Baaghi TV

Tag: نوازشریف

  • بلاول کی نواز شریف کی دعوتِ افطار،سیاسی امورپرمشاورت

    بلاول کی نواز شریف کی دعوتِ افطار،سیاسی امورپرمشاورت

    لندن :بلاول کی نواز شریف کی دعوتِ افطار،سیاسی امورپرمشاورت ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری لندن میں قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی دعوت افطار پر ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

    ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کے ہمراہ شیری رحمان،نوید قمر اور قمر زمان کائرہ بھی نواز شریف کی دعوت پر ان کے گھر پہنچے۔اس کے علاوہ اسحاق ڈار،حسین نواز اور حسن نواز سمیت شریف فیملی کےاہم افراد نے بھی شرکت کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افطار کی دعوت پر بلاول بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ملکی سیاسی امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    اس موقع پر نواز شریف نے بلاول بھٹو سے مظاطب ہوکر کہا کہ’ لندن میں آپ ہمارے مہمان ہیں’۔اس سےقبل بلاول نےنوازشریف اورشریف فیملی کوآج افطارڈنرکی دعوت دی تھی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلےلندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس کے مطابق ملاقات میں صدر مملکت کے مواخذے کیلئے تجاویز طلب کرلی گئیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال کا فیصلہ واپس لینے پر اتفاق کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق نوازشریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات کی اندرونی کہانی میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں میں چارٹر آف ڈیمو کریسی ٹو کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں صدر مملک کے مواخذے کے حوالے سے تجاویز بھی طلب کی گئیں، سابقہ حکومت کی الیکشن ترامیم کو ختم کرنے بھی گفتگو کی گئی۔

    اس حوالے سے ذرائع کا بتانا تھا کہ ای وی ایم مشینوں پر الیکشن کروانے کا فیصلہ بھی واپس لیا جائے گا، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا اہم اجلاس آج لندن میں ہوگا، پیپلز پارٹی سے شیری رحمٰن، نوید قمر، قمر زمان کائرہ اور مسلم لیگ ن سے اسحٰق ڈار، عابد شیر علی شریک ہوں گے۔

    اجلاس میں میثاق جمہوریت اور دیگر معاملات کے حوالے سے تجاویز پر غور ہوگا، ملاقات کے بعد رپورٹ نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو پیش کی جائے گی۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • نواز،بلاول ملاقات کی اندرونی کہانی:90لاکھ سے زائداوورسیزپاکستانیوں کیلئیےخطرےکی گھنٹی

    نواز،بلاول ملاقات کی اندرونی کہانی:90لاکھ سے زائداوورسیزپاکستانیوں کیلئیےخطرےکی گھنٹی

    لاہور:نواز، بلاول ملاقات کی اندرونی کہانی:90لاکھ سے زائداوورسیزپاکستانیوں کیلئیےخطرے کی گھنٹی ،اطلاعات کے مطابق لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

    لندن سے ذرائع کے مطابق ملاقات میں صدر مملکت کے مواخذے کیلئے تجاویز طلب کرلی گئیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم)کے استعمال کا فیصلہ واپس لینے پر اتفاق کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق نوازشریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات کی اندرونی کہانی میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں میں چارٹر آف ڈیمو کریسی ٹو کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں صدر مملک کے مواخذے کے حوالے سے تجاویز بھی طلب کی گئیں، سابقہ حکومت کی الیکشن ترامیم کو ختم کرنے بھی گفتگو کی گئی۔

    اس حوالے سے ذرائع کا بتانا تھا کہ ای وی ایم مشینوں پر الیکشن کروانے کا فیصلہ بھی واپس لیا جائے گا، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا اہم اجلاس آج لندن میں ہوگا، پیپلز پارٹی سے شیری رحمٰن، نوید قمر، قمر زمان کائرہ اور مسلم لیگ ن سے اسحٰق ڈار، عابد شیر علی شریک ہوں گے۔

    اجلاس میں میثاق جمہوریت اور دیگر معاملات کے حوالے سے تجاویز پر غور ہوگا، ملاقات کے بعد رپورٹ نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو پیش کی جائے گی۔

  • بلاول زرداری کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات

    بلاول زرداری کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات

    لندن:پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کا مشن لندن، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات، شیری رحمان، نوید قمر، قمر زمان کائرہ اور قاسم گیلانی بھی شریک ہوئے، صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اور گورنر پنجاب کے عہدوں کے حوالے سے مشاورت ہوئی۔

    نواز شریف سے ملاقات کے لئے بلاول بھٹو زرداری حسن نواز کے دفتر پہنچے، حسن اور حسین نواز نے باہر آکر استقبال کیا جبکہ سابق وزیراعظم نے چیئرمین پی پی پی کو خوش آمدید کہا۔

    نوازشریف کا کہنا تھا کہ ‏روپے کی قدر کو بحال کرنا کوئی آسان نہیں مشکل کام ہے،عمران خان کی حکومت کا خاتمہ پہلا ٹارگٹ تھا ، عمران خان سے جان چھڑانا بھی بہت مشکل تھا،‏یہ ہر بات پر آئین اور قانون سے ٹکر لے رہے ہیں، ‏معیشت کو بہترکرنے میں بہت وقت لگےگا،عمران خان سےنجات حاصل کرنابہت ضروری تھا

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میاں نواز شریف کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے، وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دی۔

    ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور میاں نواز شریف نے قومی سیاسی معاملات میں افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے ساتھ چلنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    ملاقات میں بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بیرونی سازش نہیں جمہوری سازش تھی، ہم جمہوری طریقے سے عدم اعتماد لے کر آئے، عمران خان کا بیانیہ ہے کہ مجھے کیوں نہیں بچایا، پاکستان کا کوئی شہری نہیں جو چاہتا ہوں ادارے اپنے دائرے سے باہر آکر کام کریں، پاکستان کی ترقی کیلئے جو کام پیپلز پارٹی کے حصے میں آئے گا وہ کریں گے۔

     

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کا جمہوریت کیلئے کردار بے مثال ہے، چارٹر آف ڈیمو کریسی کے تحت پاکستان ایک صحیح سمت میں چل رہا تھا، میاں صاحب سے بہت ضروری ملاقات ہے، ہم نے ایک بار پھر پاکستان کو جمہوریت کی بحالی کی طرف لے کر جانا ہے۔

    نواز شریف سے ملاقات سے قبل پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس ہوا، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمٰن، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ کے درمیان اہم مشاورت ہوئی۔

  • شہبازشریف نے نوازشریف پرمقدمات ختم کرنے کی خوشخبری سنا دی

    شہبازشریف نے نوازشریف پرمقدمات ختم کرنے کی خوشخبری سنا دی

    اسلام آباد :شہبازشریف نے نوازشریف پرمقدمات ختم کرنے کی خوشخبری سنا دی ،اطلاعات کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ آئین کے تحفظ کا ساتھ دینے پر نواز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی ، علی وزیر اور امیر حیدر ہوتی کا شکر گزار ہوں، اس موقع پر سول سوسائٹی ، میڈیا اور سیاسی کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    نامزد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوازشریف کے خلاف مقدمات قانون کے مطابق دیکھے جائیں گے۔دوسری طرف اہم ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ شہبازشریف کونوازشریف کی طرف سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ مقدمات کے خاتمے کے لیے معاملات کو جلد از جلد طئے کریں اور اس سلسلے میں وکلا سے بھی مشاورت کریں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وکلا کی ٹیم نے اس سلسلے میں فریم ورک پرکام شروع کردیا ہے

    پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ آئین کے تحفظ کا ساتھ دینے پر نواز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی ، علی وزیر اور امیر حیدر ہوتی کا شکر گزار ہوں، اس موقع پر سول سوسائٹی ، میڈیا اور سیاسی کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    صدر ن لیگ نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر امن ممکن نہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں نئے دور کا آغاز کریں گے، باہمی احترام کو فروغ دیں گے، قومی ہم آہنگی میری پہلی ترجیح ہے، نئی کابینہ کی تشکیل اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت کے ساتھ ہوگی۔

    ملک کی معاشی صورت حال پر شہباز شریف نے کہا کہ ان کی اولین کوشش ہوگی کہ ملکی معیشت بہتر کرکے عوام کو ریلیف دے سکیں،

    صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ نواز شریف کب واپس آئیں گے اور ان کے کیسز کا کیا بنے گا؟ ، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات قانون کے مطابق دیکھے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ شہباز شریف نے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں۔وزیر اعظم کا انتخاب پیر کی سہہ پہر عمل میں آئے گا۔

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی نوازشریف کی ساری بیماریاں کالعدم ہوگئیں:بڑا بیان بھی داغ دیا

    سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی نوازشریف کی ساری بیماریاں کالعدم ہوگئیں:بڑا بیان بھی داغ دیا

    لندن:سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی نوازشریف کی ساری بیماریاں کالعدم ہوگئیں:بڑا بیان بھی داغ دیا،اطلاعات کےمطابق اس وقت لندن میں خوشیاں منائی جارہی ہیں اور اس وقت پاکستانی سپریم کورٹ کے سزا یافتہ سابق وزیراعظم بہت زیادہ صحت مند نظرآرہےہیں اور ساتھ ہی نوازشریف نے عمران خان کےلیےایک پیغام بھیجا ہے

     

    نوازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا ہےکہ پوری پاکستانی قوم کو مبارکباد دینا چاہونگا.آج ایک ایسے شخص سے نجات ملی ہےجس نے پاکستان کو معاشی طور پہ تباہ و برباد کیا پاکستان کو کنگال کرکے رکھ دیا.اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ہے کہ اس سے نجات ملی ہے.

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ نوازشریف کی سپریم کورٹ کا فیصلہ سُنتے ہی ساری بیماریاں کالعدم ہوگئی ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہےکہ نوازشریف شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان آجائیں گے

     

    واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا تھا، اسکے علاوہ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    سپریم کورٹ نے اسمبلی کی تحلیل کے آرڈر کو غیر آئینی قرار دے دیا اور ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم صدر کو ایڈوائس نہیں کرسکتے تھے، اب تک کے قانونی اقدامات غیر آئینی تھے۔

     

  • نوازشریف کا سپریم کورٹ کےفیصلے پراثراندازہونےاورسپریم کورٹ کوپابند کرنےکامنصوبہ

    نوازشریف کا سپریم کورٹ کےفیصلے پراثراندازہونےاورسپریم کورٹ کوپابند کرنےکامنصوبہ

    اسلام آباد:نوازشریف کا سپریم کورٹ کےفیصلے پراثراندازہونےاورسپریم کورٹ کوپابند کرنے کا منصوبہ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہےکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو اب صرف کالعدم قرار دینا ہی کافی نہیں ہو گا، آئین اور قومی مفاد کا تقاضہ ہے کہ پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کی فوری بحالی ہو ۔

    ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین اور قانون کےخلاف تھی۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین اور قومی مفاد کا تقاضہ ہے کہ پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کی فوری بحالی ہو تاکہ پارلیمنٹ اپنی ذمہ داریاں اور فیصلے آئین اور قانون کے مطابق جاری رکھ سکے۔

     

    دوسری طرف شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آرٹیکل 69 کے تحت اسپیکر کی رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، ڈپٹی اسپیکر نے کوئی آئین شکنی نہیں کی۔

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں رہنے چاہئیں، آئین سے ماورا قدام اٹھانا تحریک انصاف کی پالیسی نہیں۔

    ادھر تحریک انصاف کے رہنما و سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں، اپوزیشن نے اقتدار تبدیل کر کے نیب، ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم کرنا تھا، یہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوئے، عمران خان آئندہ الیکشن میں دو تہائی اکثریت سے جیتیں گے۔

  • نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

    نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

    اسلام آباد:نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا،مذمت پاکستان میں:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟چند منٹ پہلے پاکستانی میڈیا میں چلائے جانے والی خبرجس میں یہ آہ وبکا کی گئی کہ لندن میں‌ نوازشریف پرحملہ ہوگیا ہے اور ایک حملہ آور نے نوازشریف کو موبائل دے مارا ہے

     

    دنیاکو خبرنہیں اور بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہےکہ نوازشریف پرحملہ ہوگیا،بچالو اسے

    یہ کہانی بھی بڑی عجیب لگتی ہے ، پہلی تو بات یہ ہے کہ یہ حملہ جس جگہ بتایا جارہا ہے وہاں پچاس میٹر دور تک کوئی ناواقف شخص قریب نہیں آسکتا ہے ، پھردوسری اہم وجہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے نوازشریف کو موبائل دے مارا وہ سیکورٹی گارڈز کو عبور کرکیسے کرکے قریب آگیا اور فرض کرلیں کہ اس حملہ آور نے حملہ کیا تو پھرکس سے کیا

     

    بتایا جارہا ہے کہ حملہ آور نے موبائل دے مارا اور وہ سیکورٹی گارڈ کو لگ گیا لیکن جو زخم بتایا جارہا ہےوہ موبائل لگنے کی وجہ سے نہیں ہے ، کیوں کہ موبائل اگرقریب سے پھینکا گیا تو اس کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتو وہ جہاں سے پھینکا گیا وہاں سے 10 میٹر سے ہوا میں سفر کرسکتا ہے اور اگر اتنی تیزی سے لگا ہے تو پھر سیکورٹی گارڈ کی پیشانی پرجہاں سے خون بہہ رہا ہے اس کے گردو نواح کا حصہ بھی متاثر ہونا چاہیے ، سوزش بھی یقینی تھی لیکن وہ کیوں نہ ہوئی ، آنکھ کے اس حصے پر کوئی چیز بھی لگے تو وہ تو بہت زیادہ سوج جاتی ہے ، جیسا کہ ہرکسی کے علم میں‌ہے

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جارہا ہے کہ موبائل زور سے مارا جہاں موبائل لگا وہاں ارد گرد پیشانی کی جلد کا رنگ کیوں نہ تبدیل ہوا ، اورپھرجو زخم لگا اس گہرے زخم سے خون کا ایک قطرہ آکر آنکھ پر کیوں‌ رُک گیا اور بھی خون بہنا چاہیے تھا

    اس کے بعد یہ جائزہ لیں تو یہ بھی صورت حال سامنے آتی ہے کہ جو پیشانی پرزخم دکھایا جارہا ہے وہ تو ایک کٹ ہے اور اور کٹ بھی اس تکنیک سے لگایا گیا ہے کہ نہ تو گہرا ہے اور نہ ہے زیادہ پھیلا ہوا

    پھر اگر فرض کرلیا جائے کہ واقعی حملہ ہوا تو حملہ آورکہاں گیا ، اس کا نام کیا ہے ، اس کا موبائل کہاں گیا اور اگرموبائل پاس ہے تو اس میں موجود سم کا ڈیٹا دیا جاتا

    بی بی سی انگلش میں واقعہ کے کئی گھنٹے بعد تک نوازشرپف پرحملے کا کوئی ذکر نہیں 

    یہ بھی یاد رکھیں کہ اس تحقیق کے بعد پاکستانی میڈیا پرپھر ایک بار فرضی حملہ آور کو اس ڈرامے کو سچ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا جائے لیکن یہ یاد رکھیں کہ برطانوی میڈیا اور عدالت میں یہ حقائق پیش نہیں کیے جائیں گے کیونکہ وہاں جھوٹ نہیں چلتا

    اس کےبعد آتے ہیں کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت تو میاں نوازشریف اپنے محل میں بیٹھے چند غیرملکیوں کے ساتھ میٹنگ کررہے تھے ، میاں صاحب ان غیرملکیوں کو میٹنگ میں چھوڑ کراچانک باہر کیوں آئے ، اور پھراگرآگئے تو پھر خاموشی سے واپس کیوں چلے گئے اور ان غیرملکیوں کو کیوں نہ بتایا کہ یہ ڈرامہ ہوگیا ہے

    اس کے بعد آتے ہیں کہ حسب روایت میاں نوازشریف کی حمایت میں بھارتی میڈیا سب سے پہلے آتا ہے اور آج بھی بھارتی میڈیا نے یہ خبر بریک کی اور دھاڑیں مار مار کررورہا ہےکہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا

    جبکہ برطانیہ جہاں سیکڑوں ادارے بین الاقوامی معاملات پر لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کررہے ہیں ان کو کیوں نہ پتہ لگا کہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا ،

    بی بی سی اردو میں کئی گھنٹے بعد تک نوازشرپف پرحملے کا کوئی ذکر نہیں 


    برطانوی نشریاتی اداروں کے ساتھ ساتھ دیگرعالمی میڈیا کو پتہ نہیں کہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا اوربھارتی میڈیا چیخیں مار رہا ہے ، اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں‌؟

    پھر اگرحملہ ہوا ہے تو اسکاٹ لینڈ یارڈ کو کیوں نہ رپورٹ جمع کروائی گئی اور اس رپورٹ کی کاپیاں کیوں نہ شیئر کی گئیں اگر یہ سچ ہے تو ؟

    اتنا بڑا ڈرامہ کیوں اور کیسے ہوا اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟

    اس وقت پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے اور آج پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ہونے جارہی ہے ، ملک کے مشہور میڈیا گروپس اس معاملے پرحکومت اور ریاست کے خلاف ہیں اور وہ نوازشریف اور زرداری کے پے رول کے طور پرکام کررہے ہیں ،وہ اس موقع پر حکومت کو گہرے زخم لگانے اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ حکومت ظالم حکومت ہے اور یہ اپنےمخالفین پر حملوں میں ملوث ہے لٰہذا اسے کے خلاف نکلنا اب واجب ہوگیا ہے

    دوسرا اس کا مقصد یہ ہےکہ پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ تاثردیا جائے کہ یہ حکومت جارہی ہیے اوراسی وجہ سے یہ گھنونے کام کررہی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہےکہ اسلام اباد میں اس حکومت کے ورکرز بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ اپوزیشن کے خلاف میدان میں نکل آئے تاکہ عوام کی ہمدردیاں حاصل ہوسکیں ،

    لندن سازش کو کس طرح کمک پہنچائی جارہی ہے.پاکستان میں ہونے والی زہرآلود رپورٹنگ کی ٹائمنگ،وقت اور موضوع ،طئے شدہ منصوبے کا حصہ

    مختصر یہ کہ یہ وہی کھیل ہے جو پہلے بھی کھیلا جاتا ہے اور جھوٹ اور ڈرامہ بازی کے ذریعے پاکستانی معاشرے کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوال یہ ہےکہ اتنے بڑے ڈرامے کرنے والے کب تک جھوٹوں کا سہارا لیں‌گے آخر کوئی تو ہے جو دیکھ رہا ہے

     

    بات یہ ہے کہ نوازشریف کے گارڈز نے ایک نوجوان پر تشدد کیا اور پھرپولیس کی کارروائی سے بچنے کےلیے یہ ڈرامہ کیا جس کا سارا منظرنامہ اس ویڈیو میں موجود ہے

     

  • ابواوربھائی کےمتعلق عمران خان کےسوالات؟  مریم نوازنے عمران خان سے بدلہ لےلیا

    ابواوربھائی کےمتعلق عمران خان کےسوالات؟ مریم نوازنے عمران خان سے بدلہ لےلیا

    گوجرانوالہ:ابواوربھائی کےمتعلق عمران خان کےسوالات کی جوابات کی بجائےمریم نوازنےعمران خان سے سوالات کردیئے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان کے اسلام آباد کے پریڈ گراونڈ میں ہونے والے خطاب میں مریم نواز کے والد اور بھائی کی پاکستان دشمنوں سے ملاقات سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کی بجائے مریم نواز نے الٹے سخت سوالات کردیئے،

    اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پریڈ گراؤنڈ میں چیں چیں کرنے والے خود سب سے بڑے چوہے، 2018 میں ووٹ کی پرچی کترنے والے قوم کا آٹا، چینی، گھی اور سکون سب کچھ کھا گئے، پاکستان کا سب سے بڑا چوہا عمران خان کھا، کھا کر موٹا ہوگیا ہے، بلاول کو اردو نہ سیکھنے کے طعنےدیتے ہو، خود 75 برس میں تمیز بھی نہیں سیکھ سکے، یہ کسی سازش کے نتیجے میں نہیں، اپنے اعمال کی وجہ سے ڈی چوک پہنچے ہیں، ان کی اپنی پارٹی عدم اعتماد کرچکی، اب دو، دو سیٹوں والوں کے ہاں ماتھا ٹیک رہے ہیں۔

    گوجرانوالہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مہنگائی مکاؤ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے والو گوجرانوالہ آکر دیکھو 24 گھنٹے میں جلسہ کیسے ہوتا ہے، اسلام آباد والوں نے عمران خان کے جلسے میں نہ جا کر اس کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن کر دی، اب کہیں اپنے جلسے کی ناکامی کا الزام نوازشریف پر نہ لگا دینا۔

    ن لیگ کی نائب صدر نے مزید کہا کہ عمران خان جب کوئی ایئرپورٹ جاتا ہے تو 50 سے 60 بندے رخصت کرنے جاتے ہیں، تمہارے ساتھ تو اتنے بندے بھی نہیں تھے، عمران کی بدتمیزی کا منہ توڑ جواب ملے گا، ہم سرکاری وسائل کے بغیر لانگ مارچ کر رہے ہیں،24 گھنٹے میں گوجرانوالہ نے ثابت کر دیا کسی وسائل کی ضرورت نہیں، ایک پریڈ گراؤنڈ میں زور سے رو رہا ہے، کہتا تھا دس لاکھ لوگ آئیں گے، دس لاکھ تو کیا اس کے جلسے میں دس ہزار بندہ نہیں آیا، اس کا جلسہ فیل ہوگیا ہے۔

    اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ الزام نواز شریف پر لگاتے ہو چلو بھر پانی میں ڈوب کر مرجاؤ، نوازشریف نے جعلی مقدمے، سزائیں کاٹیں، ابسولٹیلی ناٹ کر کے نوازشریف نے بھارت کے مقابلے میں 6 دھماکے کیے تھے، ابسولٹیلی ناٹ کا نعرہ لگانے والا چند دن پہلے سر جھکا کر کہتا تھا بائیڈن، مودی فون نہیں کرتا، نوازشریف نے لندن سے عمران کی دو درجن وکٹیں گرا دیں، نوازشریف وہ بیٹسمین ہیں جب عمران نے فل ٹاس کرائی تو چھکا مار کر گیند باہر پھینک دیا، ہارا ہوا شخص منہ لٹکا کر پویلین واپس جا رہا ہے، تقریر میں کہتا ہے نوازشریف لندن میں چھپ، چھپ کر ملتا ہے، نوازشریف جس سے بھی ملتا ہے عوام کے مفاد میں ملتا ہے،

    تمہاری طرح بھارت جا کر فوج کے خلاف بیانات نہیں دیتا، تم محلے کی ماسی، چالاک لومڑی کی طرح کبھی ادھر، کبھی ادھر چغلی لگاتے ہو، تم اداروں کو ڈراتے ہو کہ نوازشریف آئے گا اور چھوڑے گا نہیں، کان کھول کر سن لو یہ مٹی، ادارے نوازشریف کا ہے، کھسیانی بلی بن کر کہتا ہے بڑے راز ہے کھولوں گا نہیں، اس کو پتا ہے اس نے زبان کھولی تو وہاں اس کے کرپشن کے پلندے کھل جائیں گے، ایل این جی کی 122 ارب کی ڈیلیں کھل جائیں گی۔

  • بس عمران خان نہیں رہناچاہیے،جومانگتےہومانگو:    نوازشریف کی ق لیگ کووزارت اعلیٰ کی پیشکش

    بس عمران خان نہیں رہناچاہیے،جومانگتےہومانگو: نوازشریف کی ق لیگ کووزارت اعلیٰ کی پیشکش

    لاہور:عمران خان نہیں رہنا چاہیے،جومانگتے ہومانگو:نواز شریف کی ق لیگ کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش نے اپوزیشن کی بے بسی بے نقاب کردی، اطلاعات کے مطابق نواز شریف نے ق لیگ کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے کی شرط مان لی ہے اور نئی ڈیل کے تحت وزرات اعلیٰ 6 ماہ کیلیے ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہےکہ حکومت کے اتحادیوں کویہ پیشکش کردیں کہ عمران خان نہیں رہناچاہیے باقی جو آپ مانگتے ہیں مانگیں ۔

    ذرائع نے بتایا کہ اس سے قبل شہباز شریف نے 2 ماہ کے لیے وزارت اعلیٰ دینے کی پیشکش کی تھی تاہم ق لیگ نے صرف دو ماہ کے لیے وزارت اعلیٰ کا عہدہ لینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد 6 ماہ تک حکومت کی تجویز پیپلز پارٹی نے دی تھی۔

    ذرائع کے مطابق ن لیگ کی قیادت ق لیگ کو 6 ماہ کیلیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے پر رضامند تو ہوگئی ہے تاہم اس کے اعلان پر اختلاف ابھی باقی ہے کیونکہ ن لیگ عدم اعتماد کے بعد جبکہ ق لیگ وزارت اعلیٰ کا اعلان پہلے چاہتی ہے۔

    ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے ساتھ ق لیگ کو 8ایم این ایز،20 ایم پی ایزکی نشستوں کی آفربھی ہوگی اور ن لیگ کا وفد نواز شریف کی نئی آفر لیکر ہی چوہدری برادران سے ملے گا۔

  • منی لانڈرنگ بذریعہ مقصودچپڑاسی:شہبازکوسزاکاامکان:     پارٹی سربراہ کون؟ارکان اسمبلی کی حیثیت کیاہوگی:گفتگو

    منی لانڈرنگ بذریعہ مقصودچپڑاسی:شہبازکوسزاکاامکان: پارٹی سربراہ کون؟ارکان اسمبلی کی حیثیت کیاہوگی:گفتگو

    لاہور:مقصود چپڑاسی کی وجہ سےاگرشہبازشریف کوسزاہوئی توپارٹی سربراہ کون اورارکان اسمبلی کی حیثیت کیاہوگی:اہم سوال،اطلاعات کےمطابق ایک طرف ملک میں اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے خلاف سخت محاذ قائم ہوچکا ہے تو دوسری طرف افغانستان کی سرحدسے پاک فوج کی چوکی پربھارت نوازدہشدت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کےچار جوان شہید ہوگئے ہیں

    ادھر پاکستان میں غیر یقینی کی صورت حال ہے اور اس وقت جوڑتوڑ جاری ہے ،حکومت سخت دباو کے باوجود کامیابی کے دعوے کررہی ہے تو اپوزیشن بڑے بھرم سے کامیابی کے دعوے کررہی ہے، یہ دعوے تو اس وقت تک دعوے ہی رہیں گے جب تک کوئی فیصلہ کُن صورت حال سامنے نہیں آتی ، بہرکیف اس وقت ایک نئی بحث نے اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک سے جان نکال دی ہے

    وہ معاملہ کیا ہے؟اس کے کیا اثرات ہوں گےیہ بھی بڑا دلچسپ معاملہ ہے ،صورت حال یہ ہےکہ اپوزیشن لیڈر پرمنی لانڈرنگ کے واضح ثبوت ہیں اور ان ثبوتوں کو میڈیا میں پیش ہونے سے تو روکا جاسکتا ہے لیکن انکو جھٹلایا نہیں جاسکتا،

    یہ ثبوت اپوزیشن لیڈرمیاں شہبازشریف کے ملازمین کے اکاونٹس میں اربوں روپےکی منتقلی اورپھران اکاونٹس سے وہ منتقلی شریف فیملی کے اکاونٹس سے متعلق ہیں

    ویسے تو میاں شہاز یہ کھیل اور بھی اپنے ملازمین کے ذریعے کھیلتے رہے لیکن فی الحال مقصود چپڑاسی کو زیربحث کرلیتےہیں

    ایف آئی اے نے بینکرز کے بیانات اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں جمع کرا دیے ، جس میں بتایا گیا کہ مقصود چپراسی کے 7مختلف اکاونٹ میں رقوم جمع ہوتی رہیں۔

    بینکرز کے بیانات میں کہا گیا کہ مقصود چپڑاسی ہر اکاونٹ کے لیے اپنا بزنس اور سالانہ ٹرن اوور مختلف ظاہر کرتارہا اور مختلف بینکوں میں رمضان شوگر مل نے ہی اکاونٹ کھلوانے کے لیے مقصود چپراسی کو ریفر کیا۔

    بینکرمحمداعجاز نے بتایا کہ رمضان شوگر ملزکا کیش بوائے مزمل اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بینکرز کو دھمکاتا رہا جبکہ ایک اکاونٹ کے لیے مقصود چپراسی نےخودکورمضان ملز کاشوگربروکر ظاہر کیا جب رمضان شوگر ملز نے تصدیق کی تو کیی مگر کوئی دستاویز فراہم نہ کی۔

    بینکرنوید وہاب نے بیان میں کہا کہ چنیوٹ میں مقصود کے اکاؤنٹ میں مشکوک ٹرانزیکشنز پرڈیبٹ بلاک کر دیا، جس کے بعد مقصود چپراسی نے اکاؤنٹ کو بزنس اکاونٹ میں تبدیل کرا کردوبارہ کھلوا لیا۔

    بینکر تنویر حسین کا کہنا تھا کہ مقصود احمد 2017 میں چنیوٹ کے نجی بینک آیا ، اس کے دستخط اردو میں ہونے پراس کو فوٹو اکاؤنٹ کھولنے کا کہا گیا تو مقصود نےکہا وہ سادہ اکاؤنٹ کھلواناچاہتا ہے کیونکہ اس کو استعمال کوئی اور کرے گا۔

    تنویرحسین نے بتایا کہ انکارپرمقصوداوررمضان شوگرملزکے کیش بوائےمزمل نےعملےکوڈرایادھمکایا اور مقصود نےانگلش دستخط کے ساتھ نیافارم دے کراپنی کمپنی کے نام پر اکاونٹ کھلوا لیا۔

     

    بینکر نے کہا کہ ایک اکاونٹ میں 70ہزارماہانہ اورسالانہ ٹرن اوور 13 لاکھ لکھا، مگر اصل ٹرن اوور 360 ملین تھی۔

    عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں بینکرمحمدہشام نے بتایا کہ مقصود چپراسی نےایک اکاونٹ کاسالانہ ٹرن اوور 12ملین ظاہر کیا، اصل ٹرن اوور463 ملین ہوئی، ایک اکاونٹ میں مقصود نے13 لاکھ ٹرن اووظاہرکیامگر سالانہ ٹرن اوور1064 ملین تھا جبکہ ایم سی بی میں کے اکاؤنٹ میں مقصود نے 1.5ملین ٹرن اوور لکھا، اصل میں 772 ملین تھا۔

    بینکرزنےرمضان شوگر ملز کے کیش بوائےمزمل کی جانب سے ہراساں کرنے کا بیان دیا ، جس میں بتایا کہ مزمل شہباز شریف فیملی کا ملازم تھا ڈرا دھمکا کر بینکرز سے کام کراتاتھا اور وہ ہی مختلف ملازمین کے نام پر کھلے اکاؤنٹس میں لین دین کرتا تھا۔

    ان حالات کے بعد جب کہ تمام ثبوت بول رہےہیں اور ثبوتوں کی بنیاد پر شہباز شریف کو سزا ہوجاتی ہے اور اس سزا کی بنیاد پر شہبازشریف نااہل ہوجاتے ہیں جوکہ یقینی نظرآرہا ہے تو پھرپارٹی کا اگلہ سربراہ کون ہوگا اور پارٹی کے ارکان اسمبلی کی کیا حیثیت ہوگی

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فی الوقت شاہد خاقان عباسی کو پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری سونپی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ نااہلی کے اس فیصلے کو پہلے تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا کیونکہ وہاں پہلے ہی معاملات طئے ہوچکے ہیں اور اگرمعاملہ وہاں ان کی حمایت میں نہیں جاتا توپھرسپریم کورٹ تک نظرثانی کی درخواست جائے گی لیکن امکان یہی ہے کہ شہبازشریف ناہلی سے نہیں بچ پائیں گے کیونکہ ان کے جرائم نوازشریف کے جرائم سے واضح اور مضبوط شکل میں موجود ہیں

    دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ شہبازشریف کی نااہلی کی صورت میں ارکان اسمبلی کی کیا حیثیت ہوگی ، کیا نوازشریف کو سزا ملنے کے بعد جس طرح پارٹی کے ارکان اسمبلی کی پارٹی حیثیت بھی ختم ہوگئی ایسے ہی شہبازشریف کی نااہلی کے ساتھ پارٹی اراکین کی پارٹی حیثیت ختم ہوجائے گی

    اس کے بعد اگلہ دلچسپت سوال ہے کہ جیسا کہ امکان ہے کہ نااہلی کی صورت میں ارکان اسمبلی کی حیثیت آزادانہ رہ جائے گی توپھر ان ارکان اسمبلی کو دوسری پارٹیوں میں جانے سے کون روکے گا ، حالانکہ کہ قانون کے مطابق یہ اب کہیں بھی جاسکتے ہیں

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تکنیکی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا اس صورت حال کے بعد عدم اعتماد کی تحریک دم توڑ جائے گی ،کیا ن لیگی ارکان اسمبلی پی ٹی آئی اور پی پی میں چلے جائیں گے اور اگرایسا ہوا تو پھرن لیگ کے مستقبل پرکیااثرات مرتب ہوںگے یہ ایک بہت اہم نقطہ بحث ہے جس پر ابھی تو نہیں مگرکچھ وقت بعد ایک نئی بحث چھڑ جائے گی