Baaghi TV

Tag: مہنگائی

  • اوکاڑہ رمضان میں مہنگائی کا طوفان

    اوکاڑہ رمضان میں مہنگائی کا طوفان

    ضلع اوکاڑہ(علی حسین مرزا) کرونا لاک ڈاون کے دوران رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوا ہے ساتھ ہی یہاں مہنگائی مافیا نے خوردونوش سمیت دیگر اشیائے ضرورت زندگی کی قیمتوں میں کئی گبا اضافہ کردیا ہے۔ دو روز قبل 140 فی کلو فروخت ہونیوالی کھجور300 روپے فی کلو میں ، 150 روپے فی کلو فروخت ہونیوالا چکن 230 روپے فی کلو میں، 120 روپے والی شکر 150 میں اور پھلوں سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ شہریوں نے مقدس مہینہ میں روزہ داروں کو ریلیف فراہم کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔

  • اب کسی اور پر الزام نہیں ، حکومت خود ہی مہنگائی کرنا چاہتی ہے. مہنگائی کا ایک اور ریلا آگیا

    اب کسی اور پر الزام نہیں ، حکومت خود ہی مہنگائی کرنا چاہتی ہے. مہنگائی کا ایک اور ریلا آگیا

    لاہور : اب حکومت کسی پر خود ساختہ مہنگائی کا الزام نہیں لگا سکتی ، اطلاعات کے مطابق حکومت نے خود ہی مہنگائی کرکے عوام کو پریشان کردیا ہے . مہنگائی کے سونامی میں ڈوبے عوام کیلئے ایک اور بری خبر آگئی، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان نے 300 سے زائد اشیاء کی قیمتوں میں 1 روپےسے 65 روپےتک کا اضافہ کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق تازہ مہنگائی میں عام استعمال کی چیزیں مہنگی ہوگئی ہیں. یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان کی طرف سے گھی، کوکنگ آئل، مصالہ جات ، ٹوتھ پیسٹ، شیمپو، صابن، چائے کی پتی اور پیمپر سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے،یوٹیلٹی سٹورز پر مخلتف برانڈز کے درجہ اوّل اور درجہ دوم کے گھی اور کوکنگ آئل 8 روپے سے 34 روپے، مصالہ جات کی قیمتیں 15 سے 25 روپےجبکہ شیمپو 25 روپے تک مہنگے کر دئیے گئے۔

    یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے نئے نرخ نامے کے مطابق مخلتف کمپنیوں کے صابن ایک سے 7 روپے اور ٹماٹو کیچپ کی قیمت میں 15 روپےتک کا اضافہ کیا گیا ہے، مختلف برانڈ کے پیمپرز کی قیمت میں 65 روپے جبکہ مصالہ جات 3 روپےاور چائے کی پتی 3 روپے سے 16 روپے تک مہنگی کر دی گئی۔

    شہریوں کا کہناتھا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافےکے باعث ان سٹورز کی افادیت ختم ہورہی ہے، حکومت یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرے تاکہ عام شہری کو مہنگائی کے اس دور میں کچھ ریلیف مل سکے۔

  • عید سے پہلے شہریوں کی خوشیوں کو شدید خطرہ ، جان کر آپ بھی خبردار رہیئے

    عید سے پہلے شہریوں کی خوشیوں کو شدید خطرہ ، جان کر آپ بھی خبردار رہیئے

    لاہور :عیدسے پہلے مہنگائی کے سیلاب نے شہریوں کی خوشیوں کو خطرے میں ڈال دیا ، حسب سابق اس مرتبہ بھی عید قرباں پر سبزی فروشوں نے سرکاری نرخنامے کے پرخچے اڑا دیئے، سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری، ہرا مصالحہ، پیاز اور ٹماٹر سمیت بیشتر سبزیوں کی قیمتیں سو روپے سے تجاوز کر گئیں۔

    ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں پیاز سو روپے کلو، ٹماٹر ایک سو بیس روپے، لیموں دو سو روپے، لہسن تین سو اور ادرک پچاس روپے کے اضافے کے بعد چار سو روپے فی کلو میں فروخت کیا جارہا ہے۔ ہرا دھنیا دو سو پچاس روپے، آلو 50 سے60 روپے، توری 80، کریلے 100 روپے، سبز مرچ 150 روپے اور گھّیا کدو 100 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔

    دوسری طرف اس مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں سبزیاں سرکاری نرخنامے کے مطابق فروخت نہیں کی جا رہیں۔جب اس مہنگائی کے بارے میں سبزی فروشوں سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا ہےکہ جب تک بادامی باغ سبزی منڈی میں سرکاری نرخنامے کے مطابق سبزیاں فراہم نہیں کی جائیں گی اس وقت تک شہر میں سرکاری نامے پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔

  • مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    نئی حکومت کے آتے ہی تجاوزات آپریشن کی آڑ میں ن لیگ پیپلز پارٹی کے بااثر شخصیات سے قبضے واگزار کرانے کے لیے اور اپنی دلی تسکین کے لیے پورے ملک میں تباہی مچا دی گئی مگر اس کا حاصل کیا ہوا کیا ان واگزار کروائی گئی لاکھوں ایکڑ زمین سے کوئی فائدہ مل رہا ہے جبکہ اس کو قانونی طریقے سے بولی کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے لیز پر دے کر اچھی خاصی انکم حاصل کی جاسکتی تھی جبکہ دوسری طرف وہ بے روزگار طبقہ بھی کام میں لگ سکتا تھا جو آج اسی تجاوزات اور واگزار آپریشن میں عام مزدور طبقہ ملازم طبقہ متاثر ہوا ہے۔

    لیکن اس آپریشن سے الٹا لوگ بے روزگار کاروبار تباہ املاک تباہ زمینیں واگزار مگر فائدہ کچھ نا ہوا ہے البتہ کرائم روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک میں لوگ پھر یا تو مانگ کر کھائیں گے یا چھین کر اور روز روز بھی کون مانگنے پر دیتا ہے۔۔

    اگر وہی سرکاری املاک یا زمینوں یا پتھاروں پر سال چھے ماہ کے لیے ٹیکس لگا دیا جاتا تو اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا جاسکتا تھا اور ایک سال یا چھے ماہ کا نوٹس دے کر ختم بھی کیا کرایا جاسکتاتھا جس سے نقصان بھی نا ہوتا اور لوگ اپنا کوئی متبادل بھی بنا لیتے یا شفٹ کرلیتے اپنے کاروبار دکانیں وغیرہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ملکی پالیسی یا قانون بنایا جاتا ہے تو پہلے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ لاگو کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں تو قانون اتنے بنا دیے کہ اب اگر لاگو ہوجائیں تو بندہ ایک دن بھی جی نہیں سکتا کسی نا کسی قانون میں دھر لیا جائے گا اور جو قانون بنتا ہے دوسرے دن لاگو اور عمل درآمد شروع جس سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں

    جبکہ دوسری طرف عوام کو این ٹی این کے چکر میں ڈال کر ذلیل و خوار کر دیا گیا۔ آج نیب اور ایف بی آر کے خوف سے پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا اور آج کی ایک اور بری خبر بھی آگئی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے

    حکومت نے عوام پر آج یکم اگست 2019 کو ایک اور بم بھی گرادیا ہے۔‏وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری منظور کر لی ‏اوگرا کی سفارشات پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ ‏پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ۔ ‏پیٹرول کی نئی قیمت 117.83 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 132.47 روپے۔ مقرر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

    آج اپوزیشن کی کی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے مہنگائی کرنے کی ڈیل کی خبریں بھی سچ ہونے لگیں ہیں جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے ہر آنےوالا دن متوسط اور غریب لوگوں پر بم بن کر گر رہا ہے لوگوں میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے

    لوگ ویسے تو ہر دور میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں جبکہ جو چیز پاکستان میں ان کو 100 روپے کی ملتی ہے وہی چیز دوبئی میں 500 روپے کی بڑی خوشی کے ساتھ خریدتے نظر آتے ہیں تو اس مہنگائی کا رونا رونے کی اصل وجہ لوگوں کو آج تک شائد سمجھ نہیں آسکی ہے۔ اصل میں مہنگائی کا رونا انسان اس وقت روتا ہے جب اس کے پاس آمدن ۔ انکم ۔ آمدنی ۔ کاروبار ۔ روزگار ۔ ذرائع آمدن نہیں ہوتے اور ضروری خرچے ہی پورے نہیں ہوتے تو وہ مہنگائی مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں اگر ہر انسان کی بنیادی ضروریات اور خرچے بھی پورے نا ہوں تو وہ بے چارے پریشانی کے عالم میں بس مہنگائی مہنگائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصل بات کی ان کو سمجھ نہیں آتی ہے۔
    یہی صورتحال آجکل کچھ پاکستان اور اس کی عوام کی ہے جو آپ کو بھٹو دور میں بھی شائد اگر کچھ یاد کرنے پر مہنگائی کا رونا روتی نظر آئی ہوگی تو کبھی بے نظیر بھٹو تو کبھی نوازشریف تو کبھی آصف زرداری تو کبھی عمران خان کے دور میں بھی مہنگائی مہنگائی کا رونا روتی نظر آتی ہے

    ضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت پاکستان ایسے حالات اور پالیسیاں مرتب کرے جس سے ملک میں خوش حالی کا دور دورہ ہو لوگ اپنے اپنے کاموں روزگار کاروبار میں مصروف ترین زندگی گزار رہے ہوں

    یہ محاظ آرائی کی موجودہ پالیسیاں عمران خان اور حکومت کا طریقہ عوام میں اور ملک پاکستان میں افراتفری پریشانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہے۔ عوام کو کوئی پرواہ نہیں ہے کسی بھی کرپٹ یا کسی بھی دہشت گرد کوچاہے کسی کو بھی پھانسی لگا دیں مگر خدارا عوام کو اس پریشانی کے عالم سے نکالیے اب آپ کی لچھے دار تقریریں بھی اچھی نہیں لگتی ہیں اب صرف یہی بات بار بار کر کر کے آپ اچھے نہیں بن سکتے کہ فلاں برا تھا فلاں غلط تھا کچھ کر کے آپ کو اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے جو تاحال عملی طور پر کچھ نا ہوسکا ہے البتہ باتیں بہت بڑی بڑی ضرور ہیں کیونکہ عمران خان صاحب اب تک آپ نے پاکستانی عوام کو کچھ نا دیا ہے البتہ چھینا ضرور ہے اور آپ کے اداروں میں بھی عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ان کے کام میرٹ انصاف اور وقت ضائع کیے بغیر نہیں ہو رہے ہیں آج بھی وہی تھانہ کلچر وہی افسر شاہی کلچر وہی کرپشن کلچر وہی لوڈ شیڈنگ وہی سرکاری اداروں میں زلالت اور خواری ہے آج بھی تھانے میں ایم پی اے ایم این اے کی مرضی کے بغیر پولیس والے ایک قدم نہیں اٹھاتے ہیں یا پھر قائد اعظم کی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ہے۔ بس صرف رپورٹیں سب اوکے اوکے اوکے کی ضرور کی جا رہی ہوں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام آج جتنی مشکلات پریشانیوں کا شکار ہے لگتا یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شائد اتنی نا تھی یا شائد ہم نہیں جانتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی 40 سالا زندگی میں اتنے پریشان لوگ نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔۔

    *امید رکھتے ہیں حکومت و حکمرانوں کی آئندہ پالیسیوں کا محور عام آدمی ہوگا اور اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے زبانی سے زیادہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا

  • تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    یہ بات ہی غلط ہے کہ عمران حکومت نے یہ اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ دو اضافی منی بجٹوں سے تحریک انصاف اس قوم کو پہلے ہی نواز چکی ہے۔جن کے ثمرات سے ہم رمضان اور عید پر استفادہ حاصل کرچکے ہیں. اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو صرف اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

    سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئیں ہیں انھوں نے کیا تیرچلائے ہیں اور کتنے پیسے اکٹھے کر لیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں مکمل فیل ہو گئی ہے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے تھے ۔ اور اب بھی کیے جارہے ہیں۔ اس نئے بجٹ میں ہر چیز پر نئے ٹیکس لاگوکر دیے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جو ٹیکسوں سے مستثنی ہو۔ چلیں سگریٹ، مشروبات، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ توشاید یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ یہ سب عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور اس ملک میں عیاشی صرف حکومت اور وزیروں کا ہی حق ہے ۔ مگرتبدیلی کے دعوے داروں نے کوکنگ آئل، گھی، چینی پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ثابت کردیا۔ کہ تبدیلی سرکار بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

     

    عمران خان کی نظر میں چینی اتنی بڑی عیاشی ہے کہ اس پرعائد 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکردیا گیا ہے۔ جس سے چینی کی فی کلو گرام قیمت میں ساڑھے 3 روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کی نوید ہے۔ ایسا ہوناہی تھا۔اس عوام کا مقدر ہی ایسا ہے جب حکومت بنی ہی شوگرمافیا کی مدد سے ہو ۔ جب شوگرمافیانااہلی کے باوجود کابینہ اجلاسوں میں ڈھٹائی سے بیٹھتی ہو۔ تو عوامی استعمال کی اشیاء پر ہی ٹیکس لگائے جاتے ہیں مافیاز پر نہیں ۔ چکن، مٹن اور مچھلی کی سیمی پروسسڈ اور ککڈ اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ غریب تو کھاتا ہی دال سبزی ہے ۔ گو شت تو امیروں کے چونچنلے ہیں۔ سو اچھا ہی ہوا اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔ حکومت نے دودھ، بالائی، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر بھی 10 فیصد ٹیکس تجویز کیا ہے۔ یہ بھی لگثرری ایٹمز ہیں ۔غریبوں کی پہنچ سے تو یہ پہلے ہی بہت دورہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

     

    حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کرکے بھی احسن اقدام کیا ہے۔ کیونکہ گاڑی تو صرف امیر بندہ ہی رکھ سکتا ہے۔مگر متوسط طبقہ پتہ نہیں کیوں اس فیصلے پر تڑپ اُٹھا ہے۔ عام آدمی پیدل چلے ، سائیکل رکھے ، موٹرسائیکل چلائے گاڑی سے اس کا کیا لینا دینا۔ حکومت کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔ اس ملک میں تمام حقوق صرف امیروں کے لیے ہیں ۔ اسی لیے تو مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچایاگیا ہے۔ کیونکہ امیروں کے پیسوں سے ہی تو کپتان حکومت میں آئے ہیں ۔ غریبوں اور متوسط طبقے کے ووٹ تو ہر کوئی لے لیتا ہے۔شاید نوجوانوں کے لیڈر کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر چلا کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے صرف ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی متاثر کر لیا ہے۔

    اعلی تعلیم بھی صرف امیروں کے بچوں کا حق ہے اس لیے اس بجٹ میں اعلی تعلیم کا بجٹ 57 ارب سے کم کرکے 43 ارب کردیاگیاہے۔کیونکہ تمام جاگیردار اور وڈیرے خود اسمبلیوں میں موجود ہیں اس لیے زراعت پر ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ۔ اس اسمبلی میں جتنے بیٹھے ہیں۔ یہ خود تو دور کی بات شاید ان کے ملازم بھی17500 روپوں میں اپنے گھر کا خرچہ نہ چلا سکیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اتنی مہنگائی کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنا حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

     

    حکومت خود تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مکمل ناکام رہی ہے مگر جو پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہر چیز پر ہر کسی نے ہر حال میں ٹیکس دینا ہے ۔ پہلے صرف ان ڈائریکٹ ٹیکس دیتے تھے ۔ اب ان ڈائریکٹ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ جس طرح اس حکومت نےٹیکسوں کی بھرمار کی ہے۔ اب ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھی ہر کسی کو ایک نئی نوکری کرنی پڑے گی ۔

    ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کرتحریک انصاف نے اس قوم کے ساتھ وہ کیا ہے کہ شاید یہ قوم آئندہ کبھی کسی کا اعتبار نہ کرے۔ اس بجٹ سے اندازہ ہواہے کہ اصل نیا پاکستان اب بنا ہے ۔
    شکریہ تحریک انصاف
    شکریہ عمران خان
    اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا سا گھبرا لیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں