Baaghi TV

Tag: نیب

  • کوئی فیورٹ یا دشمن نہیں، نیب کو مکمل طور پرغیر سیاسی بنائینگے، چیئرمین نیب

    کوئی فیورٹ یا دشمن نہیں، نیب کو مکمل طور پرغیر سیاسی بنائینگے، چیئرمین نیب

    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ ہمیں جرم کا خاتمہ کرنا ہے، ملزم کا نہیں

    لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ر نزیر احمد کا کہنا تھا کہ ملک میں کرپشن بڑھتی جا رہی ہے نیب افسران کم سے کم وقت میں کیسز نمٹائیں کرپشن کیسز میں ریکوریز بڑھ رہی ہیں نیب قوم کا اعتماد حاصل کرکے رہے گا ماضی میں نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا، نیب کی ساکھ بحال کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں،

    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ر نزیر احمد کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا ادراک ہے،متاثرین کی مدد کیلئے نئی پالیسی بنا رہے ہیں، دھوکا دہی کے متاثرین کی رائے مد نظر رکھ کر پالیسی مرتب کی جائے گی بد عنوانی کے خاتمے میں ہمارا کوئی فیورٹ یا دشمن نہیں نیب کو مکمل طور پرغیر سیاسی بنا کر دم لیں گے ہمیں ادارے کو عقوبت خانہ نہیں بنانا، ہم تمام قوانین کا جائزہ لے رہے ہیں اور تین ماہ میں مؤثر قانون سازی کرکے جرائم کا خاتمہ کریں گے البتہ کوشش ہوگی ہم خاموشی کے ساتھ کریں نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا تھا جس کی وجہ سے نیب کی توجہ اپنے اہداف سے ہٹ گئی تھی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا آغاز لاہور سے ہوگا سزا و جزا عدالت کا کام ہے نیب کی بنیادی ذمہ داری قانون میں کمی کو پورا کرنا بھی ہے

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

  • انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ نیب انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے خط لکھ چکی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وہ خط انور مجید کے وکیل کو دکھایا گیا یے؟ وکیل انور مجید نے کہا کہ نیب عدالت نے انور مجید کا کیس بینکنگ کورٹ کو بھجوا دیا ہے، بینکنگ عدالت کو کیس بھجوانے کا ابھی تحریری حکمنامہ نہیں آیا،نیب کو بھی بیرون ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں، عدالت اجازت دے تو میرا موکل علاج کیلئے بیرون ملک جانا چاہتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا، جب تک نیب تسلیم نہ کرلے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے،دوسری صورت میں پھر کیس کو تفصیلی سن کر فیصلہ کرنا ہو گا،نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس انکے دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں، وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی 81 سال عمر ہے فوری سرجری کی ضرورت ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینکنگ عدالت میں کیس بھجوانے کا فیصلہ بھی نیب کے بیان کے بعد دیا گیا ہوگا، عدالت نے نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دیا گیا بیان طلب کرلیا کیس کی مزید سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

  • آمدن سے زائداثاثے،فرح خان نے نیب میں جواب جمع کروا دیا

    آمدن سے زائداثاثے،فرح خان نے نیب میں جواب جمع کروا دیا

    آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں فرح خان اور ان کے شوہر احسن گجر نے جواب جمع کروا دیا

    نیب طلبی کے نوٹس پر جواب جمع کروایا گیا،فرح خان اور ان کےشوہر نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کےتوسط سے جواب جمع کرایا ، فرح خان اور ان کے شوہر کو نیب نے آج طلبی کےنوٹس جاری کررکھے ہیں، جواب میں کہا گیا کہ نیب نے ریفرنس دائر کرنے سے قبل کردار کشی پرمبنی پریس ریلیزجاری کی جو قانون کی خلاف ورزی ہے نیب کےسیکشن 33 F کےتحت کسی بھی ملزم کو عدالت ہی قانونی ضابطے کےبعد مجرم قرار دے سکتی ہے عدالت قانونی ضابطے کےبعد شواہد نہ ملنے پر ملزم کو بری کرنے کا بھی اختیار رکھتی ہے نیب کےسیکشن 33G کے تحت پریس ریلیز کےذریعےکردار کشی کرنا قابل گرفت ہے نیب کردار کشی کرنے پرپہلے ذمہ دار متعلقہ افسران کو سزا دے۔ نیب کو پرائیوٹ برنس کے معاملے میں تحقیقات کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کا اپنا کاروبار ہے نیب کی جانب سے کاروباری معاملے کی تحقیقات اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے جن بنیک اکاوئنٹس کو بنیاد بنا کرچھان بین شروع کی گئی ہے وہ پہلے سے ظاہر کردہ ہے فرح خان اور ان کے شوہر نیب کیخلاف ہتک عزت کی کارروائی کا حق محفوظ رکھتےہیں

    واضح رہے کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کو 8 جون کو طلب کیا گیا تھا نیب کا کہنا ہے کہ ملزمان کے نام پر 117 بینک اکاونٹس ہونے اور ساڑھے 4 ارب روپے کی مبینہ ٹرانزیکشنز کے انکشاف پر دونوں کی طلبی کا فیصلہ کیا گیا ہےتحقیقات میں ملزمان کے 4 فارن بینک اکاؤنٹس بھی سامنے آئے جبکہ ان کے نام پر ڈیڑھ ارب روپے کی جائیدادیں پائی گئی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے فرح اور اسکے شوہر کو 117 بینک اکاؤنٹس سامنے آنے پر طلب کیا ہے، دونوں کے 117 بینک اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں، نیب زرائع کے مطابق ملزمان کے خلاف تحقیقات کے دوران چار فارن بینک اکاؤنٹس بھی سامنے آئے، ان بینک اکاؤنٹس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کے دورحکومت میں ساڑھے چار ارب کی ٹرانزیکشن مبینہ طور پر ہوئی ہیں،دونوں ملزمان کے نام پر مجموعی طور پر ڈیڑھ ارب مالیت کی جائیداد بھی ہے، 2021 میں فرح گوگی نے ایف بی آر کو 97 کروڑ کے اثاثے ظاہر کئے، دونوں کی ملکیت میں دس کمپنیز کا بھی پتہ لگایا گیا، جو مالی لین دین کے طور پر استعمال ہوتی رہیں،

    یاد رہے کہ عدالت فرح خان کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں اشتہاری قرار دے چکی ہےایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ فرح خان تحقیقات سے بچنے کے لئے ملک سے فرار ہیں، جنہوں نے غیر قانونی سیاسی اثر و رسوخ سے اربوں روپےکمائے اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں فرح خان نے منی لانڈرنگ کے ذریعےاثاثہ جات بنائےانہوں نےسرکاری افسران پر دباؤ ڈال کر غیر قانونی ٹھیکے لئے اور ٹھیکے ایوارڈ کروانے کے لئے کروڑوں روپے کی رشوت بھی لی۔

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

  • محکمہ ایکسائز نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے نام رجسٹرڈ گاڑیوں کی تفصیل نیب کو بھجوا دی

    محکمہ ایکسائز نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے نام رجسٹرڈ گاڑیوں کی تفصیل نیب کو بھجوا دی

    محکمہ ایکسائز پنجاب نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے نام رجسٹرڈ گاڑیوں کی تفصیل نیب کو بھجوا دی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع محکمہ ایکسائز کے مطابق نیب کو بھجوائی گئی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ 22 گاڑیاں فرحت شہزادی کے نام پر رجسٹرڈ ہیں فواد چوہدری کے نام پر ایک اور شہزاد اکبر کے نام پر 2 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں-

    ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    محکمہ ایکسائز کے مطابق شفقت محمود کے نام پر 4 اور عمر ایوب کے نام پر ایک گاڑی رجسٹرڈ ہے تمام دفاتر سے تفصیلات اکٹھی کر کے نیب کو بھججوائی گئی ہیں۔

    دوسری جانب نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں نیب راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو آج طلب کرلیا،نیب نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کے مرکزی ملزم عمران خان کو آج 11 بجے نیب راولپنڈی دفتر طلب کیا ہے۔

    پاکستانی سیاست کے فیصلے پاکستانی عوام نے کرنے ہیں،امریکا

    چیئرمین پی ٹی آئی کو نیب سوالنامے کے تمام سوالات کے جواب لانے کے ساتھ کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی،نیب نے عمران خان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دوبارہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

    نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں نیب نے بشری بی بی کو بھی آج طلب کیا ہےنیب نے بشری بی بی کوبطور گواہ نوٹسزجاری کیے۔ نیب کی جانب سےعدالت میں بتایا گیاکہ بشری بی بی کی گرفتاری نہیں چاہیئےبشری بی بی سےالقادر ٹرسٹ کی دستاویزات رجسٹریشن اور ایچ ای سی سے رجسٹریشن سمیت ملنے والے عطیات کی تفصیل بھی طلب کی گئیں ہیں۔

    امریکا کا سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے مزید امداد کا اعلان

  • نیب نے فرح  گوگی کوشوہرسمیت طلب کر لیا

    نیب نے فرح گوگی کوشوہرسمیت طلب کر لیا

    لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کو 8 جون کو طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نیب کا کہنا ہے کہ ملزمان کے نام پر 117 بینک اکاونٹس ہونے اور ساڑھے 4 ارب روپے کی مبینہ ٹرانزیکشنز کے انکشاف پر دونوں کی طلبی کا فیصلہ کیا گیا ہےتحقیقات میں ملزمان کے 4 فارن بینک اکاؤنٹس بھی سامنے آئے جبکہ ان کے نام پر ڈیڑھ ارب روپے کی جائیدادیں پائی گئی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے فرح اور اسکے شوہر کو 117 بینک اکاؤنٹس سامنے آنے پر طلب کیا ہے، دونوں کے 117 بینک اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں، نیب زرائع کے مطابق ملزمان کے خلاف تحقیقات کے دوران چار فارن بینک اکاؤنٹس بھی سامنے آئے، ان بینک اکاؤنٹس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کے دورحکومت میں ساڑھے چار ارب کی ٹرانزیکشن مبینہ طور پر ہوئی ہیں،دونوں ملزمان کے نام پر مجموعی طور پر ڈیڑھ ارب مالیت کی جائیداد بھی ہے، 2021 میں فرح گوگی نے ایف بی آر کو 97 کروڑ کے اثاثے ظاہر کئے، دونوں کی ملکیت میں دس کمپنیز کا بھی پتہ لگایا گیا، جو مالی لین دین کے طور پر استعمال ہوتی رہیں،

    کراچی کے لوگوں کو وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی،حافظ نعیم

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے انٹرپول کے ذریعے فرح خان کو گرفتار کر کے پاکستان لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اور ان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھاانٹرپول کو ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست پر فرح گوگی کی لیگل ٹیم نے انٹر پول اور ایف آئی اے کو قانونی نوٹس بھی بھجوایا تھا۔

    یہ تاثر نہیں ملنا چاہیےکہ نگراں حکومت طاقت میں رہنا چاہتی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    یاد رہے کہ عدالت فرح خان کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں اشتہاری قرار دے چکی ہےایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ فرح خان تحقیقات سے بچنے کے لئے ملک سے فرار ہیں، جنہوں نے غیر قانونی سیاسی اثر و رسوخ سے اربوں روپےکمائے اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں فرح خان نے منی لانڈرنگ کے ذریعےاثاثہ جات بنائےانہوں نےسرکاری افسران پر دباؤ ڈال کر غیر قانونی ٹھیکے لئے اور ٹھیکے ایوارڈ کروانے کے لئے کروڑوں روپے کی رشوت بھی لی۔

    جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے سے یاسمین راشد کی بریت چیلنج

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

  • نیب کا  بشریٰ بی بی کو گواہ بنانے کا فیصلہ

    نیب کا بشریٰ بی بی کو گواہ بنانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گواہ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : ذرا ئع کے مطابق نیب نے القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گواہ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے،بشری بی بی کو بھجوائے گئے نوٹس کے مطابق 7 جون کو بشری بی بی کا بطور گواہ بیان قلمبند ہوگا۔

    پاکستان کا ہر شہری اپنی افواج کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے،لطیف کھوسہ

    ذرائع کے مطابق بشری بی بی کو نوٹس بطور ملزمہ نہیں، بطور گواہ جاری ہواطلبی بطور ملزم ہے یا گواہ ترمیمی ایکٹ کے تحت نیب نوٹس میں بتانے کا پابند ہے، بشری بی بی کو جاری نوٹس میں بطور گواہ طلبی کا ذکر موجود ہے-

    نوٹس میں بشری بی بی سے القادر ٹرسٹ کی دستاویزات بھی طلب کرلی گئی ہیں جبکہ القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن، پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا۔

    واضح رہے کہ نیب نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) سے 19 کروڑ پاؤنڈ کی واپسی کے اسکینڈل کے معاملے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جے آئی ٹی میں طلب کرلیا ہے۔

    بشریٰ بی بی کو بھیجے گئے نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ 7 جون کو صبح 11 بجے نیب راولپنڈی کے دفتر جی-6 اسلام آباد میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں اور بھیجے گئے سوالات کے جواب تحریری شکل میں جمع کرا دیں۔

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن اور مریم نواز کےخلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    نیب کی جانب سے نوٹس میں القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ، القادر یونیورسٹی پروجیکٹ انڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ اور القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن سمیت دیگر تمام دستاویزات ساتھ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے-

    القادر ٹرسٹ کیس:

    سال 2018 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ 19 کروڑ پاؤنڈز مالیت کے تصفیے پر اتفاق کیا تھا این سی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق تصفیے میں برطانیہ کی ایک جائیداد، 1 ہائیڈ پارک پلیس، لندن، شامل تھی جس کی مالیت تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ تھی اور تمام رقم ملک ریاض کے منجمد اکاؤنٹس میں آگئیں۔

    یاسمین راشد کی قیادت میں کورکمانڈرہاؤس لاہورپہنچا اور توڑ پھوڑ کی،ملزم کا اعترافی بیان

    اسی سال جب یہ پتا چلا تھا کہ ملک ریاض نے کراچی کے مضافات میں ضلع ملیر میں ہزاروں ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر حاصل کی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کے عوض ملک ریاض کی رئیل اسٹیٹ کمپنی، بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کی جانب سے 460 ارب روپے کے سیٹلمنٹ واجبات کی پیشکش قبول کر لی تھی۔

    این سی اے کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد ملک ریاض نے ٹوئٹ کیا تھا کہ برآمد شدہ رقم، سپریم کورٹ کے 460 ارب روپے جرمانے کی ادائیگی میں جائیں گے۔

    بعد ازاں جب این سی اے نے 3 دسمبر کو اپنے فیصلے کا اعلان کیا تو یہ رقم حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئی جبکہ اس وقت کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا تھا کہ رقم براہ راست ریاست کے پاس آئے گی۔

    بعد میں اس ابہام کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے جواب دیا تھا کہ ’کیا سپریم کورٹ حکومت کا حصہ نہیں ہے؟ لہٰذا اگر پیسہ سپریم کورٹ میں جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پیسہ ریاست کے پاس آتا ہے۔

    کینیڈا سے پاکستان کے تین شہروں کیلئے پروازیں چلائی جائیں گی

    جون 2022 میں یہ معاملہ ایک مبینہ آڈیو لیک ہونے کے بعد دوبارہ سامنے آیا جس میں مبینہ طور پر ملک ریاض اور ان کی بیٹی کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی تھی، جس میں دونوں کو عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان عرف گوگی کے فرضی مطالبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

    عمران خان کی حکومت کے کچھ مبینہ احسانات پر، خاتون نے اپنے والد کو بتایا کہ فرح نے انہیں بتایا تھا کہ (سابق) خاتون اول نے ان سے 3 قیراط کی ہیرے کی انگوٹھی قبول نہ کرنے کو کہا تھا اور 5 قیراط کا مطالبہ کیا تھا۔

    گزشتہ برس یکم دسمبر کو بظاہر رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش میں قومی احتساب بیورو نے علی ریاض اور دیگر فائدہ اٹھانے والوں کو پیش ہونے کو کہا۔

    جانی خیل میں فائرنگ کا تبادلہ، 2دہشتگرد ہلاک،2 جوان شہید

    نیب کے نوٹس میں کہا گیا کہ اختیارات کے غلط استعمال، مالی فوائد اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ علی ریاض ملک اور دیگر نے حکومت پاکستان کو فنڈز کی واپسی کے لیے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ عدالت سے باہر تصفیہ کا معاہدہ کیا۔

    مزید برآں میسرز بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم میں واقع 458 ایکڑ، چار مرلہ اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی ہے، لہٰذا آپ کے پاس ہر وہ معلومات/شواہد ہیں جو مذکورہ جرم (جرائم) کے کمیشن سے متعلق ہیں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق عمران خان کی اہلیہ ٹرسٹ کے ٹرسٹیز میں سے ایک ہیں۔

    گوجرانولہ :2 قومی اور 2 صوبائی اسمبلی کے امیدواروں نےپی ٹی آئی چھوڑ دی

  • کام نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں، عملدرآمد نہ ہوا تو وزیراعظم کو بلاؤنگا،عدالت

    کام نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں، عملدرآمد نہ ہوا تو وزیراعظم کو بلاؤنگا،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سابق مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی ،عدالتی حکم پر ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل ،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے،لاپتہ مراد اکبر کے وکیل قاسم ودود عدالت میں پیش ہوئے،ایڈوکیٹ جنرل نے درج مقدمے کی تفصیل عدالت میں پیش کردی،ایس پی نوشیروان اور ڈی ایس پی لیگل بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں جو لوگ آئے نہ سی ٹی ڈی کے نہ رینجر کے تھے ، یہ کنفرم کریں ، ڈی آئی جی نے عدالت میں کہا کہ جی بالکل ان میں سے کوئی نہیں تھا ،عدالت نے استفسار کیا کہ فوٹیج میں دیکھا گیا یے کون ہے، ڈی آئی جی نے کہا کہ جی بالکل ہم اسکو دیکھیں گے عدالت ہمیں وقت دے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر گاڑیاں اور افراد کا تعین ہو گیا تو اسکے نتائج ہونگے ، اتنے لوگ جب سی ٹی ڈی اور رینجر کی وردی میں آئیں گے تو یہ شیم فل ایکٹ ہوگا ، کروڑوں روپے سیف سٹی پر لگ گئے، لوگوں کی ذاتی ویڈیو بنا بنا کر اپلوڈ کردیتے ہیں لیکن چور اور ڈاکووں کو نہیں پکڑتے ، کہاں ہیں ڈی جی رینجرز ؟؟وزارت دفاع سے کون ہے،

    عدالت نے ڈی جی رینجرزکو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر ڈی جی رینجرز کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرونگا ، وہ زمہ دار ہیں اگر انکی وردی استعمال ہو رہی ہے تو، اسلام آباد کے اندر اتنے لوگوں نے مل کر ایک بندے کو اٹھایا ،پولیس رینجر اور سی ٹی ڈی کی وردی میں لوگ آکر بندہ لے گئے، کیا وہ جعلی لوگ تھے، آپ نے پرچہ کیوں نہیں درج کیا ،پولیس اور رینجرز کی وردی میں چوریاں ہو رہی ہیں ،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پہلے رینجرز کو ڈائریکشن نہیں تھے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں ابھی آرڈر کردیتا ہوں سمجھ لگ جائے گی سب کو ، ورنہ اسلام آباد میں نہ آئی جی کو رہنے کا حق ہے نہ کسی اور کو ، ڈی جی رینجر کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ انکی وردی اگر استعمال ہوئی ہے ، لوگ پولیس اور رینجر کی وردیوں میں بندے اٹھا رہے ہیں اور کس کو پرواہ ہی نہیں ،عدالت نے وزارت دفاع کے نمائندے کو ہدایت کی کہ ڈی جی رینجر کو کہیں آئیندہ سماعت پر خود آئیں ، اسکا ایفکٹ آئے گا ،ڈی جی رینجرز ، آئی جی معاملے کو دیکھیں اور مقدمہ درج کرائیں، عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو بھی پیر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،ڈی جی رینجرز کو بھی پیر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    عدالت نے حکم دیا کہ اپنی اپنی ایف آئی آر لے کر آئیے گا ، اپنے اپنے ادارے کی وردی آپ نے بچانی یے، میں پھر ان سے پوچھوں گا کہ اسلام آباد میں آپ اپنی وردی کیوں نہیں سنبھال سکتے ، آرڈر کا مقصد تاکہ آئندہ اصلی وردی والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ، اگر آپ اس طرح کام نہیں کرسکتے تو آپ لوگ گھر چلے جائیں، اگر عمل درآمد نہ ہوا تو وزیر اعظم کو بلاؤنگا ، اگر بندہ نہ آیا تو اگلی تاریخ پر وزیر داخلہ کو بلاونگا ،اگر پھر بھی نہ آیا بندہ تو وزیر اعظم کو بلاونگا ، 36 کلومیٹر کے ایریا میں اگر امن وامان کا یہ عالم رہا تو آپ لوگ پھر اپنے گھر چلے جائیں ،کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • چئیرمین نیب کے اختیارات میں اضافہ،نوٹیفیکیشن جاری

    چئیرمین نیب کے اختیارات میں اضافہ،نوٹیفیکیشن جاری

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) چیئرمین کے اختیارات میں نئے قانون کے تحت اضافہ ہوگیا-

    باغی ٹی وی: نئے قانون کے تحت چیئرمین کے اختیارات میں اضافہ ہوگیا ترمیمی ایکٹ 2023 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جس کے بعد نیا قانون نافذ العمل ہو گیا-

    82 سالہ اداکار کی 29 سالہ ساتھی کے ہاں بچے کی ولادت متوقع

    جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق چئیرمین نیب کیسز اور انویسٹی گیشنز بند کرسکیں گے،نیب کے سیکشن5 کے برعکس بننے والے تمام کرپشن کیسز بند کر دئیے جائیں گے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق چیئرمین نیب کرپشن کیسز کی انکوائریز، انویسٹی گیشن بند کرنے اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھجوا سکیں گے، چیئر مین نیب کی عدم دستیابی کی صورت میں ڈپٹی چیئرمین کو مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔

    نیب ایک خودمختار اور آئینی طور پر قائم کردہ وفاقی ادارہ ہے جو بدعنوانی کے خلاف کوششیں کرنے اور حکومت پاکستان کے لیے معاشی دہشت گردی کے خلاف قومی اقتصادی انٹیلی جنس کے اہم جائزے تیار کرنے کا ذمہ دار ہے موجودہ سربراہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ ہیں ۔

    امریکا کا یوکرین کیلئے30 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کا اعلان

    نیب کو معاشی دہشت گردی اور مالیاتی جرائم کے خلاف اپنی کارروائیوں کو نافذ کرنےکےعلاوہ ہر طرح سے ضروری روک تھام اور آگاہی فراہم کرنے کا اختیار حاصل ہےچونکہ یہ 16 نومبر 1999 کو پرویز مشرف کی طرف سے قائم کیا گیا تھا، اس کے دائرہ کار میں توسیع اور توسیع کی گئی ہے۔ آئین تحقیقات شروع کرنے، انکوائری کرنے، اور مالی بدانتظامی ، اقتصادی دہشت گردی ، بدعنوانی (تمام نجی شعبے ، ریاستی شعبے ، دفاعی شعبے اور کارپوریٹ سیکٹر میں)، اور مقدمات کی ہدایت کرنے والے افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    سیف سٹی لاہور کا انفراسٹرکچر دنیا کے بہترین سسٹمز میں سے ہے،چئیرمین آئی سی سی

    احتساب عدالتوں میں اسے آرڈیننس نمبر XIX کے ذریعے قائم کیا گیا، اس کے اختیارات کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 270AA کے ذریعے اعلیٰ سطح پر انکوائری کرنے کے لیے توسیع دیا گیا ہے اسلام آباد میں واقع اس کے صدر دفتر کے ساتھ، اس کے چار علاقائی دفاتر چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ہیں۔

    امریکا دیوالیہ ہونے سے بچ گیا

    بیورو کے دو پرنسپل افسران ہیں: چیئرمین؛ اور پاکستان میں احتساب کے پراسیکیوٹر جنرل۔ چیئرمین تحقیقات کا سربراہ ہوتا ہے، اور اس کی مدت چار سال ہوتی ہے لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد بیورو کے پہلے چیئرمین تھے پراسیکیوٹر جنرل استغاثہ کا سربراہ ہےاور تین سال کی مدت پوری کرتا ہےایک ریٹائرڈ جسٹس اصغر حیدرقومی احتساب بیورو(نیب) کےموجودہ پراسیکیوٹر جنرل ہیں۔

  • آشیانہ اقبال ریفرنس،شہباز شریف پرکرپشن یا بد نیتی کا کوئی ثبوت نہیں،وکیل

    آشیانہ اقبال ریفرنس،شہباز شریف پرکرپشن یا بد نیتی کا کوئی ثبوت نہیں،وکیل

    آشیانہ اقبال ریفرنس میں شہباز شریف دیگر کی بریت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے حتمی دلائل دیئے،وکیل نے کہا کہ شہادت قلمبند ہو چکی ہے کوئی شہادت شہباز شریف کے خلاف کچھ سامنے نہیں آیا،آشیانہ اقبال سکیم میں ہوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی، آشیانہ اقبال سکیم کے ٹھیکہ سے سرکاری خزانہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا،نیب سپلیمنٹری تفتیشی رپورٹ میں بھی کرپشن کے شواہد نہیں ملے،نیب ریکارڈ پر شہباز شریف اور دیگر کیخلاف کرپشن یا بد نیتی کا کوئی ثبوت نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کو کرپشن کے شواہد نہ ملنے پر ضمانت دی دی، لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کے آشیانہ اقبال سکیم میں کردار کو سراہا تھا،شہباز شریف کو لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کے فیصلہ گڈ بوائے کا لقب دیا تھا، آشیانہ اقبال ریفرنس پہلے دن سے ہی غلط بنایا گیا، اس کیس میں ریکارڈ پر کرپشن اور بے ضابطگی کے شواہد نہیں ہیں،نیب افسران نے اختیارات کا غلط استعمال کرکے ریفرنس بنایا، نیب افسران نے بد نیتی کی بنیاد پر شہباز شریف کو آشیانہ اقبال سکیم میں ملوث کیا،نندی پور پروجیکٹ ریفرنس میں اربوں کی کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہوا، شہباز شریف نے آشیانہ اقبال یا کسی بھی منصوبے میں اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا،

    وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فواد حسن فواد کو بھی آشیانہ اقبال میں غلط ملوث کیا گیا، فواد حسن فواد کیخلاف آشیانہ اقبال سکیم کے ٹھیکہ میں رشوت کا الزام ثابت نہیں ہوا، فواد حسن فواد اس وقت وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری تھے،فواد حسن فواد کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں وہ بری ہو چکے ہیں،احد چیمہ اور فواد حسن فواد کو بھی بد نیتی کے باعث آشیانہ اقبال سکیم میں ملوث کیا گیا،نیب بتا چکا ہے کہ احد خان چیمہ کیخلاف کرپشن کے شواہد نہیں ملے، احد خان چیمہ کو نیب کلین چٹ دے چکا ہے،شہباز شریف اور احد چیمہ میرٹ پر بھی بری ہو سکتے ہیں

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر کیخلاف آشیانہ اقبال ریفرنس میں بریت کی درخواستیں دائر کر دی گئیں ،وزیراعظم شہباز شریف ، فواد حسن فواد، احد چیمہ اور دیگر نے آشیانہ اقبال ریفرنس میں بریت کی درخواستیں دائر کر دیں، عدالت میں دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب تفتیشی رپورٹ میں کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی نیب نے سپلیمنٹری تفتیشی رپورٹ میں بے گناہ قرار دیا کرپشن کے شواہد نہیں عدالت بری کرنے کا حکم دے

    نیب نے وزیر اعظم شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں کلیئر قرار دیا ہے، نیب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ میں شہبازشریف کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے کوئی ثبوت نہیں ملے آشیانہ سکینڈل میں شہباز شریف کے خلاف بدنیتی کا کوئی پہلو بھی ثابت نہیں ہوتا ، آشیانہ ہاؤسنگ کے ٹھیکے دینے کے عمل میں بدعنوانی کے کوئی ثبوت نہیں ملے آشیانہ پراجیکٹ شروع کرتے وقت سرکاری خزانے کوکوئی نقصان نہیں پہنچا نہ ہی شہباز شریف نے کوئی فوائد حاصل کیے اور نہ ہی کسی پبلک آفس ہولڈر نے کسی قسم کا کوئی فائدہ لیا

  • 109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کیس میں شامل تفتیش کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نیشنل کرائم ایجنسی کے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی تحقیقات میں شامل تفتیش ہونے کے لیے سابق وزیراعظم عمران خان نیب راولپنڈی آفس میں موجود ہیں-

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی گاڑی میں نیب راولپنڈی پہنچے جہاں پولیس کی جانب سے عمران خان کی سیکیورٹی کونیب دفتر داخلے سے روک دیا گیا۔ عمران خان کچھ دیر تک نیب دفتر کے باہر اپنی گاڑی میں ہی موجود رہے جس کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد انجم خود بھی نیب راولپنڈی آفس پہنچے-

    نیب ذرائع کے مطابق عمران خان نیب کی کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے عمران خان سے کیس سے متعلق 20 سوالات کے جواب طلب کیے جا رہے ہیں، عمران خان کی اہلیہ نیب راولپنڈی آفس کے باہر گاڑی میں موجود ہیں۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل کی۔

    عمران خان نے بتایا کہ 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق فیصلے کا ریکارڈ کابینہ ڈویژن کے پاس ہے، این سی اے برطانیہ کے ریکارڈ تک میری رسائی نہیں، القادر ٹرسٹ کا ریکارڈ نیب کو پہلے ہی مل چکا ہے۔

    نیب کی جانب سےعمران خان سےبرطانوی کرائم ایجنسی کےساتھ خط وکتابت کےریکارڈ سےمتعلق سوالات کیےجارہے ہیں نیب نے عمران خان سے 19 کروڑ پاونڈز کے فریزنگ آرڈرز کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا عمران خان کو منقولہ اورغیر منقولہ اثاثوں کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ بیوی، بچوں سمیت تمام زیر کفالت افراد کےاثاثوں کی تفصیل بھی طلب کرلی گئی۔

    نیب کا کہنا ہے کہ عمران خان کے 1992 کے بعد کے اثاثوں کا مکمل جائزہ لیا جائے گا، برطانیہ سے 190 ملین پاونڈز لا کر واپس ملزمان کو دیئے گئے، عمران خان نے ملزمان کو پیسے واپس دے کرمالی فائدے لیے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو ذاتی حیثیت میں پیش …

    نیب نے مزید کہا کہ ریاست پاکستان کے 190 ملین پاونڈز ملزمان کو واپس کیے گئے، عمران خان نے ملزمان سے 458 کنال زمین اور 28 کروڑ روپے لیے، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ٹرسٹ نے عطیات کی مد میں بھاری رقوم لیں۔

    عمران خان کی نیب راولپنڈی کے دفتر میں پیشی کے موقع وہاں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، پولیس، رینجرز، ایف سی اور ایلیٹ فورس کے دستوں کے علاوہ مرکزی دروازے پر رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ نیب دفتر کے باہر بکتر بند اور قیدی وین بھی پہنچادی گئیں۔

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا …