Baaghi TV

Tag: نیب

  • پرویز الہی نے کرپشن کیس میں نیب ریکوری کو جھوٹی خبر قرار دے دیا

    پرویز الہی نے کرپشن کیس میں نیب ریکوری کو جھوٹی خبر قرار دے دیا

    لاہور:چودھری پرویزالٰہی نے نیب کی جانب سے جاری کردہ خبر کی تردید کی ہے-

    باغی ٹی وی: چودھری پرویزالٰہی نے بیان میں کہا کہ آج نیب نے من گھڑت اور جھوٹی خبر چلائی ہے، سیکڑوں سرکاری ملازمین کو اغوا کر کے مار پیٹ کر کے پلی بارگین کی گئی ہے انہوں نے جو پیسے دیے ہیں ان کو میرے ساتھ خوامخواہ منسلک کیا جا رہا ہے، یہ سارا جھوٹ کا پلندا ہے، نہ تو میں نے کرپشن کی ہے اور نہ ہی میں نے کوئی پلی بارگین کی ہےمیرے خلاف 25 جعلی کیس بنے، یہ مزید 25 کیس اور بھی بنا لیں میں عمران خان کے ساتھ ہوں اور رہوں گا انشاء اللہ۔

    واضح رہے کہ ترجمان نیب لاہور نے کہا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے 3 کروڑ 68 لاکھ مالیت کا چیک پنجاب حکومت کے حوالے کیا۔ ڈی جی نیب لاہور امجد مجید اولکھ کی موجودگی میں ایڈیشنل سیکرٹری فنانس عبدالاصمد نے وصول کیاریکوری سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی و دیگر کیخلاف تعمیراتی ٹھیکوں میں کک بیکس کیس میں ہوئی۔ سابق چیف فنانشل آفیسر اکرام نوید سے پلی بارگین سے 1 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول کئے گئے۔

    ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر کا کہنا تھا کہ کرپشن اسکینڈلز میں قومی دولت کی برآمدگی نیب کی اولین ترجیح ہے، ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں لاہور بیورو بہترین کام کر رہا ہے، نیب کے تمام اقدامات ملکی و عوامی مفاد میں ہونگے۔

  • نیب نے پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان سے ریکوری کرکے رقم پنجاب حکومت کے حوالے کر دی

    نیب نے پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان سے ریکوری کرکے رقم پنجاب حکومت کے حوالے کر دی

    لاہور: نیب نے کرپشن اسکینڈل میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان کے خلاف کیس میں بڑی ریکوری کرکے رقم پنجاب حکومت کے حوالے کر دی۔

    باغی ٹی وی : ترجمان نیب لاہور کے مطابق ریکوری سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور دیگر کے خلاف ٹھیکوں میں کک بیکس کیس میں ہوئی ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے 3 کروڑ 68 لاکھ روپے کا چیک پنجاب حکومت کے حوالے کیا، ایک کروڑ 72 لاکھ روپے سابق چیف فنانشل آفیسر اکرام نوید سے پلی بارگین میں وصول کیے گئے۔

    ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کہا کہ قومی دولت کی برآمدگی نیب کی اولین ترجیح ہے، پارلیمانی نمائندگان و بزنس کمیونٹی کیلئے احتساب سہولت سیل قائم کیا گیا ہے، اے ایف سی کا دائرہ کار قومی اسمبلی، صوبائی پارلیمان کے بعد بیوروکریسی تک پھیلایا گیا ہے نیب لاہور رواں سال اربوں روپے عوام اور قومی خزانہ کی نذر کرچکا ہے، عوام دوست اقدامات میں نیب لاہور ماہانہ کھلی کچہری باقاعدگی سے منعقد کر رہا ہے، چیئرمین نیب کے حالیہ اقدامات سے عوام کا نیب پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔

  • نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

    نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کے خلاف درخواست باضابطہ سماعت کے لیے منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی:لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے شہری منیر احمد درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیے، عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا جبکہ اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا۔

    درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ صدارتی آرڈیننس ہنگامی صورتحال میں ہی جاری ہو سکتا ہے لیکن ترامیم پاکستان تحریک انصاف کے بانی پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی گئی، قائم مقام صدر کی طرف سے آرڈیننس کا اجراء سیاسی مقاصد کے لیے کیا گیا ہے، نیب ترامیم سے بڑے بڑے ریفرنسز متاثر ہوں گے جس سے انارکی پھیلے گی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیب ترامیم کالعدم قرار دے۔

    واضح رہے کہ 29 مئی کو چیئرمین سینیٹ اور قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی منظوری کے بعد نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا گزٹ نوٹی فکیشن وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کیا گیا، نوٹیفکیشن کے مطابق اس کو قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2024 کہا جائے گا، نیب آرڈیننس کے تحت زیر حراست ملزم کا ریمانڈ 14دن سے بڑھاکر40 دن کردیا گیا،نیب افسر کی جانب سے بدنیتی پر مشتمل نیب ریفرنس بنانے پر سزا 5سال سے کم کر کیے 2 سال کر دی گئی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ان پر جرمانہ بھی کیا جائے گا۔

  • بی آرٹی نیب کیس میں نامزد ٹھیکیدار کی حفاظتی ضمانت منظور

    بی آرٹی نیب کیس میں نامزد ٹھیکیدار کی حفاظتی ضمانت منظور

    پشاور ہائی کورٹ نے بی آرٹی نیب کیس میں نامزد ٹھیکیدار سید مسعود شاہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب اور دیگر اداروں کو گرفتاری سے روک دیا-

    باغی ٹی وی: عدالت میں بی آرٹی نیب کیس میں نامزد ٹھیکیدار سید مسعود شاہ کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، درخوا ست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار دبئی سے پشاور آ رہے ہیں لیکن گرفتاری کا خدشہ ہے، نیب نے پشاور، کراچی، کوئٹہ اور لاہور سے نوٹسز جاری کیے ہوئے ہیں۔

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عظیم داد نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ہم درخواست گزار کو گرفتار نہیں کریں گے،عدالت نے 30 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب اور دیگر اداروں کو ٹھیکیدار سید مسعود شاہ کی گرفتاری سے روک دیا،جبکہ عدالت نے درخواست گزار کو 30 دن کے اندر متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔

    ساف انڈر 17 فٹبال:سری لنکا کو شکست،پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا

    کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے کا تجربہ کامیاب

    ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

  • توشہ خانہ ریفرنس،یوسف رضا گیلانی نے نیب اور عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا

    توشہ خانہ ریفرنس،یوسف رضا گیلانی نے نیب اور عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا

    احتساب عدالت اسلام آباد، توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس پر سماعت ہوئی
    یوسف رضا گیلانی نے نیب اور عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا ،وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم بحال ہونے کے بعد احتساب عدالت اور نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوچکا ہے، احتساب عدالت نے یوسف رضا گیلانی کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے کہاکہ نیب آگاہ کرے کہ توشہ خانہ کیس ان کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں، عدالت نے کیس کی سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کردی

    واضح رہےکہ احتساب عدالت میں نیب کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے, نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے.مارچ 2020 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے  آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کیا تھا.

    نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا.

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

    مفتی عبدالقوی کی خاتون کے ساتھ رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف مذہبی سکالرمفتی عبدالقوی کو حریم شاہ نے تھپڑرسید کردیا :آوازدورتک سنائی دی

    کراچی:ہوٹل کےکمرے میں حریم شاہ کےساتھ کچھ وقت گزارا:پھر کیا ہوا:مفتی عبدالقوی نےسچ سچ بتادیا

  • نیب عمران خان پر مہربان،توشہ خانہ کیس واپس لے لیا

    نیب عمران خان پر مہربان،توشہ خانہ کیس واپس لے لیا

    نیب نے عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف نیا توشہ خانہ کیس واپس لے لیا۔

    نیب نے نیا توشہ خانہ کیس احتساب عدالت سے واپس لے لیا ۔ احتساب عدالت نے کیس اسپیشل جج سنٹرل کو منتقل کر دیا،نیب ترامیم بحال ہونے کے بعد توشہ خانہ ٹو کیس نیب کے دائرہ اختیار سے نکل گیا. احتساب عدالت کے محمد علی وڑائچ نے کیس اسپیشل جج سنٹرل کی عدالت کو بھیج دیا. اسپیشل جج سنٹرل کل سماعت کریں گے اور عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستیں بھی وہی سن کر فیصلہ کرینگے.

    عمران خان کے خلاف نئے توشہ خانہ ریفرنس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ وکیل بانی پی ٹی آئی سلمان صفدر کا کہنا تھاکہ نیب ترامیم بحالی کے بعد نیا توشہ خانہ کیس بنتا ہی نہیں، نیب ترامیم بحالی کےبعدیہ کیس بنتاہی نہیں، اس وقت جو قانون ہے اس کے تحت جرم بنتا ہی نہیں، دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کی بحالی کے بعد نیا توشہ خانہ ریفرنس نیب کے دائرہ اختیار سے نکل چکا ہے،نیب نے نیا توشہ خانہ کیس احتساب عدالت سے واپس لے لیا،احتساب عدالت نے حکم دیاکہ نئے توشہ خانہ کیس میں ضمانت کی درخواستیں متعلقہ عدالت ہی سنے گی، نئے توشہ خانہ کیس کی سماعت 10ستمبر کو متعلقہ عدالت کرے گی۔

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔نیب توشہ خانہ بلغاری جیولری سیٹ کیس میں ریفرنس دائر کر چکا ہے،نیب کے تفتیشی افسر محسن ہارون اور کیس آفیسر وقارالحسن نے احتساب عدالت میں دائر کیا ، نیب کی جانب سے دائر نیا توشہ خانہ ریفرنس 2 والیمز پر مشتمل ہے،نیب کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 13 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا، عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی مجموعی طور پر 37 دن نیب کی تحویل میں رہے،تحقیقات کے دوران عمران خان، بشریٰ بی بی کو نیب کی جانب سے سوال نامہ بھی فراہم کیا گیا تھا، دونوں ملزمان نے سوال نامے کے جوابات نیب کو جمع کروا دیے تھے،تحقیقات مکمل ہونے پر  سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا

    توشہ خانہ نیا ریفرنس،عمران خان کے پرسنل سیکریٹری انعام اللّٰہ شاہ بھی گواہوں میں شامل
    عمران خان کے خلاف نئے توشہ خانہ ریفرنس میں گواہوں کی فہرست سامنے آ ئی ہے جس میں 22 گواہوں کے نام شامل ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق گواہان میں بنیامین سیکشن آفیسر توشہ خانہ کیبنٹ ڈویژن کا نام سرِ فہرست ہے ،پروٹوکول افسر وزیرِ اعظم ہاؤس طلعت محمود، ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب قیصر محمود ،وزارت خارجہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد فہیم، سابق ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر محمد احمد ،سابق وزیرِ اعظم کے پرسنل سیکریٹری انعام اللّٰہ شاہ ،ڈائریکٹر نیب شفقت محمود اور کیس کے تفتیشی افسر محمد محسن ہارون بھی گواہوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کیلئے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • عمران خان کی نیب تفتیشی افسر کو دھمکیاں

    عمران خان کی نیب تفتیشی افسر کو دھمکیاں

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کی سماعت ہوئی

    سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نیب کے تفتیشی افسر محسن ہارون کو دھمکی دے دی،بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی نشست سے اٹھ کر نیب کے تفتیشی افسر کے پاس آئے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے غصے میں انگلی کے اشارے سے نیب تفتیشی افسر کو تھریٹ کیا،اور کہا کہ تم نے جو کیسز بنائے ہیں،تمہاری وجہ سے میری بیوی جیل میں ہے،جب باہر نکلوں گا تو تمہیں اور چیئرمین نیب کو نہیں چھوڑوں گا ، رہا ہوتے ہی تم دونوں کو میں عدالت لے کر جاؤں گا ، نذیر بٹ،انعام شاہ اور توشہ خانہ کی تفتیشی آفیسر کو عدالت لے جاؤں گا جن کی وجہ سے میری بیوی سات ماہ سے جیل میں ہے،ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کی قیمت تین ارب 18 کروڑ لگائی گئی،

    توشہ خانہ ٹو ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت ملتوی
    توشہ خانہ ٹو ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے ،نیب حکام نے کہا کہ سپریم کورٹ سے نیب ترامیم کیس پر فیصلہ آچکا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عدالت نے دیکھنا ہے کہ کیس میں اس عدالت کا دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت بعد گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

    نیب ترامیم،سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لیں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ،جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ثابت نہیں کر سکے کہ نیب ترامیم غیر آئینی ہیں، سپریم کورٹ نے نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 3 ماہ بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم بحال کر دیں، فیصلے میں کہا ہے کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ثابت نہیں کر سکا کہ نیب ترامیم آئین سے متصادم تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی،جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا،جسٹس حسن اظہر رضوی نے بھی اضافی نوٹ تحریر کیا ،زوہیر احمد اور زاہد عمران نے متاثرہ فریق کے طور پر انٹراکورٹ اپیلیں دائر کی تھیں

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف فیصلہ متفقہ ہے،سپریم کورٹ پارلیمنٹ کیلئے گیٹ کیپرکا کردارادا نہیں کرسکتی،چیف جسٹس اورججز پارلیمنٹ کیلئے گیٹ کیپر نہیں ہوسکتے،تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا،

    پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں نیب ترامیم منظور کی گئی تھیں، نیب قوانین کے سیکشن 2، 4، 5، 6، 14، 15، 21، 23، 25 اور 26 میں ترامیم کی گئی تھیں،نیب ترامیم کے خلاف عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 5 ستمبر 2023ء کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،سپریم کورٹ نے 15ستمبر 2023ء کو عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کالعدم قرار دیں،سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کی 10 میں سے 9 ترامیم کالعدم قرار دی تھیں،جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کیس میں دائر اپیلوں پر ذاتی حیثیت میں دلائل دینے کی درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ نے 10 مئی 2024ء کو انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا،لارجر بینچ نے بانیٔ پی ٹی آئی کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کی اجازت دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 6 جون 2024ء کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    نیب ترامیم کے تحت بہت سے معاملات کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا تھا، نیب ترامیم کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے آغاز سے نافذ قرار دیا گیا تھا، نیب ترامیم کے تحت نیب 50 کروڑ سے کم مالیت کے معاملات کی تحقیقات نہیں کر سکتا، ترمیم کے تحت نیب دھوکا دہی کے مقدمے کی تحقیقات تب ہی کر سکتا ہے جب متاثرین 100 سے زیادہ ہوں،نیب ترامیم کے تحت ملزم کا زیادہ سے زیادہ 14 دن کا ریمانڈ لے سکتا ہے جسے بعد میں 30 دن تک بڑھا گیا، ترامیم کے تحت نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکتا تھا،ترامیم کے تحت ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو نیب کے دائرہ کار سے نکال دیا گیا تھا، افراد یا لین دین سے متعلق زیرِ التواء تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز متعلقہ اداروں اور عدالتوں کو منتقل ہوئیں۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا یا تھاجس میں کہا تھا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی ،نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    نیب قانون کا اصل مقصد سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا یا سیاسی انجنئیرنگ تھا،سپریم کورٹ
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا،تحریری فیصلہ 16 صفحات پر جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی تحریری فیصلہ میں شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے فیصلہ سے اتفاق کرتا ہوں،حکومتی اپیلیں پریکٹس پروسیجر قانون کےتحت قابل سماعت نہیں،حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں،متاثرہ فریقین کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کی جاتیں ہیں،نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ کالعدم قراردیا جاتاہے،ججز اور آرمی فورسز کے ارکان کو نیب قانون سے استثنی حاصل نہیں،اضافی نوٹ کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،جسٹس اطہر من اللہ

    فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے تحریری کیا ہے،فیصلہ میں کہا گیا کہ نیب قانون سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے زبردستی اقتدار میں آنے کے 34 دن بعد بنایا،پرویز مشرف نے آئینی جمہوری آرڈر کو باہر پھینکا اور اپنے لئے قانون سازی کی،پرویز مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز کو ہٹایا جنہوں نے غیر آئینی اقدام کی توسیع نہیں کی، آئین میں عدلیہ اور مقننہ کا کردار واضح ہے، عدلیہ اور مقننہ کو ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت پر نہایت احتیاط کرنی چاہیے،آئین میں دئیے گئے فرائض کی انجام دہی کے دوران بہتر ہے کہ ادارے عوام کی خدمت کریں، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ ججز پارلیمنٹ کے گیٹ کیپرز نہیں،مشرف دور میں بنائے گئے قانون کے دیباچہ میں لکھا گیا کہ نیب قانون کا مقصد کرپشن کا سدباب ہے جن سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں نے پرویز مشرف کو جوائن کیا انہیں بری کردیا گیا،نیب قانون کا اصل مقصد سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا یا سیاسی انجنئیرنگ تھا،

  • عمران ،بشریٰ کے وکیل پیش نہ ہوئے،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی

    عمران ،بشریٰ کے وکیل پیش نہ ہوئے،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی گئی

    سماعت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کی گئی۔نیب کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم پر ساتویں مرتبہ بھی جرح نہ ہوسکی،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے۔علی ظفر نے کہا کہ ہمارے مین کونسل اسلام آباد ہائی کورٹ میں مصروف ہیں، عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی۔ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کیلئے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

  • عمران نیازی نےمقدمہ چلانے پر کروڑوں روپے برباد کئے مگر کچھ نہ نکلا۔احسن اقبال

    عمران نیازی نےمقدمہ چلانے پر کروڑوں روپے برباد کئے مگر کچھ نہ نکلا۔احسن اقبال

    ن لیگی رہنما وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران نیازی کی انتقامی سیاست نے بے بنیاد مقدمہ کو چلانے پر کروڑوں روپے برباد کئے مگر کچھ نہ نکلا۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس ریفرنس 4 سال بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔ ریفرنس واپس لینے کی نیب کی درخواست احتساب عدالت نے منظور کر لی۔نیب نے دسمبر 2019 کو مجھے اس جھوٹے مقدمہ میں عمران نیازی کی انا کی تسکین کے لئے گرفتار کیا تھا 2 ماہ بعد ہائیکورٹ نے 25 فروری 2020 کو ضمانت دی اور ستمبر 2022 میں اس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے اس مقدمہ کی سماعت کے بعد مجھے باعزت بری کر دیا تھا۔ عمران نیازی کی انتقامی سیاست نے اس بے بنیاد مقدمہ کو چلانے پر کروڑوں روپے برباد کئے مگر کچھ نہ نکلا۔ سپورٹس سٹی منصوبہ کے التواء کی وجہ سے اس کی لاگت تین ارب سے بڑھ کر ساڑھے پانچ ارب روپے ہو گئی۔ ان جھوٹے کیسز کی بنیاد پہ عمران نیازی نے چور اور ڈاکو کا بیانیہ بنا کر معاشرے میں نفرت کے بیج بوئے اور اپنی سیاست چمکائی۔

    واضح رہے کہ نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس ریفرنس میں احسن اقبال کو بری کر دیا گیا تھا گزشتہ روز نیب نے ریفرنس واپس لے لیا

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    اجمیر سیکس اسکینڈل،100 سے زائد لڑکیوں سے زیادتی ، 32 سال بعد 6ملزمان کو عمر قید کی سزا

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی