Baaghi TV

Tag: نیٹو

  • ٹرمپ نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

    ٹرمپ نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں-

    مریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے حالانکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے تاہم امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اجلاس سے قبل نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس سے قبل نیٹو کے رکن ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں مناسب تعاون نہیں کر رہے نیٹو کے کئی ارکان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    اُدھر یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بڑی حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کیں انہوں نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ انہیں ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی نیٹو پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں رواں سال اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نیٹو سے نکلنے پر بالکل غور کر رہا ہوں، کیونکہ مجھے اس اتحاد سے شدید ناگواری ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے علیحدگی کی بات کی ہو اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دیگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کرتے تو امریکا اتحاد چھوڑ سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے زیر غور آ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 ممالک کے بڑے رہنما شریک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے ملکوں کے صدر بھی آئے ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں ہیں، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے لی جے میونگ شامل ہیں اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے بھی اپنے وزیرِ دفاع یا وزرائے خارجہ بھیجے ہیں، اور خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے وزیر بھیج رہے ہیں جو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو امریکا کے بغیر بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے اور یورپی ممالک ایک الگ دفاعی اتحاد بھی قائم کر سکتے ہیں، تاہم امریکا کی علیحدگی سے یورپ کو شدید دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ماہرین کے مطابق یورپ کئی اہم دفاعی شعبوں میں امریکا پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے ان میں انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات کا حصول، فوجی رسد کی فراہمی، فضائی اور میزائل دفاعی نظام جیسی اہم صلاحیتیں شامل ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نیٹو سے الگ ہو جاتا ہے تو یورپی ممالک کو ان صلاحیتوں کا متبادل تیار کرنے میں کم از کم ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے تقریباً ایک کھرب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مرضی سے فوری طور پر امریکا کو نیٹو سے نہیں نکال سکتے امریکی قانون کے تحت نیٹو سے باضابطہ علیحدگی کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا پھر کانگریس سے قانون کی منظوری درکار ہوگی فی الحال ایسا ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے متعدد قانون ساز اب بھی نیٹو کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اسی وجہ سے مستقبل قریب میں امریکا کے نیٹو سے باضابطہ انخلا کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

  • صدر ٹرمپ کی  ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں، خصوصاً اٹلی اور اس کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے دہائیوں تک اتحادیوں کا دفاع کیا، لیکن جب وقت آیا تو وہ ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا امریکا نے نیٹو پر ٹریلین ڈالر خرچ کیلئے لیکن ایران کی جانب سے جوہری خطرے کو ختم کرنے میں نیٹو اور اٹلی کی وزیراعظم نے ان کا ساتھ دینے کا سوچا بھی نہیں،دہائیوں سے ہم ان کا دفاع کرتے آئے ہیں لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو وہ ہمارا اور باقی دنیا کا دفاع کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتے، یہ اچھی بات نہیں!‘‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اور میلونی کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، بالخصوص G7 اجلاس کے بعد ذاتی نوعیت کے سخت بیانات کے بعد، ٹرمپ نے میلونی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ بعض معاملات میں امریکا کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہیں، جب کہ میلونی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اپنے قومی مفاد اور خودمختار فیصلوں کے مطابق پالیسی بناتا ہے۔

    گزشتہ ہفتوں میں اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بیانات کو ’’غلط‘‘ اور ’’سیاسی طور پر محرک‘‘ قرار دیا، جس کے بعد اٹلی کی طرف سے امریکا کے ساتھ سفارتی سطح پر سرد مہری بھی دیکھی گئی۔

  • اسرائیلی مسافر بردار طیارے سے رابطہ منقطع ، نیٹو نے جنگی طیارے روانہ کر دیے

    اسرائیلی مسافر بردار طیارے سے رابطہ منقطع ، نیٹو نے جنگی طیارے روانہ کر دیے

    اسرائیلی مسافر بردار طیارے سے رابطہ منقطع ہونے پر نیٹو نے جنگی طیارے فضا میں بھیج دیے۔

    عبرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل سے یورپ جانے والی ایک مسافر پرواز سے فضائی رابطہ منقطع ہونے پر ہنگری کی فضائیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جنگی طیارے روانہ کر دیے جس سے سیکیورٹی اداروں میں ہلچل مچ گئی-

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائی کمپنی آرکیا کی پرواز تل ابیب سے جمہوریہ چیک کے دارالحکو مت پراگ جا رہی تھی کہ ہنگری کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مقامی ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ قائم نہ ہوسکارابطہ نہ ہونے پر نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے اعلیٰ درجے کا الرٹ جاری کیا جس کے بعد ہنگری کی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں کو فوری طور پر فضا میں بھیجا گیا تاکہ مسافر طیارے سے بصری اور ریڈیو رابطہ قائم کیا جا سکے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جنگی طیاروں نے اسرائیلی مسافر طیارے کے قریب پہنچ کر اس سے رابطہ کیا اور ہائی جیک ہونے یا کسی اور مشکوک سرگرمی کے بارے میں تصدیق کی،اسرائیلی پائلٹ کی جانب سے نفی میں جواب ملنے پر صورتحال معمول پر آ گئی اور پرواز نے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے پراگ میں بحفاظت لینڈنگ کی۔

    واقعے کے بعد آرکیا ایئرلائن نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس حساس معاملے کی اندرونی سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں پرواز کا عملہ منظور شدہ فلائٹ پلان اور پہلے سے طے شدہ فضائی راستوں کے مطابق کام کر رہا تھا مذکورہ پرواز کے دوران کسی بھی مرحلے پر نہ طیارے، نہ مسافروں اور نہ ہی عملے کو کوئی خطرہ درپیش ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ یورپ کی فضائی حدود میں کسی بھی مسافر طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونا انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ عالمی سکیورٹی حالات میں ایسے واقعات کو ممکنہ ہائی جیکنگ، تکنیکی خرابی یا سکیورٹی خطرے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

  • امریکی صدر نے نیٹو کو ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا

    امریکی صدر نے نیٹو کو ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران میں موجود تمام اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کو صرف 2 ہفتے درکار ہوں گے۔

    انڈیپنڈنٹ جرنلسٹ شریل اٹکنسن کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران میں اب تک تقریباً 70 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جب کہ مزید اہداف اب بھی موجود ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہےاگر کارروائی جاری رہی تو دو ہفتوں میں تمام اہداف کو مکمل طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہےایران اپنے ذہن میں شاید صورت حال کو مختلف انداز میں دیکھتا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ فوجی لحاظ سے شکست کھا چکا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاملہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، بلکہ یہ صرف آخری مراحل ہوں گے۔

    امریکی صدر نے نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا اور کہا کہ مغربی اتحاد کے اتحادی ایران کے خلاف کارروائی میں امریکا کا ساتھ دینے میں ناکام رہے ہیں، یہ اتحاد توقع کے مطابق کردار ادا نہیں کر سکا۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رواں برس فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا ان حملوں میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ہزاروں افراد شہید ہوئے تھے جن میں خواتین، بچے، فوجی کمانڈر اور حکومتی عہدیدار بھی شامل تھے ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے جنگ کے 40 روز بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی تاہم اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

  • ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور

    ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور کر رہے ہیں۔

    امریکی جریدے کے مطابق ایسےنیٹو ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکالا جائے گا جو ایران جنگ میں غیرمعاون رہے امریکی فوجیوں کو ممالک میں تعینات کیا جائے گا جو اس جنگ میں حمایت کر رہے ہیں،ممکنہ طور پر اسپین یاجرمنی میں امریکی اڈے بند کرنا پلان میں شامل ہوسکتاہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو فوجی سامان فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا،یہ اعلان واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد سامنے آیا۔

    امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جو بھی ملک ایران کو ہتھیار فراہم کرے گا، اس کی امریکا کو برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہوگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی-

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روس اور چین پر ماضی میں ایران کی فوجی صلاحیت بڑھانے میں مدد کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں میزائل، فضائی دفاعی نظام اور دہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کی فراہمی شامل ہے تاہم روس اور چین نے حالیہ عرصے میں کسی بھی قسم کے اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔

  • آبنائے ہرمز  معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    آبنائے ہرمز معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے اتحادی آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد فراہم نہیں کرتے تو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کو مستقبل میں بہت خراب صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تعاون نہیں کرتے تو نیٹو کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، امریکی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی اپنی متوقع ملاقات کو مؤخر بھی کر سکتے ہیں، وہ بیجنگ پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ چین اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوانے میں کردار ادا کرے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ اور چین خلیج فارس سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ امریکا کا انحصار اس خطے کے تیل پر نسبتاً کم ہے جو ممالک اس آبی راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں کہ وہاں کوئی خراب صورتحال پیدا نہ ہو۔

    آبنائے ہرمز معاملہ: ٹرمپ کی اتحادیوں کو دھمکی

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بالکل مناسب ہے کہ وہ لوگ جو اس آبنائے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ بھی برا نہ ہو اگر اس معاملے پر مثبت ردعمل سامنے نہیں آتا یا منفی جواب دیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نیٹو کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے تاہم ایران کی جانب سے اس آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد یہ گزرگاہ عملاً بند ہو گئی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہےتیل کی قیمت جو پہلے تقریباً 65 ڈالر فی بیرل تھی، وہ بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

    یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کےپاس 40 لاکھ کہاں سے آئے؟دفترِ خارجہ نے تحقیقات شروع کر دیں

    آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہونے کا امکان ہے امریکی اخبار کے مطابق آئل انڈسٹری نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏توانائی کا بحران مزید بگڑنے کا امکان ہے تیل کمپنیوں کے مطابق آبنائے ہرمزکی بندش کے سبب توانائی بحران مزید شدید ہوسکتا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے۔

  • گرین لینڈ پر ممکنہ معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا، صدر ٹرمپ

    گرین لینڈ پر ممکنہ معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ایک ممکنہ معاہدے کا ابتدائی فریم ورک نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے بعد طے پا گیا ہے۔

    یہ اعلان انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم، ڈیووس میں خطاب اور بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیاکہا کہ اس سمجھوتے کے بعد وہ یورپی اتحادی ممالک پر وہ ٹیرف نافذ نہیں کریں گے جو یکم فروری سے عائد کیے جانے تھے یہ ٹیرف گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی مزاحمت کے جواب میں تجویز کیے گئے تھے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے گرین لینڈ اور درحقیقت پورے آرکٹک خطے کے حوالے سے مستقبل کے معاہدے کا ایک فریم ورک تشکیل دے دیا ہے۔‘ تاہم انہوں نے اس فریم ورک کی تفصیلات فراہم نہیں کیں،صدر ٹرمپ نے پہلی بار واضح طور پر کہا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوجی طاقت استعمال نہیں کریں گے۔

    انہوں نے کہا میں طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا، نہ ہی کروں گا، امریکہ صرف گرین لینڈ نامی ایک جگہ مانگ رہا ہے۔

    ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ٹرمپ کے فوجی طاقت نہ استعمال کرنے کے بیان کو مثبت اشارہ قرار دیا، تاہم کہا کہ امریکی صدر اب بھی گرین لینڈ کے حصول کے اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

    گرین لینڈ کی حکومت نے بھی بدھ کے روز ایک نئی بروشر جاری کی، جس میں کسی ممکنہ بحران کی صورت میں عوام کو ہدایات دی گئی ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ ایک انشورنس پالیسی ہے-

    ٹرمپ کے بیانات کے بعد یورپی پارلیمنٹ نے امریکا کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر کام عارضی طور پر معطل کر دیا ہےٹرمپ کے خطاب اور بیانات کے بعد وال اسٹریٹ میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جسے سرمایہ کاروں نے مثبت پیش رفت قرار دیا۔

  • ہم روس کا اگلا ہدف ہو سکتے ہیں،نیٹو سربراہ کا اتحادیوں کو انتباہ

    ہم روس کا اگلا ہدف ہو سکتے ہیں،نیٹو سربراہ کا اتحادیوں کو انتباہ

    نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے جمعرات کو اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ روس کی طرف سے چھیڑی جانے والی جنگ کو روکنے کے لیے دفاعی کوششیں تیز کریں جو "جنگ کے پیمانے پر ہمارے بڑوں نے برداشت کی”۔

    برلن میں ایک تقریر میں روٹے نے کہا کہ فوجی اتحاد کے بہت سے ارکان نے یورپ میں روس کے خطرے کی فوری ضرورت کو محسوس نہیں کیا اور یہ کہ انہیں دفاعی اخراجات اور پیداوار میں تیزی سے اضافہ کرنا ہوگا تاکہ جنگ کو اس پیمانے پر روکا جا سکے جو پچھلی نسلوں نے دیکھا ہے۔

    روٹے نے کہا کہ ہم روس کا اگلا ہدف ہیں مجھے ڈر ہے کہ بہت سے لوگ خاموشی سے مطمئن ہیں۔ بہت سے لوگ اس کی فوری ضرورت محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وقت ہمارے ساتھ ہے ایسا نہیں ہے اب کارروائی کا وقت ہے،”تصادم ہمارے دروازے پر ہے روس جنگ کو یورپ میں واپس لایا ہے اور ہمیں تیار رہنا چاہیے۔”

    پاکستانی فلم ویلکم ٹو پنجاب نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

    روٹے نے کہا کہ روس پانچ سال کے اندر نیٹو کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے اگر امریکہ اور یورپی یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر متفق ہو سکتے ہیں تو یہ اس بات کا "امتحان” ہو گا کہ آیا روس "واقعی امن چاہتا ہےاب تک، (روسی صدر ولادیمیر) پیوٹن نے صرف امن ساز کا کردار ادا کیا ہے جب وہ ان کے لیے مناسب ہو، اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے وقت نکالنے کے لیے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ "اب خون خرابہ ختم کرنا چاہتے ہیں” اور "واحد وہی ہے جو پیوٹن کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے، پیوٹن کو امتحان میں ڈالتے ہیں دیکھتے ہیں کہ کیا وہ واقعی امن چاہتے ہیں، یا وہ قتل عام کو جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    پاکستان کی حکومت پر تنقید،جمائما کے ایکس اکاؤنٹ فالوورز میں کمی

  • نیٹوممالک روس سے تیل خریدنا بند کر دیں، امریکی صدر

    نیٹوممالک روس سے تیل خریدنا بند کر دیں، امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے ممبر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ روسی تیل خریدنا بند کریں اور یوکرین میں جنگ بندی کے لیے ماسکو پر بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کریں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس پر مزید پابندیاں لگانے کا انحصار نیٹو ممالک کے فیصلوں پر ہے،انہوں نے ایک خط میں نیٹو اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ روس سے تیل خریدنا نہایت افسوسناک اور حیران کن ہے کیونکہ اس سے مغربی ممالک کی مذاکراتی پوزیشن کمزور ہوتی ہے۔

    ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ تمام نیٹو ممالک روسی تیل کی خریداری فوری طور پر بند کریں تاکہ ماسکو پر حقیقی دباؤ ڈالا جا سکے،اس کے ساتھ چین پر 50 سے 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز بھی دی،یہ اقدام روس اور چین کے درمیان تعلقات کو کمزورکرے گا اورماسکو کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت سے محروم کرے گا۔

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

    انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر نیٹوممالک ان فیصلوں پرعمل کریں تو یوکرین جنگ جلد ختم ہو جائے گی، اگر آپ وہی کریں جو میں کہتا ہوں تو امن قریب ہے، بصورت دیگرآپ میرا اورامریکا کا وقت ضائع کر رہے ہیں، ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں، اب فیصلہ نیٹو ممالک کو کرنا ہے کہ کیا وہ اس چیلنج کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

    سامعہ حجاب اور حسن زاہد میں صلح، عدالت کے فریقین کونوٹس

    واضح رہے کہ یہ پیش رفت حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے ماسکو پر پابندیوں کی دھمکیوں اور ان ممالک پر پابندیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جو روسی تیل خرید رہے ہیں، جن میں بڑے خریدار چین اور بھارت شامل ہیں،امریکی صدر روسی تیل کی خریداری پر بھارتی مصنوعات کی درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر رکھا ہے، لیکن چین کے خلاف ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

  • بھارت سمیت کسی بھی ملک نے روس سے تیل خریدا تو پابندیاں لگیں گی، نیٹو چیف

    بھارت سمیت کسی بھی ملک نے روس سے تیل خریدا تو پابندیاں لگیں گی، نیٹو چیف

    نیٹو کے نئے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ اگر بھارت سمیت کسی بھی ملک نے روس کے ساتھ تیل و گیس کی تجارت جاری رکھی تو ان پر ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی، امریکی کانگریس میں ارکان سے ملاقات کے دوران مارک روٹے نے ان ممالک کو سخت لہجے میں متنبہ کیا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو امن معاہدے کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ کریں۔

    مارک روٹے نے امریکی سینیٹرز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ چین کے صدر، بھارت کے وزیر اعظم یا برازیل کے صدر ہیں، اور آپ روس کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں، تو آپ جان لیں اگر پیوٹن امن مذاکرات کو سنجیدگی سے نہ لے، تو ہم مکمل معاشی پابندیاں لگائیں گے،پوتن کو فون کریں اور کہیں کہ وہ امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے سنگین اثرات برازیل، بھارت اور چین پر پڑیں گے۔

    کرکٹ اور فٹبال کے میدانوں کی نیلامی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم آ گیا

    نیٹو چیف نے یہ بھی کہا کہ یورپ، امن مذاکرات سے پہلے یوکرین کو سب سے مضبوط پوزیشن میں لانے کے لیے ہر ممکن معاشی مدد دے گا انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت اب امریکہ یوکرین کو بڑی تعدادمیں ہتھیار فراہم کرے گا، اور ان ہتھیاروں کی فراہمی کے اخراجات یورپی ممالک برداشت کریں گے۔

    جب ان سے (مارک روٹے) پوچھا گیا کہ کیا یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی دیے جائیں گے، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ بھی ہے اس میں ہر طرح کے ہتھیار شامل ہیں، لیکن اس پر ابھی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی اس پر اب پینٹاگون، یورپ میں سپریم الائیڈ کمانڈر، اور یوکرینی قیادت مل کر کام کر رہے ہیں۔

    پُل گرنے کے واقعات میں اضافہ،مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ کی مود ی سرکار پر تنقید

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو ہتھیاروں کی ایک نئی کھیپ دینے کا اعلان کیا ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر 50 دنوں کے اندر امن معاہدہ نہیں ہوا تو روس سے سامان خریدنے والوں پر 100 فیصد تک سیکنڈری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔