Baaghi TV

Tag: مولانا فضل الرحمن

  • موجودہ حکومت بھی پالیسی میں تبدیلی نہیں لا سکی،مولانا  فضل الرحمٰن

    موجودہ حکومت بھی پالیسی میں تبدیلی نہیں لا سکی،مولانا فضل الرحمٰن

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے گلہ تھا لیکن موجودہ حکومت بھی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکی۔

    پشاور میں مجلسِ عمومی خیبر پختون خوا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و سکون نام کی کوئی چیز نہیں، عوام کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مفادات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور پاکستان کے معاشی راستے کو روکا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں حکومت نام کو نہیں، یہاں بیڈ گورننس نہیں بلکہ مس گورننس ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن کا بازار نہیں بلکہ مارکیٹ گرم ہے اور اس حکومت کی سرپرستی کرنے والے صوبے کو تباہ کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔

    کراچی ڈیفنس میں پولیس موبائل پر فائرنگ، 11 خول برآمد

    ایشیا کپ 2025: بھارتی کھلاڑیوں کا پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز

    نیپال کی نئی عبوری وزیراعظم سشیلا کارکی کا کرپشن کے خاتمے کا وعدہ

    سندھ میں سیلابی صورتحال، 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

  • ختمِ نبوت اور دینی مدارس کے تحفظ کی جدوجہد جاری رہے گی،مولانا فضل الرحمٰن

    ختمِ نبوت اور دینی مدارس کے تحفظ کی جدوجہد جاری رہے گی،مولانا فضل الرحمٰن

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    انٹرنیشنل ختمِ نبوت موومنٹ کے امیر مولانا سعید احمد عنایت اللّٰہ نے لاہور میں مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی اور بتایا کہ 7 ستمبر کو یومِ تحفظِ ختمِ نبوت پر سیمینار اور کانفرنسز منعقد کی جائیں گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور رضا کاروں کو ہدایت کی کہ وہ سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کریں اور رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔

    اسرائیلی آرمی چیف کا بیرون ملک موجود حماس قیادت کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان

    اوگرا نے ایل پی جی کی نئی قیمت جاری کردی

    قومی اسمبلی اجلاس کا ایجنڈا جاری، سیلاب اور قانون سازی زیرِ غور

    پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

  • مولانا فضل الرحمٰن کا نواز شریف سے رابطہ، کزن کے انتقال پر تعزیت

    مولانا فضل الرحمٰن کا نواز شریف سے رابطہ، کزن کے انتقال پر تعزیت

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے فون پر گفتگو کے دوران نواز شریف کے چچا زاد بھائی میاں شاہد شفیع کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔انہوں نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ مرحوم کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی بھی دعا کی۔

    واضح رہے کہ نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف کے کزن میاں شاہد شفیع 2 اگست کو انتقال کر گئے تھے۔ ان کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔

    آیہ صوفیہ مسجد کو آگ لگانے کی کوشش ناکام، ملزم گرفتار

    بنگلہ دیش:عام انتخابات فروری 2026 میں ہوں گے

    ملک ریاض کا بحریہ ٹاؤن کی سرگرمیاں ملک بھر میں بند کرنے کا عندیہ

  • سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرخ کھوکھر جمعیت علمائے اسلام میں شامل

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرخ کھوکھر جمعیت علمائے اسلام میں شامل

    معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرخ کھوکھر نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ ان کا اعلان پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں اسلام آباد میں واقع ان کے ڈیرے پر ہونے والی تقریب کے دوران کیا گیا۔

    فرخ کھوکھر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گھرانہ سیاسی پس منظر رکھتا ہے اور ان کے والد پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ سیاسی و معاشی حالات سے نکالنے کے لیے وہ جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے اپنا کردار ادا کریں گے.تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے فرخ کھوکھر کی جے یو آئی میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے، مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہمسایہ ممالک ترقی کر رہے ہیں جبکہ پاکستان مسلسل پستی کا شکار ہے، جب تک عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آئے گی، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔تقریب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    کراچی میں آج مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال، کاروباری مراکز بند رہیں گے

    بھارت،ایک ہی دن 100 کے قریب اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول

    اسلام آباد ایکسائز کا نئی پالیسی کا نفاذ، ملکیتی نمبر پلیٹس کا اجراء

  • مسلم لیگ (ن) کا اعلیٰ سطحی وفد مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا

    مسلم لیگ (ن) کا اعلیٰ سطحی وفد مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا

    حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطح کے وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

    ملاقات اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ہوئی۔وفد میں وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل تھے۔جے یو آئی کی جانب سے اکرم درانی، مولانا لطف الرحمٰن، کامران مرتضیٰ، مولانا عطاء الرحمٰن، مولانا اسعد محمود جبکہ ن لیگ کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی اور ہارون محمود بھی شریک ہوئے۔

    ملاقات میں خیبر پختونخوا میں پارٹی پوزیشن اور 21 جولائی کے سینیٹ انتخابات سے متعلق مشاورت کی گئی۔دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کے مطابق، ملاقات کا مقصد سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور آئندہ اہم فیصلوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

    مسلم لیگ (ن) کا اعلیٰ سطحی وفد مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا

    وفاقی ترقیاتی بجٹ جاری کرنے کی حکمت عملی تیار

    یورپ میں شدید گرمی کا قہر، 10 دن میں 2,300 افراد ہلاک

    اداکارہ حمیرا اصغر کی میت کے لیے لواحقین کا حکام سے رابطہ، تدفین کل متوقع

  • مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، سیاست، فاٹا انضمام اور فلسطین پر دو ٹوک مؤقف

    مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، سیاست، فاٹا انضمام اور فلسطین پر دو ٹوک مؤقف

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 2024ء کے عام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح 2018ء کا الیکشن جعلی تھا، ویسے ہی یہ انتخابات بھی جعلی ہیں، ہم نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔

    شعائر اسلام کانفرنس سے خطاب میں مولانا نے کہا کہ نہ پچھلی حکومت کو چلنے دیا، نہ اس حکومت کو چلنے دیں گے۔ عوام کے فیصلے کے آگے سرِ تسلیم خم کیا جائے۔عوام اور جے یو آئی میں فاصلے پیدا نہیں ہو سکتے،آگے بڑھیں گے اور پاکستان کے اندر انقلاب برپا کریں گے۔ہم چیختے رہے کہ قبائلی عوام اس انضمام پر راضی نہیں تھے، آج پچھتا رہے ہیں کہ یہ فیصلہ غلط تھا۔

    "مولانا فضل الرحمٰن کا ً مزید کہنا تھا کہ ہم بغیر عوام کے کسی حکمرانی کو نہیں مانتے۔ ملک آئینی راستے سے ہٹ رہا ہے۔ملک اگر امریکا کی رضا مندی سے چلایا جا رہا ہے تو جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہو؟، ایوان میں 18 سال سے کم عمر نکاح کو ناجائز قرار دیا گیا، جو آئین اور شریعت کے خلاف ہے۔عالم دین کے خلاف بندوق اٹھانا جہاد نہیں بلکہ تنگ نظری ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے سوات میں سیاحوں کے طغیانی میں بہہ جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سیاحتی مقامات پر احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ انتظامیہ کی لاپرواہی بھی ناقابل قبول ہے۔فلسطین میں 60 ہزار شہادتیں ہو چکیں، مگر ٹرمپ کو جنگ بندی کی یاد اب آئی جب ایران نے بمباری کی۔”

    ترک صدر طیب اردوان کی خیبرپختونخوا حملے کی مذمت

    پاکستان سے مفرور 2 ملزمان اسپین میں گرفتار

    پشاور،حملے کی کوشش ناکام، خودکش حملہ آور اور ہینڈلر ہلاک

    گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے سے خطرناک صورتحال، کئی علاقے زیرِ آب

  • مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی دعوت کو قبول کر لیا

    مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی دعوت کو قبول کر لیا

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے امریکی سفارتخانے کی جانب سے دی گئی دعوت قبول کر لی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر امریکی ناظم الامور سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس کے دوران امریکی ناظم الامور نے مولانا فضل الرحمان کو امریکہ کے یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی، جو انہوں نے قبول کر لی۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی صورتحال اور پاک امریکہ تعلقات پر بھی گفتگو کی گئی۔ مولانا فضل الرحمان آئندہ دنوں میں امریکی سفارتی حکام سے ملاقات کریں گے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

    خیبرپختونخوا دلیر اور غیور لوگوں کی سرزمین ہے،وزیراعظم

  • بھارت نے ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر سویلین و مذہبی مراکز کو نشانہ بنایا، مولانا فضل الرحمٰن

    بھارت نے ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر سویلین و مذہبی مراکز کو نشانہ بنایا، مولانا فضل الرحمٰن

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے اپنی سیکیورٹی ناکامی کا الزام پاکستان پر ڈال کر شہری اور مذہبی مراکز پر حملے کیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر جارحیت کی، جو کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔ پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ بھارت کی جانب سے بلاجواز حملہ ایک پہل تھی اور پاکستان نے دفاعی ردعمل کے تحت کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کو خطرہ لاحق ہوا، مسجد اور مدرسے کے نوجوان فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔ فوج بھی تسلیم کرتی ہے کہ عوام کی حمایت کے بغیر جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔”

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی ہو چکی ہے، مگر خطے کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے 1971 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت عوام کی حمایت نہ ہونے کے باعث فوج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی، لیکن موجودہ صورتحال میں پوری قوم افواجِ پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے۔ہم پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، دفاعی محاذ پر ہم حالتِ جنگ میں ہیں، اور بھارت کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہم ایک ہیں۔

    مولانا کا کہنا تھا کہ مودی حکومت اندرونی اور بیرونی سطح پر تنہا ہو چکی ہے اور اپنی شکست کو چھپانے کے لیے مزید اشتعال انگیزی کا سہارا لے سکتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے چین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چینی ٹیکنالوجی نے دفاعی میدان میں خود کو منوایا ہے، اور پاکستانی ہوابازوں نے اسے بہترین انداز میں استعمال کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ چین اور پاکستان کی دوستی اب اقتصادی سے بڑھ کر دفاعی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، جو وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔”

    انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ افغان سرحد پر امن قائم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات ناکافی ہیں، اور اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کسی بھی بیرونی خطرے سے محفوظ رہے۔اپنی تقریر میں مولانا فضل الرحمٰن نے ملک میں خوف کی فضا پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہاگر ہم ملک میں خوف ختم نہیں کریں گے تو لوگ مایوس ہوں گے۔ ہمیں اعتماد پیدا کرنا ہوگا اور یہی پیغام ہم نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جلسے کرکے دیا ہے۔

    مولانا نے ڈرونز کے استعمال پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر پاکستان خود بھی وزیرستان میں ڈرون استعمال کر رہا ہے تو ہندوستان کے ڈرونز کا مؤثر جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ کو اس حوالے سے پالیسی واضح کرنی چاہیے۔مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کی منظوری کو شریعت سے متصادم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے مشورے کے بغیر منظور نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

    انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اس بل پر پینل آف چیئر سے رولنگ لی جائے اور اسے فوری طور پر روک دیا جائے۔انہوں نے قومی یکجہتی کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے متنازع قانون سازی سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک طرف بوری میں غلہ ڈال رہے ہیں، دوسری طرف سوراخ کر کے نکال رہے ہیں، اس طرح قومی یکجہتی نہیں ہو سکتی۔”

    پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا کا کوئی کردار نہیں،بھارتی سیکرٹری خارجہ

    بھارت کی دھمکیاں،چین نے مہمند ڈیم پر کام کی رفتار بڑھا دی

    ٹرمپ کا روس-یوکرین فوری جنگ بندی مذاکرات شروع کروانے کا دعوی

    سندھ حکومت کا 28 مئی کو عام تعطیل کا اعلان

    ہیٹ ویو الرٹ,ملک بھر میں شدید گرمی کا امکان

  • حافظ نعیم  ،مولانا فضل کی  ملاقات، ملکی موجودہ سیاسی صورتحال اور غزہ کے حوالے سے بات چیت

    حافظ نعیم ،مولانا فضل کی ملاقات، ملکی موجودہ سیاسی صورتحال اور غزہ کے حوالے سے بات چیت

    لاہور:جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات کی اور انہیں 27 اپریل کو مینار پاکستان میں منعقد ہونے والے اسرائیل مخالف مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔

    ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کے لیے مولانا فضل الرحمٰن منصورہ پہنچے حافظ نعیم الرحمٰن اور لیاقت بلوچ سمیت جماعت کے دیگر قائدین نے استقبال کیا، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں متحد ہوکر آواز اٹھانے کا عزم کیا،ملاقات میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال اور غزہ کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
    مریم نواز کا گندم کے کاشتکاروں کیلئے 110 ارب روپے کے پیکج کا اعلان
    جے یو آئی ف کے راشد سومرو اور مولانا امجد خان جبکہ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، مولانا جاوید قصوری وار امیر العظیم بھی ملاقات میں موجود تھے۔

    حافظ نعیم ،مولانا فضل کی ملاقات، ملکی موجودہ سیاسی صورتحال اور غزہ کے حوالے سے بات چیت

    پی ٹی آئی سے اتحاد نہ کرنے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں، جے یو آئی

  • فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، مولانا فضل الرحمن

    فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، مولانا فضل الرحمن

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے ، سیاسی یا معاشی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نےکراچی میں شاہراہ قائدین پر جمعیت علمائے اسلام کے تحت اسرائیل مردہ باد ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ملین مارچ سے جمعیت علمائے اسلام سندھ کے امیر سائیں عبدالقیوم ہالیجوی ، جنرل سیکرٹری مولانا راشد محمود سومرو ، مرکزی رہنما انجینئر ضیاء الرحمن ، قاری محمد عثمان ، مولانا عبدالکریم عابد ، عبدالرزاق ، حاجی عبدالمالک تالپور ،مولانا سمیع الحق سواتی ، مولانا نور الحق اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ مولانا فضل الرحمن کے اسٹیج پر ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا ۔ شرکاء نے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم اٹھا رکھے تھے ۔ شرکاء نے اسرائیل مردہ باد اور فلسطین کی حمایت میں نعرے لگائے ۔ ملین مارچ سے خطاب کے لیے بڑا اسٹیج تیار کیا گیا تھا ۔ جلسہ گاہ میں مولانا فضل الرحمن کو فلسطینی پرچم پہنایا گیا ۔

    مولانا فضل الرحمن نے ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجتماع نے اہل عرب اور غزہ کو حوصلہ دیا ہے ۔ فلسطینی عوام تنہا نہیں ہیں ۔ ہم خون کے آخری قطرے تک ان کے ساتھ ہیں ۔ مسلمان حکمران اپنی غیرت کا مظاہرہ کریں اور فلسطینیوں کی مدد کریں ۔ آج ایک ملین کراچی کی عوام آپ کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ آپ اپنا فرض پورا کرکے غزہ کی مدد کریں ۔ 60 ہزار سے زائد مردوں ، 55بچوں اور 20 ہزار خواتین کی شہادت ہوئی ہے ۔ لیکن اسلامی ممالک کے حکمران امریکہ کے پٹھو بن چکے ہیں ۔ وہ اسرائیل کی غلامی کر رہے ہیں ۔ آج سب کو اٹھ کھڑا ہونا ہو گا اور اسرائیل کی جارحیت کو روکنا ہو گا ۔ اسرائیل کوئی ملک نہیں ۔ اس نے فلسطین پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ 77 سال ہو گئے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی معیشت تبدیل ہو رہی ہے ۔ ایشیا ء کی معیشت پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ یہاں کی معدنیات اور قدرتی وسائل پر ان کی نظریں ہیں ۔ انشاء اللہ جلد عالمی معیشت ایشیاء کے ہاتھ میں آئے گی اور امریکا اسی پر پریشان ہے ۔ ہم امریکا کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ عرب دنیا میں مداخلت بند کرے اور مسلمانوں کا خون نہ بہائے ۔ افغانستان امریکا کے لیے ایک سبق ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ امریکا اپنی دفاعی قوت اور اہمیت کھو بیٹھے ۔ آج یہاں پر بیٹھے لاکھوں لوگوں نے فلسطینیوں کے موقف کی حمایت کی ہے ۔ اسرائیل کے حوالے سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور قیام پاکستان کا واضح موقف ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور کسی کو اس موقف سے روح گردانی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ علمائے کرام نے مجلس اتحاد امت کے پلیٹ فارم سے جو جہاد کا فتویٰ دیا ہے ، ہم سب اس کی تائید کرتے ہیں ۔ اسرائیلی وزیر اعظم کو عالمی عدالت انصاف نے جنگی مجرم قرار دیا ہے ، اس کو پھانسی دی جائے ۔ غزہ کے مسلمانوں کی اخلاقی ، سفارتی اور ہر طرح کی امداد ہم سب پر فرض ہے ۔

    جے یو آئی سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی قوتیں ایک ایسے عمل میں اسرائیل کو حمایت اور تائید دے رہے ہیں ، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔ ایک صدی پہلے تک کرہ ارض پر اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہیں تھی ۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد اسرائیل کو مسلط کیا گیا ہے ۔ لیگ آف نیشن نے یہاں ان کو بسانے کی تجویز دی تھی ۔ اس میں طے یہ ہوا تھا کہ کسی کو یہاں پر آباد نہیں کیا جائے گا ۔ فلسطینیوں پر اپنی سرزمین بیچنے کا الزام بے بنیاد ہے ۔ برطانیہ نے ایک سازش کے تحت فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرایا ۔برطانیہ کی عادت ہے کہ وہ دنیا میں تنازعات چھوڑ دیتا ہے ۔ برصغیر سے چلا گیا اور کشمیر کا تنازع چھوڑ گیا ۔ یہ عادت اس لیے تاکہ لوگ لڑتے رہیں ۔ جب بہت سی ریاستیں وجود میں آئیں تو برطانیہ نے عرب دنیا میں اسرائیل کا تنازعہ چھوڑ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور افغانستان میں لوگوں کے شرعی قصاص پر بھی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں ۔ مگر 60 ہزار سے زائد انسانوں کو شہید ، ایک لاکھ سے زائد زخمی اور لاکھوں کو بے گھر کرنے پر سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ پورے غزہ کو صفہ ہستی سے مٹایا گیا ۔ امریکا کے ہاتھوں سے انسانی خون ٹپک رہا ہے ۔ اسے اب قیادت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے پورے ملک میں فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کیا ہے ۔ ہمیں اسرائیل کی سازش کو سمجھنا چاہئے ۔ جب قرار داد پاکستان لائی گئی تو قائد اعظم نے اس قرار داد میں اس بات کو حصہ بنایا کہ یہودی ریاست ناقابل تسلیم ہے ۔ اسرائیل کا پاکستان کے حوالے سے نظریہ غیر مبہم رہا ہے ۔اس کے باوجود اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں مقاصد پاکستان کے خلاف ہیں ۔ پاکستانیوں نے تمہارے اس احتجاج ، نعروں اور اجتماعات سے آج بھی صہیونی قوتیں خوف زدہ ہیں ۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی ، معاشی تعلقات کرنا یا راہ ہموار کرنا آپ کے لیے آسان نہیں ہو گا ۔ پاکستانی حکمرانوں تم اسرائیل کو تسلیم کرا سکو گے اور نا ہی قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان تسلیم کرانے پر کامیاب ہوں گے ۔ جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جانب قدم بڑھایا یا کوشش کی اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں مقتدر قوتوں ، سول بیورو کریسی ، جاگیر داروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یورپ ، امریکا اور اسرائیل کی غلامی سے کام نہیں چلے گا ۔ آپ عوام کے جذبات کا احترام کریں ۔ ہم وہ قوتیں ہیں ، جس نے تمہارے آقاوں کی زبانیں روکیں ۔ تم ہمیں ایوان سے باہر رکھ سکتے ہو لیکن عوام سے دور نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دے چکی ہے ۔ اس کو بھی پھانسی دینا ہو گی ۔ جنگی مجرم کا ساتھ دینے والا بھی جنگی مجرم ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو امریکا اور اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں ، وہ فلسطینیوں کے قاتل ہیں ۔ ہم فلسطینیوں اور حماس کے ساتھ ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ تم نے افغانوں اور امارت اسلامیہ کو دہشت گرد کہا اور پھر ان سے معاہدہ کیا اور اب حماس کو دہشت گرد کہہ رہو ۔ اب تمہاری یہ دہری پالیسی نہیں چلے گی ۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے نعروں اور اجتماعات سے کئی اسلامی ممالک جاگ چکے ہیں ۔ ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔ تم فلسطینی آبادیوں کو بم مار کر تباہ کر سکتے ہیں ۔ لیکن تم مجاہدین کو ختم نہیں کر سکتے ۔ یہ مجاہدین تمہیں ختم کر دیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے اسلامی جارحیت کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا ہے ۔ہم اس کی مکمل تائید کرتے ہیں ۔ اب 27 اپریل مینار پاکستان لاہور میں ” مردہ باد اسرائیل ملین مارچ ” ہو گا ۔ جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل راشد محمود سومرو نے کہا کہ حکومت کو کینال بنانے کا منصوبہ واپس لینا ہو گا ۔ سندھ کے کسانوںکی جنگ لڑیں گے ۔ کراچی میں ٹینکر مافیا کے خلاف آواز بھی جے یو آئی بلند کرے گی ۔ سندھ میں جاگیرداروں کا راج نہیں چلے گا ۔ ہم غزہ کی آواز ہیں ۔ یہ انسانوں کا سمندر ہے ۔ اس کے ذریعہ امریکا اور اسرائیل کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اب غزہ میں ظلم بند کریں ۔ مولانا فضل الرحمن کے نام پر صہیونیوں پر زلزلہ طاری ہو جاتا ہے ۔ سرحد کھول دیں ہم فلسطینیوں کا تحفظ کریں گے ۔

    جے یو آئی کے رہنما مولانا ضیاء الرحمن نے کہاکہ فلسطین کے مسئلے پر امت مسلمہ کے حکمران خاموش ہیں ۔ آج کا یہ مجمع انہیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ خواب غفلت ختم کر دیں اور مظلوم فلسطینیوںکا ساتھ دیں ۔ جے یو آئی کے رہنما مولانا محمد صالح نے کہا کہ آج کا یہ ملین مارچ عہد کرتا ہے ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چولستان کینال کا منصوبہ ختم کیا جائے ۔ جے یو آئی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات مولانا سمیع سواتی نے کہا کہ یہ مارچ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں منعقد کیا گیا ہے ۔ اسرائیلی دہشت گرد نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ۔ امت مسلمہ کو اسرائیلی مظالم روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد نے کہا کہ ہم غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور ان کے لیے ہر ممکن مدد کی کوشش کریں گے ۔

    ننکانہ: بیساکھی میلے کی خوشی میں شاندار آتشبازی، فضاء رنگ و نور سے جگمگا اٹھی

    آرمی چیف سے امریکی وفد کی ملاقات، آئی ٹی میں تعاون کی یادداشتوں پر دستخط

    جماعت اسلامی کی 22 اپریل کو پہیہ جام ہڑتال کی کال

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 6 دہشت گرد ہلاک