Baaghi TV

Tag: میڈیا

  • گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کے مقدمے میں قیاس آرائیوں نے گریز کرے،اسلام آباد کیپیٹل پولیس

    گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کے مقدمے میں قیاس آرائیوں نے گریز کرے،اسلام آباد کیپیٹل پولیس

    مختلف میڈیا چینلز پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس میں جج کی اہلیہ کے جانب سے یہ خبر چلائی جا رہی ہے کہ اس نے بچی پر تشدد کے کیس میں ہر قسم تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،تاہم اسلام آباد کیپٹل پولیس کی جانب سے اس خبر کی مکمل تردید کی گئی ہے اور کہا ہے کہ مقدمہ کے متعلق تمام تر تفتیش قانون کے مطابق عمل میں لائی جارہی ہے۔ اورمقدمہ میں پیش رفت کے بارے ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی طرف سے آگاہ کیا جائے گا۔کچھ میڈیا چینلز قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں چلا رہے ہیں۔اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے یہ پیغام ٹوئیٹر پر شئیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتینش سے متعلق افواہوں پر کان مت دھریں۔قانون کی خلاف ورزی کرنیوالوں سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔چائلڈ لیبر قانوناً جرم ہے. ایسے کسی بھی واقعہ کا کسی کو علم ہو تو پکار 15 پر پولیس کو اطلاع دیں۔
    واضح رہے کہ مختلف نیوز چینلز پر ذرائع سے سول جج کی اہلیہ نے اسلام آباد پولیس کو شامل تفتیش ہونےکی یقین دہانی کرادی۔اور آئندہ 2 روز میں سول جج کی اہلیہ اسلام آباد پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گی جبکہ سول جج کی اہلیہ نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت لے رکھی ہے۔
    واضح رہے تشدد کی شکار بچی کا معاملہ 24 جولائی کو سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی۔

  • معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    انسان کا جسم اس کے دماغ کے تابع ہے جبکہ دماغ رہنمائی لیتا ہے قوت بصارت اور قوت سماعت سے یعنی کانوں اور آنکھوں سے ۔ انسان جو کچھ کانوں سے سنتا ہے اور آنکھوں سے جو د کچھ دیکھتا ہے دماغ اس کااثر قبول کرتا ہے ۔جبکہ دماغ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا میڈیا ہے ، چاہے وہ الیکڑانک ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ امر واقعی یہ ہے کہ میڈیامعلومات فراہم کرنے اور ذہنوں کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ترین ہتھیا ر بن چکا ہے ۔اسی لیے میڈیا کو ریاست کے پانچویں ستون کا درجہ قرار دیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ریاست کا ایک یہ ستون نہ صرف دیگر اداروں اور ان کی پالیسیوں پر مسلسل نظر انداز ہورہا ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا چشمہ ہے جو تمام دیگر اداروں کو اپنی رو میں بہا لے جارہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ریاست کے دیگر ستونوں میں حکومت مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں تاہم اپنی اثر انگیزی کی بنا پر میڈیا ان کے درمیان اپنی حیثیت کو منوا چکا ہے ۔ آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ میڈیا کس حد تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہا ہے اور اس کا ضابطہ اخلاق کیا ہے ؟ یا پھر یہ کہ میڈیا طاقت کے اندھے گھوڑے پر سوار سب کو روندے جا رہا ہے ۔ اس کی چکا چوند ہرچھوٹے بڑے ، مرد عورت کو متاثر کررہی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا معاشرتی نظریاتی اصلاح اس کے پیش نظر ہے یا نہیں ؟ اور خصوصاََ نوجوانوں کے کردار پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔

    پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کی اساس اسلام کے وہ سنہرے اصول ہیں جو زندگی کو متوازن بناتے ہیں اور افراد کی تربیت کا ایسا نظام مہیا کرتے ہیں جو نہ صرف معاشرے بلکہ تمام اداروں کے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ سر انجام دہتے ہیں تاکہ زندگی کا حقیقی حسن برقرار رہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر چینلز دین کے نام پر ایسے پروگرام کررہے ہیں جو دین کی تعلیمات اور روایات سے بالکل متصادم ہیں ۔ پروگرام میں شریک خواتین کا لباس بھی پروگرام کی روح کے منافی ہوتا ہے ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی پروگرامز میں ایسے علماءکو بلایاجائے اور ایسے اینکرز کا انتخاب کیا جائے جو خود بھی دین کو سمجھتے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کردار کے حامل بھی ہوں ۔ کیونکہ اسلام سب سے زیادہ کردار کی اصلاح پر زور دیتا ہے کردار میں تبدیلی در حقیقت معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے اس لئے کہ انسان اپنے کردار سے ہی پہچانا جاتا ہے ۔

    اسی طرح چینلز پر دکھائے جانے والے ڈرامے نوجوانوں کے اخلاق وکردار کو تباہ کررہے ہیں، نام نہاد ماڈرن ازم کے چکر میں نئی نسل کو اپنی دینی اور معاشرتی روایات کا باغی بنا رہے ہیں نوجوان نسل کو سست اور آرام طلب بنا رہے ہیں ۔ ہمیں اس سیلاب کے آگے بند باندھنے ہونگے بصورت دیگر حالات بے قابو ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ جرائم سے بھرے ہوئے معاشرے میں میڈیا ایسے پروگرام پیش کررہا ہے جن میں تشدد اور جرائم میں ملوث افراد کو جرم کرنے کے نئے نئے انداز مل جاتے ہیںاور وہ اپنے حالات اور مواقع کے مطابق ان کا استعمال بھی کرتے ہیں جس سے جرائم میں اضافہ ہورہاہے ۔ اکثر مجرم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم فلموں کو دیکھ کر کیے ہیں ۔ کیونکہ ان پروگراموں میں اکثر یہ دکھایا جاتا ہے کہ مجرم یا تو فرار ہوگئے یا انصاف نہیں ملا ۔ ان حالات میں یہ جاننا مشکل نہیں کہ جرم کی تشہیر کوئی مثبت نتائج نہیں دیتی ہے ۔ یہ پروگرام بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی برے اثر ات ڈالتے ہیں جس سے بچے عدم تحفظ ، بے اعتمادی اور خوف کا شکا ر ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں جو قوم میں کنفیوژن پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے ایک چینل پر پروگرام دیکھا گیا کہ پاکستان کا قومی ترانہ وہ نہیں جو قائد اعظم نے پاس کیا تھا ۔ ظاہر بات ہے کہ اب اس طرح کے ایشو اٹھانے اور ان پر بحث کرنے سے کنفیوژن ہی پیدا ہوگی ۔

    اس میں شک نہیں کہ میڈیا کی اپنی ترجیحات اور مقاصد ہیں ۔ کاروباری دنیا میں سرمایہ کار صرف اپنے منافع کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے ۔ نقصان اسے کسی طور پر برداشت نہیں ۔سرمایہ کار چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنایا جائے اس کےلئے چاہے انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے ۔ ریٹنگ کے لئے ایک بری خبریں بار با ر پیش کرکے سنسنی پھیلائی جاتی ہے تاکہ لوگ ان کے چینلز کو دیکھیں اور ان کی ریٹنگ بڑھے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس عمل سے چینلز کی ریٹنگ بڑھتی ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے معاشرے میں جرائم بڑھ رہے ہیں، نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں ، جنسی بے راہ روی ، تشدد ، ڈکیتی ، چوری ، مستقبل کا خوف ، بے اعتمادی ، نافرمانی ا ور بے صبری و خوف و ہراس جیسے نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں جو کسی طور خوش آئند نہیں ۔ بلکہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہمارا مستقبل ایسے ہی ضائع ہوگا ؟ اس کے تدارک اور اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک بنایا جائے جس میں میڈیا کے اہم سر کردہ لوگ ، دانشور ، صحافی ، سکالرز ، ججز ، حکومتی نمائندے ، والدین ، چینلز کے مالکان اور اساتذہ شامل ہوں ۔۔۔جو میڈیا کےلئے کی تر جیحات اور ضابطہ اخلا ق طے کرے ۔آخر میں ہم میڈیا مالکان سے پھر یہ کہنا چاہئیں گے کہ خدا ۔۔۔را اپنے چینلز پر ایسے پروگرام پیش کریں جو نظریہ پاکستان اور ہماری اخلاقی روایات واقدار سے ہم آہنگ ہوںجن میں نوجوانوں کو محنت اور لگن کاسبق ملے ۔ اپنی ثقافت کو پروان چڑھایاجائے تاکہ اپنی مذہبی و معاشرتی روایات ، ثقافت کو بچایاجاسکے اور پاکستانی ہونے پر فخر کیا جا سکے ۔ ۔ کھیلوں کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے اور ان پروگرام میں نوجوانوں کو شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔ بچوں کے پروگرام پیش کیے جائیں ۔ اخلاقیات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے پیغامات مختصر وقفوں میں پیش کئے جائیں تاکہ بچوں کی تربیت کی جاسکے ۔ ہر چینل کے لیے لازمی ہوکہ وہ اس طرح کے پیغامات لازمی نشر کرےں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا عمل شروع ہوسکے ۔ ہمارا میڈیا تنقید تو کرتا ہے لیکن تربیت کا اہتمام نہیں کرتا لہذا ضروری ہے کہ تربیتی پرگروام پیش کئے جائیں ۔ تعلیمی پروگراموں کو اپنی نشریات کا مستقل حصہ بنایا جائے ۔ اسلامی ممالک کا تعارف ، ثقافت و کلچر پیش کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کا تصور راسخ کیا جاسکے ۔ انٹرنیشنل ایشوز پر پروگرام کئے جائیں اور ڈاکومنٹریز پیش کی جائےں تاکہ انٹرنیشنل افئیر ز سے لوگ آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت ہمارا ملک بہت سے مسائل کا شکار ہے جن میں سے ایک اہم ترین مسئلہ معاشرتی تفریق اور خیلج ہے ۔ ان حالات میں میڈیا کو اداروں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ، یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور ہمارا قومی مفاد بھی ہے ۔ میڈیا کو اپنا مثبت رول ادا کرنے کے لئے اپنا لائحہ عمل ضرور ترتیب دینا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کاا مستقبل محفوظ ہوسکے ۔

  • جماعت اسلامی سے دشمنی نہیں،نہ بدمعاشی کرتے ہیں نہ کسی سے ڈرتے ہیں،شرجیل میمن

    جماعت اسلامی سے دشمنی نہیں،نہ بدمعاشی کرتے ہیں نہ کسی سے ڈرتے ہیں،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اگر دوسرے صوبوں کے ساتھ بھی نا انصافی ہوئی تو آواز اٹھائیں گے ۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا وژن یہی ہے کہ سب ساتھ آگے چلیں اور الائنس قائم رہے ، ہماری ایم کیو ایم سے بھی دوستی ہے ،ہماری ن لیگ سے بھی دوستی ہے ،جماعت اسلامی سے بھی کوئی دشمنی نہیں ہے، پی ٹی آئی سے الیکشن اتحاد مشکل ہے،دوستی کا مقصد یہ نہیں کہ حقوق پر سمجھوتہ کیا جائے، سراج الحق صاحب ایک بزرگ آدمی ہیں اور معزز ہیں ،سیاست میں دشمنیاں نہیں مقابلے ہوتے ہیں ،ہم نہ ہتھیار رکھتے ہیں نہ بدمعاشی کرتے ہیں نہ کسی سے ڈرتے ہیں ،اختیارات سب کو دئیے جا رہے ہیں، ندیم افضل چن کی بات کاعلم نہیں ،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنی شکست کو تسلیم کرے، الزام تراشی کرنا چھوڑ دے اور ساتھ مل کر کام کرنے پر غور کرے، پولیو مہم کو اجاگر کرنے کیلئے میڈیا حکومت کا ساتھ دے پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے، جو صرف عوام کیلئے سیاست کرتی ہے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان رونا رو رہے ہیں کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا ہے لوگوں کو دباؤ میں لاکر پی ٹی آئی میں لایا گیا عمران خان صاحب جیسی کرنی ویسی بھرنی انہوں نے ساڑھے 3 سال میں ملک کے لیے کچھ نہیں کیا عمران خان نے دنیا میں پاکستان کو بد نام کیا القادرٹرسٹ ہی آپ کی سزا کے لیے کافی ہے بینک رسید نکالی جائے، پیسے کہاں سے آئے اور کس نے دیے کیسز کے حقائق میڈیا پر آئیں گے تو لوگوں کو آپ کا پتہ چل جائے گاعدالت کا سب کو احترام کرنا چاہیئے

  • آزادی صحافت ہی جمہوریت اور انصاف کی بنیاد ہے،خالد مسعود سندھو

    آزادی صحافت ہی جمہوریت اور انصاف کی بنیاد ہے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے یومِ صحافت کے دن کے موقع پر صحافی برادری کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صحافتی برادری ریاست کے چوتھا ستون کی اہمیت رکھتی ہے اور ملک میں مظلوم کی آواز کو حاکم تک پہنچانے کا سب سے معتبر طریقہ آزادی صحافت ہے ، آزادی صحافت ہی جمہوریت اور انصاف کی بنیاد ہے اور انسانی حقوق کی جان ہے آزادی صحافت کے لئے صحافیوں کی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں لائق تحسین ہیں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ اس دن کے موقع پر ارشد شریف سمیت 167 صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے صحافتی خدمات سر انجام دیتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دیکر ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہیں جہاں آئے روز صحافیوں پر تشدد اور ان کو شہید کیا جاتا ہے آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت اور موثر انصاف کا تصور نا ممکن ہے، معاشرے کی اجتماعی اصلاح اور قوم کو اجتماعی شعور دینے میں میڈیا اور صحافیوں کا کردار ہمیشہ سے بہترین رہا ہے صحافت کے اس اہم کردار کے پیش نظر پاکستان مرکزی مسلم لیگ میڈیا کی مکمل آزادی پر نہ صرف یقین رکھتی ہے بلکہ اس مقصد کے لئے صحافیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اپنے دورِ حکومت میں صحافیوں کے لیے نٸی ہاٶسنگ سوساٸٹیوں و دیگر تمام سہولیات کو فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے تاکہ صحافی برادری کی معاشی پریشانیوں میں خاطر خواہ کمی ہو سکے

    ملک کی ترقی میں مزدوروں اور محنت کشوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے

    بہن بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں اپنے برابر کاشریک کریں 

    قرضے لیکر معیشت میں کبھی بھی استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا،

  • میڈیا کے سامنے عتیق ،اشرف کو قتل کرنیوالے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور

    میڈیا کے سامنے عتیق ،اشرف کو قتل کرنیوالے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارت میں دن دہاڑے میڈیا کے سامنے عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف کو قتل کرنیوالے ملزمان کو عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے

    ملزمان کو سخت سیکورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا تھا، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر تعینات تھی ، بدھ کی صبح تینوں ملزمان کو عدالت پرتاپ گڑھ جیل سے لا کر پیش کیا گیا، اس موقع پر عدالت کسی پولیس کیمپ کا منظر پیش کر رہی تھی ،یوپی پولیس کے ساتھ ساتھ آر اے ایف کو بھی تعینات کیا گیا تھا، ملزمان کو عدالت پیش کیا گیا تو پولیس نے ریمانڈ مانگا، عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کر دیا

    واضح رہے کہ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو 15 اپریل کی رات الہ آباد کے کولون ہسپتال کے باہرقتل کر دیا گیا تھا،دونوں بھائی اومیش پال قتل کیس میں گرفتارتھے اور انہیں طبی معائنے کے لئے ہسپتال لایا گیا تھا، عتیق اور اشرف ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے کہ صحافیوں کے بھیس میں آنے والے حملہ آوروں نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا، پولیس نے تینوں حملہ آوروں، لولیش تیواری، ارون کمار موریہ اور سنی کو موقع سے گرفتار کر لیا تھا

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    پلوامہ کے بعد گیلوان میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کا ذمہ دار کون؟ بھارتی صحافی نے سیاسی قیادت پر بڑا سوال اٹھا دیا

    بھارت کی پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں پاکستان کےخلاف سازش بے نقاب،بھارت نے جسکو مردہ کہا وہ پاکستان میں زندہ نکلا

  • الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق ملک کی سالمیت خود مختاری اور عدلیہ کی آزدی کے خلاف کوئی مواد شائع اور جاری نہیں کیا جائے گا ،انتخابی مہم کے دوران قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں خلل پیدا کرنے پر مبنی کو بیان شائع نہیں کیا جائے گا اخبارات ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا بھی اس کے پابند ہوں گے ،مذہب ،نسل ،جنس ،ذات برادری سمیت ذاتی حملوں سے گریز کیا جائے گا اس طرح کی کسی بھی شکایت پر قانونی کاروائی کی جائے گی ،میڈیا کو الیکشن مہم کے دوران پولنگ کے دن امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والے مواد سے اجتناب کرنا چاہیے ۔میڈیا سرکاری اخراجات سے چلنے والی سیاسی مہم کا حصہ نہ بنے ۔میڈیا ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار کے خلاف الزامات کی تصدیق کیلیے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے۔پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک میڈیا کو نتائج کی خبر دینے سے روک دیا گیا ۔میڈیا کے نمائندے الیکشن کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنیں گے ۔حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے میڈیا کے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنائیں۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    پنجاب میں انتخابات ، الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کردیا ،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق شیڈول جاری کیا،پنجاب میں پولنگ 14 مئی کو ہوگی ، ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 10 اپریل ہے ،الیکشن ٹربیونل 17 اپریل تک اپیلوں پر فیصلہ کرے گا،نوٹیفکیشن کے مطابق اپیلیٹ ٹریبونل اپیلوں پر فیصلے 17 اپریل تک کرے گا اور امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 18 اپریل کو جاری ہو گی کاغذات نامزدگی واپس لینےکی آخری تاریخ 19 اپریل ہوگی اور امیدواروں کو انتخابی نشانات 20 اپریل کو جاری ہوں گے

  • اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کیس،عدالت کا حکم جاری

    اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کیس،عدالت کا حکم جاری

    اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کے کیس میں بڑا حکم جاری کر دیا گیا،

    مقدمہ درج کرنے کی صحافیوں کی درخواست پر عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ پولیس صحافیوں کی درخواست پر جلد کاروائی کرے ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے صحافیوں کی درخواست پر الگ سے مقدمہ درج کرنے کی حمایت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پولیس کاروائی کرتے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے موقف کو مدنظر رکھے ،

    اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہکاروں کے خلاف اندراج مقدمہ کی صحافیوں کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ،صحافیوں کی جانب سے وکیل زاہد آصف عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،صحافی ثاقب بشیر ، ذیشان سید ، شاہ خالد ، ادریس عباسی نے درخواست دائر کر رکھی ہے ،ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر رضوان قاضی ، سیکرٹری حسین احمد چوہدری پیش ہوئے ،بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت میں کہا کہ صحافیوں کا وقوعہ الگ تھا پولیس کے خلاف الگ مقدمہ درج ہونا چاہیے ،پولیس شہریوں کی محافظ ہے قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کر سکتی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے پولیس کو کہتے ہیں اس درخواست پر قانون کے مطابق کاروائی کرے ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کا موقف بھی آگیا ہے پولیس نے اس کو بھی دیکھ کر کاروائی کرنی ہے ،

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ پہلے پولیس نے الگ سے ایف آئی آر درج کرنی ہے تفتیش کا عمل بعد کا ہے ، بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جس کا جو کردار ہے پولیس اس متعلق رپورٹ دے سکتی ہے ،جب وقوعہ مکمل مختلف ہے تو پولیس ایف آئی آر کیوں درج نہیں کر رہی ؟ وکیل زاہد آصف نے کہا کہ جسٹس آف پیس نے ہمارا موقف تسلیم کیا ہے پولیس نے بھی اعتراف کیا ہے ، جب وقوعہ مکمل الگ ہے تو اس پر الگ مقدمہ درج ہونا ہے ، عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق جلد کاروائی کا حکم دے کر درخواست نمٹا دی

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     کیا عمران خان کی گرفتاری کا امکان ہے؟

  • مودی سرکار جمہوری اقدار اور صحافت کا دشمن،نیویاک ٹائمز نے دکھایا آئینہ

    مودی سرکار جمہوری اقدار اور صحافت کا دشمن،نیویاک ٹائمز نے دکھایا آئینہ

    مُودی سرکار جمہوری اقدار اور صحافت کا بد ترین دُشمن ،نیو یارک ٹائمز نے ایک بار پھر مُودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا

    66سالہ پرانا اخبار مُودی کی انا کی بھینٹ چڑھ گیا، بند ہوگیا،صرف اس سال بھارت میں انسانی حقوق اور گرتے صحافتی معیار پر نیو یارک ٹائمز کا گیارہواں اداریہ سامنے آیا ہے 2019میں کشمیر ٹائمز نے انٹرنیٹ بندش پر مُودی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی مودی حکومت نے اپنے خلاف درخواست پر انتقاما اخبار ہی بند کروا دیا،نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ مُودی نے ہندوستان میں عدم برداشت اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کو عام کیا مُودی پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو انکم ٹیکس چھپانے کے الزام میں دھمکایا جاتاہے مُودی پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو دہشتگردی یا علیحدگی پسندی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں،اشتہارات اور فنڈز کی آڑ میں اخبارات کو من پسند خبریں شائع کرنے کیلئے بلیک میل کیا جاتا ہے،اقتدار سنبھا لنے مُودی منظم طریقے سے عدالتوں اور سرکار ی مشینری کو کنٹرول کر تا رہاہے

    نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ مُودی کی آمریت کی راہ میں اب صرف بچا کچھا میڈیا کھڑا ہے،پابندیوں سے بچنے اور معاشی فوائد کی خاطر بھارتی میڈیا مُودی کا ترجمان بنا ہوا ہے بی بی سی کی مُودی مخالف سیریز کی نشریات روکنا اور انکم ٹیکس کی آڑ میں دفاتر پر حملے صحافتی آوازکو دبانے کے ہتھکنڈے ہیں

    گلف نیوز کے ایڈیٹر کو بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

  • کپڑوں پر تبصرہ کرنا ہے تو اپنی گرل فرینڈ اور ماں بہن کے گھر پر جا کر کرو، عرفی جاوید میڈیا پر برس پڑی

    کپڑوں پر تبصرہ کرنا ہے تو اپنی گرل فرینڈ اور ماں بہن کے گھر پر جا کر کرو، عرفی جاوید میڈیا پر برس پڑی

    عرفی جاوید جو کہ بولڈ کپڑے پہننے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتی ہیں. حال ہی میں انہوں نےایک ایونٹ میں بطور مہمان شرکت کی وہاں انکے کپڑوں پر کافی جملے کسے گئے ، پہلے تو عرفی چپ رہیں لیکن ان کی برداشت کا پیمانہ آخر کار لبریز ہو ہی گیا اور وہ میڈیا پر برس پڑیں. عرفی جاوید میڈیا کو پوز دے رہی تھیں کہ ان کے کپڑوں پر الٹے سیدھے تبصرے ہونے لگے ان سے اسی حوالے سے سوال بھی ہونے لگے یہ چیز نا پسند آئی عرفی کو انہوں‌ نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں تم لوگوں‌ کی باتیں سننے نہیں آئی ہوں تمہیں اگر کپڑوں پر تبصرہ کرنا ہی ہے تو اپنی گرل فرینڈ اور ماں بہن کے گھر پر جاکے کرو۔ میرے کپڑوں پر کوئی تبصرہ نہیں

    کرے گا۔اب آپ میں سے کسی کی طرف سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں‌ہونی چاہیے. میں آپ لوگوں‌کو بہت زیادہ عزت دیتی ہوں اور یہی عزت مجھے واپس بھی ملتی ہے لیکن اس طرح‌سے میرے کپڑوں پر تبصرہ کرنے کا کسی کو حق نہ ہے نہ میں دوں گی. یاد رہے کہ عرفی جاوید شیشے کے ٹکڑوں سے لے کر رسیوں تک اپنے مختلف انداز کے لباس کے لیے جانی جاتی ہیں، عرفی بولڈ ضرور ہیں لیکن ان کے کپڑوں‌ پر کوئی رتی برابر بھی تبصرہ کرتا ہے تو وہ اسکو دھو ڈالتی ہیں.

  • حکومت میڈیا کی مکمل آزادی پر یقین رکھتی ہے،وفاقی وزیر

    حکومت میڈیا کی مکمل آزادی پر یقین رکھتی ہے،وفاقی وزیر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اونگزیب نے کہا ہے کہ حکومت میڈیا کی مکمل آزادی پر یقین رکھتی ہے-

    باغی ٹی وی : سی پی این ای کے صدر کاظم خان کی قیادت میں عہدیداران کے ایک وفد نے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اونگزیب سے ملاقات کی سی پی این ای کےوفد میں صدر کاظم خان، سینئر نائب صدر ایاز خان، نائب صدر سردار خان نیازی، جوائنٹ سیکریٹریز طاہر فاروق اور شکیل احمد ترابی شامل تھے۔

    دوران ملاقات وفاقی وزیر نے کہا کہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے مطالبے پر اخبارات کے اشتہارات کے نرخ میں 25 فیصد اضافے کی سمری وزیراعظم کو بھجوا رہے ہیں جبکہ نیوز ایجنسیوں کےفنڈز کی بحالی کےلئے بھی وزارت خزانہ کو سمری بھجوا دی ہے-

    مریم اورنگزیب نےکہا کہ سی پی این ای کے مطالبہ پر اخبارات و جرائد کے اشتہارات کے ریٹس میں 25 فیصد اضافہ کی سمری وزیر اعظم کو بھجوا رہے ہیں جس پرحتمی فیصلےکا اختیاروزیر اعظم کا ہےوہ اس میں کمی بھی کرسکتے ہیں 85/15 ادائیگیوں کا ایک شفاف فارمولا ہے جسے حکومت جاری رکھے گی، جو اخبارات و جرائد ہر ماہ کی 25 تایخ تک اپنے کلیم جمع نہیں کروائیں گے انہیں ادائیگیاں نہیں کی جائیں گی۔

    اس موقع پر صدر کاظم خان نے پرنٹ میڈیا اور سی پی این ای کے اراکین کے دیرینہ مطالبات منظور کرنے پر مریم اورنگزیب کا شکریہ ادا کیا اور اخبارات و جرائد کے دیرینہ واجبات کی فوری ادائیگیوں کا مطالبہ بھی کیا۔