کی تھی، فلسطینی وہ وقت بھولے نہیں، ایک دور میں یہ بھی ایشو اٹھا تھا کہ عراق فوج بھیجی جائے یا نہیں، یہ افواج پیس کیپنگ نہیں ہوتیں یہ جنگ کیپنگ ہوتی ہیں ان کا کام لڑنا ہوتا ہے پاکستان کسی صورت یہ غلطی نہ کرے۔

  • مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    امیر جے یو آئی (ف)مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا۔

    گورنر ہاؤس کراچی میں خصوصی کانووکیشن کا انعقاد کیا گیا، جہاں سر سید یونیورسٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی ،جےیوآئی کےسیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری ،علامہ راشد محمود سومرو بھی تقریب میں شریک تھے۔

    بعد ازاں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے جبکہ بھارت کے خلاف پاکستان کو زبردست کامیابی ملی۔

    انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو پاکستان کے حوالے کرے دہشت گردی کے تمام تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،بھارت شکست کا بدلہ لینے کے لیے مختلف حرکتیں کر رہا ہے اور پاکستان اس وقت معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے پاکستان کی سالمیت کی بات آئے گی تو سب کو کردار ادا کرنا ہو گا، آج مولانا فضل الرحمان کے لیے خود حلیم بنائی، اور امید کرتا ہوں کہ انہیں میری بنائی گئی حلیم پسند آئی ہو گی۔

  • حکمران  پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے،مولانا فضل الرحمان

    حکمران پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انشاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے گا

    امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے جامعہ مفتاح العلوم مستونگ بلوچستان کی سالانہ تقریب سے آن لائن خطاب میں کہا کہ مجلسِ اتحادِ امت کے زیر اہتمام مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندگان اور دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجتماع 22 دسمبر کو کراچی میں منعقد ہوگا ،اجتماع میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ہمارا ملک کس سمت جا رہا ہے-

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجتماع میں پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں پر غور کیا جائے گا،اجتماع میں ملک کی ترقی، صوبوں میں عوام کے حقوق، بالخصوص چھوٹے صوبوں کے مسائل پر بات کریں گے،افغانستان اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ، موجودہ مشکلات کے حل، دوست ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانے اور شکایات کے ازالے کے لیے تعمیری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان

    انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے،اجتماع کے فیصلوں سے ملک کے مستقبل پر دیرپا اثرات ظاہر ہونگے ،آج پوری دنیا میں دینی علوم کے حوالے سے برصغیر، اور بالخصوص پاکستان، ایک نمایاں مقام رکھتا ہے،ہمارے اکابر کی شروع کی ہوئی جدوجہد کی بنیاد پر قرآن، سنت، حدیث اور فقہ کے علوم کی حفاظت ہو رہی ہے۔

    امیر جے یو آئی نے کہا کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل علماء اور اساتذہ مختلف ممالک میں قرآن و حدیث کے ماہرین کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں، مدار س کے طلبہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں،امتحانات میں مسلسل بورڈ ٹاپ کر رہے ہیں ایسا ذہین اور محنتی ٹیلنٹ شاید دنیا میں کم ہی ملے، افسوس کہ ہمارے ملکی نظام میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں اس کی قدر پیدا فرمائے۔

    https://x.com/juipakofficial/status/2000910998316929083?s=20

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے حکمران نہ صرف قرآن و سنت سے ناآشنا ہیں ،بلکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کر رہے، حا لیہ دنوں میں کی گئی آئینی ترامیم اور قانون سازی واضح طور پر قرآن، سنت اور حدیث کے منافی ہے،انہیں دینی علوم اور قرآنِ کریم کی صحیح سمجھ ہوتی تو وہ ایسی غلطیاں ہرگز نہ کرتے جیسی حالیہ دنوں میں اسمبلی کے اندر کی گئیں۔