Baaghi TV

Tag: نیتن یاہو

  • حماس حملے کی نئی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزیشن نے نیتن یاہو سے استعفیٰ مانگ لیا

    حماس حملے کی نئی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزیشن نے نیتن یاہو سے استعفیٰ مانگ لیا

    اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے حماس حملے کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک نئی تشویشناک رپورٹ کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو منصب کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    یہ سیاسی بحران ستمبر 2026 میں اسرائیلی اخبار ہاآرتص کی اس رپورٹ کے بعد پیدا ہوا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا،اخبار کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات (UAE) کے صدر محمد بن زاید ال نہیان نے 7 اکتوبر کے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو سے براہِ راست بات کی تھی اور انہیں مطلع کیا تھا کہ حماس ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وارننگ کے بعد اسرائیلی سیکورٹی ایجنسی ‘شن بیت’ کے سربراہ رونن بار نے بھی 15 ستمبر 2023 کو نیتن یاہو کو اس حوا لے سے بریفنگ دی تھی، اس کے ساتھ ہی مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل نے بھی نیتن یاہو کو کسی غیر معمولی اور خوفناک آپریشن کے بار ے میں خبردار کیا تھا-

    سابق وزیراعظم اور انتخابات میں امیدوار نفتالی بینیٹ نے بھی نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کو ہونے والے نقصان کا ’’بذات خود اور براہِ راست ذمہ دار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’ایک منٹ کے لیے بھی‘‘ اپنے عہدے پر براجمان نہیں رہنا چاہیے۔

    ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق حماس کے اس وقت کے سربراہ یحییٰ سنوارنے ایک سابق فلسطینی عہدیدار کو خبردار کیا تھا کہ حماس ایک ’’خوفناک آپریشن‘‘ کی تیاری کر رہی ہے، جسے انہوں نے ’’زلزلہ‘‘ قرار دیا تھا سابق فلسطینی عہدیدار نے یہ اطلاع ایک اماراتی مشیر تک پہنچائی، جس نے اسے متحدہ عرب امارات کے صدر تک پہنچایا اس کے بعد اماراتی صدر نے مبینہ طور پر نیتن یاہو سے رابطہ کیا۔

    متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کی ثالثی میں ہونے والے ‘ابراہام اکارڈ’ کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اخبار نے زیادہ تر نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے اس وارننگ کا پُرسکون انداز میں جواب دیا، نیتن یاہو نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ اسرائیل کی توجہ غزہ کے بجائے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر ہے۔

    اس نئی رپورٹ کے سامنے آتے ہی اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں نے نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ نیتن یاہو 7 اکتوبر کو ہونے والے جانی و مالی نقصان کے براہِ راست ذمہ دار ہیں، کیونکہ انہوں نے ان اہم ترین وارننگز کو نظر انداز کیا۔

    نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گاڈی آئزن کوٹ نے الکژام لگایا کہ وزیر اعظم سیکورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں اور لغو بہانے تراش رہے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: "نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حوالے سے درجنوں انتباہات موصول ہوئے لیکن انہوں نے سب کو نظر انداز کر دیا،وہ (وزارتِ عظمیٰ کے لیے) نااہل ہیں،اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ انہیں مزید ایک منٹ بھی اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے-

    دوسری جانب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری بیان میں ہاآرتص کی رپورٹ کو "سراسر جھوٹ” قرار دیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران نیتن یاہو اور اماراتی صدر کے درمیان ایسی کوئی ٹیلی فونک گفتگو یا رابطہ نہیں ہوا تھا-

    نیتن یاہو کی حکومت کئی برسوں سے حماس کے ساتھ ‘اسٹیٹس کو’ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی تھی۔ اس پالیسی کے تحت قطر کے ذریعے غزہ میں مالی معاونت کی فراہمی جاری رہی، جبکہ یہ مفروضہ برقرار رہا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے بجائے اپنی بقا کو ترجیح دے گی۔

    7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، اے ایف پی کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کیے گئے تخمینے کے مطا بق اس حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حماس کے جنگجو تقریباً 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے، جن میں سے 44 کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے۔

    اس حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 73,658 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

  • نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کا اعتراف کرلیا،عباس عراقچی

    نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کا اعتراف کرلیا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ’سانپ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے مفاد میں دھوکا دے کر امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا۔

    عباس عراقچی نے نیتن یاہو کے ایک خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے عبرانی زبان میں گفتگو کے دوران خود اعتراف کیا کہ انہوں نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے اسے ’بیوقوف بنایا‘، نیتن یاہو اس بات پر واضح طور پر ہنس رہے تھے کہ انہوں نے امریکی ٹی وی پر تقریباً ایک ہزار گھنٹے کا ایئر ٹائم حاصل کرکے امریکی رائے عامہ اور پالیسی پر کس طرح اثر ڈالانیتن یاہو کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کئی برس سے ایران کے معاملے پر امریکا کو اپنے مؤقف کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے ایران کے معاملے سے نمٹ رہے ہیں اور انہیں ایران کے خلاف کارروائی پر اپنی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو آمادہ کرنے میں بہت وقت لگا، ایران کے خلاف کارروائی کے لیے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو قائل کرنا ایک طویل عمل تھا۔

    عباس عراقچی نے نیتن یاہو کے بیان کو اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کے لیے اثرانداز ہونے کے اعتراف کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم، نیتن یاہو کی گفتگو میں امریکی حکومت کو ’بیوقوف بنانے‘ کے الفاظ شامل تھے یا نہیں، یہ بات عراقچی کی تشریح سے متعلق ہے۔

    علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ایران کے جزائر خارک اور ابوموسیٰ پر راکٹ حملے کیے،امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ رات ایران کے دونوں جزائر کو HIMARS راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    عراقچی کے مطابق ایرانی فورسز نے حملوں کے لانچ پوائنٹس کا سراغ لگایا جن میں راس الخیمہ اور دبئی کے قریب ایک مقام شامل تھا، اب یہ واضح ہے کہ راکٹ متحدہ عرب امارات سے فائر کیے گئے، اور پڑوسی ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرنا بالکل ناقابل قبول ہے گنجان آباد علاقوں کے قریب سے راکٹ داغنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔

  • نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات کو مستردکر دیا

    نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات کو مستردکر دیا

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ کسی قابلِ اعتماد معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے حکمرانوں کے لیے انتہائی سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ وہ ایران کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ کسی معاہدے کے امکان پر شکوک رکھتے ہیں،انہوں نے حالیہ ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایران کے معاملے پر سفارت کاری کے امکانات پر بھی گفتگو کی تھی تاہم نیتن یاہو کے مطابق انہیں یقین نہیں کہ ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ کسی نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچا جاسکتا ہے۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ معاہدہ ممکن نہیں اور اسی وجہ سے سفارتی راستے کے حوالے سے ان کی امید یں بہت محدود ہیں، اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی نئی اقتصادی دباؤ کی مہم کو بھی سراہا، امر یکا نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید مالی اور اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    نیتن یاہو کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خطے کے اہم معاملات پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

  • میرے پاس نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں،ظہران ممدانی

    میرے پاس نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں،ظہران ممدانی

    نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے ایک نئی ویڈیو میں واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نیویارک آتے ہیں تو ان کے پاس انہیں گرفتار کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

    ممدانی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کہا کہ میری انتظامیہ نے موجودہ قوانین کے تحت ہر ممکن راستے کا جائزہ لیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آتے ہیں تو کیا شہر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کر سکتا ہے یا نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اب یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ہمارے پاس اس وارنٹ پر عمل درآمد کروانے کا کوئی آزادانہ قانونی اختیار نہیں ہے، تاہم، امریکی وفاقی حکومت کےپاس یہ اختیار موجود ہےاور میں ان سےاپیل کرتا ہوں وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں شامل ہوں اور اس وارنٹ پر عمل کریں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ دن پہلے ہی ممدانی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں نیتن یاہو کی گرفتاری کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

    اس تنازع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبھی اپنا موقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو کو کسی بھی صورت شکل یا طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا، دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے ممدانی کی ویڈیو پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کو نیویارک کے شہریوں کی خدمت کے لیے منتخب کیا گیا تھا، حماس کے پروپیگنڈے کے لیے نہیں اپنا کام کریں، جبکہ قانونی ماہرین نے بھی میئر کے اس دعوے کو غیر حقیقی قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ جاری کیے تھے، جن کی امریکی صدر اور سابق صدر دونوں نے مذمت کی تھی، جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں اس عالمی عدالت کو ختم کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

  • نیویارک کے میئر کا نیتن یاہو کو گرفتار کرنے پر غور شروع

    نیویارک کے میئر کا نیتن یاہو کو گرفتار کرنے پر غور شروع

    نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس 7 میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو ان کی انتظامیہ ان کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق قانونی اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے۔

    ظہران ممدانی جو کہ اسرائیل کو ایک نسل پرستانہ حکومت قرار دیتے ہیں، نے ہفتے کو نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ نیتن یاہو ایک جنگی مجرم ہے جس پر بین الاقوامی فوجداری عدالت نے فرد جرم عائد کی ہوئی ہے یہ صرف میری رائے نہیں ہے بلکہ بہت سے لوگوں کا یہی ماننا ہے اور اس کی وجہ نیتن یاہو کے گزشتہ کئی سالوں میں کیے گئے اقدامات ہیں۔

    ممدانی نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ آیا ان کے پاس نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کو کسی غیر ملکی لیڈر کو حراست میں لینے کا حکم دینے کا اختیار ہے یا نہیں لیکن وہ شہر کی قانونی ٹیم کے ساتھ اس معاملے پر بات کر رہے ہیں،قانون مجھے نیویارک شہر میں جو کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے، ہم وہی کریں گے۔

    رہے کہ نومبر 2024 میں آئی سی سی نے غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت بنیامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جسے اسرائیل مسترد کر چکا ہے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب توقع کی جا رہی ہے کہ نیتن یاہو ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ان کی گرفتاری کی کوشش کریں گے، تاہم اب بطور میئر انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس حوالے سے ان کے قانونی اختیارات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ممدانی کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے اسرائیلی نمائندوں کا کہنا ہے کہ امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ، اس لیے آئی سی سی کے وارنٹ کی بنیاد پر کسی کارروائی کا قانونی جواز موجود نہیں۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر سکتا ہے، جب کہ حتمی صورت حال کا انحصار ستمبر میں نیتن یاہو کے ممکنہ دورۂ نیویارک اور امریکی حکام کے مؤقف پر ہوگا۔

  • فیفا ورلڈ کپ فائنل: نیتن یاہو کا ارجنٹینا کی حمایت کا اعلان

    فیفا ورلڈ کپ فائنل: نیتن یاہو کا ارجنٹینا کی حمایت کا اعلان

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل سے قبل ارجنٹینا کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں تعینات ارجنٹینا کے سفیر نے ورلڈ کپ فائنل کے موقع پر نیتن یاہو کو ارجنٹینا کی فٹبال جرسی پیش کی، جس پر اسرائیلی وز یراعظم نے ارجنٹینا کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا کہا کہ وہ ورلڈ کپ فائنل میں ارجنٹینا کو سپورٹ کر رہے ہیں اور ان کے ارجنٹینا کے صدر جاو یئر میلی کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں انہوں نے ارجنٹینا اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ ورلڈ کپ فائنل میں ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان مقابلے کو دنیا بھر میں فٹبال کے شائقین بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں، جبکہ لاطینی امریکا میں بھی ارجنٹینا کی حمایت اور مخالفت دونوں طرح کے جذبات سامنے آ رہے ہیں۔

  • جنوبی لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

    جنوبی لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی اکثریتی دیہات اسرائیل کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ حزب اللہ سے محفوظ رہ سکیں، تاہم متعلقہ مسیحی دیہات نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے-

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے کچھ مسیحی دیہات نے خود اسرائیل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کے مخالف ہیں اور اسرائیل انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے یہ دیہات امن کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور حزب اللہ سے محفوظ رہنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں تاہم انہوں نے نہ تو ان دیہات کے نام بتائے اور نہ ہی اپنے دعوے کے حق میں کوئی مزید تفصیل فراہم کی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات نے جمعہ کو سامنے آنے والی ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست نہیں دی کسی فرد یا مقامی ادارے کو ایسا فیصلہ کرنے کا نہ اختیار حاصل ہے اور نہ ہی قانونی حق وہ اپنی سرزمین پر قائم ہیں اور لبنانی پرچم سے مکمل وفاداری رکھتے ہیں، یہی ان کی قومی شناخت ہے اور وہ اس پر قائم رہیں گے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حق میں دلائل دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت لبنان کی ایک انچ زمین بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کرے گی تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا یہ بیان انہی مسیحی دیہات کے تناظر میں تھا یا اسرائیل کے قائم کردہ نام نہاد سیکیورٹی زون کے حوالے سے۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے ایک نام نہاد سیکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے، جبکہ وہ وقفے وقفے سے جنوبی لبنان میں فضائی اور زمینی حملے بھی کرتا رہا ہے 2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 300 لبنانی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی بمباری اور گھروں کی تباہی کے باعث تقریباً 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    بعد ازاں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کی حکومت، جس کی قیادت صدر جوزف عون کر رہے ہیں، کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج کے لبنانی علاقوں سے انخلا کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد مسیحی دیہات پر گولہ باری اور بمباری کی، کئی دیہات کو خالی کرایا، جبکہ بعض مقامات پر مقامی آبادی نے اسرائیلی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی زمین چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ان دیہات کا شہری انفراسٹرکچر، رہائشی مکانات اور دیگر املاک بھی شدید متاثر ہوئیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج کے مقامی کمانڈرز مبینہ طور پر فون پر دیہات کے میئروں سے رابطہ کر کے مطالبہ کرتے رہے کہ حزب اللہ کو ان علاقوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

  • آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم

    آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کو روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اس اہم بحری گزرگاہ میں تیل اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی کے جواب میں ہم آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہیں۔

    صورتحال کے بارے میں زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ ایران نے بندش کا اعلان کیا ہے، لیکن سمندری راستوں سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رکی نہیں ہے اطلاعا ت کے مطابق بعض بحری جہاز عمان کی سمندری حدود سے گزر رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی بلکہ جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

    اُدھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہے اور وہاں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے دوسری جانب اسرائیلی وزیرا عظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے اسرائیلی حکام کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو  کے درمیان  فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیاں کم کریں اور بمباری کا سلسلہ روکنے پر غور کریں،امریکی صدر نے اپنے قریبی مشیروں کے سامنے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ہر مسئلے کا حل فوجی کارروائی اور بمباری میں تلاش کرتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی قیادت کی جانب سے مسلسل نئی فوجی کارروائیوں کے مطالبات سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک اور فون کال کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ کے باعث امریکی معیشت کو نقصان پہنچا تو ان کا موازنہ سابق امریکی صدر ہربرٹ ہوور سے کیا جا سکتا ہے، جنہیں 1930 کی دہائی کے عظیم معاشی بحران کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تم میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی ناراضی کی جھلک ملتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم علاقائی معاملات پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ایران، لبنان اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اختلاف واضح ہیں۔

  • ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ بین الاقوامی معاہدے یا مفاہمت میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا اور اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے تناظر میں اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کرے یا انہیں روک دے لبنان میں کشیدگی میں کمی سے خطے میں سفارتی ماحول بہتر ہوگا اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    تاہم اس معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات موجود ہیں اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور دیگر ممکنہ خطرات کے خلاف کارروائی اس کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا نیتن یاہو نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی پالیسی کسی دوسر ے ملک کی خواہشات کے مطابق ترتیب نہیں دے گا اور اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گاایران سے متعلق کسی عالمی معاہدے کا حصہ بننا اسرائیل کے لیے لازمی نہیں اسرائیل اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔