Baaghi TV

Tag: نیب

  • نیب افسران کی سروسز  دوسرے اداروں کے سپُرد

    نیب افسران کی سروسز دوسرے اداروں کے سپُرد

    اسلام آباد: نیب کے 25 افسران کی خدمات دوسرے اداروں کے سپرد کردی گئی ہیں،ڈپوٹیشن پرجانے والے یہ نیب افسران مختلف سٹیشن پر پچھلے پانچ سال تک ہائی پروفائل کیسزپرکام رہے تھے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق دوسرے اداروں میں جانے والے نیب افسران میں ڈائریکٹرجنرل نیب میجر ریٹائر شہز ا د بھی شامل ہیں، جسٹس جاوید اقبال کے دورمیں ڈائریکٹرجنرل نیب میجرریٹائرشہزاد نے لاہور میں تمام ہائی پروفائل کیسز کی تحقیقات کی نگرانی کی تھی،جس میں شریف خاندان، چوہدری برادرز اور شوگرسکینڈل کیس شامل تھے-

    احمد باجوہ، کاشف گوندل، سلیم پاشاہ، احمد حسن، ضیا تورو، مسٹر سروچ شامل ہیں جو دوسروں اداروں میں ڈپوٹیشن پر بھیجے گئے ہیں، محمد سجاد، عمران یونس، افتاب یونس، خاورالیاس، تین خاتون افسران اور کچھ دوسرے افسران شامل ہیں، ان میں سے زیادہ تر افسران نے اپنا چارج لے لیا ہے، یہ نیب افسران سابق چیرمین جسٹس ریٹائڑجاوید اقبال کے بھی قریب سمجھے جاتے ہیں اور ان میں چھ افسران مختلف انکوائریاں بھی بھگت رہے تھے، جبکہ مزید ایک درجن نیب افسران کی سروسز بھی دوسرے اداروں کو جلد سپرد کی جائیں گی۔

    پرویز الہی کی جیل میں طبعیت ناساز ہو گئی

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

    سعودی عرب کا جنگی طیارہ گر کر تباہ ،2 پائلٹس جاں بحق

  • مبینہ کرپشن میں پرویز الہی کا  ساتھی گرفتار

    مبینہ کرپشن میں پرویز الہی کا ساتھی گرفتار

    لاہور:قومی احتساب بیورو(نیب) لاہور نے پرویز الہی کے شریک ملزم خبیب قاسم کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نیب نے گجرات ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے معاملے پر ملزم سب انجینئر خبیب قاسم کو گرفتار کیا،عدالت نے سب انجینئر خبیب قاسم کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا، عدالت نے ملزم کو دوبارہ 12 دسمبر کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی، ملزم پر گجرات سمیت دیگر شہروں میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کا الزام ہے۔

    واضح رہے کہ رہے کہ قومی احتساب بیورو نے گجرات ٹھیکوں میں مبینہ کک بیکس اور رشوت کی تحقیقات مکمل کر کے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی سمیت 14 ملزمان کیخلاف ایک ارب 23کروڑ روپے سے زائد کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائرکیا ہے نیب کے مطابق سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہٰی اور مونس الٰہی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

    پرویز الہی کی جیل میں طبعیت ناساز ہو گئی

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ کی جیل میں طبعیت ناساز ہوگئی،ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ کی جیل میں طبعیت ناساز ہونے کے بعد انہیں جیل اسپتال منتقل کیا گیا جیل ڈاکٹرز کی جانب سے پرویز الہیٰ کا طبی معائنہ کیا گیا، پرویز الہیٰ کے خون کے نمونے لیے گئے اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا، جس کے بعد صدر پی ٹی آئی کو جیل اسپتال سے دوبارہ بیرک منتقل کیا گیا ۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

  • 190 ملین پاونڈ اسکینڈل،ریاستی ملکیت ریکارڈ شہزاد اکبر نے غائب کر دیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل،ریاستی ملکیت ریکارڈ شہزاد اکبر نے غائب کر دیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

    نیب رپورٹ کے مطابق این سی اے کے ساتھ خط و کتابت کا ریکارڈ اثاثہ جات ریکوری یونٹ سے غائب ہے،190 ملین پاونڈ سیٹلمنٹ سے پہلے ملک ریاض کی شہزاد اکبر کے ہمراہ سابق وزیراعظم سے ملاقات کی بھی تصدیق ہوئی ہے، محرر پی ایم ہاوس ریکارڈ کیمطابق ملاقات11 جولائی 2019 کو ہوئی تھی،غائب ہونے والا ریکارڈشہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم کے پاس تھا، ریکارڈ ریاست پاکستان کی ملکیت تھا،ریکارڈ کو سیاہ کاریاں چھپانے کیلئے غائب کیا گیا، ریکارڈ کا غائب ہونا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے تھا،کابینہ ڈویژن ریکارڈ غائب ہونے کی انکوائری کروا چکا،انکوائری میں ریکارڈ گم ہونے کی ذمہ داری شہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم پر عائد ہو چکی،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا ہے،

    عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کررکھی ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    نیب کی سفارش پر 190 ملین پاونڈ اسکینڈل میں چئیرمین پی ٹی آئی سمیت 29 افراد کو ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، عمران خان، شہزاد اکبر، ذلفی بخاری ، فرح گوگی،ملک ریاض، سمیت 29 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے گئے، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکر رکھا ہے،ریفرنس میں عمران خان کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    nab report

  • نیب کی کوشش یہی ہے کہ لوگوں سےکوئی زیادتی نہ ہو، چئیرمین نیب

    نیب کی کوشش یہی ہے کہ لوگوں سےکوئی زیادتی نہ ہو، چئیرمین نیب

    لاہور: چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد نے کہا ہے کہ ہر 10 میں سے 7 افراد ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متاثر ہیں۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نذیر احمد کا کہنا تھا ہر 10 میں سے 7 لوگ کسی نہ کسی ہاؤسنگ اسکیم کے فراڈ کا شکار ہیں، نیب کی کوشش یہی ہے کہ لوگوں سےکوئی زیادتی نہ ہو، عوام کو لوٹنے والے فصلی بٹیروں کے خلاف شکنجہ سخت کیا جائے گا ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متاثرہ افراد کو لوٹی ہوئی رقوم واپس کررہے ہیں، کوشش ہے کم سے کم وقت میں ان کی دادرسی ہو متاثرین کی دادرسی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، نیب پیشہ ورانہ ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔

    چیئرمین نیب نے کہا کہ شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں کے فراڈ سے بچانے کے لیے نئی پالیسی لارہے ہیں، آج تک ہاؤسنگ اسکیموں میں بلڈر اور خریدارکے درمیان دوطرفہ ٹرانزیکشن ہوتی تھی، ہاؤسنگ اسکیموں میں بلڈرز اور خریدارکے درمیان ٹرانزیکشن میں ریگولیٹر مسنگ تھا۔

    چیئرمین نیب نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیموں کی نئی پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈر شامل ہوں گے، اب بلڈر اور خریدارکے درمیان ٹرانزیکشن دو طرفہ نہیں تین طرفہ ہوگی، پہلے دن سے ہی بلڈر اور خریدارکے ساتھ ریگولیٹربھی ہرٹرانزیکشن کاحصہ ہوگا، تمام ٹرانزیکشن بینکنگ چینل سے ہوگی، بذریعہ کیش ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

    عمران خان کی آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی …

    چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ سائلین کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایت کا ازالہ کیا جا رہا ہے، نیب کی وجہ سے اداروں میں خوف و ہراس پیدا نہیں ہوگا عوام میں منظم آگاہی مہم شروع کرنے کا مقصد بھی یہی ہے، آگاہی مہم کا حصہ بننے والے نوجوان نیب کے ایمبیسیڈر بنیں گے نیب کے بارے میں سست روی کا تاثر کسی حد تک صحیح ہے، نیب کو خوف اور ہراسگی کا تاثر دور کرنا چاہیے، ہمیں چور کوپکڑنا ہے پورے محلے کو تنگ نہیں کرنا۔

    سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود پر12 دسمبر کو فرد جرم عائد کی …

    انہوں نے کہا کہ فراڈ کا لفظ ہٹا کر متاثرہ کیا ہے، کوشش کر رہے ہیں ملزم کو ملزم کہنے کے بجائے رسپانڈنٹ کہا جائے، نیب آپ کا محافظ اور معاون ہے، ہم نیب کو پروفیشنل ادارہ بنائیں گے کوئی فرد واحد یا ادارہ ملک کو کرپشن سے آزاد نہیں کرا سکتا، ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،کاروباری حضرات کو نیب تنگ نہیں کرے گا، بلکہ ادارہ اروباری حضرات کی مختلف معاملات میں رہنمائی کرے گا۔

    ایک اور پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار

  • توشہ خانہ ریفرنس :سابق وزیراعظم نوازشریف نیب میں شامل تفتیش

    توشہ خانہ ریفرنس :سابق وزیراعظم نوازشریف نیب میں شامل تفتیش

    اسلام آباد: احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزرائے اعظم نوازشریف، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف زرداری کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے-

    باغی ٹی وی : احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی، نوازشریف کے وکیل قاضی مصباح اور پلیڈر راناعرفان عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ نیب پراسیکیوٹرعرفان بھولا اور سہیل عارف بھی عدالت میں پیش ہوئے،توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف نیب میں شامل تفتیش ہوگئے ہیں اور انہوں نے نیب کے سوالنامے کا جواب جمع کروا دیا ہے۔

    وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ شامل تفتیش ہو گئے ہیں سوالات دے دئیے گئے ہیں اور ان کے جوابات بھی فراہم کردئیے گئے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ نیب نے نوازشریف سے توشہ خانہ گاڑیوں کے کیس میں 10سے زائد سوالات کا جواب مانگا تھا، جس پر نوازشریف نے اپنے وکیل کے ذریعے گزشتہ روز نیب کو سوالات کا جواب جمع کرادیا نیب تفتیشی افسر نے احتساب عدالت کو آگاہ کردیا ہے

    وکیل قاضی مصباح نے مؤقف اختیار کیا کہ نوازشریف شامل تفتیش ہو چکے،سوالنامہ مہیا کیا گیا تھا ان کے خلاف 2019 میں سوالنامہ ریفرنس بنایا گیا تھا، 2019 میں نوازشریف انتہائی علیل تھے، انہوں نے گاڑی لینے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا، اور یہ ریکارڈ پرموجود ہے کہ نوازشریف نے گاڑی نہیں مانگی تھی۔

    نیب پراسیکیوٹر نے تصدیق کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کی جانب سے جواب جمع ہو گیا ہے، یہ تفتیشی نے بتا دیا ہے، مزید کارروائی ہو گی،اس کیلئے کچھ وقت درکار ہو گا،ریفرنس میں نوازشریف کی گاڑی لکھی جس کی واپسی کا ریکارڈ نہیں، جب کہ ایسے دستاویز نہیں کہ نوازشریف نے کوئی گاڑی مانگی ہو۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    جج محمد بشیر نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب اس پر کیا کریں گے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی نوازشریف کا بیان دیکھیں گے، پھر مزید کارروائی ہوگی،احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    نوبیل انعام یافتہ امریکی سفارتکار ہنری کسنجر کا 100 سال کی عمر میں انتقال

  • ایون فیلڈ ریفرنس ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا

    ایون فیلڈ ریفرنس ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    نواز شریف کے خلاف صرف آخری مقدمہ العزیزیہ ریفرنس میں سزا باقی رہ گئی،نواز شریف کو انتخابی سیاست کے لیے العزیزیہ ریفرنس میں 20 دسمبر سے پہلے بری ہونا ہوگا ،نواز شریف پانامہ کیسز کے تین ریفرنسز میں سے دو میں کلئیر ہوگئے،نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں بری جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں نیب نے اپیل واپس لے لی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی،عدالت نے رجسٹرار آفس کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل کو تاریخ دینے کی ہدایت کی ،آئندہ عام انتخابات کا شیڈول دسمبر کے دوسرے ہفتے میں جاری ہوگا ،8 فروری کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو دسمبر کے تیسرے ہفتے تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے ہوں گے،نواز شریف کی تاحیات نااہلی الیکشن قانون میں تبدیلی سے ختم ہوگئی

    نیب کی العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے اور فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کے خلاف اپیل پر بھی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے، نواز شریف کی قانونی ٹیم بھی عدالت میں پیش ہوئی،نواز شریف کی پیشی سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف میں سیکورٹی سخت کی گئی تھی،پانچ سو کے قریب اہلکار سیکورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،اسلام آباد کے پولیس کے ساتھ ایف سی اہلکار کے اہلکار بھی موجود ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت پر رینجرز اہلکار تعینات ہیں،نواز شریف کی پیشی سے قبل خواتین اہلکار بھی تعینات کی گئیں.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ آج میں عدالت کے سامنے فرد جرم کے بعد کی کارروائی پر دلائل دوں گا، مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر پر نواز شریف کی اعانت جرم کا الزام تھا،عدالت نے نواز شریف کے دونوں شریک ملزمان کی اپیل منظور کر کے بری کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ سے شریک ملزمان کی بریت کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کر چکا ہے، احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو سیکشن 9 اے سے بری قرار دیا تھا، اس کیس میں اب بس سیکشن 9 اے 5 بچا ہے جو آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ہے،

    وکیل امجد پرویز نے نیب آرڈیننس کا سیکشن 9 اے 5 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کے تحت استغاثہ کو کچھ حقائق ثابت کرنا ہوتے ہیں، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضہ ہے کہ ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کیا جائے، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ملزم کو بے نامی دار ثابت کیا جائے، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ثابت کیا جائے کہ ملزم کے اثاثے اس کے آمدن کے ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتے،نیب آرڈیننس میں بے نامی دار لفظ کی تعریف کی گئی ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں سزا معطلی بھی اسی بنیاد پر ہوئی تھی،سزا معطلی کے فیصلے میں ہم نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا سہارا لیا تھا،بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں مزید وضاحت کی ہے اس پر ہماری معاونت کریں

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی نے اثاثوں کے حصول کے وقت معلوم ذرائع آمدن سے متعلق تحقیقات کرنا ہوتی ہیں،معلوم ذرائع آمدن کا اثاثوں کی مالیت سے موازنہ کرنا ہوتا ہے، یہ مقدمہ ایسا ہے جس میں اس کے مندرجات ہی ثابت نہیں کیے گئے، انہوں نے جرم کے تمام جز ثابت کرنے تھے، نہیں کیے،امجد پرویز نے نواز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات بمع تاریخ عدالت میں جمع کرا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ اثاثہ جات ایک ہی وقت میں آئی ہیں یا الگ الگ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 1993 سے 1996 کے درمیان یہ پراپرٹیز آئی ہیں، پورے ریفرنس میں نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق لکھا ہی نہیں ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن نے ریفرنس میں لکھا ہے کہ نواز شریف نے یہ پراپرٹیز کب لیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پورے ریفرنسز میں نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق جوڑنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں،اس کے بعد یہ بات سامنے آنی تھی کہ اثاثوں کی مالیت آمدن سے زائد ہے یا نہیں،اس تقابلی جائزے کے بغیر تو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا جرم ہی نہیں بنتا،نیب انویسٹی گیشن، جے آئی ٹی یا سپریم کورٹ کے فیصلے میں پراپرٹیز کی مالیت کا تعین موجود نہیں جو پراپرٹیز کی مالیت کا تعین یا نواز شریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کرتی ہو. واجد ضیاء سٹار گواہ تھا اس نے بھی یہ بات مانی کہ ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں تھی. فرد جرم عائد کرتے وقت یہ بات بتائی جاتی ہے کہ آپ کے اثاثے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس تو ہے بھی بس تین چار صفحوں کا ہی ہے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف کی ان پراپرٹیز سے تعلق جوڑنے کیلئے کوئی شہادت موجود نہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن نے سب سے پہلے کیا ثابت کرنا ہوتا ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پراسیکیوشن نے سب سے پہلے ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کرنا ہوتا ہے، اُس کے بعد پراسیکیوشن نے زیرکفالت اور بےنامی داروں کو ثابت کرنا ہوتا ہے،پراسیکیوشن نے پھر آمدن سے زائد اثاثوں کا تعین کرنا ہوتا ہے، پراسیکیوشن نے ذرائع آمدن کی اثاثوں سے مطابقت دیکھنی ہوتی ہے، نیب میاں نواز شریف پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک بھی ثابت نہیں کر سکا،سب سے اہم بات ان پراپرٹیز کی آنرشپ کا سوال ہے،نہ تو زبانی، نہ دستاویزی ثبوت ہے کہ یہ پراپرٹیز کبھی نواز شریف کی ملکیت میں رہی ہوں، استغاثہ کو یہ ثابت کرنا تھا کہ مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز، نواز شریف کی زیر کفالت تھے، بچوں کے نواز شریف کی زیر کفالت کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں، ان تمام چیزوں کو استغاثہ کو ثابت کرنا ہوتا ہے، ان چیزوں کا بار ثبوت دفاع پر کبھی منتقل نہیں ہوتا، کوئی ثبوت نہیں کہ پراپرٹیز نواز شریف کی ملکیت یا تحویل میں رہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ سارا پراسیکیوشن کا کام ہے؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل یہ سب استغاثہ نے ثابت کرنا ہوتا ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ نوٹ کر رہے ہیں؟ یہ بڑی اہم باتیں کر رہے ہیں،نیب وکیل نے کہا کہ جی سر میں نوٹ کر رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کے ہاتھ میں تو قلم ہی نہیں ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ استغاثہ کو پبلک آفس اور جرم میں گٹھ جوڑ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے،استغاثہ کو ثابت کرنا ہے کہ پبلک آفس کیسے بینامی جائیداد بنانے کیلئے استعمال ہوا، استغاثہ کو مندرجات ثابت کرنے ہوتے ہیں، اس کے بعد بار ثبوت ملزم پر منتقل ہوتا ہے، کورٹ نے مفروضے پر سزا دی اور فیصلے میں ثبوت کے بجائے عمومی بات لکھی، عدالت نے کہا کہ مریم نواز بینفشل اونر تھیں اور نواز شریف کے زیر کفالت بھی تھیں،لکھا گیا کہ بچے عمومی طور والد کے ہی زیرکفالت ہوتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے ایک نیب کے ملزم انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ امتیاز کو بری کیا ،اس بنیاد پر بریت ہوئی کہ نیب نے ملزم کی مبینہ جائدادوں کی قیمت اور ملزم کی آمدن کا تعین کئیے بغیر ہی اُس پر ریفرنس دائر کر دیا تھا،سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا، سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کوئی بھی متضاد فیصلہ نہیں دیا،مریم نواز کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان عدالتی فیصلوں اور اصولوں کی توثیق کی ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں ایک فیصلہ دیا کہ بینامی کیلئے 4 مندرجات کا ثابت ہونا ضروری ہے،ان چاروں میں سے ایک بھی ثابت نہیں تو وہ بینامی کے زمرے میں نہیں آئے گا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جناب میرا امتحان کیوں لے رہے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وہ تو ضروری ہوتا ہے نہ، عدالت کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے،

    امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مریم نواز کی ہائی کورٹ سے بریت کا فیصلہ پڑھ کر سنا یا اور کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مریم نواز کو بری کیا تھا، عدالت نے لکھا پراسیکیوشن کے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک ڈاکومنٹ موجود نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں دائر اپیل کو منظور کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی بریت کا فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس لیئے ہم اس فیصلے سے باہر نہیں جا سکتے۔دوسری جانب نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے لی جس کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بری کر دیا۔العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جولائی 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال اور دسمبر 2018 میں العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،نواز شریف نے عدالت میں سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کی تھی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • نیب  پی ٹی آئی کے 2 رہنماؤں کیخلاف متحرک

    نیب پی ٹی آئی کے 2 رہنماؤں کیخلاف متحرک

    آمدن سے زائد اثاثے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی امین گنڈاپور کو ایک اور نوٹس جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: سابق وفاقی وزیرعلی امین گنڈا پور کو ایک اور نوٹس جاری کردیا گیا، ان پر آمدن سے زائد اثاثے بنائے جانے کا الزام ہے حکومت میں آنے کے بعد علی امین گنڈاپور نے کئی مقامات پر ہزاروں ایکڑ اراضی خریدی، پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کے 60 اکاؤنٹس میں 50 کروڑ سے زائد کی ٹرانزیکشنز کے ثبوت ملے ہیں اس کے علاوہ علی امین گنڈاپور نے کئی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے بے نامی اداروں کے ذریعے زمین خریدی۔

    دوسری جانب نیب خیبر پختونخوا نے سابق صوبائی وزیر عاطف خان کے خلاف 2 درخواستوں پر کارروائی شروع کردی،عاطف خان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مردان میں 2 کنال پرائیوٹ زمین پر سرکاری خرچے سے غیر قانونی جم تعمیر کروائے۔

    ہمیں اپنے کمفرٹ زون سے نکل کر جدید دور کی کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے،محمد …

    درخواست گزار نے مردان نو ٹیفکیشن پراجیکٹ میں کروڑوں روپے خرد برد کرنے نشاندہی کی ہے، دوسری درخواست کے مطابق عاطف خان نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی بنوائی، غیر قانونی طریقے سے زرعی زمین کی قسم تبدیل کی، سرکاری فنڈ سے ہاؤسنگ سوسائٹی کی سڑکیں تعمیر کروائی گئیں۔

    پی ٹی آئی کی انٹرا پارٹی انتخابات میں عمران خان کے حصہ نہ لینے …

  • القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    190ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت،عمران خان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی عدالت نے استدعا مسترد کر دی

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،القادر ٹرسٹ پراپرٹی 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی تھی،نیب ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر میاں عمر ندیم، عبدالستار، عرفان اور تنویر شامل ہیں ،نیب ٹیم نے 23 نومبر سے 26 نومبر تک ہونے والی تفتیش کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا.

    القادر پراپرٹی اور 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ، نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں تحقیقات جاری ہے، نیب ٹیم روزانہ کی بنیاد پر عمران خان سے تحقیقات کر رہی ہے،نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان
    میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے چار دنوں کی تفتیش کے دوران نیب ٹیموں سے عدم تعاون کیا۔سابق وزیراعظم عمران خان کا رویہ دوران تحقیقات انتہائی متکبرانہ رہا ۔اڈیالہ جیل حکام نے تفتیش کےلیے الگ سے کمرہ مختص کر رکھا ہے، عمران خان تفتیشی ٹیم کے سامنے ایک کرسی پر براجمان ہوتے ہیں ،نیب کی ٹیموں نے متعدد بار سابق وزیر اعظم کے سامنے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کی دستاویزات رکھیں ۔اس سکینڈل سے متعلق متعدد سوالات بھی کیے گیے ،سابق وزیراعظم عمران خان نے اکثر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا ۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مسلسل اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوال و جواب کا مطالبہ کرتے رہے ۔سابق وزیراعظم القادر ٹرسٹ سے متعلق سوالات پر اسے روحانیت اور صوفی ازم کا بڑا منصوبہ قرار دیتے رہے ۔سابق وزیراعظم ہر سوال کے جواب میں لمبی تقریر جھاڑتے ہوئے انتقامی کاروائیوں کا ذکر کرتے رہے ۔190 ملین پاؤنڈ سے متعلق تمام ملبہ شہزاد اکبر اور ایک سابق عسکری عہدے دار پر ڈال دیا ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر اور سابق چیئرمین نیب کے پاس جو دستاویزات تھیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔کابینہ نے اس سارے معاہدے کی منظوری دی تھی اب سب مکر گئے ۔نیب ٹیم نے اس وقت اس بارے کابینہ اجلاس کے منٹس سامنے رکھے ،میں بطور وزیراعظم اس سارے معاملے کا اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی دوران تفتیش بہت سے فیصلے غلط کرنے کا اعتراف بھی کرتے رہے ۔نیب دونوں کیسز کا تمام ریکارڈ دستاویزات ماضی کے اجلاسوں کے منٹس ساتھ لیکر جاتی رہی .

    اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم
    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم ہو گئی،ملاقات کرنے والوں میں مہرین قریشی، مہربانو قریشی، گوہر بانو قریشی اور بیرسٹر تیمور ملک شامل تھے، اہلخانہ اور وکلاء کی ملاقات اڈیالہ جیل کی کانفرنس روم میں کروائی گئی، شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ سے جیل سہولیات اور کیسسز کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی کے اہلخانہ اور وکلاء اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نیب نے احد چیمہ کو کلین چٹ دے دی

    نیب نے احد چیمہ کو کلین چٹ دے دی

    نیب نے وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں کلین چٹ دے دی۔

    احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر نیب کی جمع کرائی گئی رپورٹ سامنے آ گئی،نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ احد چیمہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کانیب ریفرنس نہیں بنتا۔ احد چیمہ کے تمام اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں۔احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں نے اپنی ذاتی انکم سے پراپرٹیز بنائیں۔ احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں کی پراپرٹیز کو احد چیمہ سے لنک نہیں کیا جا سکتا۔ احد چیمہ کے رشتہ داروں سعدیہ منصور،منصور احمد اور نازیہ اشرف کے اکاونٹس احد چیمہ کے بے نامی اکاونٹس نہیں۔ری انوسٹی گیشن کے مطابق احد چیمہ کی کل آمدن 213 ملین اور اخراجات 131 ملین ہیں۔ احد چیمہ کے بنائے گئے اثاثے انکی آمدن کے مطابق ہی ہیں۔ری انوسٹی گیشن کے دوران احد چیمہ نے اپنی انکم اور منافع سے متعلق ریکارڈ نیب کو فراہم کیا۔

    احد چیمہ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریکارڈ کی تصدیق کی گئی، ریکارڈ درست ثابت ہوا۔ احد چیمہ کے اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں،نیب کیس نہیں بنتا۔نیب نے احتساب عدالت سے احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی استدعا کردی

    احسن اقبال کے خلاف ریفرنس کب تک دائر کیا جائے؟ عدالت نے نیب کو بڑا حکم دے دیا

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

  • آشیانہ ریفرنس،شہباز شریف کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری

    آشیانہ ریفرنس،شہباز شریف کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری

    احتساب عدالت: آشیانہ ہاوسنگ کیس میں سابق وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    عدالت نے 59 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیا ،عدالت نے شہباز شریف ، احد چیمہ اور فواد حسن فواد سمیت دیگر ملزمان کو بری کر دیا،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ سپلیمنٹری چالان اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ملزمان پر الزامات مشکوک ہو گئے ہیں،اگر بقایا گواہوں کی شھادتیں بھی ریکارڈ کر لی جائیں تو بھی ملزمان پر جرم ثابت ہونے کا امکان نہیں ، تمام ملزمان کو بری کر کے ان کے ضمانتی مچلکے واپس کیے جاتے ہیں ، ملزمان کیخلاف شواہد ناکافی ہیں ریفرنس میں سزا کا امکان نہیں ،نیب سپلیمنٹری رپورٹ میں کہا گیا کہ کرپشن کے شواہد نہیں ملے،شہباز شریف ، فواد حسن فواد ، احد چیمہ سمیت دیگر کی بریت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں

    شہباز شریف اور احد چیمہ سمیت دیگر نے ناکافی شواہد کی بنیاد ہر بریت کی درخواستیں دائر کر رکھیں تھیں، وکلاء ملزمان کا کہنا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بننے کیلیے یہ ریفرنس بنایا گیا گواہان عدالت میں بیان دے چکے ہیں کہ شہباز شریف نے آشیانہ اقبال ہاوسنگ سکیم میں کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی نہیں کی ہے. نیب سپلیمنٹری تفتیشی رپورٹ میں ملزمان کیخلاف کرپشن کے شواہد نہیں ملے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    نیب نے شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں کلیئر قرار دیا ہے، نیب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ میں شہبازشریف کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے کوئی ثبوت نہیں ملے آشیانہ سکینڈل میں شہباز شریف کے خلاف بدنیتی کا کوئی پہلو بھی ثابت نہیں ہوتا ، آشیانہ ہاؤسنگ کے ٹھیکے دینے کے عمل میں بدعنوانی کے کوئی ثبوت نہیں ملے آشیانہ پراجیکٹ شروع کرتے وقت سرکاری خزانے کوکوئی نقصان نہیں پہنچا نہ ہی شہباز شریف نے کوئی فوائد حاصل کیے اور نہ ہی کسی پبلک آفس ہولڈر نے کسی قسم کا کوئی فائدہ لیا

    شہباز شریف نے پنجاب کی خدمت کی اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا،مریم اورنگزیب
    مسلم لیگ ن کی ترجمان ،سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آشیانہ اقبال ریفرنس میں شہبازشریف کی بریت پر اظہار تشکر،اللہ تعالی نے شہبازشریف کو جھوٹے مقدمے میں عزت سے سرخرو فرمایا شہباز شریف کی بریت پر پورے پاکستان، پارٹی قیادت اور کارکنوں کو مبارک ہو شہبازشریف کو سیاسی انتقام کی خاطر اس جھوٹے مقدمے میں ملوث کیاگیا تھا ،شہبازشریف کو بے گناہ ہونے کے باوجود جیل اور عقوبت خانوں میں بند رکھا گیا صاف پانی میں بلا کر آشیانہ کیس میں گرفتار کرلیاگیا تھا جھوٹے مقدمات میں بریت بے گناہ شہبازشریف کے صبر کا انعام ہے، الحمدللہ آج عوام کو پتہ چل رہا ہے کہ کس طرح شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے لئے جھوٹے مقدمات بنائے گئے جھوٹے مقدمات بنا کر ملک اور عوام کا وقت اور پیسہ ضائع کیا گیا،احتساب کے نام پر انتقام لیا گیا شہباز شریف نے پنجاب کی خدمت کی اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، ملک اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سمیت ہر عدالت سے شہباز شریف کی بے گناہی کی گواہی آئی وزیراعظم ہاؤس میں طیبہ گل کو یرغمال بنا کر ، بیرونِ ملک سے صحافیوں کو بلا کر ، چئیر مین نیب کو بلیک میل کر کے جھوٹے مقدمے بنائے گئے جھوٹے مقدمے بنا کر تہمتیں اور الزامات لگائے گئے.