Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • کراچی کو امن ہم نے دیا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا،نواز شریف

    کراچی کو امن ہم نے دیا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا،نواز شریف

    قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچا بھی نہ تھا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا جائے گا۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ 1999 میں صبح وزیراعظم تھا اور رات کو ہائی جیکر بن گیا، 2017 میں بھی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی وجہ سے مجھے فارغ کردیا گیا،ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا گیا، 2017 میں پٹرول سستا تھا، روپیہ بھی مضبوط تھا، 2017 میں ملک میں سی پیک آرہا تھا، دفاع بھی مضبوط تھا، دنیا کہہ رہی تھی پاکستان چند برسوں بعد جی 20 میں آجائے گا،2017 میں آٹا، چینی، دالیں اور گوشت مہنگا نہیں تھا، ملک ترقی میں آگے دوڑ رہا تھا، خطے کے دیگر ممالک ہم سے پیچھے تھے،ہر سال کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے باہر نکل رہے تھے،آج ملک میں سب کچھ ریورس ہوگیا ہے، وہ مومینٹم چلتا رہتا تو آج پاکستان بہت آگے ہوتا، سلیکٹڈ بندے کو لانے کیلئے وزیراعظم کو فارغ کر دیا گیا،ہم وہ کام کرسکتے ہیں جو عام قومیں نہیں کرسکتیں، ہمارا شمار پہلے 10 آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے، ہمارے پاس مین پاور ہے، پاکستان 25 کروڑ آبادی والا ملک ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا، پشاور سے سکھر تک ہم نے موٹرویز بنائیں، غیر ملکی قرضے واپس کردیے تھے، ہم نے ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، ڈیمز بنائے، لواری ٹنل ہم نے بنایا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا،کراچی میں ترقیاتی کام کیوں نہیں ہوئے ؟ کراچی کو امن ہم نے دیا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا، کام ہم کریں ووٹ کسی اور کو پڑ جائے، کراچی اور چترال والے سوچیں ایسا کیوں کہ ووٹ کسی اور کو دیا؟ نا انصافیاں ہوتی ہیں ہم خاموشی کے ساتھ برداشت کرجاتے ہیں،ہمیں نظر کھا گئی، شاید ہم اپنے ساتھ اتنے مخلص نہیں جتنا ہونا چاہیے تھا، 2018 میں آرٹی ایس بٹھا کر جو حکومت دلائی گئی وہ ایک موٹروے بھی نہیں لاسکی، ہماری حکومت نہ توڑی جاتی تو سکھر سے حیدر آباد موٹروے تیار ہوچکی ہوتی،

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا بارھواں اجلاس ہوا، نواز شریف اور پارٹی صدر محمد شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کی،پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف ارگنائزر مریم نواز شریف، الیکشن سیل کے سربراہ اسحاق ڈار، سیکرٹری جنرل احسن اقبال اور پارٹی کے پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ بھی اجلاس میں شریک تھے،بورڈ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے علاوہ ڈویژنل کوآرڈینیٹرز بھی شریک ہیں ،مسلم لیگ (ن) کا پارلیمانی بورڈ آج صوبہ سندھ اور کراچی سے موزوں امیدواروں کا انتخاب کر رہا ہے ،صوبہ سندھ اور کراچی سے 135 سے زائد درخواستوں پر آج غور ہو گا ،پارلیمانی بورڈ 2 دسمبر سے اب تک سرگودھا ڈویژن، ڈسٹرکٹ راولپنڈی، ہزارہ، مالاکنڈ ڈویژن، صوبہ بلوچستان، ڈیرہ غازی خان، راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، ملتان، گوجرانولہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال اور بہاولپور سے پارٹی امیدواروں کے ناموں پر غور کرچکا ہے

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • جب بغاوت ناکام ہو جائے تو لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ کیا جاتا ہے،جاوید لطیف

    جب بغاوت ناکام ہو جائے تو لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ کیا جاتا ہے،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ آج کل لیول پلئنگ فیلڈ کی بہت بات ہو رہی،جب کوئی بغاوت کرے اور حملہ آور ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ جب بغاوت ناکام ہو جائے تو لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ کیا جاتا ہے، یہ سلسلہ ظہیر الاسلام سے شروع ہوا اور چلتے چلتے فیض عام ہوا،پھر فیض اور جنرل باجوہ نے منصوبہ بندی کی وہ ثاقب نثار تک گئی، 16 ماہ کی حکومت کا بڑا ذکر کیا جاتا ہے کہ ریلیف نا ملا، 16 ماہ کی قومی حکومت ناکام ہوئی اور 2017 کا پاکستان نا بنا سکی، اگر وہ پلان کامیاب ہو جاتا تو اس کا سب پاکستان عوام نے بھگتنا تھا، آج بغاوت کرنے والے کھلے عام پھر رہے ہیں، جو پکڑا ہوا ہے وہ جیل کے اندر ایسے زندگی گزار رہا جیسے کلبھوشن ہو، آپ سرحد پار سے آکر یہی کام کریں تو دہشتگرد اگر ملک کے اندر سے کریں تو سیاسی معاملہ, یہ نہیں ہو سکتا، سب جماعتیں نواز شریف کی قیادت میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں، سب علاقائی جماعتیں نواز شریف کا ماضی جانتے ہیں،آج بھی جنرل فیض اور باقی لوگ سمجھتے ہیں کہ فیض آباد دھرنا سنا جا سکتا ہے،ہم انتقام پر یقین نہیں رکھتے لیکن پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو کٹہرے میں لانا چاہیے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • ن لیگ میں منافقانہ سوچ،کمزور ٹیم،آزاد الیکشن لڑوں گا،سردار مہتاب خان

    ن لیگ میں منافقانہ سوچ،کمزور ٹیم،آزاد الیکشن لڑوں گا،سردار مہتاب خان

    مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا میں اختلافات سامنے آ گئے

    سابق گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب نے آزاد حیثیت میں انتخابات کا لڑنے کا فیصلہ کر لیا،سردار مہتاب خان نے مسلم لیگ ن سے راہیں جدا کرلیں،سردار مہتاب نےاین اے 16 خیبرپختونخوا سے آزاد حیثیت میں انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے،سردار مہتاب نے پارٹی کی صوبائی قیادت پر تحفظات کا اظہارکیا اور کہا کہ صوبہ میں ن کی قیادت اپنی زات کا سوچتی ہے، میاں نوازشریف سے اصولی اختلاف ہیں، مریم نواز سے اختلاف نہیں، مگر سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہونی چاہئے ۔مسلم لیگ ن میں منافقانہ سوچ اور رویہ اہم ہو گیا ہے،نوازشریف کے پاس کمزور ٹیم ،معاشی بحران کا حل مشکل ، ن لیگ آج پنجاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ،

    مہتاب خان کا کہنا تھا کہ جب تک جماعت نواز شریف کے پاس تھی مضبوط تھی۔میاں نوازشریف سے اصولی اختلاف ہیں موجود حلقہ بندیاں بھی میرے خلاف سازش ہیں، مسلم لیگ ن میں بھی ایسے لوگ شامل ہوگئے ہیں جو منافقانہ رویہ رکھتے ہیں، مسلم لیگ ن کا خیبر پختونخوا میں ڈھانچہ ختم ہوچکا ہے، سیاسی جماعتوں کا منشور مارکیٹنگ سے زیادہ کچھ نہیں ،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • سبز باغ نہیں دکھاتا،جو کہتا ہوں کر کے دکھاتا ہوں،آٹھ فروری کو اپنا مقدر بدلیں،نواز شریف

    سبز باغ نہیں دکھاتا،جو کہتا ہوں کر کے دکھاتا ہوں،آٹھ فروری کو اپنا مقدر بدلیں،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھ پر جھوٹے اور بےبنیاد مقدمات بنائے گئے ، عوام کا شکر گزار ہوں وہ میرے ساتھ کھڑے رہے،

    ویڈیو پیغام میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں سرخرو کیا،میری جماعت کا ہر ورکر مبارکباد کا مستحق ہے،اس شرمناک کھیل کے سارے چہرے بےنقاب ہو چکے ہیں،عوام کی دعاؤں نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا ،میں 6 سال یہ بات سوچتا رہا کہ مجھ سے دشمنی کرنے والوں نے میری قوم کو کیوں نشانہ بنایا۔ میرے ملک پاکستان کی عوام کا کیا قصور تھا۔کیوں اس پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا اس سازش کا آغاز اگست 2014 کے دھرنوں سے ہوا جس کا پہلا مرحلہ جولائی 2017کو ختم ہوا جب بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نہ صرف وزارت عظمی سے بے دخل کیا گیا بلکہ تاعمر نااہل بھی کردیا گیا.مطلوبہ فیصلے لینے کیلئے ججوں کے گھروں میں جا کر دھمکیاں دی گئیں،انکوائری کے لیے ہیرے چنے گئے۔ واٹس ایپ پر پیغامات دئیے گئے ۔ نیب کو 3 ریفرنس دائر کرنے کا کہا گیا۔ مجھے گاڈ فادر اور سسیلین مافیا جیسی گالیاں دی گئیں۔ اس شرمناک کھیل کے سارے کردار بے نقاب ہو چکے ہیں ۔ طویل عرصہ جیل میں رہا، گالیاں کھائیں، کردار کشی ہوئی ۔ اپنے خلاف منظم سازش بیان کرنے لگوں تو وقت لگے گا۔مجھے اور میرے خاندان کو سزا اصل میں 25 کروڑ عوام کو سزا ہے۔والد کی میت کو کندھا نہ دے سکا، والدہ کا تابوت قبر میں نہ اتار سکا، شریک حیات کا آخری وقت میں ساتھ نہ دے سکا، میرے خلاف سارے مقدمے فراڈ اور جھوٹے نکلے۔مجھے پورے ملک سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں جس نے مجھے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں سرخرو فرمایا۔میں نے مصائب مشکلات اور آزمائشوں کا لمبا سلسلہ کاٹا۔ اپنی بیٹی کے ہمراہ سینکڑوں پیشیاں بھگتیں طویل عرصہ جیل میں رہا، الزامات تھوپے گئے، گالیاں کھائیں اور کردار کشی کی گئی۔ایسی ایسی گواہیاں سامنے آئیں جو ہمارے ذہن وگمان میں بھی نہیں تھی، میرے خلاف کی گئی سازش کے شرمناک کھیل کے تمام کردار سامنے آگئے ہیں جو سب اللہ کا کرم ہے کیونکہ میں نے اپنا معاملہ اپنے اللہ پر چھوڑتا ہوں،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کو کیوں بھکاری بنادیا گیا جو آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرچکا تھا ، ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا،جو روٹی میری دور میں پانچ روپے کی تھی ، کیوں اسے 25 روپے پہنچایا گیا ، میں سبز باغ نہیں دکھاتا ، جو کہتا ہوں اللہ پر پختہ ایمان کی وجہ سےکہتا ہوں، جو کہتا ہوں، اللہ کے فضل و کرم سے کر کے دکھاتا ہوں، مجھے کبھی اچھے حالا ت نہیں ملے لیکن جب بھی فارغ کیا گیا پاکستان کو بہتر حالت میں چھوڑ کر گیا، مجھے اپنے سزاؤں سے نجات کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑا، آپ کو کسی عدالت نہیں جانا، آپ خود عدالت ہیں، کسی کو درخواست نہیں دینی، آپ خود جج ہیں،مجھے معلوم ہے کہ آٹھ فروری کو اپنا فیصلہ سنائیں گے، اور اپنی بریت کا فیصلہ خود کریں گے،خود ہی اپنی سزاؤں کا خاتمہ کرنا ہے،

  • لاڈلے نے ملک کو تباہ کیا،اب نئے لاڈلے کو کوئی تسلیم نہیں کریگا،فیصل کریم کنڈی

    لاڈلے نے ملک کو تباہ کیا،اب نئے لاڈلے کو کوئی تسلیم نہیں کریگا،فیصل کریم کنڈی

    پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر آج ملک میں فری اینڈ فیئر الیکشن نہیں کرواتے، تو نوجوان لاڈلے پن کو قبول نہیں کریں گی، لاڈلے کی حکومت عوام تسلیم نہیں کرے گی، اگر عوام کہے پی پی حکومت کرے تو حکومت کرنے کو تیار، عوام کہے اپوزیشن میں بیٹھے تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے ،فیصلہ عوام کو کرنے دیں، لاڈلے کو مسلط کر کے ملک کو تباہی کی طرف نہ دھکیلیں، پہلے ایک لاڈلے پن کو دیکھ چکے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، آٹھ دس دن تاخیر سے کچھ نہیں ہوتا، امیر مقام نے آن ریکارڈ کہا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں، پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ 8 فروری کو الیکشن ہونے چاہئے، تمام پولیٹیکل پارٹیز کے تحفظات دور ہونے چاہئے، بلاول ہمارے وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے، بلاول بھٹو زرداری ملک بھر میں ورکرز کنونشن کر رہے ہیں،بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز پشاور میں ویمن ورکر کنونشن سے خطاب کیا، کوئی پارٹی اتنی بڑی ہے تو الیکشن میں تاخیر کی بات کیوں کرتی ہے۔ نیب ہمیشہ ہی سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے یہی نیب نواز شریف کے خلاف کیس بناتی رہی اور آج پھر دھڑا دھڑ بری کر رہی ہے، نواز شریف کو مبارکباد دوں یا عدلیہ کو دوں سمجھ نہیں آرہا،نیب ماضی میں غلط تھی یا آج غلط ہے عوام کو بتایا جائے، نیب کسی کی جاگیر نہیں بلکہ ایک ادارہ ہے

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بینظیر کی شہادت کے بعد بھی ہم نے الیکشن لڑا، 2013 میں بھی حالات خراب تھے، 2018 میں بھی لیکن ہم نے الیکشن لڑا، الیکشن تو جنگوں میں بھی ہوتے ہیں، سردی، گرمی، رمضان میں بھی الیکشن لڑے،حالات خراب لیکن الیکشن ملتوی نہیں ہونے چاہئے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے، الیکشن ملتوی ہونے کا بہانہ نہیں دیکھنا چاہتے،لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ ہم نے کئی بار دہرایا، تحفظات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے

    دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ خالد مگسی نے کہا ہے کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے سے ایک روز قبل ہائی کورٹ کا فیصلہ حیران کن ہے، ڈی آر اوز اور آر او کا تقرری نوٹیفکیشن معطل کرنا انتخابات سبوتاژ کرنا ہے، تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی سرگرمیاں شروع کی ہیں، جو پھر معطل ہوں گی، پولنگ کے عملے کا نوٹیفکیشن معطل کرنے سے انتخابات التواء کا شکار ہو سکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،نواز شریف

    قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم، ن لیگ کے قائد نواز شریف نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی مقدمات میں بریت پر اللہ کا شکر گزار ہوں ،تینوں مقدمات میں نہ شواہد تھے نہ ثبوت تھے،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں مقدمات کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے ظاہر ہو گیا،جب کچھ نہ ملا تو پانامہ کے نام پر اقامہ نکال لائے، ایک ایسا فیصلہ سنایا گیا جو دنیا میں مذاق بن کر رہ گیا،جو دکھ ہمیں دیئے گئے ان کا مداوا ہے؟ کیا مداوا ہے؟،ایک وزیراعظم کی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر چھٹی کرا رہے ہیں،سسلین مافیا، گاڈ فادر کہتے ہیں ، کیا ججز کبھی ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ؟،کہاں کہاں سے سازشی عناصر نکل کر روز شام کو دکانداری چمکاتے تھے، جس جج نے میرے خلاف فیصلہ سنایا جسٹس اعجازالالحسن کو مانیٹرنگ جج لگا دیا گیا، جج سے کہا آپ بیٹھیں ، ساری کاروائی کو مانیٹر کریں کہ نواز شریف کو جلد ازجلد سزا ہو، یہ اس ملک کیخلاف اتنی بڑی سازش ہے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے،

    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میں نے کیا بگاڑا تھا، اس بینچ کا، جس نے سسلین مافیا بھی کہا، ان میں سے ایک جج تھا جس کا نام شیخ عظمت تھا، اسکی عزیزہ کا پروموشن کا کیس تھا جو میرٹ پر ہونا تھا ، وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو پتہ ہونا چاہئے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے، میں ملک کا وزیراعظم تھا انکی خواہش تو اس وقت سے تھی نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ڈالنے کی، ایسا ہوتا رہا تو ملک کا کیا حال ہو گا ،بہت افسوسناک بات ہے یہ، جو ملک و قوم نے قیمت ادا کی اس کا حساب ہونا چاہئے ،انتقام نہ سہی، میں ذاتی طور پر کسی کو نہ معاف کر سکتا ہو ں نہ رائے دے سکتا ہوں لیکن جنہوں نے قوم کے خلاف اس طرح کے کام کئے انکو نہیں بھول سکتا جوذمہ دار ہے اسکا حساب لیا جانا چاہئے ورنہ یہ کھیل تماشا جاری رہے گا،میں یہ سمجھتا ہوں کہ 25 کروڑ عوام کیخلاف یہ سازش ہوئی ، عوام کو نوٹس لینا چاہیئے،میں کسی انتقامی جذبے سے بات نہیں کر رہا لیکن یہ بہت سیریس معاملہ ہے،ہم نے 4 سال ڈالر کو باندھ کے رکھا تھا، آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا،قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، آٹھ فروری کو سب سے بڑی جے آئی ٹی اور عدالت بنے گی اور تاریخی فیصلہ دے دی، باتوں کو غور سے صرف سننا نہیں چاہئے بلکہ پلے باندھنا چاہئے،ہم نے ملک کو ایسے ہاتھوں میں نہیں چھوڑنا جو کھیل کھیلیں ،کبھی بھی نہیں ورنہ کھلنڈرے آتے رہیں گے اور پاکستا ن کو تباہی کی جانب دھکیلتے رہیں گے، مجھے اللہ نے جھوٹے مقدموں سے بری کیا،کل عدالت کی اگر کاروائی سنی ہو تو صاف صاف کہہ دیا کہ یہاں تو کوئی ثبوت ہی نہیں، کوئی کاغذات ہی نہیں،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • انتخابات میں کوئی بندیال ، فیض, کھوسہ نہیں صرف پاکستان کے عوام ہوںگے،جاوید لطیف

    انتخابات میں کوئی بندیال ، فیض, کھوسہ نہیں صرف پاکستان کے عوام ہوںگے،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ کل سے پاکستان بھر میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں،دو سال قید کاٹنے کے بعد انصاف کا چہرہ دیکھنے کو ملا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ سات سال پہلے منصوبہ بندی کرنے والے فیصلہ لینے اور دینے والے آج آرام سے زندگی گزار رہے ہیں، 74 سالہ رنگیلا بابا شادیوں کا شوقین جیل میں بیٹھ کر لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کر رہا، دباؤ میں غلط فیصلے دیتے ہیں, پھر ملک کس طرح ترقی کر سکتا، آج نواز شریف کو سات سال بعد صرف بری کیا جائے تو وہ کافی نہیں، ذوالفقار علی بھٹو ووٹ کی عزت کے لیے پھانسی چڑھ گئے، سی پیک اور پاکستان میں خوشحالی دینے کی وجہ سے نواز شریف تاحیات نااہل ہو گئے، بیٹے سے تنخواہ نا لینے پر نااہل کر دیا گیا، عوام کو بتایا جائے کہ وہ کردار کون تھے،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں میں ن لیگ مقامی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لے گی، ہماری ترجیحات 25 کروڑ عوام کی ترجیحات ہیں، فیض آباد دھرنے کی ججمنٹ سب کے سامنے ہے،9 مئی کے واقع کو ہی دیکھ لیں ، عمران خان کو جو سہولیات جیل میں میسر ہیں کیا وہ کسی اور قیدی کو میسر ہیں ،یہ ناانصافی ہے، جیل کے دیگر قیدیوں کو بھی ملنی چاہیں، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے چوہدری شجاعت سے دو تین سیٹ کی ہو سکتی ہیں، دیگر جماعتوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا، آدھی صدی گزرنے کے بعد آج ذولفقار علی بھٹو کا کیس سنا جا رہے ، تو قوم کو حق ہے کہ وہ پوچھیں کہ ہمیں کیوں دو وقت کی روٹی میسر نہیں ، نواز شریف سڑکوں پر آکر سوال کرتا تھا کہ مجھے کیوں نکالا،ایک نوجوان لیڈر سولہ ماہ کی حکومت میں شامل تھے ان سولہ ماہ میں ان کو علم تھا کہ ان کو کیوں نکالا ،بینظیر بھٹو شہید کو معلوم تھا کہ کیوں اور کیسے نکالا جاتا ہے،ان کو علم رہنا چاہیے کہ ووٹ کا تقدس ہونا چاہیے ، ذوالفقار علی بھٹو کو ووٹ کے تقدس کی وجہ سے پھانسی چڑھے، کیا وجہ تھی کہ پاکستان کے اندر سے منصوبہ بندی تھی یا پاکستان کو خوشحال نہ دیکھنے والی بیرون ملک کی قوتیں تھیں،2024 کے انتخابات میں کوئی بندیال ، فیض, کھوسہ نہیں ہو گا صرف پاکستان کے عوام ہوں گے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    نواز شریف کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا،عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی،احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردیا

    نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں اپیل پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز جبکہ نیب کی لیگل ٹیم روسٹرم پر موجود تھی،نیب کی جانب سے لیگل ٹیم میں نعیم طارق سنگیڑا، محمد رافع مقصود اور اظہر مقبول شاہ عدالت پیش ہوئے،نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز روسڑم پر آگئے ، اور کہا کہ زیر کفالت کے ایک نکتے پر صرف بات کرنا چاہتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہوگئے ہیں،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں صرف ایک نکتے زیر کفالت کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیاء نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟ امجد پرویز نے کہا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں،ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے، امجد پرویز ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مختلف حصے پڑھ رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر کہا گیا کہ ان شواہد کی بنیاد پرثبوت نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ میں حسیں نواز کی دائر کردہ متفرق درخواستوں پر انحصار کیا گیا ہے،اگر ان متفرق درخواستوں کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف اسٹیل مل کے کبھی مالک رہے ہوں ، جن متفرق درخواستوں پر ٹرائل کورٹ نے انحصار کیا ہے،ٹرائل کورٹ نے ان متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا ،ٹرائل کورٹ نے تین چیزوں پر انحصار کیا،ٹرائل کورٹ نے پانامہ کیس میں دائر سی ایم اے کو بنیاد بنایا،تینوں سی ایم اے حسن نواز، مریم نواز اور حسین نواز نے جمع کرائیں،نواز شریف کی جانب سے ایک بھی سی ایم اے جمع نہیں کرائی گئی،ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ یہ جمع کرائی گئی سی ایم ایز مجرمانہ مواد ہیں، ایک بھی سی ایم اے ثابت نہیں کرتی کہ نواز شریف ان اثاثوں کے مالک ہیں، استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہوئے تو شریک ملزم کے بیان پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ، حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جائیداد کا والد سے تعلق نہیں ، حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا ہے، نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر پر بھی انحصار کیا گیا، امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ جو سی ایم ایز دائر کی گئی تھیں ان میں کیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سی ایم ایز کو ریکارڈ پررکھا ہی نہیں گیا، سی ایم ایز کے ساتھ منسلک دستاویزکو ریکارڈ پر رکھا گیا،ان سی ایم ایز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کی ملکیت تھی،بلکہ یہ لکھا تھا کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،یہ ایک اصول ہے کہ کسی ایک مقدمے کے ثبوت کو کسی دوسرے مقدمے میں نہیں پڑھا جا سکتا،خصوصی طور پر جب دونوں مقدمات کی نوعیت الگ الگ ہو،حسین نواز کے کیپیٹل ٹاک کے انٹرویو پر بھی انحصار کیا گیا،حالانکہ اس انٹرویو میں بھی حسین نواز کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے اور استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،ملزم کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا،یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے،فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے، نہ کہ ملزم پر، پراسیکیوشن نے آمدن اور اثاثوں کی قیمت بتانا تھی،پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ جن کے نام اثاثے ہیں وہ تو زیر کفالت ہیں، پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ بے نامی جائیداد بنائی گئی،اگر اس متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تو یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بنتا،

    وکیل امجد پرویز نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس سے بری کرنے کی استدعا کر دی ،وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ، نیب کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا گیا،نیب پراسیکوٹر نعیم طارق سنگیڑا نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کے فیصلے میں ریفرنس تیار کرکے دائر کرنے کی ہدایت کی، نیب نے اپنی تفتیش کی،اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے دو تین طریقے ہی ہوتے ہیں،ہم نے جو شواہد اکٹھے کئے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں،،نیب ریفرنسز میں تفتیش کے لیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب نے بے نامی اثاثوں کی تفتیش کی،اس کیس میں فرد جرم احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے عائد کی تھی،اس میں 161 کے بیانات بھی ہیں،نیب وکیل کی جانب سے ریفرنس کی چارج شیٹ پڑھی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی ؟، یہ بتائیں کہ العزیزیہ سٹیل ملز اور ہل میٹل کب بنی تھیں؟ آپ پراسیکیوٹر تھے، بتائیں آپ کے پاس کیا شواہد تھے؟ آپ بتائیں کہ آپ نے کس بنیاد پر بار ثبوت ملزم پر منتقل کیا؟قانون کو چھوڑیں، قانون ہم نے پڑھے ہوئے ہیں، آپ سیدھا مدعے پر آئیں، کوئی ریکارڈ پر ثبوت ہوگا؟ کوئی گواہ موجود ہوگا؟ ذرا نشاندہی کریں،

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان معلوم زرائع لکھے، نواز شریف پرکرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی،ایس ای سی پی، بنک اور ایف بی آر کے گواہ عدالت میں پیش ہوئے، یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کئے ہیں،بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے ، عدالت نےکہا کہ آپ یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ انکا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں، جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا ؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ شواہد میں جانے سے پہلے ایک کنفیوژن دور کرنا چاہوں گا،آخری سماعت پر آپ نے کہا تھا کہ فیصلہ دوبارہ تحریر کرنے کیلئے ٹرائل کورٹ ریمانڈ بیک کیا جائے،ہم نے ابھی تک کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، آپ اس اپیل پر میرٹ پر دلائل دے کر سزا برقرار رکھ سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس کو دوبارہ احتساب عدالت بھیجنے کی استدعا کی تھی، جج سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے اور اُس کے نوکری سے برطرف ہونے کے بعد اِس فیصلے کو درست نہیں کہا جا سکتا،العزیزیہ ریفرنس کا احتساب عدالت کا یہ فیصلہ متعصبانہ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے ارشد ملک سے متعلق درخواست پر گزشتہ سماعت پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا،یہ تو آپ نے کہا تھا کہ آپ اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے ،نیب وکیل کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے ارشد ملک کیس کے فیصلے میں آبزرویشنز کافی مضبوط ہیں،وہ درخواست اگر نہ بھی ہوتی، تب بھی اگر وہ فیصلہ ہمارے سامنے آجاتا تو ہم اس کو ملحوظ خاطر رکھتے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نیب تو آپ پر احسان کر رہا ہے، آپ کیوں لینے سے انکاری ہیں؟،العزیزیہ کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا اور آپ کے موکل مجرم نہیں رہیں گے، نواز شریف کے وکلاء نے کہا کہ احسان بھی تو دیکھیں کیسا ہے،اگر یہ معاملہ واپس ٹرائل کورٹ ہی جانا ہے تو بعد میں بھی ہمیں یہیں آنا پڑے گا، نیب پراسیکوٹر نےایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسیکوٹر کی ایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا مسترد کر دی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے، آپ کو میرٹ پر دلائل دینے میں کتنا وقت چاہیے؟ نیب وکیل نے کہا کہ دلائل میں شواہد بتائیں گے پھر ان کا تعلق جوڑنے کی کوشش کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چلیں پھر آپ میرٹ پر دلائل دیں، ہم میرٹ پر سن لیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں اپنے دلائل آدھے پونے گھنٹے میں مکمل کر لوں گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ پونے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کریں،اپیل سننے کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ جو فیصلہ دیا گیا اس کیلئے شواہد بھی موجود تھے یا نہیں،آپ نے بتانا ہے کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز سے یہ رقم سعودی عرب بھیجی گئی ،نیب کے گواہ واجد ضیا خود مان رہے ہیں کہ کوئی ثبوت نہیں ،اس دستاویز کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف کا العزیزیہ اور ہل میٹل کے ساتھ کوئی تعلق ہے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے analysis کیا کہ نواز شریف ہی اصل مالک ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ واجد ضیا تو خود مان رہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا کیس ہی واجد ضیا کے analysis کی بنیاد پر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مفروضے پر تو کبھی بھی سزا نہیں ہوتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریکارڈ میں زیادہ تر دستاویزات فوٹو کاپیز ہیں ،عدالت نے کہا کہ فوٹو کاپیز عدالتی ریکارڈ کا حصہ کیسے بن سکتی ہیں ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں آج تک فوٹو کاپی کی بھی مصدقہ نقل نہیں ملی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ وہ مِلیں لگا لیتے، عدالت نے کہا کہ یہ بتائیں کہ نواز شریف کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہی بتا رہا ہوں کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع موجود ہی نہیں تھے،عدالت نے کہا کہ مفروضے پر تو بات نہیں ہو سکتی، یہ بتائیں کہ نواز شریف نے کیسے کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز سے پیسہ باہر بھیجا؟ سٹار گواہ واجد ضیاء کہہ چکا کہ اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بات بھی سامنے ہے کہ میاں محمد شریف کا کاروبار تھا،

    نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • پاکستان سے ہوئی زیادتی کے ازالے کیلئے اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچنا ہوگا،نواز شریف

    پاکستان سے ہوئی زیادتی کے ازالے کیلئے اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچنا ہوگا،نواز شریف

    مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ 2017 میں ہماری حکومت اچھی جارہی تھی، لوگ خوش تھے، ہمارے دورمیں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، مزدور خوش تھا , کسان خوش تھا-

    باغی ٹی وی : لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے ملتان ڈویژن سے ٹکٹ امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک بہت پیچھے چلا گیا، اللہ تعالیٰ اس ملک کی حفاظت فرمائے اور پاکستان اور اسکے لوگ خوشحال ہوں دنیا بہت آگے چلی گئی ہے۔ہمیں اس بات کا افسوس کرنا چاہیے کہ ہم کیوں دنیا کے پست ترین ممالک میں شامل ہیں، پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے، پاکستان وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جس کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔

    نواز شریف نے کہا کہ اس ملک کو دنیا میں منفرد مقام حاصل کرنا تھا، 1967 میں مجھے میرے والد نے غیر ملکی دوروں پر بھجوایا، اس زمانے میں لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ تھا، 2017 میں ہماری حکومت اچھی جارہی تھی، لوگ خوش تھے، ہمارے دورمیں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، مزدور خوش تھا , کسان خوش تھا، مہنگائی نہیں تھی , بجلی سستی تھی , لوڈشیڈنگ نہیں تھی، دہشتگردی کا خاتمہ کیا اس سے پہلے ملک ایٹمی طاقت بنا، پاکستان تیزی کیساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔

    نگران وزیراعظم نے نئے ویزا نظام کا افتتاح کر دیا

    مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی اور بے روزگای کا خاتمہ کیا تھا، سی پیک بڑی تیزی کے ساتھ چل رہا تھا اور ملک میں موٹرویز بن رہی تھی، ہمارے دور میں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، ہم نے پاکستان کو خوشحالی کی ڈگر پر ڈالا تھا، مخالفین حسد کررہے تھے کہ 2018 کے شفاف الیکشن ہوئے تو ن لیگ جیتے گی، قوم جاننا چاہتی ہے ترقی کا سفر رکا کیوں۔

    گیس مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ قوم اس وقت پریشانی کے عالم میں ہے اس کو اگر آپ نے پریشانی کے عالم سے نکالنا ہے تو یہی سوچیں کہ ہمیں جو ٹکٹ ملا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سےہم نے اس کو عبادت سمجھ کے اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنی ہے،اللہ تعالیٰ آپ کو , ہمیں کامیابی عطا فرمائے جنہوں نے رابطہ توڑوایا ان کا بھی شکریہ کہ انہوں نے نہ جانے ایسا کام کیوں کیا؟ ہم نے اپنے ملک کے ساتھ خود بڑی زیادتی کی ہے، شاید اس غلطی کے ازالے کا وقت آرہا ہے، ملک کو اسی جگہ پر لے جانا چاہیئے جس کا وہ مستحق ہے۔

    گوادر میں پیٹرول ڈپو میں آتشزدگی،2 افراد جاں بحق 3 زخمی

    انہوں نے کہا کہ پارٹی کوشش کرے گی کہ میرٹ پر تمام فیصلے ہوں، ازالہ چاہتے ہیں تو اپنی ذات سے باہر نکلنا ہوگا، ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیئے، ملک نے بہت برداشت کیا ہے، قوم پریشانی کے عالم میں ہے، پریشانی کی حالت سے باہر نکالنا ہے اور عبادت سمجھ کر قوم کی خدمت کرنی ہے، خوشحال پاکستان بہت ہی ضروری ہے، ترقی و خوشحالی کی طرف چلتا معاشرہ ہو تو سب خوش ہوتے ہیں، ترقی کرتا معاشرہ اور خوشحال پاکستان بہت ضروری ہے، پاکستان سے ہوئی زیادتی کے ازالے کے لیے اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچنا ہوگا، ذاتی ترقی کے لیے نہیں عوامی فلاح کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔

    گیس مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

  • انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    الیکشن سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم سیاسی نام نہاد رہنماؤں جو ہر ضلع اور ڈویژن کی سطح پر پائے جاتے ہیں اپنی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو گمراہ کر کے اپنی دولت میں تو اضافہ کرتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں اور اپنی قیادت کی بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں سودے بازی میں ملوث ہوتے ہیں یہ وہ نام نہاد رہنما ہیں جو حقیقی اور مخلص کارکنان اور نظریاتی شخصیات کے حقوق پر ڈاکے کے مترادف ہے یہ لوگ سیاسی جماعتوں کی ارتقائی پرورش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ راولپنڈی ضلع اور ڈویژن میں جاری یہ روش مسلم لیگ (ن) کے کئی نام نہاد رہنما اس میں ملوث ہیں۔ میاں محمد نوازشریف جلاوطنی کی ایک طویل رات گزارنے کے بعد ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات کی آمد پر مسلم لیگ (ن) کو مکمل بیداری کے ساتھ ایسے نام نہاد سیاسی رہنمائوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرنا ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں وفادار، اچھی شہرت، رکھنے والی شخصیات کو الیکشن ٹکٹ دینے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کو یہ پرکھ کرنی ہوگی کہ کون لوگ لینڈ مافیا، کرپٹ پولیس افسران اور جرائم پیشہ حلقوں کے ہم نوالہ رہے ہیں اور کون اپنی جان کی بازی لگا کر پارٹی قیادت کے ساتھ مشکل کھڑے رہے پارٹی قیادت کو دیکھنا ہوگا اپنے نیچے امیدواروں کو اس گارنٹی پر ٹکٹ دلوانے پر کوشاں ہیں کہ ان کے الیکشن کے اخراجات بھی ان کے مرہون منت امیدواران برداشت کریں گے ان لٹیروں کی تلاش اور کرپٹ سہاروں کے بل بوتے پر انتخابی دنگل میں اترنے والے پہلوان حقیقی مخلص کارکنوں کو دوسرے پارٹی عہدیداروں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ کئی رہنمائوں نے جیلیں کاٹی مقدمات کا سامنا کیا لیکن ان سزائوں اور مقدمات میں مسلم لیگ (ن) کو یہ جانچنا ہوگا کون اپنے کردہ جرائم کی وجہ سے جیلوں میں گیا اور کون ناکردہ گناہوں کی سزا محض میاں نوازشریف اور پارٹی قیادت سے وفاداری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سیاسی سفر حیات کے نشیب و فراز سے میاں محمد نوازشریف، مریم نواز اور دیگر پارٹی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے۔ شباب کی چوکھٹ پر قیام پذیر افراد کو کیا معلوم جو اپنی معیشت مستحکم کرنے میں مصروف ہیں وہ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں کیا کردار ادا کریں گے؟