Baaghi TV

Tag: میڈیا

  • اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار،مریم اورنگزیب

    اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار،مریم اورنگزیب

    اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار،مریم اورنگزیب

    سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، کمیٹی کے ارکان، وزارت اطلاعات کے حکام نے شرکت کی، قائمہ کمیٹی نے مریم اورنگزیب کو وفاقی وزیر اطلاعات کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔وزارت اطلاعات کے حکام نے ”ڈیجیٹل ریڈیو مائیگریشن” پراجیکٹ کے بارے میں کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اداروں میں وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہے،آزادی اظہار رائے پر کسی قسم کی قدغن کے حق میں نہیں ہیں، اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار،ہم آزادی اظہار رائے پر کامل یقین رکھتے ہیں، ملک میں فیک نیوز کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے فیک نیوز چلائی گئیں، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب بھی اپنے تمام بیرونی دوروں کے اخراجات خود برداشت کئے تھے، وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب بھی ذاتی خرچ پر ہے، وزیراعظم کے ہمراہ جو لوگ جائیں گے وہ بھی ذاتی خرچے پر جا رہے ہیں، جب بھی کوئی وزیراعظم ملک سے باہر جاتا ہے تو دفتر خارجہ جہاز کو اسٹینڈ بائی کیلئے خط لکھتا ہے، یہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بھی ہوتا رہا ہے میں نے کل اپنی پریس کانفرنس میں بھی کلیئر کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب پر ان کے ہمراہ سب لوگ اپنے ذاتی خرچ پر جائیں گے ،وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب میں وفد کے ارکان کی تعداد پچھلے تمام دوروں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے،وزیراعظم کے وفد میں صرف 13 ارکان شامل ہوں گے،

    کمیٹی کے اجلاس میں مختلف ٹی وی چینلز کی ٹرانسمیشن بند ہونے اور پیمرا کی جانب سے نوٹسز کے اجراء کے حوالے سے معاملات پر چیئرمین پیمرا نے بریفنگ دی ،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ پیمرا نے کسی بھی چینل کو بند کرنے کی ہدایات جاری نہیں کیں، اے آر وائی کی نشریات پی ٹی سی ایل سمارٹ ٹی وی پر بند نہیں کی گئیں،جس دن خبر چلی کہ پی ٹی سی ایل پر اے آر وائی کی نشریات بند ہے، اسی وقت پی ٹی سی ایل حکام سے رابطہ کیا، اے آر وائی کی نشریات کسی بھی جگہ بند نہیں کی گئی، اے آر وائی انتظامیہ سے ان کیبل آپریٹرز کے نام پوچھے ہیں جنہوں نے اے آر وائی کی نشریات بند کیں لیکن ابھی تک نشریات بند ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا،اے آر وائی ثبوت فراہم کرے، ہم ایکشن لیں گے، میں نے اسی وقت چیک کیا، میرے گھر پر بھی اے آر وائی کی نشریات کیبل پر آ رہی تھیں، چینل کی نشریات ہر جگہ چل رہی تھیں،

    کمیٹی نے اے آر وائی کو جن علاقوں میں نشریات بند ہوئی، کی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کر دی، چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اگر اے آر وائی رپورٹ دیتا ہے تو نشریات بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کے خلاف ایکشن لیا جائے گا،قائمہ کمیٹی کو وزارت اطلاعات کے انٹرنل پبلسٹی ونگ (آئی پی ونگ) کے سٹرکچر اور امور کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اتھارٹی بننے سے ہی حقوق کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟ فیصل جاوید صحافیوں کے حق میں بول پڑے

    فنکاروں کو رائلٹی دینے کے متعلق پالیسی، سیینٹر فیصل جاوید خاموش نہ رہ سکے

  • آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب
    وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب سے میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے قانون سازی کرنے پر اتفاق کیا گیا ،فیصلہ کیا گیا کہ پیمرا قانون میں مشاورت سے قانون سازی کی جائے گی، پیمرا قانون میں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے شق شامل کی جائے گی،فیک نیوز سے قومی سلامتی مفادات، عوام کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کا تدارک ہوگا

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،چار سال میں ملک کی معیشت کی طرح میڈیا کو بھی مالی طور پر تباہ کیا گیا،صحافیوں کی معاشی تباہی کا احساس ہے، نقصانات کا ازالہ کرنے کے خواہاں ہیں،ملک کی معاشی تباہی کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں،اداروں، عدلیہ، میڈیا پر کیچڑ اچھالنے والوں کو سپیس نہ دی جائے،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ اطلاع ہے کہ کچھ فائلیں غائب کی گئی ہیں،عوام نے فیصلہ کرنا ہے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والوں کا یا ترقی کا ساتھ دینا ہے، پاکستان کی معیشت تباہ کرنے والے معاشی دہشت گردوں نے اپنے دور میں اقتصادی اشاریوں پر بھی جھوٹ بولا یہ جھوٹے ہیں، ان کا مقصد ہی جھوٹ بولنا ہے یہ ملک میں مہنگائی، قرضوں، بے روزگاری سمیت خراب خارجہ پالیسی کے ذمہ دار ہیں،

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ عارف علوی صدر بنیں، عمران خان کے غلام نہ بنیں اگر صدر کے عہدے کا خیال نہیں ہے تو استفیٰ دیں صدر مملکت کا عہدہ آئینی منصب ہے سیاسی نہیں آئین پر عمل کے وقت صدر، گورنر اور پی ٹی آئی بیمار پڑ جاتی ہے لاہورہائیکورٹ کے حکم کی مسلسل توہین کی جارہی ہے 21دن سے پنجاب وزیراعلیٰ اور کابینہ کے بغیر چل رہاہے

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    حکومت دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

  • ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے عہدے کا چارج لے لیا

    وزارت اطلاعات میں اپنے دفتر آمد پر سیکرٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد سمیت وزارت کے دیگر اعلی ٰافسران نے وزیر اطلاعات و نشریات کا پرتپاک خیرمقدم کیا انہیں وزارت کے امور کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی ،مریم اورنگزیب نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آزادی اظہار رائے پر کامل یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ہائوسز، تنظیموں اور صحافتی برادری کی بہبود کیلئے تمام ممکن اقدامات اٹھائیں گے

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ملکی ترقی اور حکومت کے اہم ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینے کیلئے وزارت اطلاعات ونشریات کا کردار اہمیت کا حامل ہے،ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کے فروغ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے پی ٹی وی اور اے پی پی سمیت وزارت کے تمام اہم اداروں پر اس وقت ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال میں عوام کو درست معلومات کی فراہمی کیلئے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے،وزارت اطلاعات کے عوام کو مستند معلومات اور خبروں کی فراہمی میں اہم کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اس توقع کا اظہار کیا کہ وزارت اطلاعات کے تمام ادارے عوامی مفاد کے پیش نظر اپنے پیشہ وارانہ امور کو بہتر انداز میں انجام دیں گے۔ وزارت اطلاعات اور میڈیا اداروں کے درمیان روابط کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات، ایم ڈی پی ٹی وی اور ایم ڈی اے پی پی سمیت وزارت کے دیگر اعلی ٰ افسران بھی موجود تھے

    بعد ازاں مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس عہدے کے ساتھ کافی بھاری ذمہ داری بھی ملتی ہے، پارٹی نے مجھے بہت اہم ذمہ داری سونپی ہے، سابقہ دور حکومت میں میڈیا ورکرز کے ساتھ جو کچھ ہوا سب نے دیکھا،تمام صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتی ہوں،آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد کی گئی، صحافیوں کو اغوا کیا گیا اور گولیاں ماری گئیں،کئی صحافیوں کے تو پروگرام بھی بند کرا دیئے گئے،پی ایم ڈی آر اے کا کالا قانون لانے کی کوشش کی جا رہی تھی پی ایم ڈی آر اے کو ختم کیا جا رہا ہے،ایسا کوئی کالا قانون نہیں لایا جائے گا آزادی اظہار رائے پر کسی بھی طرح کی پابندی عائد نہیں کی جائیگی،سابقہ حکومت نے پیکا ایکٹ 2016 میں بھی ترمیم لانے کی کوشش کی،پیکا ایکٹ 2016 پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نظرثانی کرینگے، دیکھیں گے کس طرح پیکا کا ناجائز استعمال کر کے اسے صحافیوں کیخلاف استعمال کیا گیا، سابقہ دور میں آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی ہوتی رہی

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا گیا، ملک میں جاری یہ انتشار اب بند ہونا چاہیے، کسی بے گناہ کو جیل میں نہیں ڈالیں گے، ہم نے کوئی چوری نہیں چھپانی، قانون اپنا راستہ ضرور بنائے گا،جو غلط کام کا مرتکب پایا گیا اسے سزا ضرور ملے گی،ہم تنقید کو دل سے قبول کریں گے،بہتری اور رہنمائی کیلئے تنقید کریں،شہباز شریف کا فوکس صرف پاکستان کے عوام پر ہے شہباز شریف کہتے ہیں کام ، کام اور صرف کام،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بوٹ ٹویٹس کی چھان بین جاری ہے،بوٹ ٹویٹس کے ٹوئٹر ہینڈلر بھی ہمارے پاس آ چکے ہیں،فوج اور عدالت کیخلاف منظم طریقے سے روبوٹ اکاؤنٹس کے ذریعے مہم چلائی جا رہی ہے،کسی صحافی کے گھر کا گھیراؤ ہوا تو اس کی حفاظت وزارت اطلاعات کریگی،اس حوالے سے سیکیورٹی اور پولیس کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جس کسی نے بھی صحافی کے گھر کا گھیراؤ کیا اور اسے سخت سزا دی جائیگی ،ہماری حکومت الزامات نہیں لگائے گی، جہاں جرم ہو گا قانون اپنا راستہ خود بنائے گا،عوام دیکھ رہی ہے پنجاب میں آئینی عہدے کا کس طرح سیاسی استعمال کیا جا رہا ہے، صدر مملکت حلف کی پاسداری نہیں کرسکتے تو مستعفی ہوجائیں، گورنر کو آئینی طریقے سے عہدے سے ہٹایا گیا، انہیں گھر چلے جانا چاہیے، عارف علوی بھول گئے ہیں کہ وہ صدر پی ٹی آئی نہیں صدر پاکستان ہیں،عارف علوی کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہو رہا،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ کوئی چینل بند نہیں کیا جائے گا، سابقہ دور حکومت میں ڈیجیٹل میڈیا ونگ بنایا گیا،ڈیجیٹل میڈیا ونگ کو ختم کردیا ہے وزیراعظم شہبازشریف ایک دو روز میں قوم سے خطاب کرینگے، میڈیا حکومت کےاحتساب میں اہم کردارادا کرتاہے،

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    عمران خان کا دور اقتدار،دعوے کیا کئے؟ کام کیا کیا؟ کیا ہو گا خان کا بھی احتساب؟

    عمران خان کا ٹویٹر سپیس پر عوام سے مخاطب ہونے کا فیصلہ

  • شہبازشریف”ٹائی شائی”لگاکرمیڈیا کےذریعےحکومت کرنےلگے:مرضی کےسوالات مرضی کےجوابات

    شہبازشریف”ٹائی شائی”لگاکرمیڈیا کےذریعےحکومت کرنےلگے:مرضی کےسوالات مرضی کےجوابات

    اسلام آباد :شہبازشریف میڈیا کے ذریعے حکومت کرنے لگے:مرضی کے سوالات مرضی کے جوابات ،اطلاعات کے مطابق اس وقت اپوزیشن اتحاد کے مرکزی کھلاڑی اور اپوزیش لیڈر شہبازشریف نے میڈیا کریسی کے ذریعے عوامی توجہ حاصل کرنے اور عوام کو تاثردینےکےلیے ایک خودساختہ گفت وشنید کا سلسلہ شروع کردیا ہے

    اس حوالے سے شہبازشریف جہاں محتلف مقامات پر مختلف صحافیوں سے وہ سوال پوچھتے ہیں جو ان کو پوچھنے کے لیے کہا جاتا ہے ، اور یوں پھراس سوال کا جواب بھی ان کے پاس پہلے ہی تیار ہوتا ہے ، یہ سلسلہ اس وقت ساری اپوزیشن کا ہے اور اس حوالے سے بڑے بڑے میڈیا گروپس بھی عمران خان کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں

    اطلاعات ہیں کہ یہ سلسلہ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ شروع کیا گیا ہے اور اس میں پہلے بلاول بھٹو کو لایا گیا اور اب شہبازشریف کو پیش کیا جائے گا ، جس میں عوام کو ایک ایسا تاثر دیا جائے گا کہ شاید یہ حکومت اب نہیں رہے گی ،حالانکہ حالات اور معاملات ان کی خواہشات کے برخلاف ہیں‌

    یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف کسی موقع پر یہ گفتگو کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کریں‌ کہ وہ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ چل سکتے ہیں اور پھران کو سبزباغ دکھانے کی کوشش کریں ، لیکن شاید شہبازشریف چوہدریوں کی دانشمندی کے قریب سے بھی نہیں گزرے ہوں

    شہبازشریف حکومت کی ناکامیوں کا ذکر تو کریں لیکن اپنی ترجیحات پیش نہ کرسکیں ، یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف قومی حکومت کا خواب اس طرح بیان کریں کہ سُننے والے اور دیکھنے والے یہ خیال کریں‌کہ شاید واقعی حکومت جارہی ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا ، یہ صرف ایک کیمرے کے سامنے دن کی روشنی میں آنکھوں اور سننے والوں کے لیے دھوکے سے کم نہ ہو

    یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف سینیٹ کے چیئرمین ، بلوچستان کے وزیراعلیٰ ، اسپیکرقومی اسمبلی اور صدر مملکت سمیت سب کو بھگانے کا منصوبہ پیش کریں لیکن یہ شیخ چلی والے خواب سے کم نہ ہوگا

    یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف یہ تاثر دینے کی کوشش کریں‌کہ شاید کے مقتدر ادارے ان کے ساتھ ہیں لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ عمران خان اداروں کی ضرورت نہیں ، عمران خان عالم اسلام اور خطے کے پانچ بڑے اتحادی ملکوں ،چین ، روس، ترکی، سعودی عرب اور افغانستان کی ضرورت ہیں

    یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف آج یا کل کسی بڑے صحافی کے سامنے بیٹھنے سے پہلے کچھ سوالات بھیج دیں اور پھران کی تیاری کرکے ایسے تاثر دیں کہ شاید اگلے چند گھنٹوں میں عمران خان کی حکومت نہیں رہے گی ، یہ بھی ہتھیار کارگر نہیں ہوگا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میڈیا کریسی کے ذریعے جو حالات پیدا کیے جارہے ہیں کل کو ان سوالات کے جوابات بھی ان سے لیے جائیں جوآج ان سوالات کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتےہیں اور اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں‌

  • پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم ،پی ایف یو جے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم ،پی ایف یو جے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم ،پی ایف یو جے عدالت پہنچ گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ایف یو جے کی پیکا قانون میں ترمیم کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کل بدھ کو کیس کی سماعت کریں گے ،پی ایف یو جے نے پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردی ،پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی اور سیکرٹری جنرل رانا عظیم کی ہدایت پر رضوان قاضی نے وکیل عادل عزیز قاضی کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ اجلاس کے ایک دن بعد حکومت نے پیکا قوانین میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کی،حکومت نے ڈرافٹ پہلے ہی تیار کرلیا تھا، قانون سازی سے بچنے کیلئے سیشن ختم ہونے کا انتظار کیا،آئین جمہوری اقدار کو فروغ دینے کا مطالبہ کرتا ہے، آئین میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے حکومت میں میڈیا کو بند کیا جا رہا ہے، صحافیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں نیا ترمیمی آرڈیننس تنقید کی حوصلہ شکنی کیلئے ہے،پیکا قانون میں ترمیم کے آرڈیننس کے اجرا کیلئے کوئی ہنگامی صورتحال پیدا نہیں تھی، پیکا قانون میں ترمیم کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جا سکتا تھا،حکومت کی جانب سے جلد بازی انکے مذموم مقاصد ظاہر کرتی ہے،پیکا قانون میں یہ ترمیم حکومت کی مخالفین کو شکست دینے کی ایک کوشش ہے،پیکا قانون اور ترمیم کو آئین اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا جائے،

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”466652″ /]

    دوسری جانب پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا پیکا ترمیمی آرڈیننس کو چودھری سعید ظفر ایڈووکیٹ نے چیلنج کیا درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے لایا گیا حکومت پیکا ترمیمی آرڈیننس لا کر مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے عدالت پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022کو کالعد م قرار دے

    قبل ازیں پیپلز پارٹی الیکشن ایکٹ اور پیکا قانون میں ترامیم لاکر عوام کو خاموش کرانے کے حکومتی سازش کی بھر پور مخالفت کرتی ہے،پی پی رہنما شازیہ مری کہتی ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم آئندہ انتخابات میں دھاندھلی کا ایک نیا منصوبہ ہے،حکومت کو اپنی نااہلی اور ناکامی واضح طور پر نظر آ رہی ہے اس لئے اب ذاتی مفادات کے لئے قانون ہی تبدیل کیا جا رہا ہے،حکومت کو غیر قانونی اقدامات کے ذریعے انتخابات چوری کرنے نہیں دیں گے،شازیہ مری نے مزید کہا کہ عوام کو نا گھبرانے کا مشورہ دینے والی حکومت اب خود کیوں گھبرا رہی ہے؟پیکا قانون کے تحت عام لوگوں کی آواز کو دبانا غیر جمہوری عمل اور عام شہری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے،

    قبل ازیں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس حکومت کا آزادی اظہارپر پابندی کا فاشسٹ ہتھکنڈا ہے۔ حکمران چاہتے ہیں کہ عوام بھیڑ بکریاں بن کر رہیں، کوئی اس پر تنقید نہ کرے۔ میڈیا پر قدغنوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں، جابرانہ طرزِ حکومت کسی صورت قبول نہیں جماعت اسلامی ہر سطح پر میڈیا کی آزادی کے لیے جدوجہدکرے گی۔ حکمرانوں کو تنقید برداشت نہیں تو گھر چلے جائیں۔ حکومت نے ایوانِ صدر کو آرڈیننسز کی فیکٹری میں تبدیل کر دیا۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 181میں ترمیم کو مسترد کرتے ہیں۔پی ٹی آئی آئندہ الیکشن کو چرانے کے لیے تمام حربے استعمال کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے ای وی ایم کے ذریعے الیکٹرانک دھاندلی کی بنیاد رکھی۔عوام اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھیں اور جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔

    فیک نیوز،جھوٹی خبروں پرپابندی کا قانون:آزادی رائے کے اظہارپرپابندی ہے:مریم نوازآرڈیننس پرسخت برہم 

    پینڈورہ پیپرز،فیک نیوز کیخلاف قانون سازی کرنیوالے حکومتی اراکین فیک نیوز پھیلاتے رہے

    فیک نیوز کیخلاف قوانین سخت ہوگئے تو عمران خان تقریر کرنی ہی بھول جائے گا،مائزہ حمید

    جہانگیر ترین کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

    لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شریف فیملی کو دیا ایک ساتھ بڑا جھٹکا

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    اکیسویں صدی،سوشل میڈیا کا ٹائم،کوئی بند نہیں کر سکتا،عمران خان کی 2017 کی ویڈیو وائرل

  • سال 2022 کی سونے کی سب سے بڑی ڈکیتی کی دلچسپ کہانی

    سال 2022 کی سونے کی سب سے بڑی ڈکیتی کی دلچسپ کہانی

    کراچی :سال 2022 کی سونے کی سب سے بڑی ڈکیتی کی دلچسپ کہانی،اطلاعات کے مطابق ایس آئی یو نے سال 2022 کی سونے کی سب سے بڑی ڈکیتی ٹریس کرکے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا، ان ملزموں کو کیسے گرفتار کیا اس کا کریڈٹ بھی سیکورٹی اداروں کو جاتا ہے

    کہا جاتا ہے کہ مورخہ 2022۔01۔03 کوتھانہ فیروز آباد کی حدود میں MF جیولرز کا ایک کلو سے زائد سونا جس کی مالیت تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے تھی لوٹ لیا گیا تھا۔

    رضوان نامی ایک جیولرز نے اپنے شریک ملزمان کو انفارمیشن دی کہ MF جیولرز کی دوکان کا سونا ان کے دو ملازمان لے کر جائیں گے اس انفارمیشن پر آٹھ ملزمان نے موٹر سائیکلوں پر سونا لیکر جانے والے ملازمان کا پیچھا کیا اور شاہراہ فیصل سے سندھی مسلم سوسائٹی کی طرف جانے والے راستے میں دوسرے جمپ پر روک کر اسلحہ کے زور پر سارا سونا لوٹ لیا اور فرار ہوگئے

    افسران بالا کی طرف سے SIU کو یہ کیس حل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ایس آئی یو نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے لوٹے ہوئے تین عدد گولڈ بسکٹ وزنی 30 تولہ اور تین عدد پستولیں برآمد کرلیں۔

    گرفتار ملزمان میں 1. سید رضوان علی 2. محمد دانیال اور 3. محمد ذیشان شامل تھے ،جبکہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔گرفتار ملزمان قبل ازیں ایک قتل، 03 پولیس مقابلہ، 10 ڈکیتی سمیت چوری، منشیات اور ناجائز اسلحہ کے 26 مقدمات میں گرفتار ہو چکے ہیں. گرفتار ملزمان کے خلاف ناجائز اسلحہ کی برآمدگی پر تھانہ ایس آئی یو میں تین مقدمات درج کر لیے گئے ہیں. ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے

  • مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    نئی دہلی :سب سے پہلےہندوستان:مودی نے میڈیا پرشکنجہ کس دیا:اب کون کرے گا مودی کی مذمت:شریف برادران یا قوم کا ہمدرد میڈیا ،مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے ایک نئی اور سخت پالیسی بنائی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی صحافی کا رویہ بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کے منافی ہو یا اس کی تحریروں سے سکیورٹی، دیگر ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، اخلاقیات یا شائستگی کو نقصان پہنچتا ہو، یا وہ توہین عدالت، کسی کی توہین یا جرم کو بھڑکانے کا سبب بنتی ہوں، توایسے صحافی ایکریڈیٹیشن سے محروم کر دیا جائے گا ۔

    حکومت نے دس ایسے نکات بتائے ہیں، جن کی بنیاد پر صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن معطل کی جاسکتی ہے۔ ان میں کسی صحافی پر ”سنگین قابل سزا جرم” کا الزام عائد کیا جانا بھی شامل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے لیے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس یا وزیٹنگ کارڈز وغیرہ پر ‘بھارتی حکومت سے تسلیم شدہ’ لکھنا بھی ممنوع ہو گا۔ ماضی میں کسی صحافی کی ایکریڈیٹیشن کے وقت ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی جاتی تھی۔

    نئی شرائط کا مقصد صحافیوں پر کنٹرول

    ایکریڈیٹڈ صحافیوں کو وفاقی حکومت کے تقریباً تمام سرکاری محکموں اور دفاتر تک آسانی سے رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کارڈ کی بدولت انہیں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ بھارتی صدر اور وزیر اعظم کے بعض پروگرامو ں میں شرکت کے لیے بھی یہ ‘پریس کارڈ’ ضروری ہوتا ہے۔ اسے عرف عام میں ‘پی آئی بی کارڈ’ کہا جاتا ہے۔

    صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی کارڈ کے لیے نئے ضابطوں کے اعلان پر سخت تنقید کی ہے اور حکومتی طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور نے کہاکہ یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے اور حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل صحافیوں کی کسی تنظیم سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔

    ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور اور بھارتی صحافی اور پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا بھی سنجے کپور کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دراصل حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے صحافیوں کو الگ تھلگ کر دینے کی کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب کون مودی کی ان حرکتوں پر مودی کی مذمت کرے گا صحافیوں کے پیشے کا امتحان ہے

    بھارتی پریس قوانین کے مطابق کسی صحافی کو پی آئی بی کارڈ جاری کرنے سے قبل ایک کمیٹی اس کے جملہ کوائف کا جائزہ لیتی ہے، اس کے بعد پولیس کی خفیہ شاخ اس صحافی سے متعلق رپورٹ دیتی ہے اور کئی مراحل کی تکمیل کے بعد ہی یہ کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے کہ جو نئی کمیٹی بنائی گئی ہے، اس میں سرکاری عہدیداروں کی تعداد غیر ضروری حد تک بڑھا دی گئی ہے۔

    پی آئی بی ایکریڈیٹڈ صحافیوں کی تنظیم پریس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر سی کے نائیک نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ پہلے کمیٹی میں زیادہ سے زیادہ 12سرکاری عہدیدار ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کی تعداد بڑھا کر 18 کر دی گئی ہے جب کہ میڈیا اداروں سے وابستہ ارکان کی تعداد 12سے گھٹا کر چھ کر دی گئی ہے۔

    پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کے نمائندے اب اقلیت میں ہو گئے ہیں اور چونکہ ایکریڈیٹیشن کا کوئی بھی فیصلہ اکثریتی رائے سے ہوتا ہے، اس لیے اب حکومت اپنی من مانی کر سکتی ہے۔

    سنجے کپور کہتے ہیں کہ یہ واضح طور پر پریس کی آزادی پر حملہ ہے، ”یوں بھی اس وقت بھارت میں پریس کی آزادی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ حکومت نے پریس کی آزادی کے حوالے سے اپنے بیانیے گڑھ لیے ہیں۔ اب حکومت ہی طے کرتی ہے کہ پریس فریڈم کیا ہے؟ اس کا پریس کی آزادی کے حوالے سے مسلمہ عالمی اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

    رپورٹرز وِدآوٹ بارڈرز کے سالانہ پریس فریڈم انڈکس کے مطابق بھارت پریس کی آزادی کی رینکنگ کے لحاظ سے نیپال، سری لنکا اور میانمار (فوجی انقلاب سے قبل) سے بھی نیچے اور پاکستان (145ویں مقام پر) سے کچھ ہی آگے ہے۔ بھارت گزشتہ برس دو درجے مزید نیچے گر کر180ملکوں کی فہرست میں 142ویں پوزیشن پر آ گیا تھا۔ اس انڈکس کے مطابق بھارت دنیا میں صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک مقامات میں سے ایک ہے۔

    مودی حکومت تاہم اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتی۔ وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے اس رپورٹ کے حوالے سے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت تمام شہریوں بشمول صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ کو ‘انتہائی اہمیت’ دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کا طریقہ کار درست نہیں اور اس میں بنیادی حقائق کا خیال نہیں رکھا گیا۔

    پی آئی بی کارڈ کیا ہے؟

    بھارت میں حکومتی پالیسیوں، پروگراموں اور معلومات کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک ترسیل کا کام اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ماتحت ادارے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے ذمے ہے۔ یہ ادارہ روزناموں، ہفت روزہ یا پندرہ روزہ میگزینز، خبر رساں اداروں، غیر ملکی نیوز اداروں، ٹی وی چینلوں، نیوز ایجنسیوں اور بھارتی ٹی وی نیوز چینلوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو ان کے اداروں کی جسامت کی بنیاد پر پی آئی بی کارڈ یا ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کرتا ہے۔

    ایسے میڈیا اداروں کے علاوہ یہ کارڈ ایسے صحافیوں کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے، جنہیں کم از کم 15برس تک صحافت کا تجربہ ہو۔ 30 برس سے زیادہ تجربہ رکھنے والے یا 65 برس سے زائد عمر کے صحافیوں کو بھی ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے پی آئی بی کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔

    بھارت میں اس وقت تقریباً ڈھائی ہزار صحافیوں کے پاس یہ کارڈ ہے لیکن ان میں ایک بڑی تعداد مختلف وزارتوں کے ان سرکاری اہلکاروں کی بھی ہے، جو میڈیا سے رابطوں کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے حکومت کی نئی پالیسی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

  • میڈیا،صحافیوں اورشخصیات کیخلاف مریم نوازکاپراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا

    میڈیا،صحافیوں اورشخصیات کیخلاف مریم نوازکاپراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا

    اسلام آباد:میڈیا ،صحافیوں اورمحترم شخصیات کےخلاف مریم نوازکا پراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق مریم نواز کی مبینہ آڈیو کا معاملہ اس قدر حساس ہوگیا ہے کہ اب توہرصحافی اوراینکرپرسن مریم نواز کی سازشوں سے خوف کھانے لگا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صحافیوں نے مریم نواز کی سازشوں سے بچنے اورمحفوظ رہنے کے لیے ہاتھ پاوں مارنے شروع کردیئے ہیں‌

    اس حوالے سے اسلام آباد سے اہم خبریں آرہی ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا کے دیگربڑے بڑے ناموں‌ کومریم نواز کی پراکسی سے بچانے کے لیے پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے آگے بڑھ کرکچھ کرنے کا عزم کیا ہے ، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عالیہ حمزہ نے مریم نواز کی سازشوں سے بچنے کےلیے چیئرمین پیمرا کو خط بھی لکھ دیاہے

    عالیہ حمزہ نے چیئرمین پیمرا کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ خدا را مریم صفدر کے خلاف کاروائی کریں ورنہ یہ بہت نقصان کرے گی

    عالیہ حمزہ نے خط میں‌ یہ بھی یاد دلوایا ہے کہ میں پہلے بھی دو خطوط لکھ چکی، جن کا تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔ عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌کہ ایک بار پھر آپ کی توجہ مریم صفدر کی پےدر پے آنیوالی آڈیوز سے متعلق لکھ رہی ہوں‌

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں کہ جناب چیئرمین اس طرح‌ تو دنیا میں‌ کہں بھی ہوتا جس طرح مریم نواز اپنی گینگ کے ساتھ مل کرکررہی ہیں‌، عالیہ کہتی ہیں‌کہ مریم نواز کی آڈیو لیک آزاد میڈیا کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ مریم صفدر مبینہ آڈیو میں سینئر صحافی حسن نثاراور ارشاد بھٹی پر الزامات لگارہی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے بڑے دکھ کے ساتھ چیئرمین پیمرا کو یہ بھی بتایا کہ جناب ! مریم صفدر نےسینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبات کلمات بھی کہے ، ان کی توہین کی ، ان کی کردار کُشی کی لیکن مہذب اور جمہوری ہونے والوں میں سے کسی نے مریم نواز کے اس رویے کی مذمت تک نہ کی

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ لیکڈ آڈیو میں مریم نواز اور پرویز رشید نےصحافیوں کو بھونکنے والے کتے قرار دیا۔ مبینہ آڈیو میں پرویز رشید،مریم صفدر کو جیو گروپ کو ہدایات دینے پر بات کر رہے ہیں۔ جسں میں وہ سینئر صحافی حسن نثار، ارشاد بھٹی، مظہر عباس، ستار بابر پر ن لیگ کے مؤقف کے خلاف جانے کے گھٹیا الزامات لگا رہے ہیں۔

    عالیہ حمزہ نے اپنے خط میں میڈیا گروپ کو کنٹرول کرنےاور ان کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کے حوالےسے کہا ہے کہ رشید مریم صفدر کو میر شکیل سے باز پرس کرنے کی درخواست کر رہے ہیں، عالیہ حمزہ نے خط میں لکھا ہے کہ کتنی بد قسمتی ہے ہماری کہ ایک شرپسند خاتون کھلے عام "ریوڑیاں”بانٹ رہی ہے،پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ مبینہ آڈیو میں مریم صفدر دو باسکٹس نصرت جاوید اور رانا جواد کو بھجوانے کا ذکر ہے۔

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کا کردار کارکردگی صفر اور پیسے کے زور پر صحافت کو خرید کر اپنےحق میں پروگرام کروائےجاتے ہیں، جو حق میں نہیں بولتا اس کےخلاف گالیاں بولی جاتی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے اس موقع پر ایک سوالیہ انداز سے میں‌ یہ بھی لکھا ہے کہ کیا یہ ہے میڈیا اور صحافیوں کی ٹوٹل اوقات ان نابالغ قومی لیڈران کی نظر میں؟

    عالیہ حمزہ نے خط میں لکھا ہے کہ ان لوگوں کا مکروہ چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب ہورہا ہے۔ان لوگوں نے اپنی کرپشن عوام سے چھپانے کے لئے ہر ادارے میں کرپٹ لوگوں کو پروان چڑھایا۔ میڈیا کی آزادی ن لیگ مافیاز نے یرغمال بنا رکھی ہے۔ صحافتی تنظیمیں سوال کریں کہ یہ مجرمہ کس طرح آزادی راے پر نقب لگا سکتی ہے؟

    عالیہ حمزہ نے ایک ٹیکنیکل سوال بھی پوچھا ہے کہ کیا مجرمہ مریم صفدر کی جیو نیوز نے ایچ آر یا پروگرام کوآرڈینیٹر ہے؟؟جو اپنی من پسند خبروں اور بتائی ہوئی جھوٹی باتوں کو جیو پر نشر کرنے کے احکامات صادر کرتی رہی ہیں۔ ان چند کرپٹ لوگوں کی وجہ سے سارا میڈیا یرغامال بنا ہوا ہے۔ عالیہ حمزہ نے آخر میں‌ لکھا ہے کہ مجھے آپ کے منصب سے امید ہے پیمرا اختیارات کہ اندر رہ کر مریم صفدر اور پرویز رشید کا اختساب ضرور کرینگے۔

  • پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 پر صدر مملکت نے کیے دستخط

    پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 پر صدر مملکت نے کیے دستخط

    صدر مملکت نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021پر دستخط کر دیئے

    اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ خطاب میں عارف علوی نے کہا آج تاریخی قانون پر دستخط کئےگئے ہیں صحافی ہمیشہ دباؤ میں کام کرتے رہے ہیں جعلی خبروں کی ذریعے معاشرے میں افراتفری پھیلائی جاتی ہے افغانستان کوجھوٹی خبروں نے برباد کردیا پاکستان میں فیک نیوزکی یلغار ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ءپر دستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ءکے تحت پہلی مرتبہ پاکستان میں ورکنگ جرنلسٹس کو وہ حقوق فراہم کئے ہیں جو فرسٹ ورلڈ کے صحافیوں کو دستیاب ہیں،میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ءکا کریڈٹ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو جاتا ہے، ایکٹ کی تیاری میں صحافی تنظیموں سمیت تمام صحافتی گروپوں کے ساتھ مشاورت کی گئی،حکومت اور وزارت اطلاعات کا فرض ہے کہ وہ ورکنگ جرنلسٹس کے پیچھے کھڑی ہوں،پاکستان میں ایک طبقہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ یہاں پریس کو آزادی حاصل نہیں،پاکستان میں اگر فری پریس نہیں تو دنیا میں کہیں بھی پریس فری نہیں ہوگا، پریس کی آزادی کی جب بات آتی ہے تو ہم اپنا موازنہ تھرڈ ورلڈ اور مسلم ورلڈ سے نہیں بلکہ فرسٹ ورلڈ سے کرتے ہیں،ہمارے ہاں ڈیفیمیشن کے لاز نہیں ہیں، اس طرح ہمارے ہاں پریس کو فرسٹ ورلڈ سے بھی زیادہ آزادی حاصل ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان آزادیوں کو ہم نے سیٹھوں کے لئے رکھ دیا ہے، ورکنگ جرنلسٹس کو جو حقوق ملنا چاہئے تھے، نہیں مل رہے تھے، میڈیا پروفیشنلز ایکٹ کے تحت ہم نے ورکنگ جرنلسٹس کو حقوق دینے کی کوشش کی ہے، جب کیمرہ مین کوئی ایونٹ کور کر رہا ہوتا ہے تو کیمرہ بچانا اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے،ہم نے اس ایکٹ کے تحت لازم کر دیا ہے کہ مالکان کیمرہ مینوں کو ایسے ایونٹس پر بھیجیں گے تو ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے کیمرہ مینوں کو تحفظ فراہم کریں، میڈیا پروفیشنلز ایکٹ میں ورکنگ جرنلسٹس کی ملازمت کو بھی تحفظ دیا گیا ہے،ہم پہلی مرتبہ صحافیوں کے لئے ایک آزاد کمیشن لائے ہیں جو شکایات کا 14 دن کے اندر فیصلہ کرے گا، اس ایکٹ میں ورکنگ جرنلسٹس کو مالکان اور حکومتی افسران سے بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، بہت سے افسران کو یہ پسند نہیں کہ ان کے محکموں میں کرپشن کی خبریں اخبارات میں آئیں،اس قانون کے ذریعے ہم نے ایک ایسا ماحول تشکیل دینے کی کوشش کی ہے کہ صحافیوں کو فرسٹ ورلڈ کے صحافیوں کی طرز پر تحفظ فراہم کیا جا سکے،اس ایکٹ کے تحت صحافی کی ایک جامع تعریف کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کا فائدہ ان ورکنگ جرنلسٹس کو ہوگا، جو واقعی کام کر رہے ہیں، مجوزہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بارے میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ایف یو جے کے ساتھ ہماری بات چیت چل رہی ہے، اس پر ہم بہت قریب ہیں، ہم جلد متفقہ لاءلے کر آئیں گے، وزیراعظم جہاں بھی ذمہ داری لگاتے ہیں، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی نمایاں تبدیلی لائیں، اس ایکٹ کے لئے انتھک کوششوں پر وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کے مشکور ہیں،

    سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل 2021 پر مبارک ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے ثابت کیا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے عملی طور پر یہ کر دکھایا۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے 8 نومبر 2021 اورسینیٹ نے 19 نومبر 2021 کو صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلزکے تحفظ (ایکٹ ) بل 2021 کی منظوری دی تھی اس بل کے تحت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو حق رازداری حاصل ہو گا ،انہیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انجام دہی اور آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہوگا، انہیں نجی زندگی ، گھر اورذاتی خط و کتابتکی پرائیویسی،اپنی خبر کے ذرائع کو مخفی رکھنے کا حق،اورکسی بھی فرد یا ادارے کی جانب سے جبر، تشدد، خوف و ہراس، دھونس، دھمکی اور جبری گمشدگی کے خلاف تحفظ حاصل ہو گا ،انہیں خبر کا ذریعہ بتانے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکے گا، اس بل کے تحت انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی کے قوانین کی میڈیا پروفیشنلز کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو روکنے کے خلاف ناحق استعمال کی روک تھام کی جائے گی۔میڈیا مالکان صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو مقرر کردہ میعارات کے تحت لائف اینڈ ہیلتھ انشورنس فراہم کریں گے،میڈیا مالکان صحافیوں کو وقت پر تنخواہ دینے کے بھی پابند ہوں گے۔ بل کے مطابق صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ، شکایات کی آزادانہ تفتیش اور فوری ازالہ کیلئے آزاد کمیشن قائم کیا جائے گا، کمیشن میں پاکستان بار کونسل، پی ایف یو جے، نیشنل پریس کلب، پی آر اے، وزرات انسانی حقوق ، وزارت اطلاعات و نشریات کے نمائندے شامل ہوں گے۔

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    وفاقی حکومت کمیشن کے چیئرپرسن کا دو سال کے لئے تقرر کرے گی، کمیشن میں کم از کم تین خواتین ارکان شامل ہوں گی ۔ بل کے تحت آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی زندگی اور سکیورٹی کے حق کو یقنیی بنا یا جائے گا ،کوئی شخص، ادارہ ایسا اقدام نہیں کر سکے گا جس سے کسی صحافی اور میڈیا پرو فیشنلز کے حق زندگی اور حفاظت کی خلاف ورزی ہو ۔ حکومت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی جبری یا رضا کارانہ گمشدگی، اغوا یا اٹھائے جانے کے خلاف تحفظ دے گی ۔وہ بلاخوف و خطر اپنا کام کر سکیں گے ، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان کا حق رازداری کوئی شخص، افسر، ایجنسی یا ادارہ پامال نہ کرے۔ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کا حق اظہار رائے رائج قوانین کے مطابق ہو گا ۔ بل کے تحت قو میت، نسلی، مذہبی منافرت کو ہوا دینے والے اور امتیاز ، دہشت یا تشدد کو بھڑکانے والے مواد پر پابندی ہو گی ۔نسلی،لسانی، ثقافتی یا صنفی نفرت پھیلانے والے مواد کی تخلیق پر بھی پابندی ہو گی ۔ بل کے تحت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کیلئے یہ بات لازم قرار دی گئی ہے کہ ایسے مواد کی اشاعت نہیں کی جائے گی جس کے غلط یا جھوٹا ہونے کا ان کو علم ہو، جو ایسا کرنے میں ناکام ہو گا اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا ۔سرکاری ملازم یا ادارے کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز پر تشدد، نازیبا زبان کے استعمال کی صورت میں متاثرہ اس کے خلاف14 دن اندر کمیشن کے سامنے شکایت درج کرا سکیں گے ۔ وفاقی محتسب یا متعلقہ ادارہ 14 دن کے اندر ہراسگی کے خلاف تفتیش اور قانونی کارروائی کے اقدامات کرے گا۔ صحافی کی شکایت پر کمیشن مشاورتی کمیٹی قائم کرے گا جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ شکایت کو سننا چاہئے یا نہیں ،کمیشن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی شکایت پر قانونی کارروائی ہو ۔ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو دھمکی ، تشدد ، جبر کے حوالہ سے کسی کو بھی قانونی کارروائی سے استثنی حاصل نہیں ہو گا ۔متاثرہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلزکو قانونی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ بل کے تحت کمیشن صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی شکایت پر حکومت،خفیہ ادارے یا اتھارٹی سے معلومات حاصل کرے گا، ان سے رپورٹ ، دستاویزات ، ڈیٹا یا شواہد طلب کریگا۔ متعلقہ حکومت ، ایجنسی یا ادارہ 14روز میں تحقیقات اور کارروائی کرے گا ، کمیشن کے پاس تقریبا سول کورٹ جیسے اختیارات ہوں گے، جرائم کمیشن کی حدود سے باہر ہوئے تو معاملہ کومجسٹریٹ کے پاس بھجوا دے گا ،کمیشن کی سامنے سماعت عدالتی سماعت تصور ہو گی ، اچھی نیت سے کئے گئے اقدمات پر کمیشن اور افسران کو استثنی حاصل ہو گا ۔میڈیا پروفیشنلز کے خلاف دھمکی آمیز ، جابرانہ اورمتشدد کارروائیوں کو فوری اور موثر تفتیش اور قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    موٹرسائیکل پر گھر چھوڑنے کے بہانے ملزم کی خاتون سے زیادتی

    88 قبحہ خانوں پر چھاپوں کے دوران 417 ملزمان گرفتار

    لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ

    13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

  • آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر سیمینار 6 فروری کو ہوگا، کے یو جے

    آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر سیمینار 6 فروری کو ہوگا، کے یو جے

    سیمینار پی ایف یو جے کی جاری جدوجہد کا حصہ ہے، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی مزدور اور صحافی مدعو
    کے یو جے کی جنرل کونسل 13 فروری 2021 کو کراچی پریس کلب میں ہوگی، مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ

    ملک میں آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت سیمینار 6 فروری 2021 کو مقامی ہوٹل میں ہوگا سیمینار میں ملک کی سیاسی قیادت، سینئر صحافیوں، سول سوسائٹی اور مزدور رہنماوں کو مدعو کیا گیا ہے اس موقع پر پی ایف یو جے کی 70 سالہ جدوجہد پر مبنی کتاب کی رونمائی اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی ویب سائٹ کا اجرا بھی کیا جائے گا ۔ سیمینار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی* *جانب سے ملک میں صحافت کو درپیش مسائل پر آگاہی اور ان کے حل کی تلاش میں جاری سیمینارز کا تسلسل ہے اس سلسلے کا پہلا سیمینار 14 جنوری 2021 کو لاہور میں ہوا تھا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں سیمینار کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں طے پایا کہ سیمینار میں تمام سیاسی جماعتوں، حکومتی نمائندوں، سینئر صحافیوں، وکلا اور ڈاکٹرز سمیت سول سوسائٹی کے ارکان اور مزدور رہنماوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں سیمینار، کتاب کی رونمائی اور ویب سائٹ کے اجرا کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئیں جو انتظامات کو حتمی شکل دیں گی* ۔ *اجلاس میں پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے فیصلے کے تحت 13 فروری کو کے یو جے کی جنرل کونسل بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ 13 فروری کو کے یو جے کی جنرل کونسل کراچی پریس کلب میں ہوگی۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اپنے تمام ارکان سے درخواست کی ہے کہ وہ سیمینار اور جنرل کونسل میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں.