Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف  افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    سابق وزیراعظم نواز شریف حلقہ این اے 130 میں نشست ہار رہے ہیں، نواز شریف کے مقابلے میں ڈاکٹر یاسمین راشد امیدوار تھیں،

    نواز شریف نے آج مریم نواز کے ہمراہ اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور کہا کہ سادہ اکثریت چاہئے تا ہم اب حالات یہ بن چکے کہ نواز شریف اپنی آبائی سیٹ ، این اے 130 بھی ہار رہے ہیں، انتخابی نتائج رک چکے ہیں، اب تک کے این اے 130 کے نتائج کے مطابق این اے 130 لاہور کے 376 میں سے 47 کانتیجہ موصول ہوچکا ہے۔ اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار یاسمین راشد 13 ہزار 164 ووٹ کے ساتھ پہلے اور ن لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف 10 ہزار 14 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں،

    نواز شریف انتخابی نتائج سننے کے لئے ماڈل ٹاؤن آئے تھے، پولنگ ختم ہوئی تو نواز شریف،مریم نواز،شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں نتائج دیکھے تا ہم جب ملک بھر میں ابتدائی نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں کے آگے ہونے اور پھر نوازشریف کے ہارنے کی خبروں نے نواز شریف کو پریشان کر دیا، نواز شریف کی وکٹری کی تقریر بھی تیار کی گئی تھی تا ہم نواز شریف تقریر کئے بغیر ہی ماڈل ٹاؤن سے واپس گھر روانہ ہو گئے، نواز شریف واپس روانہ ہوئے تو کارکنان نے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگائے

    شام کو 180 ایچ ماڈل ٹاؤن میں بہت گہما گہمی تھی وہاں پر نوازشریف ، مریم نواز اور اسحاق ڈار موجود تھے، اس وقت اطلاع ملی تھی کہ نوازشریف نے پنڈال سجا کر خطاب کرنا ہے اور وہاں کارکنان بھی موجود تھے لیکن کچھ دیر پہلے وہاں سےشہباز شریف روانہ ہو ئے پھر سابق وزیراعظم ،اور موجودہ وزیراعظم کے امیدوارنوازشریف اور مریم نواز بھی چلے گئے۔ اسحاق ڈار بھی وہاں سے چلے گئے.

    لاہور سمیت ملک بھر میں انتخابی نتائج التوا کا شکار ہو رہے ہیں، ملک بھر میں انٹرنیٹ، موبائل سروس بند ہے ،

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    صوابی، این اے 20، ادینہ گاؤں میں خواتین ووٹر پر پابندی لگا دی گئی

    سیاسی جماعتوں کی خواتین امیدوار کم ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو کیس بھیج دیا

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    میں وعدے کر کے یوٹرن نہیں لیتا تھا، نواز شریف

  • عام انتخابات 2024، نتائج آنا شروع ہو گئے

    عام انتخابات 2024، نتائج آنا شروع ہو گئے

    نوشہرہ کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 33سے آزاد امیدوار سید شاہ احد آگے نکل گئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے پرویز خٹک تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 33کے 62پولنگ سٹیشنز کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار سید شاہ احد 15426 ووٹ لے کر آگے ہیں، اے این پی کے خان پرویز 3940 ووٹ کیساتھ دوسرے اور پی ٹی آئی پی کے پرویز خٹک 3669 ووٹ تیسرے نمبر پر ہیں۔ این اے 10بونیرکے 91پولنگ اسٹیشن کاغیرحتمی نتیجہ, آزاد امیدواربیرسٹرگوہر27ہزار208ووٹ لیکر آگے، جبکہ جماعت اسلامی کے بخت جہان نے 8992 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے

    این اے239لیاری کراچی کے37پولنگ اسٹیشن کاغیرحتمی نتیجہ پیپلزپارٹی کےنبیل گبول 11154ووٹ لیکرآگے،غیرسرکاری نتیجہاین اے 130 لاہور 14 کی 376 نشستوں میں سے 47 کانتیجہ موصول ہوچکا ہے۔

    اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار یاسمین راشد 13 ہزار 164 ووٹ کے ساتھ پہلے اور ن لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف 10 ہزار 14 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    سندھ سے پہلے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مراد علی شاہ پی ایس 77 جامشورو 1 سے اپنے سیٹ پر کامیاب ہو گئے جس کے مطابق پی پی پی کے 66100 ووٹ لے کے اپنے سیٹ پر کامیاب جبکہ روشن علی ابڑو 6150 ووٹ کے ساتھ الیکش ہار گئے،

    خیبر پختونخواہ ضلع صوابی ۔ این اے 19 صوابی 1 کے 45پولنگ اسٹیشن سے غیر ختمی نتائج کے مطابق اسد قیصر پی ٹی آئی ازاد امیدوار 15128ووٹوں سے پہلے نمبر جبکہ فضل علی حقانی جے یو آئی ف 5747 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر موجود ہے شاہ نواز خا ن اے این پی 3273 ووٹوں سے تیسرے نمبر ہے اسی طرح صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 50 صوابی 2 سے غیر ختمی نتائج کے مطابق عاقب اللہ پی ٹی آئی آزاد 10999 پہلے نمبر پر بابر سلیم مسلم لیگ ن 6811 دوسرے نمبر پر ہے نواب زادہ حان اے این پی 5467 تیسرے نمبر پر ہے ،
    صوابی پی کے 50: صوابی این اے انیس 45پولنگ اسٹیشن اسد قیصر پی ٹی آئی ازاد 15128 پہلے نمبر پر ہے . فضل علی حقانی جے یو آئی ف 5747 دوسرنمبر پر
    شاہ نواز حان اے این پی 3273 تیسرےنمبر پر ہے ، صوابی پی کے 50 پر عاقب اللہ پی ٹی آئی آزاد 10999 پہلے نمبر پر بابر سلیم مسلم لیگ ن 6811 دوسرے نمبر پر جبکہ نواب زادہ حان اے این پی 5467 تیسرے نمبر پر ہے.
    این اے 20 صوابی 2 میں آزاد امیدوار شہرام ترکئی 23967 کے ساتھ پہلے جبکہ اے این پی کے وارث خان 10290 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ،
    صوابی .نواب زادہ حان اے این پی 5467بلوچستان سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 261 قلات سے غیرسرکاری غیرحتمی نتائج موصول ہوئے ہیں۔ اب تک موصول ہونیوالے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے سردار اختر مینگل 1604 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔ اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نواب ثناءاللہ زہری 1201 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر جبکہ جمیعت علماء اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری 1033 ووٹوں کیساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
    بلوچستان سے این اے 257 حب کم لسبیلہ کم اوران سے پی ایم ایل این کے جام کمال 5264 جبکہ محمد اسلم بھوتانی آزاد امیدوار 3032 کے ساتھ دوسرے نمبر ہے،
    اسی طرح این اے 254 میں بی اے پی کے خالد حسین مگسی 3617 ووٹ کے ساتھ پہلے جبکہ جے یو آئی ف کے امیدوار 2425 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،
    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین سابق صدر آصف علی زرداری شہید بینظیر آباد نوابشاہ میں حلقہ این اے 207 میں اپنے مدمقابل امیدوار شیر محمد رند کو بہت بڑے مارجن سے شکست دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔اب تک سامنے آنے والے 40 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کے مطابق صدر آصف زرداری کو 22161ووٹ حاصل ہو چکے ہیں جبکہ ان کے مقابل کئی جماعتوں کے ھمایت یافتہ امیدوار سردار شیر محمد رند کو 5861 ووٹ مل سکے ہیں۔ باقی پولنگ سٹیشنوں کے نتائج ابھی موصول ہو رہے ہیں۔
    حیدرآباد: پی ایس61 ے 58پولنگ اسٹیشنزکےغیرحتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کےشرجیل انعام میمن32478ووٹ لے کر آگے ہیں۔ جےیوآئی کےحافظ سعیدتالپور5297ووٹ لےکرپیچھے ہیں۔

    قمبرشہدادکوٹ میں پی ایس14کے41پولنگ اسٹیشنزکےغیرحتمی نتائج کے تحت پیپلزپارٹی کے امیدوار میر نادر مگسی 10189 ووٹ لیکر آگے ہیں۔ جی ڈی اے کے امیدوار مظفر بروہی 5002 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    گولارچی میں پی ایس72کے17پولنگ اسٹیشنزکےغیرحتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے محمد اسماعیل راہو7784 ووٹ لےکر آگے ہیں۔ جی ڈی اے کے امیر حسن 3675 لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    کراچی میں پی ایس105 کے 3 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا۔ جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے سعید غنی 1050 ووٹ لے کر آگے ہیں۔ جی ڈی اے کے عرفان اللہ مروت 649 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    قمبر شہدادکوٹ میں پی ایس14کے21پولنگ اسٹیشنزکےغیرحتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار میر نادر مگسی 5640 ووٹ لیکر آگے ہیں۔ جب کہ جی ڈی اے کے مظفربروہی 2244 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 127 پر عطا تارڑ مسلم لیگ ن 8632لے کر آگے،جبکہ بلاول بھٹو 7823 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    ملک میں عام انتخابات میں پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔قومی اسمبلی کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار 103 نشستوں پر آگے ہیں ۔ن لیگ 44نشستوں کیساتھ دوسرے ،پیپلزپارٹی 26 نشستوں کیساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔جی ڈی اے 5،ایم کیو ایم 3، بی این پی 2 جے یو آئی ف 2،جمہوری وطن پارٹی اور مسلم لیگ ق ایک ایک نشست پر آگے ہہے۔غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 32سے تحریک انصاف کے آزاد امیدوار آصف خان آگے ‘مردان سے قومی اسمبلی کے حلقہ پر پی ٹی آئی کے امیدوار علی محمد خان 191ووٹ کے ساتھ پہلے جماعت اسلامی کے امیدوار عاقب اسماعیل 36 ووٹ لے کر دوسرے ‘اے این پی کے امیدوار احمد بہادر خان نے 31 ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر ہیں ۔
    اسی طرح ڈی آئی خان میں 15پولنگ سٹیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مولانا فضل الرحمان 2168 ووٹ لے کر آگے ‘فیصل کریم کنڈی 2097 ووٹ لے کر دوسرے جبکہ علی امین گنڈاپور2059ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں ۔قومی اسمبلی کے حلقہ NA-202 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کا اعلان ہو گیا،

    پیپلزپارٹی امیدوار ڈاکٹر نفیسہ شاہ 8364 ووٹ لے کر آگے۔ قومی اسمبلی کے حلقے این اے202 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی امیدوار ڈاکٹر نفیسہ شاہ 8364 ووٹ لے کرپہلے جبکہ جی ڈی اے کے امیدوار سید غوث علی شاہ 1990 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔لاہور 7: این اے 123 سے آزاد امیدوار افضال عظیم 12،446 ووٹ کے ساتھ آگے ،جبکہ سابق وزیر اعظم میاں شہباز شریف 12011 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے

    شانگلہ : این اے 11 غیر حتمی نتیجہ ،آزاد امیدوار سید فرین 16،273 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ پی ایم ایل این کے امیر مقام 7002 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے
    سکھر: این اے 201 سکھر 2 پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سید خٌورشید شاہ 10،414 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ جے یو آئی ف کے امیدوار 1409 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،
    لاہور 2: این اے 118 لاہور 2 سے پی ایم ایل یان کے حمزہ شہباز 2121 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار عالیہ حمزہ 1115 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 6 سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج ,تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزادامیدوار بشیر خان 2507 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ سراج الحق 1737 ووٹ لیکر پیچھے ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک: این اے 43 ٹانک پر آزاد امیدوار داور خان کنڈی 3228 ووٹ کے ساتھ پہلے جبکہ اسعد محمود 1706 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے

    این اے 115 ، اب تک کے غیر حتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار خرم شہزاد ورک11ہزار448 ووٹ لے کر آگے ہیں، جبکہ جاوید لطیف 7444ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    این اے 75 سے مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما دانیال عزیز 4213 ووٹ لے کر آگئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار انوار الحق چوہدری 1762 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔
    فیروزوالا : حلقے این اے 114 کے 85 پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ سامنے آ گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رانا تنویر حسین 27 ہزار 963 ووٹ لے کر آگے ہیں، آزاد امیدوار ارشد محمود منڈا 22 ہزار539 ووٹ لے کر ان سے پیچھے ہیں۔

    این اے 67 سے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ امیدوار انیقہ مہدی 3724 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ سابق وزیر مملکت اور مسلم لیگ ن کی رہنما سائرہ افضل تارڑ 3474 ووٹ لیکر پیچھے

    راولپنڈی/حلقہ این اے 56،8 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج ،پی ٹی آئی امیدوار شہریار ریاض خان 1850 ووٹ کے ساتھ آگے ،مسلم لیگ ن کے امیدوار حنیف عباسی 1583 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ،شیخ رشید احمد 422 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں

    این اے 150 ملتان کے غیر حتمی نتائج:پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار زین قریشی 9105 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں ۔ن لیگ کے جاوید اختر 8345 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    این اے 29 گورنمنٹ گرلز سکول میل پولنگ اسٹیشن کمبوہ، غیر حتمی غیر سرکاری نتائج، آزاد امیدوار ارباب عامر ایوب 1015 ووٹ لے کر آگے ہیں، جے یو آئی کے عرفان اللہ شاہ 159 کیساتھ دوسرے نمبر پر اے این پی کے ثاقب اللہ چمکنی 75 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ،

    حلقہ این اے 81 کے 14 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج آ چکے ہیں جن کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار اظہر قیوم ناہر 6،847 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار چوہدری بلال اعجاز 4،272 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔

    حلقے این اے 77 کے 45 پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ , آزاد امیدوار راشدہ طارق 11 ہزار 788 ووٹ لے کر آگے ہیں، ان کے مخالف (ن) لیگی امیدوار 10 ہزار 134 ووٹ لے کر ان سے پیچھے ہیں۔

    سیالکوٹ۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 71 کے 4 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا اعلان،پاکستان مسلم لیگ ن کے خواجہ محمد آصف 1368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں، آزاد امیدوار ریحانہ امتیاز ڈار 937 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    این اے76 نارووال:12 پولنگ اسٹیشن کا غیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ،ن لیگ کے احسن اقبال4416 ووٹ لے کرآگے، آزاد امیدوار جاوید صفدر کاہلوں2007 ووٹ لے کردوسرےنمبر پرہیں،

    این اے 87 خوشاب کے 35 پولنگ سٹیشن غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ،آزاد امیدوار عمر اسلم اعوان 7110 ووٹ لے کر آگے،ن لیگ کے شاکر بشیر اعوان 6130 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر،پیپلز پارٹی کے علی سانول 2922 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں.

    وزیرآباد/ این اے 66 ، 15 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری, غیر حتمی نتیجہ،آزاد امیدوار محمد احمد چٹھہ 6172 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے نثار چیمہ 2884 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر ہیں،

    ڈیرہ غازیخان این اے 184کے 5 پولنگ اسٹشن کا نتیجہ،عبدالقادر کھوسہ مسلم لیگ ن 1580 ، آزاد امیدوار علی کھلول 970، اور آزاد امیدوار سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ 670 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہین.

    این اے 100 کے پانچ پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتائج ، مسلم لیگ ن کے رانا ثناءاللہ 2521 ووٹ لے کر آگے،پی ٹی آئی حمایت یافتہ نثار جٹ، 2017 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    مردان ، این اے 23 ،پی ٹی آئی کے امیدوار علی محمد خان 191ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر ،جماعت اسلامی کے امیدوار عاقب اسماعیل 36 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ،اے این پی کے امیدوار احمد بہادر خان نے 31 ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر ہیں.

    چیچہ وطنی پی پی 204،22 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار میجر غلام سرور 7528ووٹ لےکر پہلے نمبر پر، آئی پی پی کے ملک فلک شیر لنگڑیال 6721 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، آزاد امیدوار چوہدری عادل سعید ووٹ5211 حاصل کر کے تیسرے نمبرہیں.

    فیصل آباد/این اے 95،پولنگ اسٹیشن نمبر 72 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتائج، آزاد امیدوار علی ساہی 719 ووٹ لے کر آگے،مسلم لیگ ن کے آزاد تبسم 12 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں.

    این اے 53 پولنگ اسٹیشن نمبر 309 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج،آزاد امیدوار کرنل ریٹائرڈ اجمل صابر 175 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر،چوہدری نثار علی خان 160 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ،پاکستان مسلم لیگ نواز کے انجینئر قمر الاسلام 130ووٹ لے کر تیسرے نمبر پرہیں.

    این اے 166کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ، پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کنول شوزب 744 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ،پی پی پی کے امیدوار علی حسن گیلانی 380 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں.

    این اے 155، آزاد امیدوارراؤ محمد قاسم 340 ووٹ لے کر پہلے، استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین 140 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    این اے128 لاہور: ایک پولنگ اسٹیشن کا غیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے،آزاد امیدوار سلمان اکرم راجہ 2450 ووٹ لےکر آگے ہیں،آئی پی پی کے عون چودھری 1970 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں،

    این اے 117کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ، اب تک کے نتائج کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار علیم خان4132 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر،آزاد امیدوار 1819 ووٹ لے کر دوسرے نمبرپر ہیں،شاہدرہ: این اے 117 اور پی پی 145 ، الائیڈ سکول میں ووٹو کی گنتی مکمل ہو گئی،بیگم کوٹ پولنگ اسٹیشن سے فارم45 کے مطابق غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ آ گیا،این اے 117 سے مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ عبدالعلیم خان کو 245 ووٹ ملے،این اے 117 سے پی ٹی آئی امیدوار علی اعجاز بٹر 203 کو ووٹ ملے،پی پی 145 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سمیع اللہ خان 265 کو ووٹ ملے،پی پی 145 آزاد امیدوار عابد خان کو 14ووٹ ملے،پی پی 145 تحریک لبیک کے عمیر جہانگیر رضوی کو 141۔ووٹ ملے،پی پی 145 سے پی ٹی آئی امیدوار یاسر گیلانی کو 189 ووٹ ملے

    ‏این اے 119، مسلم لیگ کی رہنما مریم مریم نواز 2343 ووٹ لے کر پہلے، تحریک انصاف کے امیدوارمیاں شہزاد فاروق 1763ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    این اے 120، ن لیگ کے سردار ایاز صادق 1078 ووٹ لے کر آگے ، تحریک انصاف کے عثمان حمزہ 988 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں،پولینگ سٹیشن 73 واگڑیاں کا رزلٹ ،پاکستان مسلم لیگ نون کے سردار ایاز صادق 629 ووٹ ،آزاد امیدوار ملک حمزہ علی اعوان 146ووٹ لے کر پیچھے،ٹی ایل پی کے امیدوار راشد بٹ 84 لے کر تیسرے نمبر پر ہیں.

    این اے 121 لاہور،پولنگ اسٹیشن نمبر 141 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ ،شیخ روحیل اصغر 356 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر، وسیم قادر 312 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر

    این اے 122 پولنگ اسٹیشن نمبر 21 کا سرکاری غیر حتمی نتیجہ،مسلم لیگ نون کے خواجہ سعد رفیق 3665 ووٹ لے کر آگے،آزاد امیدوار لطیف کھوسہ 2465 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

    لاہور:این اے 123 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ ،میاں شہباز شریف 1595 ووٹ لے کر آگے ہیں،آزاد امیدوار افضال پاہٹ 637 ووٹ لے کر پیچھے ہیں

    این اے 125لاہور: مسلم لیگ ن کے ملک افضل 2135 ووٹوں کے ساتھ آگے، آزاد امیدوار رانا جاوید 1830 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں.

    این اے 130 لاہور،پولنگ اسٹیشن نمبر 34 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ ،نواز شریف 456 ووٹ لے کر پہلے نمبر، ڈاکٹر یاسمین راشد 212 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    این اے 46،8 پولنگ سٹیشنز پر پی ٹی آئی کے عامر مغل 2020 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ،مسلم لیگ ن کے انجم عقیل 1120 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں

    اسلام آباد کے حلقہ این اے 47 ،سات پولنگ سٹیشنز پر پی ٹی آئی کے شعیب شاہین 2340 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں،مسلم لیگ ن کے طارق فضل چوہدری 1300 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں

    اسلام آباد: این اے 48،پولنگ سٹیشن نمبر ون،غیرحتمی، غیر سرکاری نتائج،پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ علی بخاری 313ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں،ن لیگ کے حمایت یافتہ آزادامیدوار راجہ خرم نوازکے 140 ووٹ ہیں،تیسرے نمبر پر ٹی ایل پی کے امیدوار نے 66 ووٹ لئے،چوتھے نمبر پرمصطفی نواز کھوکھر کے 64 ووٹ نکلے

    بہاول پور کے حلقہ این اے 168پولنگ اسٹیشن نمبر 17 کا پہلا غیر حتمی نتیجہ،تحریک انصاف کے سمیع اللہ چوہدری 300 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں،ن لیگ کے ملک اقبال چنڑ 175 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں

    حلقہ این اے 78 گوجرانوالہ 2 کے 319 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 کے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے خرم دستگير خان 611 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد مبین عارف 597 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں

    این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان،نتیجہ: 358 میں سے 15 پولنگ اسٹیشن،مولانا فضل الرحمن 2168 ووٹ لے کر آگے،
    فیصل کریم کنڈی 2097 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر،علی امین گنڈاپور2059 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں،

    مانسہرہ حلقہ این اے 15 پولنگ اسٹیشن نمبر 56 بی ایچ یو پانو ڈھیری کا غیر حتمی نتیجی، تحریک انصاف کے امیدوار شہزادہ گستاسپ خان 148 ووٹ کے کرپہلے،نواز شریف 100 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    کراچی: این اے 229ملیر ،ایک پولنگ اسٹیشن کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ،پیپلزپارٹی کے جام عبدالکریم 195ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں،ن لیگ کے قادر بخش 105ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،آزاد امیدوار ولی محمد 89 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں،

    پی کے 90 کوہاٹ: ایک پولنگ اسٹیشن کا غیر حتمی غیر سرکار ی نتیجہ،پیپلزپارٹی کے امجد آفریدی 430ووٹ لے کر آگے ہیں،آزاد امیدوار آفتاب عالم 260ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں،

    این اے 64 گجرات:ایک پولنگ اسٹیشن کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ،ق لیگ کے چودھری سالک حسین 252 لےکر آگے ہیں،آزاد امیدوار قیصرہ الٰہی 205 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں.

    این اے247کراچی سینٹرل:ایک پولنگ اسٹیشن کا غیر سرکاری،غیر حتمی نتیجہ ،ایم کیو ایم کے خواجہ اظہارالحسن 237 ووٹ لے کر آگے،پپیلز پارٹی کے شیخ معاذ فیروز190 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر،جماعت اسلامی کے منعم ظفر145 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں.

    پی ایس 1 جیکب آباد: ایک پولنگ اسٹیشن کا غیرحتمی ،غیرسرکاری نتیجہ،پیپلز پارٹی کے شیر مغیری 518 ووٹ لے کر آگے ہیں،آزاد امیدوار عبدالرزاق 30 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    این اے 236 شرقی،ایک پولنگ اسٹیشن کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ، آزاد امیدوار عالمگیر خان 356 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہیں،جماعت اسلامی کے اسامہ رضی 289 ووٹ لے کر دوسرے نمبر ہیں، پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرنز کے مزمل قریشی 96 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں

    میاں چنوں: حلقہ این اے 146 سے ایک پولنگ اسٹیشن کا غیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ ،آزاد امیدوار پیر ظہور حسین قریشی 205 ووٹ لے کر پہلےنمبر پر ہیں،مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر اسلم بودلہ 140 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں،

    رحیم یار خان این اے 172 ، پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ بوائز ہائی سکول گلشن اقبال ،غیر حتمیٰ غیر سرکاری نتیجہ، این اے 172، آزاد امیدوار جاوید اقبال 340 ووٹ لیکر آگے ہیںَن لیگ کے میاں امتیاز احمد 290 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں،

    این اے 234 کورنگی،ایک پولنگ اسٹیشن کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ،آزاد امیدوار فہیم خان 135 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر ،یم کیو ایم کے معین پیرزادہ 96 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر،تحریک لبیک کے 55 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں

    ایبٹ آباد این اے سولہ کے 14 پولنگ اسٹیشن کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ ، مسلم لیگ ن کے مرتضی جاوید عباسی (2616) آگے،پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی اصغر خان (2489) ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ، سردار مہتاب 818 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    صوابی، این اے 20، ادینہ گاؤں میں خواتین ووٹر پر پابندی لگا دی گئی

    سیاسی جماعتوں کی خواتین امیدوار کم ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو کیس بھیج دیا

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    میں وعدے کر کے یوٹرن نہیں لیتا تھا، نواز شریف

  • مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے ووٹ کاسٹ کردیا،چیف آرگنائزر (ن)لیگ مریم نواز نے بھی ووٹ کاسٹ کردیا،

    لیگی قائدین نےاین اے128میں ووٹ کاسٹ کیا، نواز شریف اور مریم نواز ووٹ دینے پہنچے تو عون چودھری نے ان کا استقبال کیا،نواز شریف اور مریم نواز نے قومی اسمبلی کی سیٹ پر شیر پر مہر نہیں لگائی بلکہ عقاب کے نشان پر مہر لگائی اور آئی پی پی کے عون چودھری کو ووٹ دیا.اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہو گا، لوگ خوشحال زندگی بسر کر سکیں گے،چیزیں سستی کریں گے، لوگوں کو ان کی دہلیز پر چیزیں میسر کریں گے، ووٹ سے ملک میں بدتہذیبی کا خاتمہ ہو گا،ملک میں ایک جماعت کومینڈیٹ ملناچاہیے مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہےحمزہ شہباز اور مریم نواز نےجیلیں کاٹیں ہیں بدتمیزی اور بدتہذیبی کا کلچر ختم کرناہےعوام ووٹ ڈالنےباہر نکلیں۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ ٹھیک چل رہا تھا اسکو ضرب پہنچائی گئی، ہم اسکو ٹھیک کریں گے، آپ ہمارا منشور پڑھیں سب چیزیں تفصیل سے لکھی ہوئی ہیں، صحافی نے سوال کیا تو نواز شریف نے کہا کہ خدا کے لئے مخلوط حکومت کا نام نہ لیں، ملکی مسائل حل کرنے ہیں تو ایک پارٹی کو پورا مینڈیٹ ملنا چاہئے، مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالہ سے سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ نتائج کے بعد پارٹی فیصلہ کرے گی میں اکیلا نہیں کر سکتا، مریم نے پارٹی میں بہت کام کیا ، جدوجہد ہے، شہباز شریف کا بھی بہت کام ہے، حمزہ نے بھی جیلیں کاٹیں، قربانیاں دے کر ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں،

    واضح رہے کہ عام انتخابات، پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے ووٹ حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    آٹھ فروری، ملک بھر میں عام انتخابات، تاہم سب کی نظریں لاہور پر جمی ہیں ، سابق وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، بلاول،علیم خان سمیت کئی امیدوار میدان میں ہیں، لاہور سے کون جیتے گا؟ سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں.

    لاہور میں قومی اسمبلی کے 14 حلقے ہیں، سب امیدواروں نے بھر پور انتخابی مہم چلائی، لاہور میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، بلاول زرداری سمیت سب نے جلسے کئے، ریلیز نکالیں، کارنر میٹنگز کیں،تا ہم اب کل آٹھ فروری کو ووٹر فیصلہ سنائیں گے کہ لاہور کس کا؟لاہور میں پولنگ اسٹیشنز پر سامان کی ترسیل کا عمل مکمل ہوگیا ہے، ریٹرنگ افسران نے پریزائڈنگ افسر کو سامان حوالے کیا ،پولنگ اسٹیشنز پر سامان پاک فوج اور پولیس کی نگرانی میں منتقل کردیا گیا ،لاہور میں مجموعی طور پر 4 ہزار 3 سو 54 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گے، لاہور میں 1120 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قراردیا گیا ہے،حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 3110 بتائی گئی ہے،نارمل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 127 ہے۔

    این اے 130،نواز شریف بمقابلہ یاسمین راشد
    سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور کے حلقہ این اے 130 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جو پہلے بھی اس حلقے سے الیکشن لڑیں اور ہاریں، اب یاسمین راشد نو مئی کے مقدمات میں جیل میں ہیں، اور نواز شریف مقدمات سے بری ہو کر بھر پورمہم چلا چکے، نواز شریف نے مریم نواز کے ہمراہ این اے 130 کا دورہ کیا تھا،نواز شریف کی بھر پور مہم اور یاسمین راشد کا جیل میں ہونا،اسکے علاوہ یاسمین راشد کی مہم چلانے والوں کو روکے جانا، بھی دھاندلیوں میں شامل ہے،یاسمین راشد کو انتخابی نشان لیپ ٹا پ ملا ہے، جبکہ نواز شریف کا پارٹی نشان شیر ہے، این اے 130 سے نواز شریف جیت جائیں گے،مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، جو پانچ سے چھ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کر لیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال احمد خان اور جماعت اسلامی کے صوفی خلیق احمد بٹ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 130 سے کل 18 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 130لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 170، پی پی 173 اور پی پی 174 کے علاقے شامل ہیں۔این اے 130 لاہور میں انار کلی،سنت نگر،مزنگ،اسلام پورہ،گلشن راوی۔ساندہ۔ہال روڈ شامل ہیں، اس حلقے کی کل آبادی 8لاکھ 93ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 8ہزار ہے، جن میں‌سے مرد ووٹرز – 3لاکھ 23ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 85ہزار ہیں، اس حلقے میں کل پولنگ اسٹیشن – 376 بنائے گئے ہیں.

    این اے 127، بلاول زرداری بمقابلہ عطا تارڑ
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اپنے نانا سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخ کو دہرانے کیلئے این اے 127 لاہور سے انتخابی میدان میں اترچکے ہیں،بلاول زرداری اس بار لاڑکانہ اور لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں، لیاری سے نہیں لڑ رہے اس حلقے میں ن لیگ کے عطا تارڑ امیداور ہیں، پی ٹی آئی کے ملک ظہیر عباس کھوکھر اس حلقے سے امیدوار ہیں جن کا انتخابی نشان گھڑیال ہے،جماعت اسلامی کے احسان اللہ وقاص،تحریک لبیک کے مطلوب احمد اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 127 سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار خالد نیک ہیں، پیپلز پارٹی امیدوار بلاول کی اس حلقے میں مسلم لیگ ق، پاکستان عوامی تحریک،جمعیت علماء پاکستان ،جمعیت اہلحدیث نے حمایت کر رکھی ہے، اس حلقے میں پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ سیٹ جیت جائیں تا ہم ماضی میں اس حلقے سے ن لیگ جیتتی رہی ہے، اب اس حلقے میں بلاول اور عطا تارڑ کا مقابلہ ہے،اس حلقے کی کل آبادی 972,875 ہے، جہاں 519,150 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 274,000 جب کہ 245,000 خواتین ووٹرز ہیں۔یہ حلقہ PP-157، 160، 161، اور صوبائی اسمبلی کے 162 حلقوں پر مشتمل ہے، ماڈل ٹاؤن، بہار کالونی، قینچی، چونگی امرسدھو جیسے علاقے بھی اس حلقے میں شامل ہیں،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 27ہزار ہے، جس میں مرد ووٹرز – 2لاکھ 73ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 54ہزار ہیں، این اے 127 میں کل پولنگ اسٹیشن – 337بنائے گئے ہیں.

    این اے 123 ، شہباز شریف بمقابلہ لیاقت بلوچ
    این اے 123، سابق وزیراعظم شہباز شریف ن لیگ کی جانب سے اس حلقے میں امیدوار ہیں تو وہیں جماعت اسلامی کے امیر لیاقت بلوچ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں،تحریک انصاف کے افضال عظیم پاہٹ، پیپلز پارٹی کے محمد ضیاء الحق، جے یو آئی کے حیدر علی،تحریک لبیک کے امجد نعیم اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 123 لاہورمیں کماہاں روڈ۔بیدیاں روڈ،ڈیفنس ،گجو متہ شامل ہیں،کل آبادی – 8لاکھ 87ہزار 5سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 38ہزار 780ہے جن میں سے مرد ووٹرز – 1لاکھ 87ہزار 830،خواتین ووٹرز – 1لاکھ 50ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 222 بنائے گئے ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد سولہ ہے،این اے 123 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 157، پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 اور پی پی 164 کے مختلف علاقے شامل ہیں۔

    این اے 119، مریم نواز بمقابلہ شہزاد فاروق
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف امیدوار ہیں، صنم جاوید پی ٹی آئی امیدوار مریم نواز سے مقابلے میں‌دستبردار ہو گئیں جس کے بعد پی ٹی آئی کے اب امیداور شہزاد فاروق ہیں،پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد ، جماعت اسلامی کے ذولفقار علی ، جمعیت علماء اسلام کے راشد احمد خان اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 119 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقے پی پی 149, پی پی 150, پی پی 151، پی پی 152 اور پی پی 170 شامل ہیں۔حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 119 لاہورمیں گڑھی شاہو، مال روڈ ، جی ٹی روڈ ، باغبانپورہ شامل ہیں، حلقے کی کل آبادی – نو لاکھ تینتیس ہزار دو سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار 829 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 77ہزار 172جبکہ خواتین ووٹرز – 2لاکھ 43ہزار 657 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 338 بنائے گئے ہیں.حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی خواتین نے گھر گھر جا کر مریم نواز کی کامیابی کے لئے مہم چلائی ہے، قوی امکان ہے کہ مریم نواز سیٹ جیت جائیں گی.

    این اے 122، خواجہ سعد رفیق بمقابلہ لطیف کھوسہ
    این اے 122 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پی ٹی آئی کی جانب سے آزاد امیدوار سردارلطیف کھوسہ آمنے سامنے ہیں۔این اے 122 سے مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید بھی امیدوار ہیں،جماعت اسلامی کی جانب سے اس حلقے میں ڈاکٹر زیبا وقار وڑائچ امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد اکیس ہے،این اے 122 لاہور میں بھٹہ چوک ،ڈیفںس،بیدیاں روڈ ،آرے بازار۔کینٹ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 53ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 70ہزار 536 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 95ہزار اور خواتین ووٹرز- 2لاکھ 75ہزار 50 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 361بنائے گئے ہیں،این اے 122 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 155، پی پی 156 ، پی پی 157, پی پی 160 اور پی پی 170 کے مختلف علاقے شامل ہیں، 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے عمران خان الیکشن لڑے تھے اور جیت گئے تھے تاہم عمران خان نے بعد ازاں یہ سیٹ چھوڑی، تو ضمنی انتخابات میں ہمایوں اختر کو ٹکٹ دیا جو خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں ہار گئے تھے.

    این اے 117، علیم خان بمقابلہ علی اعجاز
    این اے 117 پر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی )کے امیدوار عبدالعلیم خان کا مقابلہ آزاد امیدوار علی اعجاز سے ہے، ن لیگ نے اس حلقے سے امیدوار کھڑا نہیں کیا بلکہ علیم خان کی حمایت کا اعلان کیا ہے،پیپلز پارٹی کے سید آصف ہاشمی، جماعت اسلامی کے جہانگیر احمد، اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 117 میں کل امیدواروں کی تعداد 20 ہے،این اے 117 لاہورمیں شاہدرہ،بادامی باغ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ دو ہزار پانچ سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 82ہزار،خواتین ووٹرز – دو لاکھ 38ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 329بنائے گئے ہیں.این اے 117 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 145، پی پی 146 اور پی پی 147 شامل ہیں

    حلقہ این اے 120 پر مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق انتخابی میدان میں اترے ہیں، ان کے مقابلے پر آزاد امیدوار عثمان حمزہ کامیابی کیلئے زور لگائیں گے۔

    این اے 128، عون چودھری بمقابلہ سلمان اکرم راجہ
    این اے 128پر استحکام پارٹی کے امیدوار عون چودھری کو آزاد امیدوار سلمان ا کرم راجا کا سامنا ہے،ن لیگ کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں ہے، ن لیگ نے عون چودھری کی حمایت کر رکھی ہے،پیپلز پارٹی کے عدیل غلام محی الدین ،جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ،جے یو آئی کے غضنفر عزیز اس حلقے سے امیدوار ہیں، اس حلقے سے کل 22 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 128 لاہور میں گلبرگ،ماڈل ٹاون۔فیروز پور روڈ۔گارڈن ٹاون،علامہ اقبال ٹاون،فیصل ٹاون۔گلاب دیوی ہسپتال شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 52ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 78ہزار ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 48ہزار ہیں،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 30ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 433بنائے گئے ہیں،این اے 128 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 156، پی پی 161، پی پی 169، پی پی 170 اور پی پی 171 کے مختلف علاقے شامل ہیں.

    این اے 126 سیف الملوک کھوکر،بمقابلہ ملک توقیر کھوکھر
    این اے 126 لاہور سے ن لیگ کے سیف الملوک کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے ملک توقیر کھوکھر، پیپلز پارٹی کے امجد علی، جماعت اسلامی کے امیر العظیم، مرکزی مسلم لیگ کے عمران لیاقت،تحریک لبیک کے محمد احمد مجید امیدوار ہیں، اس حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد – 19 ہے،این اے 126 لاہور میں شادیوال ۔جوہر ٹاون۔جوڈیشل کالونی۔ایکسپو سنٹر،واپڈا ٹاون۔ویلنشیا شامل ہیں،کل آبادی 9لاکھ 78ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 50ہزار ہے جس میں مرد ووٹرز – 1لاکھ 78ہزار جبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 71ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 223بنائے گئے ہیں.این اے 126 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پی پی 162، پی پی 164، پی پی 167 اور پی پی 168 کے مختلف علاقے شامل ہیں

    این اے 125، 19 امیدوار میدان میں
    این اے 125 لاہور سے مسلم لیگ ن کے محمد افضل کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے جاوید عمر، پیپلز پارٹی کے چوہدری عبدالغفور میو، جے یو آئی کے نظام دین، تحریک لبیک کے خرم شہزاد، جماعت اسلامی کے ذبیح اللہ بلگن امیدوار ہیں،اس حلقے میں امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 125 میں ضمیر ٹاون، مانگہ منڈی، موہلنوال۔رائیونڈ روڈ، بھوبتیاں شامل ہیں،اس حلقے کی کل آبادی – 9لاکھ ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 40ہزار 6سو ہے ، مرد ووٹرز – 1لاکھ 86ہزار 2سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 54ہزار 4سو ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 214بنائے گئے ہیں.این اے 125 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 164، پی پی 165 ، پی پی 166 کے علاقے شامل ہیں۔

    این اے 124 سے 13 امیدوار میدان میں
    این اے 124 سے مسلم لیگ ن کے رانا مبشر اقبال،تحریک انصاف کے ایڈوکیٹ ضمیر، تحریک لبیک کے عرفان بھٹی، مرکزی مسلم لیگ کے محمد امین ، جماعت اسلامی کے محمد جاوید امیدوار ہیں، اس حلقے میں کل امیدواروں کی تعداد 13 ہے،این اے 124 لاہور میں ہلوکی۔سادھوکی۔ویلنشیا ،پاک عرب سوسائٹی،باگڑیاں۔ چونگی امر سدھو شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 78ہزار 8سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 10ہزار 116 ہے،مرد ووٹرز – 1لاکھ 69ہزار 6سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 40ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 198 بنائے گئے ہیں،این اے 124 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چھ حلقوں پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 ، پی پی 163، پی پی 164 اور پی پی 165 کے مختلف علاقے شامل ہیں،

    این اے 121 لاہور سے ن لیگ کے شیخ روحیل اصغر،پی ٹی آئی کے وسیم قادر، پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد، جماعت اسلامی کے عامر صدیقی، ایم کیو ایم کے عمران اشرف امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 15 ہے،این اے 121 لاہورمیں ہربنس پورہ۔سلامت پورہ۔تاج پورہ۔داروغہ والا۔فتح گڑھ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 2ہزار 6سو ہے، رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 4لاکھ 67ہزارہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 47ہزار 571،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 19ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 299بنائے گئے ہیں،این اے 121 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقے پی پی 149، پی پی 152، پی پی 153 اور پی پی 154 شامل ہیں۔

    این اے 118، حمزہ شہباز بمقابلہ عالیہ حمزہ
    این اے 118 لاہور ن لیگ کے حمزہ شہباز ، پی ٹی آئی کی عالیہ حمزہ، پیپلز پارٹی کے شاہد عباس، جے یو آئی کے محمد افضل، تحریک لبیک کے عابد حسین،جماعت اسلامی کے محمد شوکت امیدوار ہیں، اس حلقے سے 13 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 118 لاہورمیں بادامی باغ، شاد باغ، دلی دروازہ۔ شیرانوالہ گیٹ۔ مستی گیٹ ، موچی گیٹ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ اڑتالیس ہزار پانچ سو ستائیس ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 7لاکھ 35ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 94ہزار ہے،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 41ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 463بنائے گئے ہیں،این اے 118 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 147 پی پی 148 اور پی پی 149 شامل ہیں۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقوں سے جماعت اسلامی، جے یو آئی، مرکزی مسلم لیگ، تحریک لبیک کو کوئی سیٹ نہیں ملے گی، پیپلز پارٹی این اے 127 والی واحد سیٹ جیت سکتی ہے، ن لیگ لاہور سے اکثر سیٹیں جیتے گی، آزاد امیدوار ن لیگ کا مقابلہ کریں گے.

  • نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں،پلوشہ خان

    نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں،پلوشہ خان

    پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے کہا کہ بلاول بھٹوزرداری نے گزشتہ دن دو ٹوک بات کی کہ کسی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے ،

    پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ مینڈیٹ چوری کیا گیا تو ان پیچھا کریں گے کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں گے ، نواز شریف کا ووٹ شیر پر نہیں عقاب کو جائے گا ،ن لیگ نواز شریف کے خود ساختہ نعرے سے وزیراعظم کا نعرہ لگا رہے ہیں ، ن لیگ کی فتح کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں ، ن لیگ آج تک پنجاب سے باہر نہیں نکلی ، ن لیگ پنجاب کو مشکل میں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، جو بڑے بڑے نعرے لگا رہے ہیں ان سے پوچھئے کے جمہوریت بہترین انتقام ہے، سب جماعتیں کمپین میں مصروف تھی کی میاں نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں، معاملات پہلے سے طے ہونے کے ثبوت ہیں تاثر دے رہے ہیں پنجاب ان کے ساتھ ہے، پنجاب کسی کی جاگیر نہیں آپ دو بار اس کو چھوڑ کر وطن سے باہر گئے ہیں، وہ شخص جس نے پی آئی اے کا بیڑہ غرق کیا وہ کس منہ سے بات کر رہا ہے، ایک سیاسی جماعت پاکستانی اداروں کو خراب کرنے کا سوچ رہی ہے، آنے والے کل میں کوئی بدمعاشی برداشت نہیں کریں گے،الیکشن والے دن انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے تو خدشہ ہے کوئی ورادت ڈالیں گے ، الیکشن والے دن نیٹ کی بندش نا قابلِ قبول ہے ،

    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ن لیگ کی طرف سے دیے گئے اشتہار کا نوٹس لے ،کل کسی قسم کی دھاندلی اور دھونس کو قبول نہیں کیا جائے گا.گا نو مئی والے آج ن لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں،مسلم لیگ نون کی طرف سے اشتہاری مہم عوام کو گمراہ کرنے کی چالاکی ہے ،مسلم لیگ نون نے جعلسازی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ،نواز شریف کو جتنی جلدی ملک چھوڑ کر بھاگنے کی تھی اتنی ہی وزیراعظم بننے کی

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • آصف  زرداری نے 2014 میں نواز شریف کی حکومت بچائی، خورشید شاہ

    آصف زرداری نے 2014 میں نواز شریف کی حکومت بچائی، خورشید شاہ

    پیپلز پارٹی کے رہنما ، سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف 2014 کے دھرنے کے دوران اقتدار اور ملک چھوڑنے کیلئے تیار تھے ،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق خورشید شاہ کا کہناتھا کہ نواز شریف نے کہا مجھے صرف آصف علی زرداری ہی بچا سکتا ہے، صدر آصف علی زرداری نے 2014 میں نواز شریف کی حکومت بچائی ،نواز شریف نے کہا تھا میں اور میرا خاندان صدر آصف علی زرداری کا احسان کبھی نہیں بھول سکتے ، نواز شریف اتنے بھی بیمار نہیں تھے بس بیماری کے بہانے ملک سے بھاگنا تھا ، نواز شریف سزا یافتہ ہو کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں ،نواز شریف ڈیل کرکے لاڈلا بن کر وطن واپس آتا ہے تو قانون بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے،

    واضح رہے عمران خان نے 2014 میں دھرنا دیا تھا، تا ہم عمران خان کی حکومت میں نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر جیل سے لندن چلےگئے اور خود ساختہ جلا وطنی اختیار کئے رکھی، نواز شریف کو عمران خان کی حکومت نے ہی عدلیہ کے کہنے پرجانے کی اجازت دی تھی، اب نواز شریف عمران خان حکومت کے خاتمے، پی ڈی ایم حکومت کے خاتمے کے بعد واپس آئے اور الیکشن لڑ رہے ہیں، نواز شریف اب وزیراعظم کے امیدوار ہیں.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • پی ٹی آئی کے ورکرز کو پیغام دیتی ہوں، نفرت کی سیاست کو دفن کر دو، مریم نواز

    پی ٹی آئی کے ورکرز کو پیغام دیتی ہوں، نفرت کی سیاست کو دفن کر دو، مریم نواز

    عام انتخابات،مسلم لیگ ن کا آج قصور میں انتخابی مہم کا آخری جلسہ ہو رہا ہے،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ تازہ ترین سروے میں (ن) لیگ مقبول ترین جماعت قرار پائی،کہا گیا نواز شریف تاریخ کا حصہ بن گئے،ظلم اور جبر کی ہر حد کو پھلانگا گیا، ن لیگ مقبولیت میں تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ گئی،ہر سروے مخالفین کے پرخچے اڑا رہا ہے.میں ملک اور قوم کی خاطر، خود پر کئے تمام مظالم بھلانے کےلئے تیار ہوں،میں بھی اپنے اور والد کے ساتھ کیے گئے ہر برے سلوک کو بھلانے کو تیار ہوں، نواز شریف کے مخالفین نے مشہور ہونے کا اور اپنی کارکردگی چھپانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے کہ نواز شریف پر تنقید شروع کردیتے ہیں،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرا سیاسی جنم ایک ایسے دور میں ہوا جہاں ماں بہن بیٹی کی کوئی عزت نہیں تھی، جہاں بہنوں بیٹیوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا تھا ،کال کوٹھڑیوں میں ڈالا گیا، باپ کے سامنے گرفتار کر سزائے موت کی چکی میں رکھا گیا لیکن یہ بھی بتاؤں کہ جلسوں میں بھی بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک نے کردار کشی، مجھ پر ذاتی حملے کئے گئے، بدتمیزی، بدتہذیبی کی گئی، مجھ پر جملے کسے گئے،آج ان کی چوری پکڑی گئی، نوا ز شہباز نے ایک لفظ بھی نہیں بولا، میرے لئے آسان نہیں مشکل وقت تھا،میں نے اپنی ماں‌کھوئی جو کبھی واپس نہیں آئے گی، میں آج اس جلسے کو گواہ بنا کر کہنا چاہتی ہوں،کہ یہ مہم کا آخری جلسہ ہے، میں آپ کی خاطر ملک کی خاطر، قوم کی خاطر تمام مظالم بھلانے کو آج تیار ہوں، میں آج وعدہ کرتی ہوں، میں سب کو دعوت دیتی ہوں آؤ، ظلم، انتقام ، جبر جلاؤ گھیراؤ‌کا باب آج بند کر دیں، تحریک انصاف کے نوجوانوں کو کہتی ہیں کہ آ پ کو ورغلایا گیا، جیلوں میں پڑے ہو، نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دو،میں ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی ہوں جہاں نوجوانوں کے پاس روزگار ہوں نوجوان ڈگریاں لے کے در بدر نہ گھوم رہے ہو اور انشاءاللہ یہ خواب پورا ہوگا

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں مریم نواز کی ساری تقریر نواز شریف سے شروع ہوکر نواز شریف پر ختم ہوتی ہے تو کہنا چاہتی تو مریم نواز تو نواز شریف کی بیٹی ہے انکی کارکن ہے یہاں تو یہ حالت ہے نواز شریف کے تمام مخالفین کی ساری تقریر بھی نواز شریف سے شروع ہوکر نواز شریف پر ہی ختم ہوتی ہے،میں خواب دیکھتی ہوں ایسا پاکستان کا جہاں پر امن،بھائی چارہ اور سلامتی ہو،عوام نے ہر ظلم، ہرجبرسہا لیکن نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا،مسلم لیگ ن کو قصور سے محبت ہے،آج سیاست شروع بھی نواز شریف سے ہورہی اور ختم بھی نواز شریف پر ہورہی ہے، گزشتہ 6-7سال میں نواز شریف پر ظلم و جبر کی ہر لائن کراس کی گئی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • عوام کا ووٹ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا:مریم اورنگزیب

    عوام کا ووٹ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا:مریم اورنگزیب

    سابق وفاقی وزیر اطلاعات، ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ن لیگ کی قیادت نے ملک بھر میں جلسے کیے، کل مری میں جلسہ کامیاب رہا، لوگ برف میں بھی اپنے قائد کو دیکھنے آئے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے جانے کا خمیازہ عوام نے بھگتا، نواز شریف کے جانے کے بعد ملک میں نفرت پھیلائی گئی،ہمارے مزاج الزام تراشی اور شک و شبہ والے بن گئے ہیں،ن لیگ کی قیادت نے ملک بھر میں جلسے کیے،عوام جانتے ہیں نواز شریف اور ن لیگ وعدہ پورے کرتے ہیں،مسلم لیگ(ن)کے منشور پر بھرپور عمل کیا جائے گا،نوازشریف نے عوام سے کیا ہر وعدہ نبھایا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے چور چور کہنے والوں کو بے نقاب کردیا،2013میں مہنگائی، دہشت گردی، لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا،2013اور 2017کے حالات بالکل برعکس تھے،نوازشریف دور میں ترقیاتی کام ہوئے،نوازشریف کے دور میں 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی،نوازشریف کے دور میں ترقی کرتا پاکستان آگے آیا،شہبازشریف کی حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا فوکس جمہوریت کی بحالی ہے، جب شہباز شریف ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا رہے تھے یہ تب بھی آئی ایم ایف کو خطوط لکھ رہے تھے،جب یہ لوگ دھرنے دے رہے تھے اس وقت وزیراعظم نواز شریف ملک میں ترقی لا رہا تھا، مسلم لیگ ن ایک یونائیٹڈ فرنٹ کے بات کرتی ہے، سب نے مل کر نواز شریف کی قیادت کے پیچھے کھڑےہونا ہے، مہنگائی کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لائیں گے،ایک کروڑ نوکریاں نہیں بلکہ نوکریوں کے مواقع پیدا کریں گے،مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے ہر مسئلے پر مفصل پلان دیا، مہنگائی ،سموگ ،تعلیم ،صحت سمیت ہر شعبے کا پلان دیا ہے، نواز شریف ماضی میں بھی ہر امتحان میں کامیاب رہے.نوازشریف نے حساب مانگنے پر 9مئی جیسے واقعات نہیں کیے،نوازشریف نے ججز اور پولیس والوں کے سر نہیں پھاڑے.

  • نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں،  بلاول بھٹو زرداری

    نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹیرینز کے چئیر مین بلاول بھٹو نے کہا کہ جس روپ میں میاں صاحب اس بار سامنے آ رہے ہیں، یہ وہ میثاق جمہوریت والے میاں صاحب نہیں ہیں، یہ ووٹ کو عزت دو والے میاں صاحب نہیں، یہ وہی پرانے آئی جے آئی والے میاں صاحب ہیں جن کا ساتھ دینا میرے لیے مشکل ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ان کیلئے تحریک انصاف اور ن لیگ سے اتحاد کا معاملہ کنویں اور کھائی جیسا ہے، دونوں جماعتیں ایک جیسی سیاست کر رہی ہیں۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جمہوریت اور آئینی حالات میں بھی ایک بحران نظر آ رہا ہے، تقسیم کی سیاست جو بانی پی ٹی آئی کرتے تھے اور میاں صاحب کی بھی روایت تھی، وہ اب ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو گئی ہے، میں پاکستان میں اس تقسیم کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں انتخابی مہم چلا رہی ہے، ہم نے سب سے پہلے انتخابی مہم کا آغاز کیا، سب سے پہلے منشور دیا۔
    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اگر معیشت، جمہوریت اور دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنا ہے تو پہلے اس تقسیم کو ختم کرنا ہوگا، ان تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے میں بہترین پوزیشن میں ہوں، ہماری انتخابی مہم بہت زبردست رہی ہے، عوام کا ردعمل امیدوں سے زیادہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، میاں صاحب کو خبردار کرتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے، ا مید ہے کہ نوازشریف کے دباؤ کے باوجود نگران حکومت اور انتظامیہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت اور انتظامیہ نواز شریف کے حق میں جانبدار ہیں، نگران وزیر اعظم کی تقرری شہباز شریف نے راجہ ریاض کے ساتھ ملکر کی، راجہ ریاض اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

  • آپ نے مجھے کیوں نکالا؟میرا زمانہ اچھا تھا یا یہ زمانہ؟ نواز شریف

    آپ نے مجھے کیوں نکالا؟میرا زمانہ اچھا تھا یا یہ زمانہ؟ نواز شریف

    مری: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ مجھے نکالنے والے استعفیٰ دے کر چلے گئے-

    باغی ٹی وی :پاکستان مسلم لیگ (ن) آج مری میں جلسہ کر رہے ہیں، نواز شریف کے ہمراہ پارٹی کی چیف آرگنائزر مریم نواز بھی جلسہ گاہ میں موجود ہیں، جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا کہ مری میں اتنی سردی کے باوجود بھی لوگ یہاں موجود ہیں، کل میں مری پہنچا راستے میں بہت ٹریفک تھا۔

    نوازشریف نے کہا کہ 1985 میں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا تو پہلا منصوبہ راولپنڈی سے مری روڈ تھا، مری میرا دوسرا گھر ہے اور یہاں کے لوگ بھی مجھے بہت پیارے ہیں، 1950 میں پیدائش ہوئی تو 1956 میں پہلی بار مری آیا تھا، لاہور کے بعد سب سے زیادہ مری میں رہا ہوں جب میں وزیراعظم تھا تو عوام کی خدمت کررہا تھا، میں نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، ملک میں بجلی سستی کی، روٹی 4 روپے، گھی 150 روپے اور چینی 50 روپے کلو تھی، سبزیاں 10،10روپے کلو، ڈالر 104 روپے اور پیٹرول 65 روپے لیٹر تھا۔

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ نوازشریف کا زمانہ اچھا تھا یا یہ زمانہ اچھا ہے، سونا 50 ہزار روپے تولہ تھا اور آج 2 لاکھ روپے تولہ ہے آپ نے مجھے کیوں نکالا، جس نے نکالا اچھا کیا یا برا کیا؟ آج وہ خود استعفیٰ دے کر گھر جارہے ہیں، دال میں کچھ کالا ہے، چور کی داڑھی میں تنکا ہے، مجھے نکالنے والے چلے گئے ہیں، آج آپ کے سامنے کھڑا ہوں، مجھے نکال دیا اور اس کو لائے جس نے کہا عوام کو ایک کروڑ نوکریاں دوں گا،وہ کٹے، مرغیاں اور انڈے کہاں گئے، بلین ٹری کا جھوٹ بولا، کہا گیا 50 لاکھ گھر دیں گے کسی کو ملا تو بتائیں، ن لیگ پاکستان کو دوبارہ تعمیر کرے گی، کہتا تھا کہ پاکستان کی یوتھ ہمارے ساتھ ہے، یہ دیکھو یوتھ تو میرے ساتھ کھڑی ہے ان شاءاللہ ہم مری کے چاروں طرف موٹروے بنائیں گے، میرا منصوبہ اور خواہش ہے اسلام آباد سے مری تک ٹرین لے کر آئیں، اسلام آباد سے مری اور پھر مظفرآباد تک ٹرین چلائیں گے۔

    حکمران اللہ تعالیٰ اور عوام کو جواب دہ ہیں،مریم نواز

    مری میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ حکمران اللہ تعالیٰ اور عوام کو جواب دہ ہیں، اس الیکشن میں مری والے اس حکمران سے جواب مانگیں کہ جب لوگ یہاں مر رہے تھے کہ وہ کہاں تھا؟ نواز شریف کو کبھی گھر بیٹھے دیکھا؟ نواز شریف عوام کی تکلیف کی خاطر اپنے فیصلے بدل لیتے ہیں وہ آج موسم کی خرابی کے سبب بائی روڈ پہنچے کیوں کہ حکمران اللہ تعالیٰ اور عوام کو جواب دہ ہیں، اس الیکشن میں مری والے اس حکمران سے جواب مانگیں کہ جب لوگ یہاں مر رہے تھے کہ وہ کہاں تھا؟-

    مریم نواز نے عوام سے پوچھا کہ جب نواز شریف آتے ہیں تو مزدوروں کا گھر کا چولہا جلتا ہے، لوگوں کو روزگار ملتا ہے، الیکشن میں چند دن رہ گئے ہیں، بزرگ نوجوانوں سے اپیل ہے کہ ووٹ کی پرچی کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں اسے سوچ سمجھ کر دیں یہ ملک کی ترقی اور آپ کی آئندہ آنے والی نسلوں کا فیصلہ ہے، اگر آپ مری کے مسائل اور لوگوں کے مسائل، روزگار، تعلیم اور صحت کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو پھر شیر پر مہر لگائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ شیر پر مہر لگاؤ اور پاکستان کو نواز دو، ہم مری کے مسائل حل کریں گے، یہاں گیس کا مسئلہ ہے اسے حل کیا جائے گا، میں وعدہ کرتی ہوں کہ اگر مری نے شیر کو منتخب کیا تو یہاں کسی بھی شہر سے زیادہ ترقی لائیں گے،انہوں نے یوم کشمیر کی مناسبت سے نعرہ لگایا اور کہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔