Baaghi TV

Tag: نیتن یاہو

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو  کے درمیان  فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیاں کم کریں اور بمباری کا سلسلہ روکنے پر غور کریں،امریکی صدر نے اپنے قریبی مشیروں کے سامنے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ہر مسئلے کا حل فوجی کارروائی اور بمباری میں تلاش کرتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی قیادت کی جانب سے مسلسل نئی فوجی کارروائیوں کے مطالبات سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک اور فون کال کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ کے باعث امریکی معیشت کو نقصان پہنچا تو ان کا موازنہ سابق امریکی صدر ہربرٹ ہوور سے کیا جا سکتا ہے، جنہیں 1930 کی دہائی کے عظیم معاشی بحران کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تم میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی ناراضی کی جھلک ملتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم علاقائی معاملات پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ایران، لبنان اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اختلاف واضح ہیں۔

  • ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ بین الاقوامی معاہدے یا مفاہمت میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا اور اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے تناظر میں اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کرے یا انہیں روک دے لبنان میں کشیدگی میں کمی سے خطے میں سفارتی ماحول بہتر ہوگا اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    تاہم اس معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات موجود ہیں اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور دیگر ممکنہ خطرات کے خلاف کارروائی اس کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا نیتن یاہو نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی پالیسی کسی دوسر ے ملک کی خواہشات کے مطابق ترتیب نہیں دے گا اور اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گاایران سے متعلق کسی عالمی معاہدے کا حصہ بننا اسرائیل کے لیے لازمی نہیں اسرائیل اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • بیروت پٔر حملے،ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو،پاگل اور ناشکرا قرار دیا

    بیروت پٔر حملے،ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو،پاگل اور ناشکرا قرار دیا

    مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا،میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے.

    اس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے،میں نے اپنے نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بہت اچھی گفتگو کی، حزب اللہ بھی تمام تر فائر بندی پر راضی ہے، اب نہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا، نہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے.

  • اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے،نیتن یاہو

    اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے،نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بڑی طاقت قرار دے دیا۔

    غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھارت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو سراہا جبکہ دنیا بھر میں ایران اور لبنان پر حملوں کی وجہ سے اسرائیل کو تنقید کا سامنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ اسرائیل دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے لیکن بھارت سے منفرد تعلقات کی تعریف کی اور ان تعلقات کو بڑی طاقت قرار دیا،کہا کہ ہمیں دنیا کے کئی ممالک میں اپنی قانونی حیثیت پر مسائل کا سامنا ہے لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہے، بھارت میں اسرائیل کو دیوانہ وار تعاون مل رہا ہے، انتہائی دیوانہ وار تعاون مل رہا ہے۔

    مغربی کنارے میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران نریندر مودی سے اپنے تعلقات کی تعریف کی اور کہا کہ میرے خیال میں سب سے زیادہ فالوورز سب سے زیادہ ہیں، اتنے دنیا میں کہیں اور نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ یہ نیتن یاہو کی جانب سے بھارت میں اپنی مقبولیت سے متعلق یہ پہلا بیان نہیں ہے بلکہ اس سے قبل 2018 میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ نئی دہلی کے دورے کو انہوں نے ‘لوو فیسٹ’ قرار دیا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اب بھی اسرائیل کی عزت کی جاتی ہے، بھارت کی آبادی 1.4 ارب ہے اور وہاں اسرائیل بہت مقبول ہے، اسی طرح یہاں نریندر مودی کو پسند کیا جاتا ہے اور میں اپنی اہلیہ کے ساتھ بھارت گیا جو محبت کا جشن تھا۔

  • اسرائیلی وزیراعظم  طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل،عبرانی میڈیا کی تصدیق

    اسرائیلی وزیراعظم طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل،عبرانی میڈیا کی تصدیق

    اسرائیل کے74 سالہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو پیر کی شام یروشلم کے ہداسا این کیریم میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    عبرانی زبان کے مقامی میڈیا پر وزیرِ اعظم کی اسپتال منتقلی کی خبریں نشر ہونے کے بعد وزیرِ اعظم کے دفتر نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نیتن یاہو اسپتال میں موجود ہیں اور وہاں ان کے دانتوں کا ایک ایسا علاج کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات فی الحال نہیں بتائی جا سکتیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کی صحت کا معاملہ حالیہ دنوں میں عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ ماضی میں ان کی بیماریوں کی معلومات کو عوام سے چھپا نے پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس وجہ سے ملک کے اندر ان کی مجموعی صحت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں جنم لے رہی ہیں۔

    گزشتہ ماہ ہی نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام شیئر کرتے ہوئے پہلی بار یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ اسی ہداسا اسپتال میں غدود کے کینسر یعنی پروسٹیٹ کی رسولی کا کامیاب علاج کروا چکے ہیں،اسرائیلانہوں نے اس معلومات کو عوام سے چھپانے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے بیان میں لکھا کہ میں نے یہ معلومات عوام کو دینے سے گریز کیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ ایران حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے اس معلومات کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔

    نیتن یاہو نے اس وقت یہ تو تسلیم کیا کہ ان کی تابکاری یعنی ریڈی ایشن کے ذریعے تھراپی کی گئی ہے لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کینسر کی تشخیص کب ہوئی، ان کا علاج کب شروع ہوا اور یہ کب ختم ہوا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ان کی سالانہ صحت کی رپورٹ اور کینسر کے علاج سے متعلق کچھ دستاویزات بھی جاری کیں، لیکن ان دستاویزات پر کسی اسپتال کا مونوگرام یا کوئی سرکاری مہر موجود نہیں تھی جس سے ثابت ہو کہ یہ کوئی باقاعدہ طبی بیان ہے یہ رپورٹ محض چند غیر واضح نکات پر مشتمل تھی جس سے یہ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ کس سال کی میڈیکل رپورٹ ہے۔

    نیتن یاہو کی صحت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جولائی 2023 میں ان کے دل میں پیس میکر یعنی دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے والا آلہ لگایا گیا تھا، مارچ 2024 میں ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا اور دسمبر 2024 میں ان کے پروسٹیٹ کو نکالنے کی سرجری بھی کی گئی تھی ماضی میں جب نیتن یاہو کو پیس میکر لگایا گیا تھا، تو اس وقت بھی حکام نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔

    ابتدائی طور پر ان کے دفتر اور شیبا میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں نے عوام کو بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم کو صرف شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے نگرانی کے لیے اسپتال رکھا گیا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کے دل کے نیچے ایک مانیٹرنگ آلہ فٹ کیا گیا ہے اس واقعے کے ایک ہفتے بعد اسپتال کے ڈاکٹروں نے اعتراف کیا کہ ہم نے ان کے دل کے ٹیسٹ میں کچھ خرابیاں دیکھی تھیں لیکن اس کے باوجود ہم نے اس وقت عوام کو یہی یقین دلایا کہ وزیرِ اعظم کا دل مکمل طور پر نارمل کام کر رہا ہے۔

  • ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران جنگ کے معاملے پر ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی-

    امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کے باعث گفتگو میں تناؤ پیدا ہوا یہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی گفتگو نہیں تھی اتوار کو ہونے والی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ہفتے کے آغاز میں ایران پر نئے ہدفی حملوں کی منظوری دینے کا امکان رکھتے ہیں، بتایا گیا کہ اس مجوزہ کارروائی کو نیا نام آپریشن سلیج ہیمر دیے جانے کی تیاری بھی کی جارہی تھی۔

    تاہم ابتدائی گفتگو کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو متوقع حملے روک رہے ہیں ان کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا گیا امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دنوں خلیجی ممالک وا ئٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم ایران کے معاملے کے آخری مراحل میں ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہےیا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو کافی سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ان جاری مذاکرات سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تاخیر صرف ایران کے مفاد میں جا رہی ہے۔

    امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کی گفتگو میں صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ متوقع حملے موخر کرنا ایک غلطی ہے اور امریکا کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔

    ایک اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا اسرائیلی حکام کے مطابق اختلاف واضح تھا، کیونکہ ٹرمپ معاہدے کے امکانات دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کسی اور سمت میں پیش رفت کی توقع کررہے تھے۔

    سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی جبکہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اس کشیدہ فون کال کی خبر سب سے پہلے دی تھی اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی خواہش موجود ہے اور اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کو سفارتی عمل کے ذریعے وقت دے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کی امریکی حکمت عملی، خصوصاً ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اچانک توقف اختیار کرنے پر ناراضی کوئی نئی بات نہیں امریکی حکام ماضی میں بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر یکساں نہیں۔

    بدھ کو صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ انہوں نے گزشتہ شب نیتن یاہو سے کیا کہا تھا تو انہوں نے جواب دیا، میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا،ایران کے ساتھ معاملات انتہائی نازک مرحلے میں ہیں اور اگر چند روز کی سفارت کاری سے جانیں بچ سکتی ہیں تو اسے موقع دینا چاہیے۔

    ادھرایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ایران کے ابتدائی 14 نکاتی متن کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے، امریکی مؤقف موصو ل ہوچکا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  • ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام  کا منصوبہ

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    ایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ایران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے قتل پر 5 کروڑ یورو، یعنی تقریباً 5 کروڑ 82 لاکھ ڈالر انعام مقرر کرنے کا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ کمیٹی ایک بل تیار کر رہی ہے جس کا عنوان اسلامی جمہوریہ کی فوجی اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی رکھا گیا ہے۔

    دی ٹیلی گراف کے مطابق اس مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فرد یا گروہ کو 5 کروڑ یورو ادا کیے جائیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جان سے مارے گاایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    ابراہیم عزیزی نے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو آیت اللہ خامنہ ای کے قتل میں مبینہ کردار پر جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جانا چاہیے،ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اور رکن محمود نباوین نے بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ جلد ایسے انعام کی منظوری پر ووٹ کرے گی جو اُس شخص یا گروہ کو دیا جائے گا جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جہنم واصل کرے۔

    یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل ایران کے حامی میڈیا ادارے مساف نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے ”کِل ٹرمپ“ مہم کے لیے 5 کروڑ ڈالر کے مالی وسائل مختص کر دیے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے سرکاری حمایت یافتہ سائبر وارفیئر گروپ ہندالہ نے بھی ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ظلم اور کرپشن کے بنیادی معمارو ں، یعنی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خاتمے کے لیے 5 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، یہ رقم اُس فرد یا تنظیم کو دی جائے گی جو دونوں رہنماؤں کے خلاف عملی کارر وائی کرے گا، یہ اقدام امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ہندالہ گروپ کے ارکان کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کے اعلان کے ردعمل میں کیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے مجوزہ انعامی قانون ماضی کی دھمکیوں، مذہبی فتوؤں اور پروپیگنڈا مہمات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین پیش رفت ہے، جو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے جبکہ گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکا انتہائی سخت احکامات جاری کرے گا اور ایران کو “زمین کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

  • نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

    نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار کردیا ہے۔

    امریکی ٹی وی کو دیےگئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ایران جنگ میں بہت کچھ حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوئی، ایران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجود ہے جسے ایران سے نکالنا ضروری ہے، یورینیم افزودگی کے ایسے مراکز موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا، اب بھی ایسے گروہ موجود ہیں جن کی ایران حمایت کرتا ہے اور ایسے بیلسٹک میزائل بھی ہیں جنہیں وہ مزید بنانا چاہتے ہیں، ابھی بہت کام باقی ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ بھی فوجی آپریشن کے ذریعے ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے پر آمادہ ہیں اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرےگا جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی تو ہو جائے لیکن لبنان میں حزب اللہ برقرار رہے ایران چاہتا ہےکہ اگر یہاں جنگ بندی ہو جائے تو وہاں بھی جنگ بندی ہوجائے،کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ حزب اللہ وہاں رہے اور لبنان کو مسلسل اذیت دیتی رہے اور اس کے عو ام کو ‘ یرغمال’ بنائے رکھے اس حوالے سے ٹرمپ میری بات سمجھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی حکومت کمزور یا ختم ہو جاتی ہے تو اس کا پورا پراکسی نیٹ ورک بھی ختم ہو جائےگا، حزب اللہ، حماس اور شاید حوثیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے، ایران نے پراکسی گروپوں کا جو پورا ڈھانچہ کھڑا کیا ہے، وہ ایرانی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی گرجائےگا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ جنگ سے پہلے کی منصوبہ بندی میں آبنائے ہرمز کی بندش کے مسئلےکا مکمل اندازہ نہیں لگایا گیا تھا چین میزائل کی تیاری میں ایران کی مدد کررہا ہے چین نے میزائل سازی کے کچھ مخصوص پرزے فراہم کیے، لیکن میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا بعض عرب مما لک کی جانب سے ایسے پیغامات مل رہے ہیں جن میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آئندہ 10 برسوں میں اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار سے آزاد کرنا چاہتاہوں میں چاہتا ہوں کہ امریکا کی مالی مدد خاص طور پر فوجی تعاون کے مالی حصےکو صفر تک لایا جائے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم باقی ماندہ فوجی امداد پر انحصار ختم کریں اور امداد کے تعلق کو شراکت داری میں بدل دیں، اسرائیل کو ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد ملتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا نے 2018 سے 2028 تک اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

  • کرپشن کیسز :نیتن یاہو کو عدالت سے ایک اور مہلت مل گئی

    کرپشن کیسز :نیتن یاہو کو عدالت سے ایک اور مہلت مل گئی

    اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کو کرپشن مقدمات میں سماعت اچانک ملتوی ہونے پر ایک بار پھر عبوری ریلیف مل گیا ہے-

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کے روز عدالت میں نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کی سماعت ہونا تھی جس میں انہیں اپنا بیان ریکارڈ کروانا تھا، تاہم عین وقت پر یہ عمل مؤخر کر دیا گیا،یہ فیصلہ نیتن یاہو کے وکیل کی جانب سے رات گئے عدالت کو فراہم کی گئی نئی معلومات کے بعد کیا گیا، لیکن ان تفصیلات کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا عدالت نے اچانک سماعت ملتوی کر دی، جس سے وزیر اعظم کو وقتی طور پر ریلیف مل گیا ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو اس وقت تین مختلف کرپشن کیسز کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ مقدمات 2019 سے زیر سماعت ہیں، اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ان مقدمات کی سماعت موخر ہوتی رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں سیکیورٹی صورتحال اور جنگی حالات شامل رہے ہیں، حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث بھی عدالتی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔

    واضح رہے کہ نیتن یاہو 28 اپریل کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ان کی پہلی پیشی تھی، ماہرین کے مطابق بار بار سماعت ملتوی ہونے سے مقدمات کے حتمی فیصلے میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔