وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں 2026 کے موقع پر امریکہ کے وزیر تجارت اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ملاقات ہوئی،اس ملاقات میں تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ اور نجی شعبے کی شمولیت کو آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
گفتگو میں کان کنی، توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو بھی زیرِ بحث لایا گیا جبکہ باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعاون کے لیے نئے مواقع بروئے کار لانے پر بھی زور دیا گیا۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیافریقین نے ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی روانگی سے قبل سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ ملاقات نہایت مفید رہی، جو دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
ملاقات کے دوران فریقین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے عالمی توانائی کے تحفظ پر اثرات اور ممکنہ معاشی مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیرِ خزانہ نے تنازع کے جلد حل کے لیے امید کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے موسم بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو گئے تھے، وہ 13 سے 18 اپریل تک واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے ان اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پرسوں رات کو ایک بڑا خوفناک حادثہ ہوا واشنگٹن ڈی سی میں جس میں آرمی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارہ آپس میں ٹکرا گئے اور دریا میں گر گئے، 67 افراد دونوں پر سوار تھے اور کوئی بھی زندہ نہیں بچا
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل میں بیٹھا تھا تو لوگ کہہ رہے تھے ایکٹ آف ٹیرارزم تھا، یہ پتہ کریں کہ ائر ٹریفک کنٹرولر کون تھا مسلمان تھا کالا تھا گورا، یا ایل جی بی ٹی کیو کا ممبر، یہ سب بیکار کی باتیں، واشنگٹن ڈی سی ہے، پوری دنیا کا یہ پاور ہاؤس ہے، پوری دنیا یہ جگہ کنٹرول کرتی ہے،ہوا کیا ، ایک پرواز جو ٹیک آف ہوئی اس نے واشنگٹن ڈی سی میں آنا تھا، کبھی آپ واشنگٹن ڈی سی گئے ہیں دیکھا ہو تو…میں جب پہلی بار گیا تھا تو 23 برس کا تھا، مجھے دوست نے دکھایا اور کہا کہ دیکھیں دریا کے پاس رن وے ہے، ایئر پورٹ ہے، پل کے اوپر جہاز جاتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں، واشنگٹن ڈی سی کا ایئر پورٹ رات دس یا گیارہ بجے نو فلائی زون بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہاں وائیٹ ہاؤس بھی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جو ہوا وہ تو بڑی انہونی بات ہے، بہت بڑا حادثہ ہے، جب یہ جہاز آ رہا تھا تو ایئر ٹریفک کنٹرولر کی آڈیو جو جہاز اور ہیلی کاپٹر والے سے ہوئی، اسکو پہلے دن ہی ریلیز کر دیا گیا تھا، وہ ہمارے سول ایوی ایشن والوں کی طرح نہیں کہ ہم صرف قیاس آرائیاں کرتے رہیں،بلیک ہاک یہ ایک کوریڈور راؤڈ فور کہتے ہیں وہ ایئر پورٹ کے ساتھ ہے وہاں درجنوں ہیلی کاپٹر اڑ رہے ہوتے ہیں، پولیس کے ہیلی کاپٹر، ایمبولنسز وہ وہاں سے اڑ رہے ہوتے ہیں، ایئر کرافٹ میں ایسا سسٹم ہوتا ہے جو کسی جہاز کے قریب آنے پر وارننگ دیتا ہے اور گائیڈ بھی کرتا ہے دائیں بائیں یا اوپرنیچے مڑیں، چند سیکنڈ میں حادثہ ہوناہوتا ہے، ہزار فٹ تک ،15 سو پر بھی گائیڈ کیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد 1000 فٹ سے نیچے سسٹم گائیڈ نہیں کرتا،کیونکہ جہاز فائنل پر ہوتا ہے، لینڈنگ گیئر کھلا ہوتا ہے، فیلڈ ان سائٹ ہے، اس وقت سسٹم جو نیچے لگا ہے وہ ممکنہ طور پر بتائے کہ نیچے کوئی ہے، لیکن پائلٹ کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اس کا فوکس رن وے پر ہوتا ہے جہاں لینڈ کر رہا ہوتا ہے.جہاز جب ایئر پورٹ کی حدود میں آ جاتا ہے اور ایئر پورٹ کا ٹاور کنٹرول کرتا ہے تو نیچے جہاز بہت ہوتے ہیں، ٹی کیٹ سسٹم الرٹ کر رہا ہو تو دس جہاز بھی ہوں تو وہ وارننگ دے رہا ہو گا،لیکن پھر قریب لینڈنگ کے وہ کام نہیں کرتا، لیکن فوجی ہیلی کاپٹر کے اندر ایک سسٹم ہوتا ہے اے ڈی ایس بی جس کے اندر جی پی ایس بھی ہوتا ہے ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کا ٹرانسپانڈر بند تھا جو سگنل دے رہا تھا،ٹرانسپانڈر کیوں بند تھا ،وہ اس وقت بند ہوتا ہے جب لا انفورسمنٹ والے فلائی کر رہے ہوتے ہیں ،کوئی ایکٹوٹی ہو تو بند کر دیتے تا کہ ٹریک نہ ہو، کسی کو پتہ نہ چلے کہ اس ڈائریکشن پر ہیلی آ رہا، اس کی سیلنگ ہے، اس کو 300 فٹ سے اوپر نہیں ہونا چاہئے تھا، اس نے چھ بار کورس بدلا،مجھے لگ رہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ ٹرینی تھا،یہ ٹریننگ کر رہا تھا اور ٹرانسپانڈر آف کرنا ، اس کا روٹین ٹریننگ کا حصہ تھا، اتنے مصروف ایئر پورٹ پروہ کیوں ٹریننگ کر رہے ہیں یہ میری عقل سے باہر ہے، میرا خیال ہے اور کوئی بات بنتی نہیں ہے،ایئر ٹریفک نے کہا کہ ایئرکرافٹ دیکھ رہے ہو تو اس نے کہا کہ ہاں مجھے نظر آ رہا یہاں پر ایک ہیومن ایرر ہے، اس لئے کہ واشنگٹن ڈی سی رات کے وقت جگمگا رہا ہوتا ہے، اس علاقے میں ہر طرح کی لائٹ ہوتی ہے،سب کچھ جل رہا ہے، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے شاید دوسرے جہاز کو دیکھا اور سمجھا کہ مجھے اس بارے الرٹ کیا گیا، اسکے دس سیکنڈ بعد دونوں آپس میں ٹکرا گئے،جہاز کے تو تین حصے ہو گئے، ہیلی کاپٹر الٹا ہو کر نیچے گرا، وہاں ٹھنڈ ہے،پانی میں برف جمی ہوئی، مائنس ون ڈگری درجہ حرارت، اگر کوئی بچا بھی ہوتو اس ٹھنڈے پانی میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا، اتنی ٹھنڈ ہے کہ دس دن قبل ٹرمپ کی حلف برداری اسی علاقے میں اوپن ہونی تھی لیکن پھر ٹھنڈ کی وجہ سے ان ڈور کر دی گئی،
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں 80 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طوفانی ہوائیں چلیں اور تیز بارش ہوئی۔
باغی ٹی وی:واشنگٹن میں طوفانی ہواؤں اور بارش سے کئی درخت جڑوں سے اُکھڑ گئے، بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں جس سے ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہوگئے جب کہ شہر میں ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ادھر میکسیکو میں بھی طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش اور ژالہ باری ہوئی جب کہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں ٹینس بال کے برابر اولے پڑے، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور سائن بورڈ گرگئے-
دوسری جانب روس کے وسطی علاقوں میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ تیز بارش ہوئی اور مختلف حادثات میں 10 افراد ہلاک ہوگئے، ماسکو سے 600 کلو میٹر دور وسطی علاقوں میں طوفانی ہوائیں اور موسلادھار بارش سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا مختلف حادثات میں تین بچوں سمیت دس افراد ہلاک اور 76 زخمی ہوگئے، طوفانی ہواؤں کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، کئی گاڑیاں دب گئیں۔
بجلی کے تار گرنے سے ایک لاکھ افراد بجلی سے محروم ہوئے، پچاس سے زائد عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا یوشکر اولا شہر کے میئر ییوگینی مسلوف نے کہا کہ طوفان کی وجہ سے ماری ایل میں ہلاکتیں ہوئیں اور شہری زخمی ہوئے ماری ایل دریائے وولگا کے شمالی کنارے کے ساتھ ایک علاقہ ہے ، اور یوشکر اولا اس کا سب سے بڑا شہر ہے۔
علاوہ ازیں چین کے صوبے فوجیان میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں جب کہ کھیلوں کے مقابلے منسوخ کردیے گئے ہیں۔