Baaghi TV

Tag: نوازشریف

  • مریم نواز لندن پہنچ گئیں: خاندان کے افراد سے 4 سال بعد ملاقات

    مریم نواز لندن پہنچ گئیں: خاندان کے افراد سے 4 سال بعد ملاقات

    لندن:مریم نواز لندن پہنچ گئیں:خاندان کےافراد سے 4 سال بعد ملاقات،اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز لندن پہنچ گئیں۔ذرائع کے مطابق مریم نواز کے ہمراہ ان کے صاحبزادے جنید صفدر اور بہو عائشہ بھی ہیں، شریف فیملی کے افراد مریم نواز کو لینے کیلئے ائیرپورٹ پہنچ گئے۔

    رپورٹس کے مطابق مریم نواز کی بھائی حسن نواز سے ائیرپورٹ پر ملاقات ہوئی جس کی تصویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہی ہے، تصویر میں بہن بھائی کو گلے لگے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

     

     

    اس حوالے سے مرتضیٰ علی شاہ نے بھی ٹویٹ کرکے مریم نواز کی اپنے بھائی حسن نواز سےملاقات کا منظرشیئرکیا جوبہت زیادہ پسند کیا جارہا ہے

     

     

    یاد رہے کہ مریم نواز،اپنی بیمار والدہ کو چھوڑ کر 4 برس قبل نواز شریف کے ہمراہ پاکستان گئیں تھیں مریم کی نواز شریف سے ملاقات کو بھی تقریباً تین برس ہوچکے ہیں۔پاکستان سے روانگی سےقبل انہوں نےکہا تھا کہ وہ والد سے ملنے کیلئے بے چین ہیں۔مریم نواز پاسپورٹ واپس ملنے کے بعد گزشتہ روز لندن کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے لندن روانگی کے لیے لاہور ائیرپورٹ پہنچنے سے قبل دادا، دادی اور والدہ کی قبروں پر فاتحہ خوانی بھی کی تھی۔خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز تقریباً ایک ماہ لندن میں قیام کریں گی جس کے بعد ان کا اپنے والد نواز شریف کے ہمراہ وطن واپس آنے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد منگل کو مریم نواز کو ان کا پاسپورٹ واپس مل گیا تھا۔

  • حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے کا فیصلہ

    حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے کا فیصلہ

    لاہور:حمزہ شہباز اس وقت لندن میں ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حمزہ شہباز کو پنجاب میں اہم ذمہ داری دے دی گئی ہے جس کو وہ واپس آتے ہی سنبھال لیں گے ، یہ ذمہ داری کیا ہے اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ نوازشریف کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کی طرف سے حمزہ شہبازکو پنجاب اسمبلی ميں قائد حزب اختلافہوں گے ، اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی کی جانب سے فیصلے کی توثيق بھی کردی گئی ہے۔

    اگر میں کل جج نہیں رہتا تو آج کے آرڈر کالعدم تو نہیں ہو جائیں گے ،جسٹس عامر فاروق

    ادھراس حوالے سے ن لیگ کے ذرائع نے بھی تصدیق کردی ہےکہ پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کی پارلیمانی پارٹی میں حمزہ شہباز کو قائد حزب اختلاف بنانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔

     

    نوازشریف وطن واپس آکر شہباز شریف کو ہٹائیں. شیریں مزاری نے مطالبہ کردیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی میں آج باضابطہ طور پر حمزہ شہباز کا نام پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ فیصلے پر مسلم لیگ ن نے اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت مکمل کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز (ن ) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی اکثریتی جماعت ہے۔ اتحادی بھی حمزہ شہباز کے نام پر رضا مند ہوگئے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حمزہ شہباز ان دنوں نجی دورے پر لندن میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔

    ارسلان خالد کو آئی ٹی کی وزارت دینے کیخلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کی اپوزیشن لیڈر کے طور پرمنظوری کے حوالے سے اسپیکر کو بہت جلد پارٹی کی طرف سے درخواست دیئے جانے کا امکان ہے

    پنجاب اسمبلی کے ایوان میں اراکین کی کل تعداد 371 ہے۔ پنجاب میں اس وقت سامنے آنے والی پارٹی پوزیشن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اسمبلی میں پہلے 163 ممبران تھے لیکن ضمنی الیکشن میں 15 نشستیں حاصل کرنے سے اس کے ارکان کی تعداد 178 ہوگئی ہے۔

    پنجاب میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت (ق) لیگ کے کل 10 ارکان ہیں جس کے بعد دونوں جماعتوں کے پنجاب اسمبلی میں اس وقت مجموعی طور پر 188 ارکان ہیں۔

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کےپہلے پنجاب اسمبلی میں 164 ارکان تھے لیکن ضمنی الیکشن میں 4 نشستیں لینے کے بعد اب اس کے ارکان کی تعداد 168 ہوگئی ہے۔اس کےعلاوہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے 7 ارکان ہیں جب کہ 3 آزاد ارکان اور ایک رکن راہِ حق پارٹی کا ہے جس کے بعد (ن) لیگ کے اتحادیوں کے ساتھ کل نمبر 179 ہیں۔

    17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوا ہے جب کہ رکن پنجاب اسمبلی چوہدری نثار غیر فعال ہیں۔پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں (ن) لیگ کے 2 ارکان کے استعفوں کے بعد اس وقت بھی 2 نشستیں خالی ہیں

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی طرف سے حمزہ شہباز کے اپوزیشن لیڈر بنانے کے فیصلے پرکسی قسم کا ردعمل نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،

  • نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    ملک اور عوام ایک نئے ہیجان خیز دور سے لرزتے ہوئے گزر رہے ہیں جو کسی آنے والے مارشل لاء سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان ، اعلی عہدوں پر تعینات سول وفوجی افسران امارت اور خوشحالی انتہا پر ہیں۔ عوام کو آڈیو اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا ہے یہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ کون کر تا ہے ؟ عوام کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا ۔

    عوام مہنگائی ،بے روزگارئی بدامنی سے ہلکان ہو رہے ہیں ۔ بجلی جیسی ہروقت کی ضرورت ختم ہو گئی چھوٹے بڑے کاروبار بجلی کے محتاج ہیں۔ جب سے جدید ٹیکنالوجی سوشل میڈیا نے ترقی کی ہے ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ترقی کے نام پر وہ گُل کھلانے شروع کردئیے ہیں کہ اب ان کی انچ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ملکی قومی اداروں کو گلی کوچوں چوراہوں جلسے جلوسوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے نہ پاک فوج محفوظ نہ عدلیہ محفوظ نہ غیر جانبدار صحافی محفوظ۔ سیاسی معیار بدل گئے سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ تو موجودہے ۔

    پارلیمنٹ کی بالادستی نہیں رہی ۔ ارکان اسمبلی عوام کے لئے قانون سازی نہیں کرتے ۔ اپنی مراعات اپنی تنخواہ اور اپنی ضروریات کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں موجود قد آور سیاستدانوں کا فقدان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں ووٹ نواز شریرف کا ہے وہ پنجاب میں مقبول ترین ہیں لیکن لوگ اب سوال کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف کی غیر ائینی سزائوں کے خلاف اپیل کب دائر ہوگی ؟ مریم نواز کو پاسپورٹ کب ملے گا؟ سینیٹر اسحاق ڈار وطن واپس کب آئیں گے؟ ان سوالوں کا جواب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے میرے جیسے عام آدمی کے پاس نہیں ؟ تاہم یہ بات طے ہے کہ نواز شریف ایک شریف نیک نیت انسان ہیں اور شرم وحیا والے انسان ہیں آج اگر مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں مقبولیت حاصل ہے تو وہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی وجہ سے ہے ۔

    سیاست آج کل نظریہ ضرورت کے تابع ہو چکی ہے جب تک نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوتا نہ جمہوریت مستحکم ہوگی نہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ آج کے اقتدار اور سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے کی تابع ہے اور یہی آج کل جمہوریت کا مسکن ہے آج کی نظریہ ضرورت کی سیاست میں عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں تو کیسے ہوں ؟

  • مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولیات فراہم کرے:نواز شریف

    مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولیات فراہم کرے:نواز شریف

    لندن :مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو تمام تر سہولیات فراہم کرے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں نواز شریف نے لکھا کہ میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے۔ وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لئے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔

    خیال رہے کہ آج ہی پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے۔ اللہ انہیں صحت دے۔ ہماری لیڈرشپ کا موقف ہے کہ پرویز مشرف کو واپس آجانا چاہیے لیکن یہ فیصلہ ان کی فیملی نے کرنا ہے۔

     

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے‌حوالے سے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لیے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔

    یاد رہے کہ ادھر آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کیلئے ان کی فیملی سے رابطہ کیا گیا ہے۔ پرویزمشرف کی فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کئے جا سکتے ہیں۔ پرویز مشرف کی صحت کی صورتحال میں ادارے کا اور قیادت کا موقف ہے کہ ان کو واپس آنا چاہیے۔ اسی سلسلے میں پرویز مشرف کے خاندان سے رابطہ کیاگیا۔ پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی اور ان کے ڈاکٹرز نے کرنا ہے کہ وہ ان کو ایسی کنڈیشن میں سفر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں یا نہیں؟

    انہوں نے کہا کہ اگریہ دونوں چیزیں سامنے آجاتی ہیں تو اس کے بعد ہی کوئی انتظامات کیےجاسکتے ہیں، انسٹی ٹیوشن محسوس کرتاہے کہ جنرل مشرف کو اگر ہم پاکستان لاسکیں تو لانا چاہیے کیوں کہ ان کی کنڈیشن ایسی ہے۔

  • آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمن سےملاقات’موجودہ سیاسی صورتحال پرغور

    آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمن سےملاقات’موجودہ سیاسی صورتحال پرغور

    اسلام آباد:آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات’ موجودہ سیاسی صورتحال پر غور،اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر کے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے قومی حکومت کے مشاورت سے کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی مشاورت سے کریں گے۔

    رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہے اور سیاست بعد میں ہے اور آئندہ بھی تمام اقدامات پاکستان کی بہتری کے لیے کریں گے نہ کہ دوسروں کی طرح دو ٹکے کی سیاست کے لیے۔ملاقات میں رہنماؤں نے مزید کہا کہ قومی حکومت ہی ملک اور اس قوم کو سابق حکومت کے بنائے ہوئے بھنور میں سے نکال سکتی ہے۔

    ادھر سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ ہم نے تو کب سے الیکشن کی تیاری کر رکھی ہے،ضمنی الیکشنزمیں بھی عمران خان کو ہرایا، اب بھی ہرائیں گے۔

    لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ ن لیگ نے ہمیشہ دلیرانہ فیصلے کئے ،ہم نے تو کب سے الیکشن کی تیاری کر رکھی ہے،ضمنی الیکشنزمیں بھی عمران خان کو ہرایا، اب بھی ہرائیں گے، ہم الیکشن کیلئے تیار ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہاکہ عمران خان نے سیاست میں بدتہذیبی کا کلچر متعارف کرایا،اس شخص نے ملک کی معیشت کا بیڑاغرق کردیا۔

  • نواز شریف کا اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو ٹیلیفون، عوام کو ریلیف دینے پر بات چیت

    نواز شریف کا اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو ٹیلیفون، عوام کو ریلیف دینے پر بات چیت

    اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو ٹیلی فون کیا اور انتخابی اصلاحات سے متعلق ن لیگ کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، عوام کو ریلیف دینے اور سبسڈی کو محدود کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق معاشی پیکج اور انتخابی اصلاحات کی صورتحال کے پیش نظر قائد ن لیگ نواز شریف نے اتحادی جماعتوں کے آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، سردار اختر مینگل، خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی، محمود اچکزئی و دیگر سے ٹیلیفونک رابطے کئے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا بتانا تھا کہ نواز شریف نے آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات سے متعلق ن لیگ کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، عوام کو ریلیف دینے اور سبسڈی کو محدود کرنے پر بھی بات چیت کی گئی، اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے نواز شریف کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سب سے مل کر ایک متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔

    ادھر وزیراعظم کا آئندہ دو دن میں قوم سے خطاب بھی متوقع ہے، شہباز شریف قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی تمام صورت حال رکھیں گے۔

  • نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں عمران خان کے بیانات کی مذمت

    نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں عمران خان کے بیانات کی مذمت

    لندن سے بڑا فیصلہ آگیا. مسلم لیک ن کی اعلی سطحی قیادت کا لندن میں انتخابی اصلاحات کے بعد اکتوبر یا نومبر مین عام انتخابات کرانے جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی لہر میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیاگیا ہے. تفصیلات کے مطابق ویسٹ لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا.

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اجلاس سے قبل مسلم لیگ ن کے قائد اور بڑے بھائی نوازشریف سے بگل گیر ہوئے. نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو مبادکباد دی. کچھ دیر نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں اسخاق ڈار بھی شریک ہوئے. نواز شریف نے شہباز شریف کو پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ ہونے والی گفتگو پر اعتماد میں لیا.

    وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو ملک کی تازہ ترین صورتحال اور پنجاب میں حکومت سازی اور کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے بریفنگ دی… زرائع کے مطابق دونون بھائیوں کی ملاقات میں انتخابی اصلاحات کے بعد اکتوبر یا نومبر میں اعام انتخابات کرانے پر اتفاق گیا گیا. زرائع کے مطابق اکتوبر یا نومبر میں انتخابات کرانے کی تجویز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے دی گئی. بڑون کی اہم بیٹھک کے بعد نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا.پارٹی رہنماوں نے فردا فردا نواز شریف سے مصافحہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی. نواز شریف نےثابت قدم رہنے پر پارٹی رہنماوں کی تعریف کی.

    اجلاس کے دوران پاکستان میں عام انتخابات، عمران خان کی جانب سے پھیلاتی جانے والی اشتعال انگیزی، ریاستی اداروں، انتخابی اصلاحات سمیت بڑھتی ہوئی مہنگائی میں عوام جو ریلیف دینے کے معاملات زیر بحث آئے.
    نواز شریف کی زیرقیادت اجلاس میں سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم شہبازشریف، مریم اورنگزیب، احسن اقبال، خواجہ آصف، خواجہ سعدرفیق، خرم دستگیر اور عطاء تارڑ نے شرکت کی. اجلاس میں تمام معاملات پر ارکان کی رائے لی گئی.

    ذرائع کےمطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں گی اور بعد میں انتخابات کا اعلان کیا جائے گا. اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کی مزمت کی گئی. تاہم زرائع کے مطابق عمران خان کو حراست میں لینے کی تجویز کو رد کر دیا. اس پر قائد ن لیگ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بناءے گی.اجلاس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی لہر میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے پر اتفاق گیا گیا. اجلاس کے دوران سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے اہم تجاویز دیں. اجلاس کے دوران آرمی چیف کی مدت ملازمت کے ختم ہونے اور نئے آرمی چیف کے تقرر سمیت اہم معاملات بھی مشاورت کی گئی.

  • عمران خان سےآئندہ الیکشن میں مکمل جان چھوٹ جائے گی: نواز شریف

    عمران خان سےآئندہ الیکشن میں مکمل جان چھوٹ جائے گی: نواز شریف

    لندن:مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ عمران خان سے آئندہ الیکشن میں مکمل جان چھوٹ جائے گی۔

    لندن میں میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہمارا قومی کلچر ہی بگاڑ دیا، پاکستان میں70 سال میں پہلی بار ایسا کلچر دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان نے وہ تباہی مچائی ہے، جس کی مثال نہیں ملتی، شکر ادا کرو جان چھوٹی ہے، آئندہ الیکشن میں مکمل جان چھوٹ جائے گی۔

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت نے سیاسی، معاشی، اقتصادی، آئینی اور معاشرتی بحران پیدا کردیا ہے۔ سابقہ حکومت سر سے پاؤں تک بحران پیدا کر کے گئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف بدھ کو لندن پہنچیں گے، ان سے اہم امور پر بات چیت ہوگی۔

    نوازشریف سے جب یہ پوچھا گیا کہ صدرمملکت ملک میں آئینی بحران پیدا کررہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ حکومت پہلے دن سے ہی ملک میں آئینی بحران ، سیاسی ،معاشری اورمعاشی بحران پیدا کررہی ہے

    ادھر چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ سب اپنے ذاتی پیسوں سے ٹکٹ خرید کر نوازشریف سے ملنے لندن جار ہے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں وفاقی وزیر برائے مںصوبہ بندی اور مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے عمران خان کے جہلم میں خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سب اپنے ذاتی پیسوں سے ٹکٹ خرید کے جارہے ہیں اور قیام کا بندوبست بھی اپنا اپنا کر رہے ہیں۔

    احسن اقبال نے کہا کہ یہی کافی ہے عمران نیازی تمہیں جھوٹا اور کذاب ثابت کرنے کے لئے، تمہیں تمہارے جھوٹ کی نحوست نے ہی مارا ہے۔

  • راناثناءاللہ پرنواز شریف کےاستقبال کوحج سےبڑا ثواب کہنے پرتوہین مذہب کامقدمہ درج کرنےکی درخواست

    راناثناءاللہ پرنواز شریف کےاستقبال کوحج سےبڑا ثواب کہنے پرتوہین مذہب کامقدمہ درج کرنےکی درخواست

    فیصل آباد:رانا ثناء اللہ پر نواز شریف کے استقبال کو حج سے بڑا ثواب کہنے پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست،اطلاعات کے مطابق فیصل آباد میں موجودہ وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف توہین مذہب کا مرتکب ہونے پرمقدمہ دائر کرنے کی درخواست کی ہے

    فیصل آباد میں کراس ایف آئی آر کیلئے درخواست مدینہ ٹاون تھانے کو وصول، پولیس نے ای ٹیگ لگا کر جمع کر لی، رانا ثناء اللہ پر نواز شریف کے استقبال کو حج سے بڑا ثواب کہنے پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کرنے کیا جائے

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ رانا ثنااللہ نے سینیئرصحافی مبشرلقمان کے اس سوال کے جواب میں یہ اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے اس وقت توہین مذہب کیا تھا جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی

     

    درخواست گزار نے کہا ہے کہ وہ ایک راسخ العقیدہ سُنی مسلمان ہے اور وہ شعائراسلام کی عزت کا خواستگار ہے ، اس درخواست میں رانا ثنااللہ کے حوالے سے یہ ثبوت پیش کیے گئے ہیں‌ کہ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں جب مبشرلقمان نے رانا ثناللہ سے پوچھا کہ نوازشریف کولینےجارہےہیں اس میں کوئی حج کا ثواب ہے تو رانا ثنااللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا جی نوازشریف کا استقبال کرنا حج سے بھی بڑا ثواب ہے

    درخواست گزارکی طرف سے کہا گیا ہےکہ حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے اورحج کی حجت اور اس کی اہمیت ایمان کا درجہ رکھتی ہے ، اس لیے چونکہ رانا ثنااللہ نے حج جیسے شعار کی توہین کرتے ہوئے نوازشریف کے استقبال کو اس سے بہترقرار دیا ہے

    درخواست گزار کی طرف کہا گیا ہے کہ چونکہ رانا ثناللہ نے اعلانیہ یہ توہین کی ہے اور اس توہین پرڈٹے رہے ہیں اس لیے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے

  • نواز شریف، بلاول کی لندن ملاقات کا اعلامیہ جاری

    نواز شریف، بلاول کی لندن ملاقات کا اعلامیہ جاری

    نواز شریف، بلاول کی لندن ملاقات کا اعلامیہ جاری

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور نوازشریف کی لندن میں ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کےلیے آئینی فتح،قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی خود مختاری سے متعلق بات چیت کی گئی ،دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ہم نے جب بھی مل کر کام کیا ہے بہت بڑی کامیابی حاصل کی تاریخ کے اہم موڑ پر ملک کی تعمیر نو کے لیے مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے،میثاق جمہوریت کے تحت نامکمل کام کو مکمل کرنے پر بھی بات کی گئی،جمہوری قوتوں کے اتفاق رائے سے مستقبل کے لیے وسیع روڈ میپ پر بات چیت کی گئی،

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نئے چارٹر کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر اعلیٰ سطحی کا اجلاس بلانا ضروری ہے، عوام تباہ کن معاشی بدانتظامی اور بے مثال نااہلی کا نقصان اٹھا چکے ہیں مشترکہ اہداف سخت معاشی سلائیڈ تبدیل کرنے پرتوجہ مرکوز کریں گے ،عمران خان ملک کو نیچے لے کر گئے، خارجہ پالیسی میں غلطیوں کے باعث جمہوری نظام کو درپیش خطرے سے نمٹیں گے مشترکہ اہداف میں معاشی بدحالی کو بہتر کرنے پر توجہ دیں گے

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں،بلاول نے وفاقی کابینہ میں شامل ہونا تھا تا ہم بلاول اچانک نواز شریف کو مبارکباد دینے لندن پہنچ گئے، لندن میں بلاول اور نواز شریف کی دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں،ملاقاتوں کے بعد نواز شریف اور بلاول نے میڈیا ٹاک بھی کی ہے

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کو دیا الیکشن کمیشن نے بڑا جھٹکا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر