Baaghi TV

Tag: واپڈا

  • موسماتی تبدیلیوں کے خطرات،چار بڑے ڈیموں کے تعمیر ی کام کو تیز کر دیاگیا

    موسماتی تبدیلیوں کے خطرات،چار بڑے ڈیموں کے تعمیر ی کام کو تیز کر دیاگیا

    حکومتِ پاکستان اور واپڈا (WAPDA) نے پانی کے بڑھتے ہوئے بحران اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ملک بھر میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کی رفتار تیز کر دی ہے۔ ان منصوبوں سے مجموعی طور پر 8 ملین ایکڑ فٹ (MAF) سے زائد پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل ہوگی۔

    پاکستان میں اس وقت بارشوں کے بدلتے ہوئے نظام اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ملک میں پانی کی مانگ اور سپلائی میں فرق بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نئے ڈیم بنانا قومی ترجیح بن چکا ہے تاہم موسماتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے چار بڑے ڈیموں کی تعمیر کے کام کو تیز کر دیا ہے جس سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 80 لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ کا اضافہ ہوگا.

    سرکاری خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، کرم تنگی ڈیم اور نئی گاج ڈیم شامل ہیں ان ڈیموں کی تعمیر سے نا صرف پانی کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ سیلاب کی روک تھام اور سستی بجلی پیدا کرنےکی صلا حیت میں بھی بڑا اضافہ ہوگا اس وقت چار اہم منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی زندہ صلاحیت 8.136 ملین ایکڑ فٹ ہے.

    رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں میں سب سے اہم دیامر بھاشا ڈیم (دریائے سندھ)ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا کنکریٹ کا ڈیم ہوگا جو اکیلا ہی 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا، تقریباً 4,800 میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرے گا۔

    مہمند ڈیم (دریائے سوات) یہ 0.676 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا اور کثیر المقاصد ڈیم سیلاب کی روک تھام اور زراعت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گاجبکہ کرم تنگی ڈیم 0.90 ملین ایکڑ فٹ اور نئی گاج ڈیم 0.16 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا.

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے تین بڑے ذخائر موجود ہیں جن میں تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ بیراج شامل ہیں واپڈا نے موجودہ دور کو ڈیموں کی دہائی قرار دیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مانگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے،واپڈا نے دریاؤں کے بہاؤ، سرحد پار سے آنے والے پانی، ڈیموں کی صورتحال اور بارشوں کا بروقت ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے اپنے مانیٹرنگ اور ٹیلی میٹری سسٹم کو بھی وسیع کر دیا ہے.

    رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل کے لیے مزید کئی ڈیموں کی منصوبہ بندی اور ڈیزائننگ پر کام ہو رہا ہے جن کی مجموعی صلاحیت 15 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ ہے، جن میں سندھ بیراج (2.0 ملین ایکڑ فٹ)، شیوک کثیر المقاصد ڈیم منصوبہ (5.5 ملین ایکڑ فٹ)، اکھوری ڈیم (7.0 ملین ایکڑ فٹ)، چنیوٹ ڈیم (0.93 ملین ایکڑ فٹ) اور مرنج ڈیم (0.45 ملین ایکڑ فٹ) شامل ہیں۔

    حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے اور پانی کو محفوظ کرنے کے لیے دریائے چناب پر 4 نئے ڈیموں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہےان ڈیموں کی مجموعی مالیت تقریباً 300 ارب روپے ہے،ان کی تعمیر سے 45 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا اور 330 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی، ان میں چنیوٹ اور شاہ جیوانہ کے مقامات پر ڈیمز شامل ہیں ان تمام ڈیموں کی بروقت تکمیل کے لیے حکومت فنڈز کے اجراء اور مقامی علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

    اس سے قبل حکومت نے بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس صرف 90 دنوں کی ضرورت کے برابر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے،جبکہ گزشتہ سال وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہنگامی بنیادوں پر نئے ڈیم اور آبی ذخائر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کو سیلا ب کی تباہ کاریوں سے بچانے اور زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے نئے ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے.

  • ڈاکٹر طارق میمن کا تبادلہ : وفاقی آئینی عدالت نے واپڈا کو نوٹس جاری کردیا

    ڈاکٹر طارق میمن کا تبادلہ : وفاقی آئینی عدالت نے واپڈا کو نوٹس جاری کردیا

    وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر طارق میمن کے واپڈا میں تبادلے کے کیس میں واپڈا کو نوٹس جاری کر دیا۔

    وفاقی آئینی عدالت میں ڈاکٹر طارق میمن کے واپڈا میں تبادلے کے کیس پر سماعت ہوئی،سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے کی،دوران سماعت حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر طارق ہائی کوالیفائیڈ ہیں اور ان کے خلاف کوئی کرپشن یا لاپروائی کی شکایت موجود نہیں، کیا سزا دینے کے لیے ڈاکٹر کو حیدرآباد (80 بیڈ اسپتال) سے چترال (18 بیڈ اسپتال) منتقل کیا گیا، یا محکمہ کو ڈاکٹر کی خدمات سے مسئلہ تھا؟-

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ڈاکٹر براہ راست ہائیکورٹ رجوع کر سکتے تھے، اور سروس ٹریبونل سے رجوع کرنا چاہیے تھا،عدالت نے واپڈا کو آئندہ سماعت پر قانونی سوالات کے جوابات دینے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت مقرر کر دی۔

    اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت نے مقتولہ مسرت بی بی کی قبر کشائی کے خلاف شوہر محمد علی کی درخواست مسترد کر دی اور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا،اس کیس کی جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شوہر میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ تدفین کی اطلاع مقتولہ کی والدہ کو دی جاتی، اور والدہ زبیدہ بی بی کو خدشہ ہے کہ شوہر نے بیٹی کا قتل کیا۔

    سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں، پاکستان گورننس فورم

    وکیل شوہر نے کہا کہ مؤکل کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آیا ایف آئی آر کٹنے نہیں دی گئی؟ تاہم عدالت نے کہا کہ والدہ کی خواہش، قانونی تقاضوں اور شفاف تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے قبر کشائی کے ہائیکورٹ کے حکم کو برقرار رکھا جائے گا۔

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    لاہور:دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا کے مقام پردریائے سندھ میں پانی کی آمد ایک لاکھ 31 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 82 ہزار کیوسک ہے منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 52 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 32 ہزار کیوسک ہے چشمہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 43 ہزار 800 کیوسک اوراخراج ایک لاکھ 14 ہزار کیوسک ہے۔

    ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 33 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 700 کیوسک ہے، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا نے کہا کہ تربیلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1459.21 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 13 لاکھ86 ایکڑ فٹ ہے، منگلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1142.30 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 14 لاکھ 18 ہزار ایکڑ فٹ ہےچشمہ ریزروائر میں آج پانی کی سطح 647.10 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 17 ہزار ایکڑ فٹ ہے، تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 30 لاکھ 21 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

    تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخرا ج 24 گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی صورت میں ہے جبکہ دیگر مقامات پر پانی کی آمد و اخراج کی تفصیل آج صبح 6 بجے کی ہے۔

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 95 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 50 ہزار کیوسک ہے منگلا پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 43 ہزار 500کیوسک اور اخراج 32ہزار کیوسک ہے جب کہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 99 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 85 ہزار کیوسک ہے، ہیڈمرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 28 ہزار 300کیوسک اور اخراج 19 ہزار 100 کیوسک ہے، نوشہرہ پردریائےکابل میں پانی کی آمد37 ہزار کیوسک اور اخراج 37 ہزار کیوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلاریزروائر میں آج پانی کی سطح 1444.30فٹ اور ذخیرہ 9 لاکھ 2 ہزار ایکڑ فٹ ہے، منگلاریزروائر میں آج پانی کی سطح 1137فٹ اور ذخیرہ 12 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے چشمہ ریزروائر میں آج پانی کی سطح 646.90 فٹ اور ذخیرہ2 لاکھ 8 ہزار ایکڑ فٹ ہے جب کہ تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزروائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 23 لاکھ 45 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

  • پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کے الزام پر واپڈا کا بیان سامنے آ گیا

    پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کے الزام پر واپڈا کا بیان سامنے آ گیا

    اسلام آباد:واپڈا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن ثنااللہ مستی خیل کے الزام پر بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر اور ثنااللہ مستی خیل نے میڈیا سے گفتگو کی تھی اور اس دوران ثنااللہ مستی خیل نے کہا تھا کہ انہوں نے گزشہ روز اجلاس میں چیئرمین واپڈا سے سوالات کیے تھے اور اس کے بعد ان کے گھر سے بجلی کا میٹر اور ٹرانسفارمر اتارا گیا۔

    تاہم اب ترجمان واپڈا نے ثنا اللہ مستی خیل کے بیان اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس مؤخر ہونے کے بارے میں وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا کہ ثنا اللہ مستی خیل سمیت پارلیمان کے تمام ارکان ہمارے لیے انتہائی قابل احترام ہیں، ثنا اللہ مستی خیل کی رہائش گاہ سے بجلی کا میٹر اور ٹرانسفارمر اتارے جانے میں واپڈا کے کردار کا تاثر درست نہیں ہے۔

    صوبہ میں امن کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش نہیں،گورنر خیبرپختونخوا

    ترجمان واپڈا نے کہا کہ 2007 میں کی گئی ری اسٹرکچرنگ کے بعد بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے معاملات این ٹی ڈی سی اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کسی مقام پر میٹر اور ٹرانسفارمر لگانا یا اتارنا واپڈا کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، واپڈا کے حوالے سے منفی رویہ اور اس کی تشہیر سے گریز کیا جانا چاہیے، واپڈا کا دائرہ کار نئے ڈیمز اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر اور موجودہ پن بجلی گھروں کے آپریشن اور دیکھ بھال تک محدود ہے۔

    صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، مولانا فضل الرحمان

  • ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا

    ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا

    اسلام آباد: ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا۔

    باغی ٹی وی : واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) ذرائع کے مطابق پانی کا ذخیرہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ کم ہے اور گزشتہ سال 7 اپریل کو تربیلا، منگلا اور چشمہ میں پانی کا ذخیرہ 8 لاکھ 88ہزار ایکڑ فٹ تھا آج تینوں ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

    گزشتہ سال 7 اپریل کو تربیلا میں 2 لاکھ 65 ہزار ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ تھا اور آج تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 81 ہزار ایکڑ فٹ ہے،گزشتہ سال 7اپریل کو منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 4لاکھ 12 ہزار ایکڑ فٹ تھا، آج منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 48 ہزار ایکڑ فٹ ہے جب کہ گزشتہ سال 7 اپریل کو چشمہ بیراج میں پانی کا ذخیرہ 2لاکھ 11ہزار ایکڑ فٹ تھا، آج چشمہ بیراج میں پانی کا ذخیرہ 72ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

    ارسا کے پانی کی دستیابی کے سرٹیفکیٹ کے خلاف حکم امتناع جاری

    ذرائع واپڈا کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 18600کیوسک ہے، گزشتہ سال 7 اپریل کو تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 19200 کیوسک تھی، ، منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں آج پانی کی آمد 21800 کیوسک ہے، گزشتہ سال 7 اپریل کو منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 33200کیوسک تھی جبکہ چشمہ کے مقام پر آج پانی کی آمد 32200کیوسک ہے اور گزشتہ سال 7اپریل کو چشمہ کے مقام پر پانی کی امد51700کیوسک تھی۔

    منسٹر سمیت کسی کیلئے ٹرین لیٹ نہیں ہو گی،وزیر ریلوے

  • تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول پر پہنچ گیا،بجلی گھر کے 8 پیداواری یونٹ بند

    تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول پر پہنچ گیا،بجلی گھر کے 8 پیداواری یونٹ بند

    اسلام آباد: آبی ذخائر میں تشویشناک صورتحال، تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول پر پہنچ گیا، پانی کی کمی کے باعث تربیلا بجلی گھر کے 8 پیداواری یونٹ بند ہیں۔

    باغی ٹی وی : ترجمان واپڈا کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر پہنچ گئی، منگلا ڈیم بھی ڈیڈ لیول کے قریب ہے، تربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہےپانی کے موجودہ ذخیرہ کی سطح 1402.09 فٹ ہے،

    ذرائع واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کا قابل استعمال ذخیرہ ختم ہو گیا پانی کی کمی کے باعث تربیلا بجلی گھر کے 8 پیداواری یونٹ بند ہیں یونٹ کی بندش سے بجلی کی پیدوار میں واضح کمی ریکارڈ ہوئی۔ بجلی گھرکی پیدوار 4888 سے کم ہوکر1072 میگاواٹ ہوگئی۔

    آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی پلیئرز رینکنگ جاری

    جھیل میں پانی کی آمد18 ہزا 300 جبکہ اخراج 20 ہزار کیوسک فٹ کیا گیا 17میں سے 8 یونٹ بند، 9 یونٹس سے 24 گھنٹوں میں 1072 میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی۔ تربیلاجھیل میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1550فٹ ہے پانی کی سطح کم ہونے سے بجلی کی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    یورپ کے بعد برطانیہ میں بھی پاکستانی ایئرلائنز بحال کرنے کی منظوری کی امید

    ترجمان واپڈا کا کہنا ہے کہ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے، منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1054.00 فٹ ہے منگلا ڈیم میں قابل استعمال ذخیرہ صرف0.077 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا چشمہ بیراج میں بھی پانی کا ذخیرہ انتہائی کم رہ گیا ہے چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ ہے، چشمہ جھیل میں پانی کی موجودہ سطح 638.70 فٹ ہے، چشمہ میں قابل استعمال ذخیرہ صرف 0.009 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔

    جب نعمان اعجاز نے شوٹنگ کے دوران رعید عالم کو تھپڑ مارا

  • کل سے آج صبح تک تاحال بجلی بند،لیسکو کا تقریبآ انکار

    قصور
    پرسوں سے جاری بارش ،واپڈا کا بجلی دینے سے انکار،18 گھنٹے تک کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل،اہلیان علاقہ کی واپڈا حکام کو بدعائیں

    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں پرسوں رات سے ہلکی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے جس کے باعث زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں
    اس بابت لیسکو واپڈا قصور نے بیشر دیہی علاقوں کو بجلی کی فراہمی سے تقریباً انکار ہی کیا ہوا ہے
    سب ڈویژن بہادر پورہ کے بیشتر علاقوں میں کل شام 4 بجے سے آج صبح 8 بجے تک بجلی بند رہی اسی طرح سب ڈویژن راجہ جنگ کے بیشتر علاقوں میں کل دوپہر 2 بجے سے تاحال آج صبح تک بجلی مکمل بند ہے
    حسب عادت واپڈا حکام تکنیکی خرابی کا بہانہ بنا کر بجلی بند کر دیتے ہیں جس سے اہلیان علاقہ کی زندگیاں اجیرن ہو جاتی ہیں اوپر سے جمعہ کا دن ہونے کے باعث لوگوں سے جمعہ پڑھنے کی تیاری بھی نا ہو سکے گی کیونکہ بجلی نا ہونے باعث نا تو پانی ہے اور نا ہی کپڑے دھونے و استری کرنے کیلئے کوئی اور ذرائع موجود ہیں نیز بارش باعث سڑکوں پر بے پناہ کیچڑ اور پانی جمع ہے

    اہلیان علاقہ کا کہنا ہے کہ ہمارے لئے نماز جمعہ میں لیسکو واپڈا قصور حکام کیلئے دلی طور پر اعلی ترین بدعائیں ہیں جسے اللہ کبھی نا کبھی ضرور سنے گا

  • الیکشن گیا تو بجلی بھی گئی،سدا الیکشن ہی رہے،عوامی خواہش

    الیکشن گیا تو بجلی بھی گئی،سدا الیکشن ہی رہے،عوامی خواہش

    قصور
    الیکشن گیا تو بجلی بھی گئی،الیکشن دنوں میں مہمان کی طرح آرام پہنچانے والی بجلی نے جانا اور آنا شروع کر دیا،الیکشن سدا ہی رہے تو اچھا ہے معصوم عوام کی خواہش

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں الیکشن سے قبل لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی چیخیں نکلوا رکھی تھیں سخت سردی کے دنوں میں جب لوڈ نا ہونے کے برابر تھا،تب گھنٹوں بجلی بند رکھی جاتی تھی جس پہ عوام نے پرزور مطالبے کئے تاہم کوئی شنوائی نا ہوئی مگر جیسے جیسے الیکشن کے دن قریب آتے گئے غیبی امداد کی طرز پہ لوڈشیڈنگ میں کمی ہوتی گئی حتی کہ الیکشن سے ایک ہفتہ قبل سے الیکشن دن سے دو چار روز بعد تک بجلی مہمان کی طرح لوگوں کو آرام پہنچاتی رہی اور عوام نے گمان کرنا شروع کر دیا کہ شاید اب لوڈشیڈنگ نا ہوگی تاہم دو تین دن سے جب کہ الیکشن کی بازگشت بہت کم رہ گئی ہے،لوڈشیڈنگ نے لوگوں کو یاد کروا دیا کہ مہمان کبھی بھی جا سکتا ہے
    سو اب ایک بار پھر سے بجلی جانے اور آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے بابت گمان ہے کہ گرمی کیساتھ لوڈ بڑھنے سے 24 گھنٹوں میں شاید دو چار گھنٹے ہی بجلی ملا کرے گی
    معصوم اور سادا لوح عوام نے سوچنا شروع کیا ہے کہ اگر بجلی الیکشن دنوں میں رہنا لازم ہے تو سدا الیکشن ہی رہنے دیں تاکہ لوگ بجلی سے محروم تو نا رہیں

  • دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج

    دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج

    اسلام آباد: واپڈا نے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج کے اعدادوشمار جاری کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: منگل کو جاری اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 18 ہزار500 کیوسک اور اخراج 45 ہزارکیوسک ہے دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد7 ہزار 300 کیوسک اور اخراج7 ہزار300 کیوسک، خیرآباد پل پرپانی کی آمد 13 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 200 کیوسک،دریائےجہلم میں منگلاکےمقام پر پانی کی آمد 4 ہزار 700 کیوسک اور اخرا ج26 ہزارکیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 7 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 ہزار کیوسک ہے۔

    کسی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے، ترجمان الیکشن کمیشن

    تربیلاڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ،ڈیم میں پانی کی موجودہ 1476.38 فٹ ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنےکی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.103 ملین ایکڑ فٹ ہے، منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1159.55 فٹ ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.177 ملین ایکڑ فٹ ہے چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ،بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 642.10 فٹ ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.060 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی …