Baaghi TV

Tag: نیٹو

  • روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    نیویارک:روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق نیٹو ممالک (مغربی عسکری اتحاد) نے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا ہے۔

    نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یوکرائن کی سرحد پر روس کی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    نیٹو کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق وزرائے خارجہ وڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات کریں گے۔

    وزرائے خارجہ یورپ کی سلامتی کے ساتھ ساتھ یوکرائن کی سرحد پر روس کی جانب سے فوجی اور ہتھیار جمع کرنے کے بعد پیدا ہونے والی بین الاقوامی کشیدگی پر بھی وسیع تناظر میں بات کریں گے۔

    اجلاس کے اختتام پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی صحافیوں کو بریفنگ بھی متوقع ہے۔

    نیٹو وزرائے خارجہ کا اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ 10 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے اجلاس سے قبل منعقد ہوگا۔

    اس کے علاوہ نیٹو روس کونسل کا اجلاس 12 جنوری کو متوقع ہے جس سے نیٹو اور روس کے درمیان طویل عرصے کے بعد رابطہ قائم ہوگا۔

    ان دو اجلاسوں کے علاوہ آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (OSCE) کا اجلاس 13 جنوری کو ہوگا۔ اِس تنظیم میں روس، یوکرائن، امریکا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

     

    نیٹو کے وزرائے خارجہ کی آخری ملاقات 30 نومبر کو لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ہوئی تھی اور نومبر سے روس کو دی جانے والی وارننگ دہرائی گئی تھی۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرائن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی، جارحیت کے نتائج سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کی شکل میں سامنے آئیں گے۔

  • نیٹو کا جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی مسافر بردارہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے

    نیٹو کا جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی مسافر بردارہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے

    ماسکو:امریکی جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی ہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق کہ اسرائیل سے اڑان بھرنے والا مسافر بردار طیارہ اور ایک امریکی نیٹو جاسوسی طیارہ بحیرہ اسود کے اوپر اچانک آمنے سامنے آگئے جس پر اسرائیلی ہوائی جہاز نے فضائی تصادم سے بچنے کیلئے فوراً طیارے کو زمین کی طرف غوطہ دیا۔

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    روس کی فیڈرل ایئر ٹرانسپورٹ ایجنسی نے بیان میں کہا کہ نیٹو کا CL600 جاسوسی طیارہ تیل ابیب سے 142 مسافرں کو ماسکو جانے والے اسرائیلی طیارے کےراستے میں اچانک آگیا تھا۔

    ایروفلوٹ نامی اسرائیلی پرواز کو مبینہ طور پر جاسوس طیارے سے اپنا فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے 500 میٹر (1,600 فٹ) زمین کی طرف تیزی سے آنا پڑا۔

    ایوی ایشن اتھارٹی، Rosaviatsia نے کہا کہ سوچی کے بحیرہ اسود کے ریزورٹ سے Skopje جانے والے ایک چھوٹے CL-650 طیارے کو بھی اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔

    انڈونیشیا: آتش فشاں پہاڑ پھٹنے سے ہزاروں افراد کی نقل مکانی،ہرطرف خوف وہراس

    ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ جاسوس طیارہ نیٹو کے کس رکن کا تھا۔ روس کی وزارت دفاع نے جمعہ کو کہا کہ اس نے بحیرہ اسود کے اوپر دو امریکی فوجی جاسوس طیاروں کی حفاظت کے لیے لڑاکا طیاروں کو گھیر لیا ہے۔

    ماسکو میں امریکی سفارت خانے نے اس واقعے کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جب اسے پہلی بار انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
    Rosaviatsia نے کہا کہ خطے میں نیٹو طیاروں کی پروازوں میں اضافہ سویلین طیاروں کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے اور ماسکو نے ان پر سفارتی شکایت درج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے یوکرین اور بحیرہ اسود کے علاقے پر بین الاقوامی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

    مودی ایک ظالم شخص ہے جس سے انصاف ،خیر اور اچھائی کی توقع نہیں کی جاسکتی: راہل…

  • ٹھوس ثبوت ہیں  کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    واشنگٹن :ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، امریکی انٹیلیجنس کا دعوی ،اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس یوکرائن پر ممکنہ روسی حملے کے شواہد موجود ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں نے گزشتہ روز روس کی جانب سے یوکرائن کے خلاف فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا تھا جو آئندہ برس کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔

    اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ اس آپریشن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ 75 ہزار روسی فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس حکام سے جو دستاویزات حاصل کی ہیں اس میں روسی افواج کو چار مقامات پر جمع ہونے اور ٹینکوں کی آمد کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرائن کی سرحد کے قریب فی الوقت روسی فوجیوں کی تعداد 94 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے پر بات کرنے کیلیے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات کی کوشش کی جارہی ہے۔

    خارجہ امور کے روسی مشیر یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن مذاکرات کے دوران روس کی ان “سرخ لکیروں” کا اعادہ کریں گے جس میں بطور ضمانت وہ مطالبات شامل ہیں کہ نیٹو اپنی توسیع میں یوکرائن کو شامل نہیں کرے گا۔

    2014 میں کرائمیا کے الحاق اور یوکرائن کے مشرقی صنعتی علاقے ڈونباس میں علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی حمایت کے بعد سے ہی روس اور یوکرائن کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس تنازعے میں اب تک 14 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔