Baaghi TV

Tag: نجکاری

  • پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی،اسحاق ڈار

    پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک میں طویل عرصے سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات زیرِ غور تھیں، پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی-

    اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں طویل عرصے سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات زیرِ غور تھیں، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ان کا عملی اطلاق کیا گیا پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی، گردشی قرضوں میں کمی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ رائٹ سائزنگ اور گورننس میں اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے وسائل کے درست اور عوام کے حق میں استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہےملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا اور مئی 2023 میں فچ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ایک مہینے میں ڈیفالٹ کر جائے گا، تاہم انہوں نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا اور یہ بات ثابت بھی کی گئی۔

    پاکستان، آسٹریلیا ٹی 20 سیریز کا شیڈول جاری

    انہوں نے کہا کہ حکومت کو کاروبار نہیں کرنا چاہیے، نجکاری سے فائدہ ہوا ہے، اب معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ رقم کی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو چکا ہے اور غربت میں کمی آئی ہے۔

    بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے بیان پر پاکستان کا سخت ردِعمل

  • رواں سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے ،محمد اورنگزیب

    رواں سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے ،محمد اورنگزیب

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے یہ سچ ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں اور ہمیں تسلیم کرناچاہیےکہ ٹیکس زیادہ ہے یاانرجی قیمت زیادہ ہےتو یہ حقیقی مسائل ہیں، تاہم نجی شعبے کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا-

    محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈیوٹیز میں اضافہ معیشت کے لیے نقصان دہ، کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی حکومت چینی مالیاتی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرنے جا رہی ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی فنانسنگ میں تنوع لانے کی ایک اہم کوشش ہے چار سال قبل ملک کے پاس ڈالرز کی شدید قلت تھی تاہم اب معیشت کو استحکام کی طرف لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی کے باعث اب ڈیبٹ مینجمنٹ آفس جانے کی ضرورت نہیں رہی، جبکہ جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل کر دی جائیں گی تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئے 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں کیونکہ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے ہیں،یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کر دیا گیا ہے تاکہ حکومتی اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

    سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کا فیصلہ

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیوٹیز میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ناگزیر ہے، ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہیں جس سے برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی ہے جبکہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کے تحت منتقل کر دیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی توجہ اب ٹیکس وصولی پر مرکوز ہے۔

    ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی کی رضا پہلوی سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

    وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ میں کمی لائی گئی ہے اور معاشی اصلاحات کے ذریعے ہی ترقی ممکن ہے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جبکہ غیر بینکنگ افراد کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہےرواں سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں تر سیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں، انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں تاہم نجی شعبے کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا، وز یراعظم شہباز شریف خود اصلاحاتی ٹاسک فورس کی قیادت کر رہے ہیں اور حکومت معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

    آپریشن سندور:پاکستان کو بھارتی عسکری نقل و حرکت کی مکمل نگرانی حاصل تھی،بھارتی آرمی چیف

  • خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم

    خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے،پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے-

    وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے امور پر اجلاس ہوا، اجلاس کو نجکاری کمیشن میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی،بریفنگ میں کہا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ابتدائی طور پر 2 بیچز میں رکھا گیا ہے پہلے بیچ میں آئیسکو، کیپکو اور فیسکو کی نجکاری ہو گی، جبکہ دوسرے بیچ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی۔

    وزیر اعظم نے نجکاری کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کام تیز کرنے کی ہدایت کی جبکہ نجکاری کمیشن میں پبلک ریلیشنز، مارکیٹنگ کے شعبے کو مزید بہتر بنانے اور نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔

    پاکستان کے قرضوں سے متعلق اسٹیٹ بینک کی رپورٹ جاری

    وزیراعظم نے کہا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے نجی شعبے اور مارکیٹ سے بہترین صلاحیتوں کے حامل متعلقہ افرادی قوت کو تعینات کیا جائے اور تمام تر تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی جائیں، نجکاری کے حوالے سے تمام منصوبوں کا عالمی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے۔

    
پاکستان اور میانمار کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال

  • ملک میں چند طاقت  ور مزید طاقت ور ہوتے چلے جا رہے ہیں ،حافظ نعیم الرحمان

    ملک میں چند طاقت ور مزید طاقت ور ہوتے چلے جا رہے ہیں ،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ قومی ائیر لائن جو کبھی فخر تھی آج زوال کی مثال بن چکی ہے، قومی ائیر لائن کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا اور اب اسی تباہی کو نجکاری کا جواز بنایا جا رہا ہے-

    کراچی میں تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ نام نہاد سیاست دان جمہوریت کے نام پر جمہوریت کو قتل کر رہے ہیں، اپنی جماعتوں میں جمہوریت قائم نہ کرنے والے ملک پر حکومت کر رہے ہیں، اس نظام سے نجات کے لیے طویل اور تیز جدوجہد ناگزیر ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 20 فیصد لوگوں کے پاس 80 فیصد لوگوں کے وسائل ہیں، 20 فیصد لوگوں کا سب پر قبضہ ہے، ملک میں چند طاقتور مزید طاقتور ہوتے چلے جا رہے ہیں، پاکستان پر وڈیروں جاگیر داروں سرمایہ داروں کا کنسورشیم مسلط ہے، یہ کنسورشیم پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی بولی لگاتا ہے اس نظام سے نجات کے لیے طویل اور تیز جدوجہد ناگزیر ہے، قومی ایئر لائن جو کبھی فخر تھی آج زوال کی مثال بن چکی ہے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اُردن کی فوجی قیادت کی ملاقات

    ان کا کہنا تھا کہ قومی ائیر لائن جو کبھی فخر تھی آج زوال کی مثال بن چکی ہے، قومی ائیر لائن کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا اور اب اسی تباہی کو نجکاری کا جواز بنایا جا رہا ہے، پہلے اداروں میں لوٹ مار کی گئی، کرپشن ہوئی اور جعلی بھرتیاں کی گئیں، پھر جب ادارے خسارے میں چلے گئے تو کہا گیا کہ ان سے جان چھڑا لی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ نجکاری نہیں بلکہ قومی اداروں کی لوٹ سیل ہے، حکومت ایک طرف پرائیویٹ سیکٹر کے فروغ کی بات کرتی ہے لیکن دوسری طرف صنعت کو گیس، پانی اور بجلی فراہم نہیں کی جاتی اور بھاری ٹیکس لگا کر انڈسٹری کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

    نائیجیریا کی مسجد میں دھماکا، 5 نمازی شہید، 35 زخمی

  • فیلڈ مارشل کی رہنمائی پی آئی اے کی نجکاری میں اہم ثابت ہوئی ،اویس لغاری

    فیلڈ مارشل کی رہنمائی پی آئی اے کی نجکاری میں اہم ثابت ہوئی ،اویس لغاری

    وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کی رہنمائی پی آئی اے کی نجکاری میں اہم ثابت ہوئی۔

    ایک بیان میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ 135 ارب روپے کی کامیاب بولی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے، وزیرِ اعظم کی قیادت میں نجکاری کا تاریخی مرحلہ مکمل ہوا،مشیرِ نجکاری محمد علی کی کاوشیں، فیلڈ مارشل کی رہنمائی پی آئی اے کی نجکاری میں اہم ثابت ہوئی ہےیہ نجکاری عالمی برادری کے پاکستان پر بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے، عارف حبیب کنسورشیم کی کامیاب بولی معیشت کی بحالی کی علامت ہے،پی آئی اے کی نجکاری سے حکومتی اصلاحات اور شفاف پالیسیوں پر اعتماد کی عکاس ہے، یہ کامیابی پاکستان کے معاشی استحکام کی جانب مضبوط پیشرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔

    جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلز سے متعلق مزید دستاویزات جاری

    واضح رہے کہ آج ہونے والی بولی میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے،عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

    پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،مفتاح اسماعیل

  • پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،مفتاح اسماعیل

    پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ اورعوام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،پی آئی اے کی 135ارب میں نجکاری بڑا قدم ہے۔

    نجی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نےکہا کہ پی آئی اے کی نجکاری پر حکومت پر تنقید کرنا نہیں بنتی،پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،پی آئی اے کی 135ارب میں نجکاری بڑا قدم ہے،2013کی ن لیگ کی حکومت میں بھی پی آئی اے کی نجکاری کی بات ہوتی تھی۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری کرکے حکومت آج بہت بڑے امتحان میں کامیاب ہوگئی،آج یہ دعویٰ بھی ختم ہوگیا کہ موجودہ حکومت پر کوئی اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں،جب مقامی لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں تو پھر باہر سے بھی سرمایہ کاری آتی ہے۔

    رونالڈو نے سعودی عرب میں 2 لگژری ولاز خرید لیے

    انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے دیگر اداروں میں بھی نجکاری کافروغ بڑھے گا،پی آئی اے کی نجکاری کے پیچھے وزیراعظم سمیت بہت سےلوگوں کی محنت ہے،عالمی اداروں کےمطابق پاکستان میں لوگوں کاسرمایہ کاری کیلئے اعتماد بڑھ رہا ہے۔

    تمام ریاستی اداروں کے تعاون سے ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے, وزیراعظم

  • عارف حبیب کنسورشیم  نے135ارب روپے میں پی آئی اے خرید لی

    عارف حبیب کنسورشیم نے135ارب روپے میں پی آئی اے خرید لی

    عارف حبیب کنسورشیم135ارب روپے میں پی آئی اے خرید نے میں کامیاب ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کاعمل مکمل ہوگیا،عارف حبیب کنسورشیم نے135 ارب میں پی آئی اے کی بولی جیت لی،عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے لیے بولی کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگائی اور پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کی،لکی سیمنٹ کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کی 134 ارب روپےکی بولی لگائی گئی ایئر بلیو نے 26 ارب روپے سے زائد کی بولی لگائی۔

    چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری حکومت کی پالیسی ہے،پی آئی اے بڈنگ سے سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی،اپریل میں حکومت نے بڈرز کو اس بارےمیں آگاہ کیا،2بڈرز نے 100فیصد اور 2نے 75 فیصد خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔

    عارف حبیب کنسورشیم نے135ارب روپے میں پی آئی اے خرید لی

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی بولی لگے گی ،پی آئی اے کی نجکاری ایجنڈے کا حصہ ہے،92.5فیصد فنڈز پی آئی اے پر ہی خرچ ہوں گے،اپریل میں 51سے100فیصد شیئرز فروخت کرنےکا فیصلہ کیا۔

    حکومت کا مقصد ادارے کو بیچنا نہیں بلکہ پاؤں پر کھڑا کرناہے،75فیصد شیئرز کے بعد فروخت کا فیصلہ کیا،90روز کے اندر مزید 25فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ کیاہے،دوتہائی پیمنٹ شروع میں حاصل کی جائےگی۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ،

    نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 92.5 فیصد رقم پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جائے گی جبکہ باقی 7.5 فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی، ممکنہ سرمایہ کار کو اگلے پانچ سال کے دوران پی آئی اے کو مستحکم کرنے کے لیے 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

    نئے سرمایہ کار کو ایوی ایشن، کارگو بزنس، ٹریننگ ونگ اور کچن بزنس دیا جائے گا شرائط کے مطابق پی آئی اے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ حاصل ہوگا جبکہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہوں گی،نئے مالکان موجودہ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ ادارے کے مالی استحکام کے لیے فوری سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ انتظام ناگزیر ہوگا۔

    لنڈی کوتل: بجلی اور نیٹ ورک کی عدم دستیابی پر مشران کا پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان

  • پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    بلاول ہاؤس چورنگی پر ییپلز یونٹی کے کارکنان کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کے دوران دھرنا دیا-

    میڈیا سے بات چیت میں صدر پیپلز یونٹی ہدایت اللہ خان نے کہا کہ کراچی پریس کلب پر بھی پریس کانفرنس میں یہ بات واضح کردی تھی کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کی جارہی بلکہ اسے خود خرید رہے ہیں،ہم بلاول ہاؤس آکر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بتانے آئے ہیں کہ ہم آپ کے سپاہی ہیں،بلاول بھٹو زرداری چاہیں تو یہ نجکاری رک سکتی ہے،ہمیں پی آئی اے ملازمین کی پنشن اور ملازمت کی یقین دہانی کرائی جائے ورنہ ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔

    صدر پیپلز یونٹی نے کہا کہ پی آئی اے کی دیگر تنظیموں کو بھی احتجاج میں دعوت دی ہےکنسورشیم میں پھوٹ پڑ چکی ہے،ایک کنسور شیم نجکاری کی دوڑ سے باہر ہوچکا ہے باقی تین بھی آپس میں متفق نہیں ہیں100 ارب روپے کے عوض پی آئی اے کی نجکاری کی اجازت دیکر صرف ساڑھے سات ارب روپے میں اونے پونے بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    ان کا کہنا تھا کہ نجکاری رکوانے کے لیے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گاپارلیمنٹ اور سی سی آئی سے بھی پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری نہیں لی گئی ،نجکاری رکوانے کے لیے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو تمام گزارش پیش کی ہیں ،امید ہے اچھی خبر ملے گی،کل نجکاری نہیں ہوگی اور اچھی خبر آئے گی اگر نجکاری ہوئی تو ہم اپنا احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

  • پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

    حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے) کی نجکاری کا فیصلہ کن مرحلہ مکمل کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولیاں 23 دسمبر (منگل) کو طلب کی جائیں گی، جبکہ اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے بولی کھولنے کی تقریب براہِ راست ٹیلی وژن پر نشر کی جائے گی۔

    نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری پروگرام کے مطابق بولیاں صبح 10:45 سے 11:15 بجے تک جمع کی جائیں گی جبکہ انہیں سہ پہر 3:30 بجے کھولا جائے گا اس مرحلے پر 3 بولی دہندگان مقابلے میں شامل ہیں پہلے کنسورشیم میں لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔

    https://x.com/AajKamranKhan/status/2003002414220341506?s=20

    دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں، جبکہ تیسری بولی ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دی جائے گی۔

    نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر محمد علی کے مطابق فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بولی کے عمل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ بولیاں جمع ہونے کے بعد کمیشن کا بورڈ ریفرنس قیمت مقرر کرے گا، جس کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔

    معاہدے کے تحت پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے، جن میں سے 92.5 فیصد رقم پی آئی اے کو جبکہ 7.5 فیصد قومی خزانے کو ملے گی،حکومت کے پاس 25 فیصد حصص برقرار رہیں گے، جنہیں کامیاب بولی دہندہ بعد میں خریدنے یا حکومت کے پاس چھوڑنے کا اختیار رکھے گا پی آئی اے کی بحالی سے معیشت اور جی ڈی پی پر مثبت اثر پڑے گا انہوں نے کہا کہ بہتر انتظام، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے پی آئی اے دوبارہ اپنے عروج کی طرف لوٹ سکتی ہے۔

    محمد علی کے مطابق باقی 25 فیصد حصص کی قدر کا تعین 75 فیصد حصص کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا حکومت نے بولی دہندگان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ 12 ماہ کے اندر 12 فیصد پریمیم کے ساتھ باقی حصص خریدنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں،بولی دہندگان کو 75 فیصد حصص کے حوالے سے فیصلہ منگل کو کرنا ہوگا، جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی خریداری کے لیے 90 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ بولی دہندگان نے 75 فیصد حصص کی ادائیگی ایک سال میں کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم حکومت نے یہ تجویز قبول نہیں کی ان کے مطابق اگر ایک سال کے دوران پی آئی اے کی کارکردگی خراب ہوتی تو خریدار خریداری سے پیچھے ہٹ سکتا تھا، اور اگر کارکردگی بہتر ہوتی تو خریداری کے حق میں فیصلہ کرتا، جو حکومت کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔

    انہوں نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی جمع کرائے گا، جبکہ باقی ایک تہائی ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی پی آئی اے کی بحالی سے مجموعی قومی پیداوار اور مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گاپاکستان میں ہوا بازی کے شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ سب سے کم ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ حصہ 18 فیصد اور سعودی عرب میں 8.5 فیصد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 1.3 فیصد ہے۔ تاہم پی آئی اے کی صلاحیت کے باعث یہ شرح نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔

    پی آئی اے کے 34 طیاروں کے بیڑے میں سے اس وقت صرف 18 طیارے فعال ہیں تاہم پی آئی اے کے 97 ممالک کے ساتھ فضائی سروس معاہدے موجود ہیں اور 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ رائٹس حاصل ہیں،پی آئی اے اس وقت 11 ارب روپے کا خالص منافع اور 30 ارب روپے کی ایکویٹی رکھتی ہے، جبکہ 26 ارب روپے کی واجبات پی آئی اے کے پاس ہی رہیں گی، جن کی ادائیگی بولی دہندگان پانچ سال میں کریں گے۔

    ملازمین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی 2011 میں پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 11 ہزار 500 تھی، جو اب کم ہو کر 6 ہزار 500 رہ گئی ہے، یعنی پانچ سال میں 5 ہزار ملازمین کی کمی آئی ہے۔

    محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے ایک ایسا اثاثہ ہے جسے اگر درست انداز میں نہ چلایا گیا تو بھاری نقصان ہو سکتا ہے، لیکن بہتر انتظام کے ساتھ یہ غیر معمولی آمدن پیدا کر سکتی ہے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں پی آئی اے کے پاس مسافر، منزلیں، روٹس اور لینڈنگ سلاٹس موجود ہیں۔

    ان کے مطابق پی آئی اے کو سرمایہ کاری، نئے طیاروں کے اضافے اور مؤثر انتظام کی ضرورت ہے، جو حکومت فراہم نہیں کر سکتی، پی آئی اے میں جس نوعیت کے فیصلوں کی ضرورت ہے وہ صرف نجی شعبہ ہی کر سکتا ہے، اور اگر ایئرلائن کو درست طور پر چلایا جائے تو پی آئی اے دوبارہ اپنے سنہری دور میں واپس آ سکتی ہے۔

    سینئیر صحافی کامران خان کا کہنا ہے کہ تمام کارپوریٹ کی نظریں پی آئی اے کی نجکاری پر، جو کہ کل عمل میں لائی جائے گی،پردے کے پیچھے ڈرامہ سامنے آیا ہے۔ حیرت انگیز پیشرفت میں، طیبہ گروپ نے گزشتہ ہفتے پی ایم کی زیرقیادت میٹنگ میں عارف حبیب گروپ کی طرف سے پیش کی گئی مشترکہ منصوبہ بندی کی تجویز کو صاف طور پر مسترد کر دیا – ایک ایسا معاہدہ جس میں 40% عارف حبیب، 40% طیبہ، 20% فوجی فاؤنڈیشن، محمد علی طیبہ بطور چیئرمین PIA (پرائیویٹ) کے ساتھ تقسیم ہو جائے گی۔

    پھر بھی، بیک روم سمجھوتہ کے بجائے، طیبہ گروپ نے کھلی جنگ کا انتخاب کیا، اور اعلان کیا کہ یہ براہ راست بڈنگ میں جائے گا، کوئی بند ڈیل نہیں، کوئی محفوظ انتظام نہیں،اب یہ دو حریف کنسورشیموں میں بند پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری گروپوں کے درمیان ایک شدید، بلند و بالا آمنے سامنے ہونے کو ہے، یہ صرف نجکاری نہیں ہے؛ یہ شفافیت، اور اعصاب کا امتحان ہے۔

  • بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیاں نجکاری میں شامل

    بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیاں نجکاری میں شامل

    پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیاں نجکاری میں شامل ہیں-

    سنیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس ہوا، پاور ڈویژن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے فیز میں آئیسکو ، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کی جا رہی ہے،دوسرے فیز میں پیسکو اور سیپکو کی نجکاری کی جائے گی،تیسرے فیز میں لیسکو، میپکو اور ہیزکو کی نجکاری کا پلان ہے۔

    پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ گدو اور نندی پور پاور پلانٹس نجکاری کیلئے تیار ہیں،ان پاور پلانٹس پر حکومت مزید کوئی خرچہ نہیں کرے گی، دونوں پاور پلانٹس کو کچھ گیس کی ایلوکیشن ہونی ہے،گدو پاور پلانٹ کو 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جا رہی تھی،اس وقت گدو پاور پلانٹس 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کر رہا ہے،نندی پور پاور پلانٹس آر ایل این جی پر چل رہا ہے۔

    ممبر کمیٹی سنیٹر بلال خان نے سوال کیا کہ اگر ان پاور پلانٹس کی نجکاری نہ ہوئی تو پھر کیا ہوگا؟پاور ڈویژن حکام نے جواب دیا کہ اگر نجکاری نہ ہو سکی تو ہم دوبارہ کابینہ کے پاس چلے جائیں گے،بلال خان نے پھر سوال کیا کہ آپ یہ کیسے سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ لوگ ان پلانٹس کو چلا سکیں گے؟-

    جس پر پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ ترکیہ میں جب بجلی کمپنیوں کی نجکاری ہوئی تب وہ بھی 80 فیصد نقصان میں تھیں،اس وقت ترکیہ کی بجلی کمپنیاں منافع میں ہیں،ہماری طرف سے ڈسکوز کی نجکاری کیلئے تمام چیزیں تیار ہیں۔