Baaghi TV

Tag: نوازشریف

  • اُمید ہےکہ پی ٹی آئی کا کوئی رُکن دھوکہ نہیں دے گا اوراگرکسی نےدیا توہمیشہ کیلیےنااہل ہوجائےگا:خٹک

    اُمید ہےکہ پی ٹی آئی کا کوئی رُکن دھوکہ نہیں دے گا اوراگرکسی نےدیا توہمیشہ کیلیےنااہل ہوجائےگا:خٹک

    اسلام آباد:اُمید ہےکہ پی ٹی آئی کا کوئی رُکن دھوکہ نہیں دے گا اوراگرکسی نےدیا توہمیشہ کیلیےنااہل ہوجائےگا:اطلاعات ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے نے اپوزیشن پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا جو بھی رکن وزیراعظم کے خلاف ووٹ دے گا وہ نااہل ہوجائے گا، تحریک عدم اعتماد اتنی آسان نہیں، سیاسی مخالفین محض دھوکا دے رہے ہیں۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ جو ممبر پی ٹی آئی اور وزیراعظم کے خلاف ووٹ ڈالے گا وہ نااہل ہو جائے گا، جب ممبر نااہل ہوگا تو یہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں گے، اپوزیشن کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سوئے ہوئے نہیں، اتنا آسان نہیں کہ ہمارے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے، تحریک عدم اعتماد کا ڈرامہ بنا ہوا ہے اور اپوزیشن سے ڈبل ہم تیار ہیں۔

    وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ کوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آرہی، صرف لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں، ہم اپنے ممبران کے ساتھ رابطے میں ہیں، اپنی تیاری کی ہے اور ہر چیز کے لئے تیار ہیں، وزیراعظم عمران خان پانچ سال مکمل کرینگے اور ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جو مرضی کرلے، تحریک عدم اعتماد ناکام ہے اور رہے گی، اتحادی جماعتوں کا وزارت سے متعلق کوئی مطالبہ نہیں، اتحادی جماعتوں کے ساتھ وعدے پورے کرینگے، خوشی کی بات ہے جو ایک دوسرے کو گالیاں اور سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتے تھے آج وہ ایک ساتھ ہیں، اپوزیشن کو ڈر ہے کہ ان کے کیسز کھل جائیں گے۔

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان کوئی فاصلے بڑھے ہیں؟ جس کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ جب تک وزیراعظم ہے ادارے ان کے ساتھ ہیں، اپوزیشن نے پھر ہارس ٹریڈنگ کی باتیں شروع کردی ہیں، کسی مخالف ایم این اے یا ایم پی اے کو ساتھ ملانا ہارس ٹریڈنگ ہے، نواز شریف ہارس ٹریڈنگ کی پیداوارہیں اور وہ پھر یہ کوشش کرنا چاہ رہے ہیں۔

  • نہ جی بھرکےدیکھانہ کچھ بات کی:بڑی آرزوتھی ملاقات کی    :شہبازشریف،آصف زرداری ملاقات:بےنقاب ہوگئی

    نہ جی بھرکےدیکھانہ کچھ بات کی:بڑی آرزوتھی ملاقات کی :شہبازشریف،آصف زرداری ملاقات:بےنقاب ہوگئی

    لاہور:نہ جی بھرکےدیکھا نہ کچھ بات کی :بڑی آرزو تھی ملاقات کی:شہبازشریف کی آصف علی زرداری سے ملاقات بے نتیجہ ختم ،اطلاعات کے مطابق بلاول ہاؤس میں اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک ختم ہو گئی، آصف زرداری سےملاقات کےبعد اپوزیشن رہنما واپس روانہ ہو گئے۔

    ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے بلاول ہاؤس میں آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں احسن اقبال، راناثنااللہ، سعد رفیق شامل تھے جب کہ جے یوآئی کے اکرم درانی اور مولانااسعدنے بھی شرکت کی۔

    آصف زرداری نےشہبازشریف کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ عشائیے میں شرکت کے بعد جےیوآئی(ف)کا وفدبھی واپس روانہ ہو گیا۔اہم ملاقات کی کوریج کے لیے شام سے ہی بلاول ہاؤس کے باہر میڈیا کی ٹیمیں موجود تھیں تاہم تمام اپوزیشن رہنما میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانافضل الرحمان کی عدم موجودگی کے باعث ملاقات بےنتیجہ رہی اسی لیے تحریک عدم اعتماد سے متعلق حکمت عملی فائنل نہ ہوسکی۔ملاقات میں شہبازشریف کی رہائش گاہ پرکل دوبارہ بیٹھک پراتفاق کیاگیا ہے۔ کل ہونےوالی ملاقات میں مولانافضل الرحمان بھی شرکت کریں گے۔

    ادھر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    وزیراعظم عمران کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن کافی متحرک دکھائی دے رہی ہے اور خاص طور پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سیاسی رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس میں انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں انہوں نے پیپلزپارٹی سے لانک مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ الگ الگ لانک مارچ سے اپوزیشن تقسیم ہوگی۔

  • برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاک فوج کے خلاف سازش میں مصروف:پراپیگنڈہ بھی اورنفرت بھی،خطرناک حقائق

    برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاک فوج کے خلاف سازش میں مصروف:پراپیگنڈہ بھی اورنفرت بھی،خطرناک حقائق

    لندن(امین طاہرسے)برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاک فوج کے خلاف سازش میں مصروف:پراپیگنڈہ بھی اورنفرت بھی،خطرناک حقائق،اطلاعات کے مطابق کچھ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں‌ جن سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کےخلاف ایک باقاعدہ مہم چلارہی ہیں ، یہ مہم برطانوی سیکورٹی اداروں اور دیگرہم نواوں کے ذریعے جاری ہے

    ذرائع کےمطابق برطانوی خفیہ ایجنسی کے ایما پردیگرمعاون سیکورٹی ادارے برطانیہ میں موجود پاکستانیوں کو پاک افواج کے خلاف اکسا رہے ہیں ، اس حوالے سےبرطانوی کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ، جو کہ یو کے پولیس فورسز اور سیکیورٹی سروسز کے تعاون سے کام کرتی ہے،نے ان چند پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاک فوج کی انٹیلی ایجنسی تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہے،

    اس حوالے سے پاکستان کے خلاف نفرت اور پراپیگنڈہ کرنے والے ایک شخص نے برطانوی سیکورٹی اداروں کے بیانیئے کو بیان کرتے ہوئے کہا پاکستان اس سلسلے میں کچھ جرائم پیشہ افراد کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کرسکتا ہے ، یہ کہانی اس وقت سامنے آئی جب برطانوی عدالت میں پاکستان مخالف بلاگر کے حوالےسے کچھ ایسا ہی ایک کیس چل رہاہے

    برطانوی عدالت میں یہ مقدمہ اس وقت چل رہا ہے کہ محمد گوہر خان کو گزشتہ سال ہالینڈ میں ایک مخالف بلاگر اور پاکستانی انٹیلی جنس سروسز کے شدید ناقد احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کے لیے £100,000 کی پیشکش کی گئی۔

    برطانوی سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک مڈل مین جسے "مزمل” کے نام سے جانا جاتا ہے – ابھی تک فرار ہے، میٹروپولیٹن پولیس نے کل تصدیق کی ہے کہ وہ اب بھی اس کی شناخت اور ٹھکانا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں کسی شخص کا چُھپنا ناممکن ہے اور اگر ایسا کوئی ادمی ہے تو پھراسے اسی وقت عدالت میں پیش کیوں نہ کردیا گیا ، اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ "مزمل "نامی شخص بھی ایک برطانوی مہرہ لگتا ہے

    افسران نے عوام سے مزمل کے بارے میں معلومات کے لیے ایک درخواست بھی جاری کی ہے، جو برطانوی لہجے میں بات کرتا ہے اور مقدمے کے دوران سننے والے ایک صوتی پیغام کے دوران، خان کو بتایا کہ گورایا کو قتل کرنے کے بعد برطانیہ اور یورپ میں مستقبل کی "نوکریاں” ملیں گی۔

    اس کے ساتھ ساتھ راشد مراد جو کہ برطانیہ میں مقیم ہیں انکو بھی برطانوی سیکورٹی اداروں نے یہ کہا ہےکہ اپ کی جان کو پاکستانی خفیہ ایجنسی سے خطرہ ہوسکتا ہے ، پولیس نے پہلے ہی اس کے گھر پر گھبراہٹ کا الارم اور سی سی ٹی وی نصب کر رکھا ہے

    مراد کے بقول اسے کہا گیاکہ کچھ پاکستانی آپ کو نقصان پہنچانا چاہتےہیں ،مراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ آخر کیوں ، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مجھے کیا پڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے

    برطانوی خفیہ اداروں نے وکیل فضل خان سے بھی کہا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ ان افسران نے کریمہ بلوچ جیسے پاکستانی منحرف افراد کی پراسرار موت پر بات کی تھی، جنہوں نے ایک آزاد بلوچستان کے لیے مہم چلائی تھی

    فضل خان جو کہ پاک فوج کےخلاف مہرہ بنے ہوئے ہیں اور برطانوی عدالتوں کے ذریعے بدنام کرنا چاہتے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے بھی مجھے دھمکیاں دی گئیں‌

    لندن میں پاکستان اور پاکستان کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والی عائشہ صدیقہ کو بھی اسی برطانوی خصوصی گروہ نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستانی ادارے کچھ برطانوی شہریوں کو آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی

    اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو بدنام کرنے کےلیے ایک اور خطرناک منصوبہ تیار کیا ہے جس میں یورپ کے ملکوں کو اپنے ساتھ شامل کرکے پاکستان پر دباو بڑھایا جائے گا اور پاک فوج کے خلاف مہم چلائے جائی گی جس کا مرکزی موضوع یورپ ، برطانیہ اور دیگر ملکوں میں موجود پاکستانیوں کو پاکستان کے سیکورٹی اداروں سے خطرہ ہے

    ایسے کئی افراد اور بھی ہیں جو برطانیہ کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہراگلتے ہیں اور پھربرطانوی ان کو پاکستان کے خلاف بھی اکساتے ہیں کہ آپ کو پاکستان سے خطرہ ہے ، ان میں‌زر علی خان آفریدی، جو اغوا کی کوشش کے بعد ہالینڈ فرار ہو گئے فرانس میں صحافی یونس خان کو بھی یہ بیانیہ دیا گیا کہ پاکستانی ادارے تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں‌

    جہاں تک تعلق ہے کہ برطانیہ میں پاکستان سے بھاگے ہوئے افراد کی زندگیوں کو خطرات کا تو یہ سراسر جھوٹ اور الزام ہے، برطانیہ جہاں سیخت سیکورٹی انتظامات ہیں‌اور ان پاکستان مخلالفین کو برطانوی سیکورٹی اداروں کی طرف سے سیکورٹی دی جاتی ہے کیسے ممکن ہےکہ پاکستان سے جا کر کوئی انکو نقصان پہنچا سکے ،

    ان حقائق سے یہ پتہ چلتا ہےکہ برطانیہ اس وقت ہر اس شخص کو قوت بخش رہا ہے جو پاکستان کے خلاف برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ ، بھارت ، اسرائیل اور دیگر کئی ملکوں‌کے مشترکہ انٹیلیجنس ونگ کےلیے استعمال ہورہے ہیں ، اس کی واضح مثال پاکستان میں سیکڑوں افراد کے قاتل الطاف حسین کو برطانوی عدالت کی طرف سے معصوم عن الخطا قرار دیا گیا ایسے ہی نوازشریف اور کئی ایسے سیاسی رہنما جو پاکستان کے خلاف نفرت اور سازشوں میں مصروف ہیں بہت جلد ان کو بھی برطانوی عدالتیں‌ معصوم عن الخطا قرار دے کر پاکستان کے خلاف درپردہ مہم کوتقویت دینے کی کوشش کرے گا

    اس سلسلے میں سب سے اہم اور معتبر بات یہ ہے کہ برطانیہ جہاں سوشل میڈیا پالیسی بڑی سخت ہے کوئی بھی شخص برطانیہ ، امریکہ ، بھارت ، اسرائیل اور دیگر برطانوی اتحادیوں کے خلاف پوسٹ نہیں کرسکتا ، کمنٹس نہیں کرسکتا ، پھر وہاں پاکستان کے خلاف بڑے بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورک کام کررہے ہیں تو پھر ایسے کیوں ہے، جہاں کوئی چڑیا پرنہیں مارسکتی وہاں پاکستان کے خلاف باقاعدہ ایک جنگ لڑی جارہی ہے، یہ ساری آزادیاں پاکستان کے خلاف کیوں ؟ یہ ہے وہ سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں‌
    ۔

  • "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے          کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    کراچی:”چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں سے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں جن کو دیکھ کر قوم پریشان ہے کہ کس طرح ایک ایک فرد پر سالانہ کروڑوں روپے بہائے جارہے ہیں‌، یہ خبران حلقوں کے لیے تو شاید پریشانی کا باعث نہ ہوجو اس بٹوارے میں شامل ہیں لیکن غریب عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہےہیں ان افسران کی تنخواہیں اور مراعات دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے منطرعام پرآنے والے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سی او او کی ’’ترقیاں‘‘ آڈٹ میں نمایاں ہو گئیں جب کہ فروری 2019 میں سینئر جنرل منیجر لیگل سے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے پر تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔یہ حقائق اور اعدادوشمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی دولت کے کس طرح بٹیارے کیئے گئے ،ایک شخص کو راتوں رات اس قدر نوازنے کا آخرراز کیا ہے ،

     

     

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2011 کو سلمان نصیر کا بطور منیجر لیگل بغیر کوئی اشتہار جاری کیے ابتدائی طور پر90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے تقرر ہوا،اس کے بعد مختصر وقت کے لیے ان کی دیگر حیثیتوں میں تقرری/ ترقی ہوتی رہی۔پی سی بی ذرائع کا ہی کہنا ہے کہ یہ ترقیاں غیرقانونی تھیں جن کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضوابط طئے تھے اور نہ اس کی پی سی بی کے آئین میں گنجائش ہے

    15 جولائی 2012 تک وہ منیجر لیگل ہی رہے،16 جولائی 2012 سے4 نومبر 2013 تک 16 ماہ تک منیجر لیگل آنری رہے، تنخواہ30 ہزارماہانہ کے اضافے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہو گئی، 5 نومبر 2013 سے3 مارچ 2015 تک80ہزار تنخواہ بڑھنے سے وہ بطور منیجر لیگل16 ماہ تک2 لاکھ ماہانہ وصول کرتے رہے، پھر ان کے عہدے میں سینئر اور چیک پر35 ہزار ماہانہ کا اضافہ ہوا۔
    سینئر منیجر لیگل کی حیثیت سے سلمان نصیر نے 4 مارچ 2015 سے7 مارچ 2016 کے درمیان 12 ماہ تک ماہانہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے لیے،پھر تنخواہ تو 15 ہزار بڑھی لیکن وہ جنرل منیجر لیگل بن گئے،8 مارچ 2016 سے یکم جولائی 2018 تک28ماہ تک انھیں ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے رہے،پھر عہدے میں سینئر اور تنخواہ میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا، بطور سینئر جنرل منیجر وہ یکم جولائی 2018 سے 11 فروری 2019 تک 7 ماہ تک 2 لاکھ 75 ہزارروپے ماہانہ پاتے رہے۔

    اس کے بعد سلمان نصیر کی قسمت نے پلٹا کھایا اور انھیں 12 فروری 2019 کو چیف آپریٹنگ آفیسر بنا دیا گیا، تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور وہ 2 لاکھ 75 ہزار سے 11 لاکھ روپے ماہانہ ہو گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اپنے دور ملازمت میں سلمان30 جولائی 2021 تک3 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزارروپے وصول کر چکے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو ان کی تنخواہ مزید اضافے سے 12 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ہو چکی۔

    رپورٹ کے مطابق انھیں ملازمت پررکھنے سے قبل اخبار میں کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی کم از کم تعلیمی قابلیت، تجربے اور عمر کا خیال رکھا گیا،سلمان نصیر کو مختصر وقت میں بغیر کسی توجہیہ پیش کیے ہائیر اسکیل کی پوسٹس پر تعینات کیا جاتا رہا۔

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیاکہ بغیر اشتہار سلمان نصیر کی بطور منیجر لیگل تقرری، معاہدے کے دور میں بار بار پروموشنز،ایک سال میں اعلیٰ عہدے پرتقرر بے قاعدہ،غیرمجاذ اور پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بغیر کوئی اشتہار دیے ان کی بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعیناتی بھی خلاف ضابطہ ہے۔

    12 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈے اے سی) نے مینجمنٹ کو معاملے کی تحقیقات،ذمہ داری کے تعین اور رپورٹ آڈٹ کے ساتھ شئیر کرنے کا بھی کہا تھا۔

    دوسری طرف یہ خطرناک اور تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے پر عوام الناس میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کرٹیکس دے رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ اس قدر عیاش ہےکہ بورڈ کےسب افراد ملکر قومی دولت کے بٹوارے کررہےہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں پرشاید لکھ دیاگیا ہے کہ وہ دن رات محنت کریں اور ان کی کمائی پرکرکٹ بورڈ عیاشی کرے

  • ہائی کورٹ نےشریف فمیلی کی جُرم تفصیلات جاری نہ      کرنےکی درخواست مستردکردی:شریف فیملی پریشان

    ہائی کورٹ نےشریف فمیلی کی جُرم تفصیلات جاری نہ کرنےکی درخواست مستردکردی:شریف فیملی پریشان

    لندن: ہائی کورٹ نےشریف فمیلی کی جُرم کی تفصیلات جاری نہ کرنےکی درخواست مسترد کردی:شریف فیملی کوسخت پریشانی ،اطلاعات کے مطابق شہباز شریف خاندان کا مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں دستاویز روکنے سے متعلق ایک اور حربہ ناکام ہوگیا ہے۔برطانوی ہائی کورٹ کے فیصلے نے شریف خاندان کی تمام چالوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے

    ذرائع کے مطابق شہباز شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی دستاویز روکنے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی ہے، برطانوی عدالتی حکم پر نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف کی دستاویز ریلیز کردیں ہیں۔جن کی تفصیلات جلد منظرعام پرآسکتی ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شریف فمیلی نیشنل کرائم ایجسنی سے بارگیننگ کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے

    برطانوی ہائیکورٹ نے سلیمان شہباز کی دستاویز جاری نہ کرنے کی اپیل خارج کردی ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ شہباز شریف مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی دستاویز اے آر (یوکے) کے حوالے کی جائیں۔

    اس سے قبل عدالت نے این سی اے کو کیس کی دستاویز8 فروری تک جاری کرنے کاحکم دیا تھا تاہم شہباز شریف خاندان کی جانب سے دستاویزات کو روکنے کے خلاف اپیل کی گئی تھی جواب مسترد ہوگئی ہے۔برطانوی عدالت نےآج کیس سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کا حکم برقرار رکھا۔

    واضح رہے کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ نے10جنوری 2022 کو اے آر یو کی درخواست پر حکم جاری کیا تھا۔

    گذشتہ سال ستمبر میں بھی برطانوی عدالت کے آرڈر کی کاپی نے شہبازشریف کی بریت سےمتعلق مسلم لیگ ن کا دعویٰ غلط ثابت کیا تھا، آرڈر میں شہبازشریف کانام اور بریت کاکوئی ذکر نہیں تھا۔

    یاد رہے کہ اس کیس پر قانونی رائے دیتے ہوئے وزیراعظم کے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ ایک چینل نے شہباز شریف اور بیٹے سلیمان کی بریت کی خبریں چلائیں، ایسی خبریں چلانا فیک نیوز کے زمرےمیں آتاہے۔

  • نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    اسلام آباد:نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،اطلاعات کے مطابق میاں نواز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ویڈیو لنک پر ہنگامی اجلاس 11 فروری کو طلب کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کا پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حکومت کے خلاف مؤثر پیش قدمی کے معاملے پر اتفاق کیا۔اس دوران نوازشریف نے مولانا کو پابند کیا کہ وہ جلد از جلد پی ڈی ایم کا اجلاس بلائیں‌

    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ٹیلی فون کر کے مولانا فضل الرحمان کو اپنی پارٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، دونوں رہنماؤں نے پی ڈی ایم کا اجلاس فوری طلب کر کے حکومت مخالف تحریک کو مزید فعال بنانے کے علاوہ پی ٹی آئی حکومت پر فیصلہ کن وار کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلۂ خیال بھی کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی ایگزیکٹو کونسل کی جانب سے میاں نواز شریف کو حکومت مخالف تحریک کے لیے مکمل اختیار دینے کے بعد نواز شریف نے معاملے کو پی ڈی ایم کی قیادت کے سامنے رکھنے کے لیے پی ڈی ایم کے ہنگامی اجلاس بلانے کی تجویز دی، جس پہ مولانا نے 11 فروری کو ویڈیو لنک پر پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔

    مولانا فضل الرحمان خود لاہور سے میاں شہباز شریف کے ہمراہ اجلاس کی صدرات کریں گے، اجلاس میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد سمیت دیگر امکانات پر غور کیا جائے گا۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان 10 فروری کی رات لاہور پہنچ جائیں گے، تین روزہ دورۂ لاہور کے دوران وہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ شہباز شریف اور مریم نواز سے اہم ملاقات بھی کریں گے، شہباز شریف مولانا کو عشائیہ بھی دیں گے۔

    مولانا دورۂ لاہور کے دوران چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی سے بھی ملیں گے، چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت کریں گے اور موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلۂ بھی خیال کریں گے۔

  • نوازشریف نے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے شہباز شریف کو ٹاسک سونپ دیا

    نوازشریف نے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے شہباز شریف کو ٹاسک سونپ دیا

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ورچوئل اجلاس جاری، اجلاس میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد سمیت تمام قانونی، اور آئینی راستے کے لیے فیصلوں کا اختیار پارٹی کے قائد نوازشریف کو دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ن لیگ کی سی ای سی کا اہم ورچوئل اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت متعدد دیگر رہنماؤں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ہے۔ اجلاس میں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کو ہٹانے کے لیے تمام ممکنہ آپشنز پر غور کیا گیا اور شرکا نے پارٹی قیادت پربھرپور اعتماد کا اظہار کیاعلاوہ ازیں پارٹی کے قائد نواز شریف نے شہبازشریف کو حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریکٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اجلاس فوری بلانے کی ہدایت کردی ہے۔

    سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف پی ڈی ایم اجلاس میں عدم اعتماد سمیت قانونی راستے اختیار کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔


    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران حکومت کو جانا ہوگا، اس پر پارٹی میں مکمل اتفاق رائے ہےسماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت پر پارٹی نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار نواز شریف کو دیا ہے میاں شہبازشریف کو حکومت کے خلاف حکمت عملی کے لیے سیاسی جماعتوں سے رابطے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے عمران حکومت کا ایک ایک دن عوام کی اذیت میں اضافہ کرے گا۔

  • نوازشریف کےقریبی ساتھی امجد فاروق نوازشریف سے بیزار ہوکرپاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوگئے

    نوازشریف کےقریبی ساتھی امجد فاروق نوازشریف سے بیزار ہوکرپاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوگئے

    گجرات:نوازشریف کی حرکتیں دیکھ کرقریبی ساتھی امجد فاروق پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور گجرات میں (ن) لیگ کے مرکزی رہنما الحاج امجد فاروق پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔

    الحاج امجد فاروق نے قائمقام گورنر پنجاب چودھری پرویزالہیٰ، چودھری وجاہت حسین اور وفاقی وزیر مونس الہیٰ کی موجودگی میں مسلم لیگ قائداعظم میں شمولیت کااعلان کیا۔

     

     

     

    چودھری پرویزالہیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الحاج امجد فاروق کا ذاتی گھر گجرات میں (ن) لیگ کا گڑھ سمجھاجاتا ہے، ہمارے پراجیکٹ اتنے پاور فل تھے کہ کوئی انہیں روک نہیں سکا، ہمارے دور میں ہیلتھ کارڈ کی ضرورت نہیں تھی، ہسپتالوں میں ادویات اور علاج بالکل فری تھا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) ختم ہو، اب ان لوگوں کو ہم نے ہی مشکل میں ڈالا ہوا ہے،عمران خان ایماندار اور نیک نیت ہیں، وہ ملک کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، حکومت کو مشکلات کا سامنا ضرور ہے، جنہیں مل کر حل کررہے ہیں۔

    چودھری پرویزالہیٰ نے کہا کہ بد قسمتی سے شہباز شریف نے ہیلتھ سیکٹرکو تباہ کر کے رکھ دیا، نیت صاف ہو تو رب کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے اور مشکلات بھی کم ہوتی ہیں، گجرات میں 1122 کے مزید سٹیشن بنائے جارہے ہیں اور عوام کی بھلائی کے کام کر کے ہی لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔

  • شہبازشریف ن لیگ کے وزیراعظم کے امیدوار:باقی سب مائنس؟ حسین نواز نے مریم نواز کی چھُٹی کروا دی

    شہبازشریف ن لیگ کے وزیراعظم کے امیدوار:باقی سب مائنس؟ حسین نواز نے مریم نواز کی چھُٹی کروا دی

    لاہور:شہبازشریف ن لیگ کے وزیراعظم کے امیدوار:باقی سب مائنس؟ حسین نواز نے مریم نواز کی چھُٹی کروا دی ابو فیکٹریاں دیکھیں جہاں مرضی جائیں حکومت کو کون سی پریشانی بات ہے؟ اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے قائد اور کرپشن کے جرم میں برطرف سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ ہم شہبازشریف کو بطورِ وزیراعظم کے امیدواردیکھنا چاہتے ہیں۔ نوازشریف کے فیکٹری وزٹ میں کون سی پریشانی والی بات ہے؟حسین نواز نے کہا کہ میرے ابو فیکٹریاں دیکھیں جہاں مرضی جائیں حکومت کو پریشان نہیں ہونا چاہیے تبدیلی سرکار نے معیشت کا ستیا ناس کردیا۔

    ذرائع کے مطابق نجی ٹی وی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا کہ ماحول کی تبدیلی کے لیے والد ساڑھے چار سو کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے فیکٹری گئے، نوازشریف کے فیکٹری وزٹ میں کونسی پریشانی والی بات ہے، ان کی ڈاکٹرزسے مشاورت جاری رہتی ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قوم قائد ن لیگ کی صحت یابی کے لیے دعا کرے۔ یہ حکومت تباہ ہوچکی ہے، اس حکومت نے عوام کوبھوکا ماردیا ہے، یہ عوام کی اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، اس لیے ان کے مسخرے نما وزرا بول رہے ہیں۔ ایسے وزرا کے سوالوں کے جواب نہیں دے سکتے، عمران خان نے وزرا کی تربیت ہی ایسے کی ہے۔

    ن لیگ میں وزیراعظم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جہاں انہوں نے مریم نواز کو مائنس کیا وہاں ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی غیرموجودگی میں شہبازشریف ہی پارٹی کے لیڈرہیں، وزیراعظم کا امیدوارکون ہوگا فیصلہ پارٹی کرے گی، ہم بھی شہبازشریف کو بطورِ وزیراعظم کے امیدواردیکھنا چاہتے ہیں۔ لیگی صدر اس وقت پوری پارٹی کے لیڈرہیں، وہ نوازشریف کی مشاورت سے ہی فیصلے کرتے ہیں۔

    نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا کہ میرے والد کی واپسی کا تعین سب سے پہلے ڈاکٹرزکریں گے، ڈاکٹرزکے بعد خاندان،پارٹی واپسی کا فیصلہ کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معیشت کا ستیاناس کردیا ہے، انہوں نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیا ہے، یہ باتیں نوازشریف کے لیے پریشان کن ہیں، عمران خان ذہنی مریض ایسے شخص سے کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔

    نواز شریف کے ڈاکٹر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 2003سے ڈاکٹرشال نوازشریف کا علاج کررہے ہیں، ڈاکٹرفیاض شال قابل ڈاکٹرہیں، ان کا تعلق مقبوضہ کشمیرسے ہے۔ ڈاکٹرفیاض شال نے والد کی دو سے تین انجیوپلاسٹی کی ہے، قائد ن لیگ کو تمام سٹنٹ ڈاکٹرشال نے ہی ڈالے۔

    ڈیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈیل کا تاثر وزیراعظم عمران خان کی ان سکیورٹی سے ہے، عمران خان کوخود پتا چل گیا ہے نااہل ہیں، وہ بہن کی سلائی مشینیوں بارے آج تک جواب نہیں دے سکا۔

    یاد رہے کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ تیار کرنے والے بھارتی نژاد امریکی میجر ڈاکٹر شال امریکی صدر اور نائب صدر کے قریبی دوست ہیں‌

  • بلاول ڈیفیکٹوشرلی:مریم اور کنیزیں 6 ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں:  فیاض الحسن

    بلاول ڈیفیکٹوشرلی:مریم اور کنیزیں 6 ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں: فیاض الحسن

    لاہور:پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ مریم نواز اور ان کی کنیزیں چھ ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں، تاثر دیا جارہا تھا کہ نیلسن منڈیلا آرہا ہے، ہم صرف بڑھکیں نہیں مارتے، ہیلتھ کارڈ کی خدمت مدتوں یاد رکھی جائے گی۔

    وزیر جیل پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ بیٹی اور کنیزوں نے چھ مہینوں سے ماحول بنایا تھا کہ نوازشریف ملک آرہے ہیں، جتنے پھرتی سے نواز شریف جہاز کی سیڑھیوں پر چڑھے اتنی پھرتی سے تو گلہری بھی درخت پر نہیں چڑھتی ، منڈیلا کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ بار کو استعمال کیا گیا ، تمام اخبارات میں شائع ہوا ان کو نئی بیماری ٹاٹا شابو ہوجائے گی ۔

    انہوں نے مزید کہا بلاول کہہ رہے ہیں کہ مارچ توکریں گے لیکن کامیابی کی کوئی گارنٹی نہیں، بلاول کوسمجھ آگئی ہے کہ ان کے تلوں میں تیل نہیں، وفاق میں 15سے 20 ایم این ایز، پنجاب سے 25 ایم پی ایز ہمارے ساتھ چل رہے ہیں، بلاول ڈیفیکٹوشرلی ہیں ، یہ نہیں چلنی۔

    فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے پچھلی دفعہ 2 ارب کی دیہاڑی لگائی تھی، اس بار بھی مریم صفدرسے دیہاڑی لگائیں گے، نوازشریف کی بیماری شائد جنوبی افریقہ کے بندروں کو ہوتی ہے، پتہ نہیں یہ کونسی بیماری ہے جس کے بارے سن کرحیران ہوں۔