Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے ووٹ کاسٹ کردیا،چیف آرگنائزر (ن)لیگ مریم نواز نے بھی ووٹ کاسٹ کردیا،

    لیگی قائدین نےاین اے128میں ووٹ کاسٹ کیا، نواز شریف اور مریم نواز ووٹ دینے پہنچے تو عون چودھری نے ان کا استقبال کیا،نواز شریف اور مریم نواز نے قومی اسمبلی کی سیٹ پر شیر پر مہر نہیں لگائی بلکہ عقاب کے نشان پر مہر لگائی اور آئی پی پی کے عون چودھری کو ووٹ دیا.اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہو گا، لوگ خوشحال زندگی بسر کر سکیں گے،چیزیں سستی کریں گے، لوگوں کو ان کی دہلیز پر چیزیں میسر کریں گے، ووٹ سے ملک میں بدتہذیبی کا خاتمہ ہو گا،ملک میں ایک جماعت کومینڈیٹ ملناچاہیے مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہےحمزہ شہباز اور مریم نواز نےجیلیں کاٹیں ہیں بدتمیزی اور بدتہذیبی کا کلچر ختم کرناہےعوام ووٹ ڈالنےباہر نکلیں۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ ٹھیک چل رہا تھا اسکو ضرب پہنچائی گئی، ہم اسکو ٹھیک کریں گے، آپ ہمارا منشور پڑھیں سب چیزیں تفصیل سے لکھی ہوئی ہیں، صحافی نے سوال کیا تو نواز شریف نے کہا کہ خدا کے لئے مخلوط حکومت کا نام نہ لیں، ملکی مسائل حل کرنے ہیں تو ایک پارٹی کو پورا مینڈیٹ ملنا چاہئے، مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالہ سے سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ نتائج کے بعد پارٹی فیصلہ کرے گی میں اکیلا نہیں کر سکتا، مریم نے پارٹی میں بہت کام کیا ، جدوجہد ہے، شہباز شریف کا بھی بہت کام ہے، حمزہ نے بھی جیلیں کاٹیں، قربانیاں دے کر ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں،

    واضح رہے کہ عام انتخابات، پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے ووٹ حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    آٹھ فروری، ملک بھر میں عام انتخابات، تاہم سب کی نظریں لاہور پر جمی ہیں ، سابق وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، بلاول،علیم خان سمیت کئی امیدوار میدان میں ہیں، لاہور سے کون جیتے گا؟ سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں.

    لاہور میں قومی اسمبلی کے 14 حلقے ہیں، سب امیدواروں نے بھر پور انتخابی مہم چلائی، لاہور میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، بلاول زرداری سمیت سب نے جلسے کئے، ریلیز نکالیں، کارنر میٹنگز کیں،تا ہم اب کل آٹھ فروری کو ووٹر فیصلہ سنائیں گے کہ لاہور کس کا؟لاہور میں پولنگ اسٹیشنز پر سامان کی ترسیل کا عمل مکمل ہوگیا ہے، ریٹرنگ افسران نے پریزائڈنگ افسر کو سامان حوالے کیا ،پولنگ اسٹیشنز پر سامان پاک فوج اور پولیس کی نگرانی میں منتقل کردیا گیا ،لاہور میں مجموعی طور پر 4 ہزار 3 سو 54 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گے، لاہور میں 1120 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قراردیا گیا ہے،حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 3110 بتائی گئی ہے،نارمل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 127 ہے۔

    این اے 130،نواز شریف بمقابلہ یاسمین راشد
    سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور کے حلقہ این اے 130 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جو پہلے بھی اس حلقے سے الیکشن لڑیں اور ہاریں، اب یاسمین راشد نو مئی کے مقدمات میں جیل میں ہیں، اور نواز شریف مقدمات سے بری ہو کر بھر پورمہم چلا چکے، نواز شریف نے مریم نواز کے ہمراہ این اے 130 کا دورہ کیا تھا،نواز شریف کی بھر پور مہم اور یاسمین راشد کا جیل میں ہونا،اسکے علاوہ یاسمین راشد کی مہم چلانے والوں کو روکے جانا، بھی دھاندلیوں میں شامل ہے،یاسمین راشد کو انتخابی نشان لیپ ٹا پ ملا ہے، جبکہ نواز شریف کا پارٹی نشان شیر ہے، این اے 130 سے نواز شریف جیت جائیں گے،مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، جو پانچ سے چھ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کر لیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال احمد خان اور جماعت اسلامی کے صوفی خلیق احمد بٹ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 130 سے کل 18 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 130لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 170، پی پی 173 اور پی پی 174 کے علاقے شامل ہیں۔این اے 130 لاہور میں انار کلی،سنت نگر،مزنگ،اسلام پورہ،گلشن راوی۔ساندہ۔ہال روڈ شامل ہیں، اس حلقے کی کل آبادی 8لاکھ 93ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 8ہزار ہے، جن میں‌سے مرد ووٹرز – 3لاکھ 23ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 85ہزار ہیں، اس حلقے میں کل پولنگ اسٹیشن – 376 بنائے گئے ہیں.

    این اے 127، بلاول زرداری بمقابلہ عطا تارڑ
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اپنے نانا سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخ کو دہرانے کیلئے این اے 127 لاہور سے انتخابی میدان میں اترچکے ہیں،بلاول زرداری اس بار لاڑکانہ اور لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں، لیاری سے نہیں لڑ رہے اس حلقے میں ن لیگ کے عطا تارڑ امیداور ہیں، پی ٹی آئی کے ملک ظہیر عباس کھوکھر اس حلقے سے امیدوار ہیں جن کا انتخابی نشان گھڑیال ہے،جماعت اسلامی کے احسان اللہ وقاص،تحریک لبیک کے مطلوب احمد اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 127 سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار خالد نیک ہیں، پیپلز پارٹی امیدوار بلاول کی اس حلقے میں مسلم لیگ ق، پاکستان عوامی تحریک،جمعیت علماء پاکستان ،جمعیت اہلحدیث نے حمایت کر رکھی ہے، اس حلقے میں پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ سیٹ جیت جائیں تا ہم ماضی میں اس حلقے سے ن لیگ جیتتی رہی ہے، اب اس حلقے میں بلاول اور عطا تارڑ کا مقابلہ ہے،اس حلقے کی کل آبادی 972,875 ہے، جہاں 519,150 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 274,000 جب کہ 245,000 خواتین ووٹرز ہیں۔یہ حلقہ PP-157، 160، 161، اور صوبائی اسمبلی کے 162 حلقوں پر مشتمل ہے، ماڈل ٹاؤن، بہار کالونی، قینچی، چونگی امرسدھو جیسے علاقے بھی اس حلقے میں شامل ہیں،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 27ہزار ہے، جس میں مرد ووٹرز – 2لاکھ 73ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 54ہزار ہیں، این اے 127 میں کل پولنگ اسٹیشن – 337بنائے گئے ہیں.

    این اے 123 ، شہباز شریف بمقابلہ لیاقت بلوچ
    این اے 123، سابق وزیراعظم شہباز شریف ن لیگ کی جانب سے اس حلقے میں امیدوار ہیں تو وہیں جماعت اسلامی کے امیر لیاقت بلوچ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں،تحریک انصاف کے افضال عظیم پاہٹ، پیپلز پارٹی کے محمد ضیاء الحق، جے یو آئی کے حیدر علی،تحریک لبیک کے امجد نعیم اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 123 لاہورمیں کماہاں روڈ۔بیدیاں روڈ،ڈیفنس ،گجو متہ شامل ہیں،کل آبادی – 8لاکھ 87ہزار 5سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 38ہزار 780ہے جن میں سے مرد ووٹرز – 1لاکھ 87ہزار 830،خواتین ووٹرز – 1لاکھ 50ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 222 بنائے گئے ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد سولہ ہے،این اے 123 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 157، پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 اور پی پی 164 کے مختلف علاقے شامل ہیں۔

    این اے 119، مریم نواز بمقابلہ شہزاد فاروق
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف امیدوار ہیں، صنم جاوید پی ٹی آئی امیدوار مریم نواز سے مقابلے میں‌دستبردار ہو گئیں جس کے بعد پی ٹی آئی کے اب امیداور شہزاد فاروق ہیں،پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد ، جماعت اسلامی کے ذولفقار علی ، جمعیت علماء اسلام کے راشد احمد خان اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 119 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقے پی پی 149, پی پی 150, پی پی 151، پی پی 152 اور پی پی 170 شامل ہیں۔حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 119 لاہورمیں گڑھی شاہو، مال روڈ ، جی ٹی روڈ ، باغبانپورہ شامل ہیں، حلقے کی کل آبادی – نو لاکھ تینتیس ہزار دو سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار 829 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 77ہزار 172جبکہ خواتین ووٹرز – 2لاکھ 43ہزار 657 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 338 بنائے گئے ہیں.حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی خواتین نے گھر گھر جا کر مریم نواز کی کامیابی کے لئے مہم چلائی ہے، قوی امکان ہے کہ مریم نواز سیٹ جیت جائیں گی.

    این اے 122، خواجہ سعد رفیق بمقابلہ لطیف کھوسہ
    این اے 122 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پی ٹی آئی کی جانب سے آزاد امیدوار سردارلطیف کھوسہ آمنے سامنے ہیں۔این اے 122 سے مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید بھی امیدوار ہیں،جماعت اسلامی کی جانب سے اس حلقے میں ڈاکٹر زیبا وقار وڑائچ امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد اکیس ہے،این اے 122 لاہور میں بھٹہ چوک ،ڈیفںس،بیدیاں روڈ ،آرے بازار۔کینٹ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 53ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 70ہزار 536 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 95ہزار اور خواتین ووٹرز- 2لاکھ 75ہزار 50 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 361بنائے گئے ہیں،این اے 122 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 155، پی پی 156 ، پی پی 157, پی پی 160 اور پی پی 170 کے مختلف علاقے شامل ہیں، 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے عمران خان الیکشن لڑے تھے اور جیت گئے تھے تاہم عمران خان نے بعد ازاں یہ سیٹ چھوڑی، تو ضمنی انتخابات میں ہمایوں اختر کو ٹکٹ دیا جو خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں ہار گئے تھے.

    این اے 117، علیم خان بمقابلہ علی اعجاز
    این اے 117 پر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی )کے امیدوار عبدالعلیم خان کا مقابلہ آزاد امیدوار علی اعجاز سے ہے، ن لیگ نے اس حلقے سے امیدوار کھڑا نہیں کیا بلکہ علیم خان کی حمایت کا اعلان کیا ہے،پیپلز پارٹی کے سید آصف ہاشمی، جماعت اسلامی کے جہانگیر احمد، اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 117 میں کل امیدواروں کی تعداد 20 ہے،این اے 117 لاہورمیں شاہدرہ،بادامی باغ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ دو ہزار پانچ سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 82ہزار،خواتین ووٹرز – دو لاکھ 38ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 329بنائے گئے ہیں.این اے 117 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 145، پی پی 146 اور پی پی 147 شامل ہیں

    حلقہ این اے 120 پر مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق انتخابی میدان میں اترے ہیں، ان کے مقابلے پر آزاد امیدوار عثمان حمزہ کامیابی کیلئے زور لگائیں گے۔

    این اے 128، عون چودھری بمقابلہ سلمان اکرم راجہ
    این اے 128پر استحکام پارٹی کے امیدوار عون چودھری کو آزاد امیدوار سلمان ا کرم راجا کا سامنا ہے،ن لیگ کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں ہے، ن لیگ نے عون چودھری کی حمایت کر رکھی ہے،پیپلز پارٹی کے عدیل غلام محی الدین ،جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ،جے یو آئی کے غضنفر عزیز اس حلقے سے امیدوار ہیں، اس حلقے سے کل 22 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 128 لاہور میں گلبرگ،ماڈل ٹاون۔فیروز پور روڈ۔گارڈن ٹاون،علامہ اقبال ٹاون،فیصل ٹاون۔گلاب دیوی ہسپتال شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 52ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 78ہزار ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 48ہزار ہیں،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 30ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 433بنائے گئے ہیں،این اے 128 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 156، پی پی 161، پی پی 169، پی پی 170 اور پی پی 171 کے مختلف علاقے شامل ہیں.

    این اے 126 سیف الملوک کھوکر،بمقابلہ ملک توقیر کھوکھر
    این اے 126 لاہور سے ن لیگ کے سیف الملوک کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے ملک توقیر کھوکھر، پیپلز پارٹی کے امجد علی، جماعت اسلامی کے امیر العظیم، مرکزی مسلم لیگ کے عمران لیاقت،تحریک لبیک کے محمد احمد مجید امیدوار ہیں، اس حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد – 19 ہے،این اے 126 لاہور میں شادیوال ۔جوہر ٹاون۔جوڈیشل کالونی۔ایکسپو سنٹر،واپڈا ٹاون۔ویلنشیا شامل ہیں،کل آبادی 9لاکھ 78ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 50ہزار ہے جس میں مرد ووٹرز – 1لاکھ 78ہزار جبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 71ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 223بنائے گئے ہیں.این اے 126 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پی پی 162، پی پی 164، پی پی 167 اور پی پی 168 کے مختلف علاقے شامل ہیں

    این اے 125، 19 امیدوار میدان میں
    این اے 125 لاہور سے مسلم لیگ ن کے محمد افضل کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے جاوید عمر، پیپلز پارٹی کے چوہدری عبدالغفور میو، جے یو آئی کے نظام دین، تحریک لبیک کے خرم شہزاد، جماعت اسلامی کے ذبیح اللہ بلگن امیدوار ہیں،اس حلقے میں امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 125 میں ضمیر ٹاون، مانگہ منڈی، موہلنوال۔رائیونڈ روڈ، بھوبتیاں شامل ہیں،اس حلقے کی کل آبادی – 9لاکھ ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 40ہزار 6سو ہے ، مرد ووٹرز – 1لاکھ 86ہزار 2سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 54ہزار 4سو ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 214بنائے گئے ہیں.این اے 125 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 164، پی پی 165 ، پی پی 166 کے علاقے شامل ہیں۔

    این اے 124 سے 13 امیدوار میدان میں
    این اے 124 سے مسلم لیگ ن کے رانا مبشر اقبال،تحریک انصاف کے ایڈوکیٹ ضمیر، تحریک لبیک کے عرفان بھٹی، مرکزی مسلم لیگ کے محمد امین ، جماعت اسلامی کے محمد جاوید امیدوار ہیں، اس حلقے میں کل امیدواروں کی تعداد 13 ہے،این اے 124 لاہور میں ہلوکی۔سادھوکی۔ویلنشیا ،پاک عرب سوسائٹی،باگڑیاں۔ چونگی امر سدھو شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 78ہزار 8سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 10ہزار 116 ہے،مرد ووٹرز – 1لاکھ 69ہزار 6سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 40ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 198 بنائے گئے ہیں،این اے 124 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چھ حلقوں پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 ، پی پی 163، پی پی 164 اور پی پی 165 کے مختلف علاقے شامل ہیں،

    این اے 121 لاہور سے ن لیگ کے شیخ روحیل اصغر،پی ٹی آئی کے وسیم قادر، پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد، جماعت اسلامی کے عامر صدیقی، ایم کیو ایم کے عمران اشرف امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 15 ہے،این اے 121 لاہورمیں ہربنس پورہ۔سلامت پورہ۔تاج پورہ۔داروغہ والا۔فتح گڑھ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 2ہزار 6سو ہے، رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 4لاکھ 67ہزارہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 47ہزار 571،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 19ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 299بنائے گئے ہیں،این اے 121 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقے پی پی 149، پی پی 152، پی پی 153 اور پی پی 154 شامل ہیں۔

    این اے 118، حمزہ شہباز بمقابلہ عالیہ حمزہ
    این اے 118 لاہور ن لیگ کے حمزہ شہباز ، پی ٹی آئی کی عالیہ حمزہ، پیپلز پارٹی کے شاہد عباس، جے یو آئی کے محمد افضل، تحریک لبیک کے عابد حسین،جماعت اسلامی کے محمد شوکت امیدوار ہیں، اس حلقے سے 13 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 118 لاہورمیں بادامی باغ، شاد باغ، دلی دروازہ۔ شیرانوالہ گیٹ۔ مستی گیٹ ، موچی گیٹ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ اڑتالیس ہزار پانچ سو ستائیس ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 7لاکھ 35ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 94ہزار ہے،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 41ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 463بنائے گئے ہیں،این اے 118 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 147 پی پی 148 اور پی پی 149 شامل ہیں۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقوں سے جماعت اسلامی، جے یو آئی، مرکزی مسلم لیگ، تحریک لبیک کو کوئی سیٹ نہیں ملے گی، پیپلز پارٹی این اے 127 والی واحد سیٹ جیت سکتی ہے، ن لیگ لاہور سے اکثر سیٹیں جیتے گی، آزاد امیدوار ن لیگ کا مقابلہ کریں گے.

  • نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں،پلوشہ خان

    نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں،پلوشہ خان

    پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے کہا کہ بلاول بھٹوزرداری نے گزشتہ دن دو ٹوک بات کی کہ کسی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے ،

    پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ مینڈیٹ چوری کیا گیا تو ان پیچھا کریں گے کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں گے ، نواز شریف کا ووٹ شیر پر نہیں عقاب کو جائے گا ،ن لیگ نواز شریف کے خود ساختہ نعرے سے وزیراعظم کا نعرہ لگا رہے ہیں ، ن لیگ کی فتح کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں ، ن لیگ آج تک پنجاب سے باہر نہیں نکلی ، ن لیگ پنجاب کو مشکل میں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، جو بڑے بڑے نعرے لگا رہے ہیں ان سے پوچھئے کے جمہوریت بہترین انتقام ہے، سب جماعتیں کمپین میں مصروف تھی کی میاں نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں، معاملات پہلے سے طے ہونے کے ثبوت ہیں تاثر دے رہے ہیں پنجاب ان کے ساتھ ہے، پنجاب کسی کی جاگیر نہیں آپ دو بار اس کو چھوڑ کر وطن سے باہر گئے ہیں، وہ شخص جس نے پی آئی اے کا بیڑہ غرق کیا وہ کس منہ سے بات کر رہا ہے، ایک سیاسی جماعت پاکستانی اداروں کو خراب کرنے کا سوچ رہی ہے، آنے والے کل میں کوئی بدمعاشی برداشت نہیں کریں گے،الیکشن والے دن انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے تو خدشہ ہے کوئی ورادت ڈالیں گے ، الیکشن والے دن نیٹ کی بندش نا قابلِ قبول ہے ،

    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ن لیگ کی طرف سے دیے گئے اشتہار کا نوٹس لے ،کل کسی قسم کی دھاندلی اور دھونس کو قبول نہیں کیا جائے گا.گا نو مئی والے آج ن لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں،مسلم لیگ نون کی طرف سے اشتہاری مہم عوام کو گمراہ کرنے کی چالاکی ہے ،مسلم لیگ نون نے جعلسازی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ،نواز شریف کو جتنی جلدی ملک چھوڑ کر بھاگنے کی تھی اتنی ہی وزیراعظم بننے کی

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • آصف  زرداری نے 2014 میں نواز شریف کی حکومت بچائی، خورشید شاہ

    آصف زرداری نے 2014 میں نواز شریف کی حکومت بچائی، خورشید شاہ

    پیپلز پارٹی کے رہنما ، سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف 2014 کے دھرنے کے دوران اقتدار اور ملک چھوڑنے کیلئے تیار تھے ،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق خورشید شاہ کا کہناتھا کہ نواز شریف نے کہا مجھے صرف آصف علی زرداری ہی بچا سکتا ہے، صدر آصف علی زرداری نے 2014 میں نواز شریف کی حکومت بچائی ،نواز شریف نے کہا تھا میں اور میرا خاندان صدر آصف علی زرداری کا احسان کبھی نہیں بھول سکتے ، نواز شریف اتنے بھی بیمار نہیں تھے بس بیماری کے بہانے ملک سے بھاگنا تھا ، نواز شریف سزا یافتہ ہو کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں ،نواز شریف ڈیل کرکے لاڈلا بن کر وطن واپس آتا ہے تو قانون بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے،

    واضح رہے عمران خان نے 2014 میں دھرنا دیا تھا، تا ہم عمران خان کی حکومت میں نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر جیل سے لندن چلےگئے اور خود ساختہ جلا وطنی اختیار کئے رکھی، نواز شریف کو عمران خان کی حکومت نے ہی عدلیہ کے کہنے پرجانے کی اجازت دی تھی، اب نواز شریف عمران خان حکومت کے خاتمے، پی ڈی ایم حکومت کے خاتمے کے بعد واپس آئے اور الیکشن لڑ رہے ہیں، نواز شریف اب وزیراعظم کے امیدوار ہیں.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • پی ٹی آئی کے ورکرز کو پیغام دیتی ہوں، نفرت کی سیاست کو دفن کر دو، مریم نواز

    پی ٹی آئی کے ورکرز کو پیغام دیتی ہوں، نفرت کی سیاست کو دفن کر دو، مریم نواز

    عام انتخابات،مسلم لیگ ن کا آج قصور میں انتخابی مہم کا آخری جلسہ ہو رہا ہے،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ تازہ ترین سروے میں (ن) لیگ مقبول ترین جماعت قرار پائی،کہا گیا نواز شریف تاریخ کا حصہ بن گئے،ظلم اور جبر کی ہر حد کو پھلانگا گیا، ن لیگ مقبولیت میں تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ گئی،ہر سروے مخالفین کے پرخچے اڑا رہا ہے.میں ملک اور قوم کی خاطر، خود پر کئے تمام مظالم بھلانے کےلئے تیار ہوں،میں بھی اپنے اور والد کے ساتھ کیے گئے ہر برے سلوک کو بھلانے کو تیار ہوں، نواز شریف کے مخالفین نے مشہور ہونے کا اور اپنی کارکردگی چھپانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے کہ نواز شریف پر تنقید شروع کردیتے ہیں،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرا سیاسی جنم ایک ایسے دور میں ہوا جہاں ماں بہن بیٹی کی کوئی عزت نہیں تھی، جہاں بہنوں بیٹیوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا تھا ،کال کوٹھڑیوں میں ڈالا گیا، باپ کے سامنے گرفتار کر سزائے موت کی چکی میں رکھا گیا لیکن یہ بھی بتاؤں کہ جلسوں میں بھی بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک نے کردار کشی، مجھ پر ذاتی حملے کئے گئے، بدتمیزی، بدتہذیبی کی گئی، مجھ پر جملے کسے گئے،آج ان کی چوری پکڑی گئی، نوا ز شہباز نے ایک لفظ بھی نہیں بولا، میرے لئے آسان نہیں مشکل وقت تھا،میں نے اپنی ماں‌کھوئی جو کبھی واپس نہیں آئے گی، میں آج اس جلسے کو گواہ بنا کر کہنا چاہتی ہوں،کہ یہ مہم کا آخری جلسہ ہے، میں آپ کی خاطر ملک کی خاطر، قوم کی خاطر تمام مظالم بھلانے کو آج تیار ہوں، میں آج وعدہ کرتی ہوں، میں سب کو دعوت دیتی ہوں آؤ، ظلم، انتقام ، جبر جلاؤ گھیراؤ‌کا باب آج بند کر دیں، تحریک انصاف کے نوجوانوں کو کہتی ہیں کہ آ پ کو ورغلایا گیا، جیلوں میں پڑے ہو، نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دو،میں ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی ہوں جہاں نوجوانوں کے پاس روزگار ہوں نوجوان ڈگریاں لے کے در بدر نہ گھوم رہے ہو اور انشاءاللہ یہ خواب پورا ہوگا

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں مریم نواز کی ساری تقریر نواز شریف سے شروع ہوکر نواز شریف پر ختم ہوتی ہے تو کہنا چاہتی تو مریم نواز تو نواز شریف کی بیٹی ہے انکی کارکن ہے یہاں تو یہ حالت ہے نواز شریف کے تمام مخالفین کی ساری تقریر بھی نواز شریف سے شروع ہوکر نواز شریف پر ہی ختم ہوتی ہے،میں خواب دیکھتی ہوں ایسا پاکستان کا جہاں پر امن،بھائی چارہ اور سلامتی ہو،عوام نے ہر ظلم، ہرجبرسہا لیکن نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا،مسلم لیگ ن کو قصور سے محبت ہے،آج سیاست شروع بھی نواز شریف سے ہورہی اور ختم بھی نواز شریف پر ہورہی ہے، گزشتہ 6-7سال میں نواز شریف پر ظلم و جبر کی ہر لائن کراس کی گئی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • عوام کا ووٹ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا:مریم اورنگزیب

    عوام کا ووٹ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا:مریم اورنگزیب

    سابق وفاقی وزیر اطلاعات، ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ن لیگ کی قیادت نے ملک بھر میں جلسے کیے، کل مری میں جلسہ کامیاب رہا، لوگ برف میں بھی اپنے قائد کو دیکھنے آئے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے جانے کا خمیازہ عوام نے بھگتا، نواز شریف کے جانے کے بعد ملک میں نفرت پھیلائی گئی،ہمارے مزاج الزام تراشی اور شک و شبہ والے بن گئے ہیں،ن لیگ کی قیادت نے ملک بھر میں جلسے کیے،عوام جانتے ہیں نواز شریف اور ن لیگ وعدہ پورے کرتے ہیں،مسلم لیگ(ن)کے منشور پر بھرپور عمل کیا جائے گا،نوازشریف نے عوام سے کیا ہر وعدہ نبھایا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے چور چور کہنے والوں کو بے نقاب کردیا،2013میں مہنگائی، دہشت گردی، لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا،2013اور 2017کے حالات بالکل برعکس تھے،نوازشریف دور میں ترقیاتی کام ہوئے،نوازشریف کے دور میں 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی،نوازشریف کے دور میں ترقی کرتا پاکستان آگے آیا،شہبازشریف کی حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا فوکس جمہوریت کی بحالی ہے، جب شہباز شریف ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا رہے تھے یہ تب بھی آئی ایم ایف کو خطوط لکھ رہے تھے،جب یہ لوگ دھرنے دے رہے تھے اس وقت وزیراعظم نواز شریف ملک میں ترقی لا رہا تھا، مسلم لیگ ن ایک یونائیٹڈ فرنٹ کے بات کرتی ہے، سب نے مل کر نواز شریف کی قیادت کے پیچھے کھڑےہونا ہے، مہنگائی کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لائیں گے،ایک کروڑ نوکریاں نہیں بلکہ نوکریوں کے مواقع پیدا کریں گے،مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے ہر مسئلے پر مفصل پلان دیا، مہنگائی ،سموگ ،تعلیم ،صحت سمیت ہر شعبے کا پلان دیا ہے، نواز شریف ماضی میں بھی ہر امتحان میں کامیاب رہے.نوازشریف نے حساب مانگنے پر 9مئی جیسے واقعات نہیں کیے،نوازشریف نے ججز اور پولیس والوں کے سر نہیں پھاڑے.

  • نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں،  بلاول بھٹو زرداری

    نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹیرینز کے چئیر مین بلاول بھٹو نے کہا کہ جس روپ میں میاں صاحب اس بار سامنے آ رہے ہیں، یہ وہ میثاق جمہوریت والے میاں صاحب نہیں ہیں، یہ ووٹ کو عزت دو والے میاں صاحب نہیں، یہ وہی پرانے آئی جے آئی والے میاں صاحب ہیں جن کا ساتھ دینا میرے لیے مشکل ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ان کیلئے تحریک انصاف اور ن لیگ سے اتحاد کا معاملہ کنویں اور کھائی جیسا ہے، دونوں جماعتیں ایک جیسی سیاست کر رہی ہیں۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جمہوریت اور آئینی حالات میں بھی ایک بحران نظر آ رہا ہے، تقسیم کی سیاست جو بانی پی ٹی آئی کرتے تھے اور میاں صاحب کی بھی روایت تھی، وہ اب ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو گئی ہے، میں پاکستان میں اس تقسیم کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں انتخابی مہم چلا رہی ہے، ہم نے سب سے پہلے انتخابی مہم کا آغاز کیا، سب سے پہلے منشور دیا۔
    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اگر معیشت، جمہوریت اور دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنا ہے تو پہلے اس تقسیم کو ختم کرنا ہوگا، ان تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے میں بہترین پوزیشن میں ہوں، ہماری انتخابی مہم بہت زبردست رہی ہے، عوام کا ردعمل امیدوں سے زیادہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، میاں صاحب کو خبردار کرتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے، ا مید ہے کہ نوازشریف کے دباؤ کے باوجود نگران حکومت اور انتظامیہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت اور انتظامیہ نواز شریف کے حق میں جانبدار ہیں، نگران وزیر اعظم کی تقرری شہباز شریف نے راجہ ریاض کے ساتھ ملکر کی، راجہ ریاض اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

  • آپ نے مجھے کیوں نکالا؟میرا زمانہ اچھا تھا یا یہ زمانہ؟ نواز شریف

    آپ نے مجھے کیوں نکالا؟میرا زمانہ اچھا تھا یا یہ زمانہ؟ نواز شریف

    مری: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ مجھے نکالنے والے استعفیٰ دے کر چلے گئے-

    باغی ٹی وی :پاکستان مسلم لیگ (ن) آج مری میں جلسہ کر رہے ہیں، نواز شریف کے ہمراہ پارٹی کی چیف آرگنائزر مریم نواز بھی جلسہ گاہ میں موجود ہیں، جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا کہ مری میں اتنی سردی کے باوجود بھی لوگ یہاں موجود ہیں، کل میں مری پہنچا راستے میں بہت ٹریفک تھا۔

    نوازشریف نے کہا کہ 1985 میں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا تو پہلا منصوبہ راولپنڈی سے مری روڈ تھا، مری میرا دوسرا گھر ہے اور یہاں کے لوگ بھی مجھے بہت پیارے ہیں، 1950 میں پیدائش ہوئی تو 1956 میں پہلی بار مری آیا تھا، لاہور کے بعد سب سے زیادہ مری میں رہا ہوں جب میں وزیراعظم تھا تو عوام کی خدمت کررہا تھا، میں نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، ملک میں بجلی سستی کی، روٹی 4 روپے، گھی 150 روپے اور چینی 50 روپے کلو تھی، سبزیاں 10،10روپے کلو، ڈالر 104 روپے اور پیٹرول 65 روپے لیٹر تھا۔

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ نوازشریف کا زمانہ اچھا تھا یا یہ زمانہ اچھا ہے، سونا 50 ہزار روپے تولہ تھا اور آج 2 لاکھ روپے تولہ ہے آپ نے مجھے کیوں نکالا، جس نے نکالا اچھا کیا یا برا کیا؟ آج وہ خود استعفیٰ دے کر گھر جارہے ہیں، دال میں کچھ کالا ہے، چور کی داڑھی میں تنکا ہے، مجھے نکالنے والے چلے گئے ہیں، آج آپ کے سامنے کھڑا ہوں، مجھے نکال دیا اور اس کو لائے جس نے کہا عوام کو ایک کروڑ نوکریاں دوں گا،وہ کٹے، مرغیاں اور انڈے کہاں گئے، بلین ٹری کا جھوٹ بولا، کہا گیا 50 لاکھ گھر دیں گے کسی کو ملا تو بتائیں، ن لیگ پاکستان کو دوبارہ تعمیر کرے گی، کہتا تھا کہ پاکستان کی یوتھ ہمارے ساتھ ہے، یہ دیکھو یوتھ تو میرے ساتھ کھڑی ہے ان شاءاللہ ہم مری کے چاروں طرف موٹروے بنائیں گے، میرا منصوبہ اور خواہش ہے اسلام آباد سے مری تک ٹرین لے کر آئیں، اسلام آباد سے مری اور پھر مظفرآباد تک ٹرین چلائیں گے۔

    حکمران اللہ تعالیٰ اور عوام کو جواب دہ ہیں،مریم نواز

    مری میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ حکمران اللہ تعالیٰ اور عوام کو جواب دہ ہیں، اس الیکشن میں مری والے اس حکمران سے جواب مانگیں کہ جب لوگ یہاں مر رہے تھے کہ وہ کہاں تھا؟ نواز شریف کو کبھی گھر بیٹھے دیکھا؟ نواز شریف عوام کی تکلیف کی خاطر اپنے فیصلے بدل لیتے ہیں وہ آج موسم کی خرابی کے سبب بائی روڈ پہنچے کیوں کہ حکمران اللہ تعالیٰ اور عوام کو جواب دہ ہیں، اس الیکشن میں مری والے اس حکمران سے جواب مانگیں کہ جب لوگ یہاں مر رہے تھے کہ وہ کہاں تھا؟-

    مریم نواز نے عوام سے پوچھا کہ جب نواز شریف آتے ہیں تو مزدوروں کا گھر کا چولہا جلتا ہے، لوگوں کو روزگار ملتا ہے، الیکشن میں چند دن رہ گئے ہیں، بزرگ نوجوانوں سے اپیل ہے کہ ووٹ کی پرچی کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں اسے سوچ سمجھ کر دیں یہ ملک کی ترقی اور آپ کی آئندہ آنے والی نسلوں کا فیصلہ ہے، اگر آپ مری کے مسائل اور لوگوں کے مسائل، روزگار، تعلیم اور صحت کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو پھر شیر پر مہر لگائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ شیر پر مہر لگاؤ اور پاکستان کو نواز دو، ہم مری کے مسائل حل کریں گے، یہاں گیس کا مسئلہ ہے اسے حل کیا جائے گا، میں وعدہ کرتی ہوں کہ اگر مری نے شیر کو منتخب کیا تو یہاں کسی بھی شہر سے زیادہ ترقی لائیں گے،انہوں نے یوم کشمیر کی مناسبت سے نعرہ لگایا اور کہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔

  • برطانوی ٹی وی کی  نواز شریف کے چوتھی بار  وزیراعظم بننےکی پیشگوئی

    برطانوی ٹی وی کی نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننےکی پیشگوئی

    برطانوی ٹی وی نے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو کنگ آف کم بیک قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ نواز شریف وزیراعظم کے عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں، بی بی سی نے نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننےکی پیشگوئی کرتے ہوئےکہا ہےکہ اس کی وجہ نواز شریف کی مقبولیت نہیں بلکہ ان کا اپنے پتے صحیح کھیلنا ہے –

    بی بی سی کے مطابق تھنک ٹینک وِلسن سینٹر کے جنوبی ایشیا وِنگ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ نواز شریف ملک کے اگلے وزیرِ اعظم بننے کے لیے مرکزی امیدوار ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ بہت مقبول ہیں بلکہ اس لیے کیونکہ انھوں نے اپنے پتّے صحیح کھیلے ہیں۔

    پاکستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور نواز شریف اپنے آپ کو ایک ایسے تجربہ کار امیدوار کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس کے پاس تین بار وزیرِ اعظم کہ عہدے پر فائز رہنے کا تجربہ ہے،وہ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے اور اس کی ’کشتی کی سمت درست‘ کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔

    سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اتحادی جماعتوں نے سر …

    مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ نواز شریف کے حامیوں کو امید ہے کہ ان کا ملک کو استحکام دینے، تجربے اور خود انحصاری کا بیانیہ انھیں ووٹ دلوائے گا اور فوج کو بھی ان کی اور ان کی پارٹی کی طرف سے اطمینان بخشے گا۔

    نواز شریف کو آگے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہوگا اور اس میں معاشی بحران سرِفہرست ہے جس کا الزام ان ہی کی جماعت پر لگایا جاتا ہے۔ یہ بھی خدشات پائے جا رہے ہیں کہ ان کے مرکزی حریف کی جیل میں موجودگی کے سبب شاید ملک میں انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔

    پی ٹی آئی کی لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کی درخواست مسترد

    نواز شریف کے حریف اور ماضیِ قریب میں فوج کی حمایت رکھنے والے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اب جیل میں ہیں اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کو ملک بھر میں مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب گیلپ سروے اور بلومبرگ کی رپورٹ نے بھی نواز شریف کے پاکستان کے اگلا وزیراعظم بننےکی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ 9 مئی کی رپورٹ حکومت کو جمع کرادی

  • اقتدار میں آکر ایک بار پھر ترقی کا سفر شروع کریں گے، نواز شریف

    اقتدار میں آکر ایک بار پھر ترقی کا سفر شروع کریں گے، نواز شریف

    گوجرانوالہ : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ اقتدار میں آکر ایک بار پھر ترقی کا سفر شروع کریں گے، ہم سی پیک کے ذریعے 60 ارب روپے کی سرمایہ کاری لائے۔

    باغی ٹی وی : گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ یہ سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی مچا کر کہتے ہیں کہ یوتھ ان کے ساتھ ہے جبکہ پاکستان کی اصل یوتھ ہمارے ساتھ ہے، بڑے کا ادب اور چھوٹوں کا خیال کرنے والی اصل یوتھ ہے نوجوانوں کو باعزت روزگارکی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، میرے دورمیں کرپشن کم ہوئی تھی۔

    قائد ن لیگ کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کی، ہمارے دورمیں غربت بھی کم ہورہی تھی، ہمارے دورمیں پاکستان ترقی کررہا تھا، میرے دور حکومت میں موٹر سائیکل، ٹریکٹر، گیس، روٹی، پیٹرول، آٹا، چینی اور دیگر اشیا کی قیمتیں کم تھیں اور آج ان کی قیمتیں دیکھیں، یہ عوام پر ظلم ڈھایا گیا۔

    سربراہ ن لیگ نے کہا کہ ہم لوگ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان مستحکم نہیں ہوجاتا، جب تک گھروں میں روشنی کے چراغ نہیں جل جاتے، ہم سب یہاں موجود ہے ہم پاکستان کی روشنیاں واپس لائیں گے، غربت اور بے روزگاری ختم کریں گے، اسکول، اسپتال اور موٹر وے بنائیں گے، جو مجھ سے پہلے شہباز شریف نے آپ سے وعدے کے ہیں انہیں پورا کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا، ہم سی پیک لارہے تھے اور یہ دھرنے دے رہے تھے، ہم سی پیک کے ذریعے 60 ارب روپے کی سرمایہ کاری لائے، یہ دھرنا دے رہےتھے ہم ترقیاتی کام کروا رہے تھے شہبازشریف نے کام کیے اور نام میرا لے رہے ہیں، موٹروے شہبازشریف بنوا رہے تھے، بجلی کے کارخانے بھی شہبازشریف نے لگوائے ہیں۔

    مریم نواز کا خطاب
    جلسے سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن 8 فروری کے انتخابات میں کامیاب ہوگی، گوجرانوالا کی 20 کی 20 نشستیں ن لیگ جیتے گی، پاکستان میں وائرل بیماری آگئی تھی، جو پانچ سات سال رہی اور عوام کا بہت نقصان کرگئی، لیکن اب اب ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی، وائرل بیماری کا اب خاتمہ ہوچکا ہےگوجرانوالا کےعوام نے وائرل بیماری کو بھگا دیا تھا، نوازشریف عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کرتا، قائد ن لیگ چوتھی بارملک کے وزیراعظم بنیں گے اور گھر بناکر دینے کا وعدہ پورا کریں گے، کسی نے پچاس لاکھ گھر کا وعدہ کیا تھا اور ایک گھر بھی نہیں دیا نواز شریف نے پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا ہے تو ضرور دے گا، انتقام کی سیاست ختم کر کے ترقی کا سفر شروع کریں گے۔