Baaghi TV

Tag: نیٹو

  • روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    ماسکو: روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان،اطلاعات کے مطابق روس نے جنوبی کریمیا میں نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق روسی فوج کے ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ تقریباً 6000 فوجیوں اور کم از کم 60 لڑاکا طیاروں پر مشتمل لائیو فائر ڈرلز کے عنوان کے تحت فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا، یونٹ وسیع پیمانے پر کاموں کو سرانجام دینے کی مشق کریں گے۔

    مشقیں ہر قسم کی ہوا بازی، میزائل ڈویژن، بحری بیڑے اور کیسپین فلوٹیلا کے جہاز گروپوں پر مشتمل ہوں گی۔ مشقوں کو جنگی تیاریوں کو جانچنے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ جس کی وجہ کریمیا پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔

    روسی خبر رساں ایجنسیوں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    واضح رہے یہ مشقیں روس سے الحاق شدہ کریمیا اور جنوبی روستوف اور کراسنودار کے علاقوں میں ہوں گی۔ اس بابت بھی آگاہ نہیں کیا گیا ہے کہ اوپر بیان کی گئی مشقیں کب تک جاری رہیں گی۔

    یاد رہے مغرب روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے یوکرائن کی سرحد پر لگ بھگ100,000 فوجیوں کو جمع کر رکھا ہے۔ فوجیوں کی تشکیل نے سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔

  • امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    ماسکو:امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ ،اطلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادیوں نے روس کو سخت سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے ،

    ادھر روس نے امریکہ کی اس دھمکی جا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں

    دوسری طرف روس نے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی دھمکیوں‌ کو بھی مسترد کردیا ہے ،امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں،

    روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی۔

    روسی سفارت خانے کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کیپیٹل ہل پر روس مخالف پابندیوں کے ساتھ ساتھ روسی فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ذاتی پابندیاں متعارف کروانے کے مطالبات اشتعال انگیز اور ناامید ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلیٰ سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔

    مزید پڑھیں : روس امریکا مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم
    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    نیویارک:روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق نیٹو ممالک (مغربی عسکری اتحاد) نے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا ہے۔

    نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یوکرائن کی سرحد پر روس کی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    نیٹو کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق وزرائے خارجہ وڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات کریں گے۔

    وزرائے خارجہ یورپ کی سلامتی کے ساتھ ساتھ یوکرائن کی سرحد پر روس کی جانب سے فوجی اور ہتھیار جمع کرنے کے بعد پیدا ہونے والی بین الاقوامی کشیدگی پر بھی وسیع تناظر میں بات کریں گے۔

    اجلاس کے اختتام پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی صحافیوں کو بریفنگ بھی متوقع ہے۔

    نیٹو وزرائے خارجہ کا اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ 10 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے اجلاس سے قبل منعقد ہوگا۔

    اس کے علاوہ نیٹو روس کونسل کا اجلاس 12 جنوری کو متوقع ہے جس سے نیٹو اور روس کے درمیان طویل عرصے کے بعد رابطہ قائم ہوگا۔

    ان دو اجلاسوں کے علاوہ آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (OSCE) کا اجلاس 13 جنوری کو ہوگا۔ اِس تنظیم میں روس، یوکرائن، امریکا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

     

    نیٹو کے وزرائے خارجہ کی آخری ملاقات 30 نومبر کو لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ہوئی تھی اور نومبر سے روس کو دی جانے والی وارننگ دہرائی گئی تھی۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرائن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی، جارحیت کے نتائج سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کی شکل میں سامنے آئیں گے۔

  • نیٹو کا جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی مسافر بردارہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے

    نیٹو کا جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی مسافر بردارہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے

    ماسکو:امریکی جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی ہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق کہ اسرائیل سے اڑان بھرنے والا مسافر بردار طیارہ اور ایک امریکی نیٹو جاسوسی طیارہ بحیرہ اسود کے اوپر اچانک آمنے سامنے آگئے جس پر اسرائیلی ہوائی جہاز نے فضائی تصادم سے بچنے کیلئے فوراً طیارے کو زمین کی طرف غوطہ دیا۔

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    روس کی فیڈرل ایئر ٹرانسپورٹ ایجنسی نے بیان میں کہا کہ نیٹو کا CL600 جاسوسی طیارہ تیل ابیب سے 142 مسافرں کو ماسکو جانے والے اسرائیلی طیارے کےراستے میں اچانک آگیا تھا۔

    ایروفلوٹ نامی اسرائیلی پرواز کو مبینہ طور پر جاسوس طیارے سے اپنا فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے 500 میٹر (1,600 فٹ) زمین کی طرف تیزی سے آنا پڑا۔

    ایوی ایشن اتھارٹی، Rosaviatsia نے کہا کہ سوچی کے بحیرہ اسود کے ریزورٹ سے Skopje جانے والے ایک چھوٹے CL-650 طیارے کو بھی اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔

    انڈونیشیا: آتش فشاں پہاڑ پھٹنے سے ہزاروں افراد کی نقل مکانی،ہرطرف خوف وہراس

    ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ جاسوس طیارہ نیٹو کے کس رکن کا تھا۔ روس کی وزارت دفاع نے جمعہ کو کہا کہ اس نے بحیرہ اسود کے اوپر دو امریکی فوجی جاسوس طیاروں کی حفاظت کے لیے لڑاکا طیاروں کو گھیر لیا ہے۔

    ماسکو میں امریکی سفارت خانے نے اس واقعے کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جب اسے پہلی بار انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
    Rosaviatsia نے کہا کہ خطے میں نیٹو طیاروں کی پروازوں میں اضافہ سویلین طیاروں کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے اور ماسکو نے ان پر سفارتی شکایت درج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے یوکرین اور بحیرہ اسود کے علاقے پر بین الاقوامی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

    مودی ایک ظالم شخص ہے جس سے انصاف ،خیر اور اچھائی کی توقع نہیں کی جاسکتی: راہل…

  • ٹھوس ثبوت ہیں  کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    واشنگٹن :ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، امریکی انٹیلیجنس کا دعوی ،اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس یوکرائن پر ممکنہ روسی حملے کے شواہد موجود ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں نے گزشتہ روز روس کی جانب سے یوکرائن کے خلاف فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا تھا جو آئندہ برس کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔

    اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ اس آپریشن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ 75 ہزار روسی فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس حکام سے جو دستاویزات حاصل کی ہیں اس میں روسی افواج کو چار مقامات پر جمع ہونے اور ٹینکوں کی آمد کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرائن کی سرحد کے قریب فی الوقت روسی فوجیوں کی تعداد 94 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے پر بات کرنے کیلیے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات کی کوشش کی جارہی ہے۔

    خارجہ امور کے روسی مشیر یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن مذاکرات کے دوران روس کی ان “سرخ لکیروں” کا اعادہ کریں گے جس میں بطور ضمانت وہ مطالبات شامل ہیں کہ نیٹو اپنی توسیع میں یوکرائن کو شامل نہیں کرے گا۔

    2014 میں کرائمیا کے الحاق اور یوکرائن کے مشرقی صنعتی علاقے ڈونباس میں علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی حمایت کے بعد سے ہی روس اور یوکرائن کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس تنازعے میں اب تک 14 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔