Baaghi TV

Tag: نااہلی

  • نوازشریف پرتاحیات نا اہلی کی پابندی ہٹانےکےلیےسازشیں کی جارہی ہیں‌:عمران خان

    نوازشریف پرتاحیات نا اہلی کی پابندی ہٹانےکےلیےسازشیں کی جارہی ہیں‌:عمران خان

    اسلام آباد:نوازشریف پرتاحیات نا اہلی کی پابندی ہٹانےکےلیےسازشیں کی جارہی ہیں‌:ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے پراپیگنڈے کے بعد بین آ جائے، ڈیل کی جائے اگر عمران خان سے پابندی ہٹاتے ہیں تو سابق وزیراعظم نواز شریف جو نااہل ہوا ہوا ہے اس پر بھی تاحیات نا اہلی کی پابندی ہٹا دیں۔ لیگی قائد کو این آر او ٹو دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔

    زوم کانفرنس میں بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اگر شہباز گل نے کچھ کہہ دیا اور اس میں ایک جملہ بالکل قابل اعتراض تھا جو نہیں کہنا چاہیے تھا، اس پر نجی ٹی وی کے خلاف کیسے ایکشن لے لیا، نیوز ایڈیٹر کو کیسے اٹھا لیا؟

    عمران خان نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پلاننگ ہے کہ تحریک انصاف پر سختی کرو، نجی ٹی وی پر سختی کر دی۔ شہباز گل کوئی بات کہہ گیا ہے تو چینل کا کیا قصور ہے۔ ایسا صرف اس لیے کیا گیا تاکہ ٹی وی کا منہ بند کیا جائے اور دیگر چینلز کو ڈرایا جائے۔17 جولائی کو دھاندلی کے باوجود پی ٹی آئی جیتی جس کے بعد یہ گھبرا گئے اور اب یہ اپنے پلان سی پر چلے گئے ہیں۔ اس وقت تحریک انصاف کو فوج سے لڑانے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے ناک آؤٹ کرنے کے لیے توشہ خانہ کیس، ممنوعہ فنڈنگ کیس چلا رہے ہیں۔ ان کی پلاننگ ہے تحریک انصاف پر سختی کرو، نجی ٹی وی کو بین کر دیا۔ پلان یہ ہے جو میری آواز ہے اسے بند کیا جائے۔ مخالف چینلز پر پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے پراپیگنڈے کے بعد بند آ جائے، ڈیل کی جائے اگر عمران خان سے بین ہٹاتے ہیں تو نواز شریف جو نااہل ہوا ہوا ہے وہ بین بھی ہٹا دیں۔ یہ اتنا خوفناک پلان ہے اس سے پاکستان کو کتنا نقصان ہوگا یہ کوئی سوچ نہیں رہا۔پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے کیونکہ ہماری پارٹی تمام صوبوں میں ہے، باقی پارٹی صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ن لیگی قائد کے خلاف پانامہ کیس کا میرے خلاف توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کیس سے موازنہ کر رہے ہیں اور کسی قسم کی ڈیل کروا رہے ہیں۔ میں کسی ڈیل کا حصہ نہ بنا نہ بن سکتا ہوں۔ یہ ڈیل پاکستان کی تباہی ہے یہ این آر او کی ایک قسم ہے۔ یہ نواز شریف کو این آر او ٹو دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ میں اپنا مکمل لائحہ عمل لاہور میں ہونے والے ہاکی گراؤنڈ جلسے میں بتاؤں گا۔ لیکن آج یہ کہنا چاہتا ہوں یہ جو سازش چل رہی ہے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مجھے راستے سے ہٹایا جائے لیکن اصل میں ملک کو وہاں دھکیل رہے ہیں جہاں دشمن چاہتا ہے۔

  • عمران خان کا مستقبل کیسا ؟ منظور وسان کی بڑی پیشنگوئی

    عمران خان کا مستقبل کیسا ؟ منظور وسان کی بڑی پیشنگوئی

    عمران خان کا مستقبل کیسا ؟ منظور وسان کی بڑی پیشنگوئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بارے میں پیشنگوئی کی ہے

    منظور وسان کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آ چکا ہے، اس فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان اور انکی جماعت تحریک انصاف کا مستقبل خطرے میں ہے، عمران خان جو کبھی دھمکیاں دیتے تھے میں این آر او نہیں دوں گا، میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا اب منتیں کرنے پر آ گئے ہیں، عمران خان پھنس چکے ہیں وہ جو مرضی اب کر لیں انہیں کہیں سے کلین چٹ نہیں ملے گی،

    منظور وسان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا جواب الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نہیں دے پائے گی عمران خان نے سیاست میں آ کر جو سہولیات لیں وہ بھی اب انہیں نہیں ملیں گی اب عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل خطرے میں ہے پنجاب حکومت جو ابھی تحریک انصاف نے بنائی وہ بھی خطرے میں ہے اور اسکا مستقبل ختم ہوتا نظر آ رہا ہے

    منظور وسان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والا خود سب سے بڑا چور نکلا، صادق و امین بننے کا خواب بھی ادھورا رہ گیا، اب عمران خان کا گنیز آف ورلڈ بک میں نام ڈال کر اسے جھوٹ کا سرٹیفکیٹ دیاجائے

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں عمران خان کو جھوٹا قرار دے کر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے ، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت متحرک ہو چکی ہے، حکومتی اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کیا جائے گا اور کاروائی یقینی بنائی جائے گی

    گزشتہ روز اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا ،،اجلاس میں الیکشن کمیشن فیصلے پرعمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور کیا گیا پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کیخلاف کارروائی شروع ہوگی پورے پاکستان میں مختلف ٹیمیں بیک وقت کارروائی کریں گی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے کارروائی کریں گے عمران خان کیخلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی ہو گی،عمران خان کی نااہلی کیلئے قانونی کارروائی کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ، عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری اورقانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی، پی ٹی آئی سینٹرل سیکریٹریٹ کے4 ملازمین کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے پی ٹی آئی کے مرکزی فنانس بورڈ کے 6 ارکان کیخلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی،

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ،نااہلی کا ریفرنس بھیجیں گے،رانا ثناء اللہ

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،نااہلی کا ریفرنس بھیجیں گے،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر، سابق وزیراعظم اور ڈپٹی سپیکر نے آئین کے ساتھ فراڈ کیا، اس سے بڑا کوئی جرم نہیں، سزا بھی آرٹیکل 5 اور 6 میں درج ہے، الیکشن کمیشن ڈی سیٹ کرے، نااہل بھی قرار دے۔

    سینیٹ میں صدرعارف علوی، عمران خان و دیگرکیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئےقرارداد

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے آئین کی سر بلندی ہوئی، آئین پاکستان عوام کی مقدس امانت ہے، تفصیلی فیصلے میں سابق حکومت کی آئینی خلاف ورزیوں کو برملا واضح کیا گیا۔

    آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،مریم نواز

     

    وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکل گیا ہے، عمران نیازی نے اقتدار کو بچانے کے لیے آئین کی خلاف ورزی کی، ایسے ٹولے کی سیاست میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، وفاقی حکومت آئین کی خلاف ورزی پر ریفرنس بھیج سکتی ہے، ریفرنس بھیجنے کے حوالے سے کام شروع ہوچکا ہے، آئین کیساتھ فراڈ، خلاف ورزی کے آپشن کو ہم کھلا نہیں رکھیں گے، سپریم کورٹ کے حکم کو بجا لایا جائے گا، فیصلے کے بعد ریفرنس بنتا ہے، سپیکر فیصلے کے بعد نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجیں، الیکشن کمیشن انہیں ڈی سیٹ کرے اور نااہل قرار دے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن بڑا مبارک ہے، صدر مملکت اور سابق وزیراعظم، سپیکر، ڈپٹی سپیکر نے ملک کے آئین کے ساتھ فراڈ کیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، یہ ایک قابل تعریف فیصلہ ہے، آئین توڑنے کی سزا پر عمران خان کو گرفتار کرنے کو تیار ہوں، کابینہ سے مقدمہ درج کرنے کی اجازت ملے گی تو گرفتار کریں گے، اب تو فیصلے کے بعد بڑا جرم ہوگیا ہے، ریفرنس ہوگا یا گرفتاری ہوتی ہے قانون اپنا راستہ لے گا، عمران خان نے مسلح افراد کے ساتھ دارالحکومت پر چڑھائی کی، لانگ مارچ کے دوران شیخ رشید کو گرفتار کرنے کا ارادہ تھا، بڑا ڈھونڈا ملا نہیں تھا۔

    نیوز کانفرنس میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملک نے آئین کے مطابق چلنا ہے، سپریم کورٹ نے جو کہا ہے وہی سچ ہے، فواد چودھری جو کہہ رہے ہیں وہ سچ نہیں، نواز شریف کی سزا غلط ہے، ان کے ساتھ زیادتی ہوئی، نواز شریف کی سزا معطل کرکے پنجاب حکومت نے انہیں باہر بھیجا تھا، سابق وزیراعظم واپس آکر اپیلوں کی سماعت کروائیں، وہ بری ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو آئین و قانون کے تحت چلانا ہے تو پھر کارروائی کرنا ہوگی، کل کابینہ کا اجلاس ہوگا اس میں یہ معاملہ ڈسکس ہوگا، میری ذاتی رائے میں اس فیصلے کے بعد ریفرنس اور ایکشن لینا چاہیے، میری رائے ہے سپیکر ان کیخلاف فوری ریفرنس بھیج سکتے ہیں، ہماری اتحادی حکومت ہے مشاورت سے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔

    رانا ثنا اللہ نے اپنے کیس کے حوالے سے جواب دیا کہ شہریار آفریدی نے غلط قدم اٹھایا تھا، اصل ذمہ دار تو عمران خان اور شہزاد اکبر تھے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے خلاف نہیں، کبھی ایک زمانہ تھا لوگ غائب ہوجاتے تھے، اب وہ زمانہ ہے لوگ اغوا ہوتے ہیں اور دو گھنٹے بعد بازیاب ہوجاتے ہیں، ابصارعالم پر حملہ کرنے والا شیخوپورہ سے پکڑا گیا تھا، شیخوپورہ سے پکڑے جانے والے نے خود کہا تھا ابصار عالم پرحملہ کیا تھا، پکڑے جانے والا مرکزی ملزم نہیں آلہ کار تھا۔

  • اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق،پروجیکٹ کیلیے فنڈز جاری ،کام نہیں ہوا،وکیل کا انکشاف

    اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق،پروجیکٹ کیلیے فنڈز جاری ،کام نہیں ہوا،وکیل کا انکشاف

    لاہور ہائیکورٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سرکاری وکیل نے مزید پیش رفت کے لیے عدالت سے مہلت کی استدعا کردی لاہور ہائیکورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 27جون تک ملتوی کردی ، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ متعلقہ اداروں کو ووٹ کا حق دینے کی ہدایات جاری کررکھی ہیں، جسٹس شجاعت علی خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام تمام اداروں کے تعاون سے ممکن ہونا ہے ،ہمارے بھائی بہن باہر ہیں ،ہم انکا حق دے رہے ہیں، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ انٹرنیٹ ووٹنگ مشین تیار کرلی ہے، پروجیکٹ میں فنڈز درکار ہیں

    جسٹس شجاعت علی خان نے سیکرٹری الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ حکومت کب تک فنڈز جاری کرے گی ؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ پروجیکٹ کے لیے نادرا کو فنڈز جاری کیے گئے،انہوں نے اس پر کام نہیں کیا، جسٹس شجاعت علی خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ہم معاملہ نیب کو بھیج دیتے ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ اب معاہدہ جلد ہونے والا ہے، کام شروع ہوچکا ہے

    درخواست میں وفاقی حکومت ،الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا فوری حق دیا جائے،

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے، شہری عدالت پہنچ گیا

    دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی نااہلی کے لیے متفرق درخواست پر سماعت ہوئی ،لاہور ہائی کورٹ نے درخواست نمٹاتے ہوے الیکشن کمیشن کو بھجوا دی ،عدالت نے الیکشن کمیشن کو درخواست گزار کی زیر التوا درخواست پر 30روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس شمس محمود مرزا نے پاکستان نژاد امریکی شہری کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا ، جسٹس شمس محمود مرزا نے کہا کہ درخواست کو الیکشن کمیشن کو بھجوایا جاتا ہے الیکشن کمیشن درخواست گزار کی زیر سماعت درخواست پر ایک ماہ میں فیصلہ کرے، درخؤاست گزار نے کہا کہ اس وقت دو پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں، ایک پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری ہیں.دوسری پیپلز پا رٹی پارلیمنٹرین کے نام سے رجسٹرڈ ہے. اس پارٹی کے سربراہ آصف علی زر داری ہیں. بلاول بھٹو زرداری نے عام الیکشن میں این اے 200 لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا.بلاول بھٹو زرداری کا اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنا الیکشن ایکٹ 2017کی خلاف ورزی ہے.اسنے بلاول بھٹو زرداری کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواستیں دیں کہ اسکو بلاول بھٹو زرداری کے الیکشن لڑنے کے مکمل کوائف دیے جائیں. الیکشن کمیشن اسکی درخواستوں اور ای میل پر فیصلہ نہیں کر رہا

  • آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سنا دیا،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 63 اے اکیلا لاگو نہیں ہوسکتا ،فیصلہ 2-3 کی نسبت سے دیا گیا، فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے، آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے حقوق ہیں، انحراف کرنا سیاست کیلئے کینسر ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ منخرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، اس حوالے سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہیے،ریفرنس کا چوتھا سوال بغیر جواب کے واپس کرتے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی تاحیات نااہلی کی درخواستیں خارج کر دیں

    عدالت میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ پڑھا گیا اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ 3ججز کی رائے سے ہم متفق نہیں ہیں،آرٹیکل 63 ایک مکمل شق ہے،آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی کے بعد اپیل کا حق ہوتا ہے ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات پر رائے نہیں دے سکتے،

    چیف جسٹس کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی تھئ 21 مارچ 2022 کو صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا تھا اب تک ریفرنس پر لارجر بینچ نے 20 سماعتیں کیں وکلاء اور دیگر افراد کمرہ عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، عدالت کے کمرہ نمبر ایک کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی سپریم کورٹ پارکنگ کو جانیوالے ایک راستے کو سیل کردیا گیا اعلی پولیس افسران سمیت پولیس کی بھاری نقری تعینات کردی گئی ، 5رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال تھے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خیل شامل تھے بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل تھے

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو ڈسٹرب نہ کریں ،اگر آپ دو منٹ بات کرنا چاہے ہیں، توہم یہاں بیٹھے ہیں،بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے 10منٹ چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ،صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے ساڑھے 5 بجے سنائیں گے،

    قبل ازیں ن لیگی وکیل مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے تحریری گزارشات جمع کرادیں مخدوم علی خان نے تحریری دلائل میں عدالت سے مہلت مانگ لی، ن لیگی وکیل کا کہنا تھا کہ حالات تبدیل ہو گئے حالات کی تبدیلی کے بعد مجھے موکل سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اےایک مکمل کوڈ ہے؟ کیا آرٹیکل63 اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہو گا؟ا عدالت ایڈوائزی اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے،صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا،صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں،کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی ہے،اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آچکا ہے، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہو گا جو پہلے تھامیں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ ہر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا ہے،بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا موقف دے سکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیراعظم کی ہدایت پر فائل ہوا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا یہ حکومت کاموقف ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے،سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے انکے وکلا موجود ہیں صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں، ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں، دوسرا فریقین سیاسی جماعت ہوتی ہے،مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ آگے نکل چکا ڈیڑھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل نہیں آئینی معاملہ ہے،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

  • قانونی اصلاحات کریں، توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے،سپریم کورٹ

    قانونی اصلاحات کریں، توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی.

    بابر اعوان نے سپریم کورٹ میں کہا کہ یوٹیلیٹی بلز ادا نہ کرنے والا بھی رکنیت کا اہل نہیں ہوتا،مدت کا تعین نہ ہوتو نا اہلی تاحیات ہوگی،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی امیدوار الیکشن سے پہلے بل ادا کردے تو کیا تب بھی نا اہل ہوگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بل ادا کرنے کے بعد نااہلی ختم ہو جائے گی، جب تک نااہلی کا ڈکلیئریشن عدالت ختم نہ کرے نااہلی برقرار رہے گی، یوٹیلیٹی بلز کی عدم ادائیگی پر نااہلی تاحیات نہیں ہوسکتی،

    بابر اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر کوئی ڈی سیٹ ہو اور 15 دن بعد دوبارہ پارلیمنٹ آجائے، ہوسکتا ہے دوبارہ منتخب ہوکر کوئی وزیر بھی بن جائے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ آپ قانونی اصلاحات کریں، توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ آرٹیکل 63 (1) جی پڑھ لیں،آپ کہتے ہیں منحرف ارکان کو تاحیات نااہل کریں، بابر اعوان نے کہا کہ انحراف کرنا بڑا سنگین جرم ہے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ آرٹیکل 63(1)جی کی خلاف ورزی زیادہ سنگین جرم ہے،آرٹیکل 63(1)جی عدلیہ، فوج کی تضحیک اور نظریہ پاکستان سے متعلق ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم دراصل متفقہ ترمیم تھی،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ قانون میں جرم کی مختلف سزائیں دی گئی ہیں، کیا عدالت سزا میں ایک دن کا بھی اضافہ کرسکتی ہے؟

    بابر اعوان کی جانب سے مشرف مارشل لاء توثیق کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ،بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مشرف کو آئینی ترمیم کا اختیار دیا تھا، عدالت کے اختیارات لامحدود ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت سب کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے ،بابر اعوان نے کہا کہ اتنا حوصلہ بھی ہونا چاہیے کہ ان فیصلوں کا حوالہ سن سکیں، سپریم کورٹ آخری امید ہے اس کے بعد سڑکیں اور جلسے ہیں، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آئین کے تابع پارلیمان، ایگزیکٹو اور عدلیہ ہونی چاہیے، بابر اعوان نے کہا کہ عدلیہ ہی سب کو آئین کے تابع کرسکتی ہے،

    آئین شکنی، اب لگے گا عمران خان اور اسکے ہمنواؤں پر آرٹیکل 6، تیاریاں شروع

    سپیکرکی رولنگ غلط، پیچھے موجود تمام افراد پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے،قمرزمان کائرہ

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    عمران خان،عثمان بزدار آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے،احسن اقبال

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

  • ٹرانسفارمر جلے چوتھا دن،پیسے اور میرٹ کا زور دیکھو اب،واپڈا حکام

    ٹرانسفارمر جلے چوتھا دن،پیسے اور میرٹ کا زور دیکھو اب،واپڈا حکام

    قصور
    واپڈا حکام کی نااہلی سے محلے کا ایک ٹرانسفارمر جلا،لوگوں نے لوڈ دوسروں پر کر لیا ،دو او جل گئے،گرمی و رمضان کیساتھ بغیر بجلی کے لوگوں کا تیسرا دن

    تفصیلات کے مطابق قصور لیسکو نے نااہلی کی تمام حدیں کراس کر دی ہیں
    لیسکو سب ڈویژن بہادر پورہ قصور کے علاقہ کھارا نزد قصور بائی پاس کا مین بازار چوک پکی دیورھی والا 200 kv کا ٹرانسفارمر 8 اپریل کی شام 7 بجے جل گیا جس پر اہلیان علاقہ نے لیسکو حکام کو مطلع کیا جہنوں نے کہا کہ ٹرانسفارمر جل گیا ہے تاہم مرمت نا کیا گیا جس پر مجبور ہو کر لوگوں نے اپنی تاریں قریبی کھمبوں پر لگا لیں جس کے باعث ان ٹرانسفارمروں پر لوڈ بڑھنے سے محلہ ملکانوالہ اور محلہ عیسیٰ خان والا کے دونوں ٹرانسفارمر بھی جل گئے
    گرمی سے مجبور لوگوں نے اب اپنی تاریں دوسرے اور ٹرانسفارمروں پر لگا لی ہیں جس سے مذید ٹرانسفارمر جلنے کا خدشہ ہے
    آج چوتھا روز گزرنے کے باوجود واپڈا حکام نے نا ہی پکی دیورھی چوک کا ٹرانسفارمر مرمت کیا ہے اور نا ہی اس کے متبادل ٹرانسفارمر لگایا گیا ہے جس کے باعث روزہ کی حالت میں لوگ گرمی سے نڈھال ہو گئے ہیں
    واضع رہے کہ یہی ٹرانسفارمر گزشتہ ماہ 4 مارچ کو جلا تھا جسے 3 دن بعد مرمت کرکے لگایا گیا تھا
    پہلے اس علاقے کے لوگ پیسے دے کر مرمت کروا لیا کرتے تھے مگر پچھلی مرتبہ سے لوگوں نے پیسے نہیں دیئے تو واپڈا حکام سرعام لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ پورا زور لگا لو پھر ہی ہم لگائیں گے ٹرانسفارمر پیسوں اور میرٹ کا مزہ چکھوں

    شہریوں نے راشی محکمہ واپڈا کے ایس ڈی او سب ڈویژن بہادر پورہ کے خلاف ڈی سی قصور سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ جلد سے جلد ٹرانسفارمر لگوایا جائے

  • کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ
    آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہعئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے آرٹیکل 63 اے، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج آپ سے کوئی سوالات نہیں کریں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمالیہ میں وزیر اعظم کی تقریر کا حوالا دیا گیا،وزیراعظم سے کمالیہ کی تقریر پر بات کی ہے، وزیر اعظم کا بیان عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،وزیراعطم کا بیان عدالت کے سامنے رکھا گیا جس میں کہا گیا کہ کمالیہ تقریر میں 1997 سپریم کورٹ حملے کے تناظر میں بات کی گئی تھی، عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہے اور یقین ہے،

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو کوئی ممبر اپنی رکنیت کا دعویٰ نہیں کرسکت منحرف اراکین کیلئے آئین کہتا ہے کہ وہ ممبرنہیں رہےگا اور سیٹ خالی تصور ہوگی، سیٹ خالی تصور ہونے کا مطلب ہے کہ دوبارہ الیکشن ہوگا اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ ایک ممبرکوڈی سیٹ ہونے کے بعد کس بنیاد پر نا اہل ہونا چاہیے، پارلیمنٹ نااہلی کی مدت 2 یا 5 سال تک مقرر کرسکتی ہے کیا ایک شخص کو تاحیات نااہل کرنے کیلئے انحراف کی بنیاد کافی ہے؟ جب کہ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ 62 اے میں ترمیم کرکے نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کررہی؟ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا دنیا کے کسی قانون میں نااہلی انحراف کے بنیاد پر ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا کے کسی قانون میں تاحیات نااہلی بھی نہیں ہے اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا کے کسی آئین میں ارٹیکل 62/1F نہیں دیکھا جسٹس جمال خان مندوخیل نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ ڈی سیٹ ہونے کو بڑی سزا نہیں سمجھتے؟ ہمارے ہاں بلوچستان میں تو دوبارہ الیکشن لڑنے پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں. آئین بنانے والوں کی نظر میں ڈی سیٹ ہونا معمولی بات نہیں تھی۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ ان کے پیچھے کون سی طاقتیں ہوتی ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کی امانت ہوتا ہے جسٹس جمال خان نے کہا کہ ایماندار آدمی کو پارٹی پالیسی کے خلاف رائے دینے پر تلوار کیوں لٹکا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایماندار آدمی انحراف کرنے سے پہلے مستعفی کیوں نہیں ہوتا؟ جسٹس جمال خان نے کہا کہ کسی کو نشست سے مستعفی ہونے پر مجبور نہیں جاسکتا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیاکہ سندھ ہاؤس حملے کا کیا بنا،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں بتایا کہ متعلقہ مجسٹریٹ سے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لیے ہیں، پی ٹی آئی کے دونوں اراکین اسمبلی سمیت تمام ملزمان گرفتار ہوں گے

    منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس بارے اٹارنی جنرل نے بڑا انکشاف کیا ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود ۲۰/۲۵ اراکین وفاداری تبدیلی پر تاحیات نااہلی کا قانون نہیں بننے دیتے اس کئیے حکومت سپریم کورٹ سے یہ کام کرانا چاہتی ہے، یہ قانون انکا ڈیتھ وارنٹ ہے۔

    قبل ازیں سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کی گرفتاری کا معاملہ آئی جی اسلام آباد نے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ،رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کیخلاف دہشت گردی کا ثبوت نہیں مل سکا،ملزمان سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا،دہشت گردی کے ثبوت ملے تو مزید کارروائی کی جائے گی 16 ملزمان میں سے ایک رائے تنویر کی گرفتاری نہیں ہوسکی، رائے تنویر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں،تمام گرفتار ملزمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے ضمانت کرا لی تھی، ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے مجسٹریٹ کو درخواست دی ہے

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

  • کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    ایک رکن دوسری جماعت کو فائدہ دیتا ہے تو سسٹم کو خطرہ کیسے ہو گیا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہوا تھا جو آئین میں نہیں لکھا ہوا وہ عدالت کیسے پڑھے،اس نقطے پر سپریم کورٹ 2018کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، عدالت نے تمام امیدواروں سے کاغذات نامزدگی کیساتھ بیان حلفی مانگا قانون میں بیان حلفی نہیں تھا عدالتی حکم پر لیا گیا،بیان حلفی کے بغیر کاغذات نامزدگی عدالت نے نامکمل قرار دیئے تھے، عدالتی حکم پر کاغذات نامزدگی سے نکالی گئی معلومات لی گی،عدالت نے فیصلے میں کہا انتحابی عمل میں شفافیت کے لیے بیان حلفی لیے گیے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو لگتا ہے کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی قسم کی کمی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو الگ نہیں پڑھا جاسکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں انتخابات کی ساکھ اور تقدس کی بات کی گئی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے جماعتیں ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں،کوئی پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو مستعفی ہوسکتا ہے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والا تاحیات نااہل ہونا چاہیے ،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو 62 ون ایف کے ساتھ کیسے جوڑیں گے؟ کیا کسی فورم پر رشوت لینا ثابت کیا جانا ضروری نہیں، رشوت لینا ثابت ہونے پر 62 ون ایف لگ سکتا ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی قانونی طور پر بددیانتی ہے قانونی بددیانتی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوگا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ منحرف رکن اگر کسی کا اعتماد توڑ رہا ہے تو خیانت کس کے ساتھ ہوگی ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے پہلے خیانت حلقے کی عوام کے ساتھ ہو گی ،ووٹر اپنا ووٹ ڈال کر واپس نہیں لے سکتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ جس سمت میں تیر چلائے وہ کہیں اور چلا جائے ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا مستعفی ہونے پر کوئی سزا ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی مستعفی نہیں ہورہا یہی تو مسئلہ ہے ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کسی سیاسی بندے کا ذکر نہ کریں ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، عدالت کے سامنے صدارتی ریفرنس ہے اسی تک رہیں ،کیا 63 اے کے نتیجے میں سیٹ خالی ہونا کافی نہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف از خود مشکوک عمل ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی کے نتائج بھگتنا ہوتے ہیں ،آرٹیکل 63 اے میں لکھا ہے کہ رکنیت ختم ہو جائے گی،آپ نااہلی کی مدت کا تعین کروانا چاہتے ہیں ؟ آرٹیکل 62 ون ایف کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری ہے، آرٹیکل 63 میں نااہلی دو سے 5 سال تک ہے ،قرض واپس کرنے پر نااہلی اسی وقت ختم ہو جاتی ہے،

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کمالیہ کی تقریر میں کیا کہا کہ ججز کو ساتھ ملایا جارہا ہے؟ کیا آپ نے وزیراعظم کی بات کا نوٹس لیا ہے؟ عدالتی سوالات کو کس طرح لیا جاتا ہے اسکو بھی دیکھیں سوشل میڈیا اور ٹی وی پر سنا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کو علم ہونا چاہیے کہ زیر التوا مقدمات پر بات نہ کریں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزیراعظم کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے؟ کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوالات کے ذریعے کیس سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،عدالت تقاریر اور بیانات سے متاثر نہیں ہوتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ تقاریر سنتا نہیں اس لیے کچھ نہیں کہہ سکتا. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی کارروائی سے متعلق احتیاط کرنا چاہیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وزیراعظم کو اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد نہیں تو انکے نمائندوں کو کیسے ہو گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو بیانات اور تقاریر سے متاثر ہونا بھی نہیں چاہیے وزیر اعظم کو عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا الیکشن سے پہلے کا ہے الیکشن سے پہلے کا قانون بعد میں کیسے لاگو کردیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن قوانین آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ ڈکلیئریشن دے تو الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں، قانون میں طریقہ واضح کردیا ہے تو کیا چاہتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کسی کا سچ میں ضمیر جاگ گیا ہو، الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ آئے گا تو دیکھا جائے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ طریقہ کار سے متعلق کوئی سوال ریفرنس میں نہیں پوچھا،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ نااہلی کی مدت کا تعین کس بنا پر ہو گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے آج آپکے دلائل مکمل ہو جائیں گے،اصل نقطہ نااہلی کا ہے اس پر سب ہی آپکو سننا چاہتے ہیں اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج شاید مزید وقت درکار ہو،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ مستقبل کے لیے ریفرنس لائے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں کیا ہورہا ہے عدالتی کارروائی پر فرق نہیں پڑنا چاہیے، نااہلی کی مدت کے حوالے سے آرٹیکل 63 اےنیوٹرل ہے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑتا سکتا ہے، 10سے15 اراکین منحرف ہو جائیں تو یہ سسٹم کا مذاق بنانے والی بات ہے، پندرہ لوگ حکومت بدل کر دوبارہ الیکشن لڑیں تو میوزیکل چیئر چلتی رہے گی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سسٹم کو بچانے کے لیے ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے،مطمئن کریں کہ منحرف ہونے سے سسٹم کو خطرہ ہو گا اور سنگین جرم ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایک رکن دوسری جماعت کو فائدہ دیتا ہے تو سسٹم کو خطرہ کیسے ہو گیا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حلقے میں الیکشن کا کتنا خرچہ آتا ہو گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل95 مشترکہ حکومت کی بات کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے لیڈر کے خلاف عدم اعتماد کر سکتی ہے پارٹی خود عدم اعتماد کرے تو کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی،پارلیمانی پارٹی وزیراعظم تبدیل کرنے کا فیصلہ کرے تو پارٹی سربراہ بادشاہ نہیں ہو گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اصل نکتہ نااہلی کا ہے اس پر سب ہی آپکو سننا چاہتے ہیں، پارلیمانی پارٹی آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کی سفارش کرے تو کیا پارٹی سربراہ روک سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی سربراہ من پسند افراد کو ڈکلیریشن نہیں دے سکتا، یہ سیاسی فیصلہ ہے جو پارٹی سربراہ نے کرنا ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اصل معاملہ سیاسی نظام کے استحکام کا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت حکومت اپوزیشن کی مدد سے آئی ہے،جب تک ایوان خوش ہے کام چلتا رہتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی وزیراعظم کو ووٹ نہ دے اور عدم اعتماد بھی ناکام ہو جائے تووہ کام کرتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اچھا نظام ہے لیکن بعض چیزیں بہت پیچیدہ ہیں،جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیا تمام جماعتیں آرٹیکل 63اے پر تاحیات نااہلی چاہتی ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سے قبل کوئی ریفرنڈم نہیں کرایا گیا،اپنے پرائے تو سب ہی تاحیات نااہلی چاہتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو نااہلی کی مدت کا فیصلہ کرنے دیں ،جسٹس جمال خان نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنا کام کر چکی اب عدالت نے تشریح کرنی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومتی جماعت کے اراکین مستعفی ہو جائیں تو بھی اکثریت ختم ہو جائے گی،ایسی صورت میں وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا، اٹارنی جنرل نے کہا ہککہ عوام اپنی رائے کا اظہار صرف ووٹ سے کرسکتی ہے،عدالت عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے تشریح کرے، جسٹس جمال نے کہا کہ منحرف رکن سے لوگ ناراض ہوں گئے تو ووٹ نہیں دیں گے،اسلام میں طلاق جائز ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرد کو چار اور عورت کو ایک شادی کی اجازت ہے،مناسب ہو گا طلاق اور شادی پر نہ جایا جائے آئین نے جرم کرنے والے اراکین کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیا فیصلہ عوام پر ہی چھوڑنا ہوتا تو پانچ سال کی نااہلی شامل نہ ہوتی

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ایک ندی ہے جسے بے وفائیاں آلودہ کرتی ہیں،بے وفائی اور منحرف ہونے کا مثبت مطلب کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے 63 اے شامل کیا گیا،چوری کے کام کی رسید نہیں ہوتی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی چلانا جرم نہیں لیکن اووراسپیڈنگ پر چالان ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ممکن ہے انحراف کرنا غلط کے خلاف ہی ہو، کسی سے غلط کو غلط کہنے کا حق کیسے چھینا جا سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی پارلیمانی نظام کے لیے اہم ترین کیس ہے،دلائل مکمل کرنے کے لیے ایک سے دو سماعتیں مزید درکار ہوں گی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جمعرات اور جمعہ کو بینچ لاہور میں ہو گا، رمضان شروع ہونے والا ہے ایک بجے سماعت ممکن نہیں ہو گی کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں دوسرے وکلا کو وقت دینا لازمی ہے عدالت اپنے تحریری دلائل سے استفادہ کرے گی، کل ایک گھنٹہ آپ اور ایک گھنٹہ دوسرے فریقین کو سنیں گے، علی ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے دلائل دوں گا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دوسرے وکلا کا موقف سن کر ذہن مزید کھلے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مخدوم علی خان اور رضا ربانی کے دلائل سننا چاہیں گے ابھی تک ہوا میں گھوڑے چل رہے ہیں،پارلیمنٹ نے آج تک آرٹیکل 63 اے کی نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کی؟اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کیا سوچ کر شامل کیا گیا ،جمہوریت آئین کا بہترین ڈھانچہ ہے،جمہوریت کے لیے کیا اچھا ہے یہ سوچ کر دلائل دیں، وقت کی کمی ہے کوشش کریں دلائل مختصر ہی رکھیں،

    ن لیگی وکیل نے کہا کہ لازمی نہیں کہ جمہوریت آلودہ کرنے والے اپوزیشن سے ہی نکلیں ، جسٹس جمال نے کہا کہ جمہوریت لوگوں سے اور لوگوں کے لیے ہوتی ہے، دیکھنا ہے حکومت بچانی ہے یا پارٹی،عوام کا فائدہ کس میں ہے یہ بھی مدنظر رکھیں گے

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

  • کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے دوسرے روز دلائل شروع کر دیئے گئے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ہوتی ہیں،مخصوص نشستوں والے ارکان نے عوام سے ووٹ نہیں لیا ہوتا ہے، مخصوص نشستوں والے ارکان بھی سندھ ہاؤس میں موجود تھے،مخصوص نشستیں پارٹی کی جانب سے فہرست پر ملتی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ خیانت کی قرآن میں بہت سخت سزا ہے، اعتماد توڑنے والے کو خائن کہا جاتا ہے،آپکے مطابق پارٹی کو ووٹ نہ دینے والے خیانت کرتے ہیں؟کیا کوئی رکن بھی ڈکلیئریشن دیتا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ممبر شپ فارم میں رکن ڈکلیئریشن دیتا ہے کہ ڈسپلن کا پابند رہے گا؟ اگر پارٹی ممبر شپ میں ایسی یقین دہانی ہے تو خلاف ورزی خیانت ہو گی، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہوتا ہے،اگر وزیراعظم آئین کی خلاف ورزی کرے تو کیا ممبر ساتھ دینے کا پابند ہے؟کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ ایک سرٹیفکیٹ ہے جس پر انتحابی نشان ملتا ہے وزیراعظم اور رکن اسمبلی کے حلف میں فرق ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر انتحابی نشان پر مہر لگاتے ہیں کسی کے نام پر نہیں، پارٹی کے نشان پر الیکشن لڑنے والے جماعتی ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ برصغیر میں بڑے لیڈرز کے نام سے سیاسی جماعتی آج بھی قائم ہیں، مسلم لیگ اور کانگریس بڑے لیڈرز کی جماعتیں ہیں،پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوتے ہیں،اراکین اسمبلی ربڑ ا سٹمپ نہیں ہوتے، پارٹی فیصلے سے متفق نہ ہوں تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے، پارٹی اختلاف کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت کیخلاف جایا جائے،رضا ربانی نے پارٹی ڈسپلن کے تحت فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا،یقین ہے رضا ربانی نے نااہلی کے ڈر سے ووٹ نہیں دیا ہوگا،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا جماعت کے ڈسپلن کا بھی پابند ہوتا ہے،

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو آئین اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کا حق دیتا ہے،کیا خیالات کے اظہار پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اراکین اسمبلی صرف 4مواقع پر آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے،بطور ایڈووکیٹ جنرل سندھ ہاؤس میں رہتا تھا، سندھ ہاؤس میں ایسی کوئی ڈیوائس نہیں تھی جو ضمیر جگائے ،حکومتی جماعت کے لوگوں کا سندھ ہاؤس میں جاتے ہی ضمیر جاگ گیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وزیراعظم ملک کے خلاف کوئی فیصلہ کریں تو کیا رکن مخالفت نہیں کر سکتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کے خلاف کام ہونے پر رکن خود کو پارٹی سے الگ کر سکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیاکہ پارٹی سے اختلاف کرنے والا شخص کیا دوبارہ مینڈیٹ لے سکتا ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بتانا ہوگا کہ رکن تاحیات نااہل کب ہوگا؟ 62ون ایف کوالی فکیشن کی بات کرتا ہے ،62ون ایف میں نااہلی کی بات نہیں کی گئی، ذاتی مفاد کیلئے اپنے لوگوں کو چھوڑ کر جانا بے وفائی ہے،پارٹی کے اندر جمہوریت ہوتو آرٹیکل 63 اے کی ضرورت نہیں رہتی، آرٹیکل63 اے کی خوبصورتی ہے کہ اسے استعمال کرنے کا موقع ہی نہ ملے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا مناسب نہ ہوتا کہ صدر پارلیمانی جماعتوں کوبلا کر مشورہ کرتے،کیا عدالت سے پہلے سیاسی جماعتوں سے مشورہ کرنا مناسب نہیں ہوتا؟ پارلیمانی جماعتوں سے ملکر آئین میں ترمیم ہو سکتی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ غلام اسحاق اسی طرح سب کو بلایا کرتے تھے،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ابھی تو کسی نے انحراف کیا ہی نہیں آپ ریفرنس لے آئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرم کو ہونے سے روکنا مقصد ہے،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ جرم ہونے سے پہلے سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون واضح کرنے کیلئے عدالت آئے ہیں،جرم ہو تو سزا دینے کے لیے قانون واضح ہونا چاہیے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا اس سپریم کورٹ کا کام ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حسبہ بل کے ڈرافٹ پر ہی حکومت عدالت آگئی تھی،حسبہ بل ریفرنس میں بھی قانون نہ بننے کا اعتراض آیا تھا ،سپریم کورٹ نے بل کی منظوری نہ ہونے کا اعتراض مسترد کر دیا تھا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 63 اے کے تحت اعتراف کے نتائج کا تعین کرنا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا عدالت ریفرنس میں جوڈیشل اختیارات استعمال کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے اٹھارہویں ترمیم پر ہونے والے پارلیمانی بحث عدالت میں پیش کردی. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خالی جگہ عدالت نے پر کرنی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62ون ایف میں بھی خالی جگہ موجود ہے،عدالت نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کر دی،

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ لوٹوں کو سپورٹ کرنے والا آخری شخص ہوں گا،پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف الیکشن کمیشن کا فورم موجود ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی کی بھوک مٹانے کے لیے چوری کرنا بھی جرم ہے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ کوئی چوری کرنے والے کا ساتھ جائے تو کیا ہو گا؟ صدر مملکت کو ایسا مسئلہ کیا ہے؟ جو رائے مانگ رہے ہیں، صدر کے سامنے ایسا کونسا مواد ہے جس پر سوال پوچھے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے، جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیا عدالت آئین میں کسی فل ا سٹاپ کا بھی اضافہ کر سکتی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل62اور63میں براہ راست تعلق ثابت کروں گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے کسی آرٹیکل کو الگ سے نہیں پڑھا جاسکتا،آرٹیکل62اور63 کو ملا کر پڑھا جاتا ہے، پارلیمانی بحث میں ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا گیا ہے،

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ گزشتہ روزعدالت نے جلسوں کے بارے میں یقین دہانی لی،ایک پارٹی اجازت کی خلاف ورزی کرکے کشمیر ہائی وے بلاک کررہی ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مجھے کچھ دیر پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اس کو بیٹھ کر حل کریں گے

    جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا کہ صدر نے آئین کی تشریح کا کہا ہے، تشریح سے ادھر ادھر نہیں جاسکتے،ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 بناتے وقت کس چیز کا خوف تھا؟ پارلیمنٹ نے آئین میں ڈی سیٹ سے زیادہ کچھ نہیں لکھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل62ون ایف کے تحت تا حیات نااہلی بھی پارلیمنٹ نے نہیں کی،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر تمام جماعتیں متفق ہیں تو آئین میں ترمیم کر لیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین ازخود نہیں بلکہ عدالتوں کے ذریعے بولتا ہے ،آئین کی درست تشریح عدالت ہی کرسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے بھی آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی شامل کی جاسکتی تھی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر ووٹ شمار نہ ہو تو دوسری کشتی میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اے آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دفعہ 302 بھی قتل سے نہیں روکتی لیکن جیل جانا پڑتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ قتل تو 302 کی سزا کے باوجود بھی ہو رہے ہیں، آرٹیکل 63 اے کے تحت رکن اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے؟رکن پارٹی ڈائریکشن کی خلاف ورزی کرے گا تو آئینی نتائج بھگتے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت آج تک کوئی نااہل نہیں ہوا،آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر پیسے لینا ثابت کرنا ضروری نہیں، آئندہ سماعت پر دو گھنٹے میں دلائل مکمل کر لوں گا، اٹارنی جنرل نے پیر 2بجے تک دلائل مکمل کرنے کی یقین دہانی کروا دی

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس