Baaghi TV

Tag: نیب

  • کرپشن کا الزام،نیب نے اپنے ہی افسر کوگرفتار کر لیا

    کرپشن کا الزام،نیب نے اپنے ہی افسر کوگرفتار کر لیا

    کراچی: نیب نے کرپشن کے الزام میں اپنے ہی افسر کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع نیب کے مطابق نیب کراچی اور اسلام آباد حکام نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر نیب کو کرپشن میں ملوث ملزمان سے رشوت لینے جرم میں گرفتار کیا ، نیب نے گرفتار افسر کو اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے ایک روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کرلیا-

    نیب افسر پر چیکس کی صورت میں رشوت لینے کا الزام ہے، نیب افسر کئی چیک کیش بھی کروا چکا تھا، گرفتار ڈپٹی ڈائریکٹر نیب عمران شیخ کو کل اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔

    افغانستان میں خطرناک ٹریفک حادثہ،21 افراد ہلاک اور 38 زخمی

    دوسری جانب کراچی میں ڈاکس تھانے کے اہلکار ہی منشیات فروشی میں ملوث نکلے، اہلکاروں کی منشیات فروشوں سے رقم لینے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی، فوٹیج سامنے آنے کے بعد ایس ایس پی کیماڑی عارف اسلم راؤ نے واقعے کا نوٹس لیا اور دونوں اہلکاروں کو معطل کرکے ایس ایس پی آفس میں کلوز کردیا گیا،اہلکاروں کی شناخت بادشاہ خٹک اور طارق عزیز کے ناموں سے کی گئی ہے جو تھانہ ڈاکس میں تعینات ہیں۔

    17 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    بلبل ہند فصیح الملک اردو کے ایک عظیم شاعر داغ دہلوی

  • نیب کا نیا ضابطہ جاری، وسائل ضائع ہونے کا بھی اعتراف

    نیب کا نیا ضابطہ جاری، وسائل ضائع ہونے کا بھی اعتراف

    نیب نے اپنے تمام دفاتر کیلئے نیا معیاری ضابطہ کار جاری کیا ہے تاکہ صرف اصل اور حقیقی شکایات پر ہی کارروائی کی جا سکے،

    نیب نے اعتراف کیا ہے غیر ضروری شکایات کی وجہ سے قیمتی وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں اور بیورو کی کارروائیوں اور اس کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،نیب کی جانب سے نئے ایس او پیز میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ شکایات نمٹانے میں بد احتیاطی دور کرنے کیلئے درست سمت کا تعین ضروری ہے تاکہ معاشرے اور ریاست کے مختلف حلقوں میں پائے جانے والے خوف اور دباؤ کے حوالے سے بڑھتے تاثر کو دور کیا جا سکے،اس ضمن میں شکایات کے اندراج کے نظام اور انہیں پراسیس کرنے کو اسٹریم لائن کیا گیا ہے اور بدنیتی پر مبنی شکایات اور غیر سنجیدہ شکایات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، ایسی شکایات کو قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے گا، ارکان پارلیمنٹ، سرکاری افسران اور تاجروں کیخلاف شکایات کے ازالے کیلئے ان کے بنیادی تحفظات دور کیا جائے گا اور نیب کی کارروائیوں میں زیادہ شفافیت اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے گا،ایس او پیز کے مطابق منتخب نمائندوں کیخلاف شکایات پر کارروائی کیلئے علیحدہ ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ تاہم، سرکاری ملازمین کیخلاف شکایات کی صورت میں درج ذیل ہدایات جاری کی گئی ہیں جن پر سختی سے عمل کی تلقین کی گئی ہے

    سرکاری ملازمین کیخلاف گمنام شکایات پر غور نہیں کیا جائے گا، شکایت کی تصدیق کے عمل کے دوران سرکاری اہلکاروں کی شناخت کو صیغۂ راز میں رکھا جائے گا، گریڈ 19؍ تک کے افسران کیخلاف شکایات پر کارروائی کا اختیار ریجنل ڈائریکٹر جنرلز کو دیا گیا ہے جبکہ گریڈ 20؍ اور اس سے بالا گریڈ کے افسران کیخلاف شکایات پر کارروائی کیلئے چیئرمین نیب کی منظوری درکار ہوگی، شکایت کی تصدیق اور انکوائری کے مرحلے کے دوران سرکاری ملازمین کو نیب کے احاطے میں ذاتی حیثیت میں طلب نہیں کیا جائے گا، متعلقہ صوبائی چیف سیکریٹریز کی مشاورت سے ریجنل ڈائریکٹر جنرلز متعلقہ سول سیکرٹریٹ میں اکاؤنٹبلٹی فیسلیٹیشن سیلز (اے ایف سیز) قائم کریں گے،تمام خط و کتابت اور معلومات کا اشتراک اے ایف سیز کے ذریعے کیا جائے گا،تاجروں کیخلاف شکایات پر غور کیلئے ایس او پیز میں لکھا ہے، تاجروں کیخلاف کسی گمنام شکایت پر غور نہیں کیا جائے گا، تاجروں کی شناخت کو سختی سے صیغۂ راز میں رکھا جائے گا،شکایت کی تصدیق کے مرحلے کے دوران کسی تاجر کو نیب احاطے میں طلب نہیں کیا جائے گا، باوقار انداز سے تحقیقات کیلئے نیب کے ریجنل آفس میں ایک علیحدہ بزنس فیسیلیٹیشن سیل (بی ایف سی) قائم کیا جائے گا،بی ایف سی متعلقہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے، ریئلٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے اور دیگر کاروباری تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی ،

    نئے ایس او پیز کے مطابق تمام شکایات کو درج ذیل ترجیحی احکامات کے تحت فوری طور پر نمٹایا جائے گا، وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ وزارتوں سے موصول ہونے والی شکایت، معزز عدالتوں کی طرف سے ارسال کردہ شکایات،) قومی اسمبلی، سینیٹ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی طرف سے بھیجی گئی شکایت، سرکاری محکموں، ریگولیٹری اداروں، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور بینکوں وغیرہ کی طرف سے بھیجی گئی شکایات، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے بھیجی گئی شکایات،) چیمبر آف کامرس، بزنس ہاؤسز اور کارپوریٹ اداروں کی طرف سے بھیجی گئی شکایات، چیئرمین نیب کی طرف سے منظور کردہ شکایات، نیب کے علاقائی ڈی جیز کی طرف سے بھیجی گئی شکایات، نیب حکام سے متعلق شکایات، عوام کو بڑے پیمانے پر دھوکا دینے کی شکایت، کسی فرد کی طرف سے دائر کردہ شکایات،معیار پر پورا نہ اترنے والی تمام زیر التواء شکایات متعلقہ ریجنل بیورو دفاتر کے ذریعے نمٹائی جائیں گی۔

    جاری گمنام/ فرضی شکایات کی صورت میں (جن میں کچھ شواہد بھی موجود ہوں) علاقائی بیوروز کو پہلے شکایات کا پتہ لگانے کا اختیار حاصل ہوگا اور تصدیق کے بعد تصدیق کا عمل جاری رکھنے کیلئے نیب ہیڈکوارٹر سے منظوری حاصل کی جائے گی۔نئے ضابطہ کار (ٹی او آرز) جاری کرتے ہوئے نیب نے اعتراف کیا ہے کہ بیورو کے قیام سے لیکر اب تک اس کی کارکردگی کا معروضی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قانونی طور پر سنجیدہ شکایات پر زیادہ توجہ مرکوز کرکے سزا کی شرح کو تیزی سے بہتر کیا جا سکتا ہےبنیادی طور پر یہ مسئلہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ طے شدہ معیار اور ریگولیٹری فریم ورک موجود نہیں جس کی مدد سے سنجیدہ اور غیر سنجیدہ شکایات میں فرق کیا جا سکے۔ نتیجتاً، غیر سنجیدہ شکایات پر کارروائی میں قیمتی وقت اور وسائل ضا ئع ہو جاتے ہیں جس سے نیب کی کارروائیاں اور کوششیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں،شکایات نمٹانے میں بد احتیاطی دور کرنے کیلئے درست سمت کا تعین ضروری ہے تاکہ معاشرے اور ریاست کے مختلف حلقوں میں پائے جانے والے خوف اور دباؤ کے حوالے سے بڑھتے تاثر کو دور کیا جا سکے

  • ڈاکٹر عاصم کیخلاف کرپشن ریفرنس واپس چیئرمین نیب کو بھیج دیا گیا

    ڈاکٹر عاصم کیخلاف کرپشن ریفرنس واپس چیئرمین نیب کو بھیج دیا گیا

    کراچی:پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم کیخلاف کرپشن ریفرنس واپس چیئرمین نیب کو بھیج دیا گیا –

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف 17 ارب روپے کی کرپشن کے ریفرنس میں اہم پیش رفت سامنے آئی اور کراچی کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین سمیت دیگر ملزمان کے خلاف 17 ارب روپے کے کرپشن کا ریفرنس واپس چیئرمین نیب کو بھیج دیا۔

    احتساب عدالت میں ڈاکٹر عاصم اور دیگر کے خلاف ریفرنس 8 سال تک زیر سماعت رہا، جس میں نامزد دیگر ملزمان میں اقبال زیڈ احمد، شعیب وارثی، ظہیر صدیقی اور دیگر شامل تھے نیب کے مطابق ملزمان پر گیس کے ٹھیکوں کی مد میں 17 ارب کی کرپشن کا الزام ہے۔

    وفاقی کابینہ نے گیس کی قیمتوں میں اضافےکی منظوری دیدی

    واضح رہے کہ ملزمان نے احتساب عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کے بعد احتساب عدالت کو ریفرنس کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔

    پاکستان کو سنگین ترین اور مشکل ترین حالات میں ہم مل کر دھکیل رہے ہیں،خالد …

    چوہدری شجاعت کی چوہدری پرویز الہیٰ سے اڈیالہ جیل میں طویل ملاقات

  • طیبہ گل کیس، سابق ڈی جی نیب پر فردجرم کی تاریخ طے

    طیبہ گل کیس، سابق ڈی جی نیب پر فردجرم کی تاریخ طے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں طیبہ گل کی جانب سے سابق ڈی جی نیب شہزادسلیم کے خلاف ہتک عزت کیس ہوئی،

    ایڈیشنل سیشن جج سہیل شیخ کی عدالت میں درخواست گزار طیبہ گل اور ملزم شہزاد سلیم پیش ہوئے،جج سہیل شیخ نے شہزاد سلیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو حاضری کیلئے نوٹس جاری کیا تھا،آپ کو چالان کی نقول فراہم کر رہے ہیں، اگلی سماعت پر فرد جرم عائد ہوگی،عدالت نے شہزاد سلیم کو چالان کے نقول فراہم کر دیئے اور 30ہزار روپے شورٹی بانڈ جمع کروانے کی ہدایت کردی،

    وکیل شہزاد سلیم نے عدالت میں استدعا کی کہ تیس ہزار روپے سے کم شورٹی بانڈ کردیں، عدالت نے کہا کہ تیس ہزار روپے سے مزید کم شورٹی بانڈ اور کیا کریں،طیبہ گل نے عدالت میں کہاکہ نیب کے پاس بہت پیسہ ہوتا ہے، یہ لاکھوں سے کم میں بات نہیں کرتے،عدالت نے شہزادسلیم پر فردجرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی ،سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم پر 11مارچ کو فرد جرم عائد کی جائے گی،عدالت نے آئندہ سماعت پر شہزاد سلیم کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا،

    شہزادسلیم کی جانب سے میڈیا پر ہتک آمیز الزامات لگانے پر طیبہ گل نے عدالت سے رجوع کیا تھا،دوران سماعت عدالت نے کہا کہ ایس ایس پی کی رپورٹ میں شہزادسلیم کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کا ثبوت نہیں ملا،وکیل صفائی نے عدالت میں بتایا کہ شہزادسلیم نے میڈیا پر ادا کیےگئے الفاظ کی تردید نہیں کی، شہزادسلیم نے الزامات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا قراردیا لیکن تردید نہیں کی،عدالت نے کہا کہ ایس ایس پی رپورٹ میں بھی شہزادسلیم نے طیبہ گل کے خلاف اپنے بیان کی تردید نہیں کی گئی لہٰذا بادی النظر میں شہزاد سلیم کے خلاف ہتک عزت کی دفعات کے تحت کیس بنتا ہے۔

    تفتیشی افسر نے رپورٹ میں کہا کہ طیبہ گل اور سابقہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم کو انکوائری کے لئے طلب کیا گیا، طیبہ گل نے موقف اختیار کیا کہ 2019 میں نیب نے انہیں گرفتار کیا، عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر طیبہ گل کو بری کردیا، مگر شہزاد سلیم نے سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر ان کی کردار کشی کی۔ طیبہ گل کے مطابق شہزادسلیم نے ان کے خلاف نازیبا القابات کا اظہار کیا، ان کے بیانات کے باعث انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ شہزادسلیم کے مطابق وہ ڈی جی نیب سمیت سرکاری اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور طیبہ گل جھوٹ بول رہی ہیں اور ان کی کردار کشی کر رہی ہیں، وہ اپنے شوہر کے ہمراہ 25 سے زائد مقدمات میں نامزد ہیں اور انکوائری میں الفاظ کو توڑ مروڑ کر استعمال کر رہی ہیں۔

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

  • طیبہ گل کا سابق ڈی جی نیب کیخلاف ہتک عزت کیس قابل سماعت قرار

    طیبہ گل کا سابق ڈی جی نیب کیخلاف ہتک عزت کیس قابل سماعت قرار

    اسلام آباد، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے  طیبہ گل کا سابق ڈی جی نیب شہزادسلیم کے خلاف ہتک عزت کا فوجداری کیس قابل سماعت قرار دے دیا

    شہزادسلیم کی جانب سے میڈیا پر ہتک آمیز الزامات لگانے پر طیبہ گل نے عدالت سے رجوع کیا تھا،دوران سماعت عدالت نے کہا کہ ایس ایس پی کی رپورٹ میں شہزادسلیم کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کا ثبوت نہیں ملا،وکیل صفائی نے عدالت میں بتایا کہ شہزادسلیم نے میڈیا پر ادا کیےگئے الفاظ کی تردید نہیں کی، شہزادسلیم نے الزامات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا قراردیا لیکن تردید نہیں کی،عدالت نے کہا کہ ایس ایس پی رپورٹ میں بھی شہزادسلیم نے طیبہ گل کے خلاف اپنے بیان کی تردید نہیں کی گئی لہٰذا بادی النظر میں شہزاد سلیم کے خلاف ہتک عزت کی دفعات کے تحت کیس بنتا ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل نےطیبہ گل کی درخواست منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے اور 15فروری کو سابق ڈی جی نیب شہزادسلیم کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

    تفتیشی افسر نے رپورٹ میں کہا کہ طیبہ گل اور سابقہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم کو انکوائری کے لئے طلب کیا گیا، طیبہ گل نے موقف اختیار کیا کہ 2019 میں نیب نے انہیں گرفتار کیا، عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر طیبہ گل کو بری کردیا، مگر شہزاد سلیم نے سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر ان کی کردار کشی کی۔ طیبہ گل کے مطابق شہزادسلیم نے ان کے خلاف نازیبا القابات کا اظہار کیا، ان کے بیانات کے باعث انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ شہزادسلیم کے مطابق وہ ڈی جی نیب سمیت سرکاری اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور طیبہ گل جھوٹ بول رہی ہیں اور ان کی کردار کشی کر رہی ہیں، وہ اپنے شوہر کے ہمراہ 25 سے زائد مقدمات میں نامزد ہیں اور انکوائری میں الفاظ کو توڑ مروڑ کر استعمال کر رہی ہیں۔

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

  • نیب  نے پشاور میں  پی ٹی آئی  دور میں بھرتی ہونے والے 15 سو افراد کو طلب کر لیا

    نیب نے پشاور میں پی ٹی آئی دور میں بھرتی ہونے والے 15 سو افراد کو طلب کر لیا

    پشاور: قومی احتساب بیورو ( نیب) نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں خیبر پختونخوا کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سوشل میڈیا ونگ میں بھرتی ہونے والے 15 سو افراد کو طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی: نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے 23 ملازمین بیورو آفس میں تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہونے اور تحقیقات کا حصہ بننے کا کہا گیا ہے، نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ جانب سے طلب کیے گئے 23 ملازمین بطور کشیٹ ڈویلپر کام کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ کے پی انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سوشل میڈیا ونگ میں بھرتیاں پی ٹی آئی دور حکومت میں کی گئیں، نیب نے سوشل میڈیا ونگ میں کام کرنے والے ملازمین کو ریکارڈ سمیت تفتیشی ٹیم کے رو بر و طلب کر رکھا ہے ذرائع نے دعوی کیا کہ خیبر پختو نخوا انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں سوشل میڈیا ونگ میں 1500 افراد خلاف ضابطہ بھرتی کیے گئے ان خلاف ضابطہ بھرتیوں پر 28 کروڑ روپے خرچ ہوئے ، یہ رقم سوشل میڈیا ونگ میں تنخواہوں، مراعات کی مد میں خرچ کی گئی۔

    گوہر اعجاز کو وزیرداخلہ کا اضافی چارج مل گی،نوٹیفکیشن جاری

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات بڑھنے لگے ہیں ،صدر راولپنڈی ریجن زبیر چودھری نے ٹکٹوں کی تقسیم پر سوالات اٹھا دئیے پرانے اور اعتماد والے امیدواروں کو یکسر نظر انداز کرنے اور ٹکٹوں کی پیسوں کے بدلے تقسیم پر سیمابیہ طاہر پر پی ٹی آئی راولپنڈی ڈویژن نارتھ کے صدر برس پڑے۔

    انہوں نے اعلیٰ قیادت سے فوری نوٹس کی اپیل اور صدر نارتھ ریجن نے احتجاج کا اعلان کر دیا ،ان کا کہنا تھا کہ پرانے اور وفادار لوگوں کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے زبیر چودھری نے پریس کا نفرنس کرنے کا بھی اعلان کیا ہے اور بذریعہ سوشل میڈیا اپنے عہدے سے مستعفی ہو نے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدر میں مزید کمی

    بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد سے متعلق عدالت کے فیصلےسے مسلمانوں …

  • جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ اور 190 ملین پائونڈ کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نےسماعت کی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل منور اقبال دگل اور نیب اسپیشل پراسیکیوٹر امجد پرویز ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اسی نوعیت کے ایک کیس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ دے رکھا ہے،مناسب ہو گا کہ یہ کیس بھی اُسی عدالت میں منتقل کر دیا جائے، ہماری استدعا ہے کہ دونوں مقدمات کے ٹرائل پر حکمِ امتناعی جاری کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا، صرف وہ پیرامیٹرز دیکھنے ہیں کہ جیل ٹرائل کے طریقہ کار کو فالو کیا گیا یا نہیں،یہ نیب کیس ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا نیب لا میں کچھ الگ ہے؟اٹارنی جنرل کو آنے دیں، ہم اس کو دیکھ لیتے ہیں،

    جیل ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا

    نوٹیفکیشن ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل جیل میں کیا جائے، ریفرنس ابھی آیا ہی نہیں تھا تو آپکو کیسے پتہ چلا کہ دائر ہونا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    دوبارہ سماعت ہوئی، اٹارنی جنرل عدالت پیش ہوئے،عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے کیس دوبارہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل بینچ کو منتقل کرنے کی استدعا کر دی،شعیب شاہین نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پہلے اسی نوعیت کے کیس پر فیصلہ دے رکھا ہے کیس اُسی بنچ کو دوبارہ بھیج دیا جائے جو پہلے سُن رہا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے چھٹی سے واپس آنے تک دونوں مقدمات کے ٹرائل پر حکمِ امتناعی جاری کر دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ حکمِ امتناعی جاری نہیں کرتے، کیس ایسے ہی اُس بنچ کو بھیج دیتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اِس عدالت کے سامنے تمام فریقین موجود ہیں، یہاں دلائل کیوں نہیں دینا چاہتے؟وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اُس بنچ نے پہلے اِس نوعیت کی درخواست پر فیصلہ دے رکھا ہے اس لئے کیس منتقل کرنے کی استدعا کی باقی ہم نے بنچ پر اعتراض نہیں کیا یہاں دلائل دینے کیلئے بھی تیار ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل شروع کریں ہم دیکھ لیں گے کہ وہ فیصلہ نیب کیس میں بھی متعلقہ ہے یا نہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے جیل ٹرائل کیلئے خط کب لکھا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب نے 13 نومبر کو خط لکھا اور سمری 14 نومبر کو بھیجی گئی،عدالت نے استفسار کیا کہ نیب نے ریفرنس کب دائر کیے؟وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایک ریفرنس 4 جبکہ دوسرا 20 دسمبر کو دائر کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت نے ریفرنسز دائر ہونے سے پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دیدی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن عدالت کے جیل سماعت کیلئے تھے ٹرائل کیلئے نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل جیل میں کیا جائے، ریفرنس ابھی آیا ہی نہیں تھا تو آپکو کیسے پتہ چلا کہ دائر ہونا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرائل کا لفظ لکھنا غلطی ہو سکتی ہے، جیل سماعت کیلئے نوٹیفکیشن کیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • عدالت میں نیب کے گواہ کے بیان کے بعد ریفرنس بے بنیاد ثابت ہو گیا،پی ٹی آئی

    عدالت میں نیب کے گواہ کے بیان کے بعد ریفرنس بے بنیاد ثابت ہو گیا،پی ٹی آئی

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی جانب سےعمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ عدالت میں نیب کے گواہ کے بیان کے بعد ریفرنس بے بنیاد اورمن گھڑت ثابت ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ عمران خان کے وکیل شہباز کھوسہ ایڈووکیٹ ⁦‪نے نیب کے اسٹار گواہ عمران مسیح کی جرح میں سارا کیس اڑا کر رکھ دیا، عمران مسیح دبئی میں بھارتی دُکان پر 3800 درہم ماہانہ پر پارٹ ٹائم سیلزمین ہے۔

    پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ عمران مسیح کو نیب نے توشہ خانہ کی جیولری کی تصاویر بھیجیں اور اس سے لیے گئے جواب کی بنیاد پر سارا کیس بنایا، ‏گواہ عمران مسیح ایک ایف اے پاس شخص ہے جو 8 برس کی کوششوں کے باوجود بی کام کا امتحان پاس نہ کر سکا عمران مسیح کے پاس جیولری کو پرکھنے کا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہےعمران مسیح کو اپنے پاس ہیروں کا تعین کرنے کے لیے موجود متعلقہ سرٹیفیکٹ IGI کا مخفف بھی معلوم نہیں اور ‏عمران مسیح کو اپنی دوکان کے مالک کا بھی معلوم نہیں کہ وہ کون ہے۔

    افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے …

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ سیلز مین عمران مسیح نے مارکیٹ ریسرچ اور دکانوں سے لگائے گئے تخمینے کا کوئی تحریری ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی ‏عمران مسیح کو کمپنی کی طرف سے قیمت کے تعین اور عدالت میں گواہی کے حوالے سے کوئی اتھارٹی لیٹر جار ی نہیں کیا گیا نیب کے ریفرنس میں دئیے گئے تحائف کا مشینز سے معائنہ نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے پاس ان تحائف کی صرف تصا ویر دستیاب تھیں، ‏گواہ عمران مسیح نے اپنی رپورٹ میں ہیروں کا وزن گرام میں لکھا جبکہ ہیروں کا وزن قیراط میں کیا جاتا ہے۔

    8 فروری کے الیکشن ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے،حمزہ شہباز

    الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشنز بنانے کیلئے 1200ووٹرز کا قانون یکسر نظر انداز کردیا

  • ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

    190 ملین اسکینڈل کیس ،ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس عدالتی حکم پر ضبط کرلیے گئے۔
    ملک ریاض اور علی ریاض کے منجمند اثاثہ جات اور بنک اکاونٹس کی دستاویزات جاری کر دی گئی ہیں،ملک ریاض کی منجمند گاڑیوں میں لینڈ کروزر، بی ایم ڈبلیو گاڑیاں شامل ہیں،اشتہاری ہونے پر ملک ریاض اور علی ریاض کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا گیا تھا،ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر 9قیمتی ترین پلاٹ،52 بیش قیمت کاریں اور 78 بینک اکاؤنٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،

    عدالت نے حکم میں نیب کو کہا ہے کہ بحریہ ٹاون اور ملک ریاض حسین کے تمام خاندان کی تمام جائیدادیں ایک ہفتے میں منجمد کردی جائیں، تمام بڑے دفاتر کی جائیدادیں بھی منجمد کردی جائیں،جائیدادوں میں بحریہ ٹاون دفاتر، بحریہ سینما، بحریہ سکول بلڈنگ، بحریہ مرکی اوربحریہ میڈیا ہاوس بھی شامل ہیں، عدالت نے ملک ریاض، علی ریاض ملک، فیصل سرور، ملک حبیب اور سیلمان خان کی تمام جائیدادیں اوربینک اکاونٹس منجمد کیے جارہے ہیں۔ بحریہ ٹاون کی تمام گاڑیاں، بینک اکاونٹس اور دفاتر کی جائیدادیں بھی منجمد کی جائیں گی

    عدالت نے ملک بھر کے ریونیو افسران کو ملزمان کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران کو ان کے ناموں پر رجسٹرڈ گاڑیاں ضبط کرنے کا حکم دیا گیاعدالت نے کمرشل بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ ان کے کھاتوں کو منجمد کریں اور لین دین یا سرمایہ نکالنے کی اجازت نہ دیں، عدالت نے ان ملزمان کی ملکیتی جائیدادوں سے کرائے کی آمدنی حاصل کرنے کے لیے نیب کے ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر کو بطور ”رسیور“ بھی مقرر کیا۔

    قبل ازیں 190 ملین پائونڈ کیس میں چھ ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا۔ اشتہاری قرار دینے والوں میں ملک ریاض اور علی ریاض بھی شامل ہیں.عدالت میں شریک ملزمان سے متعلق تفتیشی آفیسر نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا،شریک ملزمان میں ملک ریاض، علی ریاض ملک، فرحت شہزادی، ضیاء السلام نسیم، شہزاد اکبر اور ذلفی بخاری شامل ہیں

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    واضح رہے کہ سات دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو ا تھا،احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے.

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں، ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    اسلام آباد: نیب نے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹی گیشن بند کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی نیوز” کے مطابق نیب کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعلان کے مطابق، یکم جنوری 2024 کو ہونے والی بیورو کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور ان کی فیملی کے ارکان کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انوسٹیگیشن بند کر دی گئی ہے۔

    شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹی گیشن کی منظوری 31؍ مارچ 2000 کو دی گئی تھی شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شریف فیملی نے خفیہ طور پر شریف ٹرسٹ میں کروڑوں روپے وصول کیے ہیں، یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ٹرسٹ کے کھاتوں کا آڈٹ نہیں کرایا گیا اور رقوم میں خرد برد کی گئی ہے۔

    یہ بھی الزام لگایا گیا کہ شریف خاندان نے اثاثے بنا رکھے ہیں جو ٹرسٹ کے نام پر بے نامی جائیدادوں کے طور پر رکھے گئے تھے۔ پانامہ پیپرز میں تشکیل دی گئی متنازع جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا تھا کہ 2000ء میں منظوری کے بعد سے شریف ٹرسٹ کیس میں انوسٹی گیشن کو نیب نے بلا جواز تاخیر کا شکار کر رکھا ہے۔

    بیٹی نے گھر پر قبضہ کر کے بیوہ ماں‌کو نکال دیا،بیوہ خاتون کا تحفظ کا …

    پانامہ جے آئی ٹی نے تجویز دی تھی کہ نیب کو ہدایت کی جائے کہ وہ قلیل مدت میں انویسٹی گیشن مکمل کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے اب، نیب نے شہباز شریف حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ نیب ایکٹ 2022ء کے سیکشن 31 بی کے تحت انوسٹی گیشن بند کر دی ہے۔

    اس قانون کے سیکشن 31؍ بی ذیل میں پیش کیا جا رہا ہےکہ ’زیر التواء کارروائی کو واپس لینا اور ختم کرنا:۔ (1) کسی ریفرنس کی پیروی سے قبل، چیئرمین، نیب پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ مشاورت سے، حقائق، حالات اور شواہد کی مجموعی حیثیت کو دیکھتے ہوئے، جزوی طور پر اس ایکٹ کے تحت کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر، مشروط یا غیر مشروط طور پر واپس لے سکتے ہیں یا ختم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ غیر منصفانہ ہو۔

    میڈیا انتخابات سے متعلق خبروں پر الیکشن کمیشن کا موقف لے، مرتضی سولنگی

    (2) ریفرنس دائر کرنے کے بعد، اگر چیئرمین نیب پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت سے، حقائق، حالات اور شواہد کی کُلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خیال کرے کہ ریفرنس جزوی یا مکمل طور پر ناجائز ہے، تو وہ سفارش کر سکتا ہے کہ جس عدالت میں یہ معاملہ زیر التوا ہے کہ وہاں ریفرنس جزوی طور پر یا مکمل طور پر واپس لیا جا سکتا ہے یا ختم کیا جا سکتا ہے۔

    (i) اگر یہ ریفرنس الزام عائد کیے جانے سے پہلے بنایا گیا ہو، تو ملزم کو اس معاملے میں ڈسچارج کر دیا جائے گا، اور (ii) اگر یہ ریفرنس الزام عائد کیے جانے کے بعد دائر کیا گیا ہے، تو وہ ایسے جرم یا جرائم کے سلسلے میں بری ہو جائے گا۔ نواز شریف کیس کے علاوہ، پانچ انکوائریز کو بھی بند کیا گیا ہے۔

    میرے خلاف لطیف کھوسہ کی فرم کے وکلا پیش ہوئے،خواجہ سرانایاب علی

    ان میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے سابق چیف آپریٹنگ افسر اکبر ناصر خان، دیگر افسران، اہلکاروں اور دیگر کیخلاف انکوائری،1998 میں سوشل ایکشن پروگرام (ایس اے پی) کے تحت کاؤنٹر فنڈ کے قیام کیلئے پاکستان اور جاپان کی حکومتوں کے درمیان ڈھائی سو ملین ڈالرز (11؍ ارب روپے یا 32.032؍ ملین ین) کے قرضے کے حصول کیلئے کیے گئے معاہدے کے حوالے سے سرکاری عہدیداروں اور دیگر کیخلاف شروع کی جانے والی انکوائری شامل ہے۔

    پارک انکلیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے سے سی ڈی اے کے افسران اور اہلکاروں کیخلاف انکوائری، اسلام آباد کی پبلک لمیٹڈ کمپنیوں میں من پسند افراد کی غیر قانونی بھرتی اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز کے اجراء کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ملازمین اور افسران کیخلاف انکوائری اور شاہد ملک، شہباز یاسین ملک، صائمہ شہباز ملک اور دیگر کیخلاف انکوائری شامل ہے۔

    اوچ شریف:اسلام آباد سے کراچی جانےوالی بس نہرمیں گرگئی،3 مسافرجاں بحق،متعددزخمی