Baaghi TV

Tag: مہنگائی

  • بجلی کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے مہنگائی اور کم ہوگی، نواز شریف

    بجلی کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے مہنگائی اور کم ہوگی، نواز شریف

    لاہور:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی پر عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    باغی ٹی و ی: اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے مہنگائی اور کم ہوگی، الحمدللہ ملک کی اکانومی میں بہتری سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آرہی ہےحکومت غریبوں اور مڈل کلاس کی زندگی میں آسانی لانے کی پوری کوشش کر رہی ہے، حکومت کی مسلسل کوششوں سے مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

    دریں اثنا محمد نواز شریف نے پارٹی کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کو پارٹی کے صوبائی سطح پر اجلاس بلا کر عوام کے ریلیف کے حکومتی اقدامات کی تحسین کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے امیر جماعت اسلامی کا ٹیلی فونک رابطہ

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کیا گیا تھا لائف لائن صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 4 روپے 78 پیسے مقرر کیا گیا، سویونٹ تک استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی نرخ 9 روپے 37 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے 8 روپے 52 پیسے مقرر کیے گئے، دوسو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے 11 روپے 51 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے،تین سو یونٹ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 34 روپے 3پیسے فی یونٹ، تین سو یونٹ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹیڈ ٹی او یوصارفین کے لیے بجلی کے نرخ 48 روپے 46 پیسے فی یونٹ مقرر ہوئے ہیں۔

    تیسرا ون ڈے،پاکستانی ٹیم بارے افغان تماشائی کے نازیبا الفاظ،خوشدل شاہ الجھ پڑے

    گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی اوسط قیمت 31 روپے 63 پیسے فی یونٹ، کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 62 روپے 47 پیسے اورجنرل سروسز کے لیے بجلی کے نرخ 49 روپے 48پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔

    اسی طرح صنعتوں کے لیے بجلی کے یونٹ 40 روپے 51 پیسے فی یونٹ، زرعی صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 34 روپے 58 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے،آزاد کشمیر اور پبلک لائٹنگ کے لیے بجلی کا ٹیرف 32 روپے 69 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا، بجلی کا اوسط قومی ٹیرف 37 روپے64 پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔

    بی ون صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی نرخ 40 روپے 3پیسے فی یونٹ مقرر کردیے گئے، بی ون صنعتی صارفین آن پیک کیٹگریز کے لیے بجلی کے نرخ44 روپے 59 پیسے فی یونٹ، بی ون آف پیک صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 37 روپے 47 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے۔

    صدر مملکت کا علاج جاری،کل یا پرسوں ڈسچارج ہو جائیں گے،ذاتی معالج

    اس کے علاوہ بی ٹو صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ42 روپے 37 پیسے فی یونٹ، بی ٹو آن پیک صارفین کے لیے 44 روپے 51 پیسے فی یونٹ اور بی ٹو آف پیک صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 41 روپے 5 پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔

    اعلان کے بعد بی تھری صارفین کے لیے بجلی کے نرخ44 روپے 51پیسے فی یونٹ، بی فور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 44 روپے51 پیسے فی یونٹ اور صنعتوں کے لیے عارضی بجلی سپلائی کے لیے نئے نرخ 51روپے 92 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔

    مائیں بچوں کا خیال رکھیں،ہلاک خارجی کی والدہ کا پیغام

  • مہنگائی کے باعث پاکستانیوں نے چائے پینا کم کر دی

    مہنگائی کے باعث پاکستانیوں نے چائے پینا کم کر دی

    مہنگائی کے باعث پاکستانیوں نے چائے پینا کم کر دی، رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران چائے کی امپورٹ میں نمایاں کمی ہو گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ممکنہ طور پر مہنگائی کے باعث قوت خرید متاثر ہونے سے پاکستانیوں نے اپنی سب سے پسندیدہ مشروب چائے کا استعمال بھی کم کر دیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران چائے کی امپورٹ میں ساڑھے 6 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی، جبکہ دسمبر 2024 میں دسمبر 2023 کے مقابلے میں چائے کی امپورٹ میں 7 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی۔چائے کی ملکی امپورٹ میں دسمبر 2024 کے دوران 7.05 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق ماہ دسمبر 2024 میں چائے کا حجم 15.6 ارب روپے تک کم ہوگیا، جبکہ دسمبر 2023 میں چائے کی امپورٹ کی مالیت 16.7 ارب روپے رہی تھی۔اس طرح دسمبر 2023 کے مقابلہ میں دسمبر 2024 کے دوران چائے کی قومی امپورٹ میں 1.1 ارب روپے یعنی 7 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں چائے کی امپورٹ میں سالانہ 6.67 فیصد کمی کی گئی، گزشتہ سال کے اسی عرصے چائے کی امپورٹ کا حجم 33 کروڑ 64 لاکھ ڈالر تھا۔

    پاکستان میں کرنسی کی گردش 9.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی

    سونے کی قیمت میں آج معمولی کمی

    ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    بلوچستان کے 25 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے

  • 2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا ،اسحاق ڈار

    2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا ،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے اور اس ماہ میں یہ 5 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیشت میں بہتری کے آثار ہیں۔

    اسحاق ڈار نے یہ بات اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ 2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا اسی سال ن لیگ حکومت میں آئی، سب کو نیا سال مبارک ہوں،2024 میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ مینڈیٹ دیا، جس کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 31 دسمبر کو ایک جامع معاشی پلان پیش کیا۔ وزیرِ اعظم کا ‘اڑان پاکستان’ پروگرام بھی عوام کے سامنے لایا گیا ہے جس میں ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے مختلف اقدامات شامل ہیں۔نائب وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتوں میں جس طرح مہنگائی کا طوفان آیا تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے۔ "مہنگائی کا وہ شدید دباؤ اب کم ہوچکا ہے، عوام پر بجلی کے بلوں کا بوجھ بھی زیادہ تھا اور اس کی متعدد وجوہات تھیں، مگر وزیرِ اعظم نے بجلی کے بلوں میں کمی کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن سے عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔”

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈیڑھ سال پہلے پاکستان کو سفارتی تنہائی کا سامنا تھا، لیکن اب وہ "سفارتی تنہائی” مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ "پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نیا جوش ہے، اور پاکستان کی ایکسپورٹس بھی اچھا ٹرینڈ دکھا رہی ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ملکی معیشت کو فروغ مل رہا ہے۔”وزیر اعظم کے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دورے جاری رہینگے۔ ان دورے کی وجہ سے مستقبل میں 29 ارب کی سرمایہ کاری ہوگی وزیر اعظم کے دورہ چین میں 24 ایم او یو سائن ہوئے.اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم نے عوام کو بجلی کے حوالے سے اہم ریلیف فراہم کیا ہے، جس کے تحت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو رعایت دی گئی ہے اور پنجاب میں 500 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو بھی ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ نے اکنامک ڈپلومیسی کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور اب وزیرِ خارجہ کا دفتر عالمی سطح پر پاکستان کے معاشی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

    نائب وزیرِ اعظم نے دفترِ خارجہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کام میں انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ "وزارتِ خارجہ کی ٹیم نے اپنی ذمہ داریاں بہت اچھے طریقے سے نبھائی ہیں۔ اسی وجہ سے ہم نے ممتاز زہرہ کو فرانس میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور شفقت صاحب کو دفترِ خارجہ کا ترجمان مقرر کیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ خارجہ اور دفترِ خارجہ کے دیگر اراکین نے عالمی سطح پر پاکستان کی شبیہ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور وزارتِ خارجہ کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔اسحاق ڈار نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان معاشی اور سفارتی محاذوں پر مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے اور ان تمام اقدامات کا مقصد عوام کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔

    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نےمہنگائی کی شرح 81 ماہ کی کم ترین سطح پر آنے پر اظہار اطمینان کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024ءمیں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد پر آنا خوش آئند ہے،میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے ،ہم نے اڑان پاکستان جیسے منصوبے کا آغاز کیا، یہ منصوبہ پاکستان کو دنیا کے صف اول ممالک کی صف میں کھڑا کر دے گا،حکومت معاشی اصلاحات کی پالیسی پر گامزن ہے،24 سال بعد کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس ہوا،افراط زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گیا، سٹاک مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین مارکیٹ بن چکی ہے ،پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گیا ہے ،حکومتی معاشی اور مالیاتی ٹیم کی محنت سے معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے،عوام کی مشکلات کا احساس تھا، عوام کی مشکلات کے حل کے لئے دن رات کام کیا ،انشاءاللہ عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری آئے گی.

    وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد رہی، جو نومبر 2024 میں 4.9 فیصد اور دسمبر 2023 میں 29.7 فیصد تھی۔انھوں نے کہا کہ6 ماہ کے دوران اوسط مہنگائی 7.2 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 28.8 فیصد تھی۔ غذائی مہنگائی میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں یہ 2.5 فیصد اور دیہی علاقوں میں -0.2 فیصد رہی۔ کور انفلیشن بھی کم ہو کر 8.1 فیصد پر آ گئی ہے، جو نومبر 2024 میں 8.9 فیصد اور دسمبر 2023 میں 18.2 فیصد تھی۔

    26 نومبر احتجاج، گرفتار مظاہرین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    تشدد کیس، اداکارہ نرگس نے شوہر کو معاف کر دیا

  • مہنگائی کی شرح گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی،وزیراعظم

    مہنگائی کی شرح گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح مزید کم ہو کر ساڑھے تین فیصد (3.57) پر آنے پر پوری قوم کو مبارکباد دی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم اور معاشی ٹیم کی کاوشوں کی بدولت مہنگائی کی شرح گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی. 4 اکتوبر 2018 کے بعد، آج پرائس انڈیکس کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا. گزشتہ برس میں رواں ہفتے کی نسبت آج مہنگائی کی شرح میں 39.11 فیصد کی بڑی کمی معاشی ٹیم کی دن رات محنت کا نتیجہ ہے. عوام سے کئے گئے اپنے ہر وعدے پر قائم ہوں. عوام کی مشکلات کے ازالے کیلئے دن رات محنت کا عہد کیا تھا. بطور خادم پاکستان اپنے کئے گئے ہر عہد پر قائم ہوں. روزگار کی فراہمی، ملکی صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں. ملک معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہے. بیرون ملک سے ترسیلات زر، دوست ممالک سے سرمایہ کاری میں اضافہ، سفارتی تعلقات میں استحکام پاکستان کی ترقی کے سفر کی عکاسی ہے. پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے ہماری سیاسی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں. ملکی ترقی کے سفر میں تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں.

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • مہنگائی کم ہوئی ہے، اب ہمیں گروتھ کی طرف بڑھنا ہے،وزیراعظم

    مہنگائی کم ہوئی ہے، اب ہمیں گروتھ کی طرف بڑھنا ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دھرنوں نے ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کردی تھی،دھرنے کی وجہ سے ایک دن میں اسٹاک مارکیٹ ساڑھے 3 ہزار پوائنٹ گری۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ طویل عرصے کے بعد مہنگائی کم ہوکر 4.9 فیصد پر آگئی ہےمہنگائی وہ معاملہ ہے جس سے غریب آدمی براہ راست متاثر ہوتا ہے، مہنگائی کم ہوئی ہے، امید ہے عام آدمی پر بوجھ کم ہوگا، اب ہمیں گروتھ کی طرف بڑھنا ہے، افراط زر اب مزید کم ہوگا تاہم یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک کو کرنا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے چینی کی برآمد کی اجازت دی لیکن قیمت نہیں بڑھنے دی، ، چینی برآمد ہونے کے باوجود قیمت میں کمی ہوئی، چینی برآمد کرنے سے ملک کو 500 ملین ڈالر کا فائدہ ہوا، چینی کی افغانستان اسمگلنگ صفر ہوگئی ہے، دھرنوں نے ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کردی تھی، بالخصوص اسلام آباد میں ایک افراتفری کا عالم تھا، توڑ پھوڑ ہوئی، رینجرز اور پولیس والے شہید ہوئے، ان لوگوں نے اپنے غیرقانونی ہتھکنڈوں نے ملک کی بے عزتی کرائی-

    انہوں نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے ایک دن میں اسٹاک مارکیٹ ساڑھے 3 ہزار پوائنٹ گری،لیکن جیسے ہی دھرنے کے خلاف کارروائی ہوئی اور دھرنا ختم ہوا تو اسٹاک مارکیٹ اگلے دن دوبارہ کم بیک کرگئی پچھلا نقصان بھی پورا کیا اور مزید گین کیا، اس کا مطلب ہے کہ استحکام ہو تو معیشت بہتر ہوتی ہے، اس لئے ہمیں معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے،ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقتصادی اہداف حاصل کریں گے، معاشی بہتری کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید مثبت ہوں گے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں اسمبلی میں کھڑے ہوکر کہا گیا کہ پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں، پائلٹس کے جعلی ڈگری کے بیان سے بہت نقصان پہنچا،قومی ایئرلائن کی یورپ میں پروازوں کی بحالی پر خواجہ آصف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،ماضی کی حکومت کے وزیر نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکرغیرذمہ دارانہ بیان دیا، سابق وزیر کے بیان سے ملک کو اربوں کا نقصان پہنچا، میں خواجہ سعد اور اتحادیوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں، گزشتہ اتحادی حکومت نے بھی معاملے کیلئے بھرپور کاوشیں کیں۔

  • نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح  پر آگئی

    نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

    ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں پاکستان میں سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) افراط زر کی شرح 4.9 فیصد رہی، جو گزشتہ 78 ماہ کے دوران کی نچلی ترین سطح ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 16 دسمبر 2024 کو ہونے والے اجلاس سے قبل افراط زر کی شرح میں کمی کو تقویت ملی جو گزشتہ سال 38 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، آئندہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی شرح سود پر غور کرے گی، اس وقت شرح سود 15 فیصد کی سطح پر ہے۔ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق نومبر 2024 میں سی پی آئی افراط زر کی شرح سال بہ سال کی بنیاد پر کم ہو کر 4.9 فیصد رہ گئی جو اس سے پچھلے مہینے 7.2 فیصد اور نومبر 2023 میں 29.2 فیصد تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں مہنگائی بلند ترین سطح 38 فیصد پر جا پہنچی تھی، جس کی وجہ سے شرح سود بھی 22 فیصد کی تاریخی سطح پر ریکارڈ کی گئی، اس دوران بزنس کمیونٹی کاروبار کے لیے قرضے لینے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی تھی، تاہم روا ں سال افراط زر میں نمایاں کمی آنے پر اسٹیٹ بینک نے مسلسل تین بار شرح سود میں کمی کی۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ماہانہ بنیاد پر یہ نوٹ کیا گیا کہ نومبر میں افراط زر میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس سے پچھلے مہینے میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا تھا۔واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے ستمبر 2025 تک افراط زر کو 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف تک لانے اور میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے جارحانہ مانیٹری نرمی پر پابندی لگا رکھی تھی۔کراچی میں بروکریج فرم ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اسے ’78 ماہ میں سب سے کم ریڈنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 25 کے 5 ماہ کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 7.88 فیصد رہی جو مالی سال 24 کے 5 ماہ میں 28.62 فیصد تھی۔

    شہروں میں مہنگائی‘
    شہری علاقوں میں جن اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ان میں دال چنا (71.94 فیصد)، بیسن (59.13 فیصد)، دال مونگ (36.94 فیصد)، مچھلی (27.14 فیصد)، چنا (25.08 فیصد)، دودھ پاؤڈر (20.93 فیصد) اور گوشت کی قیمت میں (20.65 فیصد) اضافہ شامل ہے۔جن غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ان میں موٹر وہیکل ٹیکس (168.79 فیصد)، جوتے (31.88 فیصد)، دندان سازوں کی خدمات کی فیسوں میں (24.51 فیصد)، پرسنل ایفیکٹس (22.58 فیصد) اور اونی ریڈی میڈ گارمنٹس کی قیمتوں میں 19.10 فیصد اضافہ شامل ہے۔

    ’دیہی علاقوں میں مہنگائی‘
    جن اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں دال چنا 69.40 فیصد، بیسن 53.63 فیصد، دال مونگ 37.02 فیصد، دودھ پاؤڈر 26.62 فیصد، پیاز 25.04 فیصد، مکھن 24.38 فیصد اور گوشت کی قیمت میں 22.39 فیصد اضافہ شامل ہے۔جن غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ان میں موٹر وہیکل ٹیکس (126.61 فیصد)، پرسنل ایفیکٹس (26.75 فیصد)، تعلیمی اخراجات (22.96 فیصد)، رابطہ کاری کی خدمات (18.70 فیصد) اور اون کے ریڈی میڈ گارمنٹس کی قیمت میں 18.52 فیصد اضافہ شامل ہے۔

    ’ماہانہ بنیاد پر شہروں میں مہنگائی‘
    جن غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھیں، ان میں ٹماٹر(26.56 فیصد)، انڈے(11.8 فیصد)، دال مونگ(11.15 فیصد)، شہد(10.34 فیصد)، آلو(8.6 فیصد)، سرسوں کا تیل(7.48 فیصد)، ویجیٹبل گھی قیمتوں میں 4.69 فیصد کا اضافہ شامل ہے۔ایسی غیر غذائی اشیا جن کی قیمتیں بڑھیں، ان میں جوتے(12.36 فیصد)، مائع ہائیڈرو کاربن(8.95 فیصد)، اون کے تیار شدہ ملبوسات(6.91 فیصد) اور ذاتی استعمال کی الیکٹرک مصنوعات کی قیمتیں 5.21 فیصد بڑھ گئیں۔

    ’ماہانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی‘
    دیہی علاقوں میں جن غذائی اشیا کی قیمت ماہانہ بنیاد پر بڑھی، ان میں ٹماٹر(26.15 فیصد)، انڈے(10.26) فیصد، آلو (9.56 فیصد)، دال مونگ (7.75 فیصد)، کوکنگ آئل 6.75 فیصد اور ویجیٹیبل گھی 6.30 فیصد مہنگا ہوا۔جن غیر غذائی اشیاء کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں بڑھیں، ان میں اون کے تیار شدہ ملبوسات(5.94 فیصد)، مائع ہائیڈرو کاربن (5.27 فیصد)، گھریلو ٹیکسٹائل (4.23 فیصد) اور ڈرگز اینڈ میڈیسن کی قیمتوں میں 3.92 فیصد اضافہ شامل ہے۔

    یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

  • ملک میں مہنگائی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر

    ملک میں مہنگائی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر

    اسلام آباد: محکمہ ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔

    باغی ٹی وی : ترجمان محکمہ ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر دوہزار چوبیس میں افراط زر کی شرح چھ اعشاریہ نو فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اگست 2024 میں افراط زر 9.6 فیصد تھا،ٹاپ لائن سیکیوریٹرز کے سی ای او محمد سہیل نے بتایا کہ ڈالر کی منی لانڈرنگ کے خلاف اسٹیٹ بینک کے سخت اقدامات کے باعث مہنگائی کی سالانہ شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    ادارہ شماریات کے مطابق ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 0.5 فیصد کمی دیکھنے میں آئی،ماہرین نے مہنگائی کے سست ہونے کے رجحان کو کئی اہم عوامل سے منسوب کیا، جن میں اعلیٰ بنیاد کا اثر، عالمی اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں کمی، اور مستحکم شرح مبادلہ شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ محکمہ ادارہ شماریات کا بیان ایسے وقت پر آیا ہے جب آپٹما کے گروپ لیڈر اور سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے گزشتہ روز کہا تھا کہ مہنگائی کا جن قابو میں آ گیا ہے، ایکسپورٹ زیادہ کرنے کی ضرورت ہے، مہنگائی کی بڑی وجہ پاکستانی روپے کی گراوٹ ہے۔

  • مہنگائی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہو رہا،اپنی منزل تک پہنچیں گے،وزیراعظم

    مہنگائی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہو رہا،اپنی منزل تک پہنچیں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مہنگائی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے، ہم اپنی منزل تک پہنچیں گے،

    کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الحمدللہ ،مہنگائی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آ گئی،یہ خوش آئند بات ہے، اس پر وزارت خزانہ سمیت تمام متعلقہ وزارتوں کوستائش پیش کرنا چاہتا ہوں ، سفر ابھی بہت طویل ہے لیکن ہم اپنی منزل تک پہنچیں گے،میری توجہ عام آدمی کو ریلیف دینے پر ہے، مہنگائی میں کمی کوئی حادثہ نہیں یہ محنت کے نتائج ہیں، ہم حقیقی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں،حکومتی معاشی ٹیم کی محنت رنگ لا رہی ہے اور معیشت ترقی کر رہی ہے، آئی ایم ایف کی شرائط پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، ہمیں معیشت میں استحکام اور بہتری لانی ہے،پاکستانی تاریخ کا یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہونا چاہیے۔

    پاکستان اور ترکمانستان کے مابین گوادر اور ترکمان باشی بندر گاہوں کے مابین معاہدے کی منظوری
    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 10 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دے دی،پاکستان، یورپ اور البانیہ کی وزارت خارجہ کے مابین سیاسی روابط اور مذاکرات کے ایم او یو طے کرنے کی منظوری دی گئی،کابینہ نے وفاقی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین سید جنید اخلاق کی بطور چیئرمین بورڈ مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی.وفاقی کابینہ نے ورچوئل یونیورسٹی کے لئے اسلام آباد میں زمین کی خریداری بھی منظوری دے دی،پاکستان اور ترکمانستان کے مابین گوادر اور ترکمان باشی بندر گاہوں کے مابین معاہدے کی بھی منظوری دی گئی،کابینہ نے پاکستان میں مذہبی رواداری سے متعلق اسٹریٹجی 2024 کی منظوری دی.وفاقی کابینہ نے بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کی منظوری دے دی

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

  • گھر میں راشن نہیں،سات ماہ کا کرایہ مکان نہ دیا،شہری نے بیوی بچوں کو زہردے دی

    گھر میں راشن نہیں،سات ماہ کا کرایہ مکان نہ دیا،شہری نے بیوی بچوں کو زہردے دی

    غربت،مہنگائی، شہری خود کشیاں کرنے لگے، لاہور میں ایک شہری نے بیوی بچوں سمیت سات افراد کو زہریلی گولیاں کھلا دیں

    واقعہ لاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں پیش آیا ،غربت کی وجہ سے گھر کے سربراہ نے اپنے گھروالوں کو زہریلی گولیاں کھلا دیں، ملزم نے بیوی اور بچوں کو گولیاں کھلائیں اور مارنے کی کوشش کی، اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس حکام کے مطابق ملزم نے اپنے گھر کے سات افراد کو زہریلی گولیاں کھلائیں، زہریلی گولیاں کھانے سے تمام افراد بیہوش ہو گئے جن کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا، تمام متاثرہ افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے.

    ترجمان سٹی ڈویژن پولیس کے مطابق پولیس نے فوری طور پر پوری فیملی کو اسپتال منتقل کیا جس کے بعد اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے،شہری نے پولیس کو کہا کہ اس کے گھر میں راشن کا ایک دانہ تک نہیں ہے، کرائے کے گھر میں رہتا ہوں، نوکری ملی نہ مزدوری، سات ماہ سے گھر کا کرایہ بھی نہیں دیا، غربت کی وجہ سے ایسا قدم اٹھایا،اپنے بیوی بچوں کو خود زہر کھلایا،

    مہنگائی ،غربت کی وجہ سے آئے روز خود کشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، چند روز قبل لاہور میں 3 ماہ سے تنخواہ سے محروم شخص نے بجلی کا بھاری بل آنے پر خود کشی کر لی تھی، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے ملازم محمد خالد نے بی آر بی نہر میں چھلانگ لگائی،اہلخانہ کے مطابق خالد کئی دنوں سے پریشان تھا اور اُسے تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی جس کے باعث وہ بجلی کا بل ادا کرنے سے قاصر تھا،کوئی بھی بجلی بل یا گھریلو معاملات میں خالد کی مدد نہیں کر رہا تھا، وہ دکانوں سے ادھار سامان اور قرض لے کر گزارا کر رہا تھا، جس کی وجہ سے گھر میں اکثر لڑائی جھگڑا رہتا تھا، معاشی حالات اور تنگدستی کی وجہ سے بیوی بھی خالد کو چھوڑ گئی تھی، اُس کے پانچ بچے ہیں جبکہ وہ کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھا۔

    قبل ازیں پنجاب کے شہر ٹیکسلا میں بھی بجلی کے بھاری بل کی وجہ سے 2 بچوں کے باپ کی خود کشی کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ پنجاب کے شہر ٹیکسلا تھانے کی حدود میں ڈھوک سادو کے علاقے میں بجلی کا بھاری بل ادا نہ کرنے پر ایک شخص نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی تھی،دو بچوں کا باپ ملک طاہر گزشتہ چار ماہ سے بے روزگار تھا اور بجلی کے بل کی مقررہ تاریخ گزر جانے کی وجہ سے پریشان تھا،پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں بھی ایک خاتون نے علاج کے پیسے بجلی کے بل کی ادائیگی میں خرچ ہونے پر دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی تھی،پنجاب کے شہر چشتیاں میں بجلی کا بل زیادہ آیا تو بھائی نے دوسرے بھائی کو آدھا بل دینے کو کہا، بھائی نے کم پیسے دیئے تو بھائی نے کمرے کی بجلی کاٹ دی، واقعہ چشتیاں کے بھٹہ کالونی میں پیش آیا، بجلی کے پیسےکم دینے اور پھر بجلی کٹ جانے کے بعد نوجوان نے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی،نوجوان نے زہریلی گولیاں کھا لیں اور اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

  • جماعت اسلامی کی 26 اپریل کو اسلام آباد میں دھرنا کی تیاریاں عروج پر

    جماعت اسلامی کی 26 اپریل کو اسلام آباد میں دھرنا کی تیاریاں عروج پر

    جماعت اسلامی کے 26 اپریل کو اسلام آباد میں دھرنا کی تیاریاں عروج میں پہنچ گئیں

    جماعت اسلامی ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے اضافی بلوں،پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف 26 جولائی کو اسلام آباد میں‌دھرنا دے رہی ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ڈی چوک پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا ، جماعت اسلامی کے دھرنے کی تیاریاں زو روشور سے جاری ہیں ملک کے مختلف شہروں میں زبردست مہم جاری ہے، جماعت اسلامی کو دھرنے کے لئے علماء کرام کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے،تاجر برادری بھی جماعت اسلامی کے دھرنے میں شریک ہونے کے لئے تیار ہے، لاہور، کراچی، پشاور،کوئٹہ سمیت تمام شہروں سے جماعت اسلامی کے قافلے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچیں گے،

    جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کاکہنا ہے کہ عوام پس رہی ہے، عوام کے حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، آئی آیم ایف نے انتظامی اخراجات کم کرنے کا کہا تھا لیکن حکمرانوں نے اضافہ کر دیا، یہی چیز عوام میں غصہ پیدا کر رہی ہے، بجلی کا بحران، ٹیرف میں اضافہ جس طرح بڑھایا جا رہا ہے یہ ظلم ہے، لوگ موٹر سائیکل، گھر کا سامان بیچ کر بجلی کا بل دے رہے ہیں، عوام کیسے پورا کریں، جماعت اسلامی عوام کی ترجمان بن کر دھرنا دے گی.

    جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 26 جولائی کو اسلام آباد میں ایک بڑا دھرنا دیں گے۔ایک پریس کانفرنس میں بولتے ہوئے، حافظ نعیم الرحمان نے کہا، "ہم بجلی کی قیمتوں میں بےتحاشا اضافے اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہمارا دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے۔”انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران آئی ایم ایف کے دباؤ میں بجلی کے بل اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ "یہ عوام دشمن بجٹ ہے اور ہم اس کے خلاف ‘حق دو عوام کو’ تحریک چلا رہے ہیں،

    جماعت اسلامی دھرنا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان 23 جولائی کا فیصل آبادکا دورہ کرینگے
    امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن23جولائی کو ایک روزہ دورہ پرفیصل آبادآئیں گے۔اپنے دورہ کے وہ دوران صبح11بجے صدر ڈسٹرکٹ بار میاں انوارالحق کی دعوت پرڈسٹرکٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرنے کے علاوہ مقامی بینکوئٹ ہال میں رات 8بجے شہر کی سماجی،سیاسی، تاجر، لیبر، طلباء، وکلاء تنظیموں سمیت ہر مکتبہ فکر اورسول سوسائٹی کے نمائندوں کے مشترکہ عشائیہ سے خطاب میں 26جولائی کو بجلی بلوں میں ظالمانہ ٹیکسوں،اوور بلنگ کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے دھرنا کے سلسلہ میں بریفنگ دیں گے۔ انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے المرکزالاسلامی چنیوٹ بازار میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماں بٹ نے کہاکہ عوام مہنگی بجلی اور ظالمانہ ٹیکسز کی وجہ سے کمر توڑ مہنگائی سے تنگ آچکے ہیں۔ عوام کو 300 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا دعدہ کرنے والوں نے 2سال کے دوران بجلی فی یونٹ 23 روپے مہنگی کردی ہے۔ بجلی بلوں میں مسلسل اضافے سے بجلی کے بل عوام کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہورہے ہیں لیکن حکمرانوں کو اس کا ذرہ برابر احساس نہیں ہے۔ ایسے ظالمانہ اقدامات کے خلاف جماعت اسلامی 26 جولائی کو اسلام آباد میں دھرنا دے رہی جس میں ملک بھر سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔

    فیصل آباد میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ڈی چوک اسلام آباد میں بجلی بلوں میں ظالمانہ ٹیکسوں،اوور بلنگ اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہونے والے عوامی دھرنے کی تیاریوں اور رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے جامع چشتیہ چوک،فیضان مدینہ چوک،گیٹاں والا چوک،اڈامدن پورہ،سمانہ پل، سدھار،ملت ٹاؤن،مچھلی فارم ستیانہ روڈ،موچی بازار جھمرہ سمیت شہرکے مختلف علاقوں میں دھرناآگاہی کیمپ لگائے۔ ضلعی امیر پروفیسرمحبوب الزماں بٹ نے کیمپوں کا دورہ کر کے کارکنوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا۔اس موقع پر کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں عوامی حقوق کی جدوجہد کاآغازکردیاہے عوام کو بنیادی حقوق ملنے تک تحریک جاری رہے۔ آئی ایم ایف سے کیے گئے خفیہ معاہدے قوم کے سامنے لائے جائیں۔ ظالمانہ ٹیرف، سلیب سسٹم اور آئی پی پیز معاہدے ختم کیے جائیں۔ عوام کو سولر سسٹم نہیں ڈائریکٹ ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ اقتدار میں آتی ہے تو بڑے پروجیکٹس کے نام پرنئے نئے کاروباری دھندوں کا آغاز کرتی ہے۔ عوام کو ریلیف نہیں پہنچتا، حکومت جعلی پبلسٹی کے لیے اربوں کے اشتہارات دینا شروع کردیتی ہے۔ پی ڈی ایم ون کے دور میں شہباز شریف نے 200 یونٹ تک مفت بجلی دینے کا اعلان کیا تھا، اشتہارات جاری ہوئے، آئی ایم ایف کے دباؤ پر مکر گئے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے ظالمانہ معاہدے فی الفور مذاکرات کرکے ختم کیے جائیں، تنخواہ داروں پر ٹیکسز واپس لیے جائیں، بجلی کا ٹیرف کم کیا جائے، ظلم و ناانصافی کو قبول نہیں کریں گے، نالائقی حکمرانوں کی ہو اور سزا عوام بھگتیں، ایسا نہیں چلے گا۔ بجلی موجود ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے، لائن لاسز اور چوری روکی جائے، جو رقم ٹرانسمیشن سسٹم کو بہتر بنانے میں لگنی چاہیے وہ آئی پی پیز کو جارہی ہے۔ عوام کو خیرات نہیں حق چاہیے۔