Baaghi TV

Tag: میزائل

  • میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا نوٹس،مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان نے نوٹس لے لیا، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سنگین واقعے نے میزائلوں کے تکنیکی تحفظات سےمتعلق کئی سوالات کو جنم دیا سنگین معاملے کو بھارتی حکام کی پیش کی گئی سادہ وضاحت سے حل نہیں کیا جا سکتا،بھارت کو معاملے پر کچھ سوالوں کے جوابات دینا ہوں گے پاکستان نے بھارت کے سامنے سات سوال رکھ دیئے

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت واقعے کو روکنے کے لیے اقدامات اور طریقہ کار کی وضاحت کرے،بھارت پاکستانی حدود میں گرنے والے میزائل کی قسم سے متعلق واضح کرے،بھارت بتائے میزائل حادثاتی طورپر پاکستان میں کیسے داخل ہوا؟،میزائل خودتباہی کے نظام سے لیس تھا توخود تباہ کیوں نہ ہوا؟ بھارت میزائل کی حادثاتی لانچنگ پر پاکستان کو مطلع کرنے میں کیوں ناکام رہا؟ کیا بھارتی میزائل معمول کی نگرانی کے لیے بھی تیار کیے گئے ہیں؟ میزائل واقعے پر پاکستانی ردعمل سے پہلے بھارت نے کیوں خود غلطی تسلیم نہیں کی؟ کیا میزائل کو بھارتی مسلح افواج نے ہینڈل کیا تھا یا کچھ بدمعاشعناصر نے ؟ میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان نے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا،

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کا اندرونی عدالتی تحقیقات کا فیصلہ کافی نہیں،حقائق جاننے کے لیے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں مترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری جوہری ماحول میں سنگین واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے نہایت غیر ذمہ دارانہ حرکت کی ہےدفتر خارجہ نے ان کے ہائی کمشنر کو بلا کر احتجاج کیا اور جواب طلب کیا، بھارت کے اس حرکت نے خطے کی امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی بھارتی میزائل سے جہاز گر جاتا یا پھر آبادی میں لوگ مرجاتے تو کیاہوتا،توقع کرتاہوں بھارت مناسب جواب دےگا،یہ میزائل 2 ایٹمی قوتوں کےدرمیان جھڑپ کاذریعہ بن سکتاتھا،بھارت نےایوی ایشن اتھارٹی،عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی،اقوام متحدہ کوبھارتی جارحیت کانوٹس لیناچاہیے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارت نے پاکستانی حدود میں میزائل گرنے کا اعتراف کرلیا ،بھارتی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میزائل انڈیا سے ہی فائر ہوا ہے، وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نومارچ کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران خرابی کی وجہ سے ایک میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا، وزارت دفاع کے مطابق میزائل فائر ہونے کے حوالہ سے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے ،بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے مزید کہا گیا کہ میزائل پاکستان کے علاقے میں گرا حادثے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ٹیکنیکل خرابی کے باعث پاکستان میں میزائل گرنے پر افسوس ہے،

    بھارتی ناکارہ میزائل سسٹم خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں،بھارت کا ناقابل بھروسہ میزائل سسٹم ،پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ڈال دیا بھارت کے میزائل سسٹم میں انتہائی سنگین خامیاں سامنے آ گئیں بھارت نے اپنے میزائل سسٹم کی تکنیکی خامیوں کا اعتراف کرلیا ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کررہاہے،

    واضح رہے کہ دو روز قبل ترجمان پاک فوج نے ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی اور اس میں قوم کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ روز پاکستانی حدود کی خلاف ورزی ہوئی۔بظاہر یہ سپر سانک میزائل تھا،ہم خطے میں کسی قسم کا اشتعال نہیں چاہتے 9مارچ کو شام 6 بجکر 43منٹ پر بھارتی حدود سےتیزرفتار چیز کو ریڈار پر دیکھا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 9مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر ایک شے نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، پاکستان ایئرفورس نے اس چیز کی مکمل مانیٹرنگ کی،اس چیز نے اچانک رخ بدلا اور پاکستانی حدود کی طرف بڑھنے لگی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں یہ چیز شام 6بج کر 50منٹ پر پاکستانی حدود میں گری،بھارت کو اس کی وضاحت کرنی پڑے گی اس شےکے گرنے سے سویلین آبادی کو بھی نقصان پہنچا،پاکستان ذمہ دارملک ہے،اس واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی ہم نے اس شے کو پک کرلیا،اب تک کی جو بھی تفصیلات تھیں وہ آپ کے ساتھ شیئرکیں،بھارت سے آنے والی چیز3 منٹ تک پاکستانی فضائی حدود میں رہی بھارتی چیزکسی بھی حساس جگہ پرنہیں گری،فلائنگ اوبجیکٹ غیرمسلح تھا،کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی صرف ایک دیوار گری،فلائنگ اوبجیکٹ کا پاکستان کی طرف آنا بھارتی ٹیکنالوجی پر سوالیہ نشان ہے، بیلسٹک میزائل کا ٹیسٹ ہونے سے پہلے اطلاع دی جاتی ہے،

    بھارت کی سپر سونک میزائل سے پاکستانی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی ہوئی ہے اور پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی علاقے سورت گڑھ سے 9 مارچ 6 بجکر 43 منٹ پر میزائل فائر کیا گیا پاکستان میں 6 بجکر 50 منٹ پر میزائل میاں چنوں میں زمین پر گرا،بھارتی میزائل سے میاں چنوں میں شہری املاک کو نقصان پہنچا، میزائل ملکی فضائی حدود میں قومی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے خطرہ بن سکتا تھا،بھارتی میزائل سنگین حادثے کے ساتھ شہری ہلاکتوں کا سبب بن سکتا تھا، بھارتی ناظم الامور پاکستان کی شدید مذمت سے دہلی کو آگاہ کریں،پاکستان اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے،پاکستان چاہتا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کا تبادلہ کیا جائے،بھارتی حکومت یاد رکھے، ایسی لاپرواہی کے ناخوشگوار نتائج ہو سکتے ہیں،

    دوسری جانب پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ دوسری مرتبہ ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی ہے،وزارت خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر وضاحت طلب کی ہے،26 فروری کو بھارت نے جارحیت کی اور پاکستان نے اسے مناسب اور بروقت جواب دیا،ہم اس حرکت کو بھارت کی تکنیکی ناکامی کہیں، جارحیت کہیں یا بدنیتی کہیں، پاکستان نے 2019 میں بھی مدبرانہ ردعمل دیا، ہندوستان کی حرکت تشویشناک ہے، بین الاقوامی برادری کو اس حرکت کا نوٹس لینا چاہئے، انہوں نے اس حرکت سے معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے ایوی ایشن اتھارٹیز کو اس کا نوٹس لینا چاہئے، سعودی ائرلائن کا جہاز ، قطر اور پاکستان کی ڈومیسٹک پروازیں نشانہ بن سکتی تھیں اور معصوم لوگ نشانہ بن سکتے تھے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پی 5 ممالک کے نمائندگان کو وزارت خارجہ میں مدعو کر کے، انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کریں گے،ہمیں توقع ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے گی، ہندوستان کو اس حرکت کیلئے جوابدہ ہونا پڑے گا، ہندوستان کی وضاحت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے،

    وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھاکہ کہ بھارت نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک غیرذمہ دار ملک ہے ایک ایٹمی ملک پر میزائل فائر ہونا سنجیدہ معاملہ ہے اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کرنی چاہئیں بھارت کے غیر زمہ دارانہ اقدامات نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہیں 9 مارچ 2022 کو ضلع خانیوال کے علاقے میاں چنوں میں بھارتی میزائل گرنے کے واقعہ اور اس کے بارے میں بھارتی حکومت کی وضاحت پر اپنے ردعمل میں معید یوسف نے کہا کہ ایک بہت ہی انہونا اور خطرناک واقعہ پیش آیا، ہندوستان کی سرزمین سے ایک سپرسانک میزائل چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہوا اڑھائی سو کلو میٹر پرواز کر کے پاکستان کی سرزمین پر میاں چنوں کے پاس آ کر گر گیا آج اڑھائی دن بعد ہندوستان کی حکومت کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ ہمیں اور دنیا کو ایک سٹیٹمنٹ کے ذریعے بتائیں کہ وہ ہمارا میزائل تھا، یہ بات پاکستان نے کل ہی دنیا کو بتا دی تھی اور وہ آج تسلیم کر رہے ہیں کہ ہمارا میزائل تھا اور غلطی سے چل گیا لیکن غلطی سے چل کر میزائل کا رخ پاکستان کی طرف ہی ہو گیا اور یہاں آ کر گر گیا کہ بھارت وہ ملک ہے جو جوہری ہتھیار رکھتا ہے، دنیا کو پرچار کرتا ہے کہ بہت ہی زمہ دار ملک ہے اور پاکستان کی طرف انگلیاں اٹھاتا ہے لیکن بدقسمتی سے دنیا نے بھی اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں جو اس غلط فہمی میں ہے کہ ہندوستان شاید چین کے خلاف ان کا حلیف ہے دنیا سے پوچھنے والی بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس کا میزائل چل جاتا ہے، اس کی پرواز کی وہ سطح تھی جہاں کمرشل جہاز اڑتے ہیں جس سے خطرہ ہوا لیکن بھارت نے تکلیف تک نہیں کی کہ فوراً اطلاع کی جائےتاکہ احتیاطی تدابیر کر کے ممکنہ نقصان سے بجا جا سکے ہ اب ہم نے بار بار دنیا کو یہ بات باور کرائی ہے کہ یہ مودی سرکار ایک فاشسٹ آئیڈیالوجی کی حامل ہے، اسے امن یا لوگوں کا کوئی خیال نہیں، یہ وہ ملک ہے جس کی اسی حکومت نے 2019ءمیں ایک جوہری ملک پاکستان پر بمباری کی اور وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ اس کے بعد جو ہوا اور ان کو منہ کی کھانی پڑی لیکن کیا دنیا اب بھی نہیں جاگے گی کہ ہندوستان ایک زمہ دار نیوکلیئر سٹیٹ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ ملک جہاں پچھلے دو سال میں بارہا دفعہ یورینیئم کی چوری ہوئی، لوگ سڑکوں پر پکڑے گئے ان کو گرفتار کیا گیا کہ وہاں سے یورینیئم چوری ہو رہا ہے اور دنیا میں ہم پر نکتہ چینی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ کوئی چھوٹا واقعہ نہیں ہے میں یہ دنیا کے سامنے بات رکھنا چاہتا ہوں اور مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس کی تحقیقات کریں کہ کیا بھارت جو بات کر رہا ہے وہ سچی بھی ہے کہ نہیں؟ کیا واقعی یہ ایک ایسا ایکسیڈنٹ تھا، غلطی سے ہو گیا جس سے بھی بہت زیادہ نقصان ہو سکتا تھا، یہ کوئی کھلونا نہیں ہے جو اڑ کر آیا ہے لیکن کیا یہ اتنی ہی بات ہے۔ کوئی اور بات ہوئی ہو، یہ چیزیں اب دیکھنی پڑیں گی ہندوستان اس پورے خطے کے لئے بلکہ اس طرح کے واقعات سے تو پوری دنیا کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے، سو اب میں یہ امید کرتا ہوں کہ دنیا کی آنکھیں کھل جائیں گی، یہ معاملہ اب چھوٹا موٹا نہیں ہے، ہم تو بار بار بات کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ نہتے کشمیریوں کے ساتھ کر رہے ہیں یہ معاملہ تو ادھر پہنچ گیا کہ یہ بھی سمجھ آ گئی کہ یہ ریاست تو اپنے دفاعی سسٹم کو کنٹرول نہیں کر سکتی، ان کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتی، اس سے بڑا خطرہ تو دنیا میں نہیں ہو سکتا، اب یہ سوچیں کہ اگر یہ کہیں اور دنیا میں ہو رہا ہوتا، کسی وسطی دنیا میں ہو رہا ہوتا تو اس وقت کیا بات ہو رہی ہوتی اور کیا گزر رہی ہوتی اور کیا تجزیئے ہو رہے ہوتے تو اسی طرح اس خطے کا بھی خیال کریں بہرحال الحمداللہ پاکستان کا کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس چیز پر آنکھیں بند کی جائیں، یہ ایک بہت سنجیدہ واقعہ ہے اور ہندوستان پر وہی کڑی تنقید، وہی نکتہ چینی، وہی سوالات اور وہی انویسٹی گیشن ہونی چاہیے جو کسی اور ملک پر ہوتی اگر ایسی کوئی چیز وہاں سامنے آئے ہوتی

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

  • بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال

    بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال

    لاہور:بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال ،اطلاعات کے مطابق فرخ حبیب نے کہا ہے کہ بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟

    وزیر مملکت فرخ حبیب نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کو نوٹس لینا چاہیے کہ کیا بھارت کے دفاعی نظام میں اتنی سکت ہے کہ اس قسم کے اور ایٹمی میزائلز کو بھی سنبھال سکے؟انہوں نے کہا کہ ان کے دفاعی نظام کی کمزوریاں خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت نے 9 مارچ کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا ۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ 9 مارچ 2022 کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے ایک میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔

    بھارتی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا ہے اور ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔واقعہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم اچھی بات یہ ہے کہ حادثے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں گرنے والا میزائل بھارت کا تھا جس کی تصدیق بھارتی وزارت دفاع نے کر دی ہے۔

    بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق بھارتی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 9 مارچ 2022 کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔ بھارتی حکومت نے سنجیدگی سے غور کیا ہے اور اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے مطابق ہمیں پتہ چلا ہے میزائل پاکستان کی حدود میں گرا، گوکہ واقعہ افسوسناک ہے لیکن ہمیں اس بات پر اطمینان ہے اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    دوسری طرف یہ بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ 3 دن کے بعد اب ہندوستانی وزارت دفاع نے کہا کہ ایک میزائل غلطی سے داغا گیا ، دفاع سے متعلق لوگوں کا کہنا ہے کہ یا تو یہ جان بوجھ کر پاکستانی ریاست کی تیاری اور ردعمل کو جانچنے کے لیے فائر کیا گیا تھا۔یا پھراصل میں تکنیکی خرابی تھی۔

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر یہ کسی جنونی انتہا پسند ہندو کی سازش ہے تو یہ پھر بھی ہوسکتی ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انتہاپسندوں کی جانب سے ایٹمی صلاحیت کے حامل (کینسٹرائزڈ) میزائل فائر کرنے کا امکان اب ایک سنگین خطرہ ہے۔ جوہری کمانڈ/کنٹرول پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور جوہری جنگ شروع کر سکتا ہے۔

  • روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    واشنگٹن : روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے یہ کہہ کرخطرے کی گھنٹیاں بجادیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کی اعانت کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین، یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ’روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔‘ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے اس دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب جب کہ روس نے یہ جھوٹے دعوے کیے ہیں، ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کرے، یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرے گا۔‘ چھ مارچ کو ماسکو کی وزارت خارجہ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج کو شواہد ملے ہیں کہ یوکرین کی حکومت فوج کی جانب سے چلائے گئے حیاتیاتی پروگرام کے نشانات کو مٹا رہے ہیں جس کی مالی اعانت مبینہ طور پر امریکہ نے فراہم کی تھی۔ نیڈ پرائس نے کہا کہ ’یہ روسی غلط معلومات سراسر احمقانہ ہیں۔‘

    ادھر غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہےدوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی کہا ہے کہ ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے-

    دریں اثناء امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب دنیا کی توجہ جمعرات کو ترکی کے جنوبی قصبے انطالیہ میں ہونے والی ایک میٹنگ پر مرکوز ہے جس میں ترکی، یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ مشرقی یورپ میں جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کریں گے اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ روس اور یوکرین کے ساتھ سمندری سرحد کا اشتراک کرتے ہوئے ترکی نے طویل عرصے سے نیٹو کے لیے اپنی اہمیت کو بڑھا کر اور ساتھ ہی روس کی مخالفت نہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار اور متوازن ثالث کے طور پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ استنبول ثالثی کانفرنس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے یوکرینی ہم منصب دمتری کولیبا کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات 24 فروری کو یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی

  • یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    کیف:یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کشمکش کے دوران جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کیف کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر روس کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔یوکرائن کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے رہائشی علاقے پر بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ قرار دیا ہے۔یوکرائن نے بیلا روس سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    یوکرائن کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیف پر داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میزائل جس جہاز سے داغا گیا اُس نے روس کے اتحادی ملک بیلا روس سے پرواز کی تھی۔اُدھر دارالحکومت کیف کے شمال مغرب میں واقع مضافاتی علاقے بوچا میں متحارب فوجوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق ایک روسی بکتر بند گاڑی سے مشین گن سے فائرنگ اور روسی فوجیوں کو بوچا کی گلیوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

    یوکرائن کی فوج نے عام لوگوں کو شہری مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے ان کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے یا گولہ بارود یا پھر کچھ بھی نہیں، آپ دفاع کے تمام ممکنہ طریقے اور ذرائع استعمال کریں۔

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر لگے روڈ سائنز ہٹا دیں یا انہیں مٹا دیں، روسی فوجیوں کی نقل و حرکت کو ناممکن بنانے کے لیے درخت گرا دیں، آگ لگانے کے لیے گھریلو ساختہ آلات کا بھرپور استعمال کریں، نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کر دیں اور رات یا شام کے وقت زیادہ کام کریں۔

  • شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا نے آج (اتوار) کو ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب ایک مبینہ بیلسٹک میزائل داغا ہے، میزائل سنان کے قریب ایک مقام سے فائر کیا گیا جہاں پیانگ یانگ کا بین الاقوامی ہوائی اڈا واقع ہے۔

    جے سی ایس کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز فائر کیے گئے میزائل نے تقریباً 620 کلومیٹر (390 میل) کی زیادہ سے زیادہ بلندی تک 300 کلومیٹر (190 میل) تک کا فاصلہ طے کیا۔

    روس خلائی اسٹیشن کا 5 سو ٹن ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ

    ہوائی اڈا اس سے پہلے بھی میزائل تجربات کا مقام رہا ہے، جہاں سے 16 جنوری کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے 2 بیلسٹک میزائل کے تجربات بھی کیے گئے تھے۔

    جنوبی کوریا اور جاپان کے فوجی حکام نےتجربے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کے گزشتہ ماہ میں ریکارڈ تعداد میں تجربات بعد رواں ماہ یہ پہلا تجربہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرواز کا ڈیٹا ماضی میں کیے گئے ٹیسٹوں سے ملتا جلتا نہیں ہے اور رائے دی کہ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔

    اتوار کے روز کیا گیا تجربہ ایسے وقت ہوا کہ جب جنوبی کوریا کے 9 مارچ کے صدارتی انتخابات میں دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    جنوبی کوریا اور جاپان میں کچھ لوگوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ بین الاقوامی توجہ یوکرین پر روس کے حملے پر مرکوز ہے اس دوران شمالی کوریا میزائل تجربات کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔

    جاپان کے وزیر دفاع نوبو کیشی کا اپنے ایک ٹیلیویژن بیان میں کہنا تھا کہ سال کے آغاز سے ہی مسلسل تجربات کیے جا رہے ہیں، شمالی کوریا تیزی سے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے، شمالی کوریا جاپان، خطے اور عالمی برادری کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

    جاپانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ اس وقت ہوا ہے جب عالمی برادری یوکرین پر روسی حملے کا جواب دے رہی ہے، اگر شمالی کوریا اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ ایسی چیز ہے جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکی فوج کی انڈو پیسیفک کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکا نے تازہ ترین تجربے کی مذمت کی اور شمالی کوریا سے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا، تاہم اس تجربے سے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    صدارتی بلیو ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے میزائل تجربے پر تبادلہ خیال کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔

    اجلاس کے دوران تجربے کو افسوسناک قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا یوکرین کی جنگ کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے، بیلسٹک میزائل کا تجربہ دنیا، خطے اور جزیرہ نما کوریا میں امن و استحکام کے لیے مناسب نہیں ہے۔

    اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے آخری تجربہ 30 جنوری کو ہواسونگ 12 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا گیا تھا مذکورہ تجربہ سال2017 کے بعد سے سب سے بڑا ہتھیار کا تجربہ تھا، ہواسونگ-12 نے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) کی بلندی اور 800 کلومیٹر (500 میل) کی حد تک پرواز کی۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

  • شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    پیونگ یونگ: شمالی کوریا نے ایک اور میزائل تجربہ کرلیا-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک ماہ میں کیا جانے والا یہ چھٹا میزائل تجربہ ہے عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں 2 کم فاصلے تک مارکرنے والے میزائل فائرکئے جبکہ دوروزقبل کروزمیزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکا نے نئے میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا پرمزید پابندیاں عائد کی ہیں عالمی قوانین کے تحت شمالی کوریا پربیلسٹک میزائل اورجوہری ہتھیاربنانے پرپابندی عائد ہے۔

    شمالی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت مضبوط بنانے پرکام کرتے رہیں گے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے حال ہی میں حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش…

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ رواں ماہ 5 اور11 جنوری میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید…

  • شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    پیونگ یونگ: شمالی کوریا نے ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق کردی۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے تجربے کا مشاہدہ کیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ روز ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا جس نے 1000 کلومیٹر دورسمندر میں ہدف کو نشانہ بنایا شمالی کوریا کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق تجربے کودیکھنے کے لئے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بھی موجود تھے کم جونگ ان نے 2 سال بعد کسی میزائل تجربے میں شرکت کی کم جونگ ان کی میزائل تجربے کے دوران کی تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    شمالی کوریا کا ایک ہفتے میں یہ دوسرا میزائل تجربہ اور ہائپرسونک میزائل کا مجموعی طور پر تیسرا تجربہ ہے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے منگل کی صبح میزائل کا تجربہ کیا شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جو زمین سے مشرقی سمندر کی جانب لانچ کیا گیا جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی فائرکی گئی بیلسٹک میزائل جیسی چیز کی تصدیق کی ہے۔شمالی کوریا کا 6 روز کے دوران بیلسٹک میزائل کا یہ دوسرا تجربہ ہے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے عالمی تنقید کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے ملکی دفاع مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے گزشتہ ہفتے حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی…

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ اکتوبر 2021 میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اسے ایک آبدوز سے داغا گیا تھا۔ اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    فلسطینیوں کے لیے 50 ہزار قرآن کے نُسخے:تحفہ کس نے بھیجا؟اہم خبرآگئی

  • سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی  شدید مذمت

    سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی شدید مذمت

    واشنگٹن :سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی شدید مذمت ،اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف مسلسل جارحیت کی مذمت کی ہے۔ امریکی ذرائع حوثی حملوں کو واشنگٹن کے اتحادیوں اور امریکہ میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں اختیار کردہ پالیسی کے تحت امریکہ نے حوثیوں کی قیادت کے خلاف پابندیاں عاید کر کے ان کی جارحیت کا احتساب کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ سعودی عرب اپنے علاقوں پر یمن سے حوثی باغیوں کے 90 فیصد حملے روکنے میں کامیاب رہا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے بیان یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانز گرونبرگ کی طرف سے حوثیوں مملکت کے خلاف فوجی جارحیت میں اضافے کی مذمت کے بعد سامنے آیا ہے۔ہانز گرونبرگ نے اپنے بیان میں یمن کے خلاف حوثی حملوں کے تسلسل پر پریشانی کا اظہار کیا تھا۔ ان حملوں میں بے گناہ شہری اور سویلین بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    یو این ایلچی کے مطابق عام شہریوں اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ حوثی کی بڑھتی ہوئی جارحیت کی وجہ سے یمن کے تنازع کا پائیدار حل سیاسی حل تلاش کرنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن میں بین الاقوامی قانون جنگ اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو بلا روک ٹوک جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    یاد رہے گذشتہ ہفتہ سعودی عرب کے علاقے جازان کی صامطہ کمشنری پر یمن کے اندر سے حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں نے ایک مارٹر گولا فائر کیا تھا جس کے ٹکڑے لگنے سے ایک سعودی شہری زخمی ہو گیا تھا۔ اس کارروائی میں کئی گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    ادھر یو این میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے صامطہ [جازان] پر حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی جرائم پر باغی ملیشیا کو قرار واقعی سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

  • بھارت کا اگنی پرائم  کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    بھارت کا اگنی پرائم کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    نئی دہلی: جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :کچھ روز قبل بھارتی میڈیا نے بتایا تھا کہ اگلے چند دنوں میں، ڈی آر ڈی او کی جانب سے جدید ترین میزائلوں کی کئی اور بیلسٹک اور کروز سیریز کا تجربہ کرنے کی توقع ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے بدھ کو ملک میں بنائے گئے سطح سے سطح پر مار کرنے والے ‘پرالے ‘ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے-


    رپورٹ کے مطابق پرالے کو اڈیشہ کے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جزیرے پر صبح 10:30 بجے کے قریب لانچ کیا گیا اور اس نے اپنے تمام اہداف کو پورا کیا تجربے کے دوران میزائل کے تمام سسٹمز نے کامیابی سے کام کیا اور بالکل درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنایا۔


    نئی ٹیکنالوجی سے لیس اس میزائل کو موبائل لانچر سے لانچ کیا جا سکتا ہے اور یہ 150 سے 500 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


    اے این آئی کے مطابق جدید میزائل کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ انٹرسیپٹر میزائلوں کو شکست دے سکے۔


    اس سے قبل رواں ماہ 18 دسمبر کو بھی بھارت نے اگنی پرائم میزائل کا تجربہ کیا تھا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ اڑیسہ میں کیاگیااگنی پرائم میزائل اگنی سیریزکا ایک نئی نسل کاجدید میزائل ہےاگنی پی میزائل1000کلومیڑسے لے کر2000کلومیٹرتک ہدف کونشانہ بنا سکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ بھارت کی جانب سے اگنی پرائم میزائل کا دوسرا تجربہ تھا اگنی پرائم میزائل کا وزن اگنی3 میزائل سے50فیصد کم ہے یہ میزائل سطح سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے۔جوہری صلاحیت کے حامل اس میزائل کو ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آرڈی او) نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ جنگی جنون کا شکار بھارت ہتھیاروں کی مسلسل خریداری اورمیزائل تجربات کی وجہ سے خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ

  • انڈیا کی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی دفاعی سسٹم ایس۔400 کی تنصیب

    انڈیا کی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی دفاعی سسٹم ایس۔400 کی تنصیب

    چین اور پاکستان کی جانب سے خطرات کے پیش نظر انڈیا نے پاکستانی سرحد کے قریب پنجاب سیکٹر میں فضائی دفاعی سسٹم ایس۔400 کی تنصیب شروع کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : این ڈی ٹی وی سمیت متعدد بھارتی ذرائع کے مطابق بھارتی ایئر فورس کا پہلا اسکواڈرن پنجاب سیکٹر میں متعین کیا جا رہا ہے جو دفاعی میزائل سسٹم کو آپریٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے نصب کیے جانے والے فضائی دفاعی سسٹم ایس-400 کی بیٹریاں اتنی طاقتور ہیں کہ وہ پاکستان اور چین کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کا با آسانی مقابلہ کرسکیں گی سسٹم کی تنصیب کے لیے میزائل کا سارا سامان سمندری و فضائی راستوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے اور اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

    بھارتی دفاعی اداروں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی ساختہ فضائی دفاعی سسٹم ایس-400 کی پہلی کھیپ کی آمد سال رواں کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا جس کے بعد صرف چند ہفتوں میں وہ آپریشنل کردیا جائے گا۔

    لیبیا کے سکولوں میں کتابوں کی کمی پر وزیر تعلیم گرفتار

    اس کی تنصیب کے بعد انڈین ایئر فورس مشرقی سرحد پر توجہ مرکوز کرے گی اور ملک میں ہی اہلکاروں کی تربیت کے لیے وسائل فراہم کرے گی اس روسی سسٹم کے حوالے سے پہلے ہی انڈین ایئر فورس کے متعدد افسران روس میں تربیت حاصل کر چکے ہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق اب ایئرفورس کے مزید اہلکاروں کی تربیت بھارت میں ہی کی جائے گی۔

    زمین سے فضا میں مار کرنے والے سسٹم سے انڈیا کو جنوبی ایشیا میں فضائی برتری حاصل ہو جائے گی اور وہ 400 کلومیٹر کے فاصلے سے دشمن کے طیاروں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے قابل ہو جائے گاایس۔400 فضائی دفاعی نظام چار مختلف میزائلوں پر مشتمل ہے جو دشمن ممالک کے جنگی طیاروں، بلاسٹک میزائلز اور اے ڈبلیو اے سی ایس طیاروں کو دور سے ہی روک سکتا ہے یہ میڈیم رینج میں 250 کلومیٹر اور شارٹ رینج میں 120 کلومیٹر سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    وہ کرونگا جو دین کہے گا، ترک صدرکا شرح سود میں اضافے سے انکار

    خیال رہے کہ نومبر میں روس نے انڈیا کو ایس-400 فضائی دفاعی میزائل سسٹم کی فراہمی شروع کی دی تھی امریکہ نے روس سے ایس-400 دفاعی میزائل سسٹم کی خریداری پر بھارت سے اظہار ناراضگی کیا تھا لیکن اس نے نہ صرف انتباہ کو نظر انداز کیا زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے پانچ ارب 50 کروڑ ڈالر کے پانچ میزائل سسٹمز کے لیے 2018 میں معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بارے میں انڈیا کا کہنا ہے کہ ان کی چین سے خطرے کے مقابلے کے لیے ضرورت ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس حوالے سے کہا تھا کہ روسی دفاعی نظام کی فراہمی نے بھارت کو 2017 کے امریکی قانون کے تحت امریکہ کی جانب سے پابندی کے خطرے میں ڈال دیا ہے جس کا مقصد ممالک کو روسی فوجی ساز و سامان خریدنے سے روکنا ہےامریکہ نے اسی سسٹم کی خریداری پر ترکی کو متنبہ کیا تھا جسے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے یکسر نظر انداز کردیا تھا۔

    انڈیا کو کاؤنٹرنگ امریکہ ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت امریکہ کی طرف سے متعدد مالی پابندیوں کا سامنا ہے جس میں روس کو یوکرین کے خلاف کارروائیوں، 2016 کے امریکی انتخابات میں مداخلت اور شام کو مدد فراہم کرنے کی وجہ سے شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایک مخالف قرار دیا گیا ہے۔

    امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف