Baaghi TV

Tag: نیشنل بینک

  • پشاور : نیشنل بینک میں ڈکیتی، ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور 441 تولہ سونا لاکرز سے چوری

    پشاور : نیشنل بینک میں ڈکیتی، ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور 441 تولہ سونا لاکرز سے چوری

    پشاور میں کوہاٹ روڈ پر واقع نیشنل بینک میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر تھانہ بانا ماڑی میں درج کر لی گئی، واقعے سے متعلق مختلف زاویوں سے تفتیش بھی جاری ہے ڈاکو بینک سے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور 441 تولہ سونا لاکرز سے لے گئے ڈکیتی کے وقت بینک کی سیکیورٹی پر گارڈ موجود نہیں تھا بینک میں تین ایمرجنسی الارم تھے جو پانچ بار بجے، قومی بینک نے نہ سیکیورٹی گارڈ تعینات کیا تھا نہ ہی الارم کمپنی نے آپریشن منیجر کو آگاہ کیا۔

    نجی کمپنی کے الارم سسٹم آپریٹر کو الارم کا الرٹ ملا مگر کسی کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا، الارم الرٹ پر موجود آپریٹرز نے مقامی پولیس کو اطلاع نہیں دی جبکہ الارم الرٹ پر موجود آپریٹرز کو شاملِ تفتیش کرلیا گیا ہے ڈاکو پہلے بینک کی بیک سائیڈ کی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے، ڈاکو اپنے ساتھ گیس سلنڈر بھی لائے تھے ڈاکوؤں نے اندر داخل ہو کر تمام سی سی ٹی وی کیمرے بند کیے۔

    سوڈان میں ہسپتال پرحملہ، 13 بچوں سمیت 64 افراد جاں بحق

    ایران سے جنگ،سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روک دیں

  • نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کیلئے ملازمت کا کیس، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کیلئے ملازمت کا کیس، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے صدر کو تین ماہ میں درخواستوں پر فیصلہ کر کے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی سپریم کورٹ نے 2019 اور 2022 میں دی گئی درخواستوں کو اُس وقت کی نافذ پالیسی کے تحت دیکھنے کا حکم دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں برسوں تک زیرِ التوا رہیں، کوئی فیصلہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا، جنرل پوسٹ آفس کیس کا فیصلہ سابقہ پالیسیوں پر ماضی سے لاگو نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے اصولاً مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک عدالت خود نہ ماضی کا ذکر کرے۔

    منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے،دی اکانومسٹ

    سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2011 کی پالیسی موجودہ درخواستوں کے وقت نافذ تھی، اسی کے مطابق درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے، متوفی ملازمین کے بچوں کو ملازمت سے متعلق پالیسی پر عمل نہ کرنا منصفانہ انتظامیہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق آئینی درخواست جنرل پوسٹ آفس کیس کی روشنی میں مسترد کر دی تھی۔

    ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی نے پاکستان کے دورے کا دلچسپ تجربہ شیئر کردیا

  • ملکی ریلوے اسٹیشنز پر اے ٹی ایم مشینوں کی تنصیب کا آغاز

    ملکی ریلوے اسٹیشنز پر اے ٹی ایم مشینوں کی تنصیب کا آغاز

    پاکستان ریلوے نے نیشنل بینک کے اشتراک سے کراچی ریلوے اسٹیشنز پر اے ٹی ایم مشینوں کی تنصیب کا آغاز کر دیا.

    باغی ٹی وی کے مطانق ریلوے حکام کا کہنا تھا کہ اے ٹی ایم سروس کا اقدام وفاقی وزیر ریلوے جناب محمد حنیف عباسی کے وژن کا عملی مظہر ہے، روزانہ70,000 مسافر ان دونوں مرکزی اسٹیشنز سے سفر کرتے ہیں، اے ٹی ایم سہولت کی عدم دستیابی کی باعث مسافروں کو ہنگامی صورتحال میں مشکلات کا سامنا ہوتاہے۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ کراچی کینٹ اسٹیشن پر اے ٹی ایم مشین کی تنصیب سے شروع ہوگا، اے ٹی ایم سہولت کو کراچی سٹی اسٹیشن سمیت دیگر اسٹیشنز تک وسعت دی جائے گی۔

    ریلوے انتظامیہ نے نیشنل بینک سے 10 مئی سے پہلے اے ٹی ایم مشینوں کی تنصیب کی باضابطہ درخواست کی ہے، پاکستان ریلوے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے نیشنل بینک کو مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

    بھارت کا پاکستان سے شپنگ اور پوسٹل روابط بھی معطل کرنے پر غور

    پی ایس ایل 10؛ پشاور زلمی کی اسلام آباد کو 6 وکٹوں سے شکست

    دو ایٹمی قوتوں میں کشیدگی بڑھنے لگی، خالصتان رہنما نے بھارت کے عزائم بے نقاب کر دیے”

    سکھ رہنما کے بھارتی افواج پر سنگین الزامات، چیٹی سنگھ پورہ سانحے کی یاد تازہ

  • نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا نام تبدیل کر دیا گیا

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا نام تبدیل کر دیا گیا

    لاہور:کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کا نام تبدیل کر دیا گیا اور اب نیشنل بینک کرکٹ ارینا بن گیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے نیشنل اسٹیڈیم کے نام کی تبدیلی کیلئے قومی بینک سے معاہدہ کر لیا۔این بی پی اور پی سی بی کے درمیان نیشنل سٹیڈیم کے نیمنگ رائیٹس کےلئے ایم او یو پر دستخط،اطلاعات کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں کرکٹ کے فروغ اور ترقی کےلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔

    معاہدے پر پی سی بی چیئرمین رمیز راجہ اور بینک کے صدر اور سی ای او رحمت علی حسنی نے دستخط کیے اور یہ معاہدہ 5 سال کیلئے ہوا ہے۔

    ٹی20 ورلڈکپ؛ آسٹریلیا کیخلاف سری لنکا کی بیٹنگ جاری

    اس حوالے سے رمیز راجہ کا کہنا تھاکہ قومی بینک کا پی سی بی کے ساتھ جڑنا ایک اعزاز ہے، اسٹیڈیمز مارکیٹنگ کا ایک شاندار طریقہ ہے اور دنیا بھرمیں اس کو اہمیت دی جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کرکٹ کا گڑھ ہے اور نیشنل اسٹیڈیم پاکستان کرکٹ کی ایک تاریخ ہے۔ سی ای او نیشنل بینک کا کہنا تھاکہ ہماری بورڈ کے ساتھ پارٹنر شپ کی شروعات ہیں، قومی ادارے کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، نیشنل اسٹیڈیم کے رائٹس لینا اعزاز ہے۔

    مفاہمت کی یادداشت پر حال ہی میں این بی پی کے قائم مقام صدر رحمت علی حسنی اور پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ آفس میں دستخط کئے جس کے تحت این بی پی کو نیشنل سٹیڈیم کراچی کےلئے آئندہ پانچ سال کےلئے نیمنگ رائیٹس ملیں گے۔

    بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے چیف سلیکٹر سمیت 4 حکام ٹریفک حادثے میں جاں بحق

    رمیز راجہ اور رحمت علی حسنی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ادارے نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کےلئے مل کر کام کریں گے جو ملک میں کرکٹ کی ترقی اور فروغ کےلئے بہت ضروری ہے۔

  • نیشنل بینک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا،دہشت گردی فنڈنگ ،امریکہ میں کیس جیت گیا

    نیشنل بینک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا،دہشت گردی فنڈنگ ،امریکہ میں کیس جیت گیا

    نیشنل بینک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا،دہشت گردی فنڈنگ ،امریکہ میں کیس جیت گیا
    پاکستان نے امریکی عدالت میں نیشنل بینک آف پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے مالی مدد کی فراہمی کے الزامات پر دائر مقدمہ جیت لیا ہے

    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق میڈیا رپورٹس اور سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ مدعی ہیرولڈ براؤن سینیئر کیس واپس لے لیا جس سے بینک کے خلاف تمام الزامات ختم ہوگئے ذرائع اٹارنی جنرل آفس کے مطابق پاکستان نے مقدمہ فیڈرل کورٹ نیویارک میں جیتا ہے چند سال قبل افغانستان میں امریکی فوجی بیس پر حملے میں 9 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھےاس سلسلے میں نیویارک کی عدالت میں نیشنل بینک آف پاکستان پر دہشت گردی کے لیے مالی مدد کی فراہمی کے الزامات میں مقدمہ دائرکیا گیا تھا

    مقدمہ ہارنے کی صورت میں پاکستان کو اربوں ڈالرزکا جرمانہ ادا کرنا پڑتا اور نیشنل بینک دیوالیہ بھی ہو جاتا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقدمہ ہارنے کی صورت میں پاکستان کو فیٹف کی جانب سے بھی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ذرائع اٹارنی جنرل آفس نے بتایا ہے کہ نیشنل بینک کا یہ مقدمہ اٹارنی جنرل آفس کے انٹرنیشنل ڈس پیوٹس یونٹ نے لڑا مقدمے میں قانونی ٹیم کی قیادت احمد عرفان نے کی، اسی قانونی ٹیم نے کارکے، ریکوڈک اور پی آئی اے کے اثاثے منجمند کرنے کے مقدمات بھی لڑے، قانونی ٹیم کو نیشنل بینک آف پاکستان کے صدرکی معاونت بھی حاصل رہی

    قبل ازیں رواں برس امریکی فیڈرل ریزرو بورڈ نے نیشنل بینک پر 2 کروڑ 4 لاکھ ڈالر جرمانے کا اعلان کیا تھا اس کے علاوہ نیویارک کے محکمہ برائے مالیاتی خدمات بھی بھی بار بار عدم تعمیل پر بینک کو ساڑھے 3 کروڑ ڈالر کا جرمانہ کیا تھا جس سے جرمانے کی مجموعی رقم ساڑھے 5 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی

    اپنے مقدمے میں مدعی نے الزام عائد کیا تھا کہ نیشنل بینک آف پاکستان متعدد بدنام زمانہ دہشت گرد گروہوں اور القاعدہ سمیت دہشت گردی کے لیے چندہ جمع کرنے والوں کو مالی اعانت اور بینکنگ خدمات مہیا کررہا ہے قبل ازیں جج نے درخواست مسترد کردی تھی اور فریقین کو 2 اپریل 2021 کو ابتدائی کیس منیجنٹ کانفرنس میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

  • امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ

    امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ

    نیویارک :امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ ،اطلاعات کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان نے نیویارک اور وفاقی حکام کو 55 ملین ڈالر سے زائد جرمانے ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    کراچی میں نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک برانچ کو منی لانڈرنگ میں ناکامی پر یہ جرمانہ کیا گیا ہے ، امریکہ کے فیڈرل ریزو بورڈ اور نیویارک سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف فنانشنل سروسز نے نیشنل بینک آف پاکستان کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ضوابط کی خلاف ورزیوں پر کل 55 ملین ڈالر کا جرمانہ کر دیا

    فیڈریل ریسزرو بورڈ کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ نیشنل بینک آف پاکستان امریکہ میں فارن بینک پر آپریٹ کررہا تھا، اینٹی منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا گیا بورڈ فرم نیشنل بینک آف پاکستان سے اینٹی منی لانڈرنگ پروگرام کو بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کرے گا امریکی حکام نے مبینہ اینٹی منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی پر بینک سے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پرعمل کا تحریری پلان بھی مانگ لیا ہے

    دوسری طرف امریکہ نے ایران کے گیس پائپ لائن پر امریکہ نے پابندی عائد کردی ہے ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ امریکہ کی ان پابندیوں کے نتیجے میں پاکستان بھی براہ راست متاثر ہوگا ،یہ بھی یاد رہےکہ نیشنل بینک کو جرمانہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ 2021 کے آخری ایام میں بھی جرمانہ کیا گیا تھا جس میں‌ اسٹیٹ بینک نے نیشنل بینک آف پاکستان پر 28 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان پر 28 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ اعلامیئے میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل بینک پر جرمانہ کسٹمرز کی شناخت، اینٹی منی لانڈرنگ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، فارن ایکس چینج، اثاثوں کے معیار اور عمومی بینکنگ آپریشنز میں قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے پر عائد کیے گئے۔

    اسٹیٹ بینک کے اعلامیئے میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے نیشنل بینک کو برانچوں میں اندرونی سطح پر انکوائری کرنے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث افسران کی خلاف کارروائی کا بھی حکم دے دیا۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ جولائی تا ستمبر 2021 کے دوران 4 بینکوں پر 47 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔

    ن لیگی رہنما پرویز رشید کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک آف پاکستان ،منی لانڈرنگ کا جُرم 550 ملین ڈالر کا جُرمانہ،برابر قسط کے جس کے لۓ IMF کی غلامی قبول ۔ نیب کے مقدمے سازوں اور میڈیا کے الزام تراشوں کی ہتھکڑیاں اور قینچیاں اُسی طرح کب حرکت میں آئیں گی جس طرح وہ سالوں سے بغیر کچھ ثابت کیے جمہوری سیاستدانوں پر وار کرتی ہیں۔

    ن لیگی رہنما عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہ نکل پانے کے لیے ساڑھے تین سال سے سخت کوشش جاری ہے۔ ثمر بھی مل گیا۔ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی پر امریکہ میں نیشنل بینک ساڑھے 5 کروڑ ڈالر جرمانہ دے گا۔ قومی خزانہ جس بے دردی سے لٹایا جارہا ہے اس کے بعد معاشی بہتری کی توقع فضول ہے۔

  • نیشنل بینک سے 1 کروڑ سے زائد رقم چوری کرنے والا مفرورملازم ایئرپورٹ سے گرفتار

    نیشنل بینک سے 1 کروڑ سے زائد رقم چوری کرنے والا مفرورملازم ایئرپورٹ سے گرفتار

    مردان: نیشل بینک مردان سے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے چوری کرنے والا مفرور ملزم امیرزیب ائیرپورٹ سے گرفتار کرلیا گیا ملزم امیر زیب اسلام آباد سے متحدہ عرب امارات بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے مردان نے اسلام آباد ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے نیشل بینک مردان سے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے چوری کرنے والے مفرور ملزم امیرزیب کو گرفتار کرلیا۔

    کرپشن کیس: سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو سزا سنا دی گئی

    ڈپٹی ڈائریکٹرمردان لیاقت علی کے مطابق امیر زیب نیشنل بنک میں کیشیر تھا اور بینک سے کیش لے کے فرار ہو گیا تھا، اور ملزم کی نشان دہی بینک میں لگے سی سی ٹی وی اور سالانہ آڈٹ کی مدد سے ہوئی تھی-

    ڈپٹی ڈائریکٹرمردان لیاقت علی نے بتایا کہ بینک سے کیش چوری کی ایف آئی آر لیڈی مینیجر اورآپریشن مینیجر کے خلاف بھی درج تھی، دیگر دو ملزمان کے خلاف چھاپہ مار کارروائی جاری ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو 10 سال کے لئے نااہل ،4 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی احتساب عدالت لاہور نے حکم دیا تھا کہ مجرم کی زمینوں کو فروحت کر کے جرمانہ کی رقم ادا کی جائے جبکہ عدالت نے سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو 10 سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا نیب ریفرنس کے مطابق بطور صدر نیشنل بینک عثمان سعید نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی تھی-

    وزیر اعلیٰ سندھ کی دعا منگی کیس کےملزم کے فرار ہونے کے واقعہ پر سخت کاروائی کی…

    عثمان سعید کو مجرم قرار دیتے ہوئے فیصلہ لاہور کی احتساب عدالت نمبر 4 کے جج عزیزاللہ کیجانب سے جاری کیا گیا عثمان سعید نیشنل بینک مال توڈ برانچ میں وائس پریزیڈنٹ کے طور پر تعینات رہا مجرم عثمان سعید نے فارن ایکسچینج ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر اپنے عہدہ کا ناجائز استعمال کیامجرم عثمان سعید جعلی لیجرز اور ایل سیز (لیٹر آف کریڈٹ) کے زریعے قومی خزانہ کو مالی نقصان کا موجب بنا مجرم بوگس ایل سیز کے زریعے جعلی ڈلیوری آرڈر دیتا رہا اور پرائیویٹ فرمز کو مالی فائدہ پہنچاتا رہا۔

    عثمان سعید پر الزام تھا کہ اس نے قومی خزانے کو 3 ارب روپے کا نقصان پہنچایا اور یہ تمام کارروائی 2005 سے 2018 کے درمیان کی گئی۔ انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران 10 کمپنیوں کو 93 کروڑ 89 لاکھ 78 ہزار روپے کی رقم تقیسم کی اور اس کے علاوہ انہوں نے کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے 126 اکاؤنٹس بنائے جس سے قومی خزانے کو 3 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا-

    بلدیاتی بل میں ترمیم:وزیراعلی سندھ نےکابینہ اجلاس طلب کر لیا

  • کرپشن کیس: سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو سزا سنا دی گئی

    کرپشن کیس: سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو سزا سنا دی گئی

    لاہور: سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو 10 سال کے لئے نااہل ،4 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت لاہور نے حکم دیا کہ مجرم کی زمینوں کو فروحت کر کے جرمانہ کی رقم ادا کی جائے جبکہ عدالت نے سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو 10 سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔

    فوجی قیادت کا فیصلہ ہے کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی ،شیخ رشید

    نیب ریفرنس کے مطابق بطور صدر نیشنل بینک عثمان سعید نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی۔

    عثمان سعید پر الزام تھا کہ اس نے قومی خزانے کو 3 ارب روپے کا نقصان پہنچایا اور یہ تمام کارروائی 2005 سے 2018 کے درمیان کی گئی۔ انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران 10 کمپنیوں کو 93 کروڑ 89 لاکھ 78 ہزار روپے کی رقم تقیسم کی اور اس کے علاوہ انہوں نے کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے 126 اکاؤنٹس بنائے جس سے قومی خزانے کو 3 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔

    قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرتا،وزیراعظم

    سینیٹ اجلاس: اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور،اپوزیشن ہار گئی ،حکومت جیت گئی

    راوی اربن پراجیکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے: کامیابی کےبعد سندھ میں بھی نیاشہربسائیں…

  • نیشنل بینک کو2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے

    نیشنل بینک کو2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے

    لاہور:نیشنل بینک کو2012 سے 2020 تک 2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک سالہ دور حکومت اورپھرن لیگ کے 5 سالہ دور حکومت اورایسے ہی پی ٹی آئی کے شروع کا ڈیڑھ سال پاکستان کے قومی بینک جسے نیشنل بینک کہا جاتا ہے ، کو 2ہزارارب کا نقصان پہنچا ہے

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) میں 2012 سے 2020 تک بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا پردہ فاش کیا ہے، جس سے قومی خزانے کو 2000 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔

    S. No Subject
    1. Irregular appointment, promotions, and deputation of SEVP/Group Chief (Logistic) – Rs.813.18 million
    2. Irregular appointment of SEVP/ Head (International Banking) – Rs. 33.980 million
    3. Irregular  appointment  of  Chief  Technology  Officer/Group  Chief  -Rs.33.252 million
    4. Irregular appointment of SEVP/Group Chief/ Head (HR) – Rs.33.980 million
    5. Irregular appointment & promotion of SVP/Head of Compensation & Benefits – Rs.13.806 million
    6. Irregular appointment of EVP / Senior HR Business Partner – Rs. 14.195 million
    7. Irregular appointment of EVP / Senior HR Business Partner – Rs. 8.500 million
    8. Irregular appointment of SVP/ Chief Security Officer – Rs.6.00 million
    9. Irregular appointment of  SEVP/Group  Chief  (Chief  Risk  Officer)  – Rs.24.208 million
    10. Un-authorized payment of salary to SEVP without joining the Bank -Rs.24.208 million
    11. Irregular appointment of employees without advertisement – Rs.267.635 million
    12. Irregular appointment & promotion of SVP/ Corporate Head – Rs.36.190 million
    13. Irregular appointment of Vice President (VP) / Executive Logistic Support- Rs.20.349 million
    14. Illegal/defective appointment of President/CEO (NBP) – Rs. 307.17 million
    15. Irregular appointment as Chairman, Board Specialized Committees – Rs. 3.278 million
    16. Irregular appointment of Chairman, Board of Directors
    17. Irregular appointment of Manager (E-Remittances) – Rs.14.502 million
    18. Irregular appointment of SVP/ Head of Organizational Effectiveness – Rs. 9.902 million
    19. Irregular appointment of EVP/ Divisional Head (International Business Strategy) – Rs. 16.380 million
    20. Irregular & unlawful appointment of SVP/Wing Head-Recruitment & Placement – Rs.17.728 million
    21. Irregular deployment of Senior Executive Vice President (SEVP) on deputation and payment of benefits – Rs.  million
    22. Irregular appointment of EVP/Divisional Head (Learning & Development)- Rs.7.200 million
    23. Irregular appointment of EVP/Head of HR Governance – Rs.9.500 million
    24. Irregular  appointment  of  employees  after  attaining  the  age  of superannuation – Rs.611.065 million
    25. Irregular appointment of VP/Research Associate for Chairman (BoD Secretariat) – Rs.4.200 million
    26. Irregular appointment, promotion & extension of contract beyond 60 years of EVP/Secretary Board – Rs.51.570 million
    27. Irregular payment in lieu of end service benefits – Rs. 29.396 million
    28. Irregular appointment of Vice President/HR Business Partner – Rs. 6.480 million
    29. Wasteful expenditure on employment of Special Assistance at Chairman Secretariat (BoD) on retainer ship basis – Rs. 4.500 million
    30. Irregular appointment of SVP/Wing Head (HR Operations) -Rs.18.92 million
    31. Irregular appointment of SVP/Head of Leadership Development – Rs.4.400 million
    32. Irregular appointment of Vice President /Wing Head (Engineering Wing) – Rs.6.300 million
    33. Irregular/unauthorized employment of staff at Chairman Secretariat (BoD) – Rs.18.840 million
    34. Irregular Appointment of Vice President/Wing Head (Corporate Investment Banking) – Rs.14.320 million
    35. Irregular appointment of HR Business Partners on favoritism basis – Rs.7.343 million
    36. Irregular appointment of  Vice  President  (VP)  –  Head of  Business Technology – Rs. 28.440 million
    37. Excess payment to  BoD members in violation of Finance Division directives – Rs. 6.556 million
    38. Irregular appointment of Vice President/Wing Head (AML-CFT) – Rs. 9.870 million
    39. Irregular appointment of Legal Advisory Associate through defective criteria – Rs. 1.750 million
    40. Irregular appointment of Executive Secretary on favoritism basis – Rs.1.050 million
    41. Irregular payment in lieu of un-availed privilege/annual leave – Rs.1.459 million
    42. Irregular appointment of executives/officers without the involvement of Head Hunters – Rs.72.462 million
    43. Loss due to defective club membership policy – Rs. 72.637 million
    44. Loss due to irrational dual club membership – Rs. 7.310 million
    45. Loss due to the inappropriate procedure adopted in hiring Consultancy Firms – Rs. 13.621 million
    46. Mis-procurement in awarding a contract for the hiring of Head hunters without tendering – Rs. 52.779 million
    47. Wasteful /irrational expenditure on hiring Head hunters – Rs. 103.086 million
    48. Undue favor by acquiring House Building Finance at the appointment – Rs. 287.028 million
    49. Irrational/defective buy-back policy of vehicles – Rs. 83.462 million
    50. Irregular payment to Head hunter/consultant in violation of consultancy agreement – Rs. 2.706 million
    51. Irregular promotion on defective/irrational policy
    52. Irregular promotion of 75 Officers/Executives in violation of Promotion Policy
    53. Non-verification of educational certificates and antecedents through Head hunters/ Consultants
    54. Loss due to delayed verification process initiated against fake degrees/certificates holders
    55. Unlawful retention of convicted officials in harassment case
    56. Overstay allowed to employees at foreign branches
    57. Delay in the verification of degrees and antecedents
    58. Non-production of auditable record
    59. Irregular disbursement of loan in Bangladesh branches – Rs. 25,842.86 million (USD 164.04 million)
    60. Loss on the penalty imposed by SBP/other Regulatory Bodies – Rs. 3,322.304 million
    61. Non-recovery of no-performing loans of NDFC (defunct) – Rs.3,592.901 million
    62. Loss on purchase of shares at higher rates – Rs. 2,331.546 million
    63. Non-transfer of ownership of PSO shares – Rs. 8,193.241 million
    64. Loss on sale of land at lesser rates – Rs.65.500 million
    65. Non-recovery from defaulters – Rs. 18,967.81 million (USD 120.400 million)
    66. Loss due to non-recovery of outstanding principal – Rs. 6,132.678 million
    67. Blockade of funds by investment in unquoted securities –Rs. 437.886 million
    68. Non-utilization/disposal of non-banking assets acquired in satisfaction of claims – Rs. 3,968.329 million
    69. Loss due to excess payment of interest on deposit accounts – Rs. 4.353 million
    70. Unrealized loss on forwarding foreign exchange contracts –Rs. 7,276.90 million
    71. Unrealized loss on put option – Rs. 306.339 million
    72. Loss on purchase of shares at higher rates –Rs. 2.414 million
    73. Loss due to non-recovery of outstanding interest – Rs. 11.973 million
    74. Non-recovery against Nostro Foreign Accounts – Rs. 4.794 million
    75. Loss due to poor performance of Groups/Department – Rs.70,087.67 million
    76. Wasteful expenditure on the investigation of Bangladesh Operations- Rs.10.00 million
    77. Violation of Accounting Standard IAS-8 (Change in Accounting Estimates and Errors) – Rs. 286.00 million
    78. Outstanding entries of Nostro Foreign Accounts – Rs. 8,097.709 million
    79. Non-recovery of outstanding advances -Rs. 52,882 million
    80. Irregular investment in companies by holding shares more than 30%
    81. Non- resolving of suspicious transaction alerts in violation of the Anti-Money Laundering (AML) Act
    82. Violation of SBP Regulations and Anti-Money Laundering (AML) Act
    83 Non-obtaining of audited financial statements/Wealth Statement of borrowers in violations of Prudential Regulations
    84. Weak Internal Control Systems in NBP, Bangladesh branches
    85. Loss due to cash shortage in Vault and ATM at Nowshera Road Branch – Rs. 12.516 million
    86. Embezzlement/misappropriation in  FE-25 loans, FIM, and Bill of Exchange– Rs. 2,787 million
    87. Loss due to non-deposit of the amount into Federal Treasury at KDA Civic Centre Branch, Karachi – Rs. 307.436 million
    88. Fraud/forgery in SSP Officer Account at Kandhkot Branch, Larkana – Rs. 215.705 million
    89. Embezzlement of   Government   funds (DPO Account-Gujrat)– Rs. 630.800 million
    90. Misappropriation/embezzlement in Government pension payment at main branch, Kotri, Hyderabad – Rs. 70.723 million
    91. Loss due to fraudulent activities in Khuzdar Cantt Branch– Rs. 19.219 million
    92. Loss due to fraud/embezzlement in Government Treasury at Pano Akil City Branch – Rs. 309.452 million
    93. Loss due to misappropriation of funds / internal fraud engaging at Khanaspur Ayubia & Khairagali Branches, Abbottabad – Rs. 472.539 million
    94. Loss due to embezzlement of funds at Qamrooti Branch, Mirpur (A.K) – Rs. 44.899 million
    95. Loss due to dacoity during transportation from Taftan to Dalbadin (Chest), Regional Office, Quetta– Rs. 53.00 million
    96. Loss on disbursement of bogus Agriculture Finance – Rs.20.385 million
    97. Misappropriation/embezzlement through accounts of demand finance gold – Rs. 70.723 million
    98. Loss due to fraud at Timber Market Branch, Multan–
    Rs. 31.307 million
    99. Loss due to unauthorized debit to GL Heads ATM Cash at Loralai Branch, Sibi – Rs. 67.240 million
    100. Loss due to fraud by Manager, Serhota Branch District, Kotli Mirpur (AJK)– Rs. 21.018 million
    101. Loss due to fictitious/flying general entries at Jhang branch – Rs. 28.131 million
    102. Misappropriation/shortage in cash at Jutial Cantt Branch, Gilgit– Rs. 17.105 million
    103. Loss due to replacement of original gold ornaments with fake ones– Rs. 13.587 million
    104. Fraudulent withdrawal through IBT from the account at Anarkali Branch, Lahore– Rs. 11.237 million
    105. Misappropriation/shortage in cash vault at Remount Depot Branch, Sargodha – Rs. 13.155 million
    106. Loss due to cash shortage at Main Branch, Multan – Rs. 14.430 million
    107. Loss due to negligence of bank staff at Nazimabad Branch, Karachi – Rs. 32.00 million
    108. Loss due to theft of gold ornaments at Thandkoi Branch, Mardan – Rs. 51.00 million
    109. Loss due to fraudulent pension payment at Dera Allah Yar Branch, Sibi –Rs. 8.201 million
    110. Embezzlement/misappropriation at Model Branch Clifton, Karachi – Rs.5.900 million
    111. Loss due to fraudulent payment from an account at Durand Road Branch, Lahore – Rs. 8.700 million
    112. Embezzlement through payment of tampered/altered payment order –Rs. 7.051 million
    113. Loss due to embezzlement by staff members at AIB Gulistan-e-Johar Branch, Karachi – Rs. 3.378 million
    114. Loss due to fraud through fake property loan against Saibaan Scheme – Rs. 3.458 million
    115. Loss due to misappropriation/embezzlement in NBP Advance Salary Accounts at Abbaspur Branch, Muzaffarabad – Rs 2.487 million
    116. Loss due to penalty imposed by SBP on violation of Foreign Exchange Regulations Act, 1947 – Rs. 1,200.718 million
    117. Irregular disbursement of loan to M/s Hascol Petroleum Limited -Rs. 14,150 million
    Total: Rs. 235,823.9 million