Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات

    نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے،

    نیشنل پارٹی کے چھ رکنی وفد کی قیادت پارٹی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کی ،ملاقات میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف بھی شریک ہوئے ،پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر جعفر خان مندوخیل، سردار ایاز صادق ، مریم اورنگزیب بھی ملاقات میں موجود تھیں ،نیشنل پارٹی کے وفد میں میر کبیر، سردار کامل، جان محمد، طاہر بزنجو اور ایوب ملک شامل تھے

    نوازشریف نے مرحوم میر حاصل خان بزنجو کی ملک وقوم اور جمہوریت کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ،عبدالمالک بلوچ نے مقدمات سے بریت پر نوازشریف کو مبارک پیش کی ،ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور 8 فروری کو عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا ،عبدالمالک بلوچ نے ملک بالخصوص بلوچستان کی ترقی کے لئے قائد نوازشریف کے وژن اور کاوشوں کو بھی سراہا ،قائدین نے پاکستان کے لئے مل کر چلنے اور سیاسی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا

     مریم نواز کے خطاب کا محور عمران خان پر تنقید رہا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • توشہ خانہ کیس، نیب سے نواز شریف کی انکوائری رپورٹ طلب

    توشہ خانہ کیس، نیب سے نواز شریف کی انکوائری رپورٹ طلب

    سابق وزیراعظم نوازشریف، یوسف رضا گیلانی، سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی،نیب پراسیکیوٹر اور وکلاء صفائی احتساب عدالت عدالت میں پیش ہوئے، سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیڈر رانا عرفان احتساب عدالت میں پیش ہوئے،نواز شریف سے متعلق نیب کی انکوائری رپورٹ آج بھی احتساب عدالت پیش نہیں کی جا سکی،عدالت نے نواز شریف کی انکوائری رپورٹ پیش کرنے کے لئےنیب کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا

    یوسف رضا گیلانی کے وکیل راجہ فیصل یونس نے بھی عدالت میں پیش ہوکر آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کیں جو منظور کرلی گئیں،احتساب عدالت نے کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی

    توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس پر عدالت نے چار جنوری تک نیب سے رپورٹ طلب کرلی۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    خیال رہے کہ نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے.
    مارچ 2020 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کیا تھا.

    نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا.

  • پی ٹی آئی چوری اور مسلم لیگ ن ڈکیتی کرکے اقتدار میں رہی ہے،شاہد خاقان عباسی

    پی ٹی آئی چوری اور مسلم لیگ ن ڈکیتی کرکے اقتدار میں رہی ہے،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کے سامنے مخالفت کرکے کھڑےتو ہوں، بندوق پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں بندوق تو میں بھی رکھ سکتا ہوں،اخلاقی جرات نہیں تو سیاستدانوں کو سیاست کرنے کا کوئی فائدہ نہیں،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جس طرح نوازشریف اقتدار میں آ رہے ہیں مجھے اس سے اختلاف ہے، نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کے بغیر سو کے بجائے تیس سیٹوں پر آ جائیں لیکن مورال ڈائون نہ کریں،پاکستان میں کرسی کی کوئی طاقت نہیں ہوتی،میں وزیر اعظم نہیں تھا بلکہ مجھے ملازمت دی گئی،پی ٹی آئی چوری اور مسلم لیگ ن ڈکیتی کرکے اقتدار میں رہی ہے، مسلم لیگ ن کے ساتھ ہوں ان کے خلاف الیکشن نہیں لڑوں گا سیاست نہیں چھوڑی، بانی پی ٹی آئی کی ناکامی کے پیچھے چوری کا الیکشن ہے،بانی پی ٹی آئی کی حالت چوری کے الیکشن کی وجہ سے ہے، پاکستانی تاریخ میں صرف چار لیڈر آئے ہیں ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو، بانی پی ٹی آئی اور نواز شریف شامل ہیں، لیڈر وہ ہوتا ہے جس کے کہنے پرعوام ووٹ ڈالتی ہے،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب کے خاتمے کےلئے شہبازشریف کو کئی بار کہا کیونکہ نیب سیاستدانوں کو ذلیل و خوار کررہا ہے، میں نیب کا سب سے پہلا گاہک ہوں، مسلم لیگ ن کے ساتھ سیاسی تعلق نہیں رہا اللہ کرے دوستی قائم رہے، مسلم لیگ ن سے دوری کی وجہ مریم نواز نہیں ہیں،مفتاح اسماعیل کو استعفی نہ دینے کا مشورہ دیا تھا کہاتھا ڈٹے رہیں، مسلم لیگ ن کو مفتاح اسماعیل کو اس طرح ذلیل کرکے استعفی نہیں لینا چاہئے تھا۔نئی نسل کے ساتھ چلنا یا نہ چلنے کا فیصلہ ہمارے پاس ہے،

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ علاقے کے لوگوں نے مشورہ دیا کہ الیکشن لڑوں لیکن الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ میرا ذاتی ہے جس کا اظہار 6 ماہ پہلے کر دیا تھا تاہم نواز شریف جب بھی بلاتے ہیں میں جاتا ہوں،یں سیاست دانوں کو جیل بھیجنے کا قائل نہیں ہوں اور 9 مئی کو اتنے ماہ ہو گئے ہیں اس کی تحقیقات حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت 9 مئی کی تحقیقات کرانے میں ناکام رہی ہے۔ پی ڈی ایم کو 9 مئی کو پراسیکیوٹ کرنا چاہیے تھا

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • ن لیگ کے لاہور کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری،ایاز صادق کو بھی ٹکٹ مل گیا

    ن لیگ کے لاہور کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری،ایاز صادق کو بھی ٹکٹ مل گیا

    مسلم لیگ ن نے لاہور کے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا عمل شروع کردیا

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف این اے 130 سے انتخاب میں حصہ لیں گے ،حافظ میاں محمد نعمان کو این اے 129 کا پارٹی ٹکٹ جاری کردیا گیا ،چئیرمین الیکشن سیل سینیٹر اسحاق ڈار نے حافظ نعمان اور دیگر امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیئے،شیخ روحیل اصغر کو این اے 121 کا ٹکٹ جاری کردیاگیا،سردار ایاز صادق کو این اے 120 کا ٹکٹ جاری کردیا گیا،این اے 127 سے عطا تارڑ کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا،

    سہیل شوکت بٹ کو پی پی 151 کا پارٹی ٹکٹ جاری کردیا گیا ،پی پی 154 سے ملک غلام حبیب اعوان کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیا،ملک سیف الملوک کھوکھر کو این اے 126 کا ٹکٹ جاری کیا گیا،ملک شہباز علی کھوکھر کوپی پی 162کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیا،ملک خالد پرویز ملک کو پی پی 169 کا پارٹی ٹکٹ جاری کردیاگیا،پی پی 172 سے رانا مشہود احمد خان کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا گیا،پی پی 148 سے میاں مجتبی شجاع الرحمن کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا گیا،پی پی 165 سے شہزاد نذیر سندھو کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیا گیا

    این اے 130، نواز شریف کی پارٹی ٹکٹ ریٹرننگ افسر کو جمع
    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی پارٹی ٹکٹ ریٹرننگ افسر کو جمع کرا دی گئی، نواز شریف قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ،نواز شریف کی ٹکٹ ان کے وکلا نے ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کروائی ، نواز شریف کی ٹکٹ پارٹی صدر شہباز شریف کے دستخطوں سے جاری کی گئی

    علیم خان اور عون چودھری کے حلقے،ن لیگ نے خالی چھوڑ دیئے
    دوسری جانب لاہور میں مسلم لیگ ن استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لی ہے، علیم خان کے دو حلقے اور عون چودھری کا حلقہ خالی چھوڑا گیا ہے، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عون چودھری شیر کے نشان پر الیکشن لڑ رہے ہیں ، انکے حلقے میں لگے انتخابی پوسٹر پر انتخابی نشان شیر لکھا گیا ہے،مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 117 عبدالعلیم خان کے لیے خالی چھوڑ دیا ہے۔صوبائی حلقہ پی پی 149 بھی عبدالعلیم خان کے لیے خالی چھوڑ دیا ہے۔مسلم لیگ ن نے این اے 128 عون چوہدری کے لیے خالی چھوڑ دیا ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

  • این اے 130،نواز شریف کے کاغذات نامزدگی ایک بار پھر چیلنج

    این اے 130،نواز شریف کے کاغذات نامزدگی ایک بار پھر چیلنج

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے این اے 130 سے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اپیل خارج ہونے کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست اشتیاق چودھری ایڈوکیٹ نے دائر کی،الیکشن ٹربیونل نے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اپیل دائر کی گئی،لاہور ہائیکورٹ میں اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹربیونل نے حقائق کے برعکس نواز شریف کے کاغذات منظوری کے خلاف اپیل خارج کی، نواز شریف تاحیات نااہل ہیں، الیکشن نہیں لڑ سکتے، سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی کا فیصلہ نواز شریف کے کاغذات منظور کرنے کے بعد آیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق نواز شریف کیس پر نہیں ہوتا، عدالت نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا حکم دے

    نواز شریف این اے 130 لاہور اور این اے 15 مانسہرہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں، نواز شریف کے مقابلے میں تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر یاسمین راشد امیدوار ہیں، این اے 15 سے تحریک انصاف کے اعظم سواتی امیدوار تھے تاہم انکے کاغذات نامزدگی مستر د ہو چکے ہیں

    قبل ازیں،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 15 مانسہرہ سے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے کاغذات نامزد گی کے خلاف اپیل مسترد کردی گئی الیکشن ٹربیونل نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا، این اے 15 مانسہرہ کے لیے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کاغذات نامزد گی کی آر او کی طرف سے منظوری کے بعد پی ٹی آئی لیڈر اعظم سواتی نے ایبٹ آباد کے الیکشن ٹربیونل میں نواز شریف کے کاغذات نامزد گی کو چیلنج کیا تھا تاہم آج الیکشن ٹربیونل نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا تے ہوئے اعظم سواتی کی اپیل مسترد کر دی۔

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

     برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے جہانگیر ترین، ایاز صادق، نگران وزیراعلی پنجاب سے ملاقات کی

    برٹش ہائی کمشنر کی جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    اسلام آباد: نیب نے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹی گیشن بند کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی نیوز” کے مطابق نیب کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعلان کے مطابق، یکم جنوری 2024 کو ہونے والی بیورو کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور ان کی فیملی کے ارکان کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انوسٹیگیشن بند کر دی گئی ہے۔

    شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹی گیشن کی منظوری 31؍ مارچ 2000 کو دی گئی تھی شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شریف فیملی نے خفیہ طور پر شریف ٹرسٹ میں کروڑوں روپے وصول کیے ہیں، یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ٹرسٹ کے کھاتوں کا آڈٹ نہیں کرایا گیا اور رقوم میں خرد برد کی گئی ہے۔

    یہ بھی الزام لگایا گیا کہ شریف خاندان نے اثاثے بنا رکھے ہیں جو ٹرسٹ کے نام پر بے نامی جائیدادوں کے طور پر رکھے گئے تھے۔ پانامہ پیپرز میں تشکیل دی گئی متنازع جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا تھا کہ 2000ء میں منظوری کے بعد سے شریف ٹرسٹ کیس میں انوسٹی گیشن کو نیب نے بلا جواز تاخیر کا شکار کر رکھا ہے۔

    بیٹی نے گھر پر قبضہ کر کے بیوہ ماں‌کو نکال دیا،بیوہ خاتون کا تحفظ کا …

    پانامہ جے آئی ٹی نے تجویز دی تھی کہ نیب کو ہدایت کی جائے کہ وہ قلیل مدت میں انویسٹی گیشن مکمل کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے اب، نیب نے شہباز شریف حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ نیب ایکٹ 2022ء کے سیکشن 31 بی کے تحت انوسٹی گیشن بند کر دی ہے۔

    اس قانون کے سیکشن 31؍ بی ذیل میں پیش کیا جا رہا ہےکہ ’زیر التواء کارروائی کو واپس لینا اور ختم کرنا:۔ (1) کسی ریفرنس کی پیروی سے قبل، چیئرمین، نیب پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ مشاورت سے، حقائق، حالات اور شواہد کی مجموعی حیثیت کو دیکھتے ہوئے، جزوی طور پر اس ایکٹ کے تحت کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر، مشروط یا غیر مشروط طور پر واپس لے سکتے ہیں یا ختم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ غیر منصفانہ ہو۔

    میڈیا انتخابات سے متعلق خبروں پر الیکشن کمیشن کا موقف لے، مرتضی سولنگی

    (2) ریفرنس دائر کرنے کے بعد، اگر چیئرمین نیب پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت سے، حقائق، حالات اور شواہد کی کُلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خیال کرے کہ ریفرنس جزوی یا مکمل طور پر ناجائز ہے، تو وہ سفارش کر سکتا ہے کہ جس عدالت میں یہ معاملہ زیر التوا ہے کہ وہاں ریفرنس جزوی طور پر یا مکمل طور پر واپس لیا جا سکتا ہے یا ختم کیا جا سکتا ہے۔

    (i) اگر یہ ریفرنس الزام عائد کیے جانے سے پہلے بنایا گیا ہو، تو ملزم کو اس معاملے میں ڈسچارج کر دیا جائے گا، اور (ii) اگر یہ ریفرنس الزام عائد کیے جانے کے بعد دائر کیا گیا ہے، تو وہ ایسے جرم یا جرائم کے سلسلے میں بری ہو جائے گا۔ نواز شریف کیس کے علاوہ، پانچ انکوائریز کو بھی بند کیا گیا ہے۔

    میرے خلاف لطیف کھوسہ کی فرم کے وکلا پیش ہوئے،خواجہ سرانایاب علی

    ان میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے سابق چیف آپریٹنگ افسر اکبر ناصر خان، دیگر افسران، اہلکاروں اور دیگر کیخلاف انکوائری،1998 میں سوشل ایکشن پروگرام (ایس اے پی) کے تحت کاؤنٹر فنڈ کے قیام کیلئے پاکستان اور جاپان کی حکومتوں کے درمیان ڈھائی سو ملین ڈالرز (11؍ ارب روپے یا 32.032؍ ملین ین) کے قرضے کے حصول کیلئے کیے گئے معاہدے کے حوالے سے سرکاری عہدیداروں اور دیگر کیخلاف شروع کی جانے والی انکوائری شامل ہے۔

    پارک انکلیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے سے سی ڈی اے کے افسران اور اہلکاروں کیخلاف انکوائری، اسلام آباد کی پبلک لمیٹڈ کمپنیوں میں من پسند افراد کی غیر قانونی بھرتی اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز کے اجراء کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ملازمین اور افسران کیخلاف انکوائری اور شاہد ملک، شہباز یاسین ملک، صائمہ شہباز ملک اور دیگر کیخلاف انکوائری شامل ہے۔

    اوچ شریف:اسلام آباد سے کراچی جانےوالی بس نہرمیں گرگئی،3 مسافرجاں بحق،متعددزخمی

  • بلاول چاہتے ہیں انکا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے، احسن اقبال

    بلاول چاہتے ہیں انکا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے، احسن اقبال

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے حلقہ پی پی 54 کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کی اجراء کے لیے انٹرویوز کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پارٹی لیڈر شپ اسی ہفتے پنجاب میں ٹکٹ جاری کر دے گی۔انتخابات ہر صورت 8 فروری کو منعقد ہونےچاہیے. پاکستان میں اگرانتخابات کا التوا ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں بے یقینی میں اضافہ ہوگا۔ الیکشن ملتوی ہونے سے پاکستان کی معاشی بحالی کی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کار کم ازکم اگلے پانچ سال کے لیے ایک مستحکم حکومت چاہتے ہیں۔سرمایہ کار چاہتے ہیں ملک کی معاشی پالیسیوں میں تسلسل ہو ۔ہماری معاشی پالیسیوں کے تحت سرمایہ کاری ہوگی ملک میں استحکام ہوگا۔اس وقت پاکستان کے معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ جلد از جلد انتخابات کے نتیجے میں ایک مستحکم اور مضبوط حکومت قائم ہو۔مسلم لیگ ن وہ جماعت ہے جس کے پاس پلان ہے ٹیم ہے جس کے پاس تجربہ بھی ہے۔مسلم لیگ کے پاس ماضی کی کارگردگی بھی ہے۔ بحرانوں سے نکلنےمہنگائی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کا اقتصادی پروگرام پاکستان کو آگے لے جائے گا ۔

    احسن اقبال نے بلاول بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے۔بلاول بھٹو کے بیانات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے ۔بلاول کے والد محترم نے کہا ہے کہ وہ ابھی انڈر ٹریننگ ہے۔بلاول وقت کے ساتھ میچور ہو نگے انہیں اپنی ٹریننگ پر توجہ دینی چاہیے۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

  • سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی بارے فیصلہ آیا تو جاتی امراء میں قائد ن لیگ کو مشاورتی اجلاس کے دوران فیصلے سے متعلق بتایا گیا،مریم نواز نے نواز شریف کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا، نواز شریف نے عدالت سے نااہلی ختم ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ مجھے نااہل کرکے پاکستان کی ترقی کا سفر روکا گیا تھا،پاکستان کو آگے لیجانے کے لیےماضی کی غلطیاں درست کرنا ہوں گی،

    اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔شہباز شریف
    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ من پسند تشریح کے ذریعے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔میں دل کی گہرائیوں سے اپنے بھائی اور قائد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ قائد نواز شریف کے انتخابات میں حصہ لینے اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے پختہ عزم کی راہ میں اب کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ انشاء اللہ ہم سب مل کر بھرپور انداز میں نواز شریف کی انتخابی مہم چلائیں گے اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔

    خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہا،بلاول
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نااہل ہوئےتو5 سال کیلئےہوں گے،ہمیں سیاسی انتقام کی روایت نہیں ڈالنی چاہی،آنےوالی حکومت کا مقصدمخالف کوجیل میں ڈالنا ہو گا توملک نہیں چلےگا،آج نوازشریف کا فائدہ ہےتوکل سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا ہوگا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کوجمہوری طریقے سےختم کیاگیا،ہمارےدور میں ایک سیاسی قیدی بھی نہیں تھا،ہر کوئی سمجھتا ہےیہ لاڈلہ ہو مگر یہ چیزیں وقتی ہوتی ہیں ،اسٹیبلشمنٹ نےبھی کہاہے ہم مداخلت نہیں کریں گے ،وکلا بتائیں گےنوازشریف اہل ہیں یا نہیں،علم ہے نواز شریف کواندازہ ہےوہ چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، نوازشریف وزیراعظم بنیں گے توایک مسکراہٹ تو کردیتے،خواہش تھی آئندہ الیکشن ماضی کےانتخابات سے بہتر ہوتے مگرہم ناکام رہے،2013کےالیکشن میں کاغذات نامزدگی زیادہ ترمسترد ہوئےتھے،اس مرتبہ الیکشن سے پہلے جو ہو رہا ہے ماضی میں نہیں ہوتا رہا،حیران ہوں مسلم لیگ ن نےابھی تک انتخابی مہم شروع نہیں کی،نوازشریف کی واپسی پرجلسہ ہوئےتین ماہ ہوگئےہیں،ن لیگ والےعوام کےپاس جاتےاوراپنی کارکردگی بتاتے،خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہاسینیٹ میں ن لیگ کے پاس قیادت ہے، انتخابات ملتوی کی قرارداد کیسے آئی، ہاؤس آف دی لیڈر کی مرضی کے بغیر قرارداد کیسے پیش کی جا سکتی ہے، سمجھتا ہوں بی بی کی شہادت کے وقت بھی انتخابات کا التوا نہیں ہونا چاہیئے تھا، بی بی کی شہادت کے وقت ہمیں اعتماد میں لے کر انتخابات ملتوی کیے گئے،پیپلز پارٹی اپنے مفاد سے زیادہ ملک کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے،پی ڈی ایم میں شاید سب جماعتوں کی ایسی نیت نہیں تھی،ہم نے خارجہ سطح پر پاکستان کے مسائل کم کرنے کی بھرپور کوشش کی، خارجہ سطح پر ہم مسائل کم کرنے میں کامیاب رہے،پی ڈی ایم حکومت میں معاشی مسائل کم نہیں ہوئے، پی ڈی ایم جیسی نئی حکومت ہی بنانی ہے تو ہم اس میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہمارے پاس ملک بھر میں نمائندگی ہے،امیدوار بھی کامیاب ہوں گے، آصف زرداری کی جو نیت تھی اس کے مطابق اتحاد کامیاب نہیں رہا،کوئی بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے، اس میں غلط کیا ہے،نواز شریف کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کیخلاف تاثر دیا گیا اس کا اثر تو ہوتا ہے

    سپریم کورٹ کا فیصلہ درست،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران کو بھی ہو گا، اعتزاز احسن
    سپریم کورٹ کے فیصلے پر ممتاز قانوندان اعتزاز احسن نے ردعمل میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ بالکل درست ہے ،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران خان کو بھی ہوگا،پارٹی کو تحلیل کرنے کا حق سپریم کورٹ کے پاس ہے الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ، بانی پی ٹی آئی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں،بلے کے نشان کے بغیر انتخابات کالعدم ہوں گے ،بلے کے نشان کا کیس پی ٹی آئی کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، پارٹی کا نشان واپس لینے سے لوگوں کے ووٹ کا حق چھینا گیا ،جن سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا انہیں ڈی سیٹ کرناچاہیے، عمران خان نے جو آرٹیکل لکھا ہے وہ عمران خان ہی جانے اور اکانومسٹ والے جانیں،جب تک آپ کا بنیادی کنسیپٹ سارے معاملے کا درست نہ ہو، پہلی اینٹ ٹیڑھی لگا دی تو عمارت ٹیڑھی ہی جائے گی ہم 75 سال سے الیکشن لڑ رہے ہیں، سو سال سے ووٹ ڈال رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ نشان ووٹر کے لئے ضروری ہے.

    تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ہے، اس فیصلے نے تاحیات نااہلی کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا،الحمدللہ آج قائد نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی من چاہی تشریح کی گئی،پاکستان اور عوام کو مہنگائی، معاشی تباہی اور بین الاقوامی رسوائی کی دلدل میں دھکیلا گیا،ایک لاڈلے کو "صادق اور امین” کا جعلی سرٹیفکیٹ دینے کےلئے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی سازش کی گئی،آج کا فیصلہ ثاقب نثار نے جن اختیارات کو استعمال کیا ان کے خلاف ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے فیصلوں اور ریکارڈ کو ٹھیک کرنا اچھا اقدام ہے، پارلیمان نے قانون پاس کیا جس کے مطابق نااہلہ 5 سال سے زیادہ نہیں.

    صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نےسپریم کورٹ کے فیصلے پرردعمل دیا ہے،عبدالعلیم خان نے میاں نواز شریف اور جہانگیر خان ترین کو مبارکباد دی اور کہا کہ بحیثیت پارٹی صدر جہانگیر خان ترین کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ،فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی اس فقیدالمثال فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے،آئی پی پی کی جانب سے ملک میں جمہوریت کی فتح سب کو مبارک ہو، سیاسی رہنماؤں پر بطور امیدوار نااہلی کی قدغن لگانا غیر جمہوری عمل تھا، سیاسی نمائندوں کا پارلیمنٹ کے فلور تک پہنچنا ان کا بنیادی جمہوری حق ہے، جہانگیر خان ترین عوام کے قائد ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ہے

    سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ 184 تھری اور ہائی کورٹ 199 کے تحت آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلیئریشن نہیں دے سکتیں، قانون میں نہیں درج کہ کون سی عدالت آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ڈکلیئریشن دے سکتی ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،صحافی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ الیکشن ٹریبونلز اب کس قانون پر انحصار کریں گے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے منصور عثمان اعوان نے کہا کہ یہ تو کورٹ کو دیکھنا ہے ان کےسامنے اگر 62 ون ایف کی اپیلیں کون سی ہیں،

    نواز شریف کی نااہلی ختم ہونے پر ن لیگی کارکنان کا جشن
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہو گئی، نواز شریف کی نااہلی کے خاتمے پر مسلم لیگ ن کے متوالوں نے جشن منایا،مسلم لیگ ن کے رہنما میاں عمران جاوید، بی بی وڈیری اور رانا راشد منہاس کی جانب سے مٹھائی تقسیم کی گئی ،میاں عمران جاوید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کےتاریخی فیصلے کےبعدمیاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش دم توڑ گئی ،آئندہ عام انتخابات میں 8 فروری کو عوام بھی نواز شریف کے حق میں اپنا فیصلہ سنائے گی، تمام لیگی کارکنوں کی جانب سے اپنے قائد نواز شریف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے 6 اور 1 کے تناسب سے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں تاحیات نااہلی ختم کردی، عدالت عظمیٰ کے بینچ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا تحریری مختصر حکمنامہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل باسٹھ ون ایف خود سے نفاذ نہیں ہوتا،باسٹھ ون ایف کے کوئی قانون وضاحت نہیں کرتا ،فیصلے میں جسٹس یحیی آفریدی کا اختلافی نوٹ شامل ہے،کسی بھی رکن اسمبلی کی ناہلی سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رہنے تک رہے گی،فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کے آرٹیکل 184(3) میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

     نواز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • برطانوی ہائی کمشنر کی نواز شریف سے ملاقات، مقدمات سےبریت پر دی مبارکباد

    برطانوی ہائی کمشنر کی نواز شریف سے ملاقات، مقدمات سےبریت پر دی مبارکباد

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، سینئر نائب صدر اور چیف ارگنائزر مریم نواز شریف بھی موجود تھیں ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں، برطانیہ میں مقیم پاکستانی دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے،

    برطانوی ہائی کمشنر نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں سے اپنی ملاقاتوں کے حوالے سے آگاہ کیا، جین میریٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو اجتماعیت کے حامل انتخابات کا انعقاد پاکستان کے مستقبل کے لئے اہم ہے، برطانوی ہائی کمشنر نے مختلف مقدمات سے بریت پر مسلم لیگ (ن) کے قائد کو مبارک دی

     امریکی سفیر کی چیف الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہیں

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

     برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے جہانگیر ترین، ایاز صادق، نگران وزیراعلی پنجاب سے ملاقات کی

    برٹش ہائی کمشنر کی جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس

    کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس

    سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کا معاملہ ،نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بینچ میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان شامل ہیں،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہراورجسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عزیر بھنڈاری کہاں ہیں؟ عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تین عدالتی معاونین مقرر کیے تھے،ریما عمر نے اپنا تحریری جواب بھیجوایا ہے، گزشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر ،عزیز بھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا،سجاد الحسن کے وکیل خرم رضا روسٹرم پر آ گئے، گزشتہ سماعت پر خرم رضا نے تاحیات نااہلی کے حق میں اپنی رائے دی تھی،وکیل خرم رضا نے کہا کہ یہ اپیلیں کس قانون کے تحت چل رہی ہیں،کیا آرٹیکل 187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی گئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنی درخواست تک محدود رہیں،آرٹیکل 62 ون ایف کورٹ آف لا کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184/3 سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے،سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟ وکیل خرم رضا نے کہا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل درست ، کیا 62ون ایف ٹریبونل کو بھی تاحیات نااہلی کا اختیار دیتا ہے؟ یا تاحیات نااہلی کا یہ اختیار سیدھا سپریم کورٹ کے پاس ہے؟

    اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کر سکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہو گا، چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلئیریشن دینے کا اختیار الیکشن ٹریبونل کا ہے،آرٹیکل 62 ون ایف میں کورٹ آف لاء درج ہے، سپریم کورٹ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہتر ہو گا ہمیں الیکشن ٹریبونل کے اختیارات کی طرف نہ لے کر جائیں، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184/3 سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے،
    سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟ وکیل خرم رضا نے کہا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ آئینی عدالت اور سول کورٹ میں فرق کو نظر انداز نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ آئینی عدالتیں ہیں جہاں آئینی درخواستیں دائر ہوتی ہیں، الیکشن کمیشن قانون کے تحت اختیارات استعمال کرتا ہے، اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کر سکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہو گا،

    کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے عوامی نمائندگی ایکٹ کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنی ہی معروضات کی نفی کرنے والی بات کر رہے ہیں، جب62ون ایف کے تحت کوئی ٹریبونل نہیں کرتا تو سپریم کورٹ کیسے کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟اضافی اختیار تاحیات نااہلی والا یہ کہاں لکھا ہے؟وکیل خرم رضا نے کہا کہ سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، جن کیسز میں شواہد ریکارڈ ہوئے ہوں وہاں سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو آپ سمیع اللہ بلوچ کیس کی حمایت نہیں کر رہے، وکیل خرم رضا نے کہا کہ میں ایک حد تک حمایت کر رہا ،

    ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شروع میں تو مسلمان صرف دو چار ہی تھے، اسلام میں توبہ کا تصور موجود ہے، اسلامی احکامات کے خلاف تو کوئی استدعا یا دلیل نہیں سنیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے آئین میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی، الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے صرف قانون کو واضح کیا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتی ڈیکلیریشن کسی نہ کسی قانون کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، وہ قانون اب کہتا ہے یہ مدت پانچ سال ہو گی،وکیل خرم رضا نے کہا کہ پارلیمانی بحث میں تسلیم کیا گیا 62 ون ایف مدت پر خاموش ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی کی یہ شقیں ایک ڈکٹیٹر نے شامل کیں درست یا غلط؟ یا تو ہم پھر ڈکٹیٹر شپ کو ٹھیک مان لیں،ایک ڈکٹیٹر آیا، دوسرا آیا، تیسرا آیا سب کو اٹھا کر پھینک دیا، منافق کافر سے بھی زیادہ برا ہوتا ہے،کافر کو پتہ نہیں ہوتا، منافق سب جان کر کررہا ہوتاہے،پارلیمنٹ نے ایک قانون کتاب بنا کر ہمیں دی، ایک شخص ٹہلتا ہوا آتا ہے کہتاہے نہیں یہ سب ختم ،آمروں نے صادق و امین والی شرط اپنے لئے کیوں نہ ڈالی،

    منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، پارلیمنٹرینز نےآئین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکر سیاست دانوں، آئین کو باہر پھینک دیا ، چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے آئینی ترامیم کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رہنے دیں، ترامیم بھی گن پوائنٹ پر آئیں، کچھ لوگوں نے کہا چلو آدھی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے،آئین کا تقدس تب ہو گا جب اسے ہم مانیں گے، یا تو ہم کہہ لیتے ہیں کہ بندوق کا تقدس مانیں گے،یہاں بیٹھے پانچ ججز کی دانش ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں سے زیادہ کیسے ہو سکتی ہے؟ جب تک کوئی جھوٹا ثابت نہیں ہوتا ہم کیوں فرض کریں وہ جھوٹا ہے،آپ اراکین اسمبلی کو جتنی بھی حقارت سے دیکھیں وہ ہمارے نمائندے ہیں، آپ ڈکٹیٹرز کی دانش اراکین اسمبلی کی دانش پر فوقیت نہیں دے سکتے،جنرل ایوب نے آکرسب کو باہر پھینک دیا اور اپنے قوانین لائے، منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، پارلیمنٹرینز نےآئین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکر سیاست دانوں، آئین کو باہر پھینک دیا ، واضح کیا تھا کہ انتخابات قریب ہیں ریٹرننگ افسران کا کام متاثر ہوگا، کوئی ریٹرننگ افسر عدالتی فیصلہ مانے گا اور کوئی الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم، ریٹرننگ افسران وکیل نہیں بیوروکریٹ ہیں، کوشش ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ ریٹرننگ افسران کنفیوز نہ ہوں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا جعلی ڈگری پر نااہلی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہوگی؟ وکیل محمد کاشف نے کہا کہ جعلی ڈگری پر فوجداری کارروائی ہونی چاہیے نااہلی نہیں،

    آئین تو انگلش میں تھا کیا آئین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وکیل خرم رضا سمیت جو تاحیات نااہلی کی حمایت کر رہے وہ اپنے نکات بتا دیں، تین وکلا نے تاحیات نااہلی کی حمایت کی تھی،عثمان کریم صاحب اور اصغر سبزواری صاحب کیا آپ خرم رضا کے دلائل اپنا رہے،وکیل اصغر سبزواری نے کہا کہ تاحیات نااہلی اگر ڈکٹیٹر نے شامل کی تو اس کے بعد منتخب حکومتیں بھی آئیں، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی "جج میڈ لاء” ہے ،جہانگیز ترین جیسے کیسز کی انکوائری ہونا چاہئے جہاں ٹرائل کے بغیر تاحیات نااہل کر دیا گیا،وکیل عثمان کریم روسٹرم پر آ گئے ،اور کہا کہ کوالیفیکیشن ہو یا ڈسکوالیفیکش، مقصد آرٹیکل 62 اور 63 کا ایک ہی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ صادق اور امین کی کیا تعریف ہوگی، کوئی قتل کرکے آجائے، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ نان مسلم بھی صادق اور امین لگایا گیا ہے، یہاں امین کا مطلب اسلام والا نہیں لیا جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین تو انگلش میں تھا کیا آئین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی،جنرل ضیاء یا انکے وزیر کو امین کا مطلب نہیں معلوم تھا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اسکا مطلب امین کا مطلب اسلامک ہی ہوگا، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ اگر اسلامک مطلب دیکھیں گے تو پھر یہ نان مسلم پر نہیں لگے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کون تعین کرے گا کس کا کردار اچھا کس کا نہیں،وکیل عثمان کریم نے کہا کہ حتمی طور پر تعین اللہ ہی کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ تحریر کرنے والے جج نے فیصل واڈا کیس کا فیصلہ بھی دیا،کیا دونوں فیصلوں کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے؟ سمیع اللہ بلوچ فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات کی تشریح کرنے والے جج نے فیصل واوڈا کیس میں تشریح کیسے بدل دی،وکیل عثمان کریم نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف صرف کاغذات نامزدگی کی حد تک ہے،

    آمروں اورسیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا،آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا،چیف جسٹس
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب قانون آچکا ہے اورنااہلی پانچ سال کی ہوچکی توتاحیات والی بات کیسے قائم رہے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاست دان عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں،آمروں اورسیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا،آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا،سیاست دانوں کوایسے برا نہ بولیں وہ عوامی رائے سےمنتخب ہوتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 الگ الگ لانے کی ضرورت کیا تھی؟ ایک آرٹیکل کہتا ہے کون کون اہل ہے دوسرا کہتا ہے کون نااہل،دونوں باتوں میں فرق کیا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی دوسری شہریت لیتا ہے تو وہ 62 میں نہیں 63 میں پھنسے گا، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2013 کے اللہ دینو بھائیو کیس کے فیصلے میں 62 ون ایف کی نااہلی دی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اللہ دینو بھائیو فیصلے پر انحصار کر کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی متعارف کرائی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 2020 میں اللہ دینو بھائیو نظر ثانی کیس میں نااہلی کالعدم قرار دے دی،جسٹس بندیال نے 2020 کے اللہ دینو بھائیو فیصلے پر انحصار کر کے فیصل واوڈا کیس کا فیصلہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی آپ کے مطابق جسٹس بندیال نے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر اپنے ہی موقف کی نفی کی؟ وکیل عثمان کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 62 ون ایف کا سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ اس لیے چلے گا کیونکہ پانچ رکنی بنچ کا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اچھی تیاری کر کے آئے ہیں، اور بھی معاونت کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل عثمان کریم کی تعریف کی اور کہا کہ الیکشن سر پر ہیں ہم نے یہ مسئلہ حل کرنا ہے،

    فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے،کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے؟ چیف جسٹس
    تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہو گئی،عدالتی معاون عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ریٹرنگ آفیسر کے سامنے دو مختلف فیصلے ہونگے،ایک فیصلہ تاحیات نااہلی کا دوسرا الیکشن ایکٹ کے تحت پانچ سال نااہلی کا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت پانچ سال کر دی ہے،کچھ وکلا کہہ چکے ہیں کہ نااہلی پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوگی،کچھ وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ تاحیات رہے گا،ہم اس نکتے کو دیکھ رہے ہیں کہ تاحیات نااہلی کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ واپس لیا جائے یا نہیں،عزیز بھنڈاری نے کہا کہ پارلیمنٹ اٹھارہویں ترمیم کرنے بیٹھی تو 62ون ایف کو نہیں چھیڑا تھا،پارلیمنٹ کو علم بھی تھا کہ 62 ون ایف کی ایک تشریح آچکی ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس کے کچھ پہلو ضرور دوبارہ جائزے کے متقاضی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنا پوائنٹ بتائیں، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس نااہلی کے مکینزم کی بات نہیں کر رہا،18ویں ترمیم کے بعد بھی کئی آئینی ترامیم ہوئیں،کسی بھی آئینی ترمیم میں آرٹیکل 62ون ایف کی بات نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک فارم میں تبدیلی پر پورا پاکستان بند کر دیا گیا تھا، شاید اس لئے اس معاملے کو چھوڑ دیا گیا ہو،ریاست نے سوچا ہو گا ان لوگوں سے کون ڈیل کرے گا،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یہ غالب جیسی بات ہے کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا، کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر کے پاس جاتے ہیں جو نااہلی کا ڈیکلریشن نہیں دے سکتا،الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر نااہلی کا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، ڈیکلریشن کون دے سکتا ہے یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں نہیں لکھا ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی عدالت کسی کے سچے اور راست گو ہونے کا ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ایمانداری ، امین اور فضول خرچ نہ ہونے کا تعین عدالتیں کیسے کر سکتی ہیں؟تاحیات نااہلی کیس میں تو سب کچھ سپریم کورٹ نے ہی کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے سپریم کورٹ ایسا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے،کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل دس اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، ریٹرننگ افسر ڈیکلریشن نہیں دے سکتا، ریٹرننگ افسر کورٹ آف لاء نہیں ہے، الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر ڈیکلریشن دے سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے ہی دلائل کی نفی کر رہے ہیں، ایک جج کہے گا نااہلی ہوتی ہے دوسرا جج کہے گا نااہلی نہیں ہوتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ڈیکلریشن کہاں سے آئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جعل سازی پر ڈیکلریشن کون دے گا، کچھ الفاظ ایسے ہیں جو محض کاغذ کے ٹکرے کے سوا کچھ نہیں،

    ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میں عدالتی معاون ہوں،کراس سوال نہ کریں، ججز مسکراتے رہے،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اگر آپ کہیں تو میں اپنے سوالات واپس لے لیتا ہوں، تسلیم شدہ حقائق پر سپریم کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے،سول کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے چیزوں کو آسان بنانا ہے مشکل بنانا نہیں، ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال،آپ نے تو ریٹرننگ افسر کو کورٹ آف لا بنا دیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایک شخص کوالیفائی کر کے رکن بن گیا اور بعد میں وہ خراب ہو گیا تو کیسے نکالیں گے؟ نااہل کرنے والے آرٹیکل 63 میں تو 62 ون ایف کا زکر نہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسی صورت میں تو وارنٹو کی رٹ لائی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بھنڈاری صاحب میں بات نہیں سمجھ پا رہا، عزیز بھنڈاری نے کہا کہ میں پھر معذرت کر لیتا ہوں، ڈیکلیریشن کہاں سے آنا ہے اگر یہ سوال ہے ہی نہیں تو چھوڑ دیتے ہیں،جسٹس یحییٰ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل اپنی ترتیب سے جاری رکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں مگر ہم نے کیس ختم بھی کرنا ہے، ہم نے اپنا آرڈر لکھنا بھی ہے،اس مقدمہ کو طول نہیں دے سکتے، انتخابات کا شیڈیل مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ بھی لکھنا ہے، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہائی کورٹ کو اختیار ہے کہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن جاری کرے، بے ایمانی کا فیصلہ تو عدالت کسی بھی کیس میں دے سکتی ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کیلئے سول کورٹ سے ڈیکلریشن لینا لازمی ہے،ہر عدالتی فیصلہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن نہیں ہوسکتا،

    جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟اس نکتے کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا،پارلیمنٹ نے یہ ترامیم مرضی سے نہیں کیں، ان پر تھوپی گئی ہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کسی نے تھوپی نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورے پاکستان کو یرغمال بنانے والے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں،آئین میں یہ سب چیزیں کہاں سے آئیں یہ کوئی نہیں بتا رہا، کوئی وکیل بھی ڈکٹیٹر کیخلاف بات نہیں کرتا، ڈکٹیٹر کہتا ہے یہ ترامیم کرو نہیں تو میں پچیس سال بیٹھا رہوں گا، آمر کو ہٹانے کیلئے پارلیمان اس کی بات مان لیتی ہے،عدالتی معاون عذیر بھنڈاری نے دلائل مکمل کر لیے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت انتخابات کیلئے کسی کے حقوق متاثر نہیں کرنا چاہتی،سماعت میں وقفہ کرینگے تاکہ ہمارے خلاف کوئی ڈیکلریشن نہ آ جائے،

    سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا،عدالتی معاون فیصل صدیقی
    دوسرے وقفہ کے بعد سماعت ہوئی،عدالتی معاون فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سمیت دیگر وکلا سے درخواست ہے دلائل مختصر رکھیں،وقت کی کمی کیوجہ سے مختصر دلائل سنیں گے،فیصل صدیقی نے کہا کہ 50 فیصد دلائل کم کر دیئے مختصر دلائل دونگا،تاحیات نااہلی کے فیصلے کی موجودگی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم بے سود ہے، عدالتی فیصلے کا اثر کسی سادہ قانون سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لئے بغیر پانچ سال نااہلی کا قانون غیرآئینی ہوگا،سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا، سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی عدالتی ڈیکلریشن کی بنیاد پر دی تھی،لازمی نہیں کہ عدالتی ڈیکلریشن ہمیشہ کیلئے ہو، ڈیکلریشن ختم ہوتے ہی نااہلی کی معیار بھی ختم ہوسکتی ہے، سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ نااہلی کی مدت کا تعین کر رہا ہے،عدالت نے دیکھنا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کرنے کی نیت سے کی گئی یا نہیں، اگر الیکشن ایکٹ کی ترمیم برقرار رکھنی ہے تو سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم ہونا ہو گا،نااہلی کی مدت، طریقہ کار اور پروسجر کا تعین ہونا ضروری تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے پہلے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا تو عدالت کیوں اپنے فیصلے کو ختم کرے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹ سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کی آئینی تشریح ختم نہیں کر سکتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلے چلے گا یا الیکشن ایکٹ،پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت کم سے کم پانچ سال کرتے وقت الیکشن ایکٹ ترمیم کا اطلاق اٹھارویں ترمیم سے کیا، سمیع اللہ بلوچ کا ایسا فیصلہ دیا جس پر آئینی خلا تھا، سمیع اللہ بلوچ فیصلہ اس لیے آیا کہ آئینی خلا پر ہو سکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں خلا کہ صورت میں یہی کیوں سمجھا جاتا ہے کہ اس کو پر کرنے کے لیے عدالتی تشریح ہی ہو گی؟ آئین جن چیزوں پر خاموش ہے اس کا مقصد قانون سازی کا راستہ کھلا رکھنا بھی ہو سکتا ہے نا کہ عدالتی تشریح، آئین میں تو قتل کی سزا بھی درج نہیں اس لیے تعزیرات پاکستان لایا گیا،

    کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے الیکشن ایکٹ اور عدالتی فیصلے کی موجودگی میں تیسرا راستہ نکالا جائےوہ نظریہ بتائیں جو اس صورتحال سے باہر نکالے،کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑ دے؟پارلیمنٹ خود دیکھے جو ترمیم کرنی ہے کر لیں،ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کو ریگولیٹ نہیں کیا جاسکتا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ ختم نہ ہونے کی صورت میں آئینی تشریح کے معاملے میں مسائل ہوں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون ساز خلا اس لئے چھوڑتے ہیں کہ بعد میں اس پر قانون بن سکے، اس بنیاد پر الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 ختم نہیں کیا جاسکتا، کیا آئین قتل کی سزا کا تعین بھی کرتا ہے؟اگر قانون سازوں نے کوئی خلا چھوڑا ہے اسے کیسے پر کیا جائے گا؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر قانون ساز خلا پر نہیں کرتے تو عدالت بھی کرسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالت بھی تشریح کردے اور قانون سازی بھی ہو جائے کونسا عمل بالا ہوگا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈکلیریشن کی مدت پانچ سال تک رکھنا الگ بات ہے،قانونی ترمیم سے شاید وہ اس سے تھوڑا آگے چلے گئے،نااہلی کی مدت کو پانچ سال تک کرنا ایک آئینی چیز کو کنٹرول کرنے جیسا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سارے معاملے کا حل اسلام میں موجود ہے،قرآن پاک میں بتایا گیا ہے کہ انسان کا رتبہ بہت بلند ہے،انسان برا نہیں اس کے اعمال برے ہوتے ہیں،کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،62 ون ایف انسان کو برا کہہ رہا ہے،اگر کوئی شخص گناہ سے توبہ کر لے تو معافی مل سکتی ہے

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے آرٹیکل 62 ون ایف کی اہلیت کا معیار ججز کےلئے نہیں، میں تو ڈر گیا ہوں شکر ہے پارلیمان نے یہ معیار ہمارے لئے مقرر نہیں کیا، اگر ججز کےلئے ایسا معیار ہوتا تو کوئی بھی جج نہ بن سکتا،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ کل صبح نو بجے تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کریں گے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کردی،سپریم کورٹ بار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں نااہلی صرف پانچ سال کی ہو جو الیکشن قانون بن گیا وہ درست ہے،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں