Baaghi TV

Tag: نجکاری

  • پی آئی اے کی خریداری میں‌ترکش ایئر لائن کی دلچسپی

    پی آئی اے کی خریداری میں‌ترکش ایئر لائن کی دلچسپی

    پی آئی اے کی خریداری کے لئے ایک اور ایئر لائن سامنے آ گئی،ترکش ایئرلائن نے پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کر دی

    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ ایک ترکش ایئر لائن نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں میزبان شہزاد اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی جلد تکمیل قریب ہے۔ یہ پروگرام پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے لیے دروازے کھولے گا، جس سے متعدد مواقع پیدا ہوں گے۔جب تک سیاسی ماحول میں استحکام نہیں ہے اور سیاسی درجہ حرارت میں کوئی کمی نہیں آتی، ہم معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقی نہیں دکھا سکتے۔ ہم سب کو ریاستی اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں پاکستانی عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری کر رہی ہے، نجکاری کمیشن بورڈ کا آخری اجلاس 20 ستمبر 2024 کو اسلام آباد میں وزیر برائے نجکاری، چیئرمین نجکاری کمیشن جناب عبدالعلیم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا۔ بورڈ نے پی آئی اے کی نجکاری کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور ریکوسٹ فار اسٹیٹمنٹ آف کوالیفیکیشن (RSOQ) کی شرائط کے تحت اجازت یافتہ تبدیلیوں کے حوالے سے فنانشل ایڈوائزر کی سفارشات پر غور کیا۔ نجکاری کمیشن نے چھ بولی دہندگان کو پری کوالیفائی کیا تھا جن میں فلائی جناح، YB ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی زیر قیادت کنسورشیم ، ایئر بلیو لمیٹڈ، پاک ایتھانول (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیر قیادت کنسورشیم ، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ اور بلیو ورلڈ سٹی شامل ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی یکم اکتوبر 2024 کو منعقد کرنے کا ارادہ ہے۔

    ڈاکٹر فاروق ستار سے پی آئی اے یونینز کے وفود کی ملاقات

    فنی خرابی،پشاور جانیوالی پی آئی اے پرواز کی کراچی لینڈنگ

    ایف اے کی جعلی ڈگری، جنرل( ر )باجوہ کے بھائی کی پی آئی اے ملازمت ختم

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

  • نجکاری کمیشن کی 5 برسوں میں کل آمدن 4,389 ملین ، اخراجات 1,992 ملین

    نجکاری کمیشن کی 5 برسوں میں کل آمدن 4,389 ملین ، اخراجات 1,992 ملین

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس سینیٹر محمد طلال بدر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    اس موقع پر سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر خالدہ عتیب، سینیٹر خلیل طاہر، سینیٹر ندیم احمد بھٹو، سیکرٹری نجکاری اور متعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کا آغاز سیکرٹری نجکاری کی جانب سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران نجکاری سے ہونے والے اخراجات اور حاصل ہونے والی آمدنی پر بریفنگ سے ہوا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران کل آمدنی 4,389 ملین تھی جب کہ کل اخراجات 1,992 ملین تھے۔ کمیٹی کے ارکان نے ان کمپنیوں کی فہرست کا تنقیدی جائزہ لیا جہاں لین دین میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ سیکرٹری نے وضاحت کی کہ نیشنل پاور پارک کمپنی کی حکومت نے نجکاری نہیں کی۔ اسی طرح پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری بولی دہندگان کی واپسی کی وجہ سے روک دی گئی تھی ، اسٹیل ملز کےلیے 3 سالوں میں فنانشل ایڈوائزر کو 12 کروڑ 70 لاکھ روپے ادائیگی ہوئی،گزشتہ سال کابینہ نے اسٹیل ملز کو ڈی لسٹ کردیا تھا، اسٹیل ملز کی نجکاری نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ صرف ایک بڈر رہ گیا تھا۔ حکومت کا خیال تھا کہ ایک بڈر کے ساتھ جانا ٹھیک نہیں رہے گا،بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جناح کنونشن سینٹر کو بھی نجکاری کی لسٹ سے نکال دیا گیا۔ اس پر فنانشل ایڈوائزر کو 70 لاکھ روپے ادائیگی ہوئی۔ جناح کنونشن سینٹر کی نجکاری پر سی ڈی اے کے کچھ اعتراضات تھے۔

    مزید برآں، کمیٹی کے چیئرمین نے سفارش کی کہ نجکاری حکام آئندہ اجلاس میں مالیاتی تجزیہ کے ساتھ نجکاری ڈسکوز کے اخراجات کی تفصیلات فراہم کریں۔ چیئرمین نے پاور ڈویژن کو تفصیلی جانچ پڑتال کے لیے بلانے اور نجکاری کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ بتانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔کمیٹی کے چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ اکثر سیاسی مفادات کو کسی نہ کسی طریقے سے قومی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے اور اس کا انجام پاکستان کے حق میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر پی آئی اے یا سٹیل مل گرتی ہے تو نہ ملازمین کے مفادات کا تحفظ ہو گا اور نہ ہی پاکستان کے مفادات کا،

    اس کے علاوہ سیکرٹری نجکاری نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی جاری نجکاری کے حوالے سے کمیٹی کو اپ ڈیٹ کیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں پی آئی اے کے خریدار 5 بڈرز کو ایئرلائن کے 75 فیصد شیئرز دینے پر اتفاق کرلیا گیا،قائمہ کمیٹی برائے نجکاری اجلاس میں سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے آپریشنز کےلیے خریدار کو تقریباً 425 ارب روپے فوری سرمایہ کاری کرنا ہوگی، پی آئی اے کے آئندہ 3 برسوں کےلیے 500 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پی آئی اے خریداری میں 6 میں سے 3 کمپنیاں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں، پی آئی اے کی نجکاری یکم اکتوبر سے آگے نہیں بڑھائی جائے گی، پی آئی اے کی خریدار کمپنیوں کا ڈیو ڈیلیجنس پراسس مکمل نہ ہوا تو بڈنگ آگے کرنا ہوگی،چیئرمین نجکاری کمیٹی طلال چوہدری نے پی آئی اے کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ فیصل آباد سے ملک کے دیگر شہروں کےلیے پی آئی اے کی کوئی پرواز نہ ہونا تشویشناک ہے۔

    سکریٹری نے کابینہ کے فیصلے کے بعد کئے گئے کارپوریٹ اور ریگولیٹری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مزید برآں، انہوں نے کمیٹی کو 3 جون 2024 کو ہونے والی میٹنگ کے بارے میں آگاہ کیا، جہاں چھ دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کو پری کوالیفائی کیا گیا تھا: فلائی جناح لمیٹڈ، ایئر بلیو لمیٹڈ، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، ایک کنسورشیم جس کی سربراہی Y.B. ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ایک کنسورشیم جس کی قیادت پاک ایتھنول کر رہی ہے، اور ایک کنسورشیم جس کی قیادت بلیو ورلڈ سٹی کر رہی ہے۔

    سینیٹر محمد طلال نے اس بات پر زور دیا کہ پی آئی اے کا لین دین نجکاری کے مستقبل اور پاکستان کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت اس عمل کو ہر طرح سے مکمل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، اور اس کے بہترین کام پر نجکاری کمیشن کی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کئی دہائیوں کے بعد یہ لین دین اگلے دو ماہ میں کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔

    پی آئی اے نجکاری، ملازمین کو 5 سال کی جاب گارنٹی دی جائے،سفارش

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • پی آئی اے نجکاری،  ملازمین کو 5 سال کی جاب گارنٹی دی جائے،سفارش

    پی آئی اے نجکاری، ملازمین کو 5 سال کی جاب گارنٹی دی جائے،سفارش

    اسلام آباد (محمد اویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو پی آئی اے اور روز ویلٹ کے حوالے سے بریفنگ دی چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جو حالات پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیں اس کی بھی اب نجکاری کردینی چاہیے جس پر ممبران نے قہقہے لگادیئے، کمیٹی نے سفارش کی کہ پی آئی اے ملازمین کو 5 سال کی جاب گارنٹی دی جائے اور یونین کو بھی اعتماد میں لیا جائے، ہاوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن لمیٹڈ کی نجکاری کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے اس منافع بخش ادارے کی نجکاری نہ کی جائے جس ادارے کو دیا جائے گا وہ اس کو بند نہ کریں ۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس چیئرمین فاروق ستار کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔
    اجلاس میں انوارالحق چوھدری آسیہ نازتنولی،صوفیہ سعید محبوب شاہ ،سحر کامران ،مولانا عبدالغفور حیدری ،رکن صبا،عبدالقادر،سیکرٹری نجکاری ودیگر حکام نے کمیٹی میں شرکت کی ۔حکام نے بتایاکہ پچھلے دس سال میں 15اداروں کی نجکاری کی گئی ہے ۔کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بریفنگ دی گئی پی آئی اے کی نجکاری کے لیے 6 فرم فائنل ہوئی ہیں دو فرم شرائط پوری نہیں کرتی تھیں جس کی وجہ سے وہ ہٹادی گئیں ۔ تمام 6 فرموں کو پی آئی اے کی موجودہ حالات کے بارے میں بتایا گیا۔ نجکاری کا ڈرافٹ بھی دے دیا گیا ہے ۔ 6کمپنیوں نے سائٹ کے بھی دورے کئے ۔اب تک تین پری بیڈ میٹنگ ہوئی ہیں پہلی یکم جولائی دوسری 15 سے 16 اگست اور تیسری 22اگست کو ہوئی۔ ممبر نے سوال کیا یہ پی آئی اے کے ملازمین کا کیا بننے گا؟سیکرٹری نے بتایا کہ پی آئی اے کے ملازمین کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ملازمین کے لیے ایک سکیم بنارہے ہیں پی آئی اے کے 51فیصد سے زائد شیئرز فروخت کریں گے ۔پی آئی اے 75سے 80ارب روپے سالانہ خسارہ کررہی ہے نجکاری اس لیے کررہے ہیں کہ اگلے سال 80ارب کا نقصان نہ ہو،سیکرٹری نجکاری جواد پال نے بتایا کہ پی آئی اےکی نجکاری کے لیے بولی یکم اکتوبر کو کرانےکی تجویز ہے، وزیراعظم نے نجکاری شفاف بنانےکے لیے بڈنگ ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھانے کی ہدایت کی ہے۔

    پی آئی اے کے خراب حالات پر کسی کا احتساب ہوا ؟ سینیٹر سحر کامران
    چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ پی آئی اے میں سفر سفر ہی کیا ہے ۔اب تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی پرائیوٹائز کرنا پڑے گا ۔چیئرمین کے بیان پر ارکان نے کمیٹی میں قہقہے لگادیئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ میں نجکاری کے حق میں نہیں ہوں ۔ پی آئی اے کے حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ اب اس کی نجکاری ہوجانے چاییے۔سینٰٹرسحرکامران نے کہاکہ پی آئی اے کے خراب حالات پر کسی کا احتساب ہوا ہے ۔ پی آئی اے کے قرضے کس طرح ادا کریں گے؟چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اس حوالے سے تع کمیشن بنانا چاہیے پچھلے دور میں بھی الزام لگے مگر وقت ضائع ہوا اور کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا بھی نہیں۔حمود الرحمن کمیشن بنا مگر اس کو بھی کلاسفائڈ کردیا گیا ۔ پی آئی اے ہمارا فخر تھا مگر آج اس کی نجکاری کررہے ہیں ۔ پی آئی اے کی نجکاری کو روک نہیں سکتے ہیں کہ اب سالانہ خسارہ ہورہاہے۔سیکرٹری نے کہاکہ ہماری امید ہوتی ہے کہ غیرملکی کمپنی آئے گی تو ادارہ چلے گا مگر ہمارا تجربہ اس حوالے سے اچھا نہیں ہے۔ غیرملکی کمپنی اپنا منافع بھی واپس لے کر جائیں گے۔ مقامی کمپنی اگر ہوگی تو یہ مسئلہ نہیں ہوگا ۔825ارب کے قرض پی آئی اے کے اوپر ہے. ان میں سے 622ارب ایک کمپنی میں رکھے گئے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کی ریفرنس پرائس نجکاری والے دن ہی بتائے جائے گی۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ پی آئی اے ملازمین کو 5 سال کی نوکری کی گارنٹی دی جائے ۔ تین سال بہت کم عرصہ ہے ۔

    کمیٹی نے سفارش کی کہ ملازمین کی ملازمت کی گارنٹی 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی جائے ۔پی آئی اے کے یونین کو بھی اعتماد میں لیاجائے،روزویلٹ ہوٹل کےحوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری نے کہاکہ 2فروری 2024کو فنانشل ایڈوائزر تعینات کیا گیا ہے،روز ویلٹ کے بارے میں ابھی طے نہیں ہوا کہ اس کی نجکاری ہونی ہے جوائنٹ وینچر میں جانا یا کچھ اور کرنا ہے۔ہاوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن لمیٹڈ کے حوالے سے حکام نے بریفنگ دی ۔کمیٹی نے سفارش کی کہ اس ادارے کی نجکاری پر نظر ثانی کی جائے ۔

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • اپنا خون بہا دیںگے مگر   ریلوے کی نجکاری نہیں ہونے دینگے، ریلوے پریم یونین

    اپنا خون بہا دیںگے مگر ریلوے کی نجکاری نہیں ہونے دینگے، ریلوے پریم یونین

    مرکزی چیئرمین ریلوے پریم یونین پاکستان ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے ریلوے پریم یونین نے حکومت کی طرف سے منافع بخش ٹرینوں کی نجکاری کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس حوالے سے 23جولائی کولاہور میں مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب بھی کرلیا ہے جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    اس موقع پر صدرشیخ محمدانور، سیکرٹری جنرل خیرمحمدتونیو،چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری بھی موجودتھے۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مزید کہاہے کہ 30 جون تک مالی سال 24-2023 کے اختتام پر ریلوے نے 88 ارب سے زائد ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے جو پچھلے مالی سال سے 40 فیصد زائدآمدن ہے۔ ریلوے کو مالی سال کے آغاز میں حکومت سے 73 ارب آمدن کا ٹارگٹ ملا تھا۔ اتنے منافع بخش ادارے کی نجکاری ملک کی سالمیت کے خلاف سازش ہے۔راہنماؤں نے کہاکہ پاکستان کے سب سے بڑے رفاعی و فلاحی ادارے کی نجکاری ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے، کسی مائی کے لال کو ریلوے کی نجکاری کی اجازت نہیں دیں گے،ایک لاکھ ریلوے ملازمین اورپچیس کروڑعوام کی سستی سواری کی نجکاری کرکے عوام کو ذہنی اذیت سے دو چار کیا جارہاہے، ملازمین ریلوے کو بچانے کے لیئے اپنا خون بہا دیں گے مگر کسی کو بھی نج کاری کے نام پر ریلوے کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گے۔پریم یونین نے حافظ سلمان بٹ مرحوم کی قیادت میں ریلوے ملازمین کے حقوق کی جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا اسے ہر حالت میں جاری رکھا جائے گا۔

    انہوں نے کہاکہ ریلوے کو پرائیویٹائز کرنے کی بجائے مزدورروں کے حوالہ کردیا جائے،کسی بھی پرائیویٹ کمپنی سے زیادہ منافع فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے انجن،بوگیاں اور ٹریک استعمال کرکے نج کاری کے نام پر ریلوے کو چند کوڑیوں پر ٹرخا نے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اگر پرائیویٹ افراد نے ریلوے کو چلانا ہے تو اپنی گاڑیاں اور انجن لے کر آئیں اور ریلوے کے انفراسٹرکچر کو استعمال کرنے کا کرایہ ادا کریں۔

  • 2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا،قائمہ کمیٹی میں بریفنگ

    2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا،قائمہ کمیٹی میں بریفنگ

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت نجکاری اور اس کے ماتحت اداروں کی مجموعی کارکردگی اور کام کے طریقہ کار کے علاوہ وزارت نجکاری سے آئندہ ایک سال کے نجکاری پروگرام کی تفصیلات کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر نے اراکین کمیٹی اور وزارت کے نمائندوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کمیٹی اور وزارت کے ساتھ مل کر ملک کی معیشت کی بحالی اور نجکاری کے عمل کو شفاف سے شفاف تر بنانے کے لئے لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزارت واحد امید ہے جو اگر احسن طریقے سے نجکاری کے عمل پر عملدرآمد کرے تو ملکی معیشت بھنور سے نکل سکتی ہے۔ حکومتیں بزنس نہیں کرتی بلکہ اداروں کو ریگولیٹ کرتی ہیں اور یہ حکومت کا اولین فرض ہوتا ہے کہ وہ ادرے جو قومی نقصان کا سبب بن رہے ہوں ان کو ترقی کی جانب گامزن کر سکے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے موثر لائحہ عمل اختیار کرے اور ملک کو نقصان سے بچایا جا سکے تاکہ ملک میں نئے ہسپتال، سکول اور ایسے ادارے قائم کیے جا سکیں جن سے ملک و قوم کو فائدہ ہوا۔ ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا جس میں شفافیت یقینی بنا کر اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

    اراکین کمیٹی نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر کو چیئرمین کمیٹی منتخب ہونے مبارکباد پیش کرتے ہوئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں گے۔
    نجکاری ڈویژن میں 82 اسامیاں ہیں جن میں سے 17 خالی
    سیکرٹری وزارت نجکاری نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نجکاری کے امور میں شفافیت کا پہلو نہ صرف حکومت اورملک کے لئے اہم ہوتا ہے بلکہ اس سے عوام کی حالت زار بھی بہتر ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت سے منظور شدہ نجکاری پروگرام کو شفافیت کے ساتھ عملی جامہ پہنانا اس ادارے کا کام ہے۔ ادارے کاکام نجکاری کے حوالے سے پالیسیز بنانا ہے جو نجکاری بورڈ میں پیش کی جاتی ہے۔ نجکاری بورڈ سفارشات وفاقی کیبنٹ میں پیش کرتا ہے اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس پر عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری ڈویژن میں 82 اسامیاں ہیں جن میں سے 17 خالی ہیں۔ گریڈ17 اور اس سے اوپر کی کل12 اسامیاں ہیں۔ گریڈ1 سے16تک 70 اسامیاں ہیں۔ نجکاری کمیشن میں 143 پوسٹیں ہیں جن میں سے 20 خالی ہیں۔24 گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی اسامیاں ہیں اور 119 گریڈ 1 سے16 کی اسامیاں ہیں۔

    کتنے منصوبوں کی نجکاری کے لئے کتنی بار کوشش کی گئی اور ان پر کتنا خرچ ہوا؟ تفصیلات طلب
    قائمہ کمیٹی کو نجکاری ڈویژن اور نجکاری کمیشن کے بجٹ کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کو بجٹ حکومت کی جانب سے دیا جاتاہے۔ نجکاری کمیشن کو فنڈ دو ذرائع سے ملتا ہے۔ وفاقی کی بجٹ کی گرانٹس اور نجکاری فنڈ کے ذریعے رقم آتی ہے۔ قائمہ کمیٹی کو نجکاری کمیشن کے قیام بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا اور دیگر پالیسی فریم ورک اور فنگشنز بارے بھی آگاہ کیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کا ایک بورڈ ہے جس کا ایک چیئرمین اور 8 ممبران ہوتے ہیں۔ نجکاری پر ایک کیبنٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کے چیئرمین وزیر خارجہ امور ہوتے ہیں اور اس کے ممبران میں وزیر خزانہ، وزیر تجارت، وزیر توانائی، وزیر صنعت وپیداوار اور وزیر نجکاری شامل ہوتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کے پاس حکومت کی جانب سے اختیار ہوتا ہے کہ وہ رولز بنائیں۔ قائمہ کمیٹی کو بنائے گئے مختلف رولز کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ وزارت نجکاری کا ایک نجکاری کمیشن بھی بنایا گیا ہے۔ کمیشن کا بجٹ 8 ارب کا ہے جبکہ وزارت کا بجٹ کم ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری پبلک اوفرننگ کے تحت ہو رہی ہے اور نجکاری کیے جانے والے اداروں میں متعلقہ وزارتوں سے رائے بھی لی جاتی ہے اور بورڈ میں ان منصوبوں کی نمائندگی کے لئے وزارت کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیاکہ فنانشنل ایڈوائز ہائیر کرنے پر بہت خرچ ہوتاہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو گزشتہ پانچ برسوں کا بجٹ، اخراجات سے متعلقہ تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں کوئی بڑی ٹرانزکشن نہیں کی گئی۔یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ پاکستان ا سٹیل ملز کو نجکاری سے نکالا دیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فنانشنل ایڈوائرز پر آج تک جتنا خرچہ ہوا ہے اور وہ کام پورا کیے بغیر چلے گئے ہیں ان کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کتنے منصوبوں کی نجکاری کے لئے کتنی بار کوشش کی گئی اور ان پر کتنا خرچ ہوا کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔گزشتہ 15 سالوں میں کتنے فنانشنل ایڈوائز رکھے گئے اور ان پر کتنا خرچہ آیا ہے آگاہ کیا جائے۔ سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ جب فنانشل ایڈوائز نے کام ٹھیک نہیں کیا تو کیا ان سے ریکوری کر سکتے ہیں۔

    نجکاری کیلئے 84 اداروں کی نشاندہی،24 کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا
    قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کل 84 اداروں کی مختلف وزارتوں میں نجکاری کے لئے کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں 24 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور 41 کیبنٹ کے پاس ہیں۔24 اداروں میں سے 4 ادارے جن میں پی آئی اے کمپنی لمیٹیڈ، روزویل ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹیڈ، فرسٹ وویمن بینک لمیٹیڈ کی نجکاری امید ہے اسی سال مکمل ہو جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کا عمل 1 سے 5 سال کے دوران تین مراحل میں مکمل ہوگا۔ نجکاری کا عمل قانونی تقاضوں کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے نقصان زدہ سرکاری اداروں کے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ کچھ ادارے منافع میں ہیں ان کی نجکاری کیوں کی جارہی ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ابھی منافع کم ہورہا ہے نجکاری کے بعد منافع بڑھ جائے گا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ فرسٹ ویمن بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس، پی آر سی ایل اور سٹیٹ لائف منافع بخش ادارے ہیں۔ 9 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی پانچ سال میں نجکاری کی جائے گی۔ تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی اسی سال ہو جائے گی۔

    پی آئی اے کارپوریشن لمیٹیڈ، روزویلٹ ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری اسی سال ہوگی
    سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے کہا کہ پی آئی اے کارپوریشن لمیٹیڈ، روزویلٹ ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری اسی سال ہوگی۔پی آئی اے نے 800 ارب روپے کے واجبات ادا کرنے ہیں۔ پی آئی اے کو حکومت ہر سال 100 سے 125 ارب دیتی ہے۔ بینکوں کے 260 ارب روپے پی آئی اے کے ذمہ واجب الادا ہیں جن میں بینک آف پنجاب، سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، حبیب بینک،نیشنل بینک سمیت 9 بینکوں کے پیسے ہیں۔پی ایس او کے 20 ارب روپے اور سول ایوی ایشن 120 ارب روپے کے بقایاجات ہیں، سیکرٹری نجکاری کمیشن کمیٹی کو بتایا کہ ہمارا یہ ہدف ہے پی آئی اے کیلئے 6 بڈرز میں سے زیادہ سے زیادہ بڈنگ آئیں۔پی آئی اے کے کل اثاثے 160 ارب روپے کے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری میں اتنے بڑے واجبات کی وجہ سے کمپنیاں دلچسپی نہیں لے رہی تھیں۔ دنیا بھر میں یہی ہوتا ہے کہ کسی بھی سرکاری کمپنی کے واجبات حکومت اپنے ذمہ لے لیتی ہے تاکہ اس کی نجکاری ہو سکے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 600 ارب کی ادائیگی پی آئی اے کمپنی لمیٹیڈ سے نکال دی گئی ہے اور اس کو کور اور نان کور میں تقسیم کرکے وید ہولڈنگ کمپنی میں تبدیل کر دیا ہے۔600 ارب وید ہولڈنگ کمپنی میں جائیں گے اور 200 ارب کور کمپنی میں رہ جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا۔ پی آئی اے نے 25 فیصد سالانہ شرح سود سے قرض حاصل کیا تھا بینکوں سے بات کر کے اسے 12 فیصد پر لایا گیا ہے۔ روز ویلٹ ہوٹل کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔ بورڈ اس کی تجاویز تیار کر کے وفاقی کیبنٹ کو پیش کرے گا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے فرسٹ ویمن بینک میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔وفاقی کابینہ نے فروری 2024 میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ماڈ ٹرانزیکشن کی منظوری دی ہے۔نجکاری کمیشن نے نجکاری کے عمل کو جی ٹو جی بنیاد پر آگے بڑھانے کا آغاز کردیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے تکنیکی کنسلٹنٹ ہائرکرلیا گیا ہے اور ٹیکنیکل کنسلٹنٹ ستمبر 2024 تک پلان شیئر کرے گا۔رکن کمیٹی سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے کہا کہ نجکاری کے عمل کے لئے وزارت نے کتنا ریسرچ ورک کیا ہے اور کتنے فیصد ٹارگٹ حاصل کیا ہے اس کی تفصیل فراہم کی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت نجکاری سے نجکاری کی لسٹ میں شامل اداروں کی تفصیلات کا ڈیٹا بھی طلب کرلیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک کی جو معاشی حالت ہو گئی ہے لوگوں کی نظریں حکومت پر ہیں کہ ان نقصان دینے والے اداروں کے حوالے سے موثر فیصلہ کریں تاکہ ملک مزید خسارے سے نکل کر ترقی و خوشحالی اور استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر زبلال احمد خان، خالدہ اطیب، فیصل سلیم رحمان، خلیل طاہر، محسن عزیز، محمد قاسم، ندیم احمد بھٹو کے علاوہ سیکرٹری وزارت نجکاری، سیکرٹری نجکاری کمیشن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • پی آئی اے کے بعد کس کس کی نجکاری ہوگی؟ علیم خان نے بتا دیا

    پی آئی اے کے بعد کس کس کی نجکاری ہوگی؟ علیم خان نے بتا دیا

    وفاقی وزیر نجکاری وسرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان نے پرائیویٹائزیشن کے پانچ سالہ منصوبے پر میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کو التوا میں رکھنے سے قومی خزانے کو 850 ارب روپے کا نقصان ہوا

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ خسارے میں چلنے والے تمام منصوبوں کی تین مراحل میں تیزی سے نجکاری ہو رہی ہے،پرائیویٹائزیشن کا عمل صاف اور شفاف، میڈیا کو لائیو کوریج کی اجازت ہو گی، اونے پونے داموں ادارے نہیں بیچیں گے، زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کریں گے، نجکاری کا عمل مروجہ قوانین و ضوابط کے مطابق ہو رہا ہے،مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے، پی آئی اے، سٹیل مل اور ریکوڈک جیسے منصوبوں کی نجکاری منسوخ کر کے معیشت کو نقصان پہنچایا گیا،پی آئی اے کے بعد روز ویلٹ، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور فرسٹ ویمن بینک کی بھی نجکاری ہوگی، اگلے مرحلے میں پاور جنریشن اور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی پرائیویٹائزیشن کا عمل ہوگا، سٹیٹ لائف کارپوریشن، زرعی ترقیاتی بینک، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور پیکو بھی نجکاری فہرست میں شامل ہیں، تمام متعلقہ محکموں کو بھی آن بورڈ لیا ہے، نجکاری کا سارا عمل مربوط بنیادوں پر ہوگا

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اے کی نجکاری سے ملازمتوں کے ختم ہونے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نجکاری علیم خان نے قومی اسمبلی میں جواب دیا ہے.

    وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان نےایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے تقریباً 21 جہاز اس وقت اڑان بھر رہے ہیں,پی آئی اے کے پاس مجموعی طور 34 جہاز ہیں،پی آئی اے کے 13 جہاز اس وقت لینڈ کر چکے ہوئے ہیں،پارٹی جو پی آئی اے کو خریدے گی وہ ملازمین کو نہیں نکالے گی،پی آئی اے کے پاس بہترین اور لائق ملازمین ہیں،امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،حکومت اس وقت 24 کمپنیوں کی نجکاری چاہ رہی ہے،نجکاری والے اداروں میں پی آئی اے کی نجکاری سر فہرست ہے،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری بھی حکومتی پائپ لائن میں شامل ہیں،خسارے میں چلنے والے ادارے تب تک منافع بخش نہیں ہونگے جب تک حکومت ان کو چلانا نہیں چھوڑے گی،

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

  • پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    لاہور: نجکاری کمیشن بورڈ کا 219 واں اجلاس 3 جون 2024 کو وزیر برائے نجکاری/چیئرمین نجکاری کمیشن عبدالعلیم خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اسکروٹنی/تجزیے کے نتائج کی روشنی میں پری کوالیفکیشن کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے لیے آٹھ (08) دلچسپی رکھنے والی کمپنیز/کنسورشیمزکی جانب سے جمع کرائی گئی اہلیت کی دستاویزات (SOQs) پر بورڈ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد اور RSOQ میں طے شدہ تکنیکی، مالیاتی اور دستاویزی ضروریات سمیت معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے، چھ (06) دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں/کنسورشیمز کو پری کوالیفائی کرنے کا فیصلہ کیا، (1) فلائی جناح لمیٹڈ، (2) ایئر بلیو لمیٹڈ، (3) عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، (4) Y.B۔ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی سربراہی میں قائم کنسورشیم (کنسورشیم کے ممبران میں پائنیر سیمنٹ لمیٹڈ، آرٹسٹک ملنرز لمیٹڈ، اے این ایس کیپیٹل پرائیویٹ لمیٹڈ، میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ)، (5) پاک ایتھانول کے زیر قیادت کنسورشیم (کنسورشیم کے اراکین ایئر سیل ایئر لمیٹڈ، لیبرٹی لمیٹڈ، لیبرٹی لمیٹڈ پر مشتمل ہیں ) ، اور (6) بلیو ورلڈ سٹی کے زیر قیادت کنسورشیم (کنسورشیم کے اراکین بلیو ورلڈ ایوی ایشن، IRIS کمیونیکیشن لمیٹڈ پر مشتمل ہیں)۔ RSOQ کے تحت کنسورشیم میں نئے اراکین (LEAD نہیں) کو پرائیویٹائزیشن کمیشن کی اجازت سے، بولی جمع کرانے کی تاریخ سے 15 دن پہلے شامل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ کنسورشیم اور کنسورشیم کا مجوزہ نیا رکن RSOQ کی ضروریات کو پورا کرے۔ پری کوالیفائیڈ دلچسپی رکھنے والی پارٹیوں کو بولی لگانے کے عمل کے اگلے مرحلے میں مدعو کیا جائے گا جس میں خریداری کے لیے ڈیو ڈیلیجنس شروع کی جا سکے گی ۔

    سلمان خان پر قاتلانہ حملے کی کوشش میں پاکستانی بھی شامل ہے،ممبئی پولیس …

    اس سے قبل، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے اشتہارات کے جواب میں، جو کہ 2 اور 3 اپریل 2024 کو معروف قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں شائع کیا گیا تھا، آٹھ (08) دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کی جانب سے نجکاری کمیشن کو اہلیت کا بیانیہ آخری تاریخ یعنی 17 مئی 2024 تک موصول ہوا تھا.

    47خواتین کو قتل کرنے والا بدنام زمانہ سیریل کلر جیل میں قتل

  • حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک اداروں کے علاوہ تمام حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری ہوگی، چاہے وہ نفع بخش ہیں یا خسارہ زدہ ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت نجکاری اور نجکاری کمیشن کے امور پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزارت نجکاری اور نجکاری کمیشن نے نجکاری پروگرام 2024-2029 کا روڈ میپ پیش کیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا اسٹریٹجک اداروں کے علاوہ تمام ریاستی اداروں کی نجکاری ہوگی چاہے وہ نفع بخش ہیں یا خسارہ زدہ ہیں۔

    وزیراعظم نے تمام وفاقی وزارتوں کو تمام ضروری کارروائی اور نجکاری کمیشن سے تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، حکومت کا کام کاروبار اور سرمایہ کاری دوست ماحول یقینی بنانا ہے، حکومت کا کام کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے سہولیات اور آسانیاں فراہم کرنا ہوتا ہے، حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی اور سروسز کی فراہمی کا معیار بہتر بنانے میں مدد ملے گی، نجکاری کے عمل میں شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے۔

    امریکا میں ڈانس پارٹی میں فائرنگ،3 افراد ہلاک ،15 زخمی

    اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کیلئے بڈنگ اور اہم مراحل براہ راست نشر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دیگر اداروں کی نجکاری کے عمل کے مراحل کو بھی براہ راست نشر کیا جائے گا۔

    اجلاس کو حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے متعلق پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق پری کوالیفیکیشن کا عمل مئی کےاختتام تک مکمل کرلیا جائےگا،امریکا میں پی آئی اے کے ملکیتی ہوٹل روز ویلٹ کی نجکاری سے متعلق ضروری مشاورت کا عمل جاری ہے۔

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ فرسٹ ویمن بینک کی یو اے ای کے ساتھ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ٹرانزیکشن کی جا رہی ہے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پروگرام 2024-2029 میں شامل کر لیا گیا ہے، خسارہ زدہ حکومتی ملکیتی اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر پرائیوٹائز کیا جائے گا، نجکاری تیز اور مؤثر بنانے کیلئے نجکاری کمیشن میں ماہرین کا پری کوالیفائیڈ پینل بنایا جا رہا ہے۔

  • پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف

    پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف سامنے آئی ہے،

    سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کی اسکیم منظور کرلی ہے، اس ضمن میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ” 3 مئی کو پی آئی اے کی نجکاری میں اسکیم آف ارینجمنٹ منظور ہوئی، فیصلے سے اسٹاک مارکیٹ کو بھی آگاہ کردیا گیا، اسکیم آف ارینجمنٹ میں پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ کے تمام اثاثے، خسارے اور قرض پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کردیے گئے ہیں”۔

    سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری میں اہم قانونی پیشرفت سے متعلق وزارت خزانہ اور وزارت نجکاری کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے، اسکیم آف ارینجمنٹ کیلئے وزارت نجکاری نے وزارت خزانہ اور ایوی ایشن کی مشاورت اور معاونت حاصل کی تھی،پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈیپازیٹری اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی کو بھی باضابطہ آگاہ کردیا گیا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی لسٹنگ کیلئے رولز اور ریگولیشن اب باآسانی کی جاسکتی ہیں

    قبل ازیں وفاقی وزیر برائے نجکاری ،سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کےلئے اب تک 10بڑے اداروں نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ابتدائی دستاویزات حاصل کر لی ہیں جبکہ پرائیویٹائزیشن کمیشن پی آئی اے کی نجکاری کے لئے15دن کی توسیع کر رہا ہے اور 18مئی تک اظہار دلچسپی کے کاغذات داخل کیے جا سکیں گے اور اس تاریخ میں مزید توسیع نہیں ہوگی۔

    کونسی کمیٹی اپوزیشن کو جائے گی، کونسی حکومت کو ،ملکر طےکرتے ہیں،سپیکر قومی اسمبلی

    متروکہ وقف املاک کی 14 سو47 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے،وزیر قانون

    عمران خان کی سابق معاون خصوصی کو حکومت میں عہدہ مل گیا

    پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض عائد

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری