Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • ان ہاؤس تبدیلی،نواز شریف نے گرین سگنل دے دیا،اپوزیشن جماعتیں متحرک

    ان ہاؤس تبدیلی،نواز شریف نے گرین سگنل دے دیا،اپوزیشن جماعتیں متحرک

    اپوزیشن جماعتیں اِن ہاؤس تبدیلی کے لیے متحرک ہوگئیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام (جے یوآئی) میں اس حوالے سے رابطہ بھی ہوا ہے جبکہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اگلے چند دنوں میں اسلام آباد میں ملاقات ہوگی۔

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا ہے،حماد اظہر

    ذرائع کے مطابق شہباز شریف کو اِس ملاقات کیلئے نواز شریف نے ’گرین سگنل‘ دے دیا ہے شہباز شریف ملاقات میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اِن ہاؤس تبدیلی پر آمادہ کریں گے جے یو آئی سے رابطےکے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان رابطوں میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

    فارن فنڈنگ کیس : تمام رسیدیں فراہم کرچکےہمیں اسکروٹنی کمیٹی نے کلیئرکردیا، وزیر…

    ذرائع ن لیگ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نےکبھی نہیں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو غیر آئینی طریقے سے ہٹایا جائے، ہم آئینی طریقہ ہی اپنانے کے حامی ہیں جو ان ہاؤس تبدیلی ہی بنتا ہے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کے اکٹھےہونے پر اِن ہاؤس تبدیلی میں مشکل نہیں ہوگی۔

    ذرائع ن لیگ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی میں بھی چند لوگ جلد عام انتخابات سے متعلق ہمارے مؤقف کےحامی ہیں، توقع ہےدونوں جماعتوں کےدرمیان آئندہ انتخابات کے معاملے پر بھی جلد اتفاق ہوجائےگا۔

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی بلاول بھٹو سے آج قومی اسمبلی میں ملاقات ہوئی ذرائع کے مطابق ملاقات میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک اورسیاسی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا گیا جبکہ منی بجٹ پر حکومت کے خلاف مل کر جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ملاقات میں اتفاق ہوا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف اور ملک بچاؤ تحریک پریکساں مؤقف پر کار بندہیں، دونوں رہنماؤں نے حکومت مخالف تحاریک کے معاملے پر وفود کے ہمراہ تفصیلی ملاقات کا فیصلہ کیا جو آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

    الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت بحال کر دی

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) والے اب خود چوری کرتے ہوئےپکڑے گئے ہیں، نیب والے دعوے کرتے ہیں 800 ارب سے زیادہ وصول کیا، وزارت خزانہ میں ان 800 ارب روپے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، نیب کے موجودہ اور پہلے والے تمام ذمہ داروں کو جواب دینا ہوگا چیئرمین نیب سے لے کر انسویسٹی گیشن آفیسر (آئی او) تک سب اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں، ہم منی بجٹ کی مخالفت کریں گے، ہم عوام میں جائیں گے، عوام کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتے، مل کرجدوجہد کرنا ہوگی۔

    ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

    بلاول نے کہا کہ ہمیں مل کر اسلام آباد پہنچنا ہوگا، آج بھی ہم سمجھتے ہیں سارے کارڈ موجود ہیں، ہم حکومت ہٹانے کیلئے جمہوری، آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار کے حامی ہیں، وزیراعظم عوام کو کہتے تھے گھبرانا نہیں ہے، ہمارا وزیراعظم کو پیغام ہےکہ اب ان کے گھبرانے کا وقت شروع ہو چکاہے، جہاں جاتا ہوں وہاں سب کا مطالبہ ہے کب حکومت سے چھٹکارا دلا رہے ہیں۔

    کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے…

  • زبردستی تلاشی لی گئی تو سب سامنے آ گیا،مریم نواز برس پڑیں

    زبردستی تلاشی لی گئی تو سب سامنے آ گیا،مریم نواز برس پڑیں

    زبردستی تلاشی لی گئی تو سب سامنے آ گیا،مریم نواز برس پڑیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں انکشافات کیے گئے ہیں،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ نالائقی،نااہلی، رپشن جھوٹ مار، غیر قانونی فنڈنگ یہ ہے آپ کا برینڈ،برینڈ کھل کر سب کے سامنے آچکا ہے،اب انہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا، اسٹیٹ بینک کے مطابق پی ٹی آئی کے 26 اکاونٹ تھے،اسٹیٹ بینک کے مطابق 18 کاونٹ ایکٹو تھے ،پی ٹی آئی نے صرف 4 ڈکلیئر کیے،اگر انہوں نے چوری نہیں کی تھی تو تلاشی کیوں نہیں دے رہے تھے، آپ نے تلاشی دی نہیں زبردستی تلاشی لی گئی،انہیں امریکہ ، آسٹریلیا، انگلینڈ اور کینڈا سے فارن فنڈنگ ملی، پاکستان کے قانون کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کمپنی سے فنڈنگ نہیں لی جاسکتی انہوں نے دبئی کی کرکٹ کمپنی سے 2.1ملین ڈالر کی فنڈنگ لی،

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے رشوت کو ڈونیشن کا نام دیا،عمران خان پہلے آدمی ہیں جنہوں نے رشوت کو ڈونیشن کا نام دیا،آج بھی بی آر ٹی کا احتساب نہیں کرنے دیا جارہا،غیر قانونی فنڈنگ کے جرم میں عمران خان فوری طور پر استعفیٰ دیں عوام چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کے رہنے کی اب کوئی گنجائش نہیں، الیکشن کمیشن نے دباو سےانکار کیا اور رپورٹ جاری کی،الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ انہیں قانون کے مطابق سزا دے، وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں بھی انصاف کا بول بالا ہو،اپوزیشن کو چاہیے کہ ان کے جھوٹ کو قوم کے سامنے رکھے،الیکشن کمیشن کو رہورٹ شائع کرنے پر شاباش لیکن اب ای سی پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس غبن پر کاروائی کریں اور تحریک انصاف کے خلاف کیس چلائیں ایک ثابت شدہ مجرم جس پر ہر گناہ ثابت ہوجاتا ہے،عمران خان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاۓ،کیونکہ ان پر گناہ ثابت ہوچکا ہے۔میاں نواز شریف انشاءاللہ ضرور واپس آئیں گے مگر وہ کب واپس آئیں گے یہ مسلم لیگ نون خود فیصلہ کرے گی

    مریم نواز نے پرویز رشید سے گفتگو کی ٹیپ کے اصلی ہونے کا اعتراف کرلیا ۔پریس کانفرنس میں کہا کہ مجھ سے معذرت کریں ،میری ذاتی گفتگو کو ریکارڈ کرنے پر مجھ سے معذرت کریں پھر اس سوال کا جواب دوں گی۔میری پرسنل فون کالز کو ٹیپ کرنے پر مجھ سے معذرت کی جائے ہم اپنی ذاتی گفتگو میں کیا بات کرتے ہیں ،میں کسی کو جوابدہ نہیں ہوں مجھے اپنی پرائیویٹ گفتگو پر کوئی معزرت نہیــں کرنی

    نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز کی ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کی رہائش گاہ آمد ہوئی ہے ،مریم نواز شریف نے خواجہ سعد رفیق کے اہل خانہ کو بیٹی کی شادی پر مبارک دی مریم نواز نے میاں نواز شریف کی طرف سے بھی دعاؤں اور نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے آمد پر مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا

    قبل ازیں چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی بھی خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق کے گھر آمد ہوئی تھی،شہبازشریف نے خواجہ سعد رفیق کی صاحبزادی کی شادی پر اہل خانہ کو مبارک دی ،شہبازشریف نے شادی شدہ جوڑے کے لئے دعاﺅں اور نیک تمناﺅں کا اظہار کیا،

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ سے 2 چیزیں واضح طور پر سامنے آئی ہیں پی ٹی آئی نے جانچ پڑتال سے بچنے اور معلومات کو روکنے کی کوشش کی پی ٹی آئی "عطیات” کے ذرائع کی وضاحت کرنے میں ناکام رہی یہ بات واضح ہوئی کہ پی ٹی آئی کا ‘شفافیت اور بدعنوانی’ کا نعرہ ایک دھوکہ تھا

    قبل ازیں ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بیٹے سے نہ لی گئی تنخواہ ظاھر نہ کرنے پر میاں نواز شریف کو ڈس کوالیفائی کرنیوالے اب خاموش کیوں ھیں ؟ کیافارن فنڈنگ لینا اور چھپانا جُرم نہیں ۔۔؟پی ٹی آئی قیادت سے جواب طلب کیا جائے قانونی کاروائی کی جائے

    قبل ازیں ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانیت کے نام پر فنڈزاکٹھے کر کے خرد برد کی ،ان لوگوں نے عوام کے جیب سے پیسہ لوٹے ہیں ثابت ہوگیا انہوں نے ملک دشمنوں سے پیسہ لیا ہے ان لوگوں نے عوام کے جیبوں سے پیسے لوٹے ہیں، اس کی کرپشن اور غبن پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو گئی اب اس کا گریبان اورعوام کا ہاتھ ہوگا ،اب اس کے ملک پر مزید مسلط رہنے کا کوئی جواز نہیں،سال ڈیڑھ سال میں ملکی معیشت تباہ کر دیا،لوگوں کو چور چور اور ڈاکو ڈاکو کہنے والا خود چور ثابت ہوا،جس نے نالائق ٹولے کو مسلط کیا اسے معافی مانگنی چاہیے،اب ان کا گریبان اورعوام کا ہاتھ ہوگا ،توشہ خانے کی 10کروڑ مالیت کی گھڑی فروخت کرتے ہوئے یہ پکڑے گئے توشہ خانہ پر نوازشریف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جس نے نالائق ٹولے کو مسلط کیا ا نہیں بھی معافی مانگنی چاہیے،اگر ادارے غیر جاندار رہیں تو یہ اچھی بات ہے،ٹیپ اس دن چلائی گئی جب اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آئی نوازشریف جب چاہے آسکتے ہیں کوئی انہیں نہیں روک سکتا

    ان تصاویر کو دیکھ کر خودبخود جنت کی یاد آجاتی ہے،مریم نواز کی ٹویٹ پر صارف کا تبصرہ

    ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،وزیراعظم عمران خان کا دنیا کو پیغام

    ایک طرف انسانیت، دوسری طرف بربریت،مسلم امہ کا امتحان ہے، وزیر خارجہ

    آن لائن کلاسز .اب امتحان بھی آن لائن ہی لیں، طلبا سڑکوں پر آ گئے

    طلبا خبردار، پنجاب بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا شیڈول تیار

    امتحانات کے معاملے پر سستی سیاست بند کی جائے، شفقت محمود

    ریلوے کس کے دور میں اچھی رہی، سعد رفیق یا شیخ رشید؟ کمیٹی میں انکشاف

    عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکلتے دیکھیں گے،خواجہ سعد رفیق

  • کبوترچوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج:      مُلک وقوم کے چورآزاد:یہ کیوں؟اہل وطن پوچھتے ہیں‌

    کبوترچوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج: مُلک وقوم کے چورآزاد:یہ کیوں؟اہل وطن پوچھتے ہیں‌

    لاہور :کبوتر چوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج:مُلک وقوم کے چورآزاد:یہ کیوں؟عوام پوچھتی ہے،اطلاعات کے مطابق آج کورٹ نے کبوتر چوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی، جس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں کبوتر چوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی ،وکیل ملزم نے بتایا گیا کہ کبوتر چوری کرنے کے بے بنیاد الزامات میں ملوث کیا گیا ہے۔

    جس پر وکیل مدعی کا کہنا تھا کہ مدعی اعجاز نے بہت قیمتی کبوتر پال رکھے تھے ، ملزم نے دھوکہ دہی سے کبوتر چوری کر لیے۔

    تفتیشی افسر تھانہ کاہنہ نے بتایا کہ ملزم تفتیش میں قصور وار پایا گیا ہے، جس پر عدالت نے کبوتر چوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی۔

    ضمانت خارج ہونے کے بعد ملزم ہاشم کو کمرہ عدالت سے نکلتے ہی پولیس نے گرفتار کر لیا۔خیال رہے ملزم ہاشم پر لاکھوں روپے کے کبوتر چوری کےالزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

     

     

    جبکہ دوسری طرف پاکستانی عدالتوں سے سوال کررہے ہیں کہ کبوترچوری کرنے والے کی ضمانت خارج مگرجنہوں نے ملک کولوٹا قوم کی محنت مشقت سے جمع ہونے والے اربوں ڈالرز کی چوری کرنے والے آزاد پھر رہے ہیں‌ ، آخریہ تضاد کیوں ہے

    بعض نے لکھا ہےکہ جس طرح دوخاندانوں نے ملک کا ستیا ناس کیا اورپھرساری دولت باہرلے گئے کسی نے لندن میں محل خرید لئے تو کسی نے سرے محل بنالیا ،باہرکے ملکوں میں پاکستانی قوم کا پیسہ لوٹ کرموجیں‌ کرنے والوں کو عدالتوں نے کیوں ریلیف دے رکھا ہے

    بعض نے لکھا ہے کہ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ 22 کروڑ لوگ صرف دوخاندانوں کے لیے کما رہے ہیں‌،بعض نے لکھا ہے کہ عجیب بات ہے کہ صرف ان دوخاندانوں کوبچانے کے لیے پوری کی پوری پارٹی داوپرلگی ہوئی ہے

    جبکہ بعض نے لکھا ہے کہ کبوترچوری کرنے والی کی ضمانت کا خارج ہونا کوئی پہلا واقعہ نہیں‌بلکہ یہاں وہ بھی جیلوں‌ میں‌ گئے جنہوں نے انڈا چوری کیا،لیکن بدقسمتی سےیہی عدالتیں ان بڑے دوخاندانوں کو ریلیف دینا ہی اپنی ذمہ داری سمجھ رہی ہیں‌

    بعض نے کہا ہے کہ اس ملک کی تباہی میں جہاں سیاستدانوں کا قصور ہے وہاں ان منصفوں کا بھی قصور ہے جواپنے ذاتی مفاد کی خاطرانصاف اور عدل طاقتور کی خواہش کے مطابق کرتے ہیں‌

  • نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • ڈیل یا ڈھیل، نواز شریف کے خلاف اہم کیس ختم کرنے کا فیصلہ

    ڈیل یا ڈھیل، نواز شریف کے خلاف اہم کیس ختم کرنے کا فیصلہ

    ڈیل یا ڈھیل، نواز شریف کے خلاف اہم کیس ختم کرنے کا فیصلہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈیل یا ڈھیل، نواز شریف کے خلاف نیب نے اہم کیس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا

    ایل ڈی اے پلاٹوں کی تقسیم کا معاملہ، سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف انویسٹی گیشن بندکرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،سابق ڈی جی نیب لاہورسلیم شہزاد نے انویسٹی گیشن بندکرنےکی منظوری دی نیب لاہور نے حتمی فیصلے کیلئے فائل چیئرمین قومی احتساب بیورو کو بھجوا رکھی ہے تحقیقاتی ٹیم نے انکوائری رپورٹ میں انویسٹی گیشن بند کرنے کی سفارش کی تھی،نواز شریف کیخلاف 3 اپریل 2000 کوشکایت موصول ہوئی، نواز شریف پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے قریبی لوگوں میں پلاٹ بانٹنےکا الزام تھا

    ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا ہے کہ نواز شریف پرسیاسی بنیادوں پرکیسز بنائے گئے، نواز شریف کے خلاف کی جانے والی انتقامی کاروائیاں سب سامنے آئیں گی اور سب کو پتہ چلے گا کہ غلط کیسز بنائے گا

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے لئے لندن گئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے ,نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ماضی میں میاں نواز شریف کی صحت بارے مسلسل آگاہ کرتے اب ان کے ٹوئٹر پر شاعری،احادیث یا کورونا وائرس بارے معلومات ہی ملتی ہیں،میاں نواز شریف کی صحت بارے پارٹی رہنما ،کارکنان اور قوم پریشان مگر تمام ذرائع خاموش ہیں. نواز شریف جلسوں سے خطاب کرتے نظر آتے ہیں اور ساتھ ریسٹورینٹ میں بھی نظر آتے ہیں لیکن ہسپتال میں گئے ایک دن بھی نظر نہیں آئے

    @MumtaazAwan

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

     سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

    اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

    ان ہاؤس تبدیلی، اہم شخصیت حکومتی اراکین کی فہرست لے کر نواز شریف سے ملنے پہنچ گئی

    شیخ رشید کی نواز شریف کو آفر، پی ڈی ایم سے تاریخ بدلنے کی اپیل

     

  • ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال

    ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال

    ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے

  • اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے؟ شیخ رشید نے بڑوں کی امید پر پھیرا پانی

    اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے؟ شیخ رشید نے بڑوں کی امید پر پھیرا پانی

    اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے؟ شیخ رشید نے بڑوں کی امید پر پھیرا پانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ہر پارٹی چاہتی ہے اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے ،

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے زیر تعمیر ماں اور بچہ ہسپتال نزد ٹی بی سینٹر راولپنڈی کا دورہ کیا،وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور راشد شفیق بھی وزیر داخلہ کے ہمراہ تھے، اس موقع پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ لگتا تھا نالہ لئی میرے مرنے کے بعد بنے گا ،اب خواب پورا ہوا ،نوازشریف کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا وزیراعظم سے کہا ہے کہ ماں بچہ اسپتال کو ہر صورت تعمیر کرنا ہے عمران خان کا ایجنڈا مہنگائی کا خاتمہ ہے تین لوگ یہاں ہیں ،سیاسی تابوت کو اٹھانے کے چار پائے چاہیے ہوتے ہیں نالہ لئی مکمل ہوگیا تو شہر کی تاریخ بدل جائے گی،اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ ہے وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہوگی

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ ہم عمران خان کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں،عمران خان کی قیادت میں کام کرتے رہیں گے،عمران خان ڈنکے کی چوٹ پر پانچ سال پورے کریں گے اور پھر زور دار الیکشن لڑیں گے ،ہم ایسے اتحادی ہیں جو ہر حال میں انکے ساتھ ہیں، روز ناراض ہونے والے نہیں، الیکشن جیت، ہار کا نام ہے، ساری زندگی علماء کرام کے ساتھ رہا ہوں تمام مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ، اسلامی نطام کا حامی ہوں، علماء کرام کا احترام کرتا ہوں، پانچویں سال میں عمران خان مہنگائی ختم کرے گا،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایک ماہ سے پھنسا ہوا، آنا ہے تو آؤ، شیخ ہونے کے باوجود ٹکٹ دیتا ہوں، شیخ نقصان نہیں کرتے ، بتائیں نواز شریف کس دن آنا چاہتے ہیں، پاکستان کی عظیم افواج اور ادارے پاکستان کے لئے زندہ ہیں اور کام کرتے ہیں حکومتیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں، یہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، جن کے پیٹ میں درد ہے وہ لائیو نہیں بتا سکتا،اتحادی جماعتیں ناراض ہوتی ہیں، انکو بھی ناراض ہونا چاہئے، منی بجٹ جب بھی ہو ،کوئی قیامت نہیں آ جائے گی، منی بجٹ پاس ہو گا اور یہ اسلئے ہے تا کہ روپے کی قیمت پر کنٹرول کیا جائے،رافیل کے توڑ میں جے ایس 10فلائنگ پریڈ کرے گا اپوزیشن مارچ ضرور کرے لیکن مارچ میں نہیں ،اپنے فیصلے پرنظر ثانی کرے،

    ایک اور یوٹرن، ساتھ شیخ رشید نے اسلام آباد والوں کو خوشخبری بھی سنا دی

    سعد رضوی سے بھی بات ہورہی،وزیراعظم کیا اعلان کرنیوالے ہیں،شیخ رشید نے بتا دیا

    معاملے کو بہتر انداز سے سلجھایا گیا،شیخ رشید

    شیخ رشید نے لاہور بیٹھ کر اسلام آباد والوں کو سنائی خوشخبری

    لڑکے نالائق،لڑکیاں آگے،اب یہ کام کرنے کو دل نہیں کرتا، شیخ رشید

    23 مارچ کو مارچ کی کال بڑی غلطی ہے ،شیخ رشید کی اپوزیشن کو وارننگ

    شیخ رشید کی نواز شریف کو آفر، پی ڈی ایم سے تاریخ بدلنے کی اپیل

    مرنے کے بعد سیاسی مخالفین میرا کفن کھول کر دیکھیں گے مرا ہے کہ نہیں،شیخ رشید

  • انصار عباسی سے بات ہوئی یا نہیں؟ رانا شمیم آج بول پڑے

    انصار عباسی سے بات ہوئی یا نہیں؟ رانا شمیم آج بول پڑے

    انصار عباسی سے بات ہوئی یا نہیں؟ رانا شمیم آج بول پڑے

    رانا شمیم کے وکیل لطیف آ فریدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم نے اس بیان حلفی کو مانا ہے، اس کے بیک گراونڈ میں جانا سب باتیں ہیں

    لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ عدالت کو کہا انکوائری کی ضرورت ہے، آئندہ بھی کہوں گا،ثاقب نثار کی صفائی کے حوالے سے بات کو نظر انداز کیا گیا،گواہان میں بڑے بڑے نام آسکتے ہیں،ہر دفعہ اٹارنی جنرل متنازعہ بات کر جاتے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے،اٹارنی جنرل کس حیثیت سے عدالت پیش ہوتے ہیں؟وقت آنے پر دیکھیں گے میں نے بیان حلفی کسی کو نہیں دیا،

    سابق چیف جج رانا شمیم کا کہنا تھا کہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا ،نہ ہی میری انصار عباسی سے بات ہوئی ،بھائی کے جنازے میں تھا جب مجھے کال آرہی تھی، میرا بیان حلفی پریویلیج دستاویز تھا،رانا شمیم سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ انصار عباسی کو قانونی نوٹس بھجوائیں گے ؟ جس پر رانا شمیم نے صحافی کو جواب دیا کہ وقت آنے پر دیکھیں گے کہ کیا کیا جاسکتا ہے

    سابق چیف جج گلکت بلتستان رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تو صحافی نے رانا شمیم سے سوال کیا کہ کہا جا رہا ہے کہ آپ نے نوازشریف کے ساتھ بیٹھ کر بیان حلفی بنایا،جس پر رانا شمیم نے صحافی کو جواب دیا کہ یہ بات تو انہی سے پوچھیں جو ایسا کہہ رہے ہیں، میں نے اکیلے یہ حلف نامہ دیا تھا،

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد ہوگی،رانا شمیم کو ملا آخری موقع

    رانا شمیم بیان حلفی کیس، فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ طے

  • بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ ملتوی کرنیکا مطالبہ آ گیا

    بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ ملتوی کرنیکا مطالبہ آ گیا

    بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ ملتوی کرنیکا مطالبہ آ گیا
    مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی اجلاس ختم ہو گیا ہے

    اجلاس ختم ہونے کے بعد ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں منی بجٹ کے حوالے سے پارٹی حکمت عملی طے کی گئی،منی بجٹ پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے، منی بجٹ سے ہر پاکستانی متاثر ہوگا انتخابی قوانین میں ترامیم کے حوالے سے بھی غور و غوض کیا گیا،منی بجٹ میں 500 ارب کے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں،منی بجٹ پر پارلیمان میں بحث نہ ہوئی تو سخت احتجاج ہوگا،

    قبل ازیں مسلم لیگ(ن) نے الیکشن کمیشن سے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ مارچ تک ملتوی کرنے کی استدعا کر دی، ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر سردار یوسف نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کو دوسرا مرحلہ ملتوی کیا جائے، جن اضلاع میں دوسرا مرحلہ ہوگا وہاں موسم شدید سرد ہے الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ مارچ تک ملتوی کیا جائے

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا لندن میں علاج جاری ہے،نواز شریف ڈاکٹرز کی اجازت سے واپس آئیں گے، پاکستان نواز شریف کا اپنا ملک ہے ضرور واپس آئیں گے،عمران نیازی خوف کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ وہ ناکام ہو چکے ہیں

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    بلدیاتی الیکشن، پشاور سے 14 پریذائیڈنگ افسر لاپتہ

    بلدیاتی انتخابات،تحریک انصاف کی شکست، وزیراعظم بھی بول پڑے

    عمران خان،عثمان بزدار آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے،احسن اقبال

  • شریف خاندان نے عدلیہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی،شہزاد اکبر

    شریف خاندان نے عدلیہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی،شہزاد اکبر

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ شریف خاندان نے عدلیہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔

    باغی ٹی وی :معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ عرفان ہاشمی کا بڑا انکشاف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قوم پہلے سے ہی جانتی ہے، شریف خاندان نے عدلیہ پر حملہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی اور اس کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ڈالی اور اس انکشاف کے ساتھ کہ نواز شریف نے رانا شمیم ​​سے اپنے دفتر میں موجودگی میں مشکوک حلف نامے پر دستخط کرائے-

    ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے:بیٹے نےتسلیم کرلیا کہ میرے ابو”رانا شمیم” نواز لیگ وکلا…


    انہوں نے لکھا کہ انکشاف ہوا نواز شریف نے رانا شمیم سے حلف نامے پر دستخط کرائے اور بڑا سوال یہ ہے کہ صحافی کو قابل اعتراض حلف نامہ کس نے دیا۔


    شہزاد اکبر نے کہا کہ جیسا کہ رانا شمیم ​​کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیف میں تھا! کیا اس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ یا کیا ‘دوسرے’ ذریعہ موجود تھے؟جو بھی تھا، انتہائی مشکوک، قابل اعتراض اور پہلے سے سوچا ہوا تھا۔

    نواز شریف پہلے والا نواز شریف بلکہ انقلابی بن چکا ہے، شہباز گل

    ادھر وزیرمملکت فرخ حبیب نے بھی رانا شمیم کے صاحبزادے کے دعوے کی تصدیق کرتےہوئے کہا ہے کہ رانا شمیم ن لیگ وکلا ونگ کے عہدیدار ہیں، یہ بات ان کے صاحبزادے نے خود ٹی وی پر تسلیم کی۔


    وزیر مملکت فرخ حبیب کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ نوازشریف نے عدلیہ پر حملے کیلئے بیان حلفی بھی اپنی موجودگی میں تحریر کرایا، یہ بہت بڑا انکشاف ہے ،اسی لئے تو انہیں گارڈ فادر کہا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسی جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا۔

    قبل ازیں فواد چودھری نے رانا شمیشم کے حلف نامے سے متعلق اخبار کی خبر سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر شئیرکی تھی فواد چودھری نے خبر شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ رانا شمیم نے حلف نامہ نوازشریف کے دفتر میں ان کےسامنے نوٹیرائز کرایا۔

    رانا شمیم نے حلف نامہ نواز شریف کے دفتر میں ان کےسامنے نوٹیرائز کرایا، فواد…

    انہوں نے کہا تھا کہ حلف نامہ ثاقب نثار اوراسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف تھا نئے انکشافات نے پھرشریف فیلی کو سیلین مافیا ثابت کیا وہ مافیا کی طرح عدالتوں سمیت اداروں کو بلیک میل کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات میں کامیابی کراچی کی جیت ہے:سعید غنی