Baaghi TV

Tag: ورلڈ بینک

  • پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے،نگران وزیراعظم

    پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر بھی شریک تھے ،ناجے بن حاسن نے وزیر اعظم کو بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے بارے میں آگاہ کیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ عالمی بینک پسماندہ علاقوں بالخصوص بلوچستان کی ترقی ہے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے،عالمی بینک نے 2022 کے تاریخی سیلابوں میں متاثرہ لوگوں کی مدد اور بحالی کا کام کیا،متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام کو مکمل کرنے کے لئے حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی،

    ملاقات میں سندھ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے کاموں پر بھی وزیراعظم کو بریفننگ دی گئی ،عالمی بینک کی سیلاب متاثرین کے لئے امدادی رقم کی فراہمی کے حوالے سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

  • مالی سال 2024؛ تقریباً 2 بلین ڈالر کی تقسیم کو ہدف بنایا جارہا. کنٹری ڈائریکٹر

    مالی سال 2024؛ تقریباً 2 بلین ڈالر کی تقسیم کو ہدف بنایا جارہا. کنٹری ڈائریکٹر

    ورلڈ بینک کی جانب سے رواں مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستان کو 2 ارب ڈالر فراہم کیے جانے کا امکان ہے اور ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بن حسین نے ہفتہ کو نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر سے ملاقات کی جبکہ انہوں نے پاکستان میں عالمی بینک کے جاری پورٹ فولیو کی مجموعی کارکردگی پر تبادلہ خیال کیا اور اس کا جائزہ لیا۔

    بزنس ریکارڈر کے مطابق دونوں کے درمیان ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد کے لیے مختلف ترجیحی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال بھی ہوا۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی بینک کے ساتھ اپنی ترقیاتی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    جبکہ انہوں نے پاکستان کی معاشی ترقی میں عالمی بینک کی انتظامیہ بالخصوص اسلام آباد میں ملکی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔ ناجے بن حسین نے وزیر خزانہ کو جاری پورٹ فولیو کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ عالمی بینک کی انتظامیہ وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر نہ صرف جاری پورٹ فولیو کے نفاذ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، بلکہ غیر ملکی قرضوں کی تقسیم کے حجم کو بھی زیادہ سے زیادہ بڑھا رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایشیا کپ:پاک بھارت میچ بارش کے باعث روک دیا گیا
    ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث سیاستدانوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    ٹریفک حادثہ؛ چیئرمین میونسپل کمیٹی ژوب سمیت 4 افراد جاں بحق
    چترال اور سون میں سات دہشتگرد ہلاک جبکہ چھ زخمی. آئی ایس پی آر
    انہوں نے اشارہ دیا کہ مشترکہ کوششوں میں مالی سال 24 کے دوران تقریباً 2 بلین ڈالر کی تقسیم کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ نگراں وزیر خزانہ نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور معیشت کے استحکام کے لیے جاری کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ترجیحی شعبوں بالخصوص توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے نفاذ سے پاکستان اپنی ترقی کی صلاحیت کو بروئے کار لا سکے گا، اس لیے اس شعبے میں پالیسی اصلاحات متعارف کرانا اولین توجہ رہے گی۔

    کنٹری ڈائریکٹر نے وزیر کو RISE-II ڈویلپمنٹ پالیسی فنانسنگ پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، جس پر حال ہی میں ورلڈ بینک نے اقتصادی امور ڈویژن کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے 2022 میں آئے سیلاب کے دوران ورلڈ بینک کی فوری مدد کو بھی سراہا۔ تاہم، ملک میں سیلاب کے بعد کی بحالی اور تعمیر نو کی بہت زیادہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہوں نے کنٹری ڈائریکٹر سے کہا کہ وہ ملک کی ہنگامی ضروریات سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے عالمی بینک کی مزید مدد فراہم کریں۔

  • این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کیخلاف سخت کاروائی کی سفارش

    این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کیخلاف سخت کاروائی کی سفارش

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 765kv ڈبل سرکٹ ٹرانسمشن لائن داسو ہائیڈرو پاور سٹیشن سے اسلام آبادگرڈ اسٹیشن تک کی تعمیر، اس کے ٹینڈرنگ کے طریقہ کار، اب تک ہونے والے کام کی موجودہ صورتحال،و رک آرڈر، مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ ، کام کرنے والی کمپنیوں کے تجربہ، بڈنگ کے عمل میں حصہ لینے والی کمپنیوں کی تعداد وغیر کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہ ان امور کے حوالے سے کمیٹی 6 ماہ سے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ گزشتہ روز منعقد ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا تھا اور متعلقہ اداروں سے کچھ ضروری دستاویزات طلب کیے تھے۔ قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جو دستاویزات طلب کیے گئے تھے وہ فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ مانسہرہ اور اسلام آباد کے حوالے سے دستاویزات جلد کمیٹی کو فراہم کر دیئے جائیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے پر ولڈ بینک کی گائیڈ لائن کے مطابق عمل کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ورلڈ بینک کی دستاویزات اور ایویلیشن رپورٹ بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ چیف انجینئر نے کمیٹی کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کا معاہدہ 16 اگست2013 کو ہوا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے پر سائینو ہائیڈرو اور گوپا کمپنیوں نے کام کیا۔ دونوں کمپنیوں کی استعداد اتنی نہیں تھی کہ وہ اس منصوبے پر کام کر سکے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ جب ادارے کو معلوم ہوگیا تھا کہ متعلقہ کمپنیاں اس کا م کی اہلیت نہیں رکھتی تو شروع میں ہی ایکشن لیا جاتا۔ بدقسمتی کی بات ہے انتہائی اہمیت کے حامل منصوبے ہیں۔ این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے بھی آنکھیں بند کر لیں اور وزارت کے لوگ بھی اس کرپشن میں شامل رہے جو بورڈ کا کام تھا اسے وقت پر احسن طریقے سے کرنا چاہیے تھا۔ بورڈ کو ایشوز کا علم ہی نہیں اعتراضات کو دور کرنا چاہیے تھا اسی وقت فیصلہ کرتا مگر ملک کے ساتھ ذیادتی کی گئی ہے۔

    اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان امور پر کافی بحث ہو چکی ہے۔ چیئرمین کمیٹی متعلقہ اداروں کو معاملات کے حوالے سے ہدایات دیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس منصوبے پر گو پا کے کام کرنے کی استعداد نہیں تھی نہ ہی اس کام کے لئے ان کا متعلقہ تجربہ پورا تھا۔ فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق کمپنی ان کاموں کی اہل ہی نہیں اور قانون کے مطابق منصوبے کی ہر لاٹ کے لئے علیحدہ علیحدہ دستاویزات ہوتے ہیں۔ کمیٹی کسی بھی قسم کی کرپشن کو بالکل بھی سپورٹ نہیں کر ے گی۔ ادارہ ورلڈ بینک کو لکھے کہ سائینو ہائیڈرو اور گوپا کو بلیک لسٹ کیا جائے اور این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے خلاف سخت ایکشن لے اور وزارت کے دیگر لوگ جو بھی اس کرپشن میں شامل ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ ورلڈ بینک ان کمپنیوں کی جگہ کسی اور کو ری ٹینڈرنگ کریں۔ ادارے کے پاس تمام کمپنیوں کی کوالیفیکیشن موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاٹ ٹو میں بھی چیزیں واضح ہیں کہ وہ کمپنیاں کوالیفائی نہیں کرتیں۔آئندہ اجلاسوں میں بھی باقی لاٹوں کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے کل بھی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے جو ہدایات دی تھیں ان بھی عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ قائمہ کمیٹی کے کل کے ہونے والے اجلاس میں طے ہوا تھا کہ بے ضابطگیوں کے کافی ثبوت موجود ہیں جو سابقہ BoD، NTDC اور M/s GOPA Intec بطور کنسلٹنٹ کر رہے ہیں۔ اس لیے کمیٹی نے پاور ڈویژن کو مبینہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی اور کیس کو ایف آئی اے یا نیب کو بھیج کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی سفارش کی۔ مزید برآں، قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا اور پاور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ وہ کنٹریکٹ دینے میں ہونے والی بے ضابطگیوں سے آگاہ کرنے کے لیے ورلڈ بینک کو خط لکھے۔

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

  • ورلڈ بینک نے پاکستان کیلئے 10 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

    ورلڈ بینک نے پاکستان کیلئے 10 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

    اسلام آباد: ورلڈ بینک نے پاکستان کے لئے 10 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی بینک کے مطابق رقم پنجاب میں منصوبہ بندی کے پروگرام کے لئے خرچ ہوگی، پروگرام کا مقصد 60 فیصد خاندان میں منصوبہ بندی کو بڑھانا ہے منصوبہ بندی پاکستان کی ترقی کے لئے اہم ہے، زیادہ آبادی ترقی کی شرح میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے جب کہ آبادی میں اضافے سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    دوسری جانب انٹربینک میں روپے کے مقابلے میں آج بھی ڈالرکی گراوٹ کا سلسلہ جاری ہےآج انٹربینک میں کاروبار کے آغاز پر ڈالرکا بھاؤ 3 روپے 48 پیسےکم ہوکر 274 روپے ہوگیا، بعدازاں ڈالر ایک روپے 98 پیسے کمی کے بعد 275 روپے 50 پیسےکا ہوگیا انٹربینک تبادلہ مارکیٹ میں گزشتہ روز ڈالر ایک روپیہ 9 پیسے سستا ہونےکے بعد277 روپے 48 پیسے پر بند ہوا تھا،دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے سستا ہوکر 279 روپےکا ہوگیا ہے۔

    پاکستان ریلوے نیٹ ورک کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

    خیال رہےکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کا 3 ارب ڈالرز قرض پروگرام منظور کرلیا ہے، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ اسٹینڈ بائے معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے بعد فوری طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو جاری کردی جائےگی۔

    پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا ہےکہ سعودی عرب اور یو اے ای سے 3 ارب ڈالر آچکےہیں، اس سے ہمارے اسٹیٹ بینک کےذخائر میں بہتری آئے گی، آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا سوچنا بھی زیادتی ہوگی،وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلی حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی قیمت ملک نے ادا کی، کوشش ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے تک ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 14 سے 15 ارب ڈالر کے درمیان ہوں اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 9 سے 10 ارب ڈالر کے درمیان ہونے چاہئیں۔

    دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ،20 سے زائد دیہات زیر آب، زمینی …

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہےکہ پاکستان کو اس پروگرام پر پوری لگن سے عمل کرنا ہوگا، ماضی میں قرض پروگرام کی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا قرض پروگرام کی پالیسیوں پر عمل نہ ہونے کے باعث پاکستان کے اندرونی و بیرونی مالی ذخائرمیں کمی آئی، پالیسیوں پر تسلسل سے عملدرآمد کے ذریعے عدم توازن دور ہوگا۔

    جو نیازی کو کندھوں پہ بٹھا کے لائے تھے وہ ہسپتال مکمل کرواتے،وزیراعظم

  • یو این جنرل اسمبلی میں پاکستان میں سیلاب سے تباہی سے متعلق قرارداد متفقہ طورپر منظور

    یو این جنرل اسمبلی میں پاکستان میں سیلاب سے تباہی سے متعلق قرارداد متفقہ طورپر منظور

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی سے متعلق قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی۔اطلاعات ہیں کہ اس قرارداد میں پاکستان میں سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہی پر گہرے رنج اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

    اس کے علاوہ جنرل اسمبلی نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے عالمی تعاون اور امداد کی اپیل میں اضافہ کر دیا جبکہ آئندہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے پر توجہ دینے اور اقدامات کرنے پر زور دیا۔

    اس موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے 160 ممبر ممالک نے پاکستان کی قرارداد کو کو اسپانسر کیا،اس سےظاہرہوتا ہےکہ ان کی ہمدردی اورسپورٹ پاکستان کےساتھ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ قرارداد کے روٹ میپ میں پہلا پہلو سیلاب اپیل کا رسپانس ہے،سیلاب متاثرین کے لیے امداد کی اپیل 5 گنا بڑھ گئی ہے جبکہ 816 ملین ڈالرکی امداد اپیل جینیوا میں لانچ کی گئی ہے، اس کے بعد بحالی کا پلان بھی بن گیا ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ پلان 14 اکتوبر کو واشنگٹن میں ورلڈبینک کے اجلاس میں پیش کریں گے۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف ورلڈ بینک نےخدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں مون سون سے آنے والے سیلاب سے پاکستان کے 60 لاکھ سے 90 لاکھ تک شہری غربت میں چلے جاسکتے ہیں۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک نے رواں برس مون سون بارشوں کے دوران آنے والے سیلاب سے پیدا بحران کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

    پاکستان میں رواں برس غیرمتوقع مون سون بارشوں سے تباہی ہوئی تھی، جس سے ایک ہزار 700 افراد جاں بحق، 20 لاکھ گھر تباہ ہوئے اور ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا تھا۔سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے 80 لاکھ عوام بدستور بے گھر ہیں اور خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں اور سیلاب کے کھڑے پانی کے کنارے کیمپ لگائے ہوئے جہاں ان کے مویشی اور دیگر اشیا تباہ ہوچکی ہیں۔

    ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں 2.5 فیصد سے4 فیصد پوائنٹس میں اضافے کا خدشہ جو براہ راست سیلاب کے اثرات ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ روزگار چھوٹ جانا، فصلیں، گھروں کی تباہی، اسکولوں کی بندش کے ساتھ بیماریوں کے پھیلاؤ اور غذائی اجزا کی قیمتوں میں اضافے سے غریبوں کی تعداد میں 58 لاکھ سے 90 لاکھ کے درمیان اضافے کا خطرہ ہے۔ورلڈ بینک نے کہا کہ ان منفی معاشی اور سماجی اثرات کے خاتمے کے لیے بڑا وقت لگے گا۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 22 کروڑ آبادی کے حامل ملک میں پہلے 20 آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے قبل ہی شدید مسائل تھے، جہاں مہنگائی، روپے کی قدر میں بدترین تنزلی اور بیرونی ذخائر میں کمی کا سامنا تھا۔ورلڈ بینک نے کہا کہ ملک میں مالی سال 2023 کے لیے مہنگائی کی شرح 23 فیصد رہے گی۔

    خیال رہے کہ پاکستان کا دنیا میں گرین ہاؤسز گیس کے اخراج کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث پڑنے والی بدترین اثرات کا حامل ملکوں میں سے ایک ہے۔تحقیق میں کہا گیا کہ بدترین موسمی اثرات مزید عام ہورہے ہیں اور انسانوں کے پیدا بحران کے نتیجے میں مزید مسائل ہوسکتے ہیں۔

    پاکستان اس حوالے سے امیر اور کاربن کے اخراج کے بڑے ذمہ دار صنعتی ممالک سے مطالبہ کر چکا ہے وہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے باہر نکلنے کے لیے زیادہ امداد دیں۔

  • عالمی  بینک کی طرف سے پاکستان کو 258ملین ڈالر دینے کی منظوری

    عالمی بینک کی طرف سے پاکستان کو 258ملین ڈالر دینے کی منظوری

    عالمی بینک نے پاکستان کو 258 ملین ڈالرز امداد کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی بینک کی جانب سے اعلامیہمیں کہا گیا کہ پاکستان کے لیے رقم کی منظوری عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے دی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم پاکستان میں بنیادی صحت کے نظام میں بہتری کے لیے خرچ ہو گی کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی کیلئے اصلاحات کی جائیں گی-

    صوبائی ہیلتھ سسٹم کومضبوط بنانے میں بھی مدد دی جائے گی، جب کہ ہیلتھ کیئر کوریج، اسٹاف اور دواں کی سپلائی بہتربنائی جائے گی۔

    دوسری جانب ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 1232ارب روپےکی گرانٹس دی جائیں گی، وفاق سےصوبوں کو 4215 ارب روپےمنتقل ہوں گے،قرض اورسودکی ادائیگیوں کیلئے 3523 ارب روپےکاتخمینہ لگایا گیا ،حکومتی امورکیلئے 550 ارب روپے اور نان ٹیکس کی مدمیں 1626 ارب روپےحاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا فیڈرل بورڈآف ریونیو 7255 ارب کاٹیکس جمع کرےگا، وفاق کےاخراجات کاتخمینہ 9 ہزارارب روپےسےزائد ہوگا-

    ذرائع کے مطابق پنشن کی مدمیں 530 ارب روپےمختص کرنےکا،سبسڈیزکی مدمیں 578 ارب روپےمختص کرنےکاتخمینہ لگایا گیا جبکہ آئندہ مالی سال ترقیاتی بجٹ کاحجم 800 ارب ہوگا،بجٹ خسارہ 4282 ارب روپےتک محدودرکھنےکا،بجٹ خسارہ معیشت کا 5.5 فیصدتک محدودرکھنےکا کا تخمینہ لگایا گیا آئندہ مالی سال معیشت کاحجم 78 ہزار 197 ارب روپے ہوگا-

  • اومی کرون: عالمی ترقی میں سست روی، غریب ممالک میں معاشی ابتری ،ورلڈ بینک کی تہلکہ خیز رپورٹ

    اومی کرون: عالمی ترقی میں سست روی، غریب ممالک میں معاشی ابتری ،ورلڈ بینک کی تہلکہ خیز رپورٹ

    عالمی بینک نے امریکا، یورو کے خطے اور چین میں اقتصادی ترقی میں سست روی کی پیشین گوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ورلڈ بینک نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی بلند سطح، آمدن اور اخراجات میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اورکرونا وائرس کی نئی اقسام سے ترقی پذیرمعیشتوں کی بحالی کو خطرہ لاحق ہےعالمی بینک نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2022 میں عالمی معیشت کی شرح نمو گذشتہ سال کے 5.5 فی صد سے واضح طور پرکم ہوکر 4.1 فی صد تک پہنچنے کی توقع ہے اور 2023 میں مزید کم ہو کر 3.2 فی صد رہ جائے گی کیونکہ تب حکومتیں وبا کے آغاز میں مہیا کی جانے والی بڑے پیمانے پرمالی امداد کو ختم کرچکی ہوں گی۔

    "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق عالمی بینک نے اقتصادی منظرنامے کی یہ پیشین گوئی 2021ء اور 2022ءکے لیے کی ہے یہ کسی بڑے بین الاقوامی ادارے کی طرف سے کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں پہلی پیشین گوئی تھی جس میں 2020ء میں معیشتوں میں سکڑاؤ کے بعد2021 میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں بڑی تیزی کا حوالہ دیا گیا تھا لیکن خبردارکیا گیا تھا کہ طویل عرصے تک افراطِ زر،سپلائی چین اورافرادی قوت کے مسائل اور کرونا وائرس کی نئی اقسام کی وجہ سے دنیا بھر میں ترقی میں کمی کا امکان ہے۔

    وژن2030: سعودی عرب نے غیر ملکی ملازمین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے غربت، غذائیت اور صحت کے اعدادوشمارمیں پریشان کن الٹ پھیر اور اسکولوں کی بندش سے مستقل اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ترقی پذیر ممالک کو ویکسی نیشن کی کم شرح، عالمی میکروپالیسیوں اور قرضوں کے بوجھ سے متعلق شدید طویل مدتی مسائل کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں 10 سال کی عمر تک کے سترفی صد بچے بنیادی کہانی نہیں پڑھ سکتے یہ شرح پہلے 53 فی صد تھی۔

    رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہےکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں شرح نمو 2022 میں کم ہوکر 3.8 فی صد رہ جائے گی یہ 2021 میں 5 فی صد تھی اور2023 میں یہ شرح مزید کم ہو کر 2.3 فی صد ہو جائے گی تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی پیداوار اور سرمایہ کاری اب بھی 2023 تک اپنے وبا سے پہلے کے رجحان میں واپس آ جائے گی۔

    اسرائیل میں ایرانی بھرتی کی کوشش دہشت گردی، عوام ہوشیاررہیں، بینیٹ

    ورلڈ بینک نے 2021 میں امریکا کی مجموعی ملکی پیداوار کی نمو میں 1.2 فی صد پوائنٹس کی کمی کرکے 5.6 فی صد کردی ہے اور2022 میں 3.7 فی صد اور 2023 میں 2.6 فی صد کی تیزی سے کم نمو کی پیشین گوئی کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جاپان کی جی ڈی پی میں نمو 2021 میں 1.7 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔ یہ جون میں پیشین گوئی سے 1.2 فی صد پوائنٹس کم ہے جو 2022 میں بڑھ کر 2.9 فی صد ہو جائے گی۔

    توقع کی جارہی تھی کہ 2021 میں چین کی جی ڈی پی کی شرح میں 8 فی صد اضافہ ہوگا جو پہلے کی پیشین گوئی سے قریباً 0.5 فی صد پوائنٹ کم ہے، 2022 میں شرح نمو کم ہوکر 5.1 فی صد اور 2023 میں 5.2 فی صد رہے گی۔

    چین کو سبق سکھا دیا ہے،اب شاید وہ دوبارہ غلطی نہ کرے:بھارتی آرمی چیف

    جبکہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیرمعیشتوں میں ترقی کی شرح 2022 میں کم ہوکر 4.6 فی صد رہ جائے گی یہ 2021 میں 6.3 فی صد تھی جو 2023 میں کم ہو کر 4.4 فی صد رہ جائےگی اس کا مطلب ہےکہ ان کی پیداوار وبا سےپہلےکے رجحان سے 4 فی صد کم رہے گی نازک اور تنازعات سےمتاثرہ معیشتیں وباسےپہلے کے رجحان سے 7.5 فی صد کم رہیں گی جبکہ سیاحت کے خاتمے سے لرزتی چھوٹے چھوٹے جزیرے پر مشتمل ریاستوں میں شرح نمو 8.5 فی صد کم رہےگی۔

    عالمی بنک کے مطابق افراطِ زرکی بڑھتی ہوئی شرح کم آمدنی والے کارکنوں کو خاص طور پر سخت نقصان پہنچاتی ہے یہ شرح ترقی یافتہ معیشتوں میں 2008 کے بعد سب سے زیادہ ہے اور ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں2011 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول…

    "روئٹرز” کو عالمی بنک کی رپورٹ کے مصنف ایہان کوسے نے بتایا کہ کرونا وائرس کے انتہائی متعدی اومی کرون متغیّر کے تیزی سے پھیلنے سے ترقی کے عمل میں مسلسل رکاوٹ کا پتا چلتا ہے اورکہا گیا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مغلوب کرنے والا اضافہ عالمی پیشین گوئی سے مزید 0.7 فی صد پوائنٹ تک دستک دے سکتا ہے۔

    کوسے نے کہا کہ شرح سود میں اضافے سے مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اس سے ترقی کی پیشین گوئیوں کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر اگر امریکا اور دیگر بڑی معیشتیں اس موسم بہار میں شرح سود میں اضافہ کرنا شروع کردیتی ہیں تو اس سے نقصان ہوگا اس وبا نے مجموعی عالمی قرضوں کو نصف صدی کی بلند ترین سطح پرپہنچادیا ہے۔قرضوں کی پریشانی کا سامنا کرنے والے ممالک کے لیے قرضوں کی تنظیم نو کی کوششوں میں تیزی لانے اور نجی شعبے کے قرض دہندگان کو مشغول کرنے کے لیے ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے۔

    چین میں تعینات افغان سفیر نے کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا