Baaghi TV

Tag: مینار پاکستان

  • یہ بات ختم ہو جانی چاہیے کہ نواز شریف آرہے ہیں یا نہیں،شہبازشریف

    یہ بات ختم ہو جانی چاہیے کہ نواز شریف آرہے ہیں یا نہیں،شہبازشریف

    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان آجائیں گے، یہ سوال بار بار نہیں پوچھنا چاہیئے کہ وہ پاکستان آئیں گے یا نہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت سے پہنگائی ورثہ میں ملی جس میں بتدریج اضافہ ہو رہا تھا، بہت آسان تھا کہ سیاست کو بچانے کیلئے ریاست کو ڈبو دیتے،لانگ مارچ ، دھرنوں کی 9 مئی کو انتہا تھی ، جو پاک فوج کیخلاف بغاوت تھی،قوم کو جی ایس پی پلس میں توسیع کی مبارکباد دیتا ہوں،نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس آرہے ہیں،یہ بات ختم ہو جانی چاہیے کہ نواز شریف آرہے ہیں یا نہیں، نواز شریف وطن واپسی پر مینار پاکستان پر جلسہ کریں گے،

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ہماری 16 ماہ کی مخلوط حکومت میں چیلنجز اور مشکلات تھیں، آئی ایم ایف کا بڑا چیلنج ہمارے سامنے تھا،پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کیساتھ شرائط طے کی تھیں، پی ٹی آئی حکومت نے ذاتی مقاصد کیلئے ریاست تباہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، کپاس کی پیداوار میں پچھلے سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ ہم ہر میدان میں کامیاب ہوئے تو غلط نہ ہوگا،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، اگر ملک دیوالیہ ہو جاتا تو پیٹرول پمپ خالی اور ادویات ناپید ہو جاتیں ،آئی ایم ایف کو کہا کہ بڑی گاڑیوں پر ٹیکس لگا کر پیٹرول سستا کرنا چاہتے ہیں ، آئی ایم ایف نے پیٹرول سستا کرنے کی تجویز کو نہیں مانا،خدانخواستہ ملک دیوالیہ ہو جاتا تو سری لنکا سے بھی بد تر حالات ہوتے ملک دیوالیہ سے بچ گیا ریاست بچ گئی میرا ضمیر مطمئن ہے اگر قائد کہتے سیاست کو بچانا ہے تو دو منٹ میں استعفیٰ دے دیتا ، 16 ماہ کی حکومت میں ہمالیہ نما چیلنجز کا سامنا تھا، آئی ایم ایف سے کامیاب معاہدہ کیا، کسانوں کو ریلیف پیکج دیا، ہمیں تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، گھبرانے کی ضرورت نہیں انشااللہ اچھے وقت آئیں گے،تحریک عدم اعتماد آئی تو ذاتی مقصد کیلئے ریاست کیساتھ کھیل کھیلا گیا، میرے قائد اور مخلوط حکومت کا فرض تھا کہ ریاست کو بچائیں،

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پانامہ کو لے کر اقامہ میں سزا دلوائی گئی،وہاں سے ترقی و خوشحالی کے سفر پر کالی ضرب لگائی گئی،پنجاب سے ہم الیکشن جیت چکے تھے اسے تبدیل کیا گیا، خارجہ پالیسی کو تباہ کر دیا گیا تھا ان تعلقات کو ہم نے بحال کیا، میاں نواز شریف دوبارہ تشریف لا رہے ہیں، اس ترقی و خوشحالی کے سفر کو وہی سے شروع کریں گے،75 سال میں سب سے زیادہ نشانہ صرف اور صرف سیاست دان بنے، احتساب سب کا ہونا چاہیئے پر آج تک احتساب کی لاٹھی صرف سیاست دانوں پر چلی ہے،صاف شفاف انتخابات میں جو جیتے ہمیں فیصلہ ماننا ہوگا، چئیرمین پی ٹی آئی نے جنرل باجوہ سے کہا کہ میں آپ کو توسیع دوں گا اگر آپ میری مدد کریں ،چیئرمین پی ٹی آئی نے ہمیں 10، 10 سال کیلئے بند کرنا تھا، ہمیں ملک بدر کیا گیا تو حمزہ شہباز کو یہاں یرغمال بنایا گیا،ڈیل ہوتی تو نواز شریف کو ڈھیل ملتی، مشرف دور میں جیل نہ کاٹتے،انشااللہ نواز شریف ڈاکٹرز کی کلیئرئنس کے بعد واپس وطن تشریف لے آئیں گے،

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام اباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • نوازشریف کرسمس والے دن پیدا ہوئے،امرتسر میں دادا کے گھر کو گوردوارہ بنا دیا گیا تھا،مریم

    نوازشریف کرسمس والے دن پیدا ہوئے،امرتسر میں دادا کے گھر کو گوردوارہ بنا دیا گیا تھا،مریم

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس ہوا.

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نوازے اجلاس کی صدارت کی ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ کوئی اقلیت کوئی اکثریت نہیں، ہم سب پاکستانی ہیں، آج پاکستان کی اقلیتوں کے خوبصورت رنگ یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے، نواز شریف عوام اور ملک کو مشکلات سے نکالنے آ رہا ہے، 21 اکتوبر کو پاکستان کے اچھے دِن واپس آرہے ہیں، اِن شاءاللہ، 21 اکتوبر کو پاکستان کی خوش حالی واپس آرہی ہے،21 اکتوبر کو مہنگائی میں کمی واپس آرہی ہے، 2013سے 2018 تک نوازشریف کے دور میں مہنگائی کنٹرول میں رہی،نوازشریف کو نکالا تو ملک سے ترقی اور خوش حالی بھی نکل گئی، نوازشریف کو اقتدار سے نکالا تو ملک سے امن وسکون بھی نکل گیا،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ تحریک پاکستان میں اقلیتوں کا کردار ناقابل فراموش ہے،قیام پاکستان، دفاع پاکستان اور تعمیر پاکستان میں اقلیتوں کا برابر کا حصہ جو قابل فخر اور ناقابل فراموش ہے، اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی نظریہ پاکستان اور بابائے قوم حضرت قائد اعظم کے وعدوں اور فرمودات کی خلاف ورزی ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) غیرمسلم پاکستانیوں کی نمائندہ اور سب سے بڑی جماعت ہے، تعلیم اور صحت کے شعبے میں اقلیتوں کا کردار کیسے نظر انداز ہو سکتا ہے، قائد نواز شریف نے مسلم اور غیرمسلم پاکستانیوں کے حقوق میں کبھی امتیاز نہیں برتا، غیرمسلم پاکستانی مینار پاکستان پر قائد نواز شریف کے ساتھ مل کر روشن پاکستان کی تعمیر کے عہد کا اعادہ کریں گے،قائد نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان کی ترقی کا وژن دیں گے، آئین کے مطابق غیرمسلم پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کا ایجنڈا دیں گے، جیسے ایک ازاد پاکستان بنا تھا، اب قرض، مہنگائی اور معاشی بدحالی سے آزاد پاکستان بنائیں گے، ان شاءاللہ،مینار پاکستان پر ایک اسلامی جمہوری فلاحی مملکت کا خواب دیکھا تھا، اب مینار پاکستان پر پاکستان کو معاشی آزادی دلانے کا ایک اور تاریخی عہد کریں گے،نواز شریف نے قوم سے ہر وعدہ پورا کیا، اب معاشی طور پر خود انحصار پاکستان بنانے کا وعدہ پورا کریں گے،مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلا رہے ہیں ، پاکستان کی تمام اقلیتوں کو مسلم لیگ (ن) اقلتی ونگ کا حصہ بنائیں گے،قومی سطح پر اقلیتوں کی آواز کو طاقتور اور توانا بناکر پاکستان کو مضبوط کریں گے، قومی فیصلہ سازی میں اقلیتوں کے کردار اور آواز کو بڑھانا ہے،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ سکھ برادری کو دیکھ کر اپنے دادا کے پیدائشی علاقے امرتسر کی یاد آگئی ،امرتسر میں دادا کے گھر کو گوردوارہ بنا دیا گیا تھا، امرتسر سے ہمیشہ دعاﺅں کے پیغامات آتے ہیں، ہم سب پاکستانی ہیں، آپ بھی اس کے اتنے ہی اہم سٹیک لوڈر ہیں جتنے ہم ، سانحہ جڑانوالہ میں ملوث تمام عناصر کو سزا ملنی چاہیے، مسیحی برادری کو جس طرح اپنے گھروں سے باہر رہنا پڑا، وہ ہم سب کے لئے انتہائی قابل افسوس اور باعث شرم ہے، سانحہ جڑانوالہ نے ہمارے سر شرم سے جھکادئیے ،افسوس ہے کہ اتنی بڑی مسیحی برادری کو تحفظ نہیں دیا جاسکا، سانحہ جڑانوالہ پر مسیحی اور اقلیتی برادری کو جو تکلیف پہنچی، اس پرپاکستانیوں کی طرف سے معذرت کرتی ہوں، قائد محمد نوازشریف نے اقلیتوں کے ساتھ ہمیشہ یک جہتی کی، نوازشریف کرسمس والے دن پیدا ہوئے ،اقلیتوں کے احترام اور یک جہتی والا جذبہ لے کر بڑی ہوئی ہوں، ڈویژنل سطح پر اقلیتی ونگ کے کنونشز انتہائی متاثر کن اور قابل تعریف تھے، اقلیتیں 21 اکتوبر کو بھرپور انداز میں قائد نوازشریف کا استقبال کریں گی،مینار پاکستان پر مل کر پاکستان کی ترقی کا عہد کریں گے،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوانوں کومذموم مقاصد کے لئے استعمال کیاگیا، آگ اور خون کی ندیاں بہائی گئیں،اللہ تعالی کے فضل سے تمام سازشی کردار اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں، سب کچھ بھلا کر پاکستان کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی ہے،

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام اباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • نواز شریف کا استقبال،سیالکوٹ سے ساڑھے سات ہزار بندہ لائینگے،سائرہ افضل تارڑ

    نواز شریف کا استقبال،سیالکوٹ سے ساڑھے سات ہزار بندہ لائینگے،سائرہ افضل تارڑ

    سیالکوٹ۔ن لیگی رہنما سائرہ افضل تارڑ اور خواجہ محمد آصف نے پارٹی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے

    ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اکیس اکتوبر کو میاں نواز شریف کو خوش آمدید کے حوالے سے جوش و ولولہ بڑھ رہا ہے۔سارے پروگرام کو ملکی سیاست کا بڑا ایونٹ سمجھتے ہیں،اکیس اکتوبر کے حوالے سے گوں مگوں کی کیفیت ختم ہورہی ہے ،جب مشرف نے میاں صاحب کو جلاوطن کیا تو میاں صاحب نے لینڈ کیااور انہیں دوبارہ واپس بھیج دیا گیا ، دوسری بار 2018 کے الیکشن کے وقت میاں نوازشریف بیٹی سمیت واپس آئے،میڈیا کو عوام میں آکر دیکھنا چاہئےکہ عوام میڈیا ہاٶسز میں نہیں گلی محلوں میں بستی ہے۔

    سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف کی آمد کے موقع پر تمام ورکرز کو جلسے میں شرکت کے لیے ٹارگٹ دیا گیا ہے۔اللہ کے فضل سے یہ کلئیر ہے کہ میاں صاحب واپس آرہے ہیں, سیالکوٹ ضلع کو پانچ ہزار کا ٹارگٹ دیا گیا ہے ،فی پی پی حلقہ پانچ سو افراد کا ٹارگٹ دیا گیا ہے ،این اے کے امیدوار کو بھی پانچ پانچ سو افراد کو لیجانا ہوں گے۔اسطرح سیالکوٹ ضلع سے استقبال کے لیے جانیوالے افراد کی تعداد ساڑھے سات ہزار ہو گی۔ پی ڈی ایم کے سابقہ جلسے میں لوگوں کی تعداد پی ٹی آئی کے جلسے سے زیادہ تھی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس پہنچیں گے ، ن لیگ کی جانب سے انکے استقبال کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں، اس ضمن میں کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں، نواز شریف مینار پاکستان جلسہ کریں گے، ایئر پورٹ سے وہ مینار پاکستان پہنچ کر کارکنان کو نیا بیانیہ دیں گے،

    مینار پاکستان جلسے کے لیے مسلم لیگ ن کی نئی حکمت عملی

    مبشر لقمان کا نواز شریف کو گھر بدلنے کا مشورہ

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

     نوازشریف کی لندن سے پاکستان واپسی کے لیے ٹکٹ بک کرالی گئی

    نواز شریف کی تصویر کے سائز کے برابر کسی اور کی تصویر نہیں لگے گی

  • نوازشریف اپنے بیانئے اور پالیسی کی وضاحت کریں گے، رانا ثناء اللہ

    نوازشریف اپنے بیانئے اور پالیسی کی وضاحت کریں گے، رانا ثناء اللہ

    صدر مسلم لیگ ن پنجاب راناثنااللہ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے قائد میاں نواز شریف کا 21 اکتوبر کو استقبال کے لئے تیار ہیں

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پوری قوم نجات دہندہ کے طور پر ان کی منتظر ہے،پاکستان کی رہنمائی کے لئے جب بھی قوم کو ضرورت پڑی تو نواز شریف نے ساتھ دیا،جب پوری دنیا ایک طرف کھڑی ہو گئی اور کہا کہ کوئی مسلمان ملک ایٹمی دھماکے نہیں کر سکتا ، اس وقت وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے پاکستان کا سر بلند اور سرخرو کیا،پاکستان پہلی ایٹمی قوت کے طور پر پہچانا گیا،2013 میں بھی سینکڑوں لاشیں اٹھائی جا رہی تھیں، کئی کئی گھنٹے کی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی،منفی تنقید کرنے والوں نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے،اگر نواز شریف کو موقع ملتا تو سی پیک مکمل ہونے کے قریب ہوتا اور پاکستان ترقی یافتہ ملک ہوتا،28 جولائی 2017 کو بابا رحمتے نے لکھا فیصلہ پڑھ دیا،اس وقت معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں،اس وقت آزمودہ لیڈر کی دوبارہ ضرورت ہے،پاکستان مسلم لیگ ن کی درخواست پر نوازشریف آ رہے ہیں، مینار پاکستان کی گرائونڈ میں پورے پاکستان سے لوگ لاہور پہنچیں گے،لاہور شہر نواز شریف اور دوسرے مہمانوں کا میزبان ہو گا، نوازشریف اپنے خطاب میں قوم کو امید دلائیں گے، پاکستان اس وقت مشکل کا شکار ہے،نوازشریف اپنے بیانئے اور پالیسی کی وضاحت کریں گے،

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ 2022 میں فتنے کی حکومت کو گھر نہ بھیجا ہوتا تو صورت حال کچھ اور ہوتی،جنہوں نے ہمارے یا قائد کے ساتھ برا سلوک کیا وہ کوئی نام ہمیں نہیں بھولے گا۔پاکستان اور عام آدمی کی فلاح و بہبود ہماری سیاست کا محور ہے،2018 کا تجربہ نہ کیا جاتا تو 2021، 2022 تک سی پیک مکمل ہوتا،جس طرح کا تجربہ 12 اکتوبر کو ہوا اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کیلئے قانونی ٹیم تیاری کر رہی ہے ،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس پہنچیں گے ، ن لیگ کی جانب سے انکے استقبال کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں، اس ضمن میں کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں، نواز شریف مینار پاکستان جلسہ کریں گے، ایئر پورٹ سے وہ مینار پاکستان پہنچ کر کارکنان کو نیا بیانیہ دیں گے،

    مینار پاکستان جلسے کے لیے مسلم لیگ ن کی نئی حکمت عملی

    مبشر لقمان کا نواز شریف کو گھر بدلنے کا مشورہ

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

     نوازشریف کی لندن سے پاکستان واپسی کے لیے ٹکٹ بک کرالی گئی

    نواز شریف کی تصویر کے سائز کے برابر کسی اور کی تصویر نہیں لگے گی

  • 21 اکتوبر کو مینار پاکستان سمیت دیگرمقامات پر جلسے کی تجویز،رانا ثناء اللہ

    21 اکتوبر کو مینار پاکستان سمیت دیگرمقامات پر جلسے کی تجویز،رانا ثناء اللہ

    رہنما مسلم لیگ ن رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنے قائد کی 21 اکتوبر کو آمد کے حوالے سے تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، کل لاہور ڈویژن کی میٹنگ جبکہ پیر سے پنجاب کی دیگر ڈویژنل میٹنگ بلوائی جا رہی ہیں،تمام مسلم لیگ ن کے ورکرز ووٹرز سپوٹرز لاہور پہنچیں گے،

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ایک بلین سے زیادہ لوگ لاہور میں اپنے لیڈر کو خوش آمدید کہیں گے، ان حالات میں جب عام پاکستان مہنگائی کے ہاتھوں, بے روزگاری کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہے،پاکستان ڈیفالٹ سے تو بچ نکلا ہے لیکن معاشی بحران سے محفوظ نہیں ہو سکا، عام آدمی انہیں نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہا ہے، مستحکم منتخب نمائندہ حکومت کو منظم سازش سے نکالا گیا جوڈیشل اسٹبشلمنٹ نے، اور یہ سازش کا عمل آج تک جاری ہے،اس وقت بابا رحمت اور بابا لعنتے کے ذریعے نکالا گیا، بیٹے سے تنخواہ لی تو نہیں لے سکتے تھے اور ریٹرن میں شو کرتے،پاکستان اس وقت لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی کے مسائل میں پھنسا ہوا تھا ,ان حالات سے اسے نکالا گیا، ان حالات میں عوام نے مسلم لیگ ن کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا تھا،اس وقت پاکستان جی 20 کلب میں شامل ہونے والا تھا ایک دو مالی سال میں، اس وقت پیٹرول 65 ,ڈالر 100 کے قریب تھا،3، 4 سالوں میں صرف انتقام کے تحریک انصاف کے سربراہ نے کچھ نہیں کیا، ملک کی سیاست میں نفرت لے کر آیا, نوجوانوں کے ذہنوں میں بارود بھرا،ہم ایک ہی خاندان کے لوگ آپس میں دست و گریباں ہو گئے، پہلے اختلافات ہوتے تھے لیکن احترام بھی تھا،

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اپریل 2022 میں اگر آئینی طریقہ سے نااہل حکومت کو نا نکالا جاتا تو شاہد آج زیادہ مشکل حالات ہوتے اور ملک ڈیفالٹ کر جاتا،گزشتہ ادوار میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے اس کے جواب میں نواز شریف کی قیادت میں دنیا کے دباؤ کے باوجود 5 کے مقابلے میں 6 ایٹمی دھماکے کیے، پوری قوم سے کو بتانا چاہتے ہیں پاکستان جب جب مشکل کا شکار ہوا ہے تو مسلم لیگ ن ایک آزمودہ نسخہ ہے جس نے ہمیشہ مشکل سے نکالا ہے، 9 مئی کے بعد بھی جو کچھ ہوا ہے سب کے سامنے ہے، 2014 سے سازش شروع ہوئی اور 2017 تک نشانہ بنایا جاتا رہا،میاں نواز شریف اس وقت کی حکومت کی اجازت کے ساتھ باہر گئے، 21 اکتوبر کو ایئر پورٹ , مینار پاکستان سمیت دیگر مقامات کی تجویز زیر غور ہے، 13 کے قریب کیسز تو عمران خان پر ہی بنتے ہیں، میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے، اس کو آن ایئر ابھی نہیں کر سکتے، وہ آزاد شہری کے طور پر عدالت میں پیش ہوتے رہیں گے، نواز شریف دل کے عارضے میں مبتلا ہیں باقاعدہ ڈاکٹرز کے مشورہ سے سفر کی اجازت ہے، ہم نے کبھی بھی ایک پیج کی بات نہیں کی،

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ

    تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ

    تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ!

    تحریر:۔ ملک شفقت اللہ

    اٹھائیس مئی کو پاکستان میں یوم تکبیر کا دن منایا جاتا ہے۔ کیونکہ پچیس سال قبل اسی روز پاکستان نے چاغی کے مقام پر بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سات ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک بار پھر سے معتدل کیا تھا۔ اس دن کو نہ صرف پوری پاکستانی قوم بڑے جوش و جذبے سے مناتی ہے بلکہ عالم اسلام بھی ان ایٹمی دھماکوں کو اپنا سمجھ کر کفار کو اسی بھروسے میں للکارتا ہے۔ جس دن پاکستان میں دھماکے ہوئے تھے اسی روز فلسطین کا ایک کم سن بچہ اسرائیلی فوجی کو مکا دکھا رہا تھا کہ پاکستان میں یہ جو ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا گیا ہے وہ تمہاری استعماریت کو لگام ڈالنے اور اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر فرعون کیلئے ایک موسٰی ضرور پیدا کرتا ہے۔ سنہ اڑھتالیس میں اگر اسرائیل وجود میں آیا تو سنہ سینتالیس میں پاکستان معرض وجود میں آ چکا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے کہ ہماری آزادی کیلئے عالمی دنیا میں سفارتکاری اور آواز بننے والا ملک بھی اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ بھارت اور اس کے ساتھیوں کو للکار کر کہہ سکے کشمیر کو آزادی دو، استصواب رائے پر آزادی دو! مگر یہ نوجوان نسلوں کے خواب جنہیں وہ آنکھوں میں سجا کر جوان ہوئے تھے بکھر گئے! امید کی روشنی آنکھوں میں مایوسی کے بادل بن کر برس رہی ہے۔ آج پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، ذہنی ہیجان، اور جہاں دیکھو تقسیم ہی تقسیم ہے۔کوئی جماعت، اشرافیہ، ٹیکنو کریٹ، بیوروکریٹ یا ملک کا ذمہ دار اتحاد کی بات نہیں کر رہا! اور اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے ہمارا روایتی حریف۔ اس نے مقبوضہ کشمیر میں جی – 20 سمٹ منعقد کروائی ہے اور کنٹرول لائن کا علاقہ مائننگ کیلئے اسرائیلی کمپنی کو ٹھیکے پر دیا ہے۔ مگر سمٹ کے بارے میں تو ہمارے وزیر خارجہ نے بہت شور مچایا ہے، جو ظاہری طور پر بے اثر رہا مگر اسرائیلی کمپنی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ کیا وطن عزیز کو چلانے والے حکمران اور مقتدر طبقہ ابلاغ، دانش اور صحیح فیصلوں کی قوت سے عاری ہے جو مستقبل پر نظر نہیں رکھتا کہ کیسی مشکلات ہماری منتظر ہیں! یہ کیسے اسباب پیدا کئے جا رہے ہیں جس میں صرف میں، میرا اور میری کی فکر کی جا رہی ہے؟

    گریٹر اقبال پارک کے دامن میں ملک پاکستان کے بننے سے موجودہ سنگین حالات تک اور پھر یہاں سے آگے امید کی ایک نئی روشنی کے آغاز تک کی ساری تاریخ دفن ہے۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں 1940 میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی جس کے سات سال بعد بر صغیر کے مسلمان ایک الگ آزاد ریاست اسلامی و فلاحی جمہوریہ پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس گریٹر پارک میں یادگار پاکستان یعنی مینار پاکستان بھی قائم ہے جس کی آغوش میں پاکستان کی کئی سیاسی پارٹیوں نے جنم لیا ہے۔ کئی بڑے جلسے ہوئے، وقت کے ساتھ وہ اثر کن بھی ہوئے مگر کبھی پاکستان کی تقدیر نہیں بدل سکے۔

    پاکستان میں اخلاق، ایثار و جذبہ، اتحاد ملی، یگانگت باہمی، ایمان، اتحاد، تنظیم اور یقین و محکم کے علاوہ دانشمندی اور دور اندیشی جیسے عناصر کا خلا کوئی سیاسی و مذہبی جماعت بھر نہ سکی۔28 مئی یوم تکبیر کے موقع پر ایک اور سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اسی گریٹر اقبال پارک کی آغوش میں، اسی مینار پاکستان کے سائے میں تکبیر کانفرنس کروا کر اپنے وجود کا اعلان کیا ہے۔ پہلے ہی جلسے کو پی ایم ایم ایل کی قیادت تاریخی بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اور پہلی ہی کانفرنس سے پی ایم ایم ایل نے تمام مذہبی و سیاسی عمائدین و قائدین کو ایک ہی سٹیج پر اکٹھا کر کے تمام تر تعصبات سے پاک ہو کر مذکورہ بالا سیاسی خلا کو پر کرنے کا عملی ثبوت دیا ہے۔لاہور شہر بھر میں تشہیری مہم، استقبالیہ مسافر خانے اور ان میں کھانوں اور مشروب کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔پورے پنڈال کی سیکیورٹی کیلئے جہاں سرکاری طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی وہیں خود پی ایم ایم ایل کی جانب سے سینکڑوں نوجوانوں نے نظم و ضبط کو قائم رکھنے اور شرکت کرنے والوں کو محفوظ کرنے کیلئے بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دئے ہیں۔داخلی راستوں پر میٹل ڈی ٹیکٹر گیٹ لگائے گئے تھے، اور ساتھ ہی مہانوں کیلئے پانی اور شربت کے سٹالز لگائے گئے تھے جہاں سفر کر کے آنے والے جی بھر سیر ہو رہے تھے اور پیاس بجھا رہے تھے۔

    اسٹیج کے بائیں طرف میڈیا گیلری قائم کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں راقم الحروف میڈیا گیلری میں موجود تھا۔ اس گیلری میں پندرہ سو کرسیاں لگائیں گئیں جہاں پنجاب بھر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے برقی، سماجی اور اشاعتی ابلاغی اداروں کے نمائندگان کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔ انہیں بجلی اور انٹرنیٹ کی بھرپور سہولت بھی فراہم کی گئی۔ اسٹیج کے بائیں طرف کنٹینر لگا کر الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان کو کوریج میں آسانی اور سیکیورٹی دینے کیلئے انتظام کیا گیا تھا۔ مین اسٹریم میڈیا کے نمائندگان نے اس کنٹینر پر کیمرے لگا رکھے تھے اور وقفے وقفے سے پی ایم ایم ایل کی قیادت کا انٹرویو کر رہے تھے اور مختلف اوقات میں اپنے ٹی وی چینلز پر ہیڈ لائنز اور سٹوری کوریج دے رہے تھے۔ اسٹیج کے درمیان میں کرسیوں پر اور کھڑے ہوئے ایسے لوگ موجود تھے جو ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اور پی ایم ایم ایل کا پرچم تھامے ہوئے تھے۔ گریٹر اقبال پارک کی درمیانی سولنگی پٹی آخر تک سبز ہلالی پرچموں میں ڈھکی ہوئی تھی اور تیز ٹھنڈی ہواؤں نے ان پرچموں کو لہرا کر زندہ و جاوید کر دیا۔اسی مرکزی سولنگی پٹی اور پنڈال کے باہر بھی پاکستان کے بانی ممبران کے علاوہ کشمیر حریت راہ نماؤں کے پوسٹرز بھی آویزاں کئے گئے تھے۔ اسٹیج کی بائیں جانب مکمل اور دائیں طرف میڈیا گیلری کے پیچھے پی ایم ایم ایل کے تمام ضلعی عہدیدار اور ان کے ساتھ آئے ساتھی موجود تھے جو ضلعی قیادتوں کے ہمراہ پنجاب کے طول و عرض سے بنا کسی لالچ اور بنا کسی بریانی کے شوق اپنے کرایے پر صرف اور صرف اپنی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس کا وقت پانچ بجے سہہ پہر مقرر کیاگیا تھا۔ لوگ مختلف اضلاع سے پہلے ہی آنا شروع ہو گئے تھے، دن کی روشنی میں ہی پنڈال بھر چکا تھا۔ مغرب کی نماز سے قبل قریب ساڑھے چھ بجے کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ اور مغرب کی اذان کے وقت علماء و عمائدین نے بھرپور عوامی ہجوم کے ساتھ نماز مغرب اور عشاء ادا کی۔ گریٹر اقبال پارک کی تاریخ میں شاید یہ پہلی مرتبہ ہوا ہو کہ کوئی سیاسی قیادت اپنے کارکنان کی نماز کی فکر کر رہی ہو، اور ان کیلئے نماز کی ادائیگی کیلئے اتنے بڑے ہجوم کیلئے وضو کے پانی، طہارت کیلئے بیت الخلاء اور نماز کیلئے قالینوں کا اہتمام کیا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد گریٹر اقبال پارک تکبیر کے نعروں، عمائدین و قائدین کے خطابات اور ملی نغموں سے گونجتا رہا۔ رات گئے تک لوگوں کی شرکت کا سلسلہ چلتا رہا۔ خطابات کی تفصیل تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے ویڈیو کلپس اور تصاویری شکل میں گزشتہ روز ٹویٹر ٹرینڈ میں شیئر کر دی گئی ہے۔ لیکن میں یہاں مقررین کے نام ضرور لکھتا چلوں گا۔

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے مضبوط قدم جما رکھے ہیں

    عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

    اسٹیج پر موجود مقررین میں پی ایم ایم ایل کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ شاہد مسعود سندھو، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، خطیب بادشاہی مسجد عبد الخبیر آزاد، حریت راہ نما غلام محمد صفی، سجادہ نشین میاں میر پیر سید ہارون علی گیلانی، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، چئیرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، قصور سے پی ایم ایم ایل کے امید وار سیف اللہ خالد، خواتین کی نمائندگی جنرل حمید گل مرحوم کی بیٹی عظمیٰ گل، یعقوب شیخ، مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے راہ نما ڈاکٹر عبد الغفور راشد، بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے قبائلی راہنما نواب ظفرا للہ خان شہوانی، نگران عروۃ الوثقیٰ علامہ آغا سید جواد احمد نقوی، امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبد الغفار روپڑی، مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانہ فضل الرحیم اشرفی، سکھ راہ نما سردار بشن سنگھ، علامہ زاہد محمود قاسمی، معروف عالم علامہ ناصر مدنی، انجینئیر حارث ڈار، قبائلی راہ نما میر شاہ جہاں، انور گل زئی، رانا محمد اشفاق، مقتدر اختر شبیر ایڈووکیٹ، احسان اللہ منصور، چئیرمین پیاف شیخ فہیم الرحمٰن، متحدہ جمیعت اہلحدیث کے راہ نما شیخ نعیم بادشاہ، رانا انتظار، احسان چوہدری، انجینئیر عادل خلیق، ڈاکٹر عبد المتین و دیگر نے خطاب کیا۔

    اگر جائزہ لیا جائے تو پورا سٹیج واضح طور پر اتحاد و یگانگت کے مناظر پیش کر رہا تھا۔ اور مقررین کے علاوہ مین اسٹریم کے میڈیا اور اینکرز نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ اس عدم استحکام، ہیجانی کیفیت اور معاشی بحران میں گریٹر اقبال پارک میں لوگوں کا جم غفیر اکٹھا کرنا کسی بھی نومولود سیاسی جماعت کیلئے نا ممکن ہے لیکن پی ایم ایم ایل نے یہ ممکن کر دکھایا ہے۔ مقررین نے پی ایم ایم ایل کی قیادت کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اتحاد کی اس فضا کو قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ اندرونی و بیرونی سازشوں، بھارتی دہشتگردی اور ہرزہ سرائی، ملک میں نفرت و انتقام کی سیاست، ملک میں مہنگائی اور غربت کے خاتمے اور اتحاد باہمی کیلئے ایک سیاسی خلا موجود تھا، جسے پی ایم ایم ایل نے آج اس اتنے بڑے اجتماع کو منعقد کر کے اور تمام سیاسی و مذہبی عمائدین کو ایک اسٹیج پر اکٹھا کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی جماعت اس سیاسی خلا کو پر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تمام مقررین نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔کانفرنس کے دوران پی ایم ایم ایل کے مرکزی راہ نما مزمل ہاشمی نے اعلامیہ پیش کیا جو کچھ یوں ہے:

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    *پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام تکبیر کانفرنس کا اعلامیہ*

    ٭ یوم تکبیر کے تاریخ ساز موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام آج مینار پاکستان کے سائے تلے عظیم الشان تکبیر کانفرنس کے انعقاد پر ہم اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم میں نظریہ پاکستان کاشعور بیدار کر کے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر قوت بنائیں گے۔ ان شاء اللہ

    ٭ آئی ایم ایف یا کسی بھی عالمی قوت کے دباؤ پر ایٹمی پروگرام سے دستبرداری نامنظور ہے۔ پوری قوم ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی۔

    ٭ شہدا پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

    ٭ ملک میں دفاعی اداروں و تنصیبات پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، البتہ جن لوگوں پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

    ٭ وطن عزیز میں شدید مہنگائی، بجلی و پٹرول کی بے انتہا قیمتوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے کاروبار تباہ اور انڈسٹری کا چلنا مشکل ہو چکا ہے۔ حکومت بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں کم کرے، عوام کی معاشی مشکلات کم کرنے اور روزگار کے مواقع میسر کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔

    ٭ شدید مہنگائی سے بچوں کو تعلیم کے حصول میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔حکومت نوجوانوں کی تعلیم کا بوجھ خود اٹھائے،یکساں نظام تعلیم کی طرح تعلیمی اداروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔

    ٭ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں اورسالہا سال گزرنے پر بھی لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔ اتفاق رائے سے ایسا نظام انصاف ترتیب دیا جائے جس سے مختصر وقت میں لوگوں کو انصاف میسر آ سکے۔

    ٭ صحت کی ناکافی سہولیات اور مہنگی ترین ادویات عوام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ حالت کو درست کیا جائے۔ دور دراز دیہاتی علاقوں تک بھی لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    ٭ اگر حکومت وقت عوام کو بنیادی حقوق اور ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فی الفور مستعفی ہو۔

    ٭ مرکزی مسلم لیگ اس بات کا عہد کرتی ہے کہ خدمت خلق کی سیاست کو جاری رکھتے ہوئے حکومتی وسائل کے بغیر ہی عوام پاکستان کی مشکلات حل کرنے کیلئے بھر پور کوشش کرتے رہیں گے۔

    ٭ مقبوضہ کشمیر میں جی 20کے اجلاس اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور بھارت کو شہ دینے کے مترادف ہے۔چین، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی طرف سے جی 20اجلاس کا بائیکاٹ خوش آئند اقدام ہے۔

    ٭ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ مظلوم کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔

    ٭ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فی الفور حل کیا جائے۔

    ٭ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے قائدین جو بھارتی جیلوں میں ناحق قید ہیں، ان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ قائدین تحریک آزادی کشمیر کو عمر قید اور پھانسی کی سزائیں دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، ان سزاؤں کو فی الفور ختم کیا جائے۔

  • تکبیر کانفرنس،9 مئی واقعات کی مذمت،ملزمان کی سزا کا مطالبہ

    تکبیر کانفرنس،9 مئی واقعات کی مذمت،ملزمان کی سزا کا مطالبہ

    قصور
    کل شام مینار پاکستان لاہور میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر سایہ ہونے والی ،تکبیر کانفرنس، میں قصور سمیت ملک بھر سے لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت،یوم تکبیر ایٹمی دھماکوں پہ اظہار تشکر،9 مئی واقعات کی مذمت اور ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق کل لاہور مینار پاکستان میں مرکزی مسلم لیگ پاکستان کے زیر سایہ ،تکبیر کانفرنس، کا انعقاد کیا گیا جس میں قصور سمیت پورے ملک سے کثیر تعداد میں لوگوں نے پرجوش شرکت کی
    تکبیر کانفرنس میں چاروں مسالک کے علماء ،تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت ہر مکتبہ فکر کے قائدین نے خطاب کیا جن میں سے سب سے پرجوش خطاب قرآن و سنہ موومنٹ کے سربراہ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے کیا جن کے خطاب پہ شرکاء نے پرجوش نعرے بازی کی
    کانفرنس شام 6 بجے شروع ہوئی اور رات 12 کے بعد تک جاری رہی
    مقررین نے 28 مئی یوم تکبیر کے حوالے سے ایٹمی طاقت بننے پہ اظہار تشکر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اپنے ملک و ملت اور اداروں کیساتھ ربط مضبوط کیا جائے گا اور ہر طرح کی قربانیاں پیش کی جائیں گیں
    شرکاء نے کہا کہ نفرت کی سیاست نے پاکستان کا امن و سکون برباد کیا ہے ایسے افراد کا محاسبہ ضروری ہے اور ایسے لوگوں کا بائیکاٹ کرے
    تمام مقررین نے سانحہ 9 مئی کی بھرپور مزمت کی اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے ملزمان سمیت ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ کو سخت سزا دی جائے

    کانفرنس سے بلوچستان سے آئے قبائلی سرداروں نے بھی خطاب کیا اور پاکستان سے اظہار محبت کرتے کہا کہ پاکستان ہمارا گھر ہے جس کا امن و سکون بھارت خراب کر رہا ہے تاہم بلوچ اپنے گھر اور اپنے اداروں کیساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں اور ہر طرح کی قربانیاں پیش کرتے رہیں گے
    کانفرنس میں ملک بھر سے آئے میڈیا نمائندگان نے بھرپور کوریج کی

  • 26 مارچ جلسے سے مینار پاکستان پارک کو نقصان،ہرجانہ وصول کریںگے،نگران حکومت

    26 مارچ جلسے سے مینار پاکستان پارک کو نقصان،ہرجانہ وصول کریںگے،نگران حکومت

    26 مارچ کے جلسے سے مینار پاکستان پارک کو نقصان ہوا، ہرجانہ وصول کریںگے،نگران حکومت
    نگران صوبائی ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بیرسٹر سید اظفر علی ناصر نے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔ صوبائی وزیر نے محکمہ کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی جس میں ڈی جی پی ایچ اے طاہر وٹو اور دیگر افسران نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی۔

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پی ایچ اے کا ماحول کیساتھ گہرہ تعلق ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایات پر شہر لاہور کو حقیقی معنوں میں خوبصورت بنائیں گے۔ کرپشن کو روکنے اور ادارے کی بہتری کیلئے مجھے ہاؤسنگ کی وزارت دی گئی۔ کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہو گی۔ کام کے ساتھ احتساب بھی ہو گا۔ ہم رہیں یا نہ رہیں عوام کا بھلا ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ اے اپنے وسائل کو بڑھانے کیلئے جامع حکمت عملی کیساتھ اقدامات کرے۔ اخراجات کم کریں اور آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ پی ایچ اے جین مندر لاہور کے پاس فوڈ کورٹ بنانے کے حوالے سے تجاویز اور ریلوے ٹریک کے ساتھ پارکس بنانے کے منصوبے پر تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے جبکہ درختوں کی جیو ٹیگنگ کے عمل کو تیز کیا جائے۔ صوبائی وزیر نے آئندہ اجلاس میں پی ایچ اے کے عدالت میں زیر سماعت مقدمات کی رپورٹ پیش کرنے، پارکس میں پبلک ٹوائلٹ بنانے اور گرین بلٹس کو سڑک کی سطح سے نیچے بنانے کی تجویز پر رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔

    انہوں نے کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور عوامی تفریح کے حوالے سے کسی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پی ایچ اے لاہور نے شہر میں بہت سی جگہوں پر اچھے کام کیے ہیں مگر بہتری کی گنجائش ہر جگہ موجود رہتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ 26 مارچ کے جلسے سے مینار پاکستان پارک کو نقصان ہوا جبکہ زمان پارک کی گرین بیلٹس کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ پی ایچ اے پارکس کو ہونے والے نقصانات کا حرجانہ وصول کرے گا اور کسی شخص کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے۔

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پی ٹی آئی جلسے سے گریٹر پارک کو کتنا نقصان ہوا؟

    پی ٹی آئی جلسے سے گریٹر پارک کو کتنا نقصان ہوا؟

    پاکستان تحریک انصاف کے 25 مارچ کو ہونے والے جلسے کے باعث لاہور کے گریٹر اقبال پارک کو کم و بیش 80 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ایچ اے کی جانب سے پارک میں ہونے والے نقصانات کے لیے سروے شروع کر دیا گیا ہے پارک کے چھوٹے پودے تباہ ہو گئے ، گیٹوں پر لگے تالے بھی توڑ دیئے گئےاور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے تاہم حتمی رپورٹ کل تک آ جائے گی۔

    عمران خان کو لاؤنچ ہی عدم استحکام کیلئے کیا گیا ہے. مریم نواز شریف

    گریٹر اقبال پارک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر جاوید حامد کے مطابق پی ٹی آئی نے سابقہ جلسے میں 40 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا تھا جس کی رقم اب تک ادا نہیں کی گئی اور اب مزید نقصان ہوا ہے جس کی رپورٹ تیار کرکے پی ٹی آئی کی قیادت کو بھجوائیں گے۔

    شہریوں نے گریٹر اقبال پارک کے پودوں اور پارکس سے زیادہ مہنگائی اور معاشی صورتحال کو بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔

    حسان نیازی کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

  • عثمان ڈار چنگچی رکشے میں بیٹھ کر مینار پاکستان پہنچے،ویڈیو

    عثمان ڈار چنگچی رکشے میں بیٹھ کر مینار پاکستان پہنچے،ویڈیو

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار ایک چنگچی رکشے میں بیٹھ کر مینار پاکستان پہنچے جس کی ویڈیو انہوں نے سوشل میڈیا پر شئیر کر دی-

    باغی ٹی وی: ٹوئٹر پر عثمان ڈار کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھایا گیاعثمان ڈارایک چنگچی رکشےمیں بیٹھ کر مینار پاکستان کی طرف جارہے ہیں ویڈیو میں عثمان ڈار نے چنگچی رکشہ ڈارئیور کا تعارف کرایاساتھ ہی اویس نامی چنگچی رکشہ ڈارئیور کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے عثمان ڈار کو رکشے پر بٹھایا یہ ہمیں مینار پاکستان جلسے تک لے کر جا رہے ہیں-

    معشیت کو ٹھیک کرنے کیلئےعمران خان نے 10 نکاتی پلان پیش کر دیا


    ویڈیو میں عثمان ڈار نےکہا کہ پنجاب حکومت کو عمران خان اور مینار پاکستان جلسے کا اتنا خوف تھا کہ جگہ جگہ کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کی گئیں لاہویوں سمیت ملک بھر سے آئے کارکنان کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ اتنی رکاوٹوں کے باوجود جلسہ گاہ پہنچے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مینار پاکستان جلسے کے باعث شہر بھر میں مختف سڑکوں کو بند کیا گیا تھا جبکہ میٹرو بس سروس بھی جزوی طور پر بند تھی۔ پی ٹی آئی کارکنان سمیت رہنماؤں کو بھی جسلہ گاہ پہنچنے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

    پی ٹی آئی جلسہ :ایک سازش کے تحت ہماری حکومت گرائی گئی،عمران خان