Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • چور چور  کہنے والے خود چور نکلے،190 ملین پاؤنڈز  کیس تاریخ کا سب سے بڑاڈاکہ،نواز شریف

    چور چور کہنے والے خود چور نکلے،190 ملین پاؤنڈز کیس تاریخ کا سب سے بڑاڈاکہ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ نے سیاست کے میدان میں آنا ہے تو پورا پروگرام لیکر جوش و جذبہ لیکر آنا ہے کہ میں نے حلقے کے عوام کی تقدیر بدلنی ہے۔اسکے بعد ضلع صوبہ اور پھر پورے ملک تک معاملہ جاتا ہے۔ جب یہ نیت لیکر آئینگے تو ان شا اللہ پورے ملک کی تقدیر بدلے گی،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ چور چور چور کہنے والے خود چور نکلے ریاست مدینہ کی کہانیاں سنانے والے کے قصے آپ سن رہے ہیں قوم کو بتایا جائے ملک پر کس نے ڈاکہ ڈالا۔ 190 ملین پاؤنڈز والا کیس تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے،اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بند لفافہ لہرا کر دستخط لے لیے گئے۔ کرپشن خود کرتے ہو ڈاکہ خود مارتے ہو اور الزام ہمارے اوپر لگاتے کر سزائیں دلواتے ہو کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی،190 ملین پاؤنڈ سکینڈل پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان سے منظوری لی گئی، اس طرح ڈاکہ ڈال کر بجلی مہنگی کر دی گئی اس طرح کے ڈاکے نہ ڈالے جاتے تو 200 یونٹ والے بجلی مفت لے رہے ہوتے،ہم ملک کیلئے کچھ کرنے کی نیت سے آئے ہیں،زندگی میں تکلیفات آتی ہیں لیکن کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے۔ لیکن اسکے باوجود ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ہماری اب بھی خواہش ہے کہ پاکستان کو مصیبتوں اور اس گرداب سے نکلا کر ترقی کی راہ پر ڈالا جائے، جنرل فیض نے جسٹس شوکت صدیقی سے کہا کہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی،مجھے سات سال بعد انصاف مل رہا ہے۔ملک میں ایک کھلنڈرے کو لایا گیا جس نے برا حال کردیا،آپ نے ظلم ڈھایا لیکن ازالہ کرتے کرتے کتنے سال لگ گئے،عدالت کا سرٹیفکیٹ لگا کہ یہ سارے مقدمے بوگس تھے، ہم پر بوگس مقدمے بنا کر جیلوں میں ڈالا گیا، سزائیں دی گئیں، جنہوں نے مقدمے بنائے اُن کا احتساب کون کرے گا؟ زبانی کلامی ریاست مدینہ کی بات کرتے تھے، اخلاقیات کا کچھ پتا نہیں تھا،

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا،یہ پارلیمانی بورڈ کا پانچواں اجلاس تھا،اجلاس پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف کی زیرصدارت ہو ا،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    2024ء کی آمد آمد ہے الیکشن کمیشن نے قومی انتخابات کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ نوازشریف نے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ لندن سے واپسی پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت کان لیگ میں شامل ہونا نوازشریف کی ووٹروں پر مسلسل گرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گرفت کا سہرا ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی سیاست اور مقبولیت کو کم نہیں ہونے دیا پابندیوں کے باوجود وہ اپنے والد کا مقدمہ گلی کوچوں بازاروں میں پہنچاتی رہی۔

    بلاشبہ نواز شریف کے دور حکومتوں میں پاکستان نے حقیقی ترقی کی تھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ موٹرویز، ایرپورٹ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوطی میں بھی نوازشریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    بلاشبہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا دبائو رہتا ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ملکی سلامتی کے ذمہ دار پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو لے کر چاک و چوبند ہیں۔ چین اور امریکہ کے اپنے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے ذمہ داران ریاست کے بھی اس ملک کی سلامتی اور بقا کے مفادات ہیں اس سلسلے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کی قربانیوں کو فراموش میں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاک فوج ملک کو 1971ء کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کی علیحدگی ہوئی۔ افسوس صد افسوس ملک میں رہنے والے بعض دانشور، سیاسی تجزیہ نگار، سوشل میڈیا پر عمران خان کی محبت میں ملکی سلامتی اور بقا کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں مگر وہ ہوش نہیں جوش سے کام لینے والے لیڈر ہیں۔ سیاست میں بردباری اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ  کا نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    العزیزیہ ریفرنس میں سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز روسٹرم پر موجودتھے، نیب کی جانب سے وکلاء کی ٹیم روسٹرم پر موجودتھی، نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 24 دسمبر 2018 کے فیصلے کیخلاف یہ اپیل ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ پانامہ کیس سے متعلق ہے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی یہ پانامہ سے متعلق ہے، پانامہ کسز میں تین ریفرنسز دائر کیے گئے تھے،فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کیا تھا،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی اپیل گزشتہ سماعت پر نیب واپس لے چکا، نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات پر ریفرنسز دائر کیے جن میں ایک جیسا الزام تھا،فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کر دیا تھا،ایک ہی الزام پر الگ الگ ریفرنس دائر کیے گئے،ہم نے درخواست دی تھی کہ ایک الزام پر صرف ایک ہی ریفرنس دائر ہونا چاہئے تھا،احتساب عدالت نے ٹرائل الگ الگ کیا لیکن فیصلہ ایک ساتھ سنانے کا کہا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا ایک ساتھ ہی فیصلہ سنانے کا حکم برقرار رکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا ایک ساتھ تینوں کیسز کے فیصلے سے آسمان نہیں گر جائے گا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف پر کیا الزام عائد کیا گیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پر اس کیس میں بھی آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نواز شریف کے وکیل سے استفسارکیا کہ العزیزیہ سٹیل مل کہاں پر رجسٹرڈ ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ العزیزیہ سٹیل مل 2001 میں سعودی عرب میں رجسٹر کرائی گئی اور نواز شریف اُس دور میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے اور پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے، میاں نواز شریف کا ہمیشہ موقف رہا کہ اُنکا العزیزیہ سٹیل مل سے کبھی بھی کسی قسم کا تعلق نہیں رہا بلکہ سٹیل مِل اُنکے والد میاں محمد شریف کی ملکیت تھی،میاں محمد شریف اپنی زندگی میں بچوں کو جیب خرچ بھی خود ہی دیتے تھے،

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ گواہوں کے بیانات سے متعلق چارٹ عدالت میں پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ،بائیس میں سے 13 گواہوں نے صرف ریکارڈ پیش کیا،5 سیزر میمو اور دو طلبہ کے نوٹس پہنچانے والے گواہ ہے ،کوئی وقوعہ کا عینی شاہد گواہ نہیں ہے ، محبوب عالم اور واجد ضیا ہی دو مرکزی گواہ تھے ،

    نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو کا معاملہ عدالت کے سامنے اٹھا دیا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے وکلاء میرٹ پر دلائل دے رہے ہیں لیکن اُس سے پہلے اِنکی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج سے متعلق ایک درخواست بھی موجود ہے اسکو پہلے دیکھ لیں،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی، جج کی وڈیو کے حوالے سے درخواستیں ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس حوالے سے مریم نواز نے بھی پریس کانفرنس کی تھی، معاملہ سپریم کورٹ گیا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی اس پر فیصلہ دے سکتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مناسب ہوگا میرٹ پر دلائل دینے سے پہلے ویڈیو والی درخواست پر فیصلہ کیا جائے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہم جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق درخواست کو اب پریس نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ جج صاحب اب وفات پا چکے ہیں اس معاملے پر مزید بات کرنا مناسب نہیں رہا، نواز شریف کے وکلاء نے مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق اپنی درخواست کی پیروی سے معذرت کر لی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل سے استفسارکیا کہ جج ارشد ملک کو برطرف کرنے کا نوٹیفیکیشن واضح نہیں ہے بتائیں اگر آپ درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو اس عدالت میں سکرین لگا کر ویڈیو کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ یہ ریمانڈ بیک کرنے کا فِٹ کیس کیسے نہیں ہو گا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں اپنے کلائنٹ سے ہدایات لینے کے بعد عدالت میں بیان دے رہا ہوں کہ ہم اپنی اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے، وکیل نواز شریف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالت نے یقینی بنانا ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ارشد ملک کو لاہور ہائی کورٹ نے عہدے سے برطرف کر دیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ عدالت کو ٹھوس مواد چاہیے کہ ارشد ملک اگر بددیانت تھے تو معاملہ کافی سنگین ہوگا، اگر جج کا کنڈکٹ اس کیس کے فیصلے کے وقت ٹھیک نہیں تھا، بدیانت تھا تو اس کے اثرات ہوں گے ، ہمیں بتائیں ان کو بطور جج کیوں برطرف کیا گیا تھا ؟ چارج کیا تھا ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرٹ پر ہمارا کیس پہلے سے بہتر ہے ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے نوٹیفکیشن سے ارشد ملک پر عائد الزام واضح نہیں ہو رہا، کیا عدالت ویڈیو کا جائزہ لیکر فیصلہ کرے کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کرنا ہے یا نہیں، کیونکہ نوازشریف کی درخواست موجود ہے اس لئے یہ فیصلہ آپ کا ہوگا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف ویڈیو سکینڈل والی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ درخواست واپس لینے پر اعتراض نہیں ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس درخواست کی پیروی کریں گے تو ہم اس کو دیکھیں گے ، ارشد ملک اب نہیں ہیں لیکن باقی لوگ ابھی موجود ہیں ،عدالت نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مجھے ہدایت دی گئی ہے جج ارشد ملک ویڈیو اسیکنڈل سے متعلق درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے ،میں جج ارشد ملک کے حوالے سے دعا گو ہوں اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ،

    نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے اس سے قبل بھی دو اپیلوں پر فیصلہ اسی عدالت میں ہو چکا ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس اگر ریمانڈ بیک کر بھی دیتے ہیں تو نواز شریف ملزم تصور ہونگے سزا یافتہ نہیں. ٹرائل کورٹ نے دوبارہ کیس کا فیصلہ کرنا ہو گا اور اگر نیب کا یہی رویہ رہا تو پھر تو آپکو مسئلہ بھی نہیں ہو گا تو آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہی نواز شریف کی العزیزیہ اپیل پر میرٹ پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اِس عدالت کے سامنے تین آپشنز ہیں، ایک راستہ کہ اپیل خارج کردیں، دوسرا کہ اپیل منظور کر کے نواز شریف کو بری کر دیں اور تیسرا راستہ یہ ہے کہ اپیل منظور کر کے کیس احتساب عدالت کو واپس بھجوا دیں، ہم یہاں اسکرین لگا دیں گے اور وڈیو چلا دیں گے،لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ یہ دو دھاری تلوار بھی ثابت ہوسکتی ہے، اعظم نذیر تارڑ نے معاملہ احتساب عدالت کو واپس بھجوانے کی مخالفت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک یہ کہ ہم خود اضافی شواہد دیکھ کر میرٹ پر فیصلہ کردیں،اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کردیں گے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آپ نے ہمیں اپنا فیصلہ بتانا ہے،اس کیس میں مرحوم جج نے مکمل ٹرائل ہی نہیں کیا، اکیس گواہ پہلے ہی اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے تھے، نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے، نیب نے العزیزیہ ریفرنس دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجوانے کی استدعا کر دی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ بیک کر دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کر دیں گے، تو جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق درخواست کو چھوڑا نہیں جا سکتا، آپ ہمیں بتا دیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہمیں کیس دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن احتساب عدالت کو ٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ڈائریکشن دیدیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ کر لیا. نیب کی کیس ٹرائل کورٹ کو دوبارہ فیصلے کیلئے بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی گئی

    احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید اور 2.5 ملین پاونڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی،نواز شریف نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے، نواز شریف نے اپنے خلاف سات سال قید اور جرمانے کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،نیب نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی استدعا کر رکھی ہے

    کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلے کے لیے رجسٹرار آفس کی جانب سے خصوصی پاسز جاری کئے گئے ہیں،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں

    نواز شریف عدالت پیشی کے لئے لاہور سے روانہ ہوئے اور اسلام آباد پہنچ گئے،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کی اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر قانونی ٹیم سے مشاورت ہوئی،سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطاء تارڑ اور قانونی ٹیم کے دیگر ارکان موجود تھے،ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، بلال کیانی اور دیگر رہنما بھی مشاورت میں موجود تھے،لیگل ٹیم نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس کیس پر تفصیلی بریفنگ دی،اعظم نذیر تارڑ نے کیس سے متعلق تیاری پر نواز شریف کو بریفنگ دی،نواز شریف نے قانونی ٹیم کی کیس سے متعلق تیاری پر شاباش دی

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا ،نواز شریف

    ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا ،نواز شریف

    لاہور: مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اقتدار میں آ کر غریبوں کا سہارا بنے گی، ہمارے دور میں ہمیشہ ملک وقوم نے ترقی کی-

    باغی ٹی وی : سابق وزیراعظم نوازشریف اور شہبازشریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کا چوتھا اجلاس ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں ہوا، جس میں مریم نواز، اسحاق ڈار، احسن اقبال اور مرکزی و صوبائی عہدیدار شریک تھے،اجلاس میں بلوچستان سےپارٹی امیدواروں کے انتخاب سے جائزہ لیا گیابلوچستان سے پارٹی ٹکٹ کے لیے 87 امیدواروں کے انٹرویو کیے گئے، قومی اسمبلی کے 16 جبکہ صوبائی اسمبلی کی 51 نشست کے لیے امیدواروں کے انٹرویو کے بعد نام فائنل کر لیے گئے-
    https://x.com/pmln_org/status/1732294822529241501?s=20
    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ہر امیدوار سے ان کے متعلقہ حلقوں، سیاسی شہرت اور پارٹی کے لیے دی گئی خدمات پر سوالات کیے، امیدواروں کے حتمی ناموں کا اعلان پارٹی قیادت کی طرف سے کچھ روز بعد کیا جائے گا۔

    زائد بل بھجوانےکامعاملہ، پاورڈویژن نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

    https://x.com/pmln_org/status/1732295719984497011?s=20
    بلوچستان سے تعلق رکھنے والےرہنماؤں سے بات کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے لیے ن لیگ کی تیاری مکمل ہے، مسلم لیگ ن اقتدار میں آ کر غریبوں کا سہارا بنے گی، ہمارے دور میں ہمیشہ ملک وقوم نے ترقی کی، تمام امیدواروں کی پروفائل اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا، میرٹ، شفافیت کی بنیاد پر امیدواروں کو ٹکٹ دیئے جائیں گے، ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا باتیں کرنے والے بہت آئے، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا، ہم نے گوادر کو سندھ کے ساتھ ملایا، کوسٹل ہائی وے بنائی، کہاں گئی وہ تبدیلی؟ عوام کو پوچھنا چاہئے۔

    زائد بل بھجوانےکامعاملہ، پاورڈویژن نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے اب تک سرگودھا، راولپنڈی، ہزارہ اور مالاکنڈ کے امیدواروں کے ناموں پر غور کیا جا چکا ہے-

  • نواز شریف  کی مریم نواز اور شہباز شریف کے ہمراہ چودھری شجاعت سے ملاقات

    نواز شریف کی مریم نواز اور شہباز شریف کے ہمراہ چودھری شجاعت سے ملاقات

    ن لیگی قائد نوازشریف دو دہائیوں بعد چودھری شجاعت کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے
    نوازشریف چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کےلئے ان کی رہائشگاہ پہنچے،نواز شریف کے ہمراہ مریم نواز، شہبازشریف بھی موجود تھے، چودھری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین بھی اس موقع پر موجود تھے،نوازشریف نے چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کی، نواز شریف نے ملاقات کے موقع پر ملکی سیاسی صورتحال سمیت سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بھی گفتگو کی،

    نواز شریف اور چوہدری شجاعت کی 15 سال کے بعد ملاقات ہوئی ،ملاقات میں مسلم لیگ ق کی جانب سے سالک حسین۔ شافع حسین۔ طارق بشیر چیمہ اور امتیاز رانجھا بھی شریک تھے،نواز شریف نے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی ،چوہدری شجاعت حسین نے نواز شریف کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ،مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کی قیادت کی آئندہ عام انتخابات میں باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی،ملاقات میں مسلم لیگ ن نے سیٹ ایڈجسمنٹ کے لئے مسلم لیگ ق کو سیٹوں کی تعداد کے حوالے سے پیشکش کی،مسلم لیگ ق نےملاقات کے بعد اپنی پارٹی قیادت کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے،مسلم لیگ ق کی قیادت لیگی قیادت سے ملاقات بارے اپنے رہنماؤں کو اعتماد میں لے گی

    گزشتہ روز چودھری شجاعت اور شہباز شریف کی ملاقات ہو چکی ہے،ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نےآئندہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں مشاورت کی،

    قبل ازیں ایک بیان میں مرکزی صدر مسلم لیگ ق چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ انتخابات میں اپنی سیاسی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے کسی بھی طرح کے اتحاد کا فیصلہ کریں گے، اس معاملے پر پارٹی میں مشاورت جاری ہے

    نواز شریف کی سابق سپیکر پنجاب اسمبلی سردار طارق مزاری کی رہائش گاہ آمد
    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی سابق سپیکر پنجاب اسمبلی سردار طارق مزاری کی رہائش گاہ آمد ہوئی،نواز شریف نے سابق نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری کی وفات پر فاتحہ خوانی کی ،نواز شریف نے میر طارق خان مزاری، سردار سرادار ریاض مزاری، سردار دوست محمد مزاری، سردار مراد بخش مزاری سمیت تمام اہل خانہ سے تعزیت کی،اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر اور چیف ارگنائزر مریم نواز شریف، مریم اورنگزیب، اور شیخ فیاض ادین بھی اس موقع پر موجود تھے

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • ن لیگ کی حکومت بنی تو وہ انتقامی سیاست کرے گی،بلاول

    ن لیگ کی حکومت بنی تو وہ انتقامی سیاست کرے گی،بلاول

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی بلوچستان میں حکومت بنائے گی

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو بلوچستان میں اچھا سرپرائز دیں گے،ہم واحد جماعت ہیں، جو اپنے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں، ہماری جدوجہد اور محنت جاری رہے گی،اگر میں یہ کہوں کہ فلاں کھلاڑی یا فلاں بندہ میرا مخالف ہے تو یہ غلط بات ہو گی ، میاں صاحب انتظار کی بجائے اپنے نظریے پر الیکشن لڑیں ،رائیونڈ کی ہوا بنانے کی کوشش ناکام ہو رہی ہے، یہ اپنے گھر سے نہیں جیت سکتے، نواز شریف انتظامیہ کی مدد کے بجائے اپنے منشور پر الیکشن لڑیں، ووٹ کو عزت دیں، ووٹ کی بے عزتی نہ کریں،جو بھی حالات ہوں ہم جانتے ہیں ہر پچ پر کیسے کھیلا جاتا ہے،،پیپلز پارٹی کا شروع سے ہی لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ رہا ہے،الیکشن میں پی پی بورڈ بناتی ہے تو ہر امیدوار کا نام سامنے رکھا جاتا ہے،باقی جماعتوں کا لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ حالات کے مطابق ہے، فیصلے کرنے کا نگران حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اس کے لیے الیکشن کروائیں تاکہ عوام کے منتخب نمائندے فیصلے کریں،موجودہ حالات میں فرنٹ لائن پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اللہ نے موقع دیا تو مسائل بھی حل کریں گے، ہم کام کر سکتے ہیں، یہاں کی عوام کو سیاست، معیشت میں سٹیک ہولڈر بنائیں گے، یہ مشکل کام نہیں،جب سے نواز شریف آئے اور جو جلسہ ہوا، اس سے عام عوام میں خدشات پیدا ہوئے، ہم چاہتے ہیں ملک کو اچھے طریقے سے چلائیں جہاں سارے ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں،عمران خان دور میں ہمارا اعتراض یہی تھا کہ وہ ہر ادارے کو اپنا ٹائیگر فورس بنانا چاہتے تھے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اسی لئے ریفرنس دائر کیا گیا تھا، ہم جمہوریت چاہتے ہیں ،ہم جتنا پرفارم کریں گے اتنی سپیس واپس لیں گے،نوازشریف ووٹ کو عزت دلائیں، ووٹ کی بےعزتی نہ کریں، ملک کا سب سے بڑا کینسر قرضہ ہے،پیپلز پارٹی نے کل بتا دیا ہے کہ الیکشن کیسے لڑے اور جیتے جاتے ہیں،ہر سیاسی جماعت کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ الیکشن جیتے،تصادم کی بجائے سب کو مفاہمت کی طرف جانا ہوگا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ تین نسلوں سے ہم جدوجہد کر رہے ہیں، پاکستان میں ایسی حکومتیں بنیں جو بالکل ہی سیلکٹڈ تھیں وہ بھی ناکام رہیں، اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی ہو یا دنیا کی ایک حقیقت ہے،میں چاہتا ہوں ساری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر فیصلے ہونے چاہئے اور پھر عملدرآمد ہونا چاہئے، یہ نہیں ہونا چاہئے کہ 2018 میں عمران خان کو مسیحا بنایا جائے اور 2023 آئے تو پھر کہا جائے کہ یہ تو فرشتہ ہے اسکا ساتھ دینا ہے، باقی سب گندے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب انسان ہیں، میں چاہتا ہوں کہ 24 گھنٹے عوام کی خدمت کریں، مہنگائی، بے روزگاری، غربت تاریخی سطح پر پہنچ چکی، ہم ایسے معاشی بحران میں پہلے نہیں گزرے جو ابھی ہے، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے، ن لیگ کی حکومت بنی تو وہ انتقام کی سیاست کر کے ملک کو نقصان پہنچائے گی، عمران خان نفرت کی سیاست کر کے ملک کو نقصان پہنچائیں گے ،پرانی سیاست ترک کر کے نیا طرز سیاست شروع کیا جائے.اٹھارہویں ترمیم کا فائدہ پاکستان کی عوام ہوا ہے، وسائل پر ڈاکہ نہیں مارنے دیں گے،میں اٹھارہ ماہ اسلام آباد میں گزار کر حکومت کے اندر رہ کر آیا، اسلام آباد والوں کو یہاں کے مسائل کا علم نہیں، ہمیں ایسی حکومت بنانی پڑے گی جو اٹھارہویں ترمیم پر نہ صرف عمل کرے بلکہ پورا کرے.سترہ وزارتیں اسلام آباد میں کام کر رہی جو نہیں ہونی چاہئے، یہ کام صوبوں کو کرنا چاہئے.

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اگر میڈیا پر مسائل اجاگر نہیں کریں گے تو مسائل بڑھتےرہیں گے،اس سے پاکستان کا نقصان ہو گا،نو مئی میں نے اور میاں صاحب نےنہیں کیا، جنہوں نے کیا ان سے پوچھا جائے، میں نے اسمبلی میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو عمران خان نے بند گلی میں دھکیل دیا،یہ ایسا واقعہ ہے جس کا کوئی سیاسی کارکن سوچ نہیں سکتا،ہم پاکستان میں جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، سیاستدانوں کو سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کرنی چاہئے، نو مئی کو جو ہوا، اس کے ھوالہ سے قانون پر عملدرآمد ہونا چاہئے، ہمار ا کوشش یہ ہونا چاہئے کہ پارلیمان اپنی مدت پوری کرے تا کہ جمہوریت کا تسلسل قائم رہے، پارلیمانی سسٹم میں ایک گنجائش ہوتی ہے کہ پارلیمان کے اراکین کو ساتھ رکھنا ہوتا ہے،عمران خان کس منہ سے کسی اور پر الزام لگا سکتے ہیں وہ اپنے بل بوتے پر سیاست کرنے کو تیار نہیں تھے اب کل رو بھی نہیں سکتے کہ مجھے کیوں نکالا، یہ میاں صاحب کے لئے بھی ہے،بینظیر انکم سپورٹ کے ساتھ ہم نے وسیلہ روزگار پروگرام بھی متعارف کروایا، تعلیمی ادارے خواہ وہ کسی بھی صوبے میں ہوں ، ہر صوبے میں پیپلز پارٹی کے دور میں یہ ادارے بنے،ہمارا یوتھ کارڈ کا منصوبہ ہے،ہم چاہتے ہیں کہ ان نوجوانوں کو ٹارگٹ کریں جو تعلیم حاصل کرتے مگر روزگار میں مشکل ہوتی ہے، ہم ان کو تھوڑی دیرکے لئے مالی مدد دینا چاہتے ہیں تا کہ وہ ایکسپئرنس بھی حاصل کر لیں، یوتھ سنٹر ہر ضلع میں بنائیں گے جہاں ڈیجیٹل لائبریری ہو گی، سپورٹس سنٹر بنائیں گے،

    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی میں اقلیتی ونگ کے صوبائی نائب صدر چوہدری جاوید ولسن اور اسپورٹس ونگ کے نائب صدر محمد قاسم یوسفزئی پی پی پی میں شامل ہوگئے

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • ن لیگ پارلیمانی بورڈ اجلاس،بیگم نجمہ حمید،بیگم کلثوم نواز،مشاہداللہ خا ن کو خراج عقیدت پیش

    ن لیگ پارلیمانی بورڈ اجلاس،بیگم نجمہ حمید،بیگم کلثوم نواز،مشاہداللہ خا ن کو خراج عقیدت پیش

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس شروع ہو گیا

    پارٹی قائد محمد نواز شریف اور صدر شہباز شریف اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں،اجلاس کے آغاز میں سینئیر پارلیمینٹیرین بیگم نجمہ حمید اور مشاہداللہ خان کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ،بیگم نجمہ حمید کی آج پہلی برسی پر اجلاس نے ان کی ملک و قوم اور پارٹی کے لئے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا ،اجلاس میں کہا گیا کہ بیگم نجمہ حمید مسلم لیگ (ن) کی پہچان تھیں، بیگم کلثوم نواز کو بھی اجلاس میں خراج عقیدت پیش کیا گی اور کہا گیا کہ بیگم کلثوم نواز کی جدوجہد کے دوران ان کا کردار ناقابل فراموش ہے،مشاہداللہ خان پارٹی کا قیمتی اثاثہ تھے، مشاہداللہ خان کی کمی ہمیں ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی،مشاہداللہ خان نے سخت ترین حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا، وہ نہایت وفادار، پارٹی کے نظریہ پر کاربند اور مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرنے والی نیک دل اور نیک نیت راہنما تھے

    اجلاس پارٹی کے لاہور میں مرکزی سیکریٹریٹ میں جاری ہے،پارلیمانی بورڈ کا یہ پہلا اجلاس ہے پارلیمانی بورڈ میں سینئیر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز ، الیکشن سیل کے سربراہ سینیٹر اسحاق ڈار، پارٹی سیکریٹری جنرل احسن اقبال اور پارٹی کے مرکزی و صوبائی عہدیدار شامل ہیں ،اجلاس میں متعلقہ ڈویژن کے کوآرڈینیٹرز بھی شرکت کررہے ہیں

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور شہباز شریف پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچے،د نواز شریف نے شہباز شریف کے ہمراہ پارلیمانی بورڈ کے تمام ارکان سے ملے،ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا آج پہلا اجلاس سرگودھا کے ٹکٹوں کا فیصلہ کرے گا راولپنڈی3،ہزارہ،مالاکنڈ 6، بلوچستان 7، بہاولپور، ڈی جی خان 8، ملتان 9، ساہیوال ڈویژن کا فیصلہ 11 دسمبر کو ہو گا.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • ہمیں روایتی اور پرانی سیاسی سوچ کو چھوڑنا پڑے گا،بلاول

    ہمیں روایتی اور پرانی سیاسی سوچ کو چھوڑنا پڑے گا،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائد عوام میرے نانا تھے جنہیں پھانسی پر چڑھایا گیا

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام جس دکھ میں ہیں میں خود اس دکھ سے گزر چکا ہوں،بلوچستان ہائیکورٹ بار کے وکلا کو سلام پیش کرتا ہوں، 8 فروری کو ملک میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ تین بار وزیراعظم بننے والا چوتھی بار وزیراعظم بن کر ملک کو مسائل سے نکالے گا،عوام ملک کی قسمت ان دو شخص کے حوالے نہ کریں جنہوں نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کی، ہمیں روایتی اور پرانی سیاسی سوچ کو چھوڑنا پڑےگا،70 سال سے چلنے والے نظام نے کیا شہریوں کو انصاف دلایا؟ دوسری طرف چند سال پہلے جو وزیراعظم رہا اس نے کہا تھا ہزارہ والے بلیک میل کر رہے ہیں،میں جانتا ہوں کہ پاکستان میں الیکشن کیسے ہوتے ہیں، یہ بھی جانتا ہوں کہ جب اس ملک کے عوام فیصلہ کر لیتے ہیں تو دنیا میں کوئی بھی ان کا راستہ نہیں روک سکتا، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے آپ کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن آپ 8 فروری کو اپنے ووٹ کی طاقت سے انہیں جواب دیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے 18ویں ترمیم پر دستخط کئے تو یہ بلوچستان کی جیت تھی،ہمیں مل کر نئی سیاست اور نئے دور کیلئے آگے بڑھنا ہے،نفرت، تقسیم، اناکی سیاست دفن کرکے آگے بڑھیں گے، پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو ملک و قوم کی بہتر طریقےسے خدمت کریں گے،وقت آگیا ہے ہم مل کر ملک میں نئی تاریخ رقم کریں گے،پاکستان کی قسمت کو ہم سب مل کر بدل سکتے ہیں، دوسری جماعتوں کا علم نہیں مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام پر بھروسہ کیا ہے،یہ بھی معلوم ہے دنیا میں پاکستان کو کس طرح ماڈل کی طرح پیش کرسکتے ہیں،روایتی اور پرانی سیاست چھوڑ کر ہمیں عوام کیلئے سوچنا ہوگا،

    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن آمد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر افضل اریفال اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد کاکڑ نے استقبال کیا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • توشہ خانہ ریفرنس :سابق وزیراعظم نوازشریف نیب میں شامل تفتیش

    توشہ خانہ ریفرنس :سابق وزیراعظم نوازشریف نیب میں شامل تفتیش

    اسلام آباد: احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزرائے اعظم نوازشریف، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف زرداری کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے-

    باغی ٹی وی : احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی، نوازشریف کے وکیل قاضی مصباح اور پلیڈر راناعرفان عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ نیب پراسیکیوٹرعرفان بھولا اور سہیل عارف بھی عدالت میں پیش ہوئے،توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف نیب میں شامل تفتیش ہوگئے ہیں اور انہوں نے نیب کے سوالنامے کا جواب جمع کروا دیا ہے۔

    وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ شامل تفتیش ہو گئے ہیں سوالات دے دئیے گئے ہیں اور ان کے جوابات بھی فراہم کردئیے گئے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ نیب نے نوازشریف سے توشہ خانہ گاڑیوں کے کیس میں 10سے زائد سوالات کا جواب مانگا تھا، جس پر نوازشریف نے اپنے وکیل کے ذریعے گزشتہ روز نیب کو سوالات کا جواب جمع کرادیا نیب تفتیشی افسر نے احتساب عدالت کو آگاہ کردیا ہے

    وکیل قاضی مصباح نے مؤقف اختیار کیا کہ نوازشریف شامل تفتیش ہو چکے،سوالنامہ مہیا کیا گیا تھا ان کے خلاف 2019 میں سوالنامہ ریفرنس بنایا گیا تھا، 2019 میں نوازشریف انتہائی علیل تھے، انہوں نے گاڑی لینے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا، اور یہ ریکارڈ پرموجود ہے کہ نوازشریف نے گاڑی نہیں مانگی تھی۔

    نیب پراسیکیوٹر نے تصدیق کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کی جانب سے جواب جمع ہو گیا ہے، یہ تفتیشی نے بتا دیا ہے، مزید کارروائی ہو گی،اس کیلئے کچھ وقت درکار ہو گا،ریفرنس میں نوازشریف کی گاڑی لکھی جس کی واپسی کا ریکارڈ نہیں، جب کہ ایسے دستاویز نہیں کہ نوازشریف نے کوئی گاڑی مانگی ہو۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    جج محمد بشیر نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب اس پر کیا کریں گے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی نوازشریف کا بیان دیکھیں گے، پھر مزید کارروائی ہوگی،احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    نوبیل انعام یافتہ امریکی سفارتکار ہنری کسنجر کا 100 سال کی عمر میں انتقال

  • ایون فیلڈ ریفرنس ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا

    ایون فیلڈ ریفرنس ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    نواز شریف کے خلاف صرف آخری مقدمہ العزیزیہ ریفرنس میں سزا باقی رہ گئی،نواز شریف کو انتخابی سیاست کے لیے العزیزیہ ریفرنس میں 20 دسمبر سے پہلے بری ہونا ہوگا ،نواز شریف پانامہ کیسز کے تین ریفرنسز میں سے دو میں کلئیر ہوگئے،نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں بری جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں نیب نے اپیل واپس لے لی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی،عدالت نے رجسٹرار آفس کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل کو تاریخ دینے کی ہدایت کی ،آئندہ عام انتخابات کا شیڈول دسمبر کے دوسرے ہفتے میں جاری ہوگا ،8 فروری کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو دسمبر کے تیسرے ہفتے تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے ہوں گے،نواز شریف کی تاحیات نااہلی الیکشن قانون میں تبدیلی سے ختم ہوگئی

    نیب کی العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے اور فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کے خلاف اپیل پر بھی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے، نواز شریف کی قانونی ٹیم بھی عدالت میں پیش ہوئی،نواز شریف کی پیشی سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف میں سیکورٹی سخت کی گئی تھی،پانچ سو کے قریب اہلکار سیکورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،اسلام آباد کے پولیس کے ساتھ ایف سی اہلکار کے اہلکار بھی موجود ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت پر رینجرز اہلکار تعینات ہیں،نواز شریف کی پیشی سے قبل خواتین اہلکار بھی تعینات کی گئیں.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ آج میں عدالت کے سامنے فرد جرم کے بعد کی کارروائی پر دلائل دوں گا، مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر پر نواز شریف کی اعانت جرم کا الزام تھا،عدالت نے نواز شریف کے دونوں شریک ملزمان کی اپیل منظور کر کے بری کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ سے شریک ملزمان کی بریت کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کر چکا ہے، احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو سیکشن 9 اے سے بری قرار دیا تھا، اس کیس میں اب بس سیکشن 9 اے 5 بچا ہے جو آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ہے،

    وکیل امجد پرویز نے نیب آرڈیننس کا سیکشن 9 اے 5 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کے تحت استغاثہ کو کچھ حقائق ثابت کرنا ہوتے ہیں، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضہ ہے کہ ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کیا جائے، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ملزم کو بے نامی دار ثابت کیا جائے، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ثابت کیا جائے کہ ملزم کے اثاثے اس کے آمدن کے ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتے،نیب آرڈیننس میں بے نامی دار لفظ کی تعریف کی گئی ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں سزا معطلی بھی اسی بنیاد پر ہوئی تھی،سزا معطلی کے فیصلے میں ہم نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا سہارا لیا تھا،بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں مزید وضاحت کی ہے اس پر ہماری معاونت کریں

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی نے اثاثوں کے حصول کے وقت معلوم ذرائع آمدن سے متعلق تحقیقات کرنا ہوتی ہیں،معلوم ذرائع آمدن کا اثاثوں کی مالیت سے موازنہ کرنا ہوتا ہے، یہ مقدمہ ایسا ہے جس میں اس کے مندرجات ہی ثابت نہیں کیے گئے، انہوں نے جرم کے تمام جز ثابت کرنے تھے، نہیں کیے،امجد پرویز نے نواز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات بمع تاریخ عدالت میں جمع کرا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ اثاثہ جات ایک ہی وقت میں آئی ہیں یا الگ الگ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 1993 سے 1996 کے درمیان یہ پراپرٹیز آئی ہیں، پورے ریفرنس میں نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق لکھا ہی نہیں ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن نے ریفرنس میں لکھا ہے کہ نواز شریف نے یہ پراپرٹیز کب لیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پورے ریفرنسز میں نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق جوڑنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں،اس کے بعد یہ بات سامنے آنی تھی کہ اثاثوں کی مالیت آمدن سے زائد ہے یا نہیں،اس تقابلی جائزے کے بغیر تو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا جرم ہی نہیں بنتا،نیب انویسٹی گیشن، جے آئی ٹی یا سپریم کورٹ کے فیصلے میں پراپرٹیز کی مالیت کا تعین موجود نہیں جو پراپرٹیز کی مالیت کا تعین یا نواز شریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کرتی ہو. واجد ضیاء سٹار گواہ تھا اس نے بھی یہ بات مانی کہ ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں تھی. فرد جرم عائد کرتے وقت یہ بات بتائی جاتی ہے کہ آپ کے اثاثے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس تو ہے بھی بس تین چار صفحوں کا ہی ہے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف کی ان پراپرٹیز سے تعلق جوڑنے کیلئے کوئی شہادت موجود نہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن نے سب سے پہلے کیا ثابت کرنا ہوتا ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پراسیکیوشن نے سب سے پہلے ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کرنا ہوتا ہے، اُس کے بعد پراسیکیوشن نے زیرکفالت اور بےنامی داروں کو ثابت کرنا ہوتا ہے،پراسیکیوشن نے پھر آمدن سے زائد اثاثوں کا تعین کرنا ہوتا ہے، پراسیکیوشن نے ذرائع آمدن کی اثاثوں سے مطابقت دیکھنی ہوتی ہے، نیب میاں نواز شریف پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک بھی ثابت نہیں کر سکا،سب سے اہم بات ان پراپرٹیز کی آنرشپ کا سوال ہے،نہ تو زبانی، نہ دستاویزی ثبوت ہے کہ یہ پراپرٹیز کبھی نواز شریف کی ملکیت میں رہی ہوں، استغاثہ کو یہ ثابت کرنا تھا کہ مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز، نواز شریف کی زیر کفالت تھے، بچوں کے نواز شریف کی زیر کفالت کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں، ان تمام چیزوں کو استغاثہ کو ثابت کرنا ہوتا ہے، ان چیزوں کا بار ثبوت دفاع پر کبھی منتقل نہیں ہوتا، کوئی ثبوت نہیں کہ پراپرٹیز نواز شریف کی ملکیت یا تحویل میں رہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ سارا پراسیکیوشن کا کام ہے؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل یہ سب استغاثہ نے ثابت کرنا ہوتا ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ نوٹ کر رہے ہیں؟ یہ بڑی اہم باتیں کر رہے ہیں،نیب وکیل نے کہا کہ جی سر میں نوٹ کر رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کے ہاتھ میں تو قلم ہی نہیں ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ استغاثہ کو پبلک آفس اور جرم میں گٹھ جوڑ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے،استغاثہ کو ثابت کرنا ہے کہ پبلک آفس کیسے بینامی جائیداد بنانے کیلئے استعمال ہوا، استغاثہ کو مندرجات ثابت کرنے ہوتے ہیں، اس کے بعد بار ثبوت ملزم پر منتقل ہوتا ہے، کورٹ نے مفروضے پر سزا دی اور فیصلے میں ثبوت کے بجائے عمومی بات لکھی، عدالت نے کہا کہ مریم نواز بینفشل اونر تھیں اور نواز شریف کے زیر کفالت بھی تھیں،لکھا گیا کہ بچے عمومی طور والد کے ہی زیرکفالت ہوتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے ایک نیب کے ملزم انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ امتیاز کو بری کیا ،اس بنیاد پر بریت ہوئی کہ نیب نے ملزم کی مبینہ جائدادوں کی قیمت اور ملزم کی آمدن کا تعین کئیے بغیر ہی اُس پر ریفرنس دائر کر دیا تھا،سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا، سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کوئی بھی متضاد فیصلہ نہیں دیا،مریم نواز کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان عدالتی فیصلوں اور اصولوں کی توثیق کی ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں ایک فیصلہ دیا کہ بینامی کیلئے 4 مندرجات کا ثابت ہونا ضروری ہے،ان چاروں میں سے ایک بھی ثابت نہیں تو وہ بینامی کے زمرے میں نہیں آئے گا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جناب میرا امتحان کیوں لے رہے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وہ تو ضروری ہوتا ہے نہ، عدالت کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے،

    امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مریم نواز کی ہائی کورٹ سے بریت کا فیصلہ پڑھ کر سنا یا اور کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مریم نواز کو بری کیا تھا، عدالت نے لکھا پراسیکیوشن کے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک ڈاکومنٹ موجود نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں دائر اپیل کو منظور کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی بریت کا فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس لیئے ہم اس فیصلے سے باہر نہیں جا سکتے۔دوسری جانب نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے لی جس کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بری کر دیا۔العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جولائی 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال اور دسمبر 2018 میں العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،نواز شریف نے عدالت میں سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کی تھی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات