Baaghi TV

Tag: نیب

  • سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کا عوامی قوت سے جواب دیا جائےگا،پی ٹی آئی

    سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کا عوامی قوت سے جواب دیا جائےگا،پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف نے نیب اور رینجرز کیخلاف مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : لاہورمیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زیر صدارت مرکزی قیادت کا اجلاس ہوا جس میں کہاگیا ہے کہ نیب اور رینجرز کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تحریک انصاف مکمل طور پر پُرامن جماعت ہے ، تین نومبر کے بعد ہزاروں مقامات پر احتجاج کیا گیا مگر ایک پتھر تک نہیں اچھالا گیا۔

    اجلاس کے مطابق کنٹرولڈ میڈیا اور جھوٹے پرو پیگنڈے کی آڑ میں ملک گیر فساد کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں،احتجاج کےدوران شہریوں کی ہلاکتوں کےمقدمات بھی درج کروائےجائیں گےجن میں وفاقی وزیرداخلہ، پنجاب اورخیبر پختونخوا کے نگران وزرائے اعلیٰ اور پولیس افسران کو نامزد کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی اعلامیے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کا عوامی قوت سے جواب دیا جائےگا، القادر ٹرسٹ کیس عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی بھونڈی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اجلاس میں سوشل میڈیا کو فوری کھولنے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل کمیشن 9 مئی کی شہادتوں اور انتشار کی کوششوں کی تحقیقات کرے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان کی گرفتاری کے بعد جو پرتشدد واقعات ہوئے انہیں اب بہانہ بنا کر ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جا ئے گا تا کہ انہیں دس سال تک جیل میں ہی رکھا جا سکے لندن پلان کے تحت ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کو جیل میں ڈال کر ان کی بے توقیری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ حکمرانوں نے جج، جیوری اور سزا پر عملدر آمد والا کردار بھی خود ہی سنبھال لیا ہے سپریم کورٹ کے باہر جے یو آئی(ف) کا ڈرامہ کیا جا رہا ہے، اس کا صرف ایک مقصد ہے تاکہ چیف جسٹس آئین کے مطابق فیصلہ نہ دیں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا ، ان کی غلامی سے موت بہتر ہے۔

  • نیب حراست میں بھی عمران خان ان سے رابطے میں تھے،بابر اعوان

    نیب حراست میں بھی عمران خان ان سے رابطے میں تھے،بابر اعوان

    عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے انکشاف کیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے روز نیب حراست میں ہونے کے باوجود عمران خان ان سے رابطے میں تھے-

    باغی ٹی وی: عرب نیوزسےگفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ گرفتاری کے روز عمران خان کو ٹی وی تک رسائی نہیں تھی، صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ کو کیسے پتا چلا کہ عمران خان کو ٹی وی تک رسائی نہیں تھی؟ اس پر بابراعوان نےکہا کہ میں اسی شہر میں رہتا ہوں، ہمیں رابطے کرنے کے سارے طریقے معلوم ہیں۔

    پاک افواج تنصیبات کے تقدس کی خلاف ورزی کی مزیدکسی کوشش کوبرداشت نہیں کریں گی،آرمی …

    اعوان نے عرب نیوز کو بتایا کہ خان نے حراست میں رہتے ہوئے ملک کی طاقتور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے کسی سے ملاقات نہیں کی تفتیش خصوصی طور پر نیب کی طرف سے کی گئی تھی،” انہوں نے مزید کہا کہ پوچھنے کے لئے کچھ نہیں تھا، حالانکہ خان نے جتنے بھی ادارے بنائے، بشمول شوکت خانم ہسپتال اور القادر یونیورسٹی، وہ ان کے ذاتی منصوبے نہیں تھے۔

    اعوان نے مزید کہا کہ ان تمام اداروں کے اپنے آزاد بورڈ تھے، اور خان نہ تو کسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو تعینات کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے نام پر اکٹھے کیے گئے فنڈز کو استعمال کر سکتے ہیں اس کی جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں جاتا۔

    خان نے جنوری میں ایک نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں تقریباً 3 ملین ڈالر شوکت خانم میموریل ٹرسٹ (SKMT) کے فنڈز کی سرمایہ کاری کا اعتراف کیا، حالانکہ انہوں نے کہا کہ یہ رقم بعد میں واپس کر دی گئی۔

    پی ڈی ایم کا دھرنا کا فیصلہ،سپریم کورٹ بار کا سپریم کورٹ سے بھرپور یکجہتی …

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پی ٹی آئی کو اس کے رہنما کی گرفتاری کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، بابر اعوان نے اس خیال کو مسترد کر دیاانہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا کام نہیں ہے۔ یہ سپریم کورٹ کا کام ہے اور یہ آئین میں لکھا ہوا ہے۔

    اعوان نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور اس نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ "عمران خان کو مرکزی دھارے کی سیاست میں دیکھنا چاہتی ہے۔”

    تاہم، خان کے وکیل نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سابق وزیر اعظم حکام کے ساتھ تعاون کریں گے اگر وہ انہیں بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے طلب کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ انہیں ہونا چاہئے جو اس کے مؤکل کے ساتھ تعاون کریں۔

    سرکاری عمارتیں جلانےکی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں،عمران خان

    واضح رہے کہ اس سے پہلے عمران خان کی گرفتاری کے بعد مسرت جمشید چیمہ سے رابطے کی آڈیو بھی لیک ہوچکی ہے جس میں وہ اپنا مقدمہ سپریم کورٹ لےجانے کی ہدایات دے رہےہیں البتہ گزشتہ روزعمران خان نے سپریم کورٹ میں دعویٰ کیاتھا کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کا انھیں علم ہی نہیں تھا، وہ تو حراست میں تھے۔

    واضح رہے کہ اس ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی قانونی ٹیم نے ان سے رابطہ کیا، ان کے ایک سینئر وکیل نے جمعہ کو بتایا، جب قومی انسداد بدعنوانی کے نگران ادارے نے ان سے کروڑوں کی زمین حاصل کرنے کے الزام میں پوچھ گچھ کی۔ ایک رئیل اسٹیٹ ٹائیکون سے رشوت میں ڈالر کی.

    خان کو پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کی ہدایات پر منگل کو اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس سے پیرا ملٹری رینجرز نے اس وقت گرفتار کیا جب سابق وزیر اعظم دو مختلف مقدمات میں پیشی کے لیے عدالت پہنچے۔

    طاقت ور ترین سمندری طوفان ’موچا‘ بنگلادیش کے ساحل سے ٹکرانے کیلئے تیار

    گرفتاری نے ملک بھر میں خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کے حامیوں کی طرف سے پرتشدد مظاہروں کو جنم دیا، جن میں سے بہت سے لوگوں نے ایک اعلیٰ فوجی جنرل کی سرکاری رہائش گاہ سمیت سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا، اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عوامی املاک کو آگ لگا دی۔ .

    خان کو خود اسلام آباد کے پولیس لائنز ہیڈ کوارٹر میں سخت حفاظتی انتظامات میں حراست میں لیا گیا جہاں انہیں ایک جج کے سامنے لایا گیا جس نےنیب کی تحویل میں ان کاآٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکیااس سےقبل پی ٹی آئی کے سینئر ارکان نےمیڈیا کو بتایاکہ سابق وزیراعظم کے وکلاء کو ان تک رسائی نہیں دی گئی۔

    سپریم کورٹ نے جمعرات کو عدالت کے احاطے میں خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے جمعہ کو دو ہفتے کی ضمانت منظور کی تھی یہ بھی حکم دیا کہ خان کو کسی بھی صورت میں پیر سے پہلے گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

    پی ڈی ایم کا دھرنا کا فیصلہ،سپریم کورٹ بار کا سپریم کورٹ سے بھرپور یکجہتی …

  • عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا سنگل بینچ کا حکم واپس

    عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا سنگل بینچ کا حکم واپس

    لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا سنگل بینچ کا حکم واپس لے لیا

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے عثمان بزدارکی مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کا عبوری حکم نامہ جاری کر دیا ، عدالت نے عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا سنگل بینچ کا حکم بھی واپس لے لیا ، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلے میں کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن رپورٹ کے مطابق عثمان بزدار کے خلاف 13 انکوائریاں چل رہی ہیں ،اینٹی کرپشن میں درج دو مقدمات میں عثمان بزدار پہلے ہی عبوری ضمانت پر ہیں فریقین نے اس حوالے سے تحریری جواب بھی جمع کراو دیا ،سنگل بینچ کا گرفتاری سے روکنے کا حکم اس وقت غیر ضروری ہے کیس کی مزید سماعت 26 مئی تک ملتوی کی جاتی ہے

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ہم نے قانون اور ریکارڈ کے مطابق کام کرنا ہے ہم نے 30 سوالات کا جواب مانگا عثمان بزدار نے چار سوالات کا جواب دیا،عثمان بزدار کو دوبارہ نو مئی کو سمن کیا ہے باقی سوالات کے جوابات دیں ،وکیل عثمان بزدار نے کہا کہ نو مئی کو عثمان بزدار نے لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ میں پیش ہونا ہے ،عدالت نے آئندہ عثمان بزدار کی مکمل تفتیشی رپورٹ نیب لاہور سے طلب کرلی ،جج نیب عدالت شیخ سجاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست کا جلد فیصلہ کرنا ہے

  • اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا؟ عمران خان کو نیب سوالنامہ مل گیا

    اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا؟ عمران خان کو نیب سوالنامہ مل گیا

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس، نیب نے عمران خان کو شامل تفتیش کرلیا

    نیب کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس میں گرفتار تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سوالنامہ دیا ہے، نیب نے عمران خان کو شامل تفتیش کرلیا ،نیب کی جانب سے عمران خان کو دیئے گئے سوالنامہ میں پوچھا گیا ہے کہ دسمبر 2019میں برطانیہ سے غیرقانونی رقم کی واپسی کی منظوری کیلئے سمری کیوں تیار کرائی ؟ دسمبر 2019 میں برطانیہ سے رقم کی واپسی کو سرنڈر کرنے کی منظوری کیوں دی ؟ ملزمان سے بدلے میں القادر یونیورسٹی کی زمین اور دیگرمالی فائدے کیوں لیے ؟

    نیب نے عمران خان کو دیئے گئے سوال نامے میں سوال کیا کہ اعلیٰ ترین عوامی عہدے پر بیٹھ کر اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا ؟ اختیارات کا ناجائزاستعمال کرکے ملزمان سے مالی فائدے کیوں حاصل کئے؟ برطانیہ سے غیر قانونی رقم ملزمان کو واپس کرکے مجرمانہ عمل کیوں کیا؟ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی سے خط و کتابت اور ایسٹ ریکوری یونٹ کی سمری کو خفیہ کیوں رکھا گیا ؟

    واضح رہے کہ عمران خان کو نیب نے گرفتار کر رکھا ہے، کل عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا تھا، عدالت نے عمران خان کا آٹھ رو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا، پولیس لائن کو سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے، عمران خان سب جیل میں نیب تحویل میں ہیں،عمران خان کا میڈیکل بھی کروایا تھا ، عمران خان صحتمند ہیں اور انہیں کسی قسم کی بیماری نہیں،

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • نیب ترامیم کیخلاف درخواست دائر کرنیوالے عمران اور بشریٰ کو ملا انہی ترامیم سے ریلیف

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست دائر کرنیوالے عمران اور بشریٰ کو ملا انہی ترامیم سے ریلیف

    پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کے بعد سپریم کورٹ جانے والے عمران خان نے بھی نیب ترامیم کے تحت عدالت سے ریلیف حاصل کر لیا، کیا اب عمران خان سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواست واپس لیں گے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے نیب ترامیم کے تحت ریلیف حاصل کر لیا، عمران خان جو نیب ترامیم کے خلاف تھے، انہوں نے خود کو بچانے کے لئے بالاآخر انہی نیب ترامیم کا سہارا لیا ، سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت چل رہی ہے عمران خان کیا اب درخواست واپس لیں گے اور سپریم کورٹ کو بتائیں گے کہ انہی نیب ترامیم کے تحت فائدہ لینے والوں میں میں اور میری اہلیہ بھی شامل ہیں،

    توشہ خانہ تحائف کی تحقیقات کے معاملے میں عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بھیجے گئے نیب نوٹسز کے خلاف حکم جاری کیا ہے، حالیہ نیب ترمیم کے نتیجے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکم میں کہا ہے کہ نیب نوٹسز قانون کے مطابق نہیں اس لیے کوئی قانونی حیثیت نہیں نیب قانون کے تمام تقاضے پورے کرکے نیا نوٹس جاری کر سکتا ہے

    عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 16 مارچ اور 17 فروری کے نیب کی جانب سے بھیجے گئے نوٹسز چیلنج کر رکھے تھے جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس بابر ستار نے 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ نیب ترمیم کے مطابق نیب نے نوٹس میں بتانا ہے کہ بطور ملزم طلبی ہے یا کسی اور حیثیت میں ، اگر کوئی ملزم ہے تو اس کو الزامات بتانے ہیں تا کہ وہ اپنا دفاع پیش کر سکے نیب کی اس ترمیم سے معلوم ہوتا ہے کہ آرٹیکل 10-A فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے یہ کی گئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو نوٹس بھیجتے وقت نیب ترمیم کے سیکشن 19 ای پر مکمل عمل نہیں ہوا نیب کال اپ نوٹسز میں نہیں بتایا گیا بطورملزم بلایا جارہا ہے یا کسی اور حیثیت میں ۔ نیب کال اپ نوٹسز عدالتی فیصلوں کے طے کردہ قواعد سے بھی مطابقت نہیں رکھتے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • 30 سوالات کا جواب مانگا عثمان بزدار نے چار سوالات کا جواب دیا،تفتیشی افسر

    30 سوالات کا جواب مانگا عثمان بزدار نے چار سوالات کا جواب دیا،تفتیشی افسر

    احتساب عدالت لاہور،آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری کا معاملہ ،سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے عثمان بزادر کو 10 مئی کو نیب آفس پیش ہونے کی ہدایت کردی ،عدالت نے عثمان بزادر کی عبوری ضمانت میں 13 مئی تک توسیع کردی ، عدالت نے حکم دیا کہ عثمان بزدار اور نیب دونوں فریق قانون کی پاسداری کرے،وکیل عثمان بزدار نے کہا کہ عثمان بزدار نے سوالات کے جوابات جمع کروا دیے ہیں ، تفتیشی افسر نے کہا کہ انہوں نے مکمل سوالات کے جوابات نہیں دیے، جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ مخالفت ہی کرنی ہے یا انصاف کی بات بھی کرنی ہے ،

    تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ہم نے قانون اور ریکارڈ کے مطابق کام کرنا ہے ہم نے 30 سوالات کا جواب مانگا عثمان بزدار نے چار سوالات کا جواب دیا،عثمان بزدار کو دوبارہ نو مئی کو سمن کیا ہے باقی سوالات کے جوابات دیں ،وکیل عثمان بزدار نے کہا کہ نو مئی کو عثمان بزدار نے لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ میں پیش ہونا ہے ،عدالت نے آئندہ عثمان بزدار کی مکمل تفتیشی رپورٹ نیب لاہور سے طلب کرلی ،جج نیب عدالت شیخ سجاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست کا جلد فیصلہ کرنا ہے

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

  • توشہ خانہ کیس میں نیب میں طلبی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر فیصلہ جاری

    توشہ خانہ کیس میں نیب میں طلبی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نیب میں طلبی کو خلاف قانون قرار دے دیا۔

    باغی ٹی ی: اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف نیب تحقیقات کیس میں طلبی پر سماعت ہوئی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس بابر ستار نے کی ،دوران سماعت عدالت نے نیب طلبی کے نوٹس کےخلاف دونوں درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے طلبی کے نوٹسز کو خلاف قانون قرار دیا۔

    پرویز الٰہی کے گھر چھاپہ: ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت دیگر افسران کی غیر مشروط …

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان اوربشریٰ بی بی کی درخواست ہدایات کےساتھ نمٹاتےہوئے کہا کہ نیب کے کال اپ نوٹسز کا کوئی قانونِی حیثیت نہیں 17 فروری اور 16 مارچ کے نوٹسز قانون کے مطابق نہیں ہیں، یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ قانون کے مطابق نیب فریش نوٹس جاری کرنے میں آزاد ہے، نیب پر قانون کے مطابق نئے نوٹس بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں۔

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    واضح رہے کہ نیب نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو طلب کیا تھا جس پر دونوں نے طلبی کے نوٹسز کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں نیب کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    پاکستانی شہریوں کی ویزہ درخواستوں کا پراسیس 60 دنوں میں مکمل ہوگا. کنیڈا

    بشریٰ بی بی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فیصلہ آنے تک نیب کو میرےخلاف تادیبی کارروائی سے روکنےکا حکم دیاجائے اور درخواست پرفیصلہ آنے تک نیب انکوائری کو تفتیش میں تبدیل کرنے سے بھی روکا جائے بشریٰ بی بی نے عدالت سے 16 اور17 فروری کے نوٹس غیرقانونی قراردینےکی استدعا کی تھی-

  • آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس:عثمان بزدار کی عبوری ضمانت میں توسیع

    آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس:عثمان بزدار کی عبوری ضمانت میں توسیع

    لاہور کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی عبوری ضمانت میں 6 مئی تک توسیع کرتے ہوئے نیب سے رپورٹ طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی : احتساب عدالت کے جج سجاد احمد شیخ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات تحقیقات میں عثمان بزدار کی عبوری ضمانت پر سماعت کی،عثمان بزدار کی جانب سے خورشید عالم ایڈووکیٹ نےعدالت کو بتایا کہ عثمان بزدار اینٹی کرپشن کیس میں حفاظتی ضمانت کےلیےلاہو ہائی کورٹ میں پیش ہونے گئے ہیں، حکومت عثمان بزدار کو اینٹی کرپشن کیس میں گرفتار کرنا چاہتی ہے-

    عمران خان کی عدم پیشی،عدالت برہم، ضمانت خارج کر دیں گے، چیف جسٹس اسلام آباد …

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وکیل نے عدالت ست استدعا کی عثمان بزدار کی حاضری معافی کی درخواست منظور کی جائےاحتساب عدالت نے دلائل سننے کے بعد حاضری معافی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر نیب سے تفتیشی رپورٹ طلب کر لی۔

    عدالت نے عثمان بزدار کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی عبوری ضمانت میں 6 مئی تک توسیع کر دی۔

    منی لانڈرنگ ریفرنس :حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست منظور

  • سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار گرفتار

    سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار گرفتار

    سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو گرفتار کر لیا گیا

    اینٹی کرپشن ٹیم نے سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو لاہور سے گرفتار کر لیا ،نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان رامش نے گرفتاری کی خبر کی تردید کر دی اور کہا کہ عثمان بزدار گرفتار نہیں ہوئے تمام خبریں فیک ہیں۔

    اینٹی کرپشن کی ٹیم عثمان بزدار کی گرفتاری کے لیے پنجاب یونیورسٹی پہنچی تھی، اینٹی کرپشن حکام کے مطابق عثمان بزدار پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں قیام پذیر ہیں، ڈی جی خان میں درج مقدمے میں گرفتار کرنا ہے۔ ٹیم ڈی جی خان سے آئی ہے ،سردار عثمان بزدار کی گرفتاری کیلیے اینٹی کرپشن کی ٹیم پنجاب یونیورسٹی سے ملحقہ ریسٹ ہاوس کے باہر پہنچ گئی اینٹی کرپشن میں سردار عثمان بزدار کے خلاف 9 مقدمات درج ہیں ،اینٹی کرپشن انفارمیشن کے مطابق سردار عثمان بزدار سی اینڈ ڈبلیو کے ریسٹ ہاوس میں قیام پذیر ہے،سردار عثمان بزدار کی گرفتاری کیلیے سی اینڈ ڈبلیو ریسٹ ہاوس کے باہر ٹیم پہنچ گئی بارش کے باعث اینٹی کرپشن ٹیم کی جانب سے کارروائی نہیں کی جا سکی ،اس سے قبل اے دی جی اینٹی کرپشن نے ٹیم عثمان بزدار کی گرفتاری کیلئے جامعہ پنجاب روانہ کی تھی

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن نے انکوائری کا آغاز کر دیا ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی ہدایت پرڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان ریجن کی سربراہی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف انکوائری نمبر224/23 شروع کر دی گئی ہے

    محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان کے مطابق 2022ء میں 2کروڑ 44لاکھ کی مالیت سے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے قصبہ بارتھی میں اپنی رہائش کے قریب نجی قطہ اراضی پر سرکاری خرچ سے جرگہ ہال تعمیر کرا یا۔اس ہال کی تعمیر کے لئے لینڈ ایکوزیشن کی کوئی کارروائی نہ کی گئی اور نہ ہی پرائیویٹ فریقین سے سرکار کے نام کوئی انتقال درج کرایا گیا۔ عثمان خان بزداراس جرگہ ہال کو ذاتی استعمال میں لارہے ہیں۔جرگہ ہال عثمان بزدار کے والد کی قبر کے ساتھ تعمیر کرایا گیا ہے۔

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

  • نیب کیسز دیکھ کر ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا،شاہد خاقان

    نیب کیسز دیکھ کر ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا،شاہد خاقان

    اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہےکہ ،قومی احتساب بیورو (نیب) کیسز دیکھ کر ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں جعلی کیسز کو ختم کرنے کی گنجائش موجود ہے، نیب عدالتوں میں کیمرے لگا کر عوام کو سماعت دکھانی چاہیے۔

    الیکشن کمیشن نے 14 مئی کوانتخابات کو واضح طور پر ناممکن قراردیا

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب گزشتہ سالوں میں ایک بھی سیاستدان کو نہیں پکڑ سکانیب کیسز دیکھ کر ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا، نیب کے تماشوں نے ملک کو تباہ کردیا ہے، ملک میں سابق وزیراعظم کو انصاف نہیں ملےگا تو غریب کو کیسے ملےگا۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کروانے ہیں، جس جماعت نے حصہ لینا ہو انتخابات میں حصہ لے لےگی، انتخابات کرانا ن لیگ کا کام نہیں ہے، پی ٹی آئی نے دونوں بار بدنیتی پر مذاکرات کیے۔

    واضح رہے کہ ماضی میں کئی مرتبہ شاہد خاقان عباسی نیب ادارے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کہتے ہيں نیب نے ملک کو مفلوج اور معیشت تباہ کردی، 6 ماہ گزر گئے، نیب اُن پر کوئی الزام ثابت نہیں کرسکا۔

    گجرات میں پرویز الہی کی رہائشگاہ پر پولیس کا چھاپہ

    اس سے قبل گزشتہ برس بھی اپریل میں اپنے ایک بیان میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا صرف ایک حل ہے کہ اسے بند کرکے اس کے اہلکاروں کا احتساب کیا جائے میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ نیب عدالتوں اور تفتیش میں کیمرے لگائیں تاکہ پاکستان کی عوام کو معلوم ہو کہ یہ کیا تماشا ہے میں آج بھی کہتا ہوں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خلاف جو کیسز ہیں وہ چلیں اور پاکستان کی عوام کو بتایا جائے کہ کونسی کرپشن ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نیب کا صرف ایک حل ہے اسے ختم کر کے اس کے اہلکاروں کا احتساب کیا جائے جنہوں نے لوگوں کو لوٹا ہے اور ان کے ساتھ ظلم کیا ہے چیئرمین نیب یہ بتائیں کہ انہوں نے اپنے دور اور پچھلے سال میں نیب نے کتنے سیاستدانوں کو پکڑا ہے، کیا برآمدگی ہوئی اور کون مجرم کہلایا۔

    قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا دیوالیہ ہوجائے گا،امریکی وزیرخزانہ

    ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب وہ آدمی ہیں جو مکمل طور پر عمران خان کے قبضے میں تھا اور ان سے ہدایات لیتا تھا اور ایک وزیر عمران خان کے کمرے میں بیٹھارہتا تھا جو ان کو احکامات جاری کرتا تھا کہ کسے گرفتار کرنا ہے، کس کی تذلیل کرنی ہے اور کس کے خلاف کیا مقدمات بنانے ہیں چیئرمین نیب وہ آدمی ہے جو عمران خان کی کرپشن پر خاموش رہا، عمران خان کے خلاف ایک ریفرنس فائل نہیں ہوسکا جبکہ سیکڑوں ارب لوٹنے والے کابینہ کی ٹیبل پر بیٹھے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج نیب کا احتساب ہوگا، ہم کسی سے کوئی انتقام نہیں لینا چاہتےجو کچھ نیب میں ہوا ہے وہ حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے، ملک میں احتساب کا نظام موجود ہے، اگر آپ احتساب کرنا ہے تو کوئی مشکل نہیں ہے، اگر آپ نے سیاست کھیلنی ہے تو اس کے لیے نیب کا ادارہ موجود ہے۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …