Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    نواز شریف کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا،عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی،احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردیا

    نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں اپیل پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز جبکہ نیب کی لیگل ٹیم روسٹرم پر موجود تھی،نیب کی جانب سے لیگل ٹیم میں نعیم طارق سنگیڑا، محمد رافع مقصود اور اظہر مقبول شاہ عدالت پیش ہوئے،نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز روسڑم پر آگئے ، اور کہا کہ زیر کفالت کے ایک نکتے پر صرف بات کرنا چاہتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہوگئے ہیں،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں صرف ایک نکتے زیر کفالت کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیاء نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟ امجد پرویز نے کہا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں،ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے، امجد پرویز ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مختلف حصے پڑھ رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر کہا گیا کہ ان شواہد کی بنیاد پرثبوت نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ میں حسیں نواز کی دائر کردہ متفرق درخواستوں پر انحصار کیا گیا ہے،اگر ان متفرق درخواستوں کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف اسٹیل مل کے کبھی مالک رہے ہوں ، جن متفرق درخواستوں پر ٹرائل کورٹ نے انحصار کیا ہے،ٹرائل کورٹ نے ان متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا ،ٹرائل کورٹ نے تین چیزوں پر انحصار کیا،ٹرائل کورٹ نے پانامہ کیس میں دائر سی ایم اے کو بنیاد بنایا،تینوں سی ایم اے حسن نواز، مریم نواز اور حسین نواز نے جمع کرائیں،نواز شریف کی جانب سے ایک بھی سی ایم اے جمع نہیں کرائی گئی،ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ یہ جمع کرائی گئی سی ایم ایز مجرمانہ مواد ہیں، ایک بھی سی ایم اے ثابت نہیں کرتی کہ نواز شریف ان اثاثوں کے مالک ہیں، استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہوئے تو شریک ملزم کے بیان پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ، حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جائیداد کا والد سے تعلق نہیں ، حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا ہے، نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر پر بھی انحصار کیا گیا، امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ جو سی ایم ایز دائر کی گئی تھیں ان میں کیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سی ایم ایز کو ریکارڈ پررکھا ہی نہیں گیا، سی ایم ایز کے ساتھ منسلک دستاویزکو ریکارڈ پر رکھا گیا،ان سی ایم ایز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کی ملکیت تھی،بلکہ یہ لکھا تھا کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،یہ ایک اصول ہے کہ کسی ایک مقدمے کے ثبوت کو کسی دوسرے مقدمے میں نہیں پڑھا جا سکتا،خصوصی طور پر جب دونوں مقدمات کی نوعیت الگ الگ ہو،حسین نواز کے کیپیٹل ٹاک کے انٹرویو پر بھی انحصار کیا گیا،حالانکہ اس انٹرویو میں بھی حسین نواز کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے اور استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،ملزم کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا،یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے،فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے، نہ کہ ملزم پر، پراسیکیوشن نے آمدن اور اثاثوں کی قیمت بتانا تھی،پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ جن کے نام اثاثے ہیں وہ تو زیر کفالت ہیں، پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ بے نامی جائیداد بنائی گئی،اگر اس متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تو یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بنتا،

    وکیل امجد پرویز نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس سے بری کرنے کی استدعا کر دی ،وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ، نیب کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا گیا،نیب پراسیکوٹر نعیم طارق سنگیڑا نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کے فیصلے میں ریفرنس تیار کرکے دائر کرنے کی ہدایت کی، نیب نے اپنی تفتیش کی،اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے دو تین طریقے ہی ہوتے ہیں،ہم نے جو شواہد اکٹھے کئے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں،،نیب ریفرنسز میں تفتیش کے لیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب نے بے نامی اثاثوں کی تفتیش کی،اس کیس میں فرد جرم احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے عائد کی تھی،اس میں 161 کے بیانات بھی ہیں،نیب وکیل کی جانب سے ریفرنس کی چارج شیٹ پڑھی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی ؟، یہ بتائیں کہ العزیزیہ سٹیل ملز اور ہل میٹل کب بنی تھیں؟ آپ پراسیکیوٹر تھے، بتائیں آپ کے پاس کیا شواہد تھے؟ آپ بتائیں کہ آپ نے کس بنیاد پر بار ثبوت ملزم پر منتقل کیا؟قانون کو چھوڑیں، قانون ہم نے پڑھے ہوئے ہیں، آپ سیدھا مدعے پر آئیں، کوئی ریکارڈ پر ثبوت ہوگا؟ کوئی گواہ موجود ہوگا؟ ذرا نشاندہی کریں،

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان معلوم زرائع لکھے، نواز شریف پرکرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی،ایس ای سی پی، بنک اور ایف بی آر کے گواہ عدالت میں پیش ہوئے، یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کئے ہیں،بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے ، عدالت نےکہا کہ آپ یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ انکا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں، جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا ؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ شواہد میں جانے سے پہلے ایک کنفیوژن دور کرنا چاہوں گا،آخری سماعت پر آپ نے کہا تھا کہ فیصلہ دوبارہ تحریر کرنے کیلئے ٹرائل کورٹ ریمانڈ بیک کیا جائے،ہم نے ابھی تک کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، آپ اس اپیل پر میرٹ پر دلائل دے کر سزا برقرار رکھ سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس کو دوبارہ احتساب عدالت بھیجنے کی استدعا کی تھی، جج سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے اور اُس کے نوکری سے برطرف ہونے کے بعد اِس فیصلے کو درست نہیں کہا جا سکتا،العزیزیہ ریفرنس کا احتساب عدالت کا یہ فیصلہ متعصبانہ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے ارشد ملک سے متعلق درخواست پر گزشتہ سماعت پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا،یہ تو آپ نے کہا تھا کہ آپ اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے ،نیب وکیل کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے ارشد ملک کیس کے فیصلے میں آبزرویشنز کافی مضبوط ہیں،وہ درخواست اگر نہ بھی ہوتی، تب بھی اگر وہ فیصلہ ہمارے سامنے آجاتا تو ہم اس کو ملحوظ خاطر رکھتے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نیب تو آپ پر احسان کر رہا ہے، آپ کیوں لینے سے انکاری ہیں؟،العزیزیہ کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا اور آپ کے موکل مجرم نہیں رہیں گے، نواز شریف کے وکلاء نے کہا کہ احسان بھی تو دیکھیں کیسا ہے،اگر یہ معاملہ واپس ٹرائل کورٹ ہی جانا ہے تو بعد میں بھی ہمیں یہیں آنا پڑے گا، نیب پراسیکوٹر نےایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسیکوٹر کی ایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا مسترد کر دی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے، آپ کو میرٹ پر دلائل دینے میں کتنا وقت چاہیے؟ نیب وکیل نے کہا کہ دلائل میں شواہد بتائیں گے پھر ان کا تعلق جوڑنے کی کوشش کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چلیں پھر آپ میرٹ پر دلائل دیں، ہم میرٹ پر سن لیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں اپنے دلائل آدھے پونے گھنٹے میں مکمل کر لوں گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ پونے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کریں،اپیل سننے کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ جو فیصلہ دیا گیا اس کیلئے شواہد بھی موجود تھے یا نہیں،آپ نے بتانا ہے کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز سے یہ رقم سعودی عرب بھیجی گئی ،نیب کے گواہ واجد ضیا خود مان رہے ہیں کہ کوئی ثبوت نہیں ،اس دستاویز کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف کا العزیزیہ اور ہل میٹل کے ساتھ کوئی تعلق ہے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے analysis کیا کہ نواز شریف ہی اصل مالک ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ واجد ضیا تو خود مان رہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا کیس ہی واجد ضیا کے analysis کی بنیاد پر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مفروضے پر تو کبھی بھی سزا نہیں ہوتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریکارڈ میں زیادہ تر دستاویزات فوٹو کاپیز ہیں ،عدالت نے کہا کہ فوٹو کاپیز عدالتی ریکارڈ کا حصہ کیسے بن سکتی ہیں ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں آج تک فوٹو کاپی کی بھی مصدقہ نقل نہیں ملی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ وہ مِلیں لگا لیتے، عدالت نے کہا کہ یہ بتائیں کہ نواز شریف کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہی بتا رہا ہوں کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع موجود ہی نہیں تھے،عدالت نے کہا کہ مفروضے پر تو بات نہیں ہو سکتی، یہ بتائیں کہ نواز شریف نے کیسے کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز سے پیسہ باہر بھیجا؟ سٹار گواہ واجد ضیاء کہہ چکا کہ اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بات بھی سامنے ہے کہ میاں محمد شریف کا کاروبار تھا،

    نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • پاکستان سے ہوئی زیادتی کے ازالے کیلئے اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچنا ہوگا،نواز شریف

    پاکستان سے ہوئی زیادتی کے ازالے کیلئے اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچنا ہوگا،نواز شریف

    مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ 2017 میں ہماری حکومت اچھی جارہی تھی، لوگ خوش تھے، ہمارے دورمیں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، مزدور خوش تھا , کسان خوش تھا-

    باغی ٹی وی : لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے ملتان ڈویژن سے ٹکٹ امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک بہت پیچھے چلا گیا، اللہ تعالیٰ اس ملک کی حفاظت فرمائے اور پاکستان اور اسکے لوگ خوشحال ہوں دنیا بہت آگے چلی گئی ہے۔ہمیں اس بات کا افسوس کرنا چاہیے کہ ہم کیوں دنیا کے پست ترین ممالک میں شامل ہیں، پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے، پاکستان وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جس کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔

    نواز شریف نے کہا کہ اس ملک کو دنیا میں منفرد مقام حاصل کرنا تھا، 1967 میں مجھے میرے والد نے غیر ملکی دوروں پر بھجوایا، اس زمانے میں لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ تھا، 2017 میں ہماری حکومت اچھی جارہی تھی، لوگ خوش تھے، ہمارے دورمیں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، مزدور خوش تھا , کسان خوش تھا، مہنگائی نہیں تھی , بجلی سستی تھی , لوڈشیڈنگ نہیں تھی، دہشتگردی کا خاتمہ کیا اس سے پہلے ملک ایٹمی طاقت بنا، پاکستان تیزی کیساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔

    نگران وزیراعظم نے نئے ویزا نظام کا افتتاح کر دیا

    مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی اور بے روزگای کا خاتمہ کیا تھا، سی پیک بڑی تیزی کے ساتھ چل رہا تھا اور ملک میں موٹرویز بن رہی تھی، ہمارے دور میں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، ہم نے پاکستان کو خوشحالی کی ڈگر پر ڈالا تھا، مخالفین حسد کررہے تھے کہ 2018 کے شفاف الیکشن ہوئے تو ن لیگ جیتے گی، قوم جاننا چاہتی ہے ترقی کا سفر رکا کیوں۔

    گیس مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ قوم اس وقت پریشانی کے عالم میں ہے اس کو اگر آپ نے پریشانی کے عالم سے نکالنا ہے تو یہی سوچیں کہ ہمیں جو ٹکٹ ملا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سےہم نے اس کو عبادت سمجھ کے اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنی ہے،اللہ تعالیٰ آپ کو , ہمیں کامیابی عطا فرمائے جنہوں نے رابطہ توڑوایا ان کا بھی شکریہ کہ انہوں نے نہ جانے ایسا کام کیوں کیا؟ ہم نے اپنے ملک کے ساتھ خود بڑی زیادتی کی ہے، شاید اس غلطی کے ازالے کا وقت آرہا ہے، ملک کو اسی جگہ پر لے جانا چاہیئے جس کا وہ مستحق ہے۔

    گوادر میں پیٹرول ڈپو میں آتشزدگی،2 افراد جاں بحق 3 زخمی

    انہوں نے کہا کہ پارٹی کوشش کرے گی کہ میرٹ پر تمام فیصلے ہوں، ازالہ چاہتے ہیں تو اپنی ذات سے باہر نکلنا ہوگا، ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیئے، ملک نے بہت برداشت کیا ہے، قوم پریشانی کے عالم میں ہے، پریشانی کی حالت سے باہر نکالنا ہے اور عبادت سمجھ کر قوم کی خدمت کرنی ہے، خوشحال پاکستان بہت ہی ضروری ہے، ترقی و خوشحالی کی طرف چلتا معاشرہ ہو تو سب خوش ہوتے ہیں، ترقی کرتا معاشرہ اور خوشحال پاکستان بہت ضروری ہے، پاکستان سے ہوئی زیادتی کے ازالے کے لیے اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچنا ہوگا، ذاتی ترقی کے لیے نہیں عوامی فلاح کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔

    گیس مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

  • انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    الیکشن سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم سیاسی نام نہاد رہنماؤں جو ہر ضلع اور ڈویژن کی سطح پر پائے جاتے ہیں اپنی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو گمراہ کر کے اپنی دولت میں تو اضافہ کرتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں اور اپنی قیادت کی بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں سودے بازی میں ملوث ہوتے ہیں یہ وہ نام نہاد رہنما ہیں جو حقیقی اور مخلص کارکنان اور نظریاتی شخصیات کے حقوق پر ڈاکے کے مترادف ہے یہ لوگ سیاسی جماعتوں کی ارتقائی پرورش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ راولپنڈی ضلع اور ڈویژن میں جاری یہ روش مسلم لیگ (ن) کے کئی نام نہاد رہنما اس میں ملوث ہیں۔ میاں محمد نوازشریف جلاوطنی کی ایک طویل رات گزارنے کے بعد ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات کی آمد پر مسلم لیگ (ن) کو مکمل بیداری کے ساتھ ایسے نام نہاد سیاسی رہنمائوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرنا ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں وفادار، اچھی شہرت، رکھنے والی شخصیات کو الیکشن ٹکٹ دینے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کو یہ پرکھ کرنی ہوگی کہ کون لوگ لینڈ مافیا، کرپٹ پولیس افسران اور جرائم پیشہ حلقوں کے ہم نوالہ رہے ہیں اور کون اپنی جان کی بازی لگا کر پارٹی قیادت کے ساتھ مشکل کھڑے رہے پارٹی قیادت کو دیکھنا ہوگا اپنے نیچے امیدواروں کو اس گارنٹی پر ٹکٹ دلوانے پر کوشاں ہیں کہ ان کے الیکشن کے اخراجات بھی ان کے مرہون منت امیدواران برداشت کریں گے ان لٹیروں کی تلاش اور کرپٹ سہاروں کے بل بوتے پر انتخابی دنگل میں اترنے والے پہلوان حقیقی مخلص کارکنوں کو دوسرے پارٹی عہدیداروں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ کئی رہنمائوں نے جیلیں کاٹی مقدمات کا سامنا کیا لیکن ان سزائوں اور مقدمات میں مسلم لیگ (ن) کو یہ جانچنا ہوگا کون اپنے کردہ جرائم کی وجہ سے جیلوں میں گیا اور کون ناکردہ گناہوں کی سزا محض میاں نوازشریف اور پارٹی قیادت سے وفاداری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سیاسی سفر حیات کے نشیب و فراز سے میاں محمد نوازشریف، مریم نواز اور دیگر پارٹی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے۔ شباب کی چوکھٹ پر قیام پذیر افراد کو کیا معلوم جو اپنی معیشت مستحکم کرنے میں مصروف ہیں وہ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں کیا کردار ادا کریں گے؟

  • چور چور  کہنے والے خود چور نکلے،190 ملین پاؤنڈز  کیس تاریخ کا سب سے بڑاڈاکہ،نواز شریف

    چور چور کہنے والے خود چور نکلے،190 ملین پاؤنڈز کیس تاریخ کا سب سے بڑاڈاکہ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ نے سیاست کے میدان میں آنا ہے تو پورا پروگرام لیکر جوش و جذبہ لیکر آنا ہے کہ میں نے حلقے کے عوام کی تقدیر بدلنی ہے۔اسکے بعد ضلع صوبہ اور پھر پورے ملک تک معاملہ جاتا ہے۔ جب یہ نیت لیکر آئینگے تو ان شا اللہ پورے ملک کی تقدیر بدلے گی،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ چور چور چور کہنے والے خود چور نکلے ریاست مدینہ کی کہانیاں سنانے والے کے قصے آپ سن رہے ہیں قوم کو بتایا جائے ملک پر کس نے ڈاکہ ڈالا۔ 190 ملین پاؤنڈز والا کیس تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے،اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بند لفافہ لہرا کر دستخط لے لیے گئے۔ کرپشن خود کرتے ہو ڈاکہ خود مارتے ہو اور الزام ہمارے اوپر لگاتے کر سزائیں دلواتے ہو کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی،190 ملین پاؤنڈ سکینڈل پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان سے منظوری لی گئی، اس طرح ڈاکہ ڈال کر بجلی مہنگی کر دی گئی اس طرح کے ڈاکے نہ ڈالے جاتے تو 200 یونٹ والے بجلی مفت لے رہے ہوتے،ہم ملک کیلئے کچھ کرنے کی نیت سے آئے ہیں،زندگی میں تکلیفات آتی ہیں لیکن کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے۔ لیکن اسکے باوجود ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ہماری اب بھی خواہش ہے کہ پاکستان کو مصیبتوں اور اس گرداب سے نکلا کر ترقی کی راہ پر ڈالا جائے، جنرل فیض نے جسٹس شوکت صدیقی سے کہا کہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی،مجھے سات سال بعد انصاف مل رہا ہے۔ملک میں ایک کھلنڈرے کو لایا گیا جس نے برا حال کردیا،آپ نے ظلم ڈھایا لیکن ازالہ کرتے کرتے کتنے سال لگ گئے،عدالت کا سرٹیفکیٹ لگا کہ یہ سارے مقدمے بوگس تھے، ہم پر بوگس مقدمے بنا کر جیلوں میں ڈالا گیا، سزائیں دی گئیں، جنہوں نے مقدمے بنائے اُن کا احتساب کون کرے گا؟ زبانی کلامی ریاست مدینہ کی بات کرتے تھے، اخلاقیات کا کچھ پتا نہیں تھا،

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا،یہ پارلیمانی بورڈ کا پانچواں اجلاس تھا،اجلاس پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف کی زیرصدارت ہو ا،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    2024ء کی آمد آمد ہے الیکشن کمیشن نے قومی انتخابات کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ نوازشریف نے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ لندن سے واپسی پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت کان لیگ میں شامل ہونا نوازشریف کی ووٹروں پر مسلسل گرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گرفت کا سہرا ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی سیاست اور مقبولیت کو کم نہیں ہونے دیا پابندیوں کے باوجود وہ اپنے والد کا مقدمہ گلی کوچوں بازاروں میں پہنچاتی رہی۔

    بلاشبہ نواز شریف کے دور حکومتوں میں پاکستان نے حقیقی ترقی کی تھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ موٹرویز، ایرپورٹ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوطی میں بھی نوازشریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    بلاشبہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا دبائو رہتا ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ملکی سلامتی کے ذمہ دار پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو لے کر چاک و چوبند ہیں۔ چین اور امریکہ کے اپنے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے ذمہ داران ریاست کے بھی اس ملک کی سلامتی اور بقا کے مفادات ہیں اس سلسلے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کی قربانیوں کو فراموش میں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاک فوج ملک کو 1971ء کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کی علیحدگی ہوئی۔ افسوس صد افسوس ملک میں رہنے والے بعض دانشور، سیاسی تجزیہ نگار، سوشل میڈیا پر عمران خان کی محبت میں ملکی سلامتی اور بقا کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں مگر وہ ہوش نہیں جوش سے کام لینے والے لیڈر ہیں۔ سیاست میں بردباری اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ  کا نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    العزیزیہ ریفرنس میں سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز روسٹرم پر موجودتھے، نیب کی جانب سے وکلاء کی ٹیم روسٹرم پر موجودتھی، نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 24 دسمبر 2018 کے فیصلے کیخلاف یہ اپیل ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ پانامہ کیس سے متعلق ہے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی یہ پانامہ سے متعلق ہے، پانامہ کسز میں تین ریفرنسز دائر کیے گئے تھے،فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کیا تھا،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی اپیل گزشتہ سماعت پر نیب واپس لے چکا، نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات پر ریفرنسز دائر کیے جن میں ایک جیسا الزام تھا،فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کر دیا تھا،ایک ہی الزام پر الگ الگ ریفرنس دائر کیے گئے،ہم نے درخواست دی تھی کہ ایک الزام پر صرف ایک ہی ریفرنس دائر ہونا چاہئے تھا،احتساب عدالت نے ٹرائل الگ الگ کیا لیکن فیصلہ ایک ساتھ سنانے کا کہا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا ایک ساتھ ہی فیصلہ سنانے کا حکم برقرار رکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا ایک ساتھ تینوں کیسز کے فیصلے سے آسمان نہیں گر جائے گا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف پر کیا الزام عائد کیا گیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پر اس کیس میں بھی آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نواز شریف کے وکیل سے استفسارکیا کہ العزیزیہ سٹیل مل کہاں پر رجسٹرڈ ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ العزیزیہ سٹیل مل 2001 میں سعودی عرب میں رجسٹر کرائی گئی اور نواز شریف اُس دور میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے اور پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے، میاں نواز شریف کا ہمیشہ موقف رہا کہ اُنکا العزیزیہ سٹیل مل سے کبھی بھی کسی قسم کا تعلق نہیں رہا بلکہ سٹیل مِل اُنکے والد میاں محمد شریف کی ملکیت تھی،میاں محمد شریف اپنی زندگی میں بچوں کو جیب خرچ بھی خود ہی دیتے تھے،

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ گواہوں کے بیانات سے متعلق چارٹ عدالت میں پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ،بائیس میں سے 13 گواہوں نے صرف ریکارڈ پیش کیا،5 سیزر میمو اور دو طلبہ کے نوٹس پہنچانے والے گواہ ہے ،کوئی وقوعہ کا عینی شاہد گواہ نہیں ہے ، محبوب عالم اور واجد ضیا ہی دو مرکزی گواہ تھے ،

    نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو کا معاملہ عدالت کے سامنے اٹھا دیا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے وکلاء میرٹ پر دلائل دے رہے ہیں لیکن اُس سے پہلے اِنکی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج سے متعلق ایک درخواست بھی موجود ہے اسکو پہلے دیکھ لیں،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی، جج کی وڈیو کے حوالے سے درخواستیں ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس حوالے سے مریم نواز نے بھی پریس کانفرنس کی تھی، معاملہ سپریم کورٹ گیا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی اس پر فیصلہ دے سکتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مناسب ہوگا میرٹ پر دلائل دینے سے پہلے ویڈیو والی درخواست پر فیصلہ کیا جائے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہم جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق درخواست کو اب پریس نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ جج صاحب اب وفات پا چکے ہیں اس معاملے پر مزید بات کرنا مناسب نہیں رہا، نواز شریف کے وکلاء نے مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق اپنی درخواست کی پیروی سے معذرت کر لی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل سے استفسارکیا کہ جج ارشد ملک کو برطرف کرنے کا نوٹیفیکیشن واضح نہیں ہے بتائیں اگر آپ درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو اس عدالت میں سکرین لگا کر ویڈیو کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ یہ ریمانڈ بیک کرنے کا فِٹ کیس کیسے نہیں ہو گا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں اپنے کلائنٹ سے ہدایات لینے کے بعد عدالت میں بیان دے رہا ہوں کہ ہم اپنی اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے، وکیل نواز شریف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالت نے یقینی بنانا ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ارشد ملک کو لاہور ہائی کورٹ نے عہدے سے برطرف کر دیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ عدالت کو ٹھوس مواد چاہیے کہ ارشد ملک اگر بددیانت تھے تو معاملہ کافی سنگین ہوگا، اگر جج کا کنڈکٹ اس کیس کے فیصلے کے وقت ٹھیک نہیں تھا، بدیانت تھا تو اس کے اثرات ہوں گے ، ہمیں بتائیں ان کو بطور جج کیوں برطرف کیا گیا تھا ؟ چارج کیا تھا ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرٹ پر ہمارا کیس پہلے سے بہتر ہے ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے نوٹیفکیشن سے ارشد ملک پر عائد الزام واضح نہیں ہو رہا، کیا عدالت ویڈیو کا جائزہ لیکر فیصلہ کرے کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کرنا ہے یا نہیں، کیونکہ نوازشریف کی درخواست موجود ہے اس لئے یہ فیصلہ آپ کا ہوگا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف ویڈیو سکینڈل والی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ درخواست واپس لینے پر اعتراض نہیں ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس درخواست کی پیروی کریں گے تو ہم اس کو دیکھیں گے ، ارشد ملک اب نہیں ہیں لیکن باقی لوگ ابھی موجود ہیں ،عدالت نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مجھے ہدایت دی گئی ہے جج ارشد ملک ویڈیو اسیکنڈل سے متعلق درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے ،میں جج ارشد ملک کے حوالے سے دعا گو ہوں اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ،

    نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے اس سے قبل بھی دو اپیلوں پر فیصلہ اسی عدالت میں ہو چکا ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس اگر ریمانڈ بیک کر بھی دیتے ہیں تو نواز شریف ملزم تصور ہونگے سزا یافتہ نہیں. ٹرائل کورٹ نے دوبارہ کیس کا فیصلہ کرنا ہو گا اور اگر نیب کا یہی رویہ رہا تو پھر تو آپکو مسئلہ بھی نہیں ہو گا تو آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہی نواز شریف کی العزیزیہ اپیل پر میرٹ پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اِس عدالت کے سامنے تین آپشنز ہیں، ایک راستہ کہ اپیل خارج کردیں، دوسرا کہ اپیل منظور کر کے نواز شریف کو بری کر دیں اور تیسرا راستہ یہ ہے کہ اپیل منظور کر کے کیس احتساب عدالت کو واپس بھجوا دیں، ہم یہاں اسکرین لگا دیں گے اور وڈیو چلا دیں گے،لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ یہ دو دھاری تلوار بھی ثابت ہوسکتی ہے، اعظم نذیر تارڑ نے معاملہ احتساب عدالت کو واپس بھجوانے کی مخالفت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک یہ کہ ہم خود اضافی شواہد دیکھ کر میرٹ پر فیصلہ کردیں،اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کردیں گے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آپ نے ہمیں اپنا فیصلہ بتانا ہے،اس کیس میں مرحوم جج نے مکمل ٹرائل ہی نہیں کیا، اکیس گواہ پہلے ہی اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے تھے، نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے، نیب نے العزیزیہ ریفرنس دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجوانے کی استدعا کر دی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ بیک کر دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کر دیں گے، تو جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق درخواست کو چھوڑا نہیں جا سکتا، آپ ہمیں بتا دیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہمیں کیس دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن احتساب عدالت کو ٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ڈائریکشن دیدیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ کر لیا. نیب کی کیس ٹرائل کورٹ کو دوبارہ فیصلے کیلئے بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی گئی

    احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید اور 2.5 ملین پاونڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی،نواز شریف نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے، نواز شریف نے اپنے خلاف سات سال قید اور جرمانے کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،نیب نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی استدعا کر رکھی ہے

    کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلے کے لیے رجسٹرار آفس کی جانب سے خصوصی پاسز جاری کئے گئے ہیں،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں

    نواز شریف عدالت پیشی کے لئے لاہور سے روانہ ہوئے اور اسلام آباد پہنچ گئے،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کی اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر قانونی ٹیم سے مشاورت ہوئی،سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطاء تارڑ اور قانونی ٹیم کے دیگر ارکان موجود تھے،ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، بلال کیانی اور دیگر رہنما بھی مشاورت میں موجود تھے،لیگل ٹیم نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس کیس پر تفصیلی بریفنگ دی،اعظم نذیر تارڑ نے کیس سے متعلق تیاری پر نواز شریف کو بریفنگ دی،نواز شریف نے قانونی ٹیم کی کیس سے متعلق تیاری پر شاباش دی

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا ،نواز شریف

    ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا ،نواز شریف

    لاہور: مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اقتدار میں آ کر غریبوں کا سہارا بنے گی، ہمارے دور میں ہمیشہ ملک وقوم نے ترقی کی-

    باغی ٹی وی : سابق وزیراعظم نوازشریف اور شہبازشریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کا چوتھا اجلاس ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں ہوا، جس میں مریم نواز، اسحاق ڈار، احسن اقبال اور مرکزی و صوبائی عہدیدار شریک تھے،اجلاس میں بلوچستان سےپارٹی امیدواروں کے انتخاب سے جائزہ لیا گیابلوچستان سے پارٹی ٹکٹ کے لیے 87 امیدواروں کے انٹرویو کیے گئے، قومی اسمبلی کے 16 جبکہ صوبائی اسمبلی کی 51 نشست کے لیے امیدواروں کے انٹرویو کے بعد نام فائنل کر لیے گئے-
    https://x.com/pmln_org/status/1732294822529241501?s=20
    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ہر امیدوار سے ان کے متعلقہ حلقوں، سیاسی شہرت اور پارٹی کے لیے دی گئی خدمات پر سوالات کیے، امیدواروں کے حتمی ناموں کا اعلان پارٹی قیادت کی طرف سے کچھ روز بعد کیا جائے گا۔

    زائد بل بھجوانےکامعاملہ، پاورڈویژن نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

    https://x.com/pmln_org/status/1732295719984497011?s=20
    بلوچستان سے تعلق رکھنے والےرہنماؤں سے بات کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے لیے ن لیگ کی تیاری مکمل ہے، مسلم لیگ ن اقتدار میں آ کر غریبوں کا سہارا بنے گی، ہمارے دور میں ہمیشہ ملک وقوم نے ترقی کی، تمام امیدواروں کی پروفائل اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا، میرٹ، شفافیت کی بنیاد پر امیدواروں کو ٹکٹ دیئے جائیں گے، ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا باتیں کرنے والے بہت آئے، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا، ہم نے گوادر کو سندھ کے ساتھ ملایا، کوسٹل ہائی وے بنائی، کہاں گئی وہ تبدیلی؟ عوام کو پوچھنا چاہئے۔

    زائد بل بھجوانےکامعاملہ، پاورڈویژن نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے اب تک سرگودھا، راولپنڈی، ہزارہ اور مالاکنڈ کے امیدواروں کے ناموں پر غور کیا جا چکا ہے-

  • نواز شریف  کی مریم نواز اور شہباز شریف کے ہمراہ چودھری شجاعت سے ملاقات

    نواز شریف کی مریم نواز اور شہباز شریف کے ہمراہ چودھری شجاعت سے ملاقات

    ن لیگی قائد نوازشریف دو دہائیوں بعد چودھری شجاعت کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے
    نوازشریف چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کےلئے ان کی رہائشگاہ پہنچے،نواز شریف کے ہمراہ مریم نواز، شہبازشریف بھی موجود تھے، چودھری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین بھی اس موقع پر موجود تھے،نوازشریف نے چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کی، نواز شریف نے ملاقات کے موقع پر ملکی سیاسی صورتحال سمیت سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بھی گفتگو کی،

    نواز شریف اور چوہدری شجاعت کی 15 سال کے بعد ملاقات ہوئی ،ملاقات میں مسلم لیگ ق کی جانب سے سالک حسین۔ شافع حسین۔ طارق بشیر چیمہ اور امتیاز رانجھا بھی شریک تھے،نواز شریف نے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی ،چوہدری شجاعت حسین نے نواز شریف کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ،مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کی قیادت کی آئندہ عام انتخابات میں باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی،ملاقات میں مسلم لیگ ن نے سیٹ ایڈجسمنٹ کے لئے مسلم لیگ ق کو سیٹوں کی تعداد کے حوالے سے پیشکش کی،مسلم لیگ ق نےملاقات کے بعد اپنی پارٹی قیادت کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے،مسلم لیگ ق کی قیادت لیگی قیادت سے ملاقات بارے اپنے رہنماؤں کو اعتماد میں لے گی

    گزشتہ روز چودھری شجاعت اور شہباز شریف کی ملاقات ہو چکی ہے،ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نےآئندہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں مشاورت کی،

    قبل ازیں ایک بیان میں مرکزی صدر مسلم لیگ ق چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ انتخابات میں اپنی سیاسی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے کسی بھی طرح کے اتحاد کا فیصلہ کریں گے، اس معاملے پر پارٹی میں مشاورت جاری ہے

    نواز شریف کی سابق سپیکر پنجاب اسمبلی سردار طارق مزاری کی رہائش گاہ آمد
    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی سابق سپیکر پنجاب اسمبلی سردار طارق مزاری کی رہائش گاہ آمد ہوئی،نواز شریف نے سابق نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری کی وفات پر فاتحہ خوانی کی ،نواز شریف نے میر طارق خان مزاری، سردار سرادار ریاض مزاری، سردار دوست محمد مزاری، سردار مراد بخش مزاری سمیت تمام اہل خانہ سے تعزیت کی،اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر اور چیف ارگنائزر مریم نواز شریف، مریم اورنگزیب، اور شیخ فیاض ادین بھی اس موقع پر موجود تھے

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • ن لیگ کی حکومت بنی تو وہ انتقامی سیاست کرے گی،بلاول

    ن لیگ کی حکومت بنی تو وہ انتقامی سیاست کرے گی،بلاول

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی بلوچستان میں حکومت بنائے گی

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو بلوچستان میں اچھا سرپرائز دیں گے،ہم واحد جماعت ہیں، جو اپنے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں، ہماری جدوجہد اور محنت جاری رہے گی،اگر میں یہ کہوں کہ فلاں کھلاڑی یا فلاں بندہ میرا مخالف ہے تو یہ غلط بات ہو گی ، میاں صاحب انتظار کی بجائے اپنے نظریے پر الیکشن لڑیں ،رائیونڈ کی ہوا بنانے کی کوشش ناکام ہو رہی ہے، یہ اپنے گھر سے نہیں جیت سکتے، نواز شریف انتظامیہ کی مدد کے بجائے اپنے منشور پر الیکشن لڑیں، ووٹ کو عزت دیں، ووٹ کی بے عزتی نہ کریں،جو بھی حالات ہوں ہم جانتے ہیں ہر پچ پر کیسے کھیلا جاتا ہے،،پیپلز پارٹی کا شروع سے ہی لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ رہا ہے،الیکشن میں پی پی بورڈ بناتی ہے تو ہر امیدوار کا نام سامنے رکھا جاتا ہے،باقی جماعتوں کا لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ حالات کے مطابق ہے، فیصلے کرنے کا نگران حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اس کے لیے الیکشن کروائیں تاکہ عوام کے منتخب نمائندے فیصلے کریں،موجودہ حالات میں فرنٹ لائن پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اللہ نے موقع دیا تو مسائل بھی حل کریں گے، ہم کام کر سکتے ہیں، یہاں کی عوام کو سیاست، معیشت میں سٹیک ہولڈر بنائیں گے، یہ مشکل کام نہیں،جب سے نواز شریف آئے اور جو جلسہ ہوا، اس سے عام عوام میں خدشات پیدا ہوئے، ہم چاہتے ہیں ملک کو اچھے طریقے سے چلائیں جہاں سارے ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں،عمران خان دور میں ہمارا اعتراض یہی تھا کہ وہ ہر ادارے کو اپنا ٹائیگر فورس بنانا چاہتے تھے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اسی لئے ریفرنس دائر کیا گیا تھا، ہم جمہوریت چاہتے ہیں ،ہم جتنا پرفارم کریں گے اتنی سپیس واپس لیں گے،نوازشریف ووٹ کو عزت دلائیں، ووٹ کی بےعزتی نہ کریں، ملک کا سب سے بڑا کینسر قرضہ ہے،پیپلز پارٹی نے کل بتا دیا ہے کہ الیکشن کیسے لڑے اور جیتے جاتے ہیں،ہر سیاسی جماعت کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ الیکشن جیتے،تصادم کی بجائے سب کو مفاہمت کی طرف جانا ہوگا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ تین نسلوں سے ہم جدوجہد کر رہے ہیں، پاکستان میں ایسی حکومتیں بنیں جو بالکل ہی سیلکٹڈ تھیں وہ بھی ناکام رہیں، اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی ہو یا دنیا کی ایک حقیقت ہے،میں چاہتا ہوں ساری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر فیصلے ہونے چاہئے اور پھر عملدرآمد ہونا چاہئے، یہ نہیں ہونا چاہئے کہ 2018 میں عمران خان کو مسیحا بنایا جائے اور 2023 آئے تو پھر کہا جائے کہ یہ تو فرشتہ ہے اسکا ساتھ دینا ہے، باقی سب گندے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب انسان ہیں، میں چاہتا ہوں کہ 24 گھنٹے عوام کی خدمت کریں، مہنگائی، بے روزگاری، غربت تاریخی سطح پر پہنچ چکی، ہم ایسے معاشی بحران میں پہلے نہیں گزرے جو ابھی ہے، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے، ن لیگ کی حکومت بنی تو وہ انتقام کی سیاست کر کے ملک کو نقصان پہنچائے گی، عمران خان نفرت کی سیاست کر کے ملک کو نقصان پہنچائیں گے ،پرانی سیاست ترک کر کے نیا طرز سیاست شروع کیا جائے.اٹھارہویں ترمیم کا فائدہ پاکستان کی عوام ہوا ہے، وسائل پر ڈاکہ نہیں مارنے دیں گے،میں اٹھارہ ماہ اسلام آباد میں گزار کر حکومت کے اندر رہ کر آیا، اسلام آباد والوں کو یہاں کے مسائل کا علم نہیں، ہمیں ایسی حکومت بنانی پڑے گی جو اٹھارہویں ترمیم پر نہ صرف عمل کرے بلکہ پورا کرے.سترہ وزارتیں اسلام آباد میں کام کر رہی جو نہیں ہونی چاہئے، یہ کام صوبوں کو کرنا چاہئے.

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اگر میڈیا پر مسائل اجاگر نہیں کریں گے تو مسائل بڑھتےرہیں گے،اس سے پاکستان کا نقصان ہو گا،نو مئی میں نے اور میاں صاحب نےنہیں کیا، جنہوں نے کیا ان سے پوچھا جائے، میں نے اسمبلی میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو عمران خان نے بند گلی میں دھکیل دیا،یہ ایسا واقعہ ہے جس کا کوئی سیاسی کارکن سوچ نہیں سکتا،ہم پاکستان میں جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، سیاستدانوں کو سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کرنی چاہئے، نو مئی کو جو ہوا، اس کے ھوالہ سے قانون پر عملدرآمد ہونا چاہئے، ہمار ا کوشش یہ ہونا چاہئے کہ پارلیمان اپنی مدت پوری کرے تا کہ جمہوریت کا تسلسل قائم رہے، پارلیمانی سسٹم میں ایک گنجائش ہوتی ہے کہ پارلیمان کے اراکین کو ساتھ رکھنا ہوتا ہے،عمران خان کس منہ سے کسی اور پر الزام لگا سکتے ہیں وہ اپنے بل بوتے پر سیاست کرنے کو تیار نہیں تھے اب کل رو بھی نہیں سکتے کہ مجھے کیوں نکالا، یہ میاں صاحب کے لئے بھی ہے،بینظیر انکم سپورٹ کے ساتھ ہم نے وسیلہ روزگار پروگرام بھی متعارف کروایا، تعلیمی ادارے خواہ وہ کسی بھی صوبے میں ہوں ، ہر صوبے میں پیپلز پارٹی کے دور میں یہ ادارے بنے،ہمارا یوتھ کارڈ کا منصوبہ ہے،ہم چاہتے ہیں کہ ان نوجوانوں کو ٹارگٹ کریں جو تعلیم حاصل کرتے مگر روزگار میں مشکل ہوتی ہے، ہم ان کو تھوڑی دیرکے لئے مالی مدد دینا چاہتے ہیں تا کہ وہ ایکسپئرنس بھی حاصل کر لیں، یوتھ سنٹر ہر ضلع میں بنائیں گے جہاں ڈیجیٹل لائبریری ہو گی، سپورٹس سنٹر بنائیں گے،

    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی میں اقلیتی ونگ کے صوبائی نائب صدر چوہدری جاوید ولسن اور اسپورٹس ونگ کے نائب صدر محمد قاسم یوسفزئی پی پی پی میں شامل ہوگئے

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • ن لیگ پارلیمانی بورڈ اجلاس،بیگم نجمہ حمید،بیگم کلثوم نواز،مشاہداللہ خا ن کو خراج عقیدت پیش

    ن لیگ پارلیمانی بورڈ اجلاس،بیگم نجمہ حمید،بیگم کلثوم نواز،مشاہداللہ خا ن کو خراج عقیدت پیش

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس شروع ہو گیا

    پارٹی قائد محمد نواز شریف اور صدر شہباز شریف اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں،اجلاس کے آغاز میں سینئیر پارلیمینٹیرین بیگم نجمہ حمید اور مشاہداللہ خان کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ،بیگم نجمہ حمید کی آج پہلی برسی پر اجلاس نے ان کی ملک و قوم اور پارٹی کے لئے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا ،اجلاس میں کہا گیا کہ بیگم نجمہ حمید مسلم لیگ (ن) کی پہچان تھیں، بیگم کلثوم نواز کو بھی اجلاس میں خراج عقیدت پیش کیا گی اور کہا گیا کہ بیگم کلثوم نواز کی جدوجہد کے دوران ان کا کردار ناقابل فراموش ہے،مشاہداللہ خان پارٹی کا قیمتی اثاثہ تھے، مشاہداللہ خان کی کمی ہمیں ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی،مشاہداللہ خان نے سخت ترین حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا، وہ نہایت وفادار، پارٹی کے نظریہ پر کاربند اور مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرنے والی نیک دل اور نیک نیت راہنما تھے

    اجلاس پارٹی کے لاہور میں مرکزی سیکریٹریٹ میں جاری ہے،پارلیمانی بورڈ کا یہ پہلا اجلاس ہے پارلیمانی بورڈ میں سینئیر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز ، الیکشن سیل کے سربراہ سینیٹر اسحاق ڈار، پارٹی سیکریٹری جنرل احسن اقبال اور پارٹی کے مرکزی و صوبائی عہدیدار شامل ہیں ،اجلاس میں متعلقہ ڈویژن کے کوآرڈینیٹرز بھی شرکت کررہے ہیں

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور شہباز شریف پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچے،د نواز شریف نے شہباز شریف کے ہمراہ پارلیمانی بورڈ کے تمام ارکان سے ملے،ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا آج پہلا اجلاس سرگودھا کے ٹکٹوں کا فیصلہ کرے گا راولپنڈی3،ہزارہ،مالاکنڈ 6، بلوچستان 7، بہاولپور، ڈی جی خان 8، ملتان 9، ساہیوال ڈویژن کا فیصلہ 11 دسمبر کو ہو گا.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات