Baaghi TV

Tag: نوازشریف

  • سفرکرنے سے عاجزنوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے پہنچ گئے

    سفرکرنے سے عاجزنوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے پہنچ گئے

    اسلام آباد:سفرکرنے سے عاجز نوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے جانے لگے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں علاج کے لئے موجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف ہسپتالوں کے بجائے فیکٹریوں کے دوروں میں مصروف ہیں۔اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے بیٹوں کے ہمراہ مانچسٹر کے قریب نیلسن میں فیکٹری کا دورہ کیا ۔

    نواز شریف نوازشریف کے ہمراہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی فیکٹری کے معائنہ کے لیے لندن سے نیلسن گئے جہاں پر انہیں بریفنگ بھی دی گئی۔واضح رہے کہ جس فیکٹری کا نواز شریف نے دورہ کیا وہ لندن سے 425 کلو میٹر دور نیلسن کے علاقے میں قائم ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ والد کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ 4، 5 ماہ پرانی ہے- نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کے دوران حسین نواز نے کہا کہ نواز شریف کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ 4، 5 ماہ پرانی ہے، حکومت اس سے پہلے یہ ویڈیو سامنے کیوں نہیں لے کر آئی؟ میں نواز شریف کو 2 گھنٹے کے لیے اُن کے جاننے والے شخص کے گھر ماحول کی تبدیلی کے لیے لےکر گیا تھا، وہ شخص انہیں فیکٹری میں لے گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ نواز شریف کا کسی دوسرے کی فیکٹری میں جانا کوئی گناہ ہے؟ اس معاملے کا پاکستان آنے سے کیا تعلق ہے؟ لندن میں کورونا ایس او پیز کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازمین کم ہوتے ہیں، ایسا ہی وہاں بھی تھا جہاں نواز شریف گئے تھے۔

    حسین نواز نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ نواز شریف کی پاکستان میں طبیعت کیوں بگڑی تھی؟ حکومت نے نواز شریف کی طبیعت کا جائزہ لینے کے لیے لندن میں کسی سے رابطہ نہیں کیا، اب رابطہ کرے گی تو میری طرف سے بھاڑ میں جائیں۔حسین نواز نے کہا کہ میرے والد کا علاج معالجہ چل رہا ہے، ابھی بھی برطانیہ میں کورونا بہت زیادہ ہے، ابھی نواز شریف کا علاج ہونا باقی ہے، ابھی ان کا علاج مکمل نہیں ہوا۔نواز شریف کا علاج اس وقت ختم ہوگا جب ڈاکٹرز سمجھیں گے، جس ڈاکٹر نے رائے بھیجی ہے اس کی بہت اچھی ساکھ ہے، ڈاکٹر کی رائے کے بعد رپورٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو سفر کرنے سے روک دیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروائی۔ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ 3 صفحات پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف انجیو گرافی کے بغیر لندن سے نہ جائیں، ذہنی دباؤ میں نواز شریف کی طبیعت مزید بگڑ سکتی ہے، کلثوم نواز کی وفات کے بعد نواز شریف شدید دباؤ میں ہیں۔

    میڈیکل رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف دل کے مریض ہیں، کورونا کے سبب نواز شریف کو سانس کا مسئلہ ہو سکتا ہے، نواز شریف انجیو گرافی تک اپنی ادویات جاری رکھیں، سابق وزیراعظم ذہنی دباؤ کے بغیر سرگرمیاں جاری رکھیں، نواز شریف دل کے مریض ہیں، کورونا کے باعث جان بھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض نے کہا کہ کوئی سوال ہو تو مجھ سے رابطہ کیا جائے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جھوٹی رپورٹ جمع کروانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ امید کرتا ہوں عدالت ان جعلی رپورٹوں کا سختی سے نوٹس لے گی۔

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے ویر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قائد ن لیگ کے پاس سب سے آسان راستہ قوم کے پیسے واپس کریں اور لندن ہی رہیں، ان کا مسئلہ جھوٹی رپورٹ سے حل نہیں ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ایسی رپورٹ کا مقصد پاکستان کے قانونی نظام کا مذاق اڑانا ہے،

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ یہ رپورٹ نہیں ہے ایک فلمی خط ہے، ایازصادق اپنے دل کوخوش کرنے کے لیے ایسی باتیں کررہے تھے، نوازشریف نے پاکستان نہیں آنا، جھوٹی رپورٹیں دکھا کربھاگے،

    رات کے اندھیرے میں بھاگنے والا دن کے اُجالے میں واپس نہیں آتا، ان کی گزربسرہی جھوٹ بولنے میں ہے، ہم نے تو سابق وزیراعظم سے7ارب کی گارنٹی مانگی تھی، اگران سے7ارب لیے جاتے تو نوازشریف فوری ٹھیک ہو جاتے لندن نہ جاتے۔

    یاد رہے کہ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرفیاض شال نے تیار کی ، ان کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ 2011میں ڈاکٹر فیاض شال پر بھارتی اداکارہ پریانکاچوپڑا نے الزامات لگائے تھے۔

    پریانکاچوپڑا نے ڈاکٹرفیاض شال پر دوران پرواز جہازمیں بدتمیزی کاالزام لگایا تھا جبکہ یہ بھی الزام لگایا تھا ڈاکٹر فیاض شال نشے میں تھے۔

    پریانکا نے ڈاکٹرفیاض شال پر بڑے نام لیکر دھمکیاں دینے کا بھی الزام لگایا تھا جبکہ ڈاکٹر فیاض شال کا کہنا تھا کہ پریانکا کو جہاز میں فون کے استعمال سے روکا تھا۔

    یاد رہے ڈاکٹر فیاض شال کی تیار کردہ نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی، جس میں ڈاکٹر نے نواز شریف کو پاکستان سفر کرنے سے روک دیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کورونا دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے ایسے میں سفر کے لیے ائیر پورٹس اور پبلک مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں کرونا کے خدشات زیادہ ہیں۔

    رپورٹ کہ نواز شریف شدید ذہنی دباو میں ہیں۔ نواز شریف لندن سے مکمل علاج کے بغیر گئے تو قید تنہائی اور شریک حیات کے دنیا سے جانے کے دباؤ کی وجہ سے انکا یہ عمل دل کے عارضے کو بڑھا بھی سکتا ہے۔

    ڈاکٹر فیاض شال کوں ہیں‌؟
    ڈاکٹر شال اس وقت تکوما پارک، میری لینڈ کے واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ہیں، ساتھ ہی واشنگٹن، ڈی سی، امریکہ میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن میں انٹروینشنل کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے پروفیسر اور ڈائریکٹر ہیں۔

    1977 میں، ڈاکٹر شال امریکہ چلے گئے اور والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں کارڈیالوجی فیلوشپ مکمل کی۔بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرمیجر فیاض نے 1980 میں والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں ریاستہائے متحدہ کی ملٹری (آرمی، نیوی، ایئر فورس) میں پہلا پی ٹی سی اے کیا۔

    کہا جاتا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان مخالف عالمی قوتوں کی مدد حاصل ہے اورانہیں قوتوں نے یہ میڈیکل رپورٹ تیار کرنے میں بھارتی نژاز امریکی میجر ڈاکٹرفیاض شال کو ذمہ داری سونپی تھی

    حقائق کے مطابق 1979 اور 2003 کے درمیان، ڈاکٹرفیاض شال جارج ٹاؤن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن اور یونیفارمڈ سروسز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں طبی تقرریوں کو برقرار رکھا، جب کہ واشنگٹن ایڈونٹسٹ اسپتال اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال دونوں میں انٹروینشنل کارڈیالوجی میں کام کررہے ہیں‌

    بھارتی نژاد امریکی فوج کے میجر ڈاکٹرفیاض شال امریکن کالج آف فزیشنز، برطانیہ کے رائل کالج آف فزیشنز، یونائیٹڈ کنگڈم کی جنرل میڈیکل کونسل، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔ وہ امریکن کالج آف کارڈیالوجی، امریکن کالج آف چیسٹ فزیشنز، امریکن کالج آف فزیشنز، امریکن کالج آف انجیوولوجی اور دی سوسائٹی فار کارڈیک انجیوگرافی اینڈ انٹروینشنز کے فیلو ہیں۔اور امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں‌

    ڈاکٹرفیاض شال واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں 1987 سے 1998 اور پوری دنیا میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کی دیگر تکنیکوں (بشمول کورونری، کیروٹڈ اور دیگر پیری فیرل اور نان کارڈیک مداخلت جیسے والوولوپلاسٹی، IHSS کے لیے ابلیٹیو ٹیکنیک وغیرہ) کے لائیو سیشنز کے ذریعے تعلیم دے رہے ہیں۔ . اس قسم کے تدریسی سیمینار سیٹلائٹ کے ذریعے یا CATH لیب سے براہ راست مقامی نشریات کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    ہائی رسک والے مریض کے ساتھ کام کرنے میں ایک انقلاب برپا کرنے والے ڈاکٹر شال پہلے انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ تھے جنہوں نے ایکلیپس ہولمیم لیزر کے ساتھ ساتھ اینجیو ٹریکس میکانیکل ڈیوائس (1999) کو پرکیوٹینیئس ٹرانسلومینل مایوکارڈیل ریواسکولرائزیشن کے لیے استعمال کیا جو آخری مرحلے کے ایتھروسکلروٹک کے تحقیقاتی علاج میں تھا۔

    دل کی بیماری (مریض جن کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے)۔ اس نے دونوں طریقہ کار کو تحقیق کے ایک حصے کے طور پر دنیا میں سب سے پہلے نئی دہلی، ہندوستان میں کیا۔ وہ 1985 میں واشنگٹن ڈی سی میٹروپولیٹن ایریا میں مائٹرل والوولوپلاسٹی کرنے والے پہلے بھی تھے۔

    بھارتی نژاد امریکی میجر ڈاکٹر فیاض شال معروف بین الاقوامی گروئنٹزگ سوسائٹی کے رکن ہیں

  • نوازشریف کی رپورٹ بنانےوالےبھارتی نژادامریکی     ڈاکٹرامریکی صدراوربھارتی نژادنائب صدرکےمعتمد خاص

    نوازشریف کی رپورٹ بنانےوالےبھارتی نژادامریکی ڈاکٹرامریکی صدراوربھارتی نژادنائب صدرکےمعتمد خاص

    لاہور: نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ تیارکرنےوالے بھارتی نژاد امریکی میجرڈاکٹرشال کون ہیں؟نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ تیارکرنےوالےبھارتی نژاد امریکی میجرڈاکٹرشال امریکی صدراوربھارتی نژازنائب صدرکے معتمد خاص بتائے جاتے ہیں ،

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرفیاض شال نے تیار کی ، ان کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ 2011میں ڈاکٹر فیاض شال پر بھارتی اداکارہ پریانکاچوپڑا نے الزامات لگائے تھے۔

    پریانکاچوپڑا نے ڈاکٹرفیاض شال پر دوران پرواز جہازمیں بدتمیزی کاالزام لگایا تھا جبکہ یہ بھی الزام لگایا تھا ڈاکٹر فیاض شال نشے میں تھے۔

    پریانکا نے ڈاکٹرفیاض شال پر بڑے نام لیکر دھمکیاں دینے کا بھی الزام لگایا تھا جبکہ ڈاکٹر فیاض شال کا کہنا تھا کہ پریانکا کو جہاز میں فون کے استعمال سے روکا تھا۔

    یاد رہے ڈاکٹر فیاض شال کی تیار کردہ نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی، جس میں ڈاکٹر نے نواز شریف کو پاکستان سفر کرنے سے روک دیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کورونا دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے ایسے میں سفر کے لیے ائیر پورٹس اور پبلک مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں کرونا کے خدشات زیادہ ہیں۔

    رپورٹ کہ نواز شریف شدید ذہنی دباو میں ہیں۔ نواز شریف لندن سے مکمل علاج کے بغیر گئے تو قید تنہائی اور شریک حیات کے دنیا سے جانے کے دباؤ کی وجہ سے انکا یہ عمل دل کے عارضے کو بڑھا بھی سکتا ہے۔

     

     

    ڈاکٹر فیاض شال کوں ہیں‌؟
    ڈاکٹر شال اس وقت تکوما پارک، میری لینڈ کے واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ہیں، ساتھ ہی واشنگٹن، ڈی سی، امریکہ میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن میں انٹروینشنل کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے پروفیسر اور ڈائریکٹر ہیں۔

    1977 میں، ڈاکٹر شال امریکہ چلے گئے اور والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں کارڈیالوجی فیلوشپ مکمل کی۔بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرمیجر فیاض نے 1980 میں والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں ریاستہائے متحدہ کی ملٹری (آرمی، نیوی، ایئر فورس) میں پہلا پی ٹی سی اے کیا۔

     

    کہا جاتا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان مخالف عالمی قوتوں کی مدد حاصل ہے اورانہیں قوتوں نے یہ میڈیکل رپورٹ تیار کرنے میں بھارتی نژاز امریکی میجر ڈاکٹرفیاض شال کو ذمہ داری سونپی تھی

    اس حوالے سے جب ڈاکٹرشال کا ٹویٹر اکاونٹ چیک کیا گیا تو ان دعووں کی تصدیق ہوگئی کہ واقعی ڈاکٹر شال امریکی صدر جوبائیڈن اور بھارتی ںژاد نائب صدر کملا ہارس کے بڑے معتمد ساتھی اور رازدان ہیں‌

     

     

    حقائق کے مطابق 1979 اور 2003 کے درمیان، ڈاکٹرفیاض شال جارج ٹاؤن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن اور یونیفارمڈ سروسز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں طبی تقرریوں کو برقرار رکھا، جب کہ واشنگٹن ایڈونٹسٹ اسپتال اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال دونوں میں انٹروینشنل کارڈیالوجی میں کام کررہے ہیں‌

    بھارتی نژاد امریکی فوج کے میجر ڈاکٹرفیاض شال امریکن کالج آف فزیشنز، برطانیہ کے رائل کالج آف فزیشنز، یونائیٹڈ کنگڈم کی جنرل میڈیکل کونسل، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔ وہ امریکن کالج آف کارڈیالوجی، امریکن کالج آف چیسٹ فزیشنز، امریکن کالج آف فزیشنز، امریکن کالج آف انجیوولوجی اور دی سوسائٹی فار کارڈیک انجیوگرافی اینڈ انٹروینشنز کے فیلو ہیں۔اور امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں‌

    ڈاکٹرفیاض شال واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں 1987 سے 1998 اور پوری دنیا میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کی دیگر تکنیکوں (بشمول کورونری، کیروٹڈ اور دیگر پیری فیرل اور نان کارڈیک مداخلت جیسے والوولوپلاسٹی، IHSS کے لیے ابلیٹیو ٹیکنیک وغیرہ) کے لائیو سیشنز کے ذریعے تعلیم دے رہے ہیں۔ . اس قسم کے تدریسی سیمینار سیٹلائٹ کے ذریعے یا CATH لیب سے براہ راست مقامی نشریات کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    ہائی رسک والے مریض کے ساتھ کام کرنے میں ایک انقلاب برپا کرنے والے ڈاکٹر شال پہلے انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ تھے جنہوں نے ایکلیپس ہولمیم لیزر کے ساتھ ساتھ اینجیو ٹریکس میکانیکل ڈیوائس (1999) کو پرکیوٹینیئس ٹرانسلومینل مایوکارڈیل ریواسکولرائزیشن کے لیے استعمال کیا جو آخری مرحلے کے ایتھروسکلروٹک کے تحقیقاتی علاج میں تھا۔

    دل کی بیماری (مریض جن کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے)۔ اس نے دونوں طریقہ کار کو تحقیق کے ایک حصے کے طور پر دنیا میں سب سے پہلے نئی دہلی، ہندوستان میں کیا۔ وہ 1985 میں واشنگٹن ڈی سی میٹروپولیٹن ایریا میں مائٹرل والوولوپلاسٹی کرنے والے پہلے بھی تھے۔

    بھارتی نژاد امریکی میجر ڈاکٹر فیاض شال معروف بین الاقوامی گروئنٹزگ سوسائٹی کے رکن ہیں

  • خواتین پرتشدد:پی پی حکومت قابل مذمت:وزیراعظم مریم نواز    یانوازشریف: کیپٹن صفدرنےاپنے ہی بیان کوجھٹلا دیا

    خواتین پرتشدد:پی پی حکومت قابل مذمت:وزیراعظم مریم نواز یانوازشریف: کیپٹن صفدرنےاپنے ہی بیان کوجھٹلا دیا

    لاہور:کراچی میں خواتین پرتشدد:پی پی حکومت کی جنتی بھی مذمت کی جائےکم ہے:کیپٹن صفدر نے پی پی قیادت پرسخت تنقید کے تیر برسا دیئے، اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہےکہ انشا اللہ بہت جلد جنرل الیکشن ہوں گے اور نواز شریف ملک کے وزیراعظم بنیں گے۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں محمد صفدر نے کراچی میں خواتین پر لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی نہتے شہریوں پرظلم کرکے عوام سے کیا لینا چاہتی ہے

    لیگی رہنما کا کہنا تھاکہ پی ڈی ایم ملک کو بہت جلد نئے انتخابات کی طرف لےکر جارہی ہے ، انشا اللہ بہت جلد جنرل الیکشن ہوں گے اور نواز شریف ملک کے وزیراعظم بنیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں کیپٹن صفدر کا کہنا تھا کہ عمران خان سڑکوں پر آئے تو یاد رکھیں ایک سٹرک اڈیالہ جیل بھی جاتی ہے۔

    یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے ن لیگ کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر سے سوال پوچھا گیا تھا کہ نواز شریف کب آئیں گے؟ انہوں نے جواب دیا نواز شریف آئیں گے اور اس وقت مریم نواز وزیراعظم ہوں گی۔

    یاد رہے کہ تھوڑے ہی عرصے کے اندر کیپٹن صفدر کا یہ دوسرا بیان ہے پہلے بیان میں مریم کووزیراعظم بنانے کی بات کی تھی اور آج نوازشریف کی بات کردی

    پچھلی بار نواز شریف کے آنے پر شہباز شریف کے ایئر پورٹ نہ پہنچنے کے سوال پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بولے ایک تو اُس وقت الیکشن تھے، دوسرے میں گرفتار تھا۔

    کیپٹن صفدر سے پوچھا گیا کہ اس بار آپ جائیں گے؟ بولے نہیں، وہ تو پھر گرفتار ہوجائیں گے، استقبال کا معاملہ مسلم لیگ والے جانیں‌ یہ کہہ کر کیپٹن صفدر نے بات کو گول مول کردیا تھا لیکن آج اپنے ہی بیان کی نفی کرتے ہوئے مریم نواز کو مسترد کرتے ہوئے نوازشریف کووزیراعظم بنانے کی بات کرکے مریم نواز کی بڑی توہین کرڈالی ہے ، اب پتہ کیا ردعمل آتا ہے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا

  • نوازشریف کو معصوم عن الخطا قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    نوازشریف کو معصوم عن الخطا قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان سے سزا یافتہ نوازشریف کو معصوم عن الخطا قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر،اطلاعات کے مطابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو قومی مجرم اور سزا کے فیصلوں کو سپریم کورٹ کے ذریعے ہی بدلنے اور نوازشریف کو معصوم عن الخطا قرار دینے کی درخواست دائرکردی گئی ہے

    صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے تاحیات نااہلی کیخلاف درخواست دائر کی۔ جس میں موقف اپنایا گیا کہ تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے، آرٹیکل 184/3 کے اختیار کے تحت سپریم کورٹ بطور ٹرائل کورٹ امور انجام نہیں دے سکتی، آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہیں ملتا، عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

     

     

    عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ درخواست کے مطابق اپیل کے حق کے بغیر تاحیات نا اہلی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اپیل کے حق کے بغیر تاحیات نا اہلی متعلقہ حلقہ کے ووٹرز کی بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلوں میں آرٹیکل 62 وب ایف کے اطلاق کے پیرامیٹرز طے کیے۔ سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلوں میں آرٹیکل 62 ب ایف کے اطلاق کے پیرامیٹرز طے کیے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت جو الیکشن چیلنج ہو صرف اسکو کالعدم کیا جائے ۔

  • ‘کرپشن کےخاتمےکاوعدہ پہلے90دن میں پورا کردیاتھا’   اگرکوئی کرتاہےتوثبوت دیں نہیں چھوڑوں گا:عمران خان

    ‘کرپشن کےخاتمےکاوعدہ پہلے90دن میں پورا کردیاتھا’ اگرکوئی کرتاہےتوثبوت دیں نہیں چھوڑوں گا:عمران خان

    اسلام آباد :‘کرپشن کےخاتمےکا وعدہ پہلے90 دن میں پورا کر دیا تھا’اگرکوئی کرتا ہےتوثبوت دیں نہیں چھوڑوں گا:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کےخاتمےکا وعدہ پہلے90 دن میں پورا کر دیا تھا موجودہ دور حکومت میں کوئی مالی اسکینڈل سامنےنہیں آیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ ،صحت کارڈ اور شہبازشریف کے خلاف کیسز پر گفتگو کی گئی۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پر وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں مالی کرپشن کا ذکر نہیں، قانون کی حکمرانی سے متعلق معاملات کوسامنےلایاگیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن کےخاتمےکاوعدہ پہلے90دن میں پوراکردیاتھا موجودہ دورحکومت میں کوئی مالی اسکینڈل سامنےنہیں آیا سابقہ ادوارمیں پاناماجیسےبڑےاسکینڈل سامنےآتےرہے۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شہبازشریف کےکرپشن کیسز کو مزید اجاگر کیا جائے عوام کوبتایاجائےشریف خاندان نےکیسےمنی لانڈرنگ کی۔

    ترجمانوں کو صحت کارڈ جیسی سہولت پر عوام کو آگاہ کرنےکی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو بہترین معاشی اشاریوں سے متعلق بھی آگاہ کیاجائے عوام کوعالمی اداروں کی معیشت پر رپورٹس کابھی بتایا جائے کوئی بڑا واقعہ رونمانہ ہواتومعیشت مزید بہتر ہوگی۔

    یاد رہے کہ ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کی خودساختہ رپورٹ پرسرکاری ملازمین اور دیگرحکام نے مطالبہ پیش کیا ہےکہ اگرٹرانسپریسی انٹرنیشنل کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے ورنہ اتنی بڑی الزام تراشی پرعدالت جائیں گے اور یہ غلط بیانیاں ختم کرکے رہیں گے

  • سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت ہے:تحریک منہاج القرآن

    سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت ہے:تحریک منہاج القرآن

    لاہور:سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت ہے:تحریک منہاج القرآن نےاپنے ردعمل کا اظہار کردیا، اطلاعات کے مطابق سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردار اور نامزد پولیس افسر طارق عزیز کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سابق قاتل حکومت کی طرح اس دور میں بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو ترقیاں اور پسندیدہ پوسٹس مل رہی ہیں،

    سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نے کہا ہے کہ طارق عزیز کو انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے بطور ملزم طلب کر رکھا ہے،ابھی انہیں کسی عدالت نے بری نہیں کیا،قتل عام کیس کے ملزم اہم عہدوں پر ہونگے تو لاء اینڈ آرڈر اور نظام انصاف کا اللہ حافظ ہے۔ہم اپنے بے گناہ کارکنوں کے قاتلوں اور ان کے محافظوں کو قانون کے کٹہرے میں ضرور لائیں گے،

    سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نےکہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تمام کرداروں کو کیفر کردار کو پہنچیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں عوامی تحریک کے کارکنان کا خون شامل ہے جب بھی کسی نامزد قاتل کو ترقی ملتی ہے تو ہمارا خون کھولتا ہے، عمران خان کو بشکل انصاف مظلوموں کا ساتھ دینا چاہیے۔

    جواد حامد نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہوں کے قتل میں نامزد پولیس افسر طارق عزیز کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت اور افسوس ہے۔جواد حامد نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان اور اہم کرداروں کو پہلے سے بہتر عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ 7سال گزر جانے کے بعد بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کو انصاف نہیں ملا۔

  • ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افرادکےخلاف ثبوت دے:       کارروائی ہوگی:زبانی الزامات ہوئےتوپھرحساب دیناپڑےگا

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افرادکےخلاف ثبوت دے: کارروائی ہوگی:زبانی الزامات ہوئےتوپھرحساب دیناپڑےگا

    لاہور:ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افراد کے خلاف ثبوت دے:کارروائی ہوگی:زبانی کلامی الزامات ہوئے توپھرحساب دینا پڑے گا ،پچھلے کئی دنوں‌ سے ایک بحث چل رہی ہےکہ پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے اور اس کا گراف مزید نیچے چلا گیا ہے، اس حوالے سے پاکستان میں کچھ ایسی این جی اوز گاہے بگاہے ایسی رپورٹ اس وقت پیش کرتی رہتی ہیں جبک حکومت کو سیاسی طور پرنقصان پہنچانا مقصود ہو

    اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ واقعی پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور تو اس کے لیے ایسے الزامات لگانے والوں کو ثبوت دینے چاہیں تاکہ حکومت ان کرپٹ افراد اور اداروں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرسکیں اور اس برائی کا خاتمہ کرسکیں ،

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ ان افراد کے نام شیئر کرے اور جو کرپشن کی گئی ہے اس کا ثبوت دے ، ایسے زبانی کلامی اہل وطن پرالزام تراشی کا یہ مناسب انداز نہیں ہے ، ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے تو کون ہے کرپٹ؟

    اس این جی او نے تو پوری قوم کو کرپٹ بنادیا،ہر سنُنے والے کو پتہ ہی نہیں‌ کہ کون کرپٹ ہے ،ایسے اندھے الزامات کی صورت میں تو ہرکوئی ایک دوسرے کی طرف شک سےدیکھے گا ،یہ شک انسانوں کے درمیان محبت اوراعتماد کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے ، ایسے اندھے الزامات ہرشخص اپنے مخالف پرمن گھڑت الزامات کی تیراندازی کرکے اس کی شخصیت کو داغدار کرنے کی کوشش کرے گااور یہی کچھ ہورہا ہے،

    ان الزامات کےبعد ماتحت اپنے افسران کی طرف شک کی نظرسے دیکھیں تویہ بھی اچھا نہیں اوراگرافسران اپنے ماتحت عملے کو شک کی نظرسےدیکھیں تو یہ بھی اچھا نہیں ، ٹرانسپریسی انٹرنیشنل نے تواس بیماری کے علاج کی بجائے الٹا بیماراور نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے

    یورپ ، مغرب اور دیگردنیا میں پہلے ثبوت رکھے جاتے ہیں اورپھردعویٰ کیا جاتا ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے ، الزامات کی بوچھاڑ کی کردی گئی اور ثبوت ایک بھی نہیں

    جہاں تک تعلق ہے وزیراعظم عمران خان کے کرپشن کے خلاف دعووں کا تو یہ الزامات عمران‌ خان نے تو نہیں لگائے تھے ، یہ تو نوازشریف نے آصف علی زرداری اور پی پی کی حکومت آئی تو اس نے نوازشریف کی شریفانہ کرپشن کے ثبوت سب کے سامنے رکھ دیئے اور یہ احتساب کا عمل بھی نوازشریف کے دور سے شروع ہوا تھا جب سیف الرحمن کومیاں نوازشریف نے کہا کہ آصف علی زرداری اور پی پی کو اس حد تک داغدار کردیں کہ وہ سیاست میں زندہ ہونے کے قابل نہ رہ جائیں

    اور پھرسابق صدر جنرل پرویز مشریف نے نوازشریف کا مشن جاری رکھتے ہوئے احتساب کا آگے بڑھانے کی کوشش کی اور پھرایک وقت آیا کہ اپنا اقتداربچانے کی خاطرشریف برادران اور آصف علی رزداری کی کرپشن کوڈیل کےذریعے حلال کربیٹھے ، اس کےبعد پی پی اور ن لیگ نے موجودہ احتسابی عمل کی بنیاد رکھی

    بات ہورہی ہے کہ عمران خان نے کسی پر براہ راست کرپٹ ہونے کا الزام نہیں لگایا ، بلکہ انہوں نے ان حقائق کا حوالہ دیا جونوازشریف اور پی پی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف پیش کیے تھے اور جس کرپشن پرعدالت عظمیٰ نے نوازشریف کوبد عنوان اور مافیا قرار دے کروزارت عظمیٰ‌کے منصب سے الگ کردیا تھا

    ان حالات میں ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کو چاہیے کہ وہ ثبوت پیش کرے جس طرح‌ شریف برادران اور آصف علی زرداری کے خلاف عدالتوں میں ثبوت ہیں

    اس ملک کے کس شہری نے کتنی کرپشن کی اور کب سے کب تک کی ،یہ ثبوت فراہم کرے

    ان زبانی کلامی الزامات سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے کہ جن کے خلاف عدالتوں میں کرپشن کے کیسزثبوتوں کی بنیاد پرچل رہے ہیں اور ان زبانی کلامی الزامات سے ہرشہری دوسرے کی طرف شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور الزامات کا یہ سلسلہ شیطانیت کی انتہا ہے جوپرامن معاشروں کے پرامن شہریوں کو ایک دوسرے سے دور کردے

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل اپنے الزامات کے ثبوت فراہم کرے ، افراد کے نام بتائے ،محکموں کی نشاندہی کرے اور کتنی کرپشن کی اس کی تفصیلات فراہم کرے ،اگرایسا نہیں ہے تو پھرٹرانسپریسی قوم کے سامنے معافی مانگے اور معافی اس صورت میں قابل قبول ہوگی جب یہ ادارہ ان قوتوں کی نشادہی کرے گا جنہوں‌ نے اس ادارے کو ڈھال بناکرسیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی ،20 سال سے ایسی این جی اوز کی شام غریباں کو جانتا ہوں ، ان کی کرڈیبلٹی کا پہچانتا ہوں

  • وفاق نے پنجاب حکومت سےنوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پر ماہرانہ رائے مانگ لی

    وفاق نے پنجاب حکومت سےنوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پر ماہرانہ رائے مانگ لی

    اسلام آباد: وفاق نے پنجاب حکومت سے سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پر ماہرانہ رائے مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب حکومت کو خط لکھا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں جمع ہونے والی رپورٹس پر متعلقہ ماہرین سے رائے لی جائے ماہرین کی رائے ملنے پر نوازشریف کی واپسی سے متعلق آئندہ لائحہ عمل اپنایا جائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہرین نے نوازشریف کی صحت بہتر قرار دی تو سابق وزیراعظم کے معالج سے رابطہ کیا جائے گا۔

    کیوں نامیڈیا کو جیلوں میں قیدیوں تک رسائی کی اجازت دی جائےتاکہ انفارمیشن سامنے آئے،اسلام آباد ہائی…

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہباز شریف کی شخصی ضمانت پر نواز شریف باہر گئے، نواز شریف کا باہر جانا مکمل فراڈ تھا، نواز شریف نے 17 ماہ سے علاج نہیں کرایا پاکستانی سفارتخانےنے 2 بارشریف فیملی سے رپورٹس سےمتعلق رابطہ کیا، شریف فیملی نےرپورٹس سفارتخانے کے ڈاکٹرزسے شیئر کرنے سے انکارکردیا –

    باغی ٹی وی کی ذمہ دارانہ و جراتمندانہ رپورٹنگ کے دس سال مکمل .تحریر: طہ منیب…

    فواد چوہدری نے کہا تھا کہ نواز شریف ملک سے فراڈ کے ذریعے نکلے ہیں نوازشریف کے معاملے پراٹارنی جنرل ہائیکورٹ میں درخواست دیں گےنوازشریف باہر بیٹھ کر ملک اور قانون کا مذاق آرا رہے ہیں- پنجاب حکومت نے نواز شریف کی صحت کی رپورٹس مسترد کردیں، نواز شریف کے باہر بھیجنے کے فراڈ کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں اور شہباز شریف کی لاہور ہائی کورٹ طلبی پر درخواست دی جائے گی۔

    اسلام آباد: تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات سپلائی کرنے والے تین ملزمان گرفتار

    دوسری جانب وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو شہباز شریف نااہل ہوسکتے ہیں اپنے ایک بیان میں فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ نوازشریف کیس میں پٹیشن دائرہوئی تو دیکھیں گے نوازشریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت لی تھی،17ماہ گزرگئے نواز شریف 4 ہفتے کا کہہ کرگئےتھے برطانوی ہوم آفس نےنوازشریف کی درخواست مسترد کردی ہےبرطانیہ نوازشریف کی رپورٹ ماننے کو تیارنہیں ہےنوازشریف ہسپتالوں کی بجائےپولومیچ دیکھتےنظرآتے ہیں نوازشریف کےڈاکٹرملک عدنان واپس آگئے مگر نوازشریف نہیں آئے۔

    وسیم اکرم ساحل پر گندگی پھیلانے والوں پر پھر برس پڑے

    فرخ حبیب نے کہا کہ اٹارنی جنرل عدالت جانےسے متعلق پراسس مکمل کررہےہیں شہبازشریف نےبھائی کی واپسی کی گارنٹی دی تھی،اسی چیزکو بنیاد بنا کرعدالت جائیں گے، نوازشریف علاج کرارہے ہیں توثابت کرنا ہوگا۔

    کورونا وبا:ملک میں اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

  • ایک طرف میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست تودوسری طرف بشیرمیمن پھربول پڑے

    ایک طرف میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست تودوسری طرف بشیرمیمن پھربول پڑے

    لاہور: ایک طرف میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست تودوسری طرف بشیرمیمن پھربول پڑے،اطلاعات کے مطابق سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے شریف خاندان کے خلاف کیسز کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں، بشیر میمن کا کہنا ہے کہ ان سے شریف خاندان کے خلاف کیسز بنانے کا کہا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق ایک بار پھر سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا ہے کہ مجھے متعدد بار مریم، نواز شریف اور شہباز کے خلاف کیسز کا کہا گیا، میں نے جو الزامات لگائے تھے ان کی انکوائری کی بجائے مجھ ہی پر الزامات لگا دیے گئے۔

    سابق ڈی جی ایف آئی اے نے یہ الزامات اس وقت دہرائے جب نوازشریف کو عدالتی فائدہ پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں‌اور میاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے

    سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ لاہور میں منی لانڈرنگ کا کیس چل رہا ہے یہ فائل بھی میرے پاس آئی تھی، فائل دیکھ کر کہہ دیا تھا کہ یہ کیس نہیں بنتا، اس کیس سے متعلق ایسی باتیں مجھے معلوم ہیں جو میں نہیں بتانا چاہتا۔

    انھوں نے انکشاف کیا عرب شیخ میرے گھر چائے پینے آئے تھے، عرب شیخ کی کل وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات طے ہے، ایک تصویر کو مجھ سے منسوب کر کے ٹرولنگ کی جا رہی ہے، میں انکشاف کرتا ہوں کہ وہی شخص 50 ملین ڈالر کی انوسٹمنٹ لے کر آیا ہے، بشیر میمن نے بتایا کہ عرب شیخ کی تصویر فیصل واوڈا، عمر ایوب اور دیگر کئی لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔

    بشیر میمن کے مطابق یہ لوگ پاکستان کا مذاق بنا رہے ہیں، ان کے ایک بیان سے پی آئی اے کو 2 ارب روپے کا نقصان ہوا، یہ پاکستان کو عالمی تنزلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، میں پاکستانی ہوں میں جو ٹھیک سمجھوں گا وہ بولوں گا۔

    انھوں نے کہا وزیر اعظم نے متعدد بار کے الیکٹرک کے عارف نقوی کے لیے کہا، عارف نقوی پر اپنے مؤقف سے میں نہیں ہٹا، اب ثابت ہو چکا ہے کہ دبئی سے 2.1 ملین ڈالر آئے۔

    بشیر میمن نے کہا ٹھیک آدھے گھنٹے بعد میرے بیان پر ٹرولنگ شروع ہو جائے گی، وہ بیچارے تنخواہ لیتے ہیں، لیکن خدا کا واسطہ ہے بطور ادارہ ایف آئی اے اپنا مذاق نہ بنوائے، یہ ایف آئی اے کو سیاسی تنظیم بنانے جا رہے ہیں۔

  • بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارے اس وقت بہت پریشان دکھائی دے رہےہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتیں اپنی بقاکی جنگ لڑرہی ہیں‌، اس حوالے سے بہت سے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ایک فسطائی ریاست اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک بن گیا ہے جو ملک کو مکمل طور پر ایک ہندوتوا ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی بھارت کو اقلیتوں سے صاف کرنے کے مشن کے سلسلے میں ان کے خلاف آر ایس ایس کے نظریے کو مسلسل نافذ کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حملے معمول بن چکے ہیں اور ملک میں مسلمان، عیسائی، سکھ اور نچلی ذات کے ہندو خوف و دہشت کی حالت میں رہ رہے ہیں کیونکہ جب سے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے ان کے ظلم و ستم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے ہندو انتہا پسندوں کو اس قدر شہ ملی ہے کہ وہ کھلے عام اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اتر آئے ہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی کی دائیں بازو کی حکومت کے تحت ملک میں مذہبی عدم رواداری بڑھ رہی ہے جس کی پالیسیاں ہندوتوا نظریے کی عکاس ہیں اور وہ سب پر ہندو برہمن ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

    بھارت میں اقلیتوں‌کے خلاف مودی ڈاکٹرائن کے حوالے سے جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی کا فسطائی نظریہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور عالمی برادری کو اس خطرناک ذہنیت سے نمٹنے اور بھارت میں اقلیتوں کو بچانے کے لیے مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔