Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • برطانوی ہائی کمشنر کی نواز شریف سے ملاقات، مقدمات سےبریت پر دی مبارکباد

    برطانوی ہائی کمشنر کی نواز شریف سے ملاقات، مقدمات سےبریت پر دی مبارکباد

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، سینئر نائب صدر اور چیف ارگنائزر مریم نواز شریف بھی موجود تھیں ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں، برطانیہ میں مقیم پاکستانی دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے،

    برطانوی ہائی کمشنر نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں سے اپنی ملاقاتوں کے حوالے سے آگاہ کیا، جین میریٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو اجتماعیت کے حامل انتخابات کا انعقاد پاکستان کے مستقبل کے لئے اہم ہے، برطانوی ہائی کمشنر نے مختلف مقدمات سے بریت پر مسلم لیگ (ن) کے قائد کو مبارک دی

     امریکی سفیر کی چیف الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہیں

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

     برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے جہانگیر ترین، ایاز صادق، نگران وزیراعلی پنجاب سے ملاقات کی

    برٹش ہائی کمشنر کی جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس

    کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس

    سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کا معاملہ ،نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بینچ میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان شامل ہیں،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہراورجسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عزیر بھنڈاری کہاں ہیں؟ عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تین عدالتی معاونین مقرر کیے تھے،ریما عمر نے اپنا تحریری جواب بھیجوایا ہے، گزشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر ،عزیز بھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا،سجاد الحسن کے وکیل خرم رضا روسٹرم پر آ گئے، گزشتہ سماعت پر خرم رضا نے تاحیات نااہلی کے حق میں اپنی رائے دی تھی،وکیل خرم رضا نے کہا کہ یہ اپیلیں کس قانون کے تحت چل رہی ہیں،کیا آرٹیکل 187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی گئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنی درخواست تک محدود رہیں،آرٹیکل 62 ون ایف کورٹ آف لا کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184/3 سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے،سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟ وکیل خرم رضا نے کہا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل درست ، کیا 62ون ایف ٹریبونل کو بھی تاحیات نااہلی کا اختیار دیتا ہے؟ یا تاحیات نااہلی کا یہ اختیار سیدھا سپریم کورٹ کے پاس ہے؟

    اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کر سکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہو گا، چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلئیریشن دینے کا اختیار الیکشن ٹریبونل کا ہے،آرٹیکل 62 ون ایف میں کورٹ آف لاء درج ہے، سپریم کورٹ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہتر ہو گا ہمیں الیکشن ٹریبونل کے اختیارات کی طرف نہ لے کر جائیں، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184/3 سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے،
    سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟ وکیل خرم رضا نے کہا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ آئینی عدالت اور سول کورٹ میں فرق کو نظر انداز نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ آئینی عدالتیں ہیں جہاں آئینی درخواستیں دائر ہوتی ہیں، الیکشن کمیشن قانون کے تحت اختیارات استعمال کرتا ہے، اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کر سکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہو گا،

    کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے عوامی نمائندگی ایکٹ کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنی ہی معروضات کی نفی کرنے والی بات کر رہے ہیں، جب62ون ایف کے تحت کوئی ٹریبونل نہیں کرتا تو سپریم کورٹ کیسے کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟اضافی اختیار تاحیات نااہلی والا یہ کہاں لکھا ہے؟وکیل خرم رضا نے کہا کہ سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، جن کیسز میں شواہد ریکارڈ ہوئے ہوں وہاں سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو آپ سمیع اللہ بلوچ کیس کی حمایت نہیں کر رہے، وکیل خرم رضا نے کہا کہ میں ایک حد تک حمایت کر رہا ،

    ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شروع میں تو مسلمان صرف دو چار ہی تھے، اسلام میں توبہ کا تصور موجود ہے، اسلامی احکامات کے خلاف تو کوئی استدعا یا دلیل نہیں سنیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے آئین میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی، الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے صرف قانون کو واضح کیا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتی ڈیکلیریشن کسی نہ کسی قانون کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، وہ قانون اب کہتا ہے یہ مدت پانچ سال ہو گی،وکیل خرم رضا نے کہا کہ پارلیمانی بحث میں تسلیم کیا گیا 62 ون ایف مدت پر خاموش ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی کی یہ شقیں ایک ڈکٹیٹر نے شامل کیں درست یا غلط؟ یا تو ہم پھر ڈکٹیٹر شپ کو ٹھیک مان لیں،ایک ڈکٹیٹر آیا، دوسرا آیا، تیسرا آیا سب کو اٹھا کر پھینک دیا، منافق کافر سے بھی زیادہ برا ہوتا ہے،کافر کو پتہ نہیں ہوتا، منافق سب جان کر کررہا ہوتاہے،پارلیمنٹ نے ایک قانون کتاب بنا کر ہمیں دی، ایک شخص ٹہلتا ہوا آتا ہے کہتاہے نہیں یہ سب ختم ،آمروں نے صادق و امین والی شرط اپنے لئے کیوں نہ ڈالی،

    منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، پارلیمنٹرینز نےآئین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکر سیاست دانوں، آئین کو باہر پھینک دیا ، چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے آئینی ترامیم کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رہنے دیں، ترامیم بھی گن پوائنٹ پر آئیں، کچھ لوگوں نے کہا چلو آدھی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے،آئین کا تقدس تب ہو گا جب اسے ہم مانیں گے، یا تو ہم کہہ لیتے ہیں کہ بندوق کا تقدس مانیں گے،یہاں بیٹھے پانچ ججز کی دانش ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں سے زیادہ کیسے ہو سکتی ہے؟ جب تک کوئی جھوٹا ثابت نہیں ہوتا ہم کیوں فرض کریں وہ جھوٹا ہے،آپ اراکین اسمبلی کو جتنی بھی حقارت سے دیکھیں وہ ہمارے نمائندے ہیں، آپ ڈکٹیٹرز کی دانش اراکین اسمبلی کی دانش پر فوقیت نہیں دے سکتے،جنرل ایوب نے آکرسب کو باہر پھینک دیا اور اپنے قوانین لائے، منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، پارلیمنٹرینز نےآئین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکر سیاست دانوں، آئین کو باہر پھینک دیا ، واضح کیا تھا کہ انتخابات قریب ہیں ریٹرننگ افسران کا کام متاثر ہوگا، کوئی ریٹرننگ افسر عدالتی فیصلہ مانے گا اور کوئی الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم، ریٹرننگ افسران وکیل نہیں بیوروکریٹ ہیں، کوشش ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ ریٹرننگ افسران کنفیوز نہ ہوں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا جعلی ڈگری پر نااہلی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہوگی؟ وکیل محمد کاشف نے کہا کہ جعلی ڈگری پر فوجداری کارروائی ہونی چاہیے نااہلی نہیں،

    آئین تو انگلش میں تھا کیا آئین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وکیل خرم رضا سمیت جو تاحیات نااہلی کی حمایت کر رہے وہ اپنے نکات بتا دیں، تین وکلا نے تاحیات نااہلی کی حمایت کی تھی،عثمان کریم صاحب اور اصغر سبزواری صاحب کیا آپ خرم رضا کے دلائل اپنا رہے،وکیل اصغر سبزواری نے کہا کہ تاحیات نااہلی اگر ڈکٹیٹر نے شامل کی تو اس کے بعد منتخب حکومتیں بھی آئیں، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی "جج میڈ لاء” ہے ،جہانگیز ترین جیسے کیسز کی انکوائری ہونا چاہئے جہاں ٹرائل کے بغیر تاحیات نااہل کر دیا گیا،وکیل عثمان کریم روسٹرم پر آ گئے ،اور کہا کہ کوالیفیکیشن ہو یا ڈسکوالیفیکش، مقصد آرٹیکل 62 اور 63 کا ایک ہی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ صادق اور امین کی کیا تعریف ہوگی، کوئی قتل کرکے آجائے، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ نان مسلم بھی صادق اور امین لگایا گیا ہے، یہاں امین کا مطلب اسلام والا نہیں لیا جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین تو انگلش میں تھا کیا آئین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی،جنرل ضیاء یا انکے وزیر کو امین کا مطلب نہیں معلوم تھا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اسکا مطلب امین کا مطلب اسلامک ہی ہوگا، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ اگر اسلامک مطلب دیکھیں گے تو پھر یہ نان مسلم پر نہیں لگے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کون تعین کرے گا کس کا کردار اچھا کس کا نہیں،وکیل عثمان کریم نے کہا کہ حتمی طور پر تعین اللہ ہی کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ تحریر کرنے والے جج نے فیصل واڈا کیس کا فیصلہ بھی دیا،کیا دونوں فیصلوں کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے؟ سمیع اللہ بلوچ فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات کی تشریح کرنے والے جج نے فیصل واوڈا کیس میں تشریح کیسے بدل دی،وکیل عثمان کریم نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف صرف کاغذات نامزدگی کی حد تک ہے،

    آمروں اورسیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا،آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا،چیف جسٹس
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب قانون آچکا ہے اورنااہلی پانچ سال کی ہوچکی توتاحیات والی بات کیسے قائم رہے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاست دان عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں،آمروں اورسیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا،آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا،سیاست دانوں کوایسے برا نہ بولیں وہ عوامی رائے سےمنتخب ہوتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 الگ الگ لانے کی ضرورت کیا تھی؟ ایک آرٹیکل کہتا ہے کون کون اہل ہے دوسرا کہتا ہے کون نااہل،دونوں باتوں میں فرق کیا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی دوسری شہریت لیتا ہے تو وہ 62 میں نہیں 63 میں پھنسے گا، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2013 کے اللہ دینو بھائیو کیس کے فیصلے میں 62 ون ایف کی نااہلی دی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اللہ دینو بھائیو فیصلے پر انحصار کر کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی متعارف کرائی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 2020 میں اللہ دینو بھائیو نظر ثانی کیس میں نااہلی کالعدم قرار دے دی،جسٹس بندیال نے 2020 کے اللہ دینو بھائیو فیصلے پر انحصار کر کے فیصل واوڈا کیس کا فیصلہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی آپ کے مطابق جسٹس بندیال نے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر اپنے ہی موقف کی نفی کی؟ وکیل عثمان کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 62 ون ایف کا سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ اس لیے چلے گا کیونکہ پانچ رکنی بنچ کا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اچھی تیاری کر کے آئے ہیں، اور بھی معاونت کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل عثمان کریم کی تعریف کی اور کہا کہ الیکشن سر پر ہیں ہم نے یہ مسئلہ حل کرنا ہے،

    فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے،کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے؟ چیف جسٹس
    تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہو گئی،عدالتی معاون عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ریٹرنگ آفیسر کے سامنے دو مختلف فیصلے ہونگے،ایک فیصلہ تاحیات نااہلی کا دوسرا الیکشن ایکٹ کے تحت پانچ سال نااہلی کا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت پانچ سال کر دی ہے،کچھ وکلا کہہ چکے ہیں کہ نااہلی پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوگی،کچھ وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ تاحیات رہے گا،ہم اس نکتے کو دیکھ رہے ہیں کہ تاحیات نااہلی کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ واپس لیا جائے یا نہیں،عزیز بھنڈاری نے کہا کہ پارلیمنٹ اٹھارہویں ترمیم کرنے بیٹھی تو 62ون ایف کو نہیں چھیڑا تھا،پارلیمنٹ کو علم بھی تھا کہ 62 ون ایف کی ایک تشریح آچکی ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس کے کچھ پہلو ضرور دوبارہ جائزے کے متقاضی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنا پوائنٹ بتائیں، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس نااہلی کے مکینزم کی بات نہیں کر رہا،18ویں ترمیم کے بعد بھی کئی آئینی ترامیم ہوئیں،کسی بھی آئینی ترمیم میں آرٹیکل 62ون ایف کی بات نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک فارم میں تبدیلی پر پورا پاکستان بند کر دیا گیا تھا، شاید اس لئے اس معاملے کو چھوڑ دیا گیا ہو،ریاست نے سوچا ہو گا ان لوگوں سے کون ڈیل کرے گا،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یہ غالب جیسی بات ہے کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا، کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر کے پاس جاتے ہیں جو نااہلی کا ڈیکلریشن نہیں دے سکتا،الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر نااہلی کا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، ڈیکلریشن کون دے سکتا ہے یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں نہیں لکھا ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی عدالت کسی کے سچے اور راست گو ہونے کا ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ایمانداری ، امین اور فضول خرچ نہ ہونے کا تعین عدالتیں کیسے کر سکتی ہیں؟تاحیات نااہلی کیس میں تو سب کچھ سپریم کورٹ نے ہی کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے سپریم کورٹ ایسا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے،کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل دس اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، ریٹرننگ افسر ڈیکلریشن نہیں دے سکتا، ریٹرننگ افسر کورٹ آف لاء نہیں ہے، الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر ڈیکلریشن دے سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے ہی دلائل کی نفی کر رہے ہیں، ایک جج کہے گا نااہلی ہوتی ہے دوسرا جج کہے گا نااہلی نہیں ہوتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ڈیکلریشن کہاں سے آئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جعل سازی پر ڈیکلریشن کون دے گا، کچھ الفاظ ایسے ہیں جو محض کاغذ کے ٹکرے کے سوا کچھ نہیں،

    ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میں عدالتی معاون ہوں،کراس سوال نہ کریں، ججز مسکراتے رہے،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اگر آپ کہیں تو میں اپنے سوالات واپس لے لیتا ہوں، تسلیم شدہ حقائق پر سپریم کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے،سول کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے چیزوں کو آسان بنانا ہے مشکل بنانا نہیں، ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال،آپ نے تو ریٹرننگ افسر کو کورٹ آف لا بنا دیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایک شخص کوالیفائی کر کے رکن بن گیا اور بعد میں وہ خراب ہو گیا تو کیسے نکالیں گے؟ نااہل کرنے والے آرٹیکل 63 میں تو 62 ون ایف کا زکر نہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسی صورت میں تو وارنٹو کی رٹ لائی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بھنڈاری صاحب میں بات نہیں سمجھ پا رہا، عزیز بھنڈاری نے کہا کہ میں پھر معذرت کر لیتا ہوں، ڈیکلیریشن کہاں سے آنا ہے اگر یہ سوال ہے ہی نہیں تو چھوڑ دیتے ہیں،جسٹس یحییٰ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل اپنی ترتیب سے جاری رکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں مگر ہم نے کیس ختم بھی کرنا ہے، ہم نے اپنا آرڈر لکھنا بھی ہے،اس مقدمہ کو طول نہیں دے سکتے، انتخابات کا شیڈیل مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ بھی لکھنا ہے، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہائی کورٹ کو اختیار ہے کہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن جاری کرے، بے ایمانی کا فیصلہ تو عدالت کسی بھی کیس میں دے سکتی ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کیلئے سول کورٹ سے ڈیکلریشن لینا لازمی ہے،ہر عدالتی فیصلہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن نہیں ہوسکتا،

    جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟اس نکتے کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا،پارلیمنٹ نے یہ ترامیم مرضی سے نہیں کیں، ان پر تھوپی گئی ہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کسی نے تھوپی نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورے پاکستان کو یرغمال بنانے والے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں،آئین میں یہ سب چیزیں کہاں سے آئیں یہ کوئی نہیں بتا رہا، کوئی وکیل بھی ڈکٹیٹر کیخلاف بات نہیں کرتا، ڈکٹیٹر کہتا ہے یہ ترامیم کرو نہیں تو میں پچیس سال بیٹھا رہوں گا، آمر کو ہٹانے کیلئے پارلیمان اس کی بات مان لیتی ہے،عدالتی معاون عذیر بھنڈاری نے دلائل مکمل کر لیے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت انتخابات کیلئے کسی کے حقوق متاثر نہیں کرنا چاہتی،سماعت میں وقفہ کرینگے تاکہ ہمارے خلاف کوئی ڈیکلریشن نہ آ جائے،

    سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا،عدالتی معاون فیصل صدیقی
    دوسرے وقفہ کے بعد سماعت ہوئی،عدالتی معاون فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سمیت دیگر وکلا سے درخواست ہے دلائل مختصر رکھیں،وقت کی کمی کیوجہ سے مختصر دلائل سنیں گے،فیصل صدیقی نے کہا کہ 50 فیصد دلائل کم کر دیئے مختصر دلائل دونگا،تاحیات نااہلی کے فیصلے کی موجودگی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم بے سود ہے، عدالتی فیصلے کا اثر کسی سادہ قانون سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لئے بغیر پانچ سال نااہلی کا قانون غیرآئینی ہوگا،سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا، سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی عدالتی ڈیکلریشن کی بنیاد پر دی تھی،لازمی نہیں کہ عدالتی ڈیکلریشن ہمیشہ کیلئے ہو، ڈیکلریشن ختم ہوتے ہی نااہلی کی معیار بھی ختم ہوسکتی ہے، سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ نااہلی کی مدت کا تعین کر رہا ہے،عدالت نے دیکھنا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کرنے کی نیت سے کی گئی یا نہیں، اگر الیکشن ایکٹ کی ترمیم برقرار رکھنی ہے تو سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم ہونا ہو گا،نااہلی کی مدت، طریقہ کار اور پروسجر کا تعین ہونا ضروری تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے پہلے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا تو عدالت کیوں اپنے فیصلے کو ختم کرے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹ سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کی آئینی تشریح ختم نہیں کر سکتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلے چلے گا یا الیکشن ایکٹ،پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت کم سے کم پانچ سال کرتے وقت الیکشن ایکٹ ترمیم کا اطلاق اٹھارویں ترمیم سے کیا، سمیع اللہ بلوچ کا ایسا فیصلہ دیا جس پر آئینی خلا تھا، سمیع اللہ بلوچ فیصلہ اس لیے آیا کہ آئینی خلا پر ہو سکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں خلا کہ صورت میں یہی کیوں سمجھا جاتا ہے کہ اس کو پر کرنے کے لیے عدالتی تشریح ہی ہو گی؟ آئین جن چیزوں پر خاموش ہے اس کا مقصد قانون سازی کا راستہ کھلا رکھنا بھی ہو سکتا ہے نا کہ عدالتی تشریح، آئین میں تو قتل کی سزا بھی درج نہیں اس لیے تعزیرات پاکستان لایا گیا،

    کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے الیکشن ایکٹ اور عدالتی فیصلے کی موجودگی میں تیسرا راستہ نکالا جائےوہ نظریہ بتائیں جو اس صورتحال سے باہر نکالے،کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑ دے؟پارلیمنٹ خود دیکھے جو ترمیم کرنی ہے کر لیں،ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کو ریگولیٹ نہیں کیا جاسکتا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ ختم نہ ہونے کی صورت میں آئینی تشریح کے معاملے میں مسائل ہوں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون ساز خلا اس لئے چھوڑتے ہیں کہ بعد میں اس پر قانون بن سکے، اس بنیاد پر الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 ختم نہیں کیا جاسکتا، کیا آئین قتل کی سزا کا تعین بھی کرتا ہے؟اگر قانون سازوں نے کوئی خلا چھوڑا ہے اسے کیسے پر کیا جائے گا؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر قانون ساز خلا پر نہیں کرتے تو عدالت بھی کرسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالت بھی تشریح کردے اور قانون سازی بھی ہو جائے کونسا عمل بالا ہوگا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈکلیریشن کی مدت پانچ سال تک رکھنا الگ بات ہے،قانونی ترمیم سے شاید وہ اس سے تھوڑا آگے چلے گئے،نااہلی کی مدت کو پانچ سال تک کرنا ایک آئینی چیز کو کنٹرول کرنے جیسا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سارے معاملے کا حل اسلام میں موجود ہے،قرآن پاک میں بتایا گیا ہے کہ انسان کا رتبہ بہت بلند ہے،انسان برا نہیں اس کے اعمال برے ہوتے ہیں،کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،62 ون ایف انسان کو برا کہہ رہا ہے،اگر کوئی شخص گناہ سے توبہ کر لے تو معافی مل سکتی ہے

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے آرٹیکل 62 ون ایف کی اہلیت کا معیار ججز کےلئے نہیں، میں تو ڈر گیا ہوں شکر ہے پارلیمان نے یہ معیار ہمارے لئے مقرر نہیں کیا، اگر ججز کےلئے ایسا معیار ہوتا تو کوئی بھی جج نہ بن سکتا،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ کل صبح نو بجے تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کریں گے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کردی،سپریم کورٹ بار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں نااہلی صرف پانچ سال کی ہو جو الیکشن قانون بن گیا وہ درست ہے،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی،کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی،کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا

    سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کیس میں تاحیات نا اہلی سے متعلق نوٹس پر بینچ تشکیل دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی7رکنی لارجر بینچ کے سربراہ ہوں گے ،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں،کیس پر سماعت کل ہوگی

    گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا تھا کہ نااہلی کی مدت کے سوال والے کیسز جنوری کے آغاز پر مقرر کئے جائیں، کیس کے زیرِ التوا ہونے کو الیکشن میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی آئینی سوال والے کیس پر کم از کم 5 رکنی بنچ ضروری ہے فریقین کے وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے۔

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پانامہ کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اپنے بیٹے کی فرم سے لی جانے والی ممکنہ تنخواہ ظاہر کرنے میں ناکامی پر آرٹیکل ون ایف کے تحت کوئی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کیلئے نااہل قرار دیا تھا نواز شریف کی اس نااہلی کو تاحال ختم نہیں کیا گیا ہے۔

  • ہم سب مل کرملک کومشکلات سے باہرنکالیں گے،نواز شریف

    ہم سب مل کرملک کومشکلات سے باہرنکالیں گے،نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ

    مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھاکہ آپ نے میری بہت مدد کی ہے، ہر طرح سے ہاتھ مضبوط کیے، آپ نے سگے بھائیوں والا پیار دیا، برتاؤ کیا ، شہبازشریف نے ہرلحاظ سے میرے ساتھ قدم بڑھایا، انہوں نے کبھی زندگی میں مجھے مایوس نہیں کیا ہم نے اپنےدو راقتدار میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، شہباز شریف نے دن رات ایک کرکے توانائی کے منصوبے مکمل کرائے جبکہ اتحادی حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا آپ کی ایک ہی خدمت بہت بڑی خدمت ہے، اس کا کوئی متبادل نہیں، آپ نے مشکل حالات کا بہت صبر اور ہمت سے مقابلہ کیا بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں 16 ماہ کی حکومت نہیں لینی چاہیے تھی لیکن حکومت نہ لیتے تو پاکستان پر جو اثرات مرتب ہوتے اس کا کسی کو گمان بھی نہ ہوتا، ہم سب مل کرملک کومشکلات سے باہرنکالیں گے۔

    تحریک انصاف کےرہنماؤں نے الیکشن کمیشن میں مشترکہ درخواست دیدی

    اجلاس سے خطاب میں مریم نواز نے کہاکہ اپنے والد نواز شریف کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہونے پر سیاسی میدان میں آئی، اس سے پہلے کبھی سیاست میں آنے کا نہیں سوچا تھا 2011 میں سوشل میڈیا سے آغاز ہوا، اس وقت سے اب تک جتنی محنت کر سکی وہ کی، پھر اس کے بعد پاناما آیا اور سازش شروع ہوگئی، آپ کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوئی تو پھرمیدان میں نکل آئی ن لیگ کی خدمات نکال دی جائیں تو پاکستان میں کھنڈرات کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔

    پنجاب: اسکولز اور کالجز میں موسم سرما کی چھٹیوں میں اضافہ

  • ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    عام انتخابات، ن لیگ ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکل میں پھنس گئی،نواز شریف، شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاسوں میں امیدواروں کے انٹرویو تو ہو گئے، اب ٹکٹ کس کو دیں؟ ن لیگ میں دھڑے بازی سامنے آ گئی، لاہور، پنڈی، چکوال سمیت کئی حلقوں میں ن لیگ کو ٹکٹوں بارے فیصلہ کرنا کافی مشکل لگ رہا ہے کیونکہ ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں امیدوار آزاد الیکشن لڑ سکتا ہے، وہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالہ سے بھی ن لیگ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، این اے 242 کراچی کی سیٹ پر شہباز شریف نے کاغذات جمع کروائے تو ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال بھی امیدوار ہیں، اور انہوں نے ہر حال میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے، ایم کیو ایم کی خواہش ہے کہ این اے 242 کے علاوہ اگر ن لیگ کسی حلقے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنا چاہے گی تو مشاورت سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے، استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ ن لیگ کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا،

    این اے 59، کئی امیدوار،ن لیگ پریشان، سرداران ٹمن کا اتحاد
    چکوال کے حلقہ این اے 59 میں بھی ٹکٹ کی تقسیم کے حوالہ سے ن لیگ کو مشکلات کا سامنا ہے، ملک شہروز ٹمن ، سردار غلام عباس، سردار منصور حیات اس حلقے سے ن لیگ کے امیدوار ہیں، باخبر ذرائع کے مطابق ن لیگ سردار غلام عباس کو این اے 59 سے ٹکٹ دینا چاہ رہی ہے تا ہم ملک شہروز کہہ چکے ہیں کہ اگر ٹکٹ نہ ملا تو فیصلہ سردار ممتاز ٹمن کریں گے، ادھر سابق رکن قومی اسمبلی فیض ٹمن کی ممتاز ٹمن سے ملاقات ہوئی ہے جس میں آمدہ انتخابات کے حوالہ سے مشاورت کی گئی، اگر ن لیگ نے شہروز ٹمن کو ٹکٹ نہ دیا تو سردار شہروز اور فیض ٹمن کا آپس میں اتحاد ہو سکتا ہے، 2018 کے الیکشن میں فیض ٹمن اور پرویز الہیٰ میں مقابلہ تھا، فیض ٹمن ہار گئے، پرویز الہیٰ نے سیٹ چھوڑی، چودھری سالک حسین ضمنی الیکشن میں مقابلے میں آئے تو فیض ٹمن نے چودھری برادران سے ہاتھ ملا کر ن لیگ کے ساتھ ہاتھ کر دیا تھا، اس وجہ سے اب ن لیگ این اے 59 میں ٹکٹ کے لئے سوچ و بچار کر رہی ہے کہ ٹکٹ کس کو دیا جائے؟

    این اے 121،ایاز صادق یا شیخ روحیل اصغر؟ سینیٹ کی بھی ہو گی آفر
    ن لیگی قیادت کی جانب سے امیدواروں کو یقین دہانی کروائی جا رہی ہے کہ جو امیدوار اس بار رہ جائیں گے انکو ضمنی الیکشن میں ٹکٹ دے دیا جائے گا یا سینیٹ میں ایڈجسٹ کر دیا جائے گا، لاہور کے حلقہ این اے 121 میں بھی ن لیگ کے ٹکٹ کے لئے رسہ کشی جاری ہے،الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں‌کے بعد این اے 121 میں پرانے دو حلقے آ گئے، ایاز صادق، اور شیخ روحیل اصغر کے حلقے این اے 121 میں شامل ہوئے، اب ن لیگ کس کو ٹکٹ دے؟ ایاز صادق یا شیخ روحیل اصغر، اس پر مشاورت جاری ہے،باخبر ذرائع کے مطابق اگر کسی ایک کوٹکٹ نہیں ملتا تو دوسرے کی ناراضگی کا امکان ہے،ن لیگ کی کوشش ہو گی کہ اگرایاز صادق کو ٹکٹ نہ دیا تو انہیں سینیٹ میں ایڈجسٹ کیا جائے،مارچ میں سینیٹ کے الیکشن ہونے ہیں، ایاز صادق کو چیئرمین سینیٹ کی نشست بھی آفر کی جائے گی، تا ہم ٹکٹ کی تقسیم کا حتمی فیصلہ نوا ز شریف کریں گے

    لاہور کے حلقے این اے 117 سے ن لیگی امیدوار ملک ریاض نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں اسی حلقے سے علیم خان بھی الیکشن لڑ رہے ہیں، کیا ن لیگ اس حلقے سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرے گی؟ ن لیگی امیدوار ملک ریاض پریشان ہیں، انکی خواہش ہے کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہو اور وہ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑیں،ن لیگ ملک ریاض کو ضمنی انتخابات میں ٹکٹ دینے کی آفر کرے گی اگر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گئی تو، تاہم اس حلقے میں بھی حتمی فیصلہ نواز شریف ہی کریں گے

    فیاض الحسن چوہان کے مقابلے میں ٹکٹ نہ ملا تو آزاد الیکشن لڑیں گے، ن لیگ پنڈی کا اعلان
    دوسری جانب ٹکٹوں کی تقسیم پر ن لیگ میں اختلافات سامنے آئے ہیں، ن لیگ پنڈی کے رہنما امجد بھٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پی پی 17 پر راجہ حنیف کو ٹکٹ دیا جائے، اگر راجہ حنیف کو ٹکٹ نہ ملا تو وہ آزاد الیکشن لڑیں گے،پی پی 17 پر استحکام پاکستان پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بجائے پارٹی کارکن کو ٹکٹ دیا جائے، فیاض الحسن چوہان اس حلقے سے امیدوار ہیں، ن لیگی کارکن فیاض الحسن چوہان کو ووٹ نہیں دیں گے بلکہ اگر پارٹی نے ٹکٹ نہ دیا تو آزاد امیدوار کے طور پر راجہ حنیف الیکشن لڑیں گے

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • جمیعت اہلحدیث کے امیر  کا ملک و قوم کیلئے خدمات پر نواز شریف کو خراج تحسین

    جمیعت اہلحدیث کے امیر کا ملک و قوم کیلئے خدمات پر نواز شریف کو خراج تحسین

    لاہور: جمیعت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے ملک و قوم کیلئے خدمات پر نواز شریف کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے جمیعت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے ملاقات کی مسلم لیگ (ن) کے چئیرمین راجہ محمد ظفر الحق، سینئیر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف بھی ملاقات میں شریک تھیں۔

    https://x.com/pmln_org/status/1739619071094854016?s=20

    پی پی پی رہنما صادق عمرانی کا پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں …

    مسلم لیگ(ن) کے الیکشن سیل کے چئیرمین سینیٹر اسحاق ڈار، پارٹی کے پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خاں، سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب اور جمیعت اہلحدیث پاکستان کے صاحبزادہ فضل کریم بھی ملاقات میں موجود تھے ملاقات میں موجودہ صورتحال اور انتخابات کی تیاریوں پر مشاورت ہوئی قائدین نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کےلئے دونوں جماعتوں میں سیاسی تعاون پر تبادلہ خیال کیا، پروفیسر ساجد میر نے ملک وقوم کے لئے خدمات پر نواز شریف کو خراج تحسین پیش کیا۔

    احتساب کرنا ہے تو سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہئے،جاوید لطیف

    پروفیسر ساجد میر نے نیب ریفرنسز سے بریت پر نواز شریف اور مریم نواز شریف کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے سیاسی دشمنی میں آپ پر جھوٹے مقدمات بنائے، قوم نے ان کا حشر دیکھ لیا۔

    پی آئی اے کو گزشتہ پانچ سالوں میں 291 ارب روپے سے زائد نقصان کا …

  • اقلیتی برادری نےملک کےلیےبہت قربانیاں دیں، نواز شریف

    اقلیتی برادری نےملک کےلیےبہت قربانیاں دیں، نواز شریف

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کےبغیرمکمل نہیں۔

    باغی ٹی وی: لاہور میں پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب میں انہو ں نے کہا کہ ملک وقوم کےلیےخدمات پراقلیتی برادری کوسلام پیش کرتا ہوں،میرے لیےسب برابرہےمسلم لیگ(ن)میں روزبروزاقلیتی برادری کا اضافہ ہورہا ہےپاکستان ایک گلدستہ ہے اور ہم اس کومل کرسجائیں گے اقلیتی برادری نےملک کےلیےبہت قربانیاں دیں،اقلیتیں پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں انہوں نے دورا ن خطاب مسیحی برادری کوکرسمس کی مبارکباد بھی پیش کی-

    مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں سینئر خواتین رہنماؤں کی مریم نواز سے جھڑپ ہوگئی اور خواتین اعلیٰ قیادت کے سامنے پھٹ پڑیں گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ میں خواتین کے انٹرویوز کئے گئے، جس میں ن لیگ کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے مریم اورنگزیب، عظمی بخاری اور حنا پرویز بٹ کی تعریفیں کیں، حنا پرویز بٹ کی تعریف پر کئی لیگی ورکرز سیخ پا ہو گئیں، اور خواتین امیدوار اعلی قیادت کے سامنے پھٹ پڑیں، جب کہ سینئر رہنما تہمینہ دولتانہ اور مدیحہ نیازی کی مریم نواز سے جھڑپ بھی ہوئی، خواتین رہنماؤں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میک اپ اور برینڈڈ کپڑے پہننے سے پارٹی کی خدمت نہیں ہوتی۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    نجی خبررساں ادارے کے مطابق لاہور سے لیگی ورکر مدیحہ نیازی نے تو قیادت کو کھری کھری سنا دیں، اور نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب ہم کسی کی بھانجییاں اور بھتیجیاں نہیں، ہماری سفارش بھی نہیں اس لئے ہماری بات نہیں سنی جا رہی، مدیحہ نیازی کے بیان پر دیگر خواتین امیدواروں نے تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی پرچی والی خواتین کی تعریفیں اور قربانیاں دہنے والوں کی آواز دبائی جا رہی ہے جس پر مریم نواز نے مدیحہ نیازی سے کہا کہ آپ کی بات سن لی ہے، اب بیٹھ جائیں، تاہم مدیحہ نیازی نے جواب دیا کہ میں بیٹھنے نہیں اپنی قربانیاں گنوانے آئی ہوں، میں اپنی بات پوری کروں گی باہر نکالنا ہے تو نکال دیں۔

    آج رواں سال کی سب طویل رات ہو گی

    اجلاس میں مریم نواز اور سینئر لیگی رہنما تہمینہ دولتانہ کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ میں نے اپنے علاقے میں بہت کام کیا ہے جس پر مریم نواز نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی کہانی نہ سنائیں، آپ نے پارٹی کیلئے کیا کیا، جس پر تہمینہ دولتانہ غصے میں آگئیں اور کہا کہ کیا میں مر جاؤں پھر آپ کو یقین آئے گا۔

    ذرائع کے مطابق رہنماؤں کی اس چپقلش میں ن لیگ کے قائد نواز شریف کو مداخلت کرنا پڑی اور انہوں نے کہا کہ خواتین ہماری طاقت ہیں، پارٹی آپ کی وجہ سے آگے بڑھ رہی ہیں، یہاں جو رہنما بیٹھے ہیں وہ آپ کی وجہ سے اسمبلیوں میں گئےآپ ہمارے لئے قابل احترام ہیں، آپ کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے الیکٹرک رکشے متعارف

  • ہمارے ارد گرد کے ممالک چاند پر پہنچ گئے اور ہم زمین سے نہیں اٹھ رہے،نواز شریف

    ہمارے ارد گرد کے ممالک چاند پر پہنچ گئے اور ہم زمین سے نہیں اٹھ رہے،نواز شریف

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے ارد گرد کے ممالک چاند پر پہنچ گئے اور ہم زمین سے نہیں اٹھ رہے-

    باغی ٹی وی :ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ارد گرد کے ممالک چاند پر پہنچ گئے اور ہم زمین سے نہیں اٹھ رہے، ایسا لگ رہا تھا کہ ملک پاکستان جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا مگر ایسا نہ ہوا، روٹی سستی تھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں کہا گیا کہ نواز شریف اور مریم کو ضمانت نہیں دینی انہیں باہر نہیں نکالنا انہیں جیل میں رکھنا ہے ورنہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ دو سال کی محنت کیا تھی؟ وہ یہ تھی کہ ایک ایسے شخص کو لانا تھا جسے ملک چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور اس نے آکر کہا ملک کا بھٹہ بٹھایا، اس نے آتے ہی مہنگائی ہوئی، بجلی مہنگی ہوئی، ہر چیز لوگوں کی پہنچ سے دور ہوگئی، ملک تباہ ہوگیا جب کہ ہمارے دور میں کہا گیا تھا کہ ملک اچھا چل رہا ہے اگلا الیکشن بھی نواز شریف جیتے گا۔

    ٹی 20 سیریز : نیوزی لینڈ کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان

    دوسری جانب سابق وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے عام انتخابات 2024 میں کراچی سے حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی کاغذات وصول کرنے جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے، اسی دوران شہباز شریف نے بھی شہر قائد سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 242 کے لیے شہباز شریف کا فارم صالحین تنولی نے وصول کیا جو فارم لے کر آج کراچی سے لاہور کے لیے روانہ ہوں گے کل شہباز شریف کا فارم این اے 242 جمع کرادیں گے، مریم نواز کے لیے این اے 237 کراچی سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے۔

    عمران خان تین حلقوں سے الیکشن لڑیں گے،بیرسٹر علی گوہر

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے اور جمع کروانے کا سلسلہ آج سے شروع ہو گیا ہے امیدوار 20 سے 22 دسمبر تک کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتے ہیں، ان کی ابتدائی فہرست 23 دسمبر کو جاری ہوگی جب کہ کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی 24 سے 30 دسمبر تک ہوگی۔

    ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں اضافہ

  • نواز شریف، آصف زرداری کیخلاف توشہ خانہ کیس،  نیب سے رپورٹ طلب

    نواز شریف، آصف زرداری کیخلاف توشہ خانہ کیس، نیب سے رپورٹ طلب

    اسلام آباد : احتساب عدالت میں توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس پر عدالت نے چار جنوری تک نیب سے رپورٹ طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی : بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی،سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی-

    دورانِ سماعت نواز شریف کے وکیل قاضی مصباح ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ برآمدگی کا نوٹس کردیں اور آئندہ سماعت پر دیکھ لیں، چھ متفرق درخواستیں ہیں ان کو بھی سن لیں، وکیل قاضی مصباح نے بتایا کہ نواز شریف شامل تفتیش ہوگئے ہیں، تفتیش کی روشنی میں نیب نے آج رپورٹ جمع کروانی تھی۔

    عام انتخابات: کاغذات نامزدگی کی وصولی کا آغاز کر دیا گیا

    جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی تفتیشی افسر کو رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت درکار ہے، تفتیشی افسر کا تبادلہ ہوگیا تھا ڈائریکٹر بھی تبدیل ہوئے ہیں آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر آجائیں گے، آئندہ سماعت پر رپورٹ بھی جمع کروادیں گے۔

    جس پر عدالت نے کہا کہ آپ چار دن میں جواب جمع کروا دیں نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ چار دن رپورٹ جمع کروانے کے لیے کافی نہیں ہیں بعد ازاں عدالت نے چار جنوری تک نیب سے رپورٹ طلب کرلی۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی انتخابی مہم میں ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہوئے، انہوں نے آج کی حاضری سے استثنیٰ مانگ لیا –

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ، اسٹاک ایکسچینج میں بھی …

  • نواز شریف نے ٹکٹ کے معاملے پر خفا باپ بیٹے کے درمیان صلح کرادی

    نواز شریف نے ٹکٹ کے معاملے پر خفا باپ بیٹے کے درمیان صلح کرادی

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے میاں نواز شریف نے سابق ایم این اے میاں محمد فاروق اور ان کے بیٹے میاں معظم فاروق کے درمیان صلح کرا دی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عام انتخابات کے لئے مسلم لیگ ن فیصل آباد کے امیدواروں کی ٹکٹیں فائنل کرنے کے لئے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں میاں نواز شریف نے سابق ایم این اے میاں محمد فاروق اور ان کے بیٹے میاں معظم فاروق کے درمیان صلح کرا دی،دونوں باپ بیٹا ٹکٹ کے معاملے پر خفا تھے-

    سابق ایم این اے میاں محمد فاروق مسلم لیگ ن کے کارکن ہیں جبکہ ان کے بیٹے میاں معظم فاروق مسلم لیگ ن فیصل آباد ضلع کی تنظیم کے صدر ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے این اے 99 فیصل آباد پانچ سے ٹکٹ کے لئے لیگی قیادت کو درخواست دے رکھی ہے جبکہ میاں معظم فاروق سابق چئیرمین ضلع کونسل ہیں انہوں نے بھی اسی حلقے سے پارٹی سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ مانگا ہے، دونوں آج مسلم لیگ ن کے لاہور میں ہونے والے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں شریک تھے۔

    وہ ممالک جو ہم سے کہیں پیچھے تھےآج آگے چلے گئے،نواز شریف

    میاں نواز شریف نے میاں معظم فاروق کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والد میاں فاروق سے معذرت کریں ان کی قدموں کو چھوئیں اور اپنے لئے دنیا و آخرت میں آسانیوں کے طلب گار ہوں میاں معظم فاروق معذرت کے لئے اپنے والد کے پاس گئے اور معافی مانگی جس پر میاں فاروق نے اُن کی معافی کو قبول کیا اور معظم فاروق کے سر پر بوسہ بھی دیا۔

    کسی کو بچانے یا پھنسانے کے لئے سوالات نہیں کررہے ہیں،عدالت