Baaghi TV

Tag: مون سون

  • 31 جولائی سے سندھ بھر میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے31 جولائی سے 2 اگست کے دوران کراچی سمیت صوبہ سندھ کے تمام اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مون سون کی بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق، خلیجِ بنگال میں موجود ہوا کا شدید کم دباؤ مزید شدت اختیار کر کے ‘ڈیپ ڈپریشن’ میں تبدیل ہو چکا ہے، جو اس وقت بھارت کی ریاستوں اڑیسہ اور چھتیس گڑھ پر موجود ہے اس کے علاوہ بحیرہ عرب اور خلیجِ بنگال سے مون سون کی مرطوب ہواؤں کا ملک کے بالائی و وسطی علاقوں میں داخلے کا امکان ہے، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ پہلے ہی ملک کے شمالی حصوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

    اس موسمیاتی سسٹم کے تحت 31 جولائی سے 2 اگست کے دوران پورے سندھ میں شدید تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ متاثر ہونے والے اضلاع میں تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سجاول، ٹھٹہ ، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹیاری، جامشورو، نوابشاہ اور نوشہرو فیروز، دادو، جیکب آباد، شکارپور، سکھر اور گھوٹکی، کشمور، لاڑکانہ اور کراچی شامل ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 31 جولائی سے 2 اگست کے دوران متوقع مصلادھار بارشوں کے باعث سکھر، شہید بینظیر آباد (نوابشاہ)، حیدرآباد، بدین، مٹیاری، میرپورخاص، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان، قمبر شہداد کوٹ، شکارپور، دادو اور جیکب آباد کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور اربن فلڈنگ کا شدید خدشہ ہے،انتظامیہ اور متعلقہ ادارے پیشگی حفاظتی اقدامات مکمل رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

  • مون سون کی شدید بارشیں:پنجاب میں دفعہ 144 نافذ

    مون سون کی شدید بارشیں:پنجاب میں دفعہ 144 نافذ

    لاہور: حکومت پنجاب نے مون سون کی شدید بارشوں، دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بارش کے پانی میں نہانے، آبی ذخائر میں تیراکی اور بغیر اجازت کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے ڈیموں، نہروں، دریاؤں، جھیلوں اور تالابوں میں نہانے اور تیراکی پر مکمل پابندی ہو گی،اس کے علاوہ گلی محلوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر بارش کے جمع شدہ پانی میں نہانے کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہےبغیر اجازت جھیلوں اور دریاؤں میں کشتی رانی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام پابندیاں دفعہ 144 کے تحت آئندہ دو ماہ تک نافذ العمل رہیں گی۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مون سون کے دوران ممکنہ اربن فلڈنگ، تیز بہاؤ اور آبی حادثات سے شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے، صوبے کے مختلف آبی ذخائر میں پانی کی بلند سطح کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • مون سون بارشیں:متعدد سڑکیں بند ، کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع

    مون سون بارشیں:متعدد سڑکیں بند ، کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع

    ملک کے مختلف حصوں میں جاری مون سون بارشوں سے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں دریا، ندی نالے بپھر گئے، متعدد سڑکیں بند ہو گئیں، کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا-

    ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر، مواصلاتی رابطے منقطع اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے میانوالی میں حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہوگیا، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ بند کی مرمت کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔

    دوسری جانب دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، محکمہ آبپاشی کے مطابق دریا میں پانی کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہےسندھ کے ضلع دادو میں گاج ندی میں طغیانی کے باعث 10 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، کئی علاقوں میں لوگوں کو آمدورفت کے لیے کشتیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

    ادھر تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں گزشتہ دو روز کے دوران 150 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں، تاہم مقامی افراد نے بارش کو صحرائی علاقے کے لیے رحمت قرار دیا ہےگلگت بلتستان میں چلاس اور گردونواح میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں، استور ویلی روڈ گزشتہ 6 روز سے بند ہے، جس کے نتیجے میں علاقے میں اشیائے خورونوش اور ضروری سامان کی قلت پیدا ہونے لگی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھاری مشینری کے ذریعے سڑک بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آج سندھ، جنوبی پنجاب، مشرقی بلوچستان اور بالائی علاقوں کے بعض مقامات پر مزید تیز بارشیں ہو سکتی ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔

    دوسری جانب این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، برساتی ندی نالوں اور سیلابی ریلوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔

  • مون سون اسپیل:مزید بارشوں کی پیشگوئی

    مون سون اسپیل:مزید بارشوں کی پیشگوئی

    پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیا لکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہےخیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران شدید بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے، مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    دوسری جانب قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے متعلقہ انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، تیز بارش اور گرج چمک کے دوران احتیاط برتنے اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں 263 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ گوجرانوالہ میں 286 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 278 ملی میٹر اور نارووال میں 235 ملی میٹر بارش ہوئی۔ شدید بارش کے باعث کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، متعدد انڈر پاسز اور اہم شاہراہیں زیرِ آب آگئیں۔ لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے بعض علاقوں میں سڑکوں پر پانی اس قدر جمع ہوگیا کہ کشتی چلانے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

    مسلسل بارشوں کے باعث دریائے راوی کے ہیڈ بلوکی کے مقام پر بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے محکمہ آبپاشی کے مطابق ہیڈ بلوکی پر پانی کی آمد 84 ہزار 515 کیوسک جبکہ اخراج 61 ہزار 315 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔ شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔

  • مون سون کا دوسرا اسپیل:لاہور میں شدید بارش،130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    مون سون کا دوسرا اسپیل:لاہور میں شدید بارش،130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    لاہور بارش سے متاثر، 130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    مون سون کے دوسرے اسپیل نے لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا چوبرجی، جین مندر، بورڈ آف ریونیو، لائبریری چوک، چرچ چوک، ڈلٹن، اک موریا، کشمیری گیٹ، شالیمار چوک، تحسین چوک، شاہدرہ چوک، ٹمبر مارکیٹ، لاری اڈا، سبزی منڈی، حاجی کیمپ، لکشمی چوک، قرطبہ چوک، مولا بخش چوک، قادری چوک، جوڑے پل، افشاں چوک، غازی روڈ، گجومتہ، عسکری 11، وطین چوک، پیراگون، پیر بہاشاہ چوک، چلڈرن ہسپتال، چونگی امرسدھو، جنرل ہسپتال، فردوس مارکیٹ، برکت مارکیٹ، فاطمہ میموریل ہسپتال، بگریاں اور کجلباش چوک سمیت 130 سے زائد مقامات پر بارشی پانی جمع ہونے سے ٹریفک شدید متاثر ہے۔

    سی ٹی او لاہور سمیت تمام ٹریفک افسران و وارڈنز فیلڈ میں موجود ہیں،ٹریفک پولیس نے اپیل کی ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے اختیار کریں۔

    دوسری جانب واسا لاہور کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللطیف نے کہا کہ مون سون سیزن کے لیے اس بار گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں بہتر تیاریاں کی گئی ہیں اور اگر شہر میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع ہوتا ہے تو واسا کا ہدف ایک گھنٹے کے اندر اسے نکالنا ہے، واسا نے نئی مشینری خریدی ہے متعدد ری چارج ویلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں موجود تقریباً 3 ہزار کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ شہر کی 7 بڑی ڈرینز، جن کی مجمو عی لمبائی 94 کلومیٹر ہے ان کی صفائی کا عمل 3 مرتبہ مکمل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش بھی ہو جائے تو واسا ایک گھنٹے کے اندر شہر کی اہم سڑکوں سے پانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں بھی بارش کا پانی جمع ہوگا اسے ایک گھنٹے کے اندر کلیئر کرنے کی کوشش کی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے لیے تقریباً 700 نئی مشینیں خریدی گئی ہیں جن میں واسا کے ٹرک، سکر مشینیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی وسائل کی بدولت اس سال مون سون کی تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جامع ہیں۔

    عبد اللطیف کے مطابق لاہور میں تقریباً 18 ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ کنویں ان مقامات پر بنائے گئے ہیں جہاں ماضی میں بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا اب بارش کا پانی ان ری چارج ویلز میں جمع ہو کر قدرتی انداز میں فلٹر ہوتا ہے اور بعد ازاں پارکس اور گرین بیلٹس کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ری چارج ویلز میں سیوریج کا پانی شامل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ کنویں صرف ان مقامات پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں سیوریج کے پانی کے ملنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

  • بھارت نے بغیر اطلاع کے ڈیم کے دروازے کھول دیے،ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

    بھارت نے بغیر اطلاع کے ڈیم کے دروازے کھول دیے،ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

    بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں واقع سلال ڈیم کے تمام 11 دروازے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کھول دیے گئے، جس کے نتیجے میں دو لاکھ چوبیس ہزار کیوسک کا بڑا سیلابی ریلا دریائے چناب میں داخل ہو گیا ہے۔

    محکمہ ایریگیشن پنجاب نے ڈیم کے گیٹس کھولے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے سیالکوٹ اور وزیر آباد کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اسسٹنٹ کمشنر وزیر آباد کا کہنا ہے کہ ضلع میں تمام ضروری حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے بڑے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے، یہ بڑا سیلابی ریلا اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر وزیر آباد اور سیالکوٹ کے علاقوں تک پہنچ سکتا ہے جس سے دریا سے ملحقہ نشیبی علاقوں کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

    فی الوقت دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور دیگر بیراجوں پر شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 75 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک ہے اور وہاں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے خانکی بیراج پر 2 لاکھ 61 ہزار 463 کیوسک پانی کی آمد کے باعث بلند درجے کا سیلاب ہے، جبکہ دریائے راوی میں کوٹ نینا کے مقام پر 17 ہزار 500 کیوسک پانی کی آمد سے صورتحال فی الحال معمول کے مطابق بتائی جا رہی ہےدریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔

    اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی

    دوسری جانب ملک بھر میں جاری مون سون کے دوسرے طوفانی اسپیل نے شدید تباہی مچائی ہوئی ہے پنجاب میں دو دنوں کے دوران بارشوں اور حادثات کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 107 زخمی ہو چکے ہیں گوجرانوالہ میں 31 گھنٹوں کے دوران 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جہاں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔

    لاہور، فیصل آباد، نارووال، منڈی بہاؤالدین اور گجرات سمیت متعدد شہروں میں کئی فٹ پانی جمع ہو چکا ہےشکر گڑھ میں نالہ بئیں اور کامونکی میں نالہ ڈیک میں طغیانی آنے سے بند ٹوٹ گئے اور پانی کئی آبادیوں اور دیہات میں داخل ہو گیا ہے، جس سے دسیوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    واسا لاہور کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللطیف نے کہا کہ مون سون سیزن کے لیے اس بار گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں بہتر تیاریاں کی گئی ہیں اور اگر شہر میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع ہوتا ہے تو واسا کا ہدف ایک گھنٹے کے اندر اسے نکالنا ہے، واسا نے نئی مشینری خریدی ہے متعدد ری چارج ویلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں موجود تقریباً 3 ہزار کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ شہر کی 7 بڑی ڈرینز، جن کی مجمو عی لمبائی 94 کلومیٹر ہے ان کی صفائی کا عمل 3 مرتبہ مکمل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش بھی ہو جائے تو واسا ایک گھنٹے کے اندر شہر کی اہم سڑکوں سے پانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں بھی بارش کا پانی جمع ہوگا اسے ایک گھنٹے کے اندر کلیئر کرنے کی کوشش کی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے لیے تقریباً 700 نئی مشینیں خریدی گئی ہیں جن میں واسا کے ٹرک، سکر مشینیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی وسائل کی بدولت اس سال مون سون کی تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جامع ہیں۔

    عبد اللطیف کے مطابق لاہور میں تقریباً 18 ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ کنویں ان مقامات پر بنائے گئے ہیں جہاں ماضی میں بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا اب بارش کا پانی ان ری چارج ویلز میں جمع ہو کر قدرتی انداز میں فلٹر ہوتا ہے اور بعد ازاں پارکس اور گرین بیلٹس کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ری چارج ویلز میں سیوریج کا پانی شامل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ کنویں صرف ان مقامات پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں سیوریج کے پانی کے ملنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

    پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بارشوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے خیبرپختونخوا میں تین روز کے دوران حادثات کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے اور 19 افراد زخمی ہوئے ہیں جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو بچے جاں بحق ہو گئے گلگت بلتستان کے ضلع دیامرمیں بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث استور ویلی اور دیگر اہم سڑکیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ شمالی وزیرستان میں دریائے ٹوچی میں طغیانی آ گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا یہ سلسلہ 24 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے جس کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو متحرک رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

  • مون سون بارشوں کا نیا سسٹم پاکستان میں داخل ،پنجاب  کے بیشتر اضلاع میں بارشیں

    مون سون بارشوں کا نیا سسٹم پاکستان میں داخل ،پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشیں

    لاہور: مون سون بارشوں کا نیا سسٹم پاکستان میں داخل ہو گیا ہے جس کے اثرات کے باعث آج لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں دوپہر کے بعد ہلکی بارش متوقع ہے شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے،ممکنہ بارشوں کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کرتے ہوئے نشیبی علاقوں اور حساس مقامات پر پیشگی حفاظتی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے-

    دوسری جانب ایم ڈی واسا غفران احمد نے بھی لاہور میں بارش کے امکانات کے باعث تمام آپریشنل عملے کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے،جب تک شہر کی شاہراہوں اور نشیبی علاقوں سے بارش کا پانی مکمل طور پر نکال نہیں لیا جاتا افسران اور فیلڈ عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا،حکام نے شہریوں کو بھی بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسم سے متعلق تازہ صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

  • مغربی ہواؤں کےسسٹم کے زیر اثر 18 سے 25 جولائی تک بارشوں کی پیشگوئی

    مغربی ہواؤں کےسسٹم کے زیر اثر 18 سے 25 جولائی تک بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پیرسے بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا سسٹم داخل ہوگا،جو ملک کے مختلف حصوں پراثراندازہوں گی ،جبکہ پیر سے ہی بارشوں کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، مری اور خطہ پوٹھوہار میں 19 سے 23 جولائی تک بارش متوقع ہے،راولپنڈی سمیت پنجاب کےکئی علاقےزیرآب آنےکاخدشہ ہےخیبر پختونخوا میں 19سے23جولائی تک گرج چمک کےساتھ بارش متوقع ہے ،اسی طرح پنجاب کےبیشتر علاقوں میں 19سے23جولائی کے دوران آندھی اوربارش کا امکان ہے آزاد کشمیر میں 18سے25جولائی کےدرمیان موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں گلگت بلتستان میں 18سے 25 جولائی کے دوران موسلادھار بارشوں کا امکان ہے جبکہ سندھ کےبیشتر علاقوں میں موسم گرم رہنے کی توقع ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی جس میں ملک میں مون سون بارشوں کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی،ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مون سون کے دوران صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے ساتھ رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو ملک میں مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال کی تیاری پر بریفنگ دی،اس کے علاوہ وزیراعظم کو پیشگی اطلاع نظام کو مکمل فعال بنانے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اس حوالے سے تعاون پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

  • وزیراعظم سے چیئرمین این ڈی ایم اے  کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیئرمین این ڈی ایم اے کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی جس میں ملک میں مون سون بارشوں کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مون سون کے دوران صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے ساتھ رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو ملک میں مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال کی تیاری پر بریفنگ دی، اس کے علاوہ وزیراعظم کو پیشگی اطلاع نظام کو مکمل فعال بنانے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اس حوالے سے تعاون پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

  • 2005 زلزلہ: لاپتہ 4 سالہ بچے کی باقیات 21 سال بعد مل گئیں

    2005 زلزلہ: لاپتہ 4 سالہ بچے کی باقیات 21 سال بعد مل گئیں

    بالاکوٹ میں 2005 کے زلزلے میں لاپتہ 4 ہونے والے 4 سالہ بچے کی باقیات 21 سال بعد مل گئیں۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے شہر بالاکوٹ میں 2005 کے تباہ کن زلزلے میں لاپتہ ہونے والے چار سالہ بچے جمال شفیق کی باقیات 21 سال بعد ملبے سے برآمد ہوگئیں، بچے کے والد شفیق الرحمن نے بتایا کہ 2005 کے زلزلے میں ان کے گھر کے 8 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 4 سالہ جمال شفیق لا پتہ ہوگیا تھا جس کا سراغ نہیں مل سکا تھا حال ہی میں مکان کی دوبارہ تعمیر کے دوران ملبے کے ڈھیر سے انسانی باقیات برآمد ہوئیں جبکہ ساتھ ملنے والے کپڑوں اور جوتوں سے یہ شناخت ممکن ہوئی کہ یہ ان کے بیٹےکی باقیات ہیں۔

    واضح رہے 8 اکتوبر 2005 کو 7.6 شدت کے زلزلے سے آزاد کشمیر اور ہزارہ ڈویژن سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی تھی اور زلزلے میں 80 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔