Baaghi TV

Tag: نظام شمسی

  • ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت

    ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت

    سائنسدانوں نے ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت کی ہے-

    باغی ٹی وی : eROSITA نامی دوربین نے کائناتی سرنگ کا سراغ لگایا ہے، جو زمین کے مدار میں گھومتی رہتی ہے، یہ دوربین خلا سے آنے والے کمزور ترین ایکس ریز کو بھی پکڑ سکتی ہے،محقق مائیکل فریبرگ نے بتایا ہے کہ گیس کے حصار کے بارے میں ایروزیٹا دوربین نے اب تک کے آلات کے مقابلے میں زیادہ وضاحت سے بتایا ہے۔

    اسپیس ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی کے نزدیک ایک انٹراسٹیلر ٹنل دریافت ہوئی ہے یعنی ایسی سرنگ جس سے گزر کر دوسری دنیاؤں تک پہنچنا ممکن ہوسکتا ہے۔

    معروف جریدے ایسٹرونومی اینڈ ایسٹرو فزکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایک کائناتی سرنگ دریافت کی ہے جو فلکیات کی اصطلاح میں لوکل ہاٹ ببل کی طرح ہے، ہمارے نظامِ شمسی کے گرد گرم گیس کا ایک بڑا ہالا ہے ماہرین کے خیال میں یہ کائناتی سرنگ ہمیں اپنی کہکشاں کے دوسرے ستاروں تک پہنچانے کا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔

    لوکل ہاٹ ببل باریک، گرم گیس کا ایسا علاقہ ہے جو ہمارے نظامِ شمسی کے گرد پایا جاتا ہے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ہالا ایک کروڑ 40 لاکھ سال قبل بنا ہوگا اور ایسا تب ہوا ہوگا جب بہت سے بڑے ستارے پھٹے ہوں گے اور اُن سے گیس خارج ہوئی ہوگی۔

    گیسوں کے اس بلبلے کے بارے میں سائنس دان ایک زمانے سے جانتے تھے مگر اب اس میں ایک کائناتی سرنگ کے امکان کا بھی پتا چلا ہے گیس کا یہ ہالا ہمیں ستاروں کے اُس جھرمٹ تک لے جاسکتا ہے جسے سینٹارس (Centaurus) کہا جاتا ہے۔

    طبعیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی انسان سوچ سکتا ہے وہ ممکن ہے مگر مسئلہ وسائل اور موزونیت کا ہے ہیئت کے ماہرین اس خیال کے حامل رہے ہیں کہ انسان دوسرے سیاروں کا سفر بھی کرسکتا ہے اور وہاں آباد بھی ہوسکتا ہے سوال صرف ٹیکنالوجیز کی پیشرفت کا ہے۔

  • 80 ہزار سال کے بعد ” دم دار ستارے ”  کی واپسی

    80 ہزار سال کے بعد ” دم دار ستارے ” کی واپسی

    کراچی: 80 ہزار سال کے بعد ” دم دار ستارے ” کی واپسی ہوئی ہے جو کہ اگلے دو ہفتوں کیلئے زمین سے کھلی آنکھ سے دکھائی بھی دے گا۔

    باغی ٹی وی: سپارکو کی جانب سے جاری کر دہ اعلامیے میں کہا گیاہے کہ دم دارستارہ سوچن شان اٹلس ‘جنوری 2023 میں چین کی سوچن شان آبزرویٹری نے دریافت کیا تھا، دمدارستارہ نظام شمسی کے مضافات سے چکرلگاتا ہوا 80 ہزار سال بعد دوبارہ واپس آیاہے، دم دارستارہ اگلے دوہفتوں کیلئے کرہ ارض پررہنے والوں کوکھلی آنکھ سے مشاہدے کاموقع فراہم کرےگا-

    اعلامیے میں کہا گیا کہ آج کل مشرق کی سمت افق سے معمولی اونچائی پرسورج نکلنے سے ایک گھنٹہ پہلے دکھائی دےگا،12 اکتوبرکے بعددم دارستارہ مغرب کی سمت سورج غروب ہونے کے چند منٹوں بعد دکھائی دے گا، نایاب موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اورقدرت کے اس حسین نظارے کو زندگی بھریاد رکھئے۔

  • 2024 کا پہلا سورج گرہن 8 اپریل کو  ہوگا

    2024 کا پہلا سورج گرہن 8 اپریل کو ہوگا

    2024 کا پہلا سورج گرہن 8 اپریل کو ہوگا-

    باغی ٹی وی: سورج گرہن کا مشاہدہ شمالی امریکی ممالک جیسے میکسیکو، امریکا اور کینیڈا میں کیا جا سکے گا،اگست 2017 کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب امریکا میں مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کیا جائے گا اور اگلی بار اسے دیکھنے کے لیے خطے کے لوگوں کو اگست 2044 تک انتظار کرنا ہوگا، دنیا میں آخری بار مکمل سورج گرہن دسمبر 2021 میں ہوا تھا مگر اس کا مشاہدہ صرف انٹار کٹیکا میں ہوا تھا۔

    سورج گرہن کا آغاز میکسیکو سے ہو گا جہاں سے شمال مشرقی سمت میں امریکا کی جانب سے سفر کرتا ہوا کینیڈا کے مشرقی صوبوں میں اختتام پذیر ہوگا، صرف امریکا میں ہی 3 کروڑ 30 لاکھ افراد سورج گرہن کا مشاہدہ کر سکیں گے،مکمل سورج گرہن کے دوران چاند کا سایہ مکمل طور پر سورج کو چھپا لیتا ہے اور اس دوران دن کے وقت بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔

    ایک ہی خاندان کے 5 افراد کو قتل کرنے والے 3 مرکزی ملزمان …

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق 8 اپریل کو ہونے والے مکمل سورج گرہن کا دورانیہ ساڑھے 3 سے 4 منٹ تک ہو گا، چاند اچانک سورج کے سامنے نہیں آتا بلکہ جزوی گرہن سے اس عمل کا آغاز ہوتا ہے جس سے سورج ہلال کی طرح نظر آنے لگتا ہے،اس جزوی سورج گرہن کا دورانیہ 70 سے 80 منٹ تک ہوگا،8 اپریل کو سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق 9 اپریل کی شب 12 بج کر 7 منٹ کو ہوگا اور اس کا اختتام ایک بج کر 46 منٹ پر ہوگا، اس کے بعد اگلا مکمل سورج گرہن اگست 2026 میں ہوگا جو گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور پرتگال جیسے ممالک میں دیکھنے میں آئے گا۔

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھا لیا،عارف علوی نے حلف لیا

    جب چاند سورج کے سامنے سے گزرتا ہے تو ہمارے نظام شمسی کی شعاعوں سے چاند کے کونے جگمگاتے محسوس ہوتے ہیں، مگر مکمل گرہن کے ساتھ جگمگاہٹ غائب ہو جاتی ہے، میکسیکو، امریکا اور کینیڈا کے جو علاقے سورج گرہن کے راستے میں نہیں ہوں گے، وہاں کے رہائشی جزوی گرہن کا مشاہدہ کر سکیں گے جس میں چاند صرف سورج کے چہرے کو بلاک کرتا ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے وزیر اعلیٰ سندھ کی ملاقات

  • اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت

    اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت

    امریکا اور یورپ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نظامِ شمسی سے باہر دو بڑے سیاروں کا تصادم ہوا ہے،جس کے نتیجے میں دونوں سیارے مکمل طور پر پگھل گئے اور گیس کا بہت بڑا بادل پیدا ہوا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق دونوں سیاروں کا مرکزی حصہ برقرار ہے اور گیس کے بادل میں چھپا ہوا ہےماہرین نے یہ بھی بتایا کہ یہ واقعہ بہت پہلے کا ہے جو ریکارڈ اب ہوا ہے دونوں سیاروں کے تصادم کے نتیجے میں جو روشنی پیدا ہوئی وہ ہزار دن برقرار رہی۔

    ماہرین نے بتایا کہ دونوں سیاروں کا حجم زمین سے دسیوں گنا تھا کائنات کی وسعتوں میں ستارے تباہ ہوتے رہتے ہیں اور سیاروں کے درمیان تصادم رونما ہوتا رہتا ہے جب کوئی بڑا ستارہ ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی قوتِ تجاذب انتہائی بڑھ جاتی ہے اور پھر وہ بلیک ہول میں تبدیل ہوتا ہے، کسی بھی بلیک ہول سے کوئی چیز نہیں بچ سکتی، روشنی بھی نہیں، بلیک ہولز جو کچھ بھی اپنے اندر جذب کرتے ہیں اس کا کیا بنتا ہے یہ سائنس دانوں پر واضح نہیں کیونکہ روشنی کے عدم وجود کے باعث بہت کچھ دیکھ پانا اور سمجھ پانا ممکن نہیں۔

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کب کروائے گی ،تاریخ اور شیڈول جاری

    دوسری جانب ایک اور تحقیق میں ماہرینِ فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت کر لیا ہے نیچر آسٹرونومی نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین فلکیات نے چلی میں بہت بڑی ٹیلی اسکوپ کی مدد سے خلا میں اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہے غیر معمولی طاقت کے حامل اس بلیک ہول کو J0529-4351 کا نام دیا گیا ہے، جو ہمارے سورج سے 17 بلین گنا بڑا ہے۔

    یہ بلیک ہول بنیادی طور پر کہکشاں کا مرکزی حصہ ہے، فلکیات کی اصطلاح میں اسے ’ایکٹیو گیلیکٹک نیوکلیئس‘ (AGN ) کہا جاتا ہے،محققین کے مطابق یہ انتہائی وسیع بلیک ہول ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر ہمارے سورج کے مساوی مواد نگل رہا ہے اس بلیک ہول کا پتہ برسوں پہلے لگایا گیا تھا تاہم اس کی تفصیلات حال ہی میں ایک مکمل مطالعے کے بعد سامنے آئی ہیں۔

    اڈیالہ جیل انتظامیہ کا بشری بی بی کو جیل منتقل کرنے سے انکار

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے محقق کرسچین ولف نے بتایا ہے کہ کسی بھی بلیک ہول کے غیر معمولی تجاذب سے چیزیں پھٹ جاتی ہیں اور یوں غیر معمولی روشنی پیدا ہوتی ہے، J0529-435 کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں 12 ارب سال لگے ہیں،اس بلیک ہول کا قطر 7 نوری سال ہے، جس سے خارج ہونے والی روشنی ہمارے سورج سے خارج ہونے والی روشنی سے 500 کھرب گنا زیادہ ہے J0529-435 کا درجۂ حرارت 10 ہزار سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے اور اس کے دائرے میں چلنے والی ہواؤں کی رفتار اتنی ہے کہ ایک سیکنڈ میں زمین کا چکر لگا سکتی ہیں۔

    کے پی کی نگران حکومت نے آئندہ 4 ماہ کا بجٹ تیار کر لیا

  • ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ٹوکیو: ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : زمین جیسے سیاروں کی تلاش علمِ فلکیات اور سیاروں کا ایک بنیادی پہلو ہے سائنس دان ایسے سیاروں کو تلاش کرنے کے لیے انتہائی جدوجہد کر رہے ہیں جہاں زندگی کے لیے سازگار حالات موجود ہوں اور اب یہ جدوجہد رنگ لارہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی مسلسل کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں جو ممکنہ طور پر سیارہ نیپچون سے آگے کے مدار میں واقع ہے۔

    سعودی عرب کا تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید توسیع کا اعلان

    یہ کھوج جاپان کے شہر اوساکا میں کنڈائی یونیورسٹی کے محقق پیٹرک صوفیا لکاوکا اور ٹوکیو میں جاپان کی قومی فلکیاتی رصد گاہ کے ماہر فلکیات تاکاشی ایتو کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

    آسٹرونومیکل جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا کہ ہم زمین جیسے سیارے کے وجود کی پیش گوئی کررہے ہیں ایک ابتدائی سیاروں کا جسم دور دراز کوائپر بیلٹ (نیپچون سے بھی آگے مدار) میں کوئپر بیلٹ سیارے (KBP) کے طور پر موجود ہو سکتا ہے کیونکہ ابتدائی نظام شمسی میں بہت سے ایسے سیارے موجود تھے۔

    برکینا فاسو میں شدت پسندوں کا حملہ،53 افراد ہلاک،30 زخمی

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیپچون سے آگے کوئپر بیلٹ کی مداری ساخت کے بارے میں مزید تفصیلی علم بیرونی نظام شمسی میں کسی فرضی سیارے کے وجود کو یا تو ثابت کردے گا یا مسترد کر سکتا ہے۔

    محققین لکھتے ہیں اختتام میں، کوائپر بیلٹ سیارے کے منظر نامے کے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نظام شمسی میں ابھی تک دریافت نہیں کیا گیا ہے،سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نظریاتی سیارے کا مدار ممکنہ طور پر اسے سورج سے 250 اور 500 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے درمیان رکھے گا۔

    محققین کا خیال ہے کہ کوئپر بیلٹ کے قریب کسی سیارے کی شناخت سیارے کی تشکیل اور ارتقاء کے عمل کے بارے میں تازہ بصیرت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مطالعہ کے اس شعبے میں نئی ​​رکاوٹیں اور تناظر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا

  • زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    سائنسدانوں نے زمین کا وہ مقام دریافت کیا ہے، جہاں سورج کی روشنی سب سے زیادہ پڑتی ہے، جہاں روشنی کی مقدار زہرہ جتنی ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی: زہرہ نظام شمسی کا دوسرا اور ہماری زمین کا پڑوسی سیارہ ہے یہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے گرم سیارہ تصور کیا جاتا ہے اوراب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر سب سے زیادہ دھوپ والی جگہ صحرائے اٹاکاما کا الٹیپلانو ہے، جو چلی میں اینڈیس پہاڑوں کے قریب ایک بنجر سطح مرتفع ہے جو زہرہ کی طرح سورج کی روشنی حاصل کرتا ہے۔

    نیدرلینڈز کی خرونیگین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایاگیاکہ براعظم جنوبی امریکا کےمغربی ساحل پر کوہ انڈیز کے قریب صحرائے ایٹا کاما کے سطح مرتفع جو تقریباً 13,120 فٹ (4,000 میٹر بلندی پر زہرہ جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہےاس صحرا کو امریکا کی ڈیتھ ویلی سے 100 گنا زیادہ خشک اور بنجر تصور کیا جاتا ہے اور یہاں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں صدیوں سے بارش نہیں ہوئی-

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    صحرائے اٹاکاما متعدد وجوہات کی بناء پر خاص ہے یہ زمین کا قدیم ترین صحرا ہے، قطبوں سے پرے خشک ترین اور ممکنہ طور پر رات کے آسمان کو دیکھنے کے لیے صاف ترین جگہ ہے۔ اس صحرا کا بیشترحصہ چلی میں واقع ہے جبکہ کچھ حصے پیرو، بولیویا اور ارجنٹینا میں موجود ہیں، مگر سائنسدانوں نے چلی کے علاقے میں تحقیق کی تھی یہاں تبت کے بعد دنیا کا دوسرا بلند ترین سطح مرتفع موجود ہے اور وہاں موسم گرما (اس خطے میں موسم گرما جنوری سے مارچ تک ہوتا ہے) میں سورج کی روشنی کی توانائی یا ریڈی ایشن کی فی اسکوائر میٹر مقدار 2177 واٹس ریکارڈ کی گئی عموماً زمین کی فضا میں سورج کی روشنی کی ریڈی ایشن فی اسکوائر میٹر مقدار اوسطاً 1360 واٹس ہوتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بتایا کہ اس صحرا میں ریڈی ایشن کی شدت ایسی ہے جیسے آپ سیارہ زہرہ میں کھڑے ہوں ان کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف اس لیے حیران کن ہےکیونکہ زہرہ زمین کے مقابلے میں سورج سے 28 فیصد زیادہ قریب ہےاوسطاً اس سطح مرتفع میں 308 واٹس فی اسکوائر میٹر شمسی ریڈی ایشن موجود ہوتی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز …

    محققین کے مطابق اس صحرا میں شمسی توانائی کے حصول کے مواقع وسطیٰ یورپ اور امریکا کے ایسٹ کوسٹ کے مقابلے میں اوسطاً دوگنا زیادہ ہیں اتنی زیادہ شمسی ریڈی ایشن خطرناک ہوتی ہےاورآپ کو جِلد کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہےماضی میں سیٹلائیٹ ڈیٹا سے عندیہ ملا تھا کہ زمین پر سورج کی سب سے زیادہ روشنی اسی صحرا پر پڑتی ہے مگر اس تحقیق میں اس کی شدت اور ریڈی ایشن کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    ناسا کے ایک ماحولیاتی سائنسدان سیجی کاٹو، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ جب شمسی شعاعیں فضا کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں، تو یہ پانی کے بخارات کے ذریعے جذب ہو جاتی ہے اور بادلوں اور ایروسولز کے ذریعے بکھر جاتی ہے تاہم، ایک بلندی وہ مقام جو پانی کے بخارات کی تہہ سے اوپر ہے اور اس میں کم بادل ہیں اور ایروسول لامحالہ زیادہ دھوپ حاصل کریں گے چلی کی دھوپ کی ایک اور وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔

    کینیڈا میں چھوٹا طیارہ گرکر تباہ ،6 افراد ہلاک

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ریڈی ایشن کی بہت زیادہ شدت کو اس علاقے کے اوپر موجود بادلوں میں دیکھا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ عموماً بادل سورج کی روشنی کو روک دیتے ہیں یا ان کو واپس خلا میں بھیج دیتے ہیں، مگر اس صحرا میں بادل بہت پتلے ہوتے ہیں جو سورج کی روشنی پرکسی عدسے کی طرح کاکام کرتےہیں، یعنی سطح پرشمسی ریڈی ایشن کی شدت کو 80 فیصد بڑھا دیتے ہیں مگر محققین کا کہنا تھا کہ سورج کی بہت زیادہ روشنی، ریڈی ایشن اور شدید درجہ حرارت کےدرمیان فرق ہوتا ہےاس صحرا کاماحول کسی حد تک سرد ہے کیونکہ یہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر ہے جبکہ بحر الکاہل کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی اس علاقے کا درجہ حرارت حد سے زیادہ نہیں بڑھتا۔

  • ناسا نظامِ شمسی کے سب سے قیمتی سیارچے پر خلائی جہاز روانہ کرے گا

    ناسا نظامِ شمسی کے سب سے قیمتی سیارچے پر خلائی جہاز روانہ کرے گا

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اسپیس ایکس نامی کمپنی کے اشتراک سے ایک خلائی جہاز تیار کیا ہے جو ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے قیمتی سیارچے کی جانب روانہ کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : سیارہ مشتری اور مریخ کے درمیان مشہور سیارچی پٹی (ایسٹرایڈ بیلٹ) میں 16 سائیکی نامی ایک سیارچہ موجود ہے جو مکمل طور پر فولاد سونے اور جرمن چاندی (نِکل) پر مشتمل ہے۔ اس خلائی جہاز کا نام بھی سائیکی رکھا گیا ہے جو لگ بھگ چار ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اس سیارچے تک پہنچے گا۔

    ماہرین کے مطابق 16 سائیکی پر لگ بھگ 10 ہزار کواڈرئلیئن ڈالر کا دھاتی خزانہ موجود ہے۔ لیکن اس کا مطالعہ کرنے سے خود ہمیں نظامِ شمسی کی پیدائش اور ارتقا کے متعلق بہت کچھ جاننے کا موقع ملے گا اسے کینیڈی خلائی مرکز سے 5 اکتوبر2023 کو طویل خلائی سفر پربھیجا جائے گا۔

    ٹوئٹر صارفین کو ڈی ایم بھیجنے کیلئے بھی فیس ادا کرنا ہو گی

    ماہرین نے اس کے تمام سافٹ ویئر، ہارڈویئر اور دیگرنظاموں کو چیک کیا گیا ہے ۔ تاہم سائیکی اپنی زیادہ تربجلی شمسی پینل سے تیارکرے گا ۔ اس کا وزن 1085 کلوگرام ہے جس میں زینون پروپیلنٹ شامل کیا گیا ہے جو خلائی جہاز کو درست سمیت میں دھکیلنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر سوا دو برس تک یہ 16 سائیکی کے مدار میں رہ کر اس کا ڈیٹا، نقشہ کشی اور دیگر تفصیلات حاصل کرے گا۔ 16 سائیکی کی چوڑائی لگ بھگ 279 کلومیٹر ہے اور یہ ایک ناکام سیارہ ہے جو سیارہ بنتے بنتے رہ گیا ہے۔

    سائیکی ایک بکھرے ہوئے سیارے کا جزوی مرکز ہو سکتا ہے – ایک چھوٹی سی دنیا کسی شہر یا چھوٹے ملک کی جسامت جو کسی سیارے کا پہلا بلڈنگ بلاک ہے۔ اگر ایسا ہے تو، سیارچہ سائیکی زمین جیسے زمینی سیاروں کے اندرونی حصے پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے جو عام طور پر مینٹل اور کرسٹ کی تہوں کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔

    واٹس ایپ کو اینڈرائیڈ اسمارٹ واچز میں متعارف کرا دیا گیا

    زمین پر ماہرین فلکیات نے مرئی اور اورکت طول موجوں کے ساتھ ساتھ ریڈار میں سائیکی کا مطالعہ کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ سائیکی کی شکل کسی حد تک آلو جیسی ہے۔

    سائیکی سورج سے 235 ملین سے 309 ملین میل (378 ملین سے 497 ملین کلومیٹر) کے فاصلے پر مریخ اور مشتری کے درمیان سورج کا چکر لگاتا ہے۔ یہ 2.5 سے 3.3 فلکیاتی یونٹس (AU) ہے، جس میں 1 AU زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ ہے۔ سائیک کو سورج کا ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً پانچ زمینی سال لگتے ہیں، لیکن اسے اپنے محور پر ایک بار گھومنے میں صرف چار گھنٹے لگتے ہیں-

    ساحل پر سمندر سے بہہ کر آنیوالا پراسرار دھاتی سلنڈرمعمہ بن گیا

  • نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کے ماحول میں پہلی بار کاربن ڈائی آکسائیڈ کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 700 نوری سال کے فاصلے پر سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک گیسی سیارے کی اس مشاہدے سے سیارے کی ساخت اور تشکیل کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کی جانے والی اس دریافت سے یہ بات سامنے آتی ہے خلاء میں موجود یہ مشاہدہ گاہ ممکنہ طور پر زندگی کے متحمل چھوٹے اور چٹیل سیاروں کے باریک ماحول میں موجود گیس کی نشان دہی اور پیمائش کرسکتی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار


    ماہرین کے مطابق WASP-39 bایک گرم گیس کا گولا ہے جو زمین سے 700 نوری سال کے فاصلے پر موجود سورج جیسے ایک ستارے کے گرد گھوم رہا ہے اس سیارے کا وزن مشتری کے ایک چوتھائی وزن (تقریباً زحل کے برابر) کے برابر ہے جبکہ اس کا قطر مشتری سے 1.3 گُنا بڑا ہے۔

    اس سیارے کے یوں پھولے ہوئے ہونے کی وجہ اس کا شدید درجہ حرارت ہے، جو سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریبا 1,600 ڈگری فارن ہائیٹ یا 900 ڈگری سیلسیس تک ہے۔


    ہمارے نظامِ شمسی کے دیگر گیس کے گولوں کے برعکس WASP-39 b اپنے مرکزی ستارے کے بہت قریب گردش کرتا ہے۔ اس سیارے اور اس کے ستارے کے درمیان فاصلہ، سورج اور عطارد کے درمیان فاصلے کا آٹھواں حصہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر چار زمینی دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔


    اس سیارے کی دریافت 2011 میں زمین پر نصب ٹیلی اسکوپ سے ہوئی تھی ناسا کی ہبل اور سپٹزر خلائی دوربینوں سمیت دیگر دوربینوں کے پچھلے مشاہدات نے سیارے کی فضا میں پانی کے بخارات، سوڈیم اور پوٹاشیم کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاہم، اپنی مثال آپ انفراریڈ سینسٹیویٹی کی حامل جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اب اس سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔

    نا سا ماہرین کے مطابق منتقل کرنے والے سیارے جیسے WASP-39 b، جن کے مدار کا اوپر سے بجائے کنارے پر مشاہدہ کرتے ہیں، محققین کو سیاروں کے ماحول کی تحقیقات کے لیے مثالی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔

    ٹرانزٹ کے دوران، کچھ ستاروں کی روشنی سیارے سے مکمل طور پر گرہن ہوتی ہے (مجموعی طور پر مدھم ہونے کی وجہ سے) اور کچھ سیارے کے ماحول سے منتقل ہوتی ہے۔

    چونکہ مختلف گیسیں رنگوں کے مختلف امتزاج کو جذب کرتی ہیں، محققین طول موج کے طول موج میں منتقل ہونے والی روشنی کی چمک میں چھوٹے فرق کا تجزیہ کر سکتے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ماحول کس چیز سے بنا ہے۔ فلایا ہوا ماحول اور بار بار آمدورفت کے امتزاج کے ساتھ، WASP-39 b ٹرانسمیشن سپیکٹروسکوپی کے لیے ایک مثالی ہدف ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • نظامِ شمسی کے قریب  زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    شیکاگو: ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

    سیاروں کا پیرنٹ ستارہ ایک نام نہاد M بونا ہے، جو سورج کی جسامت اور چمک کے دسویں حصے کا ایک چھوٹا ستارہ ہے۔ پھر بھی، سیاروں کی سطحوں پر درجہ حرارت بالترتیب 818 ڈگری فارن ہائیٹ (437 ڈگری سیلسیس) اور 548 ڈگری فارن ہائیٹ (287 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ جاتا ہے۔

    میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں فلکیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اور اس دریافت کے پیچھے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک مشیل کونیموٹو نے بیان میں کہا کہ ہم اس حد کو رہائش پذیر زون سے باہر سمجھتے ہیں پھر بھی، یہ دو سیارے ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں مزید جاننے کا ایک دلچسپ نیا موقع فراہم کریں گے-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    Kunimoto نے کہا کہ اس نظام کے دونوں سیاروں کو اپنے ستارے کی چمک کی وجہ سے ماحول کے مطالعہ کے لیے بہترین اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔” "کیا ان سیاروں کے ارد گرد اتار چڑھاؤ سے بھرپور ماحول موجود ہے؟ اور کیا پانی یا کاربن پر مبنی انواع کے آثار ہیں؟ یہ سیارے ان دریافتوں کے لیے بہترین ٹیسٹ بیڈ ہیں۔

    محققین ستارے کے نظام کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس میں اور بھی سیارے ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ، شاید، ہمارے سیارے سے تھوڑا دور ہوسکتے ہیں۔

    TESS مشن کے MIT کے تحقیقی سائنسدان اوردریافت کےشریک مصنف، Avi Shporer نے بیان میں کہا نظام میں مزید سیارے ہو سکتے ہیں بہت سے ملٹی پلینٹ سسٹمز ہیں جو پانچ یا چھ سیاروں کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے ستاروں کے ارد گرد۔ اس کی طرح امید ہے کہ ہم مزید تلاش کریں گے، اور شاید کوئی قابل رہائش زون میں ہو۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    واضح رہے کہ 2018 میں خلاء میں نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش کے لیے بھیجا جانے والا اسپیس کرافٹ ٹرانزٹ طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یہ فاصلے پر موجود ستارے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے کب اس کی روشنی میں خلل آئے جو اس بات ثبوت کا ہوتی ہے کہ اس ستارے گرد گھومنے والے سیارے ٹیس اور اس ستارے کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس کرافٹ 200 سے زائد مصدقہ ایکسو پلینٹ دریافت کر چکا ہے، جس کے بعد ماہرینِ فلکیات کی دریافتوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے-

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

  • 29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

    29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

    نظام شمسی کے دو بڑے سیارے مریخ اور مشتری 29 مئی کو آسمان پر نمودار ہوں گے-

    باغی ٹی وی : ارتھ سکائے کے مطابق فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس ماہ کے آخری دنوں میں شمالی نصف کرے(ناردن ہیمی اسفیئر) کےممالک صبح کے وقت نظام شمسی کے دو بڑے ،اہم اور خوبصورت سیاروں کو دیکھ سکیں گےان سیاروں میں نظامِ شمسی کا سب سے بڑی سیارہ ، مشتری (جوپیٹر) اور دوسرا سرخ سیارہ مریخ (مارس) شامل ہیں-

    سورج 28 مئی کوخانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا


    ماہرین فلکیات کے مطابق اس وقت فجر سے کچھ دیر پہلے سیارہ مریخ دکھائی دے رہا ہے لیکن یہ 29 مئی کی صبح گویا مشتری کے بالکل قریب جاپہنچے گا اگرچہ یہاں قربت کا مفہوم حقیقی معنوں میں نہ سمجھا جائے کیونکہ ان دونوں سیاروں کے درمیان اس وقت بھی 56 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہوگا۔ بس زمین سے وہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں گے۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق اب 29 مئی کو مشتری اور مریخ اتنے قریب جاپہنچیں گے کہ ان کے درمیان ایک مکمل چودہویں کے چاند کی ٹکیہ کے برابر ہی فاصلہ رہے گا اپنی چمک کی بنا پر یہ دونوں آسانی سے دیکھے جاسکیں گے۔

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے


    ماہرین کا کہنا ہے کہ مہینے کے آخری دنوں میں چاند کی روشنی بھی کم ہو گی یوں دونوں سیارے اچھی طرح دیکھیں جاسکیں گے اگر آپ مشتری اور مریخ کے اوپر گراف کی طرح بلند ہوتی ہوئی ایک لکیر کھینچیں تو نظامِ شمسی کا ایک اور شاندار سیارہ سیارہ زحل (سیٹرن) بھی آپ کے سامنے ہوگا جو اپنے دائروں اوربہت سارے چاندوں کی وجہ سے بہت مشہور اور دلکش بھی ہے۔

    تصاویر بشکریہ :سکائی ارتھ
    واضح رہے کہ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش شمالی نصف کرے میں شامل ہیں اور یوں ہم اس فلکیاتی نظارے سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی