وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر طارق میمن کے واپڈا میں تبادلے کے کیس میں واپڈا کو نوٹس جاری کر دیا۔
وفاقی آئینی عدالت میں ڈاکٹر طارق میمن کے واپڈا میں تبادلے کے کیس پر سماعت ہوئی،سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے کی،دوران سماعت حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر طارق ہائی کوالیفائیڈ ہیں اور ان کے خلاف کوئی کرپشن یا لاپروائی کی شکایت موجود نہیں، کیا سزا دینے کے لیے ڈاکٹر کو حیدرآباد (80 بیڈ اسپتال) سے چترال (18 بیڈ اسپتال) منتقل کیا گیا، یا محکمہ کو ڈاکٹر کی خدمات سے مسئلہ تھا؟-
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ڈاکٹر براہ راست ہائیکورٹ رجوع کر سکتے تھے، اور سروس ٹریبونل سے رجوع کرنا چاہیے تھا،عدالت نے واپڈا کو آئندہ سماعت پر قانونی سوالات کے جوابات دینے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت مقرر کر دی۔
اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ
دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت نے مقتولہ مسرت بی بی کی قبر کشائی کے خلاف شوہر محمد علی کی درخواست مسترد کر دی اور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا،اس کیس کی جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شوہر میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ تدفین کی اطلاع مقتولہ کی والدہ کو دی جاتی، اور والدہ زبیدہ بی بی کو خدشہ ہے کہ شوہر نے بیٹی کا قتل کیا۔
سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں، پاکستان گورننس فورم
وکیل شوہر نے کہا کہ مؤکل کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آیا ایف آئی آر کٹنے نہیں دی گئی؟ تاہم عدالت نے کہا کہ والدہ کی خواہش، قانونی تقاضوں اور شفاف تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے قبر کشائی کے ہائیکورٹ کے حکم کو برقرار رکھا جائے گا۔







