Baaghi TV

Tag: مون سون

  • بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی

    بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،شہری انتظامیہ اس شہر کی بجائے اس وقت اپنے اپنے گاؤں میں موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں مسلسل چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، دوپہرسے شروع ہونے والی اس موسلا دھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ندیوں میں پانی کا بہاﺅ تیز ہوگیا، ملیر میمن گوٹھ کے بعد گڈاپ ندی میں بھی طغیانی ہے۔

    شہر قائد میں آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    پانی کے تیز بہاﺅ کے باعث نالے کے اوپر بنائی گئی سڑک بھی بیٹھ گئی۔ پانی میں گاڑی پھنس گئی، پک اپ سوزوکی میں قربانی کا جانور بھی موجود تھا۔رات گئے پانی کے تیز بہاﺅمیں پھنسنے والے 5 سے 4 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

    کراچی شہر کے مختلف علاقوں گلشن حدید، ملیر، اسٹیل ٹان، گھگھر پھاٹک، نیشنل ہائی وے، سپرہائی وے، گلزار ہجری، بفرزون، نارتھ کراچی، یوپی موڑ، سرجانی ٹاﺅن، ڈسکوموڑ، گلستان جوہر، حیدری، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، گڈاپ کاٹھور، گلشن اقبال، یونیورسٹی روڈ، ایم اے جناح روڈ، کے ڈی اے، شادمان ودیگر علاقوں موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

    بارشوں سے 135 سے زائد افراد جاں بحق، مزید بارشوں کا امکان

    گلستان جوہر، گلشن اقبال، گڈاپ، لیاقت آباد، ملیر سمیت کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے، شہر بھر کی سڑکیں زیر آب اور دریا کے مناظر پیش کررہی ہیں جب کہ برساتی پانی گھروں میں بھی داخل ہوچکا ہے جس کے باعث شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    کراچی میں رات سے جاری بارش کے باعث مختلف علاقوں کی سڑکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہوگیا جس سے علاقہ مکینوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے-

    کراچی حیدر آباد موٹروے پر پانی کا بڑا ریلا آ جانے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے،رات گئے ہونے والی شدید بارش کے باعث چند گھنٹوں کے لیے ٹریفک کو معطل کرنا پڑا۔

    شاہراؤں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے کے بعد گاڑیاں، موٹر سائیکلز، آٹو رکشا وغیرہ پھنسے ہوئے ہیں۔نشیبی علاقوں سے رہائشیوں کی نقل مکانی جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں تیز اور موسلا دار بارش کا سلسلہ آج شام تک جاری رہنے کا امکان ہے جب کہ آئندہ دو روز کے دوران کراچی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

    آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لیے بکراعید اللہ کی نعمت ہے،ماہرین غذائیت

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق گذشتہ دنوں بارش کا سبب بننے والا ہوا کا کم دباؤ گوادر کے جنوب میں ہے، سسٹم کا پھیلاؤ کراچی اور زیریں سندھ پر اب بھی موجود ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ سسٹم کے تحت کبھی تیز اور کبھی معتدل بارش ہورہی ہے، پیر کو بھی دن بھر ہلکی اور معتدل بارش کا سلسہ جاری رہنے کاامکان ہے۔ 14 جولائی کی شام سے بارش برسانے والا ایک اور سسٹم بھی آسکتا ہے،جو 18 جولائی تک اثر اندازرہےگا پہلے سسٹم کی طرح دوسرا سسٹم بھی مضبوط ہوسکتا ہے، دوسرے سسٹم میں تیز اور موسلا دار بارش کا امکان ہے۔

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،شہری انتظامیہ اس شہر کی بجائے اس وقت اپنے اپنے گاؤں میں موجود ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیوریج سسٹم بیٹھ گیا ، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں،سندھ حکومت کی نااہلی کا خمیازہ کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مختلف حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، حکومت اور انتظامیہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی،صوبائی وزرا اور افسران اپنے اپنے آبائی علاقوں میں عید منانے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ڈیفنس، کلفٹن، کیماڑی، بلدیہ ٹاؤن اور موسیٰ کالونی کے علاقے زیر آب آچکے ہیں،کراچی والوں کو لاوارث سمجھ کر ان کی جان و مال سے کھلواڑ بند کیا جائے۔

    بارشوں سے حب ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5.6 فٹ رہ…

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما علی زیدی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی نااہلی نے کراچی کو ایک بار پھر ڈبو دیا،ان کے وزراء شہریوں کی عید خراب کر کے چھٹیاں گزارنے میں مصروف ہیں۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے تجارتی حب صدر میں دکانوں میں پانی داخل ہو چکا ہے، سب سے زیادہ ٹیکسں دینے والے تاجروں کی املاک کو نقصان پہنچ رہا ہے سندھ حکومت کی نااہلی نے ابر رحمت کو زحمت میں تبدیل کردیا ہے، طوفانی بارشوں کے باوجود حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔

    علی زیدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومتی مشینری کا استعمال صرف سیاسی مخالفین پر کرتی ہے، 14 سالوں سے سندھ پر پیپلز پارٹی کا راج ہے شہر کی تباہ حالی کے ذمہ دار وزیر اعلی سندھ اور مرتضی وہاب ہیں،ایڈمنسٹریٹر کراچی نیند سے جاگ جائیں تو دیکھیں شہر کی صورتحال کیا ہے۔

    آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں آبادی کا عالمی دن منایا جائے گا

  • شہر قائد میں آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    شہر قائد میں آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    کراچی : محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے-

    کراچی،دوسرے سسٹم میں تیز اور موسلا دار بارش کا امکان ہے 14 جولائی کی شام سے بارش برسانے والا ایک اور سسٹم آسکتا ہے، یہ سسٹم 18 جولائی تک اثر اندازرہےگا، سسٹم کا پھیلاؤ کراچی اور زیریں سندھ پر اب بھی موجود ،سسٹم کے تحت کبھی تیز اور کبھی معتدل بارش ہورہی ہے، گزشتہ دنوں بارش کا سبب بننے والا ہوا کا کم دباؤ گوادر کے جنوب میں ہے،تیز اور موسلا دار بارش کا سلسلہ آج شام تک جاری رہنے کا امکان ہے –

    کراچی میں صفورا چورنگی،کرن اسپتال روڈ اور کراچی یونیورسٹی کے اطراف پانی جمع ہے نیپا وفاقی اردو یونیو ر سٹی،بیت المکرم،حسن اسکوائر اور پرانی سبزی منڈی کے اطراف پانی جمع ہو گیا،اب تک نکاسی آب کا انتظام نہیں کیا جا سکا،کچھ علاقوں میں بارش کا سلسلہ تھم گیا ہے-

    رات گئے ہونے والی شدید بارش کے باعث چند گھنٹوں کے لیے ٹریفک معطل رہی آئی آئی چندریگر روڈ، کلفٹن، فیڈرل بی ایریا، پی ایچ اے، جیل روڈ میں بارش ہوئی شیر شاہ سمیت مختلف علاقوں میں موسلادار بارش کئی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ نشیبی علاقوں سے رہائشیوں کی نقل مکانی جاری ہے

    کراچی دنبہ گوٹھ میں پانی کے ریلے میں تین افراد کے ڈوبنے کی بھی اطلاع ہے ریسکیو حکام کے مطابق علاقہ مکینوں نے ایک شخص کو نکال لیا،دو افراد کی تلاش جاری ہے-

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کے مطابق بھارتی راجستھان میں بننے والے سسٹم کاکچھ حصہ بحیرہ عرب میں موجود ہے، کراچی میں بارشوں کاسلسلہ آج بھی جاری رہےگا-

    ٹھٹھہ میں بارش نے تباہی مچا دی ٹھٹھ میں بھی مسلسل بارش کے بعد نکاسی آب نہ ہونے سے شہری پریشان ہیں ،مختلف علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہو گیا تاریخی شاہی بازار کی متعدد دکانوں میں پانی داخل ہونے سے ،تاجروں کو لاکھوں کا نقصان ہوا-

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے سیالکوٹ ،نارووال ،سرگودھا، لاہور، ساہیوال، ملتان میں بھی بارش کی پیشگوئی کی ہے محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام کوٹ ،میر پور خاص اوردادو میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے-

    کراچی، ٹھٹھہ،بدین،مٹھی،تھرپارکر، عمر کوٹ میں تیز ہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے ڈی جی خان، بہاولپور، وہاڑی اور بہاولنگر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے

    ژوب، بارکھان ، خاران اور خضدار میں بھی آج موسلادھار بار ش متوقع ہے کوئٹہ ، لسبیلہ،پنجگور، تربت اورگوادر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    راولپنڈی،مری، اٹک، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ میں بھی آج موسلادھار بارش کی توقع ہے محکمہ موسمیات نے آج اسلام آباد میں تیز ہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی

    محکمہ موسمیات نے کراچی کے جس علاقے میں کتنی بارشش ہوئی اعدادو شمار کر دیئے ہیں جس کے مطابق پی اے ایف فیصل بیس میں 7.5ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی، اولڈ ایئرپورٹ12،سرجانی ٹاون12.4 اورگڈاپ ٹاون میں 9.4ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی-

    اورنگی ٹاون 23.4 اورگلشن حدید میں 12.4ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی ڈیفنس فیزٹو52.5 اورناظم آباد میں 31.8ملی میٹر ریکارڈ ہوئی سب سے زیادہ بارش قائدآباد میں 76ملی میٹر ریکارڈ کی گئی نارتھ کراچی میں 2.3 ملی لیٹر،سعدی ٹاون میں 1.1 ملی لیٹر،یونیورسٹی روڈ کے قریب 1.0 ملی لیٹر بارش ہوئی جناح ٹرمینل پر 4.4 ملی لیٹر،گلشن حدید میں 6.5 ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی-

    کراچی موٹر وے پولیس کے مطابق سپرہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی موٹروے پولیس کے دفترکےاطراف والی سڑک سے پانی کاریلا گزررہا ہے لٹھ ڈیم بھرنےکےباعث پانی کا ریلا سپرہائی وے پرآ گیا ملیر ندی کے قریب واقع رہائشی آبادیوں نے نقل مکانی شروع کر دی ملیر ندی یار محمد گوٹھ میں پانی کا ریلا داخل ہو گیا-

    شاہراؤں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے کے بعد گاڑیاں، موٹر سائیکلز، آٹو رکشا وغیرہ پھنسے ہوئے ہیں رات گئے ہونے والی شدید بارش کے باعث چند گھنٹوں کے لیے ٹریفک معطل رہی کراچی حیدر آباد موٹروے پر پانی کا بڑا ریلا آ جانے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی –

    خیال رہے کراچی اور اس کےاطراف میں وقفےوقفےسے ہلکی اور تیزبارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے کراچی میں آئندہ دو روز کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے گزشتہ دنوں بارش کا سبب بننے والا ہوا کا کم دباؤ گوادر کے جنوب میں ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق تیز اور موسلا دار بارش کا سلسلہ آج شام تک جاری رہنے کا امکان ہے-

  • بارشوں سے حب ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5.6 فٹ رہ گئی

    بارشوں سے حب ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5.6 فٹ رہ گئی

    کراچی: مون سون کی حالیہ ہونے والی بارشوں کے بعد حب ڈیم میں پانی کی سطح میں 11 فٹ کا اضافہ ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف انجینئر واٹر بورڈ کے مطابق حالیہ ہونے والی تیز بارشوں کے بعد ڈیم میں سطح آب 333.4 فٹ ہو گئی ہے جب کہ اس سے قبل ڈیم میں پانی کی سطح 322 فٹ تھی۔

    وزیر اعلی ٰپنجاب حمزہ شہباز کا ایس او ایس ویلج کا دورہ، بچوں اورسٹاف کو عیدی بھی دی

    چیف انجینئر واٹر بورڈ نے بتایا کہ حب ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 339 فٹ ہے جبکہ حب ڈیم بھرنے میں تقریباً 5.6 فٹ باقی رہ گیا ہے-

    ایم ڈی واٹر بورڈ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ شہر کے لیے اچھی خبر ہے، حب ڈیم سے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں پانی کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی۔

    ماحولیاتی تبدیلی شہری علاقوں کیلئے بڑا چیلنج ہے،سپریم کورٹ

    انہوں نے مزید کہا کہ حب ڈیم سے شہر کو یومیہ 100 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے،حب ڈیم بھرنے کے بعد شہر کو یومیہ 100 ایم جی ڈی پانی کے حساب سے تین سال تک فراہمی جاری رہے گی۔

    یاد رہے گزشتہ سالوں میں بھی بارشوں کے باعث حب ڈیم بھر گیا تھا جس کے بعد حب ڈیم کے اسپل ویز کھول دیئے گئے تھے۔

    آئی ایم ایف ہماری ناک سے لکیریں نکلوا چکا ہے،وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

  • کراچی میں 24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری

    کراچی میں 24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری

    کراچی میں24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری کر دیئے گئے-

    باغی ٹی وی : کراچی،ضلع جنوبی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے ڈیفنس،کلفٹن اورکینٹ اسٹیشن کےاطراف میں بارش وقفے وقفے سے جاری ہے-

    کشمور،گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ

    گلشن حدید میں 102اعشاریہ 7ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی ،اولڈائیرپورٹ کےاطراف 53ملی میٹربارش ہوئی،پی اے ایف فیصل بیس پر46ملی میٹر،جناح ٹرمینل پر38اعشاریہ 8ملی میٹر بارش ہوئی ،یونیورسٹی روڈپر28اعشاریہ 4ملی میٹر،قائدآبادمیں 25اعشاریہ 5ملی میٹر بارش ہوئی اورنگی ٹاون میں 5اعشاریہ1ملی میٹربارش ریکارڈکی گئی-

    ناظم آبادمیں 20اعشاریہ4ملی میٹر،گڈاپ میں 15ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ،ڈیفنس فیزٹومیں 10اعشاریہ5ملی میٹر،سعدی ٹاون میں 9اعشاریہ 1ملی میٹر بارش ہوئی ، کیماڑی میں 8 ملی میٹر،سرجانی ٹاون میں 7اعشاریہ2ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی،گلشن معمارمیں 6اعشاریہ6ملی میٹر،نارتھ کراچی میں 5اعشاریہ 5ملی میٹر بارش ہوئی

    کے الیکٹرک کا کہنا ہےکراچی میں مون سون بارش کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا ،گلشنِ حدید اور گڈاپ میں سڑکوں گلیوں میں بہت زیادہ پانی کھڑا ہو گیا ہے ، پانی کی موجودگی کی وجہ سے کام کرنے میں دشواری کا سا منا ہےبارش کے دوران 1,900 فیڈرز میں سے تقریباً150 فیڈرز متاثر ہوئے تھے،علاقائی ٹیموں سے کلیئرنس ملتےہی متاثرہ فیڈرز پر بجلی بحال کردی گئی-

    کراچی میں آج بھی وقفے وقفے سے بارش کا امکان

    دوسری جانب مخمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ ملتان میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران بارش کا امکان ہے ملتان میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہےملتان میں کم سے کم درجہ حرارت 31 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا-

    محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں درجہ حرارت 36 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ،خاران میں درجہ حرارت 48 سینٹی گریڈ کیا گیا،قلات میں درجہ حرارت 35 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا ،گوادر میں درجہ حرارت 35ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا سبی میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ،نوکنڈی میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی ریکارڈ کیا گیا ،ژوب میں درجہ حرارت 33ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا-

    راولپنڈی،نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریاز میں بارش تھم گئی بارش رکنے کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح معمول پر آنا شروع ہوگئی کٹاریاں اور گوالمنڈی کے مقامات پر پانی کی سطح ساڑھے 5فٹ ہو گئی،راولپنڈی میں مجموعی طور پر 53 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی-

    بارشوں سے ہونےوالی تباہی پربہت دُکھ ہوا ہے:حکومت بھی ناکام ہوگئی:عمران اسمٰعیل

  • کراچی میں آج بھی وقفے وقفے سے بارش کا امکان

    کراچی میں آج بھی وقفے وقفے سے بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں آج بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق شہرقائد میں بارش کا سلسلہ آج بھی وقفے وقفے سے شام یارات تک جاری رہ سکتا ہے جب کہ شہر کے مضافات میں تیز بارش ہوسکتی ہے۔

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670 مکانات کو پہنچا نقصان

    چیف میٹرولوجسٹ نے بتایا کہ مون سون سسٹم میں شدت برقرار ہے اور بارش کے باعث شہر کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید بارش کے باعث سیکٹر ایچ 13 پانی میں ڈوب گیا تقریباً 4 گھنٹے جاری رہنے والی موسلا دھار بارش کے باعث اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 13 کے علاقے میں عمارتوں کی بیسمنٹ میں پانی داخل ہو گیا۔

    تیز ہوا کے ساتھ ہونے والی بارش کے باعث امدادی ٹیموں کے بروقت نہ پہنچنے کے باعث عمارتوں کی بیسمنٹ میں پانی داخل ہونے سے لوگوں کا لاکھوں روپے کا سامان خراب ہو گیا ہے-

    سیاسی ایڈمنسٹریٹر نے کراچی کو ڈبو دیا،جماعت اسلامی

    جبکہ راوالپنڈی کے بھی بعض مقامات پر شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں-

    صوابی میں بارشوں کے باعث نالوں میں طغیانی آگئی اور ٹھنڈ کوئی روڈ ڈوب گیا ریسکیو ذرائع کے مطابق صوابی میں متعدد افراد اور گاڑیاں پھنس گئی،ریسکیو ٹیم امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں،مختلف ندی نالوں میں بہنے والی 6 سے زائد گاڑیوں نکال لیا گیا 18سے زیادہ افراد کو بھی ریسکیو کرلیا گیا ہے-

    صوابی میں مکان کی چھت گرنے سے ماں اور بیٹی جاں بحق ہو گئے :ملبے تلے دب کر 3 افراد زخمی ہو گئے ،زخمیوں میں خاتون اور دو بچے شامل ہیں-

    آزاد کشمیر کے علاقوں میرپور ،بھمبر ،باغ اور گردونواح میں موسلا دھار بارش جا ری ہے ملکہ کوہساراور گردو نواح میں موسلا دھار بارش ہوئی جبکہ منڈی بہاؤالدین میں موسلا دھار بارش،سڑکوں پر پانی کھڑا ہو گیا-

    عید پربارشوں کی پیشگوئی ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • مون سون بارشیں، وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی

    مون سون بارشیں، وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی

    کراچی:سندھ میں مون سون کی ممکنہ بارشوں کے معاملے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر وزراء، مشیروں اور معاون خصوصی کی خصوصی ڈیوٹیز لگا دی گئی، وزراء معاون خصوصی ، مشیران متعین کردہ اضلاع میں فرائض دیں گے۔

    سندھ کابینہ میں شامل وزراء معاون خصوصی اور مشیر مختلف اضلاع میں بارش کے دوران اضلاع کی سطح پر انتظامیہ کے ہمراہ مانیٹرنگ کریں گے، کراچی ضلع جنوبی میں صوبائی وزیر مکیش چاولہ، شرقی میں صوبائی وزیر سعید غنی، کورنگی میں صوبائی وزیر تیمور تالپور، وسطی میں شہلا رضا رین ایمرجنسی کی ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے ملیر میں صوبائی وزیر ساجد جوکھیو، غربی میں معاون خصوصی وقار مہدی اور کیماڑی میں معاون خصوصی لیاقت آسکانی کی ڈیوٹیاں لگا دی، صوبائی وزیر سردار شاہ میرپور خاص ڈویژن کے تمام اضلاع میں رین ایمرجنسی کی مانیٹرنگ کریں گے۔

    ٹنڈو الہیار میں صوبائی وزیر ضیا عباس شاہ، ٹنڈو محمد خان میں معاون خصوصی قاسم نوید قمر، حیدر آباد میں صوبائی وزیر جام خان شورو کی رین ایمرجنسی ڈیوٹی سر انجام دیں گے، مٹیاری میں صوبائی وزیر مخدوم محبوب الزماں، دادو جامشورو میں مشیر فیاض بٹ شہید بینظیر آباد ڈویژن میں معاون خصوصی پارس ڈیرو کی رین ایمرجنسی ڈیوٹی لگا دی گئی۔

    سکھر ڈویژن میں نواب وسان، اور لاڑکانہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں صوبائی وزیر امتیاز شیخ رین ایمرجنسی کی مانیٹرنگ دیکھیں گے، صوبائی وزراء، مشیر اور معاون خصوصی رین ایمرجنسی سے متعلق تمام رپورٹس وزیر اعلیٰ سندھ کو دیں گے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعلی ہاؤس سے مون سون کی ممکنہ طوفانی بارشوں سے متعلق رین ایمرجنسی ڈیوٹیز کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

  • مون سون بارشوں کا  پہلا اسپیل رواں ہفتے ہی شروع ہونے کا امکان

    مون سون بارشوں کا پہلا اسپیل رواں ہفتے ہی شروع ہونے کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کا پہلا اسپیل رواں ہفتے ہی شروع ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کا پہلا سلسلہ جمعے سے شروع ہونے کا امکان ہے جس کے پیش نظر کشمیر، بالائی پنجاب،جنوب مشرقی بلوچستان، بالائی خیبرپختونخوا اورسندھ میں 5 جولائی تک تیز ہواؤں اورگرج چمک کےساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے مون سون کا دوسرا سلسلہ 6 سے15 جولائی تک متوقع ہےجس میں شدید بارشوں کا امکان ہےمزید برآں عیدالاضحیٰ پر بھی بارش متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفرا نے بتایا کہ مون سون سسٹم کے ساتھ بحیرہ عرب سے نم ہوائیں بھی ملک پر اثر انداز ہوں گی، ملک کے شمالی حصے میں 30 جون سے بارشوں کا آغاز ہوگا-

    محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ 2 جولائی کی شام یا رات کراچی میں بارشوں کا امکان ہے، جس کی وجہ 30 جون سے پاکستان میں خلیج بنگال سے داخل ہونے والی مون سون ہوائیں ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے حالیہ موسمیاتی جائزے کے مطابق ملک کے شمالی حصے میں 30 جون سے بارشوں کا آغاز ہوگا، جبکہ بحیرہ عرب سے نم ہوائیں بھی ملک پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

    مزید بتایا گیا کہ مون سون کا یہ سسٹم ملک کے بیشتر علاقوں میں اثر انداز ہوسکتا ہے جس کے سبب سندھ میں تھرپارکر، عمرکوٹ اور دیگر علاقوں میں یکم جولائی کی رات سے بارش ہوسکتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ سسٹم ملک کے جنوبی حصے سندھ اور بلوچستان میں زائد بارشوں کا باعث بن سکتا ہے ، اس دوران 3 سے 4 دن اور کچھ علاقوں میں 5 دن تک وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے۔

    حالیہ موسمیاتی جائزے کے مطابق یہ سسٹم تیز بارشوں کا باعث بن سکتا ہے،ساتھ ہی مون سون اسپیل کے قریب آنے پر درپیش مسائل کے حوالے سے الرٹ جاری کیے جاسکتے ہیں۔

  • محکمہ موسمیات نے  یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے کراچی کے موسم کے حوالے سے پیشن گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کا آغاز یکم جولائی سے ہو گا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 30 جون سے مون سون کی ہواؤں کا آغاز ہو گا ۔اور پھر یہ ہوائیں یکم جولائی کی صورت میں بارشوں کے طور پر منظر عام پر آۓ گی۔مزید ان کا کہنا تھا کہ پہلااسپیل 3 تا 4 روز پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔رواں سال مون سون کےدوران معمول سے 30 فیصد زائد بارشوں کا امکان ہے۔

    مون سون کے موسم کے حوالے سے سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ کراچی میں سمندر ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے موسم میں جب سمندر کی طرف سے نمی ملتی ہے تو بارش زیادہ ہونے کا امکان بھی ہو جاتا ہے۔اس طرح یہ موسم جولائی تا ستمبر پر محیط ہونے کا امكان ہو سکتا ہے۔ مون سون بارشوں کا دورانیہ یکم جولائی تا 30 ستمبر تک 3 ماہ پر محیط ہوتا ہے۔

    مزید برآں محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کی پیشگوئی کے مطابق جمعے اور ہفتے کو بارش کا کوئی امكان نہیں ہے۔بلکے موسم گرم ہو گا۔24 جون سے وسطی اور بالائی سندھ میں بہت زیادہ گرم موسم واپس آنے کا امکان ہے۔اور جمعرات کو بھی موسم بہت گرم محسوس کیا گیا تھا ۔اور موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ شدید حبس بھی محسوس ہوئی تھی۔محکمہ موسمیات کےمطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.8ڈگری جبکہ ہوامیں نمی کا تناسب 53 فیصد رہا ۔خیال رہے یہ درجہ حرارت بہت تیز اور گرمی کی شدت بھی معمول سے ہٹ کر زیادہ محسوس ہوئی۔

  • آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں پری مون سون بارشوں کا امکان

    آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں پری مون سون بارشوں کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا-

    باغی ٹی وی : ملک کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے محکمہ موسمیات کے مطابق آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں پری مون سون بارشوں کا امکان ہے بلوچستان کے ژوب اوربارکھان میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے کرک، ہنگو اور وزیرستان میں تیز ہوا ؤں ،آند ھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے-

    آکاس بیل کے پودے سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم تیار

    محکمہ موسمیات کے مطابق باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، کوہاٹ، لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں بارش کا امکان ہے ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، پشاور، نوشہرہ، مردان، لو ئر دیر اور چارسدہ میں بارش متوقع ہے مالا کنڈ ، چترال، دیر، سوات، بونیر، شانگلہ، کوہستان اور مانسہرہ میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق سکھر اورلاڑکانہ میں تیز ہواؤں،آند ھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے شیخوپورہ، اوکاڑہ، قصور، ساہیوال ، وہا ڑی اور لو د ھراں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال اور لاہور میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق خوشاب، حافظ آباد، فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین، ننکانہ صا حب میں بارش متوقع ہے راولپنڈی، مری،گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی اورسرگودھا میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں تیزہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے خیبرپختونخوا،بالائی،وسطی پنجاب ، گلگت بلتستان اورآزادکشمیرمیں مزید بارش متوقع ہے خیبر پختونخوا،گلیات،آزاد کشمیراور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے –

    اسلام آباد میں پولیس دفاتر، تھانوں اور ٹریفک آفس میں انٹری ایگزیٹ کنٹرول سسٹم انسٹال کرنے کا فیصلہ

    گزشتہ روز سےراولپنڈی اور اسلام میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے محکمہ موسمیات کے مطابق مسلسل بارش سے نالہ لئی میں سیلاب کا خدشہ ہے، نالہ لئی میں گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح پری الرٹ کے قریب پہنچ گئی گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح 8 فٹ جبکہ پری الرٹ 8.3 فٹ پر ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق تمام محکموں کو الرٹ جاری،حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں آئندہ 12 گھنٹوں تک بارش کا وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے-

    ایم ڈی واسا کے مطابق جڑواں شہروں میں 42 ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے،نالہ لئی کی مسلسل نگرانی جاری ہے، واسا کا عملہ ہیوی مشینری کے ساتھ شہر کے نشیبی علاقوں میں موجود ہے ایم ڈی واسا کے مطابق حالیہ بارشوں سے زیر زمین پانی کے ذخائر میں اضافے کی امید ہے-

    ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 1.53 فیصد

    کوہلو میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری سے ندی نالوں میں سیلابی صورتحال ہے بارشوں کے باعث الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ندی، نالوں،دریاوں میں تغیانی،نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں،مختلف علاقوں میں کئی روز سے بجلی کی فراہمی معطل ہے موسلادھار بارش اور ژالہ باری کے باعث فصلیں تباہ ٹماٹر ،مرچ، کپاس ،پیاز سمیت کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں

    سوات میں سوات میں چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے اتروڑ، مہوڈنڈ،گبرال اور شاہی باغ میں برف باری ہوئی بارش اور برف باری سے موسم انتہائی سرد ہوگیا بالائی علاقوں میں سیاحوں اور مقامی لوگوں نے گرم ملبوسات پہننا شروع کردئیے بارش اور برف باری سے موسم انتہائی سرد ہوگیا ہے اتروڑ میں 2 انچ جبکہ مہوڈنڈ،گبرال اور شاہی باغ میں 4انچ تک برف باری ریکارڈ کی گئی –

    کراچی اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں سیلاب کا خطرہ ہے،وفاقی وزیرماحولیاتی تبدیلی