Baaghi TV

Tag: نیب

  • کوہستان کرپشن اسکینڈل : 25 ارب کے اثاثے منجمد ، اہم شخصیات کی گرفتاری کا امکان

    کوہستان کرپشن اسکینڈل : 25 ارب کے اثاثے منجمد ، اہم شخصیات کی گرفتاری کا امکان

    کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل کیس میں مجموعی طور پر 25 ارب روپے مالیت کے اثاثے برآمد اور ضبط کیے گئے ہیں،اعظم سواتی سے 60 کروڑ کا گھر خریدنے والا کنٹریکٹر گرفتار کر لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اعظم سواتی نے گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا ، اعظم سواتی نے پہلے بھی نیب سے تعاون کیا اب بھی کر رہے ہیں،نیب نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے ، اس سکینڈل میں مبینہ طور پر مزید شخصیات بھی ملوث ہو سکتی ہیں، اسکینڈل میں 17 ارب روپے کی جائیداد اور لگژری گاڑیوں کی تفصیل منظر عام پر آ گئی ہے نیب نے کرپشن اسکینڈل کیس کو انکوائری سے باضابطہ تفتیش میں تبدیل کر دیا-

    سرکاری تفصیلات کے مطابق اس کیس میں اب تک مجموعی طور پر25ارب روپے مالیت کے اثاثے برآمد اور ضبط کئے ہیں،نیب نے ایک ارب روپے سے زائد نقد رقم، غیر ملکی کرنسی اور تین کلو گرام سے زیادہ سونا برآمد کیا ہے، مختلف کمرشل بینکوں میں موجود 73 بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دئیے گئے ہیں جن میں 5 ارب روپے سے زیادہ رقم موجود ہے-

    حمیرا اصغر کیس:پولیس کا دو شناختی کارڈز کے استعمال کا انکشاف

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق نیب نے 77 لگژری گاڑیاں بھی ضبط کی ہیں ،مزید برآں، 109 جائیدادیں بھی مختلف شہروں بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے قبضے میں لی گئی ہیں، ان میں 4 فارم ہاؤسز، 12 کمرشل پلازے، 2 کمرشل پلاٹس، 30 مکانات، 12 دکانیں اور فوڈ کورٹس، 25 فلیٹس اور پینٹ ہاؤسزاور 175 کنال زرعی اراضی شامل ہیں، ان جائیدادوں کی مجموعی مالیت تقریباً 17 ارب روپے بتائی جا رہی ہے-

    سرکاری ذرائع کے مطابق آئندہ24سے48گھنٹوں کے دوران اس کیس میں اہم شخصیات کی گرفتاری کا بھی امکان ہے جس کےلئے تیاریاں جاری ہیں۔یہ بہت بڑا فراڈ انتہائی چالاکی سے اور واضح گٹھ جوڑ کے ساتھ رچایا گیا، جس میں سرکاری اہلکار، لالچی ٹھیکیدار، ملی بھگت کرنے والے بینک حکام اور دیگر شامل تھے اربوں روپے قومی خزانے سے چپ چاپ نکال لیے گئے، اور کسی مالیاتی نگرانی کے ادارے کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی،نیب نے کوہستان سکینڈل میں ملوث کنٹریکٹر محمد ایوب کو گرفتار کرلیا ہے ملزم کے اکاؤنٹ میں تین ارب روپے ٹرانسفر ہوئے تھے جبکہ ملزم نے کرپشن کی رقم سے اعظم سواتی کا گھر بھی خریدا تھا۔

    ماں نے بچے کو بس میں جنم دے کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا

  • نیب نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی اور اعظم سواتی کو طلب کر لیا

    نیب نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی اور اعظم سواتی کو طلب کر لیا

    قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات سے متعلق معاملے میں وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کے معاون خصوصی امجد علی کو طلب کرلیا۔

    کوہستان 36 ارب میگا کرپشن کیس میں اعظم سواتی کو بھی نیب نے دوبارہ طلب کرلیا مبینہ کرپشن پر معاون خصوصی امجد علی کو 17 جولائی کو نیب میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، اور نیب میں 2013 سے اب تک اثاثوں اور ٹیکس جمع کرنے کی تفصیلات جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    نیب خیبر پختونخوا نے اعظم سواتی کو بھی 17 جولائی کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی نیب کا کہنا تھا کہ کوہستان 36 ارب روپے کرپشن میں جو دستاویز پیش کیے ہیں اس میں کچھ خامیاں موجود ہیں، ضلع کوہستان میں سرکاری فنڈز کے غیر قانونی اخراجات کی تحقیقات جاری ہیں۔

    نیب کی جانب سے جاری سمن میں کہا گیا ہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس، اے جی آفس اور پرائیویٹ کنٹریکٹرز پر اربوں کی مبینہ خوردبرد میں ملوث ہونےکا الزام ہے،سرکاری خزانے سے 36 ارب روپے سے زائد کی رقم مبینہ غیرقانونی طریقے سے نکالنےکا انکشاف ہوا ہے،اعظم سواتی کو 17 جولائی کو نیب پشاور آفس طلب کیا گیا ہے، اعظم سواتی کو ریکارڈ میں خامیوں کی وضاحت کے لیے نیب کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، عدم پیشی کی صورت میں اعظم سواتی کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس : نیب نے لیگل ٹیم تشکیل دے دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس : نیب نے لیگل ٹیم تشکیل دے دی

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں کی پیروی کے لیے باقاعدہ قانونی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

    نیب حکام کے مطابق لیگل ٹیم کی قیادت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کریں گے، جبکہ ٹیم میں عرفان احمد بھولا، سہیل عارف، رافع مقصود اور یاسر سلیم شامل ہیں، چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد پراسیکیوٹر جنرل نیب نے یہ ٹیم تشکیل دی ہے تاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں اور دیگر قانونی امور کی مؤثر پیروی کی جا سکے نیب نے لیگل ٹیم کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں 5 جون کو سماعت مقرر ہے۔

  • نیب نے2025 کی پہلی سہ ماہی کی وصولیوں کی  تفصیلات  جاری کر دیں

    نیب نے2025 کی پہلی سہ ماہی کی وصولیوں کی تفصیلات جاری کر دیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2025 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران 88 ارب روپے سے زائد رقم برآمد اور تقسیم کی ہے۔

    نیب کی جانب سے سہ ماہی وصولیوں کی جاری تفصیلات کے مطابق برآمد کی گئی رقوم میں 2.0847 ارب روپے کی براہِ راست اور 86 ارب روپے کی بالواسطہ وصولیاں شامل تھیں جن کا تعلق غیر قانونی منتقلی اور قبضے سے متعلق مقدمات میں ملوث سرکاری و نجی اراضی سے تھابرآمد شدہ رقوم متعلقہ متاثرہ اداروں کو واپس کر دی گئیں،بالواسطہ وصولیوں کے حوالے سے نیب بلوچستان نے 340 ایکڑ چلتن پارک اور 250 ایکڑ محکمہ جنگلات کی سرکاری اراضی بازیاب کروائی جس کی مالیت 6.45 ارب روپے ہے۔

    نیب خیبرپختونخوا نے سوات یونیورسٹی، ریونیو اور جنگلات کے محکموں کے افسران/اہلکاران کے خلاف انکوائری کیس میں 0.56 ارب روپے کی رقم برآمد کی نیب لاہور نے ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، اسٹیٹ لائف انشورنس ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، سرور اومیگا ولاز کے میگا کیس میں 70.87 ارب روپے کی وصولی کی۔

    نیب ملتان نے جی ایف ایس سیون ونڈرز ہاوسنگ سکیم کے 13.206 ملین روپے بر آمد کئے جبکہ نیب سکھر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی 8.53 ارب روپے مالیت کی 610 ایکڑ اراضی بازیاب کرائی براہِ راست وصولیوں کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق نیب نے وفاقی حکومت کو 9.72 ملین روپے، صوبائی حکومتوں کو 10.80 ملین روپے اور 73.51 ملین روپے مختلف محکموں اور مالیاتی اداروں کو منتقل کیے ایک بڑی رقم یعنی 1990.771 ملین روپے دھوکہ دہی کے مختلف مقدمات کے 19105 متاثرین میں براہ راست تقسیم کی گئی۔

    نیب راولپنڈی کی جانب سے نیشنل ہاؤس بلڈنگ اینڈ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے 4778 متاثرین کو 72.04 ملین روپے، نیب لاہور کی جانب سے ایڈن ہاؤسنگ کیس کے 11855 متاثرین کو 1168.26 ملین روپے نیب لاہور کی جانب سے ایس ایچ جی و دیگر کیسز کے 989 متاثرین کو 405.08 ملین روپے ، نیب راولپنڈی کی جانب سے ارائیں سٹی کیس کے 496 متاثرین کو 111.08 ملین روپے دیے گئے۔

    نیب لاہور کی جانب سے ٹیوٹا موٹرز گجرانوالا کیس کے 452 متاثرین کو 109.15 ملین روپے ، نیب راولپنڈی کی جانب سے گلشن رحمان کیس کے 246 متاثرین کو 23.56 ملین روپے ، نیب لاہور ٹی ایچ جی کیس کے 99 متاثرین کو 12.07 ملین روپے دیے گئے۔

    نیب راولپنڈی کی جانب سے گیلانی ہاوسنگ کارپوریشن کے 60متاثرین کو 47.31 ملین روپے ، نیب لاہور کی جانب سے احمد سٹی ہاوسنگ سکیم کے 78 متاثرین کو 3.631 ملین روپے اور دیگر مختلف سکیموں کے 52 متاثرین کو 38.589 ملین روپے دئیے گئے۔

    2025 کی پہلی سہ ماہی میں کی گئی وصولیوں سے لے کر اب تک نیب کی مجموعی وصولیاں 6.236 کھرب روپے تک بڑھ گئی ہیں جس میں سے 62.92 فیصد (3.92 کھرب روپے) گزشتہ 18 مہینوں میں وصول کیے گئے ہیں۔

    یہ وصولیاں انفرادی اور اداروں سے پلی بارگین، رضاکارانہ واپسی اور تصفیہ جات کے ذریعے کی گئیں۔خطیر رقوم کی تقسیم اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ نیب نہ صرف بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے بلکہ مالیاتی فراڈ کے متاثرین کو جلد از جلد رقوم کی واپسی یقینی بنانے کے لیے بھی سرگرم ہے،نیب لوٹے گئے عوامی وسائل کی بازیابی اور کرپشن سے پاک پاکستان کے وژن کے لیے پرعزم ہے۔

  • شہباز شریف کے مشیر بننے کے بعد پرویز خٹک کیخلاف کرپشن کیس بند

    شہباز شریف کے مشیر بننے کے بعد پرویز خٹک کیخلاف کرپشن کیس بند

    شہباز شریف کابینہ میں شامل ہونے کے بعد پرویز خٹک کیخلاف بی آر ٹی کرپشن کیس بند کر دیا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ماضی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جانب سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے سابق وزیر اعلٰی خیبرپختونخواہ پرویز خٹک کو شہباز شریف کی وفاقی کابینہ میں شامل ہوتے ہی کلین چٹ مل گئی۔ماضی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پرویز خٹک پر بی آر ٹی پشاور اور مالم جبہ کرپشن کے الزامات عائد کرتے رہے، تاہم ان ہی پرویز خٹک کو اب شہباز شریف نے اپنی کابینہ میں شامل کر لیا ہے۔ شہباز شریف کی کابینہ میں شامل ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک اور شہاب علی شاہ کیخلاف بی آر ٹی کرپشن کارروائی روک دی گئی۔

    اس حوالے سے ترجمان قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پشاور بی آر ٹی مبینہ کرپشن کیس میں پرویز خٹک اور شہاب علی شاہ کے خلاف شواہد نہیں ملے۔نیب نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مراسلہ لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ کیس میں سابق چیف سیکرٹری اور کنٹریکٹرز کے خلاف بھی کارروائی روک دی گئی ہے جس میں 3 چینی کنٹریکٹرز بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بی آر ٹی پشاور منصوبہ سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک کے دورِ میں شروع ہوا تھا جبکہ شہاب علی شاہ اس وقت سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخواہ تھے۔

    تحریک انصاف سے وابستہ رہنے تک پرویز خٹک مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کرپشن الزامات کا سامنا کرتے رہے۔ تاہم 9 مئی واقعات کے بعد تحریک انصاف سے الگ ہو کر اپنی جماعت بنانے کے باوجود عام انتخابات میں بری طرح شکست کھا جانے والے پرویز خٹک کیخلاف مسلم لیگ ن نے ماضی میں لگائے جانے والے کرپشن الزامات پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔

    واٹس ایپ صارفین کیلئے نیا دلچسپ فیچر متعارف

    کراچی میں ایک خوفناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور گرفتار

    جھوٹا نکاح، ملزم کی دوستوں سمیت کئی ماہ 13 سالہ لڑکی کی عصمت دری

    سندھ ، بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کا امکان

  • بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    قومی احتساب بیورو(نیب)سندھ کی بحریہ ٹاؤن کراچی کیخلاف جاری تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نیب کی جانب سے بحریہ ٹائون کراچی کیخلاف تحقیقات مزید تیزکردی گئی ہیں اور نیب نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی کو منجمد کر دیا ہے۔ڈی جی نیب سندھ جاوید اکبر ریاض کی جانب سے جاری لیٹر میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے ایک ہزار کمرشل کمرشل پلاٹس کو فوری منجمد کرنے کا حکم دیا گیا۔نیب نے بحریہ ٹائون کو الاٹ شدہ زمین کے علاوہ مزید زمین پر قبضے کے شواہد بھی اکٹھے کرلئے ہیں۔

    عمرایوب کوبلاول بھٹو پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے،شرجیل میمن

    واضح رہے کہاس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔

    کم سن امریکی بچوں کی نازیبا وڈیوز بنانے والا ملزم کراچی سے گرفتار

    نیب نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر پشاور اور جام شورو میں زمینوں پر قبضے کیے، انہوں نے بغیر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی ہیں۔نیب کے مطابق ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے.

    یورپی یونین کا امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

    یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی اراضی کی الاٹمنٹ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ریفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور صوبائی وزیر شرجیل میمن کے نام خارج کرنے کی درخواست پر بڑا ریلیف دے دیا، آئینی بینچ نے دونوں رہنماؤں کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ان کی طلبی کے نوٹسز کو معطل کر دیا اور نیب کو ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    چین، روس اور ایران جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات ، بیجنگ میزبان

    ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والی 90 خواتین کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ مل گیا

  • نیب اور نجی اداروں کے درمیان مفاہمت کے 6 سمجھوتوں پر دستخط

    نیب اور نجی اداروں کے درمیان مفاہمت کے 6 سمجھوتوں پر دستخط

    اسلام آباد: نیب اور نجی اداروں کے درمیان مفاہمت کے 6 سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق قائم مقام چیئرمین نیب سہیل ناصر کی موجودگی میں معاہدوں پر دستخط ہوئےمعاہدوں کے مطابق نجی تعلیمی و طبی اداروں کی طرف سے نیب ملازمین کو رعائیتی پیکجز پر سہولیات ہوں گی۔ سہیل ناصر نے کہا کہ چیئرمین نیب کے وژن کے تحت مختلف اداروں سے مفاہمتی سمجھوں کا عمل جاری ہے، باہمی سمجھوتوں سے کارکردگی کا معیار مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

    ڈائریکٹر نیب ہیڈ کوارٹر محمد عمران بٹ اور معروف انٹرنیشنل ہسپتال کے سی ای او، شعیب احمد خان، علی میڈیکل سینٹر کے سی ای او ڈاکٹر بلال ارشد بٹ، قمر جہاں ڈائگنوسٹکس کے سی ای او زبیر ناصرکی طرف سے مفاہمت کے سمجھوتے پر دستخط کیے گئے۔

    انسداد منشیات کے سلسلے میں دوست ممالک سے قریبی اشتراک چاہتے ہیں،محسن نقوی

    ان کے علاوہ عامر نیر ڈینٹل کے چیف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر عامر کیو خواجہ، ایس جے ڈینٹل اینڈ سکن کی سی ای او ڈاکٹر انعم جاوید چیمہ، ڈی واٹسن کیمسٹ کے سی ای او ظفر بختاوری کی طرف سے مفاہمت کے سمجھوتے پر دستخط کیے۔

    یقیناً اللہ بہترین منصوبہ ساز ہے،واپسی شکست سے زیادہ مضبوط ہوگی،فخرزمان

  • سرکاری زمین پر قبضہ، ملک ریاض اور بیٹے  کیخلاف ریفرنس دائر

    سرکاری زمین پر قبضہ، ملک ریاض اور بیٹے کیخلاف ریفرنس دائر

    کراچی: بحریہ ٹاؤن کے 17 ہزار ایکٹر سرکاری زمین پر قبضے کے معاملہ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،

    نیب نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے زین ملک کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ اس ریفرنس میں پانچ فرنٹ مینوں اور سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کے نام بھی شامل ہیں۔نیب کے مطابق، بحریہ ٹاؤن نے سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضہ کر کے وہاں بڑے پیمانے پر تعمیرات کیں، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ اس غیر قانونی قبضے کے ذریعے نہ صرف سرکاری اراضی پر قبضہ کیا گیا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

    یاد رہے کہ ملک ریاض نے 2019 میں سپریم کورٹ میں 460 ارب روپے کی سیٹلمنٹ کی یقین دہانی کروائی تھی، تاہم اس سیٹلمنٹ کے مطابق صرف 24 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے، جو کہ بہت کم ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ملک ریاض  پر نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    اس ریفرنس میں ملک ریاض کے علاوہ ان کے فرنٹ مین اور دیگر افراد کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جنہوں نے اس دھوکہ دہی میں ان کا ساتھ دیا۔ نیب کی کارروائی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف قانونی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات مزید گہرائی سے کی جائیں گی۔یہ کیس ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، اور اس سے بحریہ ٹاؤن کے کاروباری معاملات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی خورد برد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد انٹرپول کے ذریعے انہیں پاکستان لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق، ملک ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ یہ رقم مختلف کاروباری اور پراپرٹی معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے طور پر چھپائی گئی تھی۔ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک ریاض کے خلاف موجود تمام شواہد کو انٹرپول کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ انہیں عالمی سطح پر مطلوب قرار دلوائیں اور پاکستان واپس لایا جا سکے۔

    ملک ریاض کا نام اس وقت مختلف قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اس پیشرفت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد انہیں پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرانا ہے۔

    ملک ریاض، جو پاکستان کے امیر ترین اور بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، پر القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ملزم ہیں اور ان دونوں کو اس کیس میں سزا ہو چکی ہے، نیب (قومی احتساب بیورو) کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ نیب نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا ہے، اور نیب کی منظوری کے بعد ایف آئی اے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر، بشمول انٹرپول کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔

    ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ القادر ٹرسٹ کیس کے سلسلے میں کر رہا ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ شریک ملزم ہیں۔ اس سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کے تحت ملک ریاض کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    رواں ماہ کے آغاز میں نیب نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ دبئی میں ملک ریاض کے نئے لگژری اپارٹمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری نہ کریں، کیونکہ یہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عوام اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ مجرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ملک ریاض نے نیب کے اس اقدام پر ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’جعلی مقدمات، بلیک میلنگ اور افسران کی لالچ نے مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ میں سیاسی مہرہ بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرا فیصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا! پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود، 40 سال کی محنت اور اللہ کے فضل سے پہلا عالمی معیار کا ہاؤسنگ پروجیکٹ پروان چڑھا۔‘‘

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت اب ملک ریاض پر ہاتھ ڈالے گی، حکومت ملک ریاض کو عرب امارات سے واپس لائے گی اور ان پر تمام مقدمات چلائے جائیں گے، ریاست نے بالاخر تین دہائیوں کی چھوٹ کے بعد ان کے گریبان پر ہاتھ ڈال لیا ہے، اب سب کا احتساب ہو گا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نیب نے سب سے بڑی زیادتی کرنے والے شخص کے گریبان پر ہاتھ ڈالا ہے، نیب اب صحیح نیب بنا ہے پہلے سب 2 نمبر کام تھا، ملک ریاض صاحب کہتے تھے میں باہر کاروبار کرنے کو حرام سمجھتا ہوں، اب وہ کہتے ہیں میں دبئی میں چھا گیا ہوں لوگ کیسے اپنی زبان سے پھرتے ہیں،میں نے کئی بڑے اینکرز کے سامنے ملک ریاض پر سوالوں کے جواب دئیے جو بعد پروگراموں سے کاٹے گئے، ہم سیاست دان تو آپ کا سافٹ ٹارگٹ ہیں،میڈیا جن کا نام نہیں لے سکتا مقدس گائے سمھتا ہے، احتساب کا عمل اب وہاں تک پہنچ گیا ہے،ملک ریاض نے ان لوگوں کو بھی پیسے دیےجنہوں نےدہشتگردی کی بنیاد رکھی۔

    بحریہ ٹاؤن میں جو بھی زمینیں ہیں سب بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میں دیکھتا ہوں مجھے آج کتنی کوریج ملتی ہے ملک ریاض کا نام آجائے تو اسکرینز پر خاموشی چھا جاتی ہے،میڈیا مالکان اپنے اسٹوڈیو پر ایک پیسہ خرچ نہیں کرتے ان کے دفتروں میں انٹرویو دینے جائیں تو اسٹوڈیو ایسے ہیں جیسے فلموں کے آخر میں کوئی اسٹور دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو اور ولن کی لڑائی ہوتی ہے، اگر ملک ریاض سمجھتے ہیں کہ ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا تو وہ وقت اب چلا گیا۔ اب ریاست ان پر ہاتھ ڈالے گی، ان کو ہم دبئی سے واپس لائیں گے۔ اس مافیا کو ریاست کے اندر ریاست چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بحریہ ٹاؤن میں جو بھی زمینیں ہیں سب بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔ انصاف ہو گا اور احتساب ہوگا، ریاست پاکستانیوں کو خبر دار کرتی ہے کہ اگر آپ ان کے کاروبار میں پیسہ لگاتے ہیں تو آپ کا پیسہ ڈوب سکتا ہے،

    پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، بحریہ ٹاؤن کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کوئی یہ بتا دے کہ ریاست کا پیسہ ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں کیسے چلا گیا؟ القادر یونیورسٹی کو کالج کا درجہ دینا بھی کالج کی توہین ہے،پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، بحریہ ٹاؤن کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، جب ادارے حرکت میں نہ آئیں تو اللہ کی پکڑ آ جاتی ہے، میں جب بات کرتا ہوں تو میری بات کو روکنے کے لئے میڈیا پر دولت کی دیوار کھڑی کی جاتی ہے ،حکومت ملک ریاض کو عرب امارات سے واپس لائے گی، اس حوالے سے معاہدہ موجود ہے، القادر ٹرسٹ کو حسن نواز کے کیس سے جوڑا جا رہا ہے ، حسن نواز کی پراپرٹی کی بھی این سی اے نے تحقیقات کیں ، حسن نواز والے معاملے کی تحقیقات میں کچھ نہیں چھپایا گیا،

    میڈیا جن کے احتساب کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا ان کا احتساب ہو گا ، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا جن کے احتساب کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا ان کا احتساب ہو گا ، پاکستان میں دوغلا پن جاری رہے گا تو جمہوریت کا سلسلہ اصل روح کے مطابق نہیں آسکتا، صحافت، سیاست اور عدلیہ میں دوغلے پن کا خاتمہ ہونا چاہیے، آج کی پریس کانفرنس میں صحافی اور ان کے کیمرے بھی کم ہیں، معلوم نہیں میری بات سنائی بھی جائے گی، یا نہیں، میری بات چیت کہیں سیلف سینسر شپ کی نذر نہ ہوجائے۔

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار

    جتنا مرضی ظلم کرو، میں ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ملک ریاض