Baaghi TV

Tag: نیتن یاہو

  • نیتن یاہو کو 7 برس قبل خفیہ دستاویز میں حماس کے ممکنہ حملے سے خبردار کیا گیا تھا،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    نیتن یاہو کو 7 برس قبل خفیہ دستاویز میں حماس کے ممکنہ حملے سے خبردار کیا گیا تھا،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیلی اخبار نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کو 7 برس قبل خفیہ دستاویز میں حماس کے ممکنہ حملے سے خبردار کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی :َ”العربیہ” نے اسرائیلی اخبار نے’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے حوالے سے بتایا کہ وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے 2016 میں یہ دستاویز نیتن یاہو کو پیش کی تھیں دستاویز میں کہا گیاتھا کہ حماس آئندہ تنازع کو اسرائیل منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ان دستاویز میں آپریشن ’’ طوفان الاقصیٰ‘‘ سےمتعلق خبر دار کیا گیا تھا،11 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں حماس کے عزائم کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

    ان دستاویزات میں غزہ کے ارد گرد کی بستیوں پر قبضہ کرنا اور یرغمال بنانے کا تذکرہ کیا گیا دستاویز میں بتایا گیا کہ حماس کے اس طرح کے حملے سے مادی نقصان کے ساتھ اسرائیل کے شہریوں کے شعور اور حوصلے کو شدید نقصان پہنچے گا حماس کا بنیادی ہدف 2022 تک اسرائیل کو تباہ کرنا اور تمام فلسطینی زمینوں کو آزاد کرنا ہے لائبرمین غزہ کو کنٹرول کرنے والی حماس کے بارے میں فکر مند تھے تاہم نیتن یاہو اور سابق چیف آف سٹاف گیڈی آئزن کوٹ سمیت جن فریقوں کو وارننگ پیش کی گئی تھی، ان میں سے کسی نے بھی اس منظر نامے کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔

    موبائل قسطوں پر دیئے جائیں گے یا نہیں،وزارت آئی ٹی کا وضاحتی بیان جاری

    ان دستاویز کو خفیہ راز کے طور پر پیش کیا گیا تھا ان میں غزہ کی پٹی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا تھا اس وقت کے وزیر دفاع کی پوزیشن کو تفصیل سے بیان کیا گیا تھا اس میں آپریشن کے مطلوبہ اہداف بھی شامل تھے، اس دستاویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کےدرمیان اگلا تصادم آخری ہوگا دستاویز میں کہا گیا کہ اس کا بہترین طریقہ حماس کے لیے یہ ہے کہ وہ اسرائیل کو فرنٹل سٹرائیک سے حیران کر دے حماس چاہتی ہے کہ اسرائیل کے خلاف اگلی مہم میں غزہ کی پٹی کے لیے لبنان، شام، اردن اور سینا میں اضافی میدان پیدا کئے جائیں یہاں تک کہ دنیا بھر میں یہودی اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی راہ ہموار کی جائے۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    دستاویز میں حماس کی طرف سے راکٹوں کی تعداد میں اضافے، زمینی اور سمندری شعبے میں جدید صلاحیتوں کو تیار کرنے کی کوششوں اور فضائی شعبے میں نئی صلاحیتوں کا بھی اشارہ دیا گیا تھا حماس کے پاس حملہ کرنے والے پلیٹ فارمز، انٹیلی جنس صلاحیتوں کو جمع کرنے کے لیے ڈرون اور گلوبل پوزیشننگ سسٹم کو جام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

  • نیتن یاہو کا غزہ پلان کیا ہے؟   خفیہ دستاویزات لیک

    نیتن یاہو کا غزہ پلان کیا ہے؟ خفیہ دستاویزات لیک

    غزہ میں جنگ اور وہاں مقیم فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے مکروہ پلان پر مبنی خفیہ دستاویزات لیک ہوگئی ہیں-

    باغی ٹی وی: اسرائیل اور حماس کی جنگ کے درمیان، مبینہ طور پر ایک دستاویز کے افشا ہونے کی خبروں نے ایک بہت بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے اس دستاویز کے مطابق اسرائیل غزہ کے لوگوں کو مصر کے سینا بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وکی لیکس نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ حماس کے حملے کے ایک ہفتے بعد، اسرائیل کی وزارت انٹیلی جنس نے مبینہ طور پر انتہائی متنازعہ 10 صفحات پر مشتمل دستاویز تیار کی۔

    فلسطینیوں کو مصر بھیجنے کا منصوبہ:
    ایسا منصوبہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے علم میں لائے بغیر تیار نہیں کیا جا سکتا تھامبینہ خفیہ دستاوزات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا منصوبہ ہے کہ غزہ کی پوری آبادی کو غزہ سے نکال کر مصر کے جزیرہ نما سینائی میں دھکیل دیا جائے اور انہیں وہیں بسا دیا جائے، اس منصوبے میں زمینی حکمت عملی کو یوں بیان کیا گیا ہے غزہ پر زمینی کارروائی شروع کرنے سے پہلے، اسرائیل پہلے شمالی غزہ کے لوگوں سے کہے گا کہ وہ جنوبی غزہ جائیں، جو نیتن یاہو نے کیا۔

    اسرائیلی بمباری سے سات یرغمالی ہلاک

    عبرانی ویب سائٹ پر پائے گئے دستاویزات

    اس کے بعد آپریشن شمالی غزہ سے شروع ہو کر جنوبی غزہ کی طرف بڑھے گا مصر کے جنوبی غزہ سے ملحقہ رفح کراسنگ پوائنٹ کو فوجی آپریشن کے دوران خالی رکھا جانا ہے، تاکہ لوگ وہاں آسانی سے جا سکیں مصر میں سیناء کے شمالی علاقے میں خیمہ بستیاں اور شہر قائم کیے جائیں تاکہ وہاں فلسطینیوں کو ٹھہرایا جا سکے۔ یہ دستاویز پہلی بار ایک عبرانی ویب سائٹ Mekomit پر شائع ہوئی اس ویب سائٹ کے مطابق یہ دستاویز اسرائیل کی وزارت انٹیلی جنس سے تصدیق شدہ ہے۔

    بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کی تردید:

    اسرائیلی وزیراعظم نے ان دستاویز کو فرضی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کا خاکہ انٹیلی جنس حکام کے تیار کردہ ایک تصوراتی ڈاکیومنٹ میں دیا گیا تھا اور پالیسی سازوں نے اس پر بحث نہیں کی تھی لیکن اسرائیلی میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹ ہونے والی اس دستاویز کی فلسطینی اور مصری رہنماؤں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے اور اس سے پڑوسی ملک مصر کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے، مصر کو لگتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے مسئلے کو مصر کا مسئلہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اتنی بڑی بے گھر آبادی کا مصر میں داخلہ مسائل پیدا کرے گا۔

    اسرائیلی فوج کا جبالیا کے کیمپ پر حملہ،100 سے زیادہ فلسطینی ہلاک

    فلسطین کی پریشانی:

    فلسطین کو لگتا ہے کہ اس طرح کے منصوبے کے ذریعے اسرائیل پورے غزہ پر قبضہ کرکے انہیں بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کو اس طرح کہیں بھی بھیجنے کے خلاف ہیں، اگر ایسی کوشش کی گئی تو اسے نہیں ہونے دیا جائے گا۔ 1948 میں جو ہوا تھا اسے نہیں دہرایا جائے گا۔

    7 اکتوبر کو ہوئے حماس حملے کے چھ دن بعد اسرائیلی انٹیلی جنس منسٹری کی رپورٹ میں ’حماس کے جرائم کی روشنی میں غزہ کی شہری حقیقت میں نمایاں تبدیلی لانے کے لیے‘ تین متبادلات پر غور کیا گیارپورٹ میں غزہ کی 22 لاکھ سے زیادہ آبادی کو شمالی سینائی کی خیمہ بستیوں میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی، اس کے بعد مستقل شہر کی تعمیر اور ایک غیر متعینہ انسانی راہداری تعمیر کی جانی تھی۔

    جنگ بندی کا مطالبہ؛ برطانوی عہدیدار برطرف

    رپورٹ میں پیش کی گئی تجویز کے مطابق اسرائیل کے اندر ایک سیکورٹی زون قائم کیا جانا تھا تاکہ بے گھر فلسطینیوں کو داخلے سے روکا جا سکے تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ غزہ کی آبادی کا صفایا ہونے کے بعد اس کا کیا بنے گا، لیکن اشارہ دیا گیا کہ بے دخل کیے گئے باشندے بالآخر کسی اور جگہ آباد ہو سکتے ہیں۔

    دستاویز میں کہا گیا کہ ترکی،قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت ممالک مہاجرین کو رقم دے سکتے ہیں یا انہیں دوبارہ آباد کر سکتے ہیں،دستاویز میں تسلیم کیا گیا کہ یہ تجویز بین الاقوامی قانونی حیثیت کے لحاظ سے پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

    نیتن یاہو کے دفتر نے اسے ایک ”تصوراتی مقالہ“ قرار دیا، بیان میں کہا گیا کہ ’اسرائیل کے کسی بھی سرکاری فورم میں ”آخر کے دن“ کے مسئلے پر بات نہیں کی گئی ہے، توجہ اس وقت حماس کی حکومت اور فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنے پر مرکوز ہے‘۔

    حوثی باغیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد سعودی فورسز ہائی الرٹ

    اسرائیل نے پٹی کے شمال میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ جنوب میں چلے جائیں۔ لیکن وہاں رہنے والے بہت سے لوگوں کو غزہ میں اسرائیل کی فوجی دراندازی کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کی حماس کے خلاف کارروائی فلسطینیوں کی سرزمین کے تمام یا کچھ حصے کو خالی کرانے کا بہانہ ہے۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے رپورٹ کے بارے میں کہا کہ ’ہم کسی بھی جگہ، کسی بھی شکل میں منتقلی کے خلاف ہیں، اور ہم اسے ایک سرخ لکیر سمجھتے ہیں جسے ہم عبور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے 1948 میں جو ہوا وہ دوبارہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    مصر نے بھی جنگ کے آغاز سے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ مہاجرین کو قبول نہیں کرنا چاہتا۔ مصر نے تجویز دی ہے کہ پناہ گزینوں کو اسرائیل کے اپنے جنوبی صحرائے نیگیو میں رکھا جائے۔

    چین اور روس کا سیکورٹی فورم پر امریکہ کو نشانہ بنانے کا ارادہ

  • اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی عرب اور  ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید

    اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی: سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویومیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہےکہ سعودی عرب کے ساتھ امن کئی طریقوں سے عرب اسرائیل تنازع کا خاتمہ کرسکتا ہے سعودی عرب نے یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ حالیہ معاہدہ کیا ہے۔

    یمن میں چیریٹی فنڈ کی تقسیم کے دوران بھگدڑ ،79 افراد ہلاک 100 سے زائد …

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ’میرے خیال میں اس معاہدے کا تعلق یمن میں دیرینہ تنازع کو کم کرنے یا ختم کرنے کی خواہش سے ہے جو ملک ایران سے پارٹنرشپ کرتے ہیں وہ مصائب کا شکار ہوجاتے ہیں، مشرق وسطیٰ میں 95 فیصد مسائل ایران کے پیدا کردہ ہیں۔

    نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے پر امید ہیں، یمن تنازع کے خاتمے کے لیے میرے خیال میں بہت کچھ کرناباقی ہے، سعودی عرب کی قیادت کو معلوم ہےکہ دوست کون ہے اور دشمن کون۔

    نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ شراکت داری پر خبردارکیا اور کہا کہ جولوگ ایران کے ساتھ شراکت داری کرتے ہیں،وہ بدحالی کے ساتھ شراکت دار ہیں۔لبنان کو دیکھو، یمن کو دیکھو، شام کو دیکھو، عراق کو دیکھو-

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین تنازع سے متعلق چین کی ثالثی کا علم نہیں، چین کے ساتھ اچھے تعلقات کااحترام کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں چین نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی پیشکش کی تھی چینی وزیر خارجہ چن گانگ نے اسرائیل اور فلسطین کے اعلیٰ سفارت کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو کی اور کہا کہ چین فریقین کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرخارجہ نے سعودی عرب کے دورے کا عندیہ دیا ہے اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا دورہ ٹیبل پر ہے،البتہ ابھی تاریخ طے نہیں ہوئی۔

    عیدالفطر کی چھٹیوں میں عمران خان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ رواں سال بھی ایک عرب ملک اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے گا، امریکی سینیٹر لنزےگراہم کی سعودی ولی عہد سے سعودی اسرائیل تعلقات پربات ہوئی تھی سعودی عرب کا دشمن اسرائیل نہیں ایران ہے، سعودی ایران تعلقات میں پیش رفت اسرائیل کیلئے خوش آئند ہو سکتی ہےسعودی ایران تعلقات،سعودی اسرائیل کے قریب آنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی سعودی اسرائیل تعلقات کو عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے میں بڑا قدم قرار دیا تھااسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے امریکی سینیٹرلنزےگراہم نے ملاقات کی جس میں نیتن یاہو نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں، ہم تعلقات کو عرب اسرائیل تنازع کےخاتمےکی جانب بڑےاقدام کےطورپردیکھتے ہیں۔

    ایک ہی دن انتخابات پر مشاورت کیلئےحکمراں جماعتوں کاعید کے بعد سربراہی اجلاس بلانے کا فیصلہ

  • سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم

    سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہےکہ سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : نیتن یاہو نے یہ بات مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں امریکا کے ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے ساتھ ملاقات میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اورامن چاہتے ہیں۔ہم اسے عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے کی جانب ایک بڑے اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں ایسے کسی معاہدے کے اسرائیل، سعودی عرب، خطے اور دنیا دونوں کے لیے تاریخی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں-

    ایرانی صدر کی سعودی فرمانروا کو ایران کے دورے کی دعوت

    اسرائیل نے متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیےامریکا کی سرپرستی میں ابراہام معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اب اسرائیل اس اقدام کو مزید ممالک تک توسیع دینے کی کوشش کررہا ہے اسرائیل کے اعلیٰ حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا قیام حتمی کامیابی ہوگی اورخطےمیں امن کے قیام کے لیےاہم ثابت ہوگی۔

    بھارتی پنجاب واقعہ: فوجی اہلکار کا اپنے 4 ساتھیوں کے قتل کا اعتراف

    دوسری جانب سعودی عرب کئی مرتبہ اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرچکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے کے لیے کسی بھی قسم کا امن معاہدہ یا سمجھوتا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پیشگی شرط ہوگا۔

    اس کے علاوہ ایران کے معزول بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی اس ہفتے اسرائیل کادورہ کریں گے،اسرائیلی حکومت کا کہنا ہےکہ جمہوری ایران اپنےعرب ہمسائیوں اور اسرائیل سے تعلقات کی تجدیدکی کوشش کرےگا۔

    تیونس نے آئی ایم ایف کے قرضوں کو مسترد کر دیا، برکس میں شامل ہونے …

  • اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال کیا،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال کیا،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیلی پولیس نے مبینہ طور پر سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیٹے اور ان کے قریبی حلقے میں شامل افراد کے فون پر جاسوسی کے لیے اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔

    باغی ٹی وی :"واشنگٹن پوسٹ” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اخبار کیلکلسٹ نےپیرکو ایک رپورٹ میں سابق وزیراعظم کے بیٹے اور ان کے معاونین کی جاسوسی کا انکشاف کیا ہےاس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے مظاہرین اور دیگراسرائیلی شہریوں کے خلاف جدیدترین اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔اس کی اس کارروائی کی سیاسی حلقوں کی جانب سے مذمت کی گئی ہے جبکہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والوں میں پولیس کمشنر بھی شامل ہوچکے ہیں۔

    حال ہی میں اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ نیتن یاہو کے کرپشن کے مقدمے میں ایک اہم گواہ کے خلاف اسپائی ویئر کا استعمال کیا گیا۔

    اسرائیلی پولیس پر یہ الزامات نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے کو بھی کمزور کرسکتے ہیں۔یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اسرائیلی پولیس نے سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمے میں ایک اہم گواہ کی کڑی نگرانی کے لیےاسپائی ویئر کا استعمال کیا تھا اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ بہت سنگین ہیں۔

    اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیرعمربارلیف نے ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں سرکاری تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہےجو’’زیربحث برسوں میں شہری حقوق اوررازداری کی خلاف ورزی کی گہرائی سے تحقیقات کرے گا‘‘۔انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مبیّنہ خلاف ورزیاں سابقہ حکومتوں میں سابق عہدے داروں کے تحت کی گئی تھیں۔

    کیلکالسٹ کا کہنا ہے کہ یہ اسپائی ویئر ان کے بیٹے اونر، ان کے 2 کمیونیکیشن ایڈوائزر اور کیس میں ایک رمدعاعلیہ کی اہلیہ کے رجسٹرڈ فونز کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا –

    اخبارکی رپورٹ کے مطابق وہ سب ان متعدد اہم شخصیات میں شامل ہیں جنھیں اسپائی ویئرکا نشانہ بنایا گیا ہے۔ان میں کاروباری رہنما، کابینہ کی وزارتوں کے سابق ڈائریکٹرز اور میئرز شامل ہیں۔ان کے علاوہ معذورافراد کو بھی نہیں بخشا گیااوراسرائیل میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہود کی اقلیت کے احتجاجی مظاہروں کے منتظمین کو بھی جاسوسی کی اس مہم میں نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس نے اسرائیلی فرم این ایس اوگروپ کے تیارکردہ طاقتور پیگاسس سافٹ ویئر کا استعمال کیا ہے۔اس اسپائی ویئرکومتعدد ممالک میں صحافیوں، کارکنوں اور سیاست دانوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی گروپ کو اب مختلف تنازعات کا سامنا ہے اوراس پرتنقیدکی جاری ہے۔

    اخبار نے لکھا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے کسی بھی تفتیش کے آغازسے پہلے اورعدالتی وارنٹ کے بغیرانٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے لیے اسپائی ویئر کا استعمال کیا تھا البتہ یہ واضح نہیں ہواکہ نیتن یاہو کے اندرونی حلقے کوان کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے کے سلسلے میں نشانہ بنایاگیاتھا یا دیگروجوہات کی بنا پران کی جاسوسی کی گئی تھی۔نیتن یاہو خاندان کے ترجمان نے اس معاملے پرتبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    گذشتہ سال جون میں نیتن یاہو کی جگہ وزیراعظم بننے والے نفتالی بینیٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’پیگاسس اوردیگرمصنوعات’دہشت گردی اورسنگین جرائم‘کے خلاف جنگ میں اہم ہتھیار ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ انھیں اسرائیلی عوام یا عہدے داروں کو نشانہ بنانے کی جعلی مہمات میں استعمال کیا جائے-یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ واقعی کیا ہوا ہے‘‘۔

    بینیٹ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پرعوام کے اعتماد میں کمی کے پیش نظریہاں ایک اہم موقع ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کیا برقراررکھنے کی ضرورت ہے اورجو چیزدرستی کی متقاضی ہے،اسے درست کیا جائے۔

    اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے اس معاملے کی تفصیلی اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہےانہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی جمہوریت نہیں کھونی چاہیے، ہمیں اپنی پولیس کو نہیں کھونا چاہیے اور یقینی طور پر ہمیں ان پر اپنا عوامی اعتماد بھی نہیں کھونا چاہیے-

    نیتن یاہو اس وقت دھوکہ دہی، اعتماد کو توڑنے اور رشوت لینے کے الزامات پر 3 مقدمات کی زد میں ہیں ان کی تاریخی 12 سالہ حکمرانی کا خاتمہ گزشتہ سال جون میں اس وقت ہوا جب 2 سال سے بھی کم عرصے میں الیکشنز کے 4 سخت معرکوں کے بعد ایک مخلوط حکومت نے حلف اٹھایا۔

    نیتن یاہو نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر طویل عرصے سے انہیں غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور ان کے وکلا نے اس پر جواب طلب کیا ہےنیتن یاہو کے سیاسی مخالفین نے بھی اس معاملے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

    شلومو فلبر نامی جس گواہ کا فون مبینہ طور پر ہیک کیا گیا تھا اس کی آنے والے دنوں میں گواہی دینے کی توقع ہے، امید کی جارہی ہے کہ نیتن یاہو کے وکلا اس کی گواہی میں تاخیر کی درخواست کریں گےیہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ مبینہ طور پر جمع کیے گئے کسی بھی ثبوت کو نیتن یاہو کے خلاف استعمال کیا گیا یا نہیں۔

    پولیس کمشنر کوبی شبتائی نے کہا کہ حالیہ رپورٹس کے بعد انہوں نے حکومت کو ایک جج کی سربراہی میں ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی سفارش کی ہے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا مقصد اسرائیلی پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اور اسرائیلی پولیس کی جانب سے ٹیکنالوجی کے استعمال کو منظم کرنا ہونا چاہیے وہ پہلے ہی اٹارنی جنرل کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔

    ریاستی استغاثہ نے اس دوران نیتن یاہو کے وکلا کو بتایا ہے کہ وہ ان رپورٹس کی مکمل جانچ کر رہے ہیں۔

    کیلکالسٹ نے کہا ہے کہ کم از کم کچھ معاملات میں کرائے پر ہیکرز دینے والی اسرائیلی کمپنی ‘این ایس او گروپ’ شامل ہےاس کمپنی کی فلیگ شپ پروڈکٹ ’پیگاسس‘ ہے جو اسے آپریٹ کرنے والوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہدف بنائے گئے موبائل فونز میں گھسنے اور اس کے ذریعے کیے جانے والے روابط سمیت ڈیوائس کے مواد تک رسائی حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے-

    حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقصد کے لیے کون سے اسپائی ویئر کا استعمال کیا گیا دیگراسرائیلی کمپنیوں نے بھی جاسوسی کے طاقتور آلات تیارکررکھےہیں۔

    پیگاسس کے معاملے پر این ایس او کو بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کا تعلق دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور سیاست دانوں کی جاسوسی سے ہے۔

    اپنے کلائنٹس کو ظاہر نہ کرنے والے اس گروپ این ایس او کا کہنا ہے کہ اس کی تمام فروخت اسرائیل کی وزارت دفاع سے منظور شدہ ہے اور اس کی ٹیکنالوجی کو حکومتیں جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

    این ایس او گروپ اپنے صارف ملکوں یا اداروں کی شناخت کوظاہر نہیں کرتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اسے اس انٹیلی جنس تک رسائی حاصل نہیں ہے،جو وہ (صارف)جمع کرتے ہیں۔وہ اس چیزکو بھی کنٹرول نہیں کرتا ہے کہ اس کی مصنوعات کس طرح استعمال کی جاتی ہیں۔اس کی تمام مصنوعات کی فروخت کی اسرائیل کی وزارت دفاع کی طرف سے منظوری دی جاتی ہے اور اس کی ٹیکنالوجی کو حکومتیں جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

  • ظالم ، یہودی انتہاپسند  نیتن یاہو کے مستقبل کے فیصلے کیلئے ووٹنگ جاری

    ظالم ، یہودی انتہاپسند نیتن یاہو کے مستقبل کے فیصلے کیلئے ووٹنگ جاری

    تل ابیب : اسرائیل میں‌ انتخابات جاری ، کیا اسرائیلی سوچ کے مطابق وزیراعظم جیتےگا، اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قسمت کے فیصلے کے لیے اسرائیل میں انتخابات جاری ہیں جہاں نیتن یاہو نے انہیں بہت ہی سخت انتخابات قرار دے دیا۔

    تل ابیب سے عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق آج نیتن یاہو اپنے اہلیہ کے ہمراہ ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اپنے عوام سے درخواست کی کہ وہ بڑی تعداد میں نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔نیتن یاہو نے ووٹ ڈالنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان انتخابات میں مقابلہ بہت سخت ہوگا

    جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا تنقید جاری

    عام انتخابات 5 نومبر 2019 کو منعقد ہونا تھے تاہم اسرائیلی وزیراعظم پر بدعنوانی کے الزامات اور راسخ العقیدہ یہودیوں سے متعلق قومی خدمات کے بل پر حکومتی اراکین میں اختلافات کے باعث الیکشن قبل از وقت کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ رواں برس ہی کرپشن الزامات کے بعد اسرائیلی وزیر کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا تاہم قبل از وقت انتخابات میں ان کی جماعت نے ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کی تھی اور وہ آئندہ 6 ماہ کے دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوگئے تھے۔

  • ڈرپوک نیتن یاھو خطرے کے سائرن بجنے پر  انتخابی جلسہ چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا

    ڈرپوک نیتن یاھو خطرے کے سائرن بجنے پر انتخابی جلسہ چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا

    تل ابیب ، اسرئیلی ڈرپوک وزیراعظم نیتن یاہوکی بہادری کا پول کھل گیا ، اطلاعات کے مطابق آج غزہ سے مقبوضہ فلسطین پر داغے جانے والے چند میزائلوں سے خوفزدہ صیہونی وزیر اعظم بنکر میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا۔

    اسرائیلی میڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ یہ دوڑ اس وقت لگی جب فلسطین کی مزاحمتی قوتوں نے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم صیہونی بستیوں پر کئی میزائل فائر کیے

    ظالم صیہونی حکومت نے غزہ پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے دوران ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیںصیہونی حکومت کے لڑاکا اور ڈرون طیارے، ہیلی کاپٹر اور توپ خانہ، حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد بار غزہ کو اپنی وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا چکا ہے

  • وزیراعظم نیتن یاہو کا بیان نسل پرستانہ ہے، مذمت کرتے ہیں :ترکی اور عرب لیگ

    وزیراعظم نیتن یاہو کا بیان نسل پرستانہ ہے، مذمت کرتے ہیں :ترکی اور عرب لیگ

    انقرہ :صیہونی وزیراعظم کے بیان پر ترکی اور عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ نے سخت ردعمل دیا ہےاور نیتن یاہوکے بیان کی مذمت بھی کی ہے، ۔عرب لیگ اور ترکی نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے مغربی کنارے کی وادی اردن میں یہودی بستیاں بنانے کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس بیان کو نسل پرستانہ قراردیاہے۔

    ذرائع کےمطابق ترکی کے وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو الیکشن سے پہلے ہر طرح کے غیر قانونی اور جارحانہ بیانات دے رہے ہیں جو قابل مذمت ہے۔عرب لیگ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امن متاثر ہو گا

  • نتن یاہو کے بیان  کی مذمت ، فلسطینی سخت غصے میں‌آگئے

    نتن یاہو کے بیان کی مذمت ، فلسطینی سخت غصے میں‌آگئے

    مقبوضہ بیت المقدس : نیتن یاہو کے بیانات سے یہ تاریخی حقیقت ذرہ برابر بھی بدلنے والی نہیں ہے کہ تمام مقبوضہ علاقے فلسطینی ، اسلامی اور عربی سرزمین ہیں اور فلسطینی عوام اس کی مکمل آزادی اور اس سرزمین پر فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی تک پوری طاقت سے اس حق کا دفاع کریں گے-فلسطینی تنظیموں نے غرب اردن کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کرلینے کے صیہونی وزیراعظم کے عزائم پر ردعمل ظاہر کردیا

    بدھ کو ایک مشترکہ بیان اسلامی تعاون تنظیم نے بھی صیہونی وزیراعظم کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ غرب اردن کے بعض علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان ملت فلسطین کے حقوق کے خلاف نئی جارحیت ہے-صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے اور نئی کابینہ تشکیل دی تو غرب اردن کی صیہونی بستیوں اور اس علاقے کے اہم حصوں کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کردیں گے-

  • صیہونی وزیراعظم کے  دورہ الخلیل کے موقع پر بڑی تعداد میں صیہونی فوجی تعینات

    صیہونی وزیراعظم کے دورہ الخلیل کے موقع پر بڑی تعداد میں صیہونی فوجی تعینات

    مقبوضہ بیت المقدس : فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے شہر الخلیل میں صیہونی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو کے دورے سے قبل غاصب صیہونی حکومت کے فوجی بڑی تعداد میں اس علاقے میں تعینات ہوگئے ہیں تاکہ فلسطینیوں کے ہر طرح کے مظاہرے کو ناکام بناسکیں۔

    فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کےمطابق صیہونی حکومت کا وزیراعظم نتنیا ہو اپنی انتخابی مہم اور غرب اردن میں بسائے گئے صیہونیوں کے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے بدھ کو اس علاقے کا دورہ کررہا ہے جہاں وہ الخلیل شہر کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ حرم ابراہیمی کے تقدس کو بھی پامال کرنے کی کوشش کرے گا۔

    فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کےمطابق غرب اردن کے علاقے کے فلسطینی شہری نتنیاہو کے دورہ الخلیل سے سخت ناراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس دورے کے خلاف مظاہرے کریں گے۔الخلیل شہر کے ادارہ اوقاف نے نتنیاہو کے دورہ الخلیل پراپنا ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہےکہ نتنیاہو کا یہ اقدام سن دوہزار میں صیہونی حکومت کے سابق وزیراعظم اریل شارون کے دورہ بیت المقدس کی یاد دلاتا ہے۔

    فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کےمطابق الخلیل شہر کے ادارہ اوقاف نے فلسطینیوں سے کہا کہ وہ الخلیل میں حرم ابراہیمی کی حفاظت کریں۔ سن دوہزار میں اریل شارون کے ذریعے بیت المقدس میں مسجد الاقصی کی بے حرمتی کئے جانے خلاف دوسری تحریک انتفاضہ شروع ہوگئی تھی۔