Baaghi TV

Tag: واپڈا

  • ہائی و لو وولٹیج،لوگوں کی اشیاء خراب،واپڈا بے خبر

    ہائی و لو وولٹیج،لوگوں کی اشیاء خراب،واپڈا بے خبر

    قصور
    سب ڈویژن لیسکو راجہ جنگ میں عرصہ دراز سے ہائی و لو وولٹیج کا مسئلہ،لوگوں کی الیکٹرانکس و الیکٹرک اشیاء خراب،محکمہ واپڈا کے لوگ خواب خرگوش میں

    تفصیلات کے مطابق لیسکو قصور کی سب ڈویژن راجہ جنگ کے گاؤں اوراڑہ نو،اوراڑہ کلاں،میر محمد ،ستوکی و دیگر دیہات میں عرصہ دراز سے بجلی وولٹیج ہائی و لو رہتے ہیں
    اچانک وولٹیج بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو کبھی بہت زیادہ لو ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی الیکٹرانکس و الیکٹرک اشیاء خراب ہوتی ہیں
    اس بابت سب ڈویژن راجہ جنگ کے ذمہ داران کو مطلع بھی کیا گیا ہے تاہم کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے صارفین سخت پریشان ہیں اور حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وولٹیج پرابلم جلد ٹھیک کی جائے اور غفلت کے ذمہ دار ملازمین و افسران کے خلاف کاروائی کی جائے

  • مسلسل برسات میں بجلی غائب رہنا معمول بن گیا

    مسلسل برسات میں بجلی غائب رہنا معمول بن گیا

    قصور
    کئی دنوں سے برسات کا سلسلہ جاری،برسات آتے ہی واپڈا کی نااہلی سے بجلی غائب رہنا معمول بن گیا،شہری سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے قصور میں وقفے وقفے سے برسات اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے اور زیادہ تر برسات اور تیز ہواؤں کا یہ سلسلہ رات کے وقت شروع ہوتا ہے
    بارش آتے ہی اور تیز ہوا چلتے ہی بجلی غائب ہو جاتی ہے اور مسلسل کئی گھنٹے بجلی غائب ہی رہتی ہے جس کے باعث شہریوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں اور لوگوں کے معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں
    خاص طور پہ بجلی غائب رہنے کا یہ سلسلہ دیہاتی علاقوں میں یہ مسلسل جاری ہے
    کل رات بھی ہلکی بارش آنے سے بجلی غائب ہو گئی اور تاحال بجلی غائب ہی ہے
    بجلی کی آئے روز خرابی واپڈا کی نااہلی کو ثابت کرتی ہے دوسری طرف عرصہ دراز سے ہائی ٹرانسمیش تاریں بدلی نہیں کی گئیں جس کے باعث ٹرانسمیشن لائنز میں خرابی پڑتی ہے اور بجلی بند ہو جاتی یے
    شہریوں نے ڈی سی قصور و ایس ای لیسکو واپڈا قصور سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    اسلام آباد: پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہا ؤکی صورتحال حسب ذیل رہی۔

    باغی ٹی وی: واٹر اور پاور ڈویلپنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے ترجمان کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 17 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 45 ہزارکیوسک ،منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 15 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 25 ہزار کیوسک ہے-

    ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی آمد 11 ہزار 200 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ہے، دریائے کابل میں پانی کی آمد 14 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 300 کیوسک ،خیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد 14 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 300 کیوسک ہے-

    ترجمان کے مطابق جناح بیراج میں پانی کی آمد 57 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 52 ہزار 700 کیوسک،چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 51 ہزار کیوسک اور اخراج 48 ہزارکیوسک ہے،تونسہ بیراج میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق سکھر بیراج میں پانی کی آمد 30 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 6 ہزار 500 کیوسک ہے،کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 7 ہزار 900 کیوسک اور اخراج صفرکیوسک ،گدو بیراج میں پانی کی آمد 36 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 32 ہزار 100 کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق تریموں میں پانی کی آمد 3 ہزار 500 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ہے،پنجند میں پانی کی آمد 4 ہزار کیوسک اور اخراج صفر کیوسک،تربیلا ڈیم میں آج پانی کا ذخیرہ 24 لاکھ 53 ہزار ایکٹرفٹ ہے،منگلا میں آج پانی کا ذخیرہ 9 لاکھ 84 ہزارایکڑ فٹ ہے،چشمہ میں آج پانی کا ذخیرہ 72 ہزار ایکٹرفٹ ہے،تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 35 لاکھ 9 ہزارایکڑ فٹ ہے-

  • کیا واپڈا صارفین کو بجلی چوری کرنے پر خود مجبور کرتا ہے؟

    کیا واپڈا صارفین کو بجلی چوری کرنے پر خود مجبور کرتا ہے؟

    گزشتہ دنوں کچھ گھنٹوں کیلئے بڑے شہروں میں بجلی کیا گئی تھی پورے ملک کا میڈیا اور سوشل میڈیا چیخ اٹھا لیکن کیا ان بڑے شہروں میں بسنے والوں نے ان علاقوں کے بارے میں بھی کبھی سوچا ہے جہاں کئی کئی ہفتوں تک بجلی سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے جبکہ محکمہ واپڈا کے سرکاری ملازمین بجلی صارفین کی شکایت پران کا مسئلہ حل کرنے میں ہفتے لگا دیتے ہیں کیونکہ یہ محکمہ ایک ایسا سفید ہاتھی بن چکا ہے جس کی غلطی اور بدعنوانیوں کیخلاف شائد کسی میں ہمت نہیں کہ وہ برخلاف بدعنوان افسران کوئی کاروائی عمل میں لا سکے لیکن میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ صوبائی سطح کا ایک وزیر بھی اس محکمے کے آگے بے بس ہوگا۔

    کہانی کچھ یوں ہے کہ مقامی وڈیروں کے مظالم کیخلاف لکھنے پر جب مجھ پر ان کے لوگوں نے حملے شروع کئے تو میں نے اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ روز بروز کسی نہ کسی تنازعہ کو لیکر کبھی میرے بھائیوں تو کبھی رشتہ داروں کے ساتھ لڑائی جھگڑے جبکہ سیاسی اثرورسوخ پر ناصرف مجھے پولیس سے گرفتار کروا کر شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ میرے بہت ہی قریبی رشتہ داروں کیخلاف بھی ٹھیک اسی طرح کے جھوٹے و من گھڑت الزامات لگا کر مقدمات درج کروائے گئے اور حوالات بند کروا کر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جیل ڈلوایا گیا تاکہ وہ میرے خاندان کے ساتھ غمی خوشی کا معاملہ منقطع کردیں اور میرے خاندان کو مجبور کیا جاسکے کہ میں ان کے مظالم کے خلاف بولنا بند کردوں لہذا یہ سب ہونے کے بعد میں نے سوچا کہ مجھے میرے خاندان سمیت گاؤں چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ وہ لوگ ہر لحاظ سے مجھ سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے مجھ سے جڑے لوگوں کو کوئی مزید نقصان پہنچ جائے علاوہ ازیں گاؤں چھوڑنے کی دوسری اہم وجہ ہم بہن بھائیوں کی تعلیم بھی تھی کیونکہ گاؤں میں اسکول صرف جماعت پنجم تک تھا اور اس میں بھی کئی قسم کی مشکلات تھیں جیسے کہ اساتذہ پڑھانے کیلئے بھی نہیں آتے تھے کیونکہ مقامی وڈیرے چاہتے تھے کہ یہاں کے بچے پڑھنے لکھنے نہ پائیں اور یوں سیاسی اثرورسوخ پر وہ لوگ حاضری نہ کرنے والے اساتذہ کو محکمانہ کاروائی سے بھی بچا لیتے تھے۔

    بہرحال جب ہم گاؤں چھوڑ کر شہر منتقل ہوئے تو میں نے اس وقت محکمہ واپڈا (پیسکو) کو ایک درخواست لکھی جس میں آگاہ کیا گیا تھا کہ اس تاریخ سے ہمارا گاؤں والا گھر بند ہے اور ایسا نہ ہو کہ آپ جرمانہ بھیج دیں، ناصرف تحریری طور پر محکمہ کو آگاہ کیا تھا بلکہ زبانی طور پر بھی بزات خود اپنے علاقہ کے اس وقت کے میٹر ریڈر کو بھی بتایا تھا تاکہ وہ بھی لاعلم نہ رہے۔ یہاں پر ایک بات واضح کرتا چلوں کہ اس کے باوجود کہ بجلی کئی کئی دنوں میں سے چند گھنٹوں کیلئے منہ دکھائی کی رسم پوری کرتی تھی پھر بھی پورے گاؤں کے اُن چند گھرانوں میں ہم بھی شامل تھے جنہوں نے بجلی کے میٹر لگوا رکھے ہیں اور باقاعدگی سے بل ادا کرتے رہے لیکن ہمارے گاؤں چھوڑنے کے کچھ ہی عرصہ بعد میرے والد کے نام پر لگے اس میٹر کے بل میں تقریبا بیس ہزار روپے سے زائد کا جرمانہ بھیج دیا گیا چونکہ اس وقت میری تعلیم بھی جاری تھی اور تعلیم کے ساتھ ایک جگہ پر کام بھی کررہا تھا تو مجھے اس وقت فوراََ وقت نہ مل سکا لہذا اگلے میں بل کے آتے ہی بڑی مشکل سے اپنے مالک سے چھٹی لے کر پیسکو آفس جا پہنچا جہاں ایک متعلقہ افسر صاحب کو شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ اِس ایک ماہ کے اندر جرمانہ ڈبل ہوکر چالیس ہزار روپے سے زائد ہوچکا ہے اور ہم انتہائی غریب لوگ ہیں براہ کرم یہ بغیر کسی جرم کے عائد کیا گیا ہے لہذا اس کو ختم کیا جائے جس پر موصوف نے جواب دیا کہ یہ جرمانہ بجلی استعمال نہ ہونے یعنی میٹر بند ہونے یا یونٹ کم آنے کی وجہ سے لگایا گیا ہے تاہم انہیں درخواست کی نقل پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جناب کے محمکہ کو ناصرف تحریری طور پر آگاہ کیا تھا بلکہ میٹر ریڈر کو بھی بتایا تھا کہ اب ہم شہر منتقل ہورہے ہیں لہذا آئندہ سے گھر بند ہوگا مگر یہ سب سننے کے باوجود بھی افسر صاحب نے بڑے متکبرانہ انداز میں فرمایا "اب آپ کا کچھ نہیں ہوسکتا، جائے اور بِل جمع کروائے۔”

    پڑوسی کی لگی کنڈی کی وجہ سے میٹر والے گھر پر جرمانہ دے دیا گیا۔

    واپڈا آفیسر صاحب کی یہ بات سن اور انداز محسوس کرکے مایوس ہوگیا کیونکہ میرے پاس اتنی وافر دولت تو تھی نہیں کہ بلاجواز جرمانہ ادا کر دیتا لہذا پھر میں نے اسے موجودہ بل جمع کروانے کی استدعا کی تو انہوں نے موجودہ بل جمع کرنے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ "جرمانہ سمیت مکمل بِل ادا ہوجائے گا۔” تاہم بعدازاں وقتاََ فوقتاََ جب موجودہ بِل جمع ہوجاتا تو کردیتے تھے اور نہ ہوتا تو رہنے دیتے تھے اور یوں گاؤں کے گھر کا جرمانہ بڑھتے بڑھتے اب ایک لاکھ 43 ہزار سے بھی اُوپر بڑھ گیا ہے۔

    گزشتہ سال ایک دن تحریک انصاف کے ایک سینئر صوبائی وزیر سے بات ہورہی تھی تو میں نے انہیں محکمہ واپڈا (پیسکو) سے متعلق اپنا تجربہ بتایا جس کے بعد انہوں نے واپڈا بارے جو الفاظ ادا کیئے انہیں اخلاقی طور پر یہاں تحریر کرنے سے قاصر ہوں۔ جبکہ اب کئی سال بعد شہر کے گھر جو کرایہ کا ہے کے میٹر پر بھی گزشتہ دسمبر کے بل میں 46 ہزار روپے کا جرمانہ پیسکو کی جانب سے بھیج دیا گیا ہے، جسے دیکھ کر میرے ہوش اُڑ گئے اور میں یہ سوچنے لگا کہ چلو وہ گاؤں والا میٹر تو والد کے نام پر تھا جرمانہ ادا نہیں کیا تھا لیکن یہ تو کرایہ کا گھر ہے اب اگر ادھر بھی محمکہ واپڈا نے جرمانہ ختم نہ کیا تو کیا ہوگا؟ یہی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ مالک مکان کی کال نے مزید پریشان کردیا جب انہوں نے میری پوری بات سنے بغیر بل میں جرمانہ بارے سن کر کہا بس اسے فوراََ جمع کروائیں کیونکہ میں نے تو آپ کو کلیئر بل دیا تھا۔

    اس کے بعد میں نے میٹر ریڈر کا نمبر تلاش کیا اور انہیں مسلسل تین دن لگاتار پہلے پیغامات جبکہ بعدازاں کالز کرتا رہا تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا جسکے بعد اسلام آباد سے رات کے وقت نکلا اور صبح اپنے شہر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر پیسکو دفتر جرمانے والا بل ہمراہ لے کر پہنچ گیا جہاں انہوں نے زبانی طور پر بتایا کہ آپ پر جرمانہ کنڈا یعنی بجلی چوری کرنے کی وجہ سے آیا ہے میں نے ان سے اس کا ثبوت مانگا تو انہوں نے کہا آپ کے کم یونٹ اس بجلی چوری کا ثبوت ہیں تاہم میرے ٹھوس ثبوت کے مطالبے پر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے اور ان کے پاس کوئی خاطرخواہ جواب نہ تھا جبکہ میں نے انہیں گزارش کی کہ جس بنا پر میرے خلاف جرمانہ عائد کرنے کا جواز پیش کیا جارہا ہے ایک تو اس کا آپ کے پاس ثبوت نہیں اور دوسرا کنڈے پڑوسیوں نے واضح لگائے ہوئے جن کے خلاف کاروائی کے الٹا آپ میٹر لگانے والوں پر بلاجواز جرمانے دے رہے اس کے ساتھ ثبوت کے طور انہیں تصاویر بمع ویڈیوز بھی پیش کیں اور یہ بھی کہا کہ میرے ساتھ آپ لوگ ابھی چلیں میں آپ کو دیکھا سکتا ہوں کہ ابھی بھی سرعام کنڈے لگے ہوئے ہیں لیکن افسر صاحب نے مجھے شائد ٹالنے کیلئے کہا تھا کہ آپ جاؤ ہم آئندہ بروز ہفتہ 14 جنوری کو آپ کے پاس موقع پر آکر معائنہ کریں گے جبکہ حضور والا ابھی تک نیا مہینہ فروری لگ جانے کے باوجود بھی میری شکایت پر معائنہ کرنے نہیں آئے ہیں۔

    خیال رہے حالیہ دنوں واپڈا اہلکار میرے قریبی محلہ میں کنڈا کے خلاف آپریشن کرنے آئے اور اس محلہ کی طرف جانے والی مین تاروں کو کاٹ دیا جبکہ میرے گھر کی گلی سے گزرے تو اظہر من الشمس لگے کنڈے نظرانداز کردیئے گئے اور چونکہ وہ گاڑی میں تھے تو علم ہونے پر گھر سے باہر نکلا اور انہیں رکنے کا اشارہ کیا تاکہ شکایت بارے دوبارہ آگاہ کروں اور لگے کنڈوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرواؤں مگر وہ بغیر مجھے شکایت بتانے اور بجلی چوری کی نشاندہی کروانے کا موقع دیئے چلے گئے۔ تاہم بعدازاں محلے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس دن جو پیسکو اہلکار بجلی کی تاریں کاٹ گئے تھے وہ آج دوبارہ لگا گئے ہیں کیونکہ ان کا اصل مقصد بجلی چوری کو کرنا نہیں تھا بلکہ کچھ اور تھا.

    بالآخر تنگ آکر اس مسئلہ پر متعلقہ محکمہ، وفاقی وزیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک ٹوئیٹ کی جس میں مدعا بیان کیا کہ؛ "وزیراعظم شہباز شریف صاحب! آپ نے ٹھیک فرمایا تھا کہ اس ملک میں جسکی لاٹھی اسکی بھینس ہے، میں مستقل بل ادا کرتا ہوں جبکہ میرے محلہ کی اکثریت نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں مگر شائد کنڈا کے بجائے میٹر لگوانا میرا جرم بن گیا اور پیسکو نے46529 روپے کا بل بھیج دیا جوکہ میری ماہانہ آمدن سے بھی زائد ہے۔ حالانکہ میرا سردیوں کے دوران ماہانہ بل 500 سے 1000 تک آتا رہتا ہے اور موجودہ بل تو 398 ہے لہذا اب مجھے بتایا جائے کہ میرے ساتھ یہ ظلم کیوں؟ اس سے قبل بھی میرے گاؤں والے ایک گھر جو بند ہے پر بنا کسی وجہ کے جرمانہ بھیج دیا گیا تھا جو بڑھتے بڑھتے اب ایک لاکھ سے بھی زائد ہوگیا ہے جسکی شکایت محمکہ واپڈا میں کرنے پر جواب دیا گیا کہ جرمانہ ادا کریں۔”


    اس ٹوئیٹ پر مجھے کسی متعلقہ شخص یا اہل اقتدار نے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن کچھ ٹوئیٹر صارفین نے کنڈا لگانے کا مشورہ ضرور دیا اور کچھ نے تو بنا پوری بات جانے ہی کہہ دیا کہ آپ کے بِل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بجلی چوری کرتے ہیں کیونکہ بل بہت کم ہے لہذا کم بل پر بجلی چوری کا الزام لگانے والوں کیلئے عرض ہے کہ میں اس گھر میں چند ماہ پہلے کرایہ پر مُنتقل ہوا ہوں اور اس سے قبل گھر بند تھا جسکے سبب 123 روپے تک کا بھی بل آتا رہا تھا اب چونکہ سردیاں ہیں تو بلبوں، استری اور موبائل چارج کرنے کے علاوہ کوئی دوسری چیز زیادہ استعمال ہی نہیں ہوتی جبکہ گھر میں بھی کوئی اے سی، واٹر پمپ یا زیادہ بجلی پر استعمال ہونے والی چیز ہے نہیں اور دوسرا گھر میں شمسی سسٹم موجود ہے لہذا ہماری کوشش یہ ہوتی کہ کم سے کم بجلی کا استعمال ہو تاکہ بِل کم آئے اور سب سے اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اس گھر میں بہت کم رہتے ہیں کیونکہ میں اسلام آباد میں باغی ٹی وی سے بطور نیوزایڈیٹر منسلک ہوں تو صحافتی کام کے سلسلہ میں زیادہ تر اسلام آباد میں رہنا پڑتا ہے.

    بہرحال بہت سارے لوگوں نے مجھے واپڈا سے متعلق اپنے تجربات بارے بتایا تو میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ کیا محمکہ واپڈا بذات خود بجلی چوری پر عوام کو مجبور کرتا ہے؟ تو اس کا جواب چچا رحیم (فرضی نام) نے دیا کہ جی ہاں! یہ محمکہ خود ہی عوام کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بجلی چوری کریں اور پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ یا پھر میرے ساتھ نہیں ہوا کئی لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے کیونکہ کئی بجلی صارفین نے انہی بغیر جرم کے جرمانوں کے سبب تنگ آکر بجلی کے میٹر اتار کر اب براہ راست کنڈے لگادیئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چچا رحیم نے جواب دیا کہ میں نے خود بیٹوں سے جھگڑا کرکے اپنے نام پر بجلی کا میٹر لگوایا تھا چونکہ میں اس وقت بجلی چوری کو ناصرف جرم بلکہ گناہ کبیرہ سمجھتا تھا لیکن میرے بیٹے مجھے کہتے تھے بابا میٹر نہ لگوائیں کنڈا ٹھیک لگا ہوا ہے کیونکہ کئی لوگوں نے جرمانوں کے سبب میٹر کٹوا دیئے ہیں۔ مگر میں نے ان کی ایک نہ سنی اور بجلی کا میٹر لگوا دیا جسکے کچھ سال بعد مجھے تقریبا پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ بھیجا گیا تھا جو محمکہ پیسکو میں ایک جاننے والے اہلکار کی سفارش کے بعد ختم ہونے کے بجائے آدھا ہوگیا تو قسط کروا کر جمع کرواتا رہا لیکن اُسکی مکمل ادائیگی کے کچھ ہی عرصہ بعد دوبارہ پیسکو نے 30 ہزار روپے کا جرمانہ بھیج دیا جسکے بعد میں نے میٹر اتار کر کنڈا لگا دیا اور اب سب کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ کنڈا لگا لو مگر بجلی کا میٹر کبھی بھی نہ لگوائیں۔

    آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی کے ساتھ محمکہ واپڈا یا کسی نے بھی ایسی کوئی ناانصافی کی ہے تو اس کے جواب میں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ بجلی چوری کی جائے یا غلط کام کے بدلے غیر آئینی کام کیا جائے جبکہ آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے انصاف کے تقاضے کیلئے آواز بلند کی جائے اور ایسے محکموں یا بدعنوان اور ظالم افراد کو بے نقاب کیا جائے. جبکہ میری ذاتی رائے کے مطابق افسوس ہے کہ پاکستان میں اچھے لوگوں کی قدر ہے اور نہ برے کی پکڑ لہذا یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم ان تمام مسائل کا شکار اور دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہیں لیکن جہاں تک محکمہ واپڈا کی بات ہے تو اس کی بہتری کا واحد حل صرف ور صف نجکاری ہے اور اس کی زندہ مثال پی ٹی سی ایل ہے کیونکہ اب سے پہلے اس کا بھی یہی کچھ حال تھا لیکن جب سے اس کی نجکاری ہوئی ہے اب اس میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے.

    نوٹ؛ اگر محکمہ واپڈا (پیسکو) اس پر اپنا موقف دینا چاہے تو malikramzanisra@gmail.com پر رابطہ کرسکتا ہے.

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    باغی ٹی و : ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا میں پانی کی آمد17ہزار400کیوسک اور اخراج 5 ہزارکیوسک ہے، منگلا میں پانی کی آمد 5 ہزار900 کیوسک اور اخراج 4 ہزارکیوسک ہے-

    ترجما وپڈا کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 5 ہزار500کیوسک اور اخراج 5 ہزار500کیوسک ہے نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 9 ہزار100 کیوسک اور اخراج 9 ہزار100کیوسک ہےخیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 14 ہزار600 کیوسک ہے۔

    بیراج:

    ترجمان واپڈا کے مطابق جناح میں پانی کی آمد 16 ہزارکیوسک اور اخراج 14 ہزار300 کیوسک ،چشمہ میں پانی کی آمد 12 ہزار 200 کیوسک اور اخراج15ہزارکیوسک ،تونسہ میں پانی کی آمد 13 ہزار600 کیوسک اور اخراج 13 ہزار600 کیوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق گدو میں پانی کی آمد 17 ہزار500 کیوسک اور اخراج 4 ہزار500 کیوسک ،سکھر میں پانی کی آمد 4 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 4 ہزار900 کیوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق کوٹری میں پانی کی آمد 3 ہزار200 کیوسک اور اخراج 1 ہزار100 کیوسک ،تریموں میں پانی کی آمد 6 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 900 کیوسک جبکہ پنجند میں پانی کی آمد 3 ہزار300 کیوسک اور اخراج 3ہزار300 کیوسک ہے۔

    آبی ذخائر:

    ترجمان واپڈ ا کے مطابق تربیلا میں آج پانی کا ذخیرہ 30 لاکھ 6 ہزار ایکٹرفٹ، منگلا میں آج پانی کا ذخیرہ 7لاکھ 86 ہزارایکڑ فٹ جبکہ چشمہ میں آج پانی کا ذخیرہ 21 ہزار ایکٹرفٹ اور تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں پانی کا مجموعی ذخیرہ38 لاکھ 13 ہزار ایکڑ فٹ ہے-

  • لائن لاسز کی مد میں صارفین کو بلوں میں 113 ارب دینا پڑے:رپورٹ

    لائن لاسز کی مد میں صارفین کو بلوں میں 113 ارب دینا پڑے:رپورٹ

    اسلام آباد:لائن لاسز کی مد میں صارفین کو بلوں میں 113 ارب دینا پڑے:رپورٹ کے منظرعام پرآنے سے پاکستانی بھی حیران رہ گئے ، اطلاعات کے مطابق پاکستان میں بجلی تقسیم کار کمپیناں سفید ہاتھی بن گئی ہیں اور انکشاف ہوا ہے کہ کمپنیز لائن لاسز اور نقصانات کے باعث عوام کو لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ اضافی بلز بھی برداشت کرنا پڑے۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کار کردگی پرسوالات اٹھا دیئے ہیں، اور نیپرا نے پاور پلانٹس کی کارکردگی غیر تسلی بخش اور بجلی کے محکمے میں کام کرنے والے ملازمین کیلئے حفاظتی اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔

    پاک چین دوستی زندہ باد:چین واقعی ایک عالمی معاشی قوت بن کرابھرا ہے:محمد طارق حسن

    نیپرا رپورٹ کے مطابق تقسیم کار کمپنیز کے باعث 2022 میں گردشی قرض میں 343 ارب کا اضافہ ہوا، اور صرف لائن لاسز کی مد میں صارفین کو بلوں میں 113 ارب دینا پڑے۔

    نیپرا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کنڈے کے ذریعے مجموعی نقصانات 230 ارب تک پہنچ گئے، تقسیم کار کمپنیاں کی ریکوری کے واجبات 1680ارب تک پہنچ گئے۔

    رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی اپنے دور میں 282 ارب ریکوریاں ڈیفالٹرز سے وصول کرنے میں ناکام رہی۔

    رینجرزاوراینٹی نارکوٹیکس فورس مشترکہ کارروائی11 کلو گرام سے زائد چرس برآمد کر لی۔

    یہ بھی یاد رہے کہ موجودہ حکومت کے آغاز سے لیکراب تک عام بہت زیادہ بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ، ایک طرف بجلی کی قیمت میں بار بار اضافہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگرٹیکسز کی مد میں حکومت عوام سے کھربوں روپے بٹورنے میں مصروف ہے ، یہی وجہ ہے کہ پچھلے ماہ اگست کے بلوں نے عوام الناس کو اس قدر مجبور کردیا تھا کہ لوگوں کواپنے گھروں کی اشیا بیچنا پڑیں بجلی کے بل ادا کرنے کے سلسلے میں ، مگرستمبرمیں معاملہ اس سے زیادہ سخت بن کرسامنے آیا ہے اور عوام الناس ابھی تک اپنے بلوں کی ادائیگی کے لیےمارے مارے پھر رہے ہیں‌

    اسٹیل ملز میں چوریاں، ایف آئی اے نے ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کردی

  • ایس ڈی او نے بغیر سفارش پاس ہوا ٹرانسفارمر لگانے سے انکار کر دیا

    ایس ڈی او نے بغیر سفارش پاس ہوا ٹرانسفارمر لگانے سے انکار کر دیا

    قصور
    بلہے شاہ سب ڈویژن کا ایس ڈی او پاس ہوئی پرپوزل پہ آیا ٹرانسفارمر لگانے سے انکاری، سفارش کے بغیر نہیں لگایا جائے گا،واپڈا سٹور میں کئی ماہ پڑا رہنے کے بعد ٹرانسفارمر کسی اور علاقے میں لگا دیا گیا،اہلیان علاقہ سخت پریشان،ڈی سی قصور سے نوٹس کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور لیسکو میں بغیر رشوت اور سفارش کے جائز کام کروانا ایک خواب بن چکا ہے
    جائز کام کیلئے بھی رشوت اور سفارش کام آتی ہیں بصورت دیگر کام نہیں ہوتا
    لیسکو بلہے شاہ سب ڈویژن قصور کے علاقہ بیرون کوٹ غلام محمد قبرستان عیسائیوں والا کے علاقے کے لوگ اوور لوڈنگ کے باعث سخت پریشان تھے کیونکہ ایک ٹرانسفارمر لوڈ برداشت نہیں کر پاتا اور مذید ایک اور نیا ٹرانسفارمر ان کی ضرورت پوری کرنے کے لئے لازم تھا
    اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اہلیان علاقہ اور خاص کر مقامی صحافی میاں خلیل صدیق نے پرپوزل نمبر 214 کے تحت کافی محنت سے نیا ٹرانسفارمر پاس کروایا جو کہ واپڈا سٹور میں لگ بھگ ایک سال پڑا رہا جس پہ اہلیان علاقہ نے ایس ڈی او بلہے شاہ سب ڈویژن قصور ابرار الرحمن شاہ سے مطالبہ کیا کہ نیا آنے والا ٹرانسفارمر جلد لگایا جائے تاکہ پرانے ٹرانسفارمر سے لوڈ کم ہو اور لوگ بجلی کی بار بار خرابی سے تنگ نا ہو مگر ایس ڈی او نے ٹرانسفارمر نا لگایا
    اہلیان علاقہ نے آصف خان ایس ای لیسکو سے رابطہ کیا جنہوں نے ایس ڈی او کہا کہ جلد سے جلد نیا آنے والا ٹرانسفارمر نصب کیا جائے تاہم ایس ڈی او نے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک مقامی ایم پی اے نہیں کہے گا میں ٹرانسفارمر نہیں لگواؤنگا
    ایس ڈی او نے نیا آنے والا ٹرانسفارمر کسی اور علاقے میں لگوا دیا
    اہلیان علاقہ ایک ہی ٹرانسفارمر ہونے کے باعث بار بار بجلی کی خرابی کا سامنا کرتے ہیں اور سخت پریشان ہیں
    اہلیان علاقہ نے ڈی سی قصور سے ازخود نوٹس لے کر نیا ٹرانسفارمر لگوانے اور ذمہ دار واپڈا اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • واپڈا افسروں کیلئے5 ارب سے ذائد کی مفت بجلی، بلوں کا بوجھ عوام پر،ذمہ دار کوں؟

    واپڈا افسروں کیلئے5 ارب سے ذائد کی مفت بجلی، بلوں کا بوجھ عوام پر،ذمہ دار کوں؟

    مہنگائی میں پسے پاکستانی عوام کا معاشی قتل کرنے میں جہاں حکومتوں کا عمل دخل ہے تو وہیں واپڈا کے اہلکار اور افسر بھی کسی سے کم نہیں .

    آئے روز عوام پر بجلی کے بلوں کا اضافی بوجھ ڈال کر حکومت صرف یہ کہ کر بری الاذمہ ہو جاتی ہے کہ مشکل حالات ہیں، مگر حکومت واپڈا کے افسروں اور اہلکاروں کو کس مد میں کروڑوں یونٹ بجلی مفت فراہم کر رہی ہے جبکہ ان افسروں اور اہلکاروں کو باقاعدہ ہر ماہ تنخواہ ملتی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واپڈا کے 48 ہزارافسر اور ایک لاکھ 5 ہزارملازمین سالانہ بجلی کے 39 کروڑ 10 لاکھ فری یونٹ استعمال کرتے ہیں جس کی مالیت 5 ارب 25 کروڑ روپے ہے، واپڈا کے افسر اور ملازمین کی شاہانہ مفت بجلی کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے،سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت وقت کو واپڈا ملازمین اور افسروں کو اربوں روپے کی مفت بجلی فراہم کرنے کا نوٹس لینا چاہیئے، سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت واپڈا کے افسروں اور ملازمین کو ماہانہ تنخواہ دیتی ہے تو پھر انہیں مفت بجلی کیوں فراہم کی جارہی ہے ؟.

    وزیراعظم شہباز شریف ملک کی موجودہ صورتحال کی تناظر میں واپدا افسروں اور اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی اربوں روپے کی مفت بجلی کا نوٹس لیں اورمہنگائی کی چکی میں پسے غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں.

    دوسری طرف پروٹیکٹڈ صارفین کے سوا بجلی بلوں پر ون سلیب بینیفٹ ختم کر دیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیب بینیفٹ ختم ہونے سے بجلی صارفین کو بھاری بل موصول ہو رہے ہیں۔ ماہانہ 100 یونٹ استعمال پر فی یونٹ بجلی ریٹ 13روپے 48 پیسے جبکہ 101 سے 200 یونٹ بجلی کی قیمت 18روپے 58 پیسے فی یونٹ ہے۔بینیفٹ کے تحت 150 یونٹ استعمال کرنے پر 100 یونٹ 13 روپے 48 پیسے میں پڑتے تھے۔100 سے اوپر 50 یونٹس پر فی یونٹ 18 روپے 58 پیسے وصول کیے جاتے تھے۔

    حکومت کی جانب سے اب صارفین کو اس ریلیف سے محروم کر دیا گیا ہے۔150 یونٹ پر صارفین سے اب 18 روپے 58 پیسے فی یونٹ وصول کیے جاتے ہیں۔ماہانہ 201 سے 300 فی یونٹ ریٹ 21 روپے 47 پیسے ہے، ماہانہ 400 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ ریٹ 24 روپے 63 پیسے بنتا ہے۔

    ماہانہ 500 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ قیمت 26 روپے ہے، ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فی یونٹ قیمت 27 روپے ہے۔ماہانہ 700 یونٹ استعمال پر فی یونٹ ریٹ 27 روپے 65 پیسے ہے، ماہانہ 700 یونٹ سے زائد استعمال پر فی یونٹ نرخ 31 روپے 12 پیسے لاگو ہوتا ہے۔

  • لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج

    لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج

    لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج ،اطلاعات کے مطابق لاہور میں اس وقت اہم مقام پر واپڈا لاہور کے ملازمین نے احتجاج کررکھا ہے اور ان ملازمین کا کہنا ہےکہ حفاظتی سامان کی عدم فراہمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وفاقی حکومت کی طرف سے واپڈا ملازمین کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے

    اطلاعات کے مطابق لیسکو ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے میکلوروڈ آپریشن ڈویژن، ریونیو آفس ،ایم اینڈ ٹی کے تمام دفاتر میں دوسرے روز بھی کام بند ہے جس کا خمیازہ عوام الناس کو بھگتنا پڑرہا ہے ، لیسکو ملازمین کا کہنا ہے کہ ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر وہ یہ احتجاج کررہے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لیسکو ملازمین کی بڑی تعداد میکلوروڈ لیسکو کمپلیکس کے باہر موجود ہے ، دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین تھرڈ سرکل نے مطالبات منظور نہ ہونے تک دھرنا دینے کا اعلان کردیا

    واپڈا ذرائع کے مطابق لیسکو مغل پورہ اور باغبانپورہ ڈویژن میں بھی کام بند ہے اور اس علاقے میں بھی عوام الناس سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین تھرڈ سرکل کے عہدیدار احتجاج میں شریک ہیں ، واپڈا کے احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ لیسکو انتظامیہ کی جانب سے لائن سٹاف کو معیاری حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جارہا، مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ربر گلوز،سیفٹی بوٹ،گاڑیاں، بیلٹ سمیت دیگر سامان کی شدید قلت ہے،

    لیسکو کے احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ جو سامان موجود ہے وہ بھی انتہائی غیر معیاری ہے جس سے لائن سٹاف کی حفاظت ممکن نہیں،فیلڈ میں کام کے دوران ملازمین کو شرپسند عناصر کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے پر افسران تعاون نہیں کرتے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ لیسکو میں سٹاف کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ افسران کا رویہ ملازمین سے انتہائی ہتک آمیز ہے،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 65 میگاواٹ تک پہنچ گیا

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 65 میگاواٹ تک پہنچ گیا

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار 11 ہزار میگا واٹ ہے –

    باغی ٹی وی : ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ونڈ پاور پلانٹس 1100 میگاواٹ اور سولرپلانٹس سے پیداوار 170 ہے،بگاس سے چلنے والے پلانٹس 160میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں ، جوہری ایندھن 2 ہزار 285 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے ،ملک بھر کے بڑے شہروں میں 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے،ہائی لاسز کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے تک ہے-

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 65 میگاواٹ ہے،بجلی کی مجموعی پیداوار 22 ہزار 435 میگاواٹ ہے،ملک میں بجلی کی طلب 28 ہزار 500 میگاواٹ ہے،پانی سے 6 ہزار 600 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے ،سرکاری تھرمل پلانٹس ایک ہزار 120میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں ،

    دوسری جانب ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا میں پانی کی آمد ایک لاکھ 49 ہزار300کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 55 ہزارکیوسک ہے ،منگلا میں پانی کی آمد 28 ہزار600 کیوسک اور اخراج 15 ہزارکیوسک ہے ، چشمہ میں پانی کی آمد ایک لاکھ91 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 90 ہزارکیوسک ہے دریائے چناب میں پانی کی آمد 54 ہزار400 کیوسک اور اخراج 27 ہزار500 کیوسک ہے دریائے کابل میں پانی کی آمد 43 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 43 ہزار100 کیوسک ہے –

    ترجمان واپڈ ا کے مطابق تربیلا میں آج پانی کا ذخیرہ 31 لاکھ37 ہزار ایکڑ فٹ ہے،منگلا میں آج پانی کا ذخیرہ 10لاکھ 77 ہزارایکڑ فٹ ہے ،چشمہ میں آج پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 20 ہزار ایکڑ فٹ ہے ، تربیلا ، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 43 لاکھ 34 ہزارایکڑ فٹ ہے-