Baaghi TV

Tag: نیتن یاہو

  • سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم

    سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہےکہ سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : نیتن یاہو نے یہ بات مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں امریکا کے ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے ساتھ ملاقات میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اورامن چاہتے ہیں۔ہم اسے عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے کی جانب ایک بڑے اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں ایسے کسی معاہدے کے اسرائیل، سعودی عرب، خطے اور دنیا دونوں کے لیے تاریخی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں-

    ایرانی صدر کی سعودی فرمانروا کو ایران کے دورے کی دعوت

    اسرائیل نے متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیےامریکا کی سرپرستی میں ابراہام معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اب اسرائیل اس اقدام کو مزید ممالک تک توسیع دینے کی کوشش کررہا ہے اسرائیل کے اعلیٰ حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا قیام حتمی کامیابی ہوگی اورخطےمیں امن کے قیام کے لیےاہم ثابت ہوگی۔

    بھارتی پنجاب واقعہ: فوجی اہلکار کا اپنے 4 ساتھیوں کے قتل کا اعتراف

    دوسری جانب سعودی عرب کئی مرتبہ اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرچکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے کے لیے کسی بھی قسم کا امن معاہدہ یا سمجھوتا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پیشگی شرط ہوگا۔

    اس کے علاوہ ایران کے معزول بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی اس ہفتے اسرائیل کادورہ کریں گے،اسرائیلی حکومت کا کہنا ہےکہ جمہوری ایران اپنےعرب ہمسائیوں اور اسرائیل سے تعلقات کی تجدیدکی کوشش کرےگا۔

    تیونس نے آئی ایم ایف کے قرضوں کو مسترد کر دیا، برکس میں شامل ہونے …

  • اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال کیا،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال کیا،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیلی پولیس نے مبینہ طور پر سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیٹے اور ان کے قریبی حلقے میں شامل افراد کے فون پر جاسوسی کے لیے اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔

    باغی ٹی وی :"واشنگٹن پوسٹ” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اخبار کیلکلسٹ نےپیرکو ایک رپورٹ میں سابق وزیراعظم کے بیٹے اور ان کے معاونین کی جاسوسی کا انکشاف کیا ہےاس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے مظاہرین اور دیگراسرائیلی شہریوں کے خلاف جدیدترین اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔اس کی اس کارروائی کی سیاسی حلقوں کی جانب سے مذمت کی گئی ہے جبکہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والوں میں پولیس کمشنر بھی شامل ہوچکے ہیں۔

    حال ہی میں اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ نیتن یاہو کے کرپشن کے مقدمے میں ایک اہم گواہ کے خلاف اسپائی ویئر کا استعمال کیا گیا۔

    اسرائیلی پولیس پر یہ الزامات نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے کو بھی کمزور کرسکتے ہیں۔یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اسرائیلی پولیس نے سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمے میں ایک اہم گواہ کی کڑی نگرانی کے لیےاسپائی ویئر کا استعمال کیا تھا اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ بہت سنگین ہیں۔

    اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیرعمربارلیف نے ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں سرکاری تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہےجو’’زیربحث برسوں میں شہری حقوق اوررازداری کی خلاف ورزی کی گہرائی سے تحقیقات کرے گا‘‘۔انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مبیّنہ خلاف ورزیاں سابقہ حکومتوں میں سابق عہدے داروں کے تحت کی گئی تھیں۔

    کیلکالسٹ کا کہنا ہے کہ یہ اسپائی ویئر ان کے بیٹے اونر، ان کے 2 کمیونیکیشن ایڈوائزر اور کیس میں ایک رمدعاعلیہ کی اہلیہ کے رجسٹرڈ فونز کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا –

    اخبارکی رپورٹ کے مطابق وہ سب ان متعدد اہم شخصیات میں شامل ہیں جنھیں اسپائی ویئرکا نشانہ بنایا گیا ہے۔ان میں کاروباری رہنما، کابینہ کی وزارتوں کے سابق ڈائریکٹرز اور میئرز شامل ہیں۔ان کے علاوہ معذورافراد کو بھی نہیں بخشا گیااوراسرائیل میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہود کی اقلیت کے احتجاجی مظاہروں کے منتظمین کو بھی جاسوسی کی اس مہم میں نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس نے اسرائیلی فرم این ایس اوگروپ کے تیارکردہ طاقتور پیگاسس سافٹ ویئر کا استعمال کیا ہے۔اس اسپائی ویئرکومتعدد ممالک میں صحافیوں، کارکنوں اور سیاست دانوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی گروپ کو اب مختلف تنازعات کا سامنا ہے اوراس پرتنقیدکی جاری ہے۔

    اخبار نے لکھا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے کسی بھی تفتیش کے آغازسے پہلے اورعدالتی وارنٹ کے بغیرانٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے لیے اسپائی ویئر کا استعمال کیا تھا البتہ یہ واضح نہیں ہواکہ نیتن یاہو کے اندرونی حلقے کوان کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے کے سلسلے میں نشانہ بنایاگیاتھا یا دیگروجوہات کی بنا پران کی جاسوسی کی گئی تھی۔نیتن یاہو خاندان کے ترجمان نے اس معاملے پرتبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    گذشتہ سال جون میں نیتن یاہو کی جگہ وزیراعظم بننے والے نفتالی بینیٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’پیگاسس اوردیگرمصنوعات’دہشت گردی اورسنگین جرائم‘کے خلاف جنگ میں اہم ہتھیار ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ انھیں اسرائیلی عوام یا عہدے داروں کو نشانہ بنانے کی جعلی مہمات میں استعمال کیا جائے-یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ واقعی کیا ہوا ہے‘‘۔

    بینیٹ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پرعوام کے اعتماد میں کمی کے پیش نظریہاں ایک اہم موقع ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کیا برقراررکھنے کی ضرورت ہے اورجو چیزدرستی کی متقاضی ہے،اسے درست کیا جائے۔

    اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے اس معاملے کی تفصیلی اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہےانہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی جمہوریت نہیں کھونی چاہیے، ہمیں اپنی پولیس کو نہیں کھونا چاہیے اور یقینی طور پر ہمیں ان پر اپنا عوامی اعتماد بھی نہیں کھونا چاہیے-

    نیتن یاہو اس وقت دھوکہ دہی، اعتماد کو توڑنے اور رشوت لینے کے الزامات پر 3 مقدمات کی زد میں ہیں ان کی تاریخی 12 سالہ حکمرانی کا خاتمہ گزشتہ سال جون میں اس وقت ہوا جب 2 سال سے بھی کم عرصے میں الیکشنز کے 4 سخت معرکوں کے بعد ایک مخلوط حکومت نے حلف اٹھایا۔

    نیتن یاہو نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر طویل عرصے سے انہیں غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور ان کے وکلا نے اس پر جواب طلب کیا ہےنیتن یاہو کے سیاسی مخالفین نے بھی اس معاملے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

    شلومو فلبر نامی جس گواہ کا فون مبینہ طور پر ہیک کیا گیا تھا اس کی آنے والے دنوں میں گواہی دینے کی توقع ہے، امید کی جارہی ہے کہ نیتن یاہو کے وکلا اس کی گواہی میں تاخیر کی درخواست کریں گےیہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ مبینہ طور پر جمع کیے گئے کسی بھی ثبوت کو نیتن یاہو کے خلاف استعمال کیا گیا یا نہیں۔

    پولیس کمشنر کوبی شبتائی نے کہا کہ حالیہ رپورٹس کے بعد انہوں نے حکومت کو ایک جج کی سربراہی میں ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی سفارش کی ہے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا مقصد اسرائیلی پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اور اسرائیلی پولیس کی جانب سے ٹیکنالوجی کے استعمال کو منظم کرنا ہونا چاہیے وہ پہلے ہی اٹارنی جنرل کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔

    ریاستی استغاثہ نے اس دوران نیتن یاہو کے وکلا کو بتایا ہے کہ وہ ان رپورٹس کی مکمل جانچ کر رہے ہیں۔

    کیلکالسٹ نے کہا ہے کہ کم از کم کچھ معاملات میں کرائے پر ہیکرز دینے والی اسرائیلی کمپنی ‘این ایس او گروپ’ شامل ہےاس کمپنی کی فلیگ شپ پروڈکٹ ’پیگاسس‘ ہے جو اسے آپریٹ کرنے والوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہدف بنائے گئے موبائل فونز میں گھسنے اور اس کے ذریعے کیے جانے والے روابط سمیت ڈیوائس کے مواد تک رسائی حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے-

    حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقصد کے لیے کون سے اسپائی ویئر کا استعمال کیا گیا دیگراسرائیلی کمپنیوں نے بھی جاسوسی کے طاقتور آلات تیارکررکھےہیں۔

    پیگاسس کے معاملے پر این ایس او کو بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کا تعلق دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور سیاست دانوں کی جاسوسی سے ہے۔

    اپنے کلائنٹس کو ظاہر نہ کرنے والے اس گروپ این ایس او کا کہنا ہے کہ اس کی تمام فروخت اسرائیل کی وزارت دفاع سے منظور شدہ ہے اور اس کی ٹیکنالوجی کو حکومتیں جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

    این ایس او گروپ اپنے صارف ملکوں یا اداروں کی شناخت کوظاہر نہیں کرتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اسے اس انٹیلی جنس تک رسائی حاصل نہیں ہے،جو وہ (صارف)جمع کرتے ہیں۔وہ اس چیزکو بھی کنٹرول نہیں کرتا ہے کہ اس کی مصنوعات کس طرح استعمال کی جاتی ہیں۔اس کی تمام مصنوعات کی فروخت کی اسرائیل کی وزارت دفاع کی طرف سے منظوری دی جاتی ہے اور اس کی ٹیکنالوجی کو حکومتیں جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

  • ظالم ، یہودی انتہاپسند  نیتن یاہو کے مستقبل کے فیصلے کیلئے ووٹنگ جاری

    ظالم ، یہودی انتہاپسند نیتن یاہو کے مستقبل کے فیصلے کیلئے ووٹنگ جاری

    تل ابیب : اسرائیل میں‌ انتخابات جاری ، کیا اسرائیلی سوچ کے مطابق وزیراعظم جیتےگا، اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قسمت کے فیصلے کے لیے اسرائیل میں انتخابات جاری ہیں جہاں نیتن یاہو نے انہیں بہت ہی سخت انتخابات قرار دے دیا۔

    تل ابیب سے عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق آج نیتن یاہو اپنے اہلیہ کے ہمراہ ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اپنے عوام سے درخواست کی کہ وہ بڑی تعداد میں نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔نیتن یاہو نے ووٹ ڈالنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان انتخابات میں مقابلہ بہت سخت ہوگا

    جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا تنقید جاری

    عام انتخابات 5 نومبر 2019 کو منعقد ہونا تھے تاہم اسرائیلی وزیراعظم پر بدعنوانی کے الزامات اور راسخ العقیدہ یہودیوں سے متعلق قومی خدمات کے بل پر حکومتی اراکین میں اختلافات کے باعث الیکشن قبل از وقت کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ رواں برس ہی کرپشن الزامات کے بعد اسرائیلی وزیر کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا تاہم قبل از وقت انتخابات میں ان کی جماعت نے ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کی تھی اور وہ آئندہ 6 ماہ کے دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوگئے تھے۔

  • ڈرپوک نیتن یاھو خطرے کے سائرن بجنے پر  انتخابی جلسہ چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا

    ڈرپوک نیتن یاھو خطرے کے سائرن بجنے پر انتخابی جلسہ چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا

    تل ابیب ، اسرئیلی ڈرپوک وزیراعظم نیتن یاہوکی بہادری کا پول کھل گیا ، اطلاعات کے مطابق آج غزہ سے مقبوضہ فلسطین پر داغے جانے والے چند میزائلوں سے خوفزدہ صیہونی وزیر اعظم بنکر میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا۔

    اسرائیلی میڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ یہ دوڑ اس وقت لگی جب فلسطین کی مزاحمتی قوتوں نے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم صیہونی بستیوں پر کئی میزائل فائر کیے

    ظالم صیہونی حکومت نے غزہ پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے دوران ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیںصیہونی حکومت کے لڑاکا اور ڈرون طیارے، ہیلی کاپٹر اور توپ خانہ، حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد بار غزہ کو اپنی وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا چکا ہے

  • وزیراعظم نیتن یاہو کا بیان نسل پرستانہ ہے، مذمت کرتے ہیں :ترکی اور عرب لیگ

    وزیراعظم نیتن یاہو کا بیان نسل پرستانہ ہے، مذمت کرتے ہیں :ترکی اور عرب لیگ

    انقرہ :صیہونی وزیراعظم کے بیان پر ترکی اور عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ نے سخت ردعمل دیا ہےاور نیتن یاہوکے بیان کی مذمت بھی کی ہے، ۔عرب لیگ اور ترکی نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے مغربی کنارے کی وادی اردن میں یہودی بستیاں بنانے کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس بیان کو نسل پرستانہ قراردیاہے۔

    ذرائع کےمطابق ترکی کے وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو الیکشن سے پہلے ہر طرح کے غیر قانونی اور جارحانہ بیانات دے رہے ہیں جو قابل مذمت ہے۔عرب لیگ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امن متاثر ہو گا

  • نتن یاہو کے بیان  کی مذمت ، فلسطینی سخت غصے میں‌آگئے

    نتن یاہو کے بیان کی مذمت ، فلسطینی سخت غصے میں‌آگئے

    مقبوضہ بیت المقدس : نیتن یاہو کے بیانات سے یہ تاریخی حقیقت ذرہ برابر بھی بدلنے والی نہیں ہے کہ تمام مقبوضہ علاقے فلسطینی ، اسلامی اور عربی سرزمین ہیں اور فلسطینی عوام اس کی مکمل آزادی اور اس سرزمین پر فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی تک پوری طاقت سے اس حق کا دفاع کریں گے-فلسطینی تنظیموں نے غرب اردن کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کرلینے کے صیہونی وزیراعظم کے عزائم پر ردعمل ظاہر کردیا

    بدھ کو ایک مشترکہ بیان اسلامی تعاون تنظیم نے بھی صیہونی وزیراعظم کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ غرب اردن کے بعض علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان ملت فلسطین کے حقوق کے خلاف نئی جارحیت ہے-صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے اور نئی کابینہ تشکیل دی تو غرب اردن کی صیہونی بستیوں اور اس علاقے کے اہم حصوں کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کردیں گے-

  • صیہونی وزیراعظم کے  دورہ الخلیل کے موقع پر بڑی تعداد میں صیہونی فوجی تعینات

    صیہونی وزیراعظم کے دورہ الخلیل کے موقع پر بڑی تعداد میں صیہونی فوجی تعینات

    مقبوضہ بیت المقدس : فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے شہر الخلیل میں صیہونی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو کے دورے سے قبل غاصب صیہونی حکومت کے فوجی بڑی تعداد میں اس علاقے میں تعینات ہوگئے ہیں تاکہ فلسطینیوں کے ہر طرح کے مظاہرے کو ناکام بناسکیں۔

    فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کےمطابق صیہونی حکومت کا وزیراعظم نتنیا ہو اپنی انتخابی مہم اور غرب اردن میں بسائے گئے صیہونیوں کے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے بدھ کو اس علاقے کا دورہ کررہا ہے جہاں وہ الخلیل شہر کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ حرم ابراہیمی کے تقدس کو بھی پامال کرنے کی کوشش کرے گا۔

    فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کےمطابق غرب اردن کے علاقے کے فلسطینی شہری نتنیاہو کے دورہ الخلیل سے سخت ناراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس دورے کے خلاف مظاہرے کریں گے۔الخلیل شہر کے ادارہ اوقاف نے نتنیاہو کے دورہ الخلیل پراپنا ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہےکہ نتنیاہو کا یہ اقدام سن دوہزار میں صیہونی حکومت کے سابق وزیراعظم اریل شارون کے دورہ بیت المقدس کی یاد دلاتا ہے۔

    فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کےمطابق الخلیل شہر کے ادارہ اوقاف نے فلسطینیوں سے کہا کہ وہ الخلیل میں حرم ابراہیمی کی حفاظت کریں۔ سن دوہزار میں اریل شارون کے ذریعے بیت المقدس میں مسجد الاقصی کی بے حرمتی کئے جانے خلاف دوسری تحریک انتفاضہ شروع ہوگئی تھی۔