Baaghi TV

Tag: مون سون

  • محکمہ موسمیات کی سندھ میں ستمبر کے مہینے میں معمول سے زائد بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کی سندھ میں ستمبر کے مہینے میں معمول سے زائد بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ ستمبر کے مہینے میں جنوب مشرقی سندھ میں معمول سے زائد بارشیں ہوں گی-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق ستمبر میں سندھ میں مون سون کےکم از کم دو سسٹم تیز بارشیں برساسکتے ہیں، تھرپارکر، عمرکوٹ اور بدین میں معمول سے 20 سے 30 فیصد زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ معمول سے زائد بارشوں میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے، دریائے سندھ میں سیلاب اور بارشوں سےزیریں سندھ میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب آسکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی پنجاب بشمول سیالکوٹ، نارووال اور لاہور میں بھی معمول سے زائد بارشیں متوقع ہیں، ستمبر میں شمال مشرقی پنجاب میں معمول سے 10 سے15 فیصد زائد بارشیں متوقع ہیں۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے ستمبر میں بارشوں سے متعلق باقاعدہ ایڈوائزری کل جاری کی جائے گی۔

    دوسری جانب سندھ میں سیلاب سے ایک طرف گاؤں کے گاؤں ڈوبے ہوئے ہیں تو دوسری جانب لوگ بے یار و مددگار امداد کے منتظر ہیں خیرپورناتھن شاہ شہر کی مختلف کالونیوں میں دو سے پانچ فٹ تک پانی پہنچ چکا ہے شہرمیں مکانات کی دیواریں گر گئیں، متاثرین نے شہر کے باہر سیتا روڈ اور انڈس ہائی وے کے دونوں اطراف پناہ لے لی ہے۔

    میہڑ تحصیل کو بھی تینوں اطراف سے پانی نے گھیر لیا ہے، شہریوں نے رنگ بند کی مضبوطی کا کام جاری رکھا ہوا ہے، سیلاب سے بچنے کیلئے متاثرین کی بڑی تعداد بندوں پر موجود ہے دادو کی تحصیل جوہی میں ہر طرف پانی ہی پانی ہے، سیلاب نے شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے، شہر کو بچانے کیلئے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت رنگ بند کی مضبوطی کے کام میں جتے ہوئے ہیں۔

    پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر مل گئے

    ٹنڈو آدم میں سوئی نہر کو قیصر گاؤں کے مقام پر شگاف پڑنے سے درجنوں دیہات زیرآب آگئے ہیں نوشہرو فیروز میں سیلاب سے قومی شاہراہ زیرآب آگئی، سیلابی ریلے سے 150 سے زائد دیہاتوں میں پانی داخل ہوگیا شہر کو بچانے کیلئے رنگ بند کی مضبوطی کا کام جاری ہے۔

    خیرپور شہر کے بازاروں، مارکیٹوں اور مصروف ترین سڑکوں سے بارش کا پانی نہیں نکالا جا سکا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں متاثرہ علاقوں میں ہیضے اور ڈائیریا کے امراض پھوٹ پڑے ہیں، سیلاب متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو راشن، خیمے اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    دوسری جانب مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مزید27 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ اب تک جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ایک ہزار 191ہو گئی۔

    گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب میں ایک، خیبر پختونخوا میں4اور سندھ میں15افراد چل بسے۔ اب تک سندھ میں سب سے زیادہ 422 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں سیلاب کے باعث بلوچستان میں 253، خیبر پختونخوا میں 264 اور پنجاب میں188 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ سیلابی ریلوں اور بارشوں کے باعث حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں 522 مرد،246خواتین اور399 بچے شامل ہیں۔

    گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 87 افراد حالیہ بارشوں اور سیلاب سے زخمی ہوئے۔ملک بھر میں اب تک زخمی ہونے والے افراد کی کل تعداد 3ہزار641 ریکارڈ کی گئی ہے بارشوں سے سب سے زیادہ پنجاب میں 2023 افرادزخمی ہوئے۔سندھ میں زخمی افراد کی تعداد 1101 تک جا پہنچی ہے بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے زخمی افراد کی تعداد 164 ہے، خیبر پختونخوا میں 327 جبکہ آزاد کشمیر میں 21 زخمی رپورٹ ہوئے۔

    20 سے زائد ممالک کے سفارتکاروں اور نمائندوں کاسیلاب سےمتاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ

    دوسری جانب عبدالولی خان اسپورٹس کمپلیکس میں قائم ریلیف کیمپ میں خیبرپختوخوا کے سیلاب متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ریلیف کیمپ سے نکالا جا رہا ہے، بے گھر ہیں، کہاں جائیں گے؟

    متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ان کا پانی بند کر دیا ہے اور فلاحی اداروں کی جانب سے دی جانے والی امداد بھی روک دی ہے۔

    اس حوالے سے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بحالی کا کام شروع کیا جا رہا ہے، متاثرین اگر کیمپوں میں رہیں گے تو سروے اور بحالی کا کام نہیں ہو پائے گا –

    فقیر آباد کے قریب سیلاب متاثرین اورخاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میں جھگڑا ہوگیا سیلاب متاثرین نےریلیف کیمپ میں منتقلی سے مبینہ انکار کردیا، حکام کی جانب سے زیادہ اصرار کرنے پر متاثرین نے فائرنگ کردی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فائرنگ میں محفوظ رہیں۔

  • آسٹریلیا کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالرامداد دینے کا اعلان

    آسٹریلیا کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالرامداد دینے کا اعلان

    آسٹریلیا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 20 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ حکومت پاکستان کو فوری انسانی ضروریات کے لیے مدد فراہم کررہے ہیں جس کےتحت آسٹریلیا عالمی خوراک پروگرام کےذریعے پاکستان کو 20 لاکھ ڈالرکی امداد دے گا سیلاب سے متاثر خواتین، بچے اور کمزور افراد فوری امداد کے مستحق ہیں۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

    انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی طرف سے سیلاب میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں اور ہماری سیلاب سے تباہ حال افراد کے ساتھ گہری ہمدردیاں ہیں۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں چین نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 100 ملین یوآن (آر ایم بی) امداد کا اعلان کیا ہے جب کہ چین کی فضائیہ کی پروازیں 300خیموں کی پہلی کھیپ لےکر آج اورکل کراچی پہنچیں گی۔

    چین کےصدرشی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ نے پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے سیلاب کی صورت حال پر اظہار افسوس اور یک جہتی کا اظہار کیا۔

    چین کے صدر اور وزیراعظم کا یہ پیغام پاکستان میں چینی سفیرنونگ رونگ نے پاکستانی قیادت کوپہنچایا ہے جس کے جواب میں وزیراعظم شہبازشریف نےصدرشی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔


    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پاکستان کے لیے اضافی ایمرجنسی امداد کا اعلان کیا ہے جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ان کا ملک خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی جاری رکھے گا۔

    سیلابی صورتحال میں حکومت کی ناقص منصوبہ بندی

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی پر افسوس کا اظہار کیا ہے پاکستان کےمستقل مندوب منیراکرم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات ہوئی۔

    اس موقع پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی برادری سے خصوصی اپیل کریں گے کہ پاکستان کی مدد کی جائے، جس سے پاکستان میں بحالی اورتعمیر نو کا عمل ممکن بنایا جاسکےگا۔

    خیال رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 75 افراد جاں بحق ہوئےجس کے بعد سیلاب اوربارشوں سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 1136 تک پہنچ گئی ہے ملک بھر میں اب تک 10 لاکھ 51 ہزار 570 گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک 7 لاکھ 35 ہزار 375 مویشی مرچکے ہیں۔

    چین کا پاکستان میں سیلاب زدگان کیلئے 100 ملین یوآن کی امداد کا اعلان کردیا

    رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

  • آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    فلڈ ریلیف اپ ڈیٹ: آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف زمینی دستوں سے بات چیت بھی کریں گے۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 212 ریلیف کولیکشن پوائنٹس قائم کیے ہیں۔ سندھ میں 81، پنجاب میں 73، بلوچستان میں 41 اور کے پی کے میں 17 ریلیف کولیکشن پوائنٹس کام کر رہے ہیں۔

    پاک فوج نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے فلڈ ریلیف ڈونیشن اکاؤنٹ قائم کر دیا ہے اکاؤنٹ کا عنوان – سیلاب متاثرین کے لیے آرمی ریلیف (عسکری بینک جی ایچ کیو برانچ)
    اکاؤنٹ نمبر – 00280100620583

    پاک فوج کی جانب سے ضلع راجن پور میں امدادی سرگرمیاں جاری

    بلوچستان:

    آئی ایس پی ار کے مطابق پاک فوج اور فرنٹیئر کور نے کوئٹہ، مسلم باغ، چمن، سوئی، ڈیرہ بگٹی، سبی، لہری، نصیر آباد، بیلہ، اُٹھل اور جعفر آباد کے علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کیے جو کہ خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سیلاب متاثرین کے لیے کوئٹہ، مسلم باغ، سوئی، ڈیرہ بگٹی، سبی، دوبندی، لہری، سدوری، لکڑہ ضلع لسبیلہ میں فری میڈیکل کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔

    پنجاب:
    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ غازی خان، روجھان اور لیہ میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کیے گئے جہاں پاک فج کے جوانوں نے پھنسے ہوئے خاندانوں کو خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کیں۔ ضلع راجن پور میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی اور بچاؤ کی کوششیں کی گئیں جن میں ہرڑ تحصیل جام پور، نور پور ماجھو والا تہہ جام پور، موضع کان والا تہہ جام پور، ماڑی جام پور، دربار سخی بور جام پور، بمبلی جام پور، بستی نوخمی جام پور، ڈیرہ شامل ہیں۔ روجھان، ڈیرہ جیون تحصیل روجھان، چک مٹ نمبر 2 تحصیل روجھان شامل ہیں-

    سوات میں پھنسے 110 افراد کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا

    سندھ:

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے ضلع خیرپور، ضلع لاڑکانہ، ضلع نوشہرو فیروز، ضلع شکارپور، ضلع قمبر شداد کوٹ، ضلع جیکب آباد، ضلع کشمور، ضلع بدین، ضلع میر پور خاص، ضلع سانگھہ، ضلع مٹیاری، ضلع عمرکوٹ، میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا۔ ضلع حیدرآباد، ضلع ٹنڈو محمد خان، ضلع ٹھٹھہ، ضلع جامشورو، ضلع بدین، ضلع سجاول، ضلع دادو۔ بدین، سجاول، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں 4x میڈیکل کیمپ لگائے گئے۔ بدین، سجاول، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں 1700 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    خیبرختونخوا:

    آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 150 افراد کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں اٹک اور ایبٹ آباد میں فوج کی فارورڈ تعیناتی کی گئی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 4x فیلڈ میڈیکل کیمپ لگائے گئے جہاں 715x مریضوں کا علاج کیا گیا۔ چارسدہ میں سیلاب متاثرین کے لیے 7x ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جبکہ نوشہرہ اضلاع کی ہر تحصیل میں 3x ریلیف کیمپ قائم کیے گئے۔ سول انتظامیہ کو ضروری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

    سوات میں پھنسے 110 افراد کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا

  • بلوچستان:بولان میں مکان کی چھت گرنےسے5 افراد جاںبحق،سندھ میں بھی متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان:بولان میں مکان کی چھت گرنےسے5 افراد جاںبحق،سندھ میں بھی متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں بولان کے قریب مچ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق مچ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 4 خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں مکان کی چھت بارش کے باعث خستہ حال ہوگئی تھی جس کے وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا جس میں 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

    عالمی رہنماوں کا شہباز شریف کو ٹیلیفون، تعاون کی یقین دہانی

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں مزید 9 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق کے بعد اموات کی تعداد 247 تک پہنچ گئی ہےصوبے بھر میں مجموعی طور پر 61 ہزار 488 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 1000 کلو میٹرز پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی حالیہ بارشوں اورسیلاب سے شدید متاثر ہوئیں ہیں۔

    دوسری جانب دریائے سوات میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں کمی آنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

    صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق سیلاب سے خیبر پختونخوا کے 13اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ سیلاب سے متاثر ہوکر ایک لاکھ 80 ہزار افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

    سیلابی پانی اورسڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کےباعث درجنوں سیاح کالام میں پھنسےہوئے ہیں، کمراٹ میں سو سے زائد سیاح پھنس گئے ہیں لوئر دیر، شبقدر، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر مقامات پر متاثرین تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب دریائے سوات میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں کمی آنے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے، حکام کے مطابق بجلی کی مکمل بحالی میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

    ملک میں سیلاب سے تباہی،عمران خان جلسے اور عارف علوی سالگرہ منانے میں مصروف

    سوات میں سیلابی صورتحال کے بعد کئی مقامات پر رابطہ سڑکیں اور راستے دریا برد ہوگئے ہیں، سیلابی پانی سے بحرین اور کالام کے درمیان بھی زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جس کے باعث متعدد سیاح پھنس گئے ہیں مٹہ کا بائی پاس روڈ بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہےحالیہ سیلاب میں وادی سوات میں 15 رابطہ پلوں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان ہوا ہے۔

    ادھر سندھ میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، سجاول کے ساحلی علاقے چُوہڑ جمالی کے زیرآب آنیوالے متعدد دیہاتوں سے تاحال پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی، متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    ٹنڈو آدم میں سیلابی ریلے سے کئی علاقے زیر آب آگئے جبکہ مٹیاری میں سیلابی صورتحال کے بعد 200 سے زائد دیہات ڈوب گئے، نیو سعیدآباد سے نواب شاہ جانے والا مہران نیشنل ہائی وے بھی زیر آب آگیا۔

    عرب امارات کےصدرمحمد بن زید النہیان نے پاکستان کےسیلاب متاثرین کی امداد کا اعلان…

    حیدرآباد میں لطیف آباد اور قاسم آباد سمیت کئی علاقوں میں برساتی پانی نہیں نکالا جاسکا، ٹنڈوالہیار میں متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    میرپورخاص کے بیشتر رہائشی علاقوں سے بارش کا پانی نہیں نکالا جاسکا، شہر کے دو حصوں کو ملانے والا ریلوے انڈر پاس ٹریفک کیلئے تاحال کھولا نہیں جا سکا ہے۔

    جیکب آباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں سیلاب متاثرین سڑک کنارے حکومتی امداد کے منتظر ہیں، پاک فوج کے جوان متاثرین کی مدد کرنے پہنچ گئے ہیں دادو کی تحصیل میہڑ میں بھی سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    خیال رہے کہ سکھر بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، آبپاشی حکام کے مطابق یہ صورتحال مزید ایک ہفتے تک رہنے کا امکان ہے۔

    اسلامی تنظیمیں اور عالمی برادری پاکستان کی فوری مدد کریں ،او آئی سی

  • سوات،کالام ،اور بحرین میں سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا

    سوات،کالام ،اور بحرین میں سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا

    سوات،کالام ،اور بحرین میں سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا۔

    باغی ٹی وی : ضلعی انتظامیہ کے مطابق سوات میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 15 افراد جاں بحق اور درجنوں مکان و ہوٹلز تباہ ہو گئے سیلاب سے 130 کلومیٹر کی سڑکیں تباہ ہوگئیں جبکہ 15رابطہ پل مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔

    بے حسی کی انتہا،مورو میں وڈیروں نےفصل بچانے کیلئے سیلابی ریلا انسانی آبادی میں چھوڑ دیا

    سیلابی ریلے سے 100 سے زائد مکانات اور دیگر عمارتیں تباہ ہوئیں جبکہ 50 کےقریب ہوٹلز تباہ ہو گئے،سوات میں درجنوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے، گلیاں اور سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں، گاڑیوں کو بھی سیلابی ریلا اپنے ساتھ لے گیا جبکہ سوات کا سب سے بڑا ایوب برج بھی بند ہو گیا-

    ادھر سوات ایکسپریس وے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پلائی کے مقام پر جزوی طور پر بند کر دی گئی، ضلع بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے کالام میں دریا کنارے بنے ہوٹل تباہ و برباد ہوگئے، بحرین میں بھی سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا۔

    دریا سوات میں بارشوں سے پیدا ہونے والی شدید طغیانی کے باعث کالام کا سب سے مشہور اور مہنگا ہوٹل ’ہنی مون‘ بہہ گیا ہنی مون ہوٹل وادی کا سب سے خوبصورت اور مہنگا ہوٹل تصور کیا جاتا تھا اور اپنی خوبصورت جغرافیائی حیثیت کے باعث سیاحوں کا مرکز تھا۔

    دوسری جانب محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل فاروقی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ مختلف اضلاع میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں-

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کو ضلعے کا درجہ دینے کا فیصلہ

    ڈاکٹر سہیل فاروقی کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 15 ہزار سے زائد افراد پیٹ، قے، دست اور آنکھوں سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں محکمۂ صحت نے 35 کیمپ لگائے ہیں، کیمپوں میں صحت کا عملہ متاثرین کو طبی امداد فراہم کر رہا ہے۔

    ڈاکٹر سہیل فاروقی کا کہنا ہے کہ سانپوں کے کاٹنے کی ویکسین بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی ہیں، تمام کیمپوں کو ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں 50 سے زائد مختلف بیماریوں کی ادویات متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی ہیں۔

    دوسری راجن پور مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوب گیا۔ پانی کے علاوہ دیگر مسائل نے بھی متاثرین کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔

    متاثرہ علاقوں میں انتظامی مشینری غائب اور خوراک کی بھی قلت ہے جبکہ بچوں کے بیمار ہونے کے باعث مائیں پریشان ہیں مکانات بہہ جانے کے باعث متاثرین کھلے آسمان تلے موجود ہیں، جس کی وجہ سے بچا کچھا سامان بھی تباہ ہونے لگا ہے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں سانپوں کی بھرمار نے بھی متاثرین کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر کو خطرہ نہیں، پانی دیہی علاقوں کی طرف جارہا ہے دوسری جانب ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کا گیارہویں روز بھی زمینی راستہ بند ہے جس کے باعث لوگ غذائی قلت کا شکار ہونے لگے ہیں مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت تونسہ روڈ سے تودے ہٹانے شروع کر دیئے-

    ادھر بلوچستان کے زمینی و فضائی راستے بند جبکہ لینڈ لائنز اور موبائل فون سگنلز بھی بیٹھ گئے، جس کے باعث سیلاب میں ڈوبے بلوچستان کی خبر ملنا مشکل ہوگئی کوئٹہ 30 گھنٹوں تک بارش اور سیلاب میں گھرا رہا۔ سیلاب میں پھنسنے والے 500 سے زائد افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

    ملک بھر میں سیلاب اوربارشوں سے مزید 45 افراد جاںبحق

    چار سدہ میں منڈا ہیڈ ورکس کا پل ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے سیلابی ریلے کا شہر سے ٹکرانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، صورتحال دیکھ کر مقامی انتظامیہ کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا تو شہر اور ملحقہ علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد گھر بار چھوڑ کر موٹر وے پہ پہنچ گئی ہے۔

    حکمہ آبپاشی نے بتایا ہے کہ منڈا ہیڈ ورکس کے پل کا دو سے تین سو فٹ حصہ پانی میں بہہ گیا ہے جس کی وجہ سے ریلے کے بہاؤ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن تاریکی کے سبب ہونے والے نقصانات کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔

    اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نوشہرہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ چارسدہ میں منڈا ہیڈورکس کا آدھا حصہ سیلابی پانی کی وجہ سے تباہ ہو گیا ہے، سیلابی پانی تیزی سے نوشہرہ کی طرف گامزن ہے۔عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ اس وقت سستی سے کام نہ لیں اور فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔ منڈا ہیڈورکس 2010 میں سیلابی پانی سے محفوظ رہا تھا۔

    سیلاب کے خطرے کے پیش نظر سب جیل سے قیدیوں کو ضلع مردان منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، قیدیوں کو مردان ڈسٹرکٹ جیل منتقلی کا عمل آج مکمل ہو جائے گا ڈی پی او کا کہنا ہے کہ سب جیل سے تقریباً ساڑھے تین سو قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا، قیدیوں کو سیلاب کے شدید خطرے کے پیش نظر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی تجویز پر مردان جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا میں منڈا ہنڈورڈکس کا پل ٹوٹ گیا،چار سدہ سے لوگوں کی نقل مکانی شروع

  • ملک بھر میں سیلاب اوربارشوں سے مزید 45 افراد جاںبحق

    ملک بھر میں سیلاب اوربارشوں سے مزید 45 افراد جاںبحق

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 45 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد وشمار کےمطابق سیلاب اوربارشوں کے باعث ہونے والے مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 982 تک پہنچ گئی جبکہ 14 سو 56 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں منڈا ہنڈورڈکس کا پل ٹوٹ گیا،چار سدہ سے لوگوں کی نقل مکانی شروع

    این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں میں اب تک سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہوئی ہیں اور سندھ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 339 ہوگئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں کے دوران 8 لاکھ 2 ہزارسے زائد مویشی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 149 پلوں کو نقصان ہوا اور 6 لاکھ 82 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

    کوئٹہ اور مستونگ میں 3 بچوں سمیت 7 افراد سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے، سیلابی پانی میں ڈوبنے والے ساتوں افراد کی لاشیں سول اسپتال منتقل کردی گئیں۔

    کوئٹہ میں گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش کے بعد مختلف ندیوں میں آنے والے سیلابی ریلوں میں تین بچوں سمیت چھ افراد پانی میں ڈوب جانے کے باعث جاں بحق ہوئے۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے مفت کال کرنے کی سہولت

    بلیلی، ہنہ اوڑک، چشمہ اچوزئی اور مشرقی بائی پاس پر ہونے والے واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کردی گئیں مستونگ کے علاقے دشت میں ڈوبنے والے شاہ زین نامی نوجوان کی لاش بھی اسپتال منتقل کردی گئی۔

    دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(پی ایم اے)نے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف کیمپ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے پی ایم اے لاہورکے سربراہ پروفیسر اشرف نظامی کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں بھی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی اشیا اکٹھی کی جائیں گی۔

    پروفیسر اشرف نظامی نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ملکوں میں سرفہرست ہے،فلڈ انفارمیشن سسٹم کی موجودگی میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی بے حسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان اداروں کی غیر ذمہ داری کے باعث انسانی المیے نے جنم لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے پی ایم اے آفس میں امدادی کیمپ قائم کیا جا رہا ہے، مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کریں گے۔

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ

    ہرنائی میں مانگی کے مقام پر رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا،قومی شاہراہ مکمل بند ہو گئی

    ریسکیو ذرائع کے مطابق مالاکنڈ میں خار کے مقام پرسیلاب میں پھنسے 15 افراد کو زندہ نکال لیاگیا،ریسکیو اورسول ڈیفنس کی ٹیموں نے آپریشن میں حصہ لیا تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے-

    سبی میں دریائے ناڑی کینال بپھرنے کے باعث ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن مکمل ہو گیا ڈپٹی کمشنر سبی کے مطابق مختلف مقامات پر کٹ اور حفاظتی بند باندھنے کے بعد پانی کا رخ تبدیل کر دیا گیا ہے،عوام اطمینان رکھیں،شہر اب بالکل محفوظ ہے-

    ڈپٹی کمشنر سبی کے مطابق دریائے ناڑی کینال میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے،سبی میں دریائے ناڑی کینال بپھرنے کے باعث متعدد دیہات زیر آب آ چکے ہیں،متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، کھانے پینے کی اشیاء فراہم کردی گئیں،کسی بھی سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے انتظامیہ الرٹ ہے،

    ریسکیو حکام کے مطابق نوشہرہ میں دریائے کابل میں 274000 کا سیلابی ریلے ریکارڈ کیا گیا ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے مطابق دریائے کابل سے گزرنے والا سیلابی ریلہ نقصان کیے بغیر بحفاظت گزر جائے گا،دریائے کابل میں پانی کی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، دریائے کابل میں 2 لاکھ 35 ہزار کیوسک سے زیادہ پانی کا ریلاہےدونوں ڈیمز سے پانی کے اخراج کو کم سے کم کیا جارہاہے-

    ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے مطابق واپڈا حکام نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو ہرممکن تعاون کا یقین دہانی کرائی ہے،سیلاب کی شدت اور دریائے کابل میں بھی پانی کے بہاومیں کمی آئے گی،پانی کے اخراج کو کم کرنے سے سیلابی ریلہ اٹک کے مقام پر دریائےسندھ میں بحفاظت ڈسچارج ہوسکے گا-

    وارسک اور تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج کو کم کرنے کیلئے بات چیت جاری، صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا نوشہرہ میں سیلاب کی شدت کو کم کرنے کیلئے واپڈا حکام سے رابطہ کیا گیا ہے خیر آباد تفریحی کنڈ پارک بھی سیلابی پانی میں ڈوب گیا،صوبے کے تیسرے بڑے اسپتال قاضی میڈیکل کمپلیکس میں طبی سہولیات عارضی طور پر ملتوی کر دی گئی ہیں-

    ریسکیو ذرائع کے مطابق نوشہرہ میں مختلف علاقوں میں سیلابی الرٹ،مکینوں کیطرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے آبادی میں پانی داخل ہونے کے باعث رہائشیوں کی نکل مکانی جاری ہے پیرسباق کے علاقے میں پانی کی سطح مزید بڑھنے لگی-

    دریائے کرم میں گھڑی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ،دریائے ناگمان میں چارسدہ رو ڈ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
    دریائے شاہ عالم میں تخت آباد کے مقام درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ دریائے سندھ میں تربیلہ، چشمہ کے مقام پر نچلے، جناح بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا-

    دریائے پنجکوڑہ میں دیر کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب، پانی کا بہاو 56ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا دریائے سندھ میں اٹک خیر آباد کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب، بہاو 5 لاکھ 79 ہزار کیوسک دریائے جندی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، چارسدہ کے مقام پر بہاو 33 ہزار ریکارڈ دریائے سوات خیالی میں چارسدہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، بہاو ایک لاکھ 40 ہزار ریکارڈ کیا گیا-

    دریائے سوات میں چکدرہ اور منڈا ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا دریائے سوات میں خوازخیلہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا

    ادیزئی کے مقام پر 79 ہزار 300 کیوسک ریلا گزر رہا ہے ،نوشہر ہ ،پانی کا بہاو 2 لاکھ 74 ہزار، ورسک ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکار ڈ دریائے کابل میں ورسک اور ادیزئی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب

    خانوزئی ڈیم اور مستونگ میں بولان ندی کے صبری ڈیم ٹوٹ گیا ،مکانات منہدم ،لوگ بے گھر ہو گئے ڈیرہ مرادجمالی کے دریاے لہڑی اور دریاے مولا میں طغیانی سے قریبی آبادی متاثر ہوئی مکران ڈویژن ،نصیر آباد صحبت پوراور کچھی میں بھی دیہات زیرآب آگئے ،متاثرین کی نقل مکانی ، ژوب ، موسٰی خیل، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، قلات میں سیکڑوں دیہات ڈوب گئے-

    بلوچستان میں بارش ، ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سڑکیں ٹوٹ گئیں،اندرون ملک سےرابطہ منقطع ہو گیا دریائے ناگمان میں چارسدہ رو ڈ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا-

  • ڈیرہ غازی خان میں  بارش کا سلسلہ جاری، برساتی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ

    ڈیرہ غازی خان میں بارش کا سلسلہ جاری، برساتی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ

    ڈیرہ غازی خان میں بارشوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس سے برساتی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ سیلاب سے کچے مکانات تباہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازی خان میں گزشتہ رات سے شہر اورکوہ سلیمان میں بارش کا سلسلہ جاری ہے جہاں وڈوربرساتی ندی میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزررہا ہے جبکہ مزید بارش سے برساتی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ڈی جی خان کے سخی سرور روڈ پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے کوئٹہ روڈ پر قریبی بستیاں زیر آب آگئیں قبائلی علاقوں میں نویں روزبھی زمینی راستے منقطع ہیں اور قبائلی علاقوں میں 90 فیصد کچے گھروں کو نقصان پہنچا ہےجہاں ریلیف کا کام جاری ہے ڈی جی خان میں گرڈو کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے پنجاب بلوچستان شاہراہ تاحال بند ہے۔

    ادھر کوئٹہ کے علاقے نواں کلی بائی پاس پر برساتی ریلےگھروں میں داخل ہوگئےپروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پی ڈی ایم اے اور پولیس کی ریسکیو ٹیمیں علاقے میں موجود ہیں جنہوں نے خواتین اور بچوں سمیت 20سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا ہے-

    دوسری جانب کوہلو اور ماوند میں رات گئے سے بارش جاری ہے جہاں کوہلو میں مسلسل بارش سے متعدد علاقوں میں لوگ محصور ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں کچے مکانات گرنے سے لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں کوہلومیں ضلعی انتظامیہ کےپاس خیموں کی قلت ہے اور متاثرین حکومتی امدادکےمنتظر ہیں۔

    لیویز حکام کا کہنا ہے کہ کوہلوکی بیجی ندی میں گزشتہ روزبہہ جانے والے 2 افرادکی تلاش تاحال جاری ہے،کوہلو کاکوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ آج 12 ویں روز بھی منقطع ہے۔

    مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہیاں،300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات،اور5 لاکھ کے قریب مکانات تباہ

    مستونگ شہر اور گرد و نواح میں رات سے موسلادھار بارش جاری ہے جس سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے اور سیلاب متاثرین کی مشکلات بڑھ گئیں۔

    جبکہ اندرون سندھ میں بارش کی تباہ کاریوں سےمتاثرہ افرادکراچی پہنچ گئےاندرون سندھ سے آنے والے سیلاب متاثرین کو کراچی کے علاقے سچل گوٹھ میں واقع سرکاری اسکولوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

    متاثرین نے بتایا کہ ان کا تعلق ضلع نوشہرو فیروز کے شہر محراب پور سے ہے، وہ اپنی جانیں بچا کر یہاں پہنچے ہیں، محراب پور میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، پہلے دن کھانا نہیں ملا تھا،کل سےکھانا ملنا شروع ہوا ہے سیلاب کی وجہ سے ان کے مال مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔

    ادھر محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی کہ کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع ابر آلود رہنے کا امکان ہے اور شہر میں گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ مون سون سسٹم سندھ میں موجود ہے، سسٹم کا مرکز بالائی سندھ کے قریب ہے، مون سون سسٹم کے زیر اثربالائی اور وسطی سندھ میں آج شام تک بارش کا امکان رہے گا کراچی میں شام یا رات کے وقت ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان ہے جبکہ مون سون سسٹم کے زیر اثر بلوچستان کے جنوبی اور شمال مشرقی اضلاع میں 26 اگست تک بارش کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے شہر میں 24 اور 25 اگست کو بارش کی پیشگوئی کی تھی جس کے پیش نظر حکومت سندھ نے صوبے بھر کے تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

    راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

  • مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہیاں،300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات،اور5 لاکھ کے قریب مکانات تباہ

    مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہیاں،300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات،اور5 لاکھ کے قریب مکانات تباہ

    سندھ اور بلوچستان اور پنجاب سمیت ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی،ملک بھر میں 14جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب سے 300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات ہوچکی ہیں-

    باغی ٹی وی: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے ) نے بارشوں اور سیلاب کے باعث 14 جون سے اب تک ہونے والے نقصانات کے اعدادو شمار جاری کردیئے،۔این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 14جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب سے 903افراد جاں بحق ہوئے-

    خیبرپختونخوا:بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریاں،12 اقسام کی مختلف فصلیں تباہ ہو گئیں

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے4لاکھ 95ہزار259مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا سیلاب سے ایک ہزار 293 افراد زخمی ہوئے لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے،ہزاروں ایکڑ فصلیں اجڑ گئیں۔ سڑکیں بہہ گئیں، شہروں اور صوبوں کا آپس میں رابطہ کٹ گیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں 230 افراد جاں بحق ہوئے۔سندھ 293افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ پنجاب میں 164افراد لقمہ اجل بنےآزاد کشمیر میں سیلاب اوربارشوں سے 37افراد جاں بحق ہوئے۔گلگت بلتستان میں 9افراد سیلاب کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں 26ہزار 897 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا خیبر پختونخوا میں 15 ہزار117مکانات سیلاب اوربارشوں میں بہہ گئے پنجاب میں 84 ہزار106مکانات متاثر ہوئے سندھ میں 3 لاکھ 68 ہزار233 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا۔

    کراچی میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے آج اور کل ہونے والی بارش سے کراچی ملیر ندی میں طغیانی کی وجہ سے کورنگی کاز وے ایک بار پھر زیر آب آگئی طغیانی کی وجہ سے کئی بار کورنگی کازوے زیر آب آچکی ہے جس کی وجہ سے کازوے کی سڑک خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہےاور پھر ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

    کے پی کے میں سیلاب سے تباہی،عمران خان کو جلسوں سے فرصت نہیں

    ٹریفک پولیس نے رکاوٹیں لگا کر کازوے کو بند کیا ہے اور ٹریفک کو متبادل راستے کی طرف موڑا جارہا ہے۔

    دوسری جانب سوئی سدرن گیس حکام کے مطابق بولان میں سیلاب کے باعث گیس پائپ لائن بہنے سے کوئٹہ سمیت کئی اضلاع کو گیس کی فراہمی بند ہوگئی بولان کے علاقے بی بی نانی میں گیس پائپ لائن ریلےمیں بہہ گئی جس سےکوئٹہ کوگیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    ایس ایس جی سی کے مطابق برساتی ریلے میں گیس پائپ لائن بہنے سے مچھ، زیارت، پشین، مستونگ اورقلات کو بھی گیس کی فراہمی بند ہوئی شکارپور سے کوئٹہ آنے والی 24 انچ گیس کی پائپ لائن پہلے ہی بہہ چکی ہے بولان ندی میں پانی کم ہونےکے بعدگیس لائن کی مرمت میں کچھ دن لگ سکتے ہیں جب تک متبادل 12 انچ کی لائن سے گیس فراہم کی جارہی ہے۔

    ادھر بارش برسانے والا ایک اور مضبوط سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سڑکیں بہہ جانے اور پل ٹوٹنے کے باعث بلوچستان کا ملک کے دیگر تمام صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں برسانے والا مضبوط سسٹم جنوب وسطی اور مغربی بلوچستان تک پھیل رہا ہے جس کے باعث چمن شہر کےنواحی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں چمن میں کئی علاقوں کے برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہیں، شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی متاثر ہیں۔

    سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد ریسکیو،وزیراعلیٰ کی ریلیف آپریشن مزید تیز…

    لیویز کنٹرول کے مطابق کوہ خواجہ عمران کے دامن میں سیلابی ریلوں میں رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جس کے باعث سپینہ تیزہ اور غوژئی کے دیہات کا 3 دن سے چمن شہر سے رابطہ منقطع ہے پشین، برشور، خانوزئی، کان مہترزئی اور مسلم باغ میں گرج چمک کےساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ لورا لائی، ژوب، میختر، شیرانی، دکی اور زیارت میں بھی بادل خوب برس رہے ہیں۔

    مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں دوبارہ بارش سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور امدادی کاموں میں بھی دشواری کا سامنا ہے قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور گلستان میں موسلادھار بارش کے باعث رابطہ سڑکیں آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہیں جبکہ توبہ اچکزئی میں برج متکزئی ڈیم اوور فلو ہونے کے باعث سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

    نئے طاقتور اسپیل نے بلوچستان کے بالائی اور شمالی علاقوں میں پھر سے سیلابی صورتحال بنا دی ہے، بالائی علاقوں میں سیلابی ریلوں سےکئی مکانات اور باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے ڈیرہ بگٹی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل میں تیز بارش کے باعث برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جس سے مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    شدید بارشوں، ندی نالوں میں طغیانی اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے کے باعث بلوچستان کا سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ساتھ زمینی رابطہ معطل ہو چکا ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دل کھول کر امداد فراہم کریں، سراج الحق کی اپیل

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں ہونے والی بارشوں کے اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں جن کے مطابق گزشتہ 24گھنٹے کے دوران سندھ ،بلوچستان ،پنجاب ،خیبر پختونخوا میں بارش ہوئی،آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے بعض مقامات پر بھی بارشیں ہوئیں،سب سے زیادہ بارش سندھ میں سکرنڈ 175، پڈعیدن 142، نوابشاہ میں 118ملی میٹر بارش ریکارڈ،ٹنڈو جام 92، میرپور خاص 87، بدین 81، خیرپور 71،چھور 70، حیدرآباد 66 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی-

    منڈی بہاؤالدین 32، چکوال 26، منگلا 21، اسلام آباد سید پور 20، گولڑہ میں 9ملی میٹر بارش ریکارڈہوئی ،سیالکوٹ ایئرپورٹ 49، سٹی 36، جہلم 47، کوٹ ادو 38 اور مری میں 33 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی بنوں 10، چترال، بالاکوٹ 08، پتن میں5 ملی میٹر بارش ریکارڈہوئی-

    کالام 17، دیر بالا 24، زیریں 11، مالم جبہ 20، دروش 13، پاراچنار 12 میں ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی میر کھانی میں 28ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ،خیبر پختونخوا میں ڈیر ہ اسماعیل خان ایئرپورٹ 54، سٹی 44، سیدو شریف 32، کاکول میں 23ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی زیرو پوائنٹ 8، بوکرا 7، ائیرپورٹ کے قریب2ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی-

    وزیراعظم نے سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر لندن کا دورہ منسوخ کر دیا

    کراچی،ناظم آباد، کیماڑی، جناح ٹرمینل 11، یونیورسٹی روڈ 10، ایم او ایس، مسرور بیس میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی سعدی ٹاؤن 19، نارتھ کراچی، صدر 18، فیصل بیس، اورنگی 17، گلشن معمار 14 ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی قائد آباد 27، گلشن حدید، گڈاپ ٹاؤن 24، سرجانی 23، کورنگی 21 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی-

    لاڑکانہ 65، موہنجو داڑو، روہڑی 62، جیکب آباد 59،سکھر 42، دادو 39 اور مٹھی 25ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی نارووال 11 ، ملتان ایئرپورٹ 5، شہر 1، گجرات 3، جوہر آباد 2، لیہ، اٹک میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی بھکر17، رحیم یار خان 16، ڈی جی خان 11، راولپنڈی شمس 11، کچہری 9، چکلالہ ایئرپورٹ پر 5ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،خضدار 36، بارکھان 22، لسبیلہ 18 اورقلات میں 7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی-

    راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

  • خیبرپختونخوا:بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریاں،12 اقسام کی مختلف فصلیں تباہ ہو گئیں

    خیبرپختونخوا:بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریاں،12 اقسام کی مختلف فصلیں تباہ ہو گئیں

    خیبرپختونخوا (کے پی) کے متعدد اضلاع میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، 14 ہزار 394 ایکڑ پر کھڑی 12 اقسام کی فصلیں تباہ ہو گئیں-

    باغی ٹی وی : محکمہ زراعت کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث کے پی میں فصلیں اور سبزیاں پانی کی نذر ہوجانے سے کسانوں کو 3 ارب 66 کروڑ 27 لاکھ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

    محکمہ زراعت کے مطابق کے پی میں مکئی کی 4 ہزار 543 میٹرک ٹن فصل اور 3 ہزار ٹن سے زیادہ مختلف اقسام کی سبزیاں سیلابی ریلوں کی نذر ہوئی جبکہ سب سے زیادہ 5 ہزار 140 میٹرک ٹن کجھوربھی ضائع ہوئی ہے۔

    محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر جنرل عالمزیب خان کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور کرک سمیت دیگر اضلاع میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث 1261 مویشی اور تین ہزار 711 مرغیاں ہلاک ہوئیں جبکہ 65 جانوروں کے شیڈز کو مکمل اور84 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    ڈی جی محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث صوبے میں 418 بڑے مویشی اور843 بھیڑ بکریاں ہلاک ہوئیں، ضلع ٹانک میں 229، جنوبی وزیرستان میں 274 جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھِی 240 مویشی ہلاک ہوئے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آج بھی ملک کے مختلف شہروں میں موسلا دھاربارش کی پیشنگوئی کردی ہے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ کل بھی بارش کا امکان ہے۔

    سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد ریسکیو،وزیراعلیٰ کی ریلیف آپریشن مزید تیز…

    محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی موسلا دھار بارش کی پیشن گوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے موسلا دھار بارش کے باعث اسلام آباد، کراچی، حیدرآباد، راولپنڈی، لاہور، ملتان اور گوجرانوالہ کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق موسلا دھار بارش سے ایبٹ آباد، مانسہرہ، دیر ،کرک، بنوں، لکی مروت اور کشمیر کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے جب کہ کشمیر و خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ بھی ہو سکتی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کا امکان گلیات ، مری ، چلاس، دیامیر، گلگت، ہنزہ، استور اور اسکردومیں بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے سیاحوں اور مسافروں کو سفر کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دل کھول کر امداد فراہم کریں، سراج الحق کی اپیل

  • بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 21 ڈیمز ٹوٹ گئے

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 21 ڈیمز ٹوٹ گئے

    بلوچستان میں بارشوں سے بھرنے والے 21 ڈیمز پانی کا دباؤ بر داشت نہ کر پائے۔

    باغی ٹی وی : 5 سال کے دوران کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والے 21 ڈ یمز ٹو ٹ گئے اور ڈیمز سے نکلنے والے سیلابی ریلوں نے صوبے میں جہاں تباہی مچائی وہیں یہ ریلے بلوچستان کی معیشت کو بھی بہا لے گئے جبکہ ٹھیکے داروں نے ڈیمز ٹوٹنے کی وجہ ناقص تعمیراتی مٹیریل اور کرپشن کو قرار دے دیا۔

    افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی

    یاد رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی معائنہ ٹیم نے بھی حالیہ بارشوں سے کئی ماہ قبل ہی کئی ڈیمز کی تعمیر کو ناقص قرار دیا تھا تاہم حکومت نے کوئی ایکشن نہ لیا اور نہ ہی ڈیمز کی مرمت کرائی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ناقص تعمیر پر ایکشن لینے کا اعلان کردیا۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقواں نوشکی، قلعہ عبداللہ اور چاغی میں افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے سیلابی ریلوں میں نوشکی کے7 دیہات ڈوب گئے ، درجنوں مکانات تباہ ، پھلوں کے باغات اور کھڑی فصلیں بہہ گئیں-

    سندھ میں مون سون کا نیا اسپیل،بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی

    ریلے میں پھنسے 5 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرلیا گیا جبکہ سیلاب متاثرہ درجنوں دیہات کا نوشکی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور سیلاب متاثرین کو ہیلی کاپٹرکے ذریعے امدادی سامان اور راشن فراہم کیا گیا۔

    سندھ میں بارشوں سے تباہی،مزید9 افراد جاں بحق،فوج سے مدد طلب