Baaghi TV

Tag: وزرا

  • خیبرپختونخوا کابینہ میں ردوبدل، وزرا و معاونین کے محکمے تبدیل

    خیبرپختونخوا کابینہ میں ردوبدل، وزرا و معاونین کے محکمے تبدیل

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبائی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے کئی وزرا، مشیروں اور معاونین کے محکمے تبدیل کر دیے۔

    جاری نوٹیفکیشن کے مطابق باجوڑ سے منتخب ایم پی اے حمید الرحمان کو وزیراعلیٰ کا معاون خصوصی مقرر کر دیا گیا۔ ارباب عاصم کو معاون خصوصی برائے ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن تعینات کیا گیا ہے، یہ قلمدان وزیر تعلیم فیصل ترکئی کے استعفے کے بعد خالی ہوا تھا۔اعلامیے کے مطابق صوبائی وزیر خلیق الرحمان کو محکمہ صحت جبکہ صوبائی وزیر فضل شکور کو محکمہ سیاحت تفویض کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد کو مکمل وزیر بنا دیا گیا، جبکہ مشیر زاہد چن زیب کو محکمہ لیبر سونپا گیا ہے۔

    مزید برآں، صوبائی وزیر پختون یار کو محکمہ کھیل کا قلمدان، جبکہ صوبائی وزیر اسپورٹس فخر جہان کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ دے دیا گیا۔ مشیر صحت احتشام علی کو محکمہ ایکسائز کا قلمدان سونپا گیا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے ملاقات کے بعد کابینہ میں ردوبدل کا عندیہ دیا تھا، جبکہ گزشتہ روز دو وزرا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا تھا۔

    عدالتی امور ڈیجیٹلائز،سپریم کورٹ میں ای آفس سسٹم کا آغاز

    غزہ جانے والا گلوبل صمود فلوٹیلا کا اسرائیلی گھیراؤ اور لائیو فیڈ بند

    غزہ جانے والا گلوبل صمود فلوٹیلا کا اسرائیلی گھیراؤ اور لائیو فیڈ بند

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے 2 آپریشنز، 13 دہشتگرد ہلاک

  • ایوان میں وزرا  کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، پیپلز پارٹی کی رکن سحرکامران نے ایوان میں وزرا کی غیر حاضری کا معاملہ اٹھا دیا

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ہاؤس کی طرف کروانا چاہتی ہیں،جس کی وجہ سے یہاں وزرا موجود نہیں ہوتے، سوالوں کے جواب نہیں ملتے یا غلط ملتے ہیں، ایوان میں وزراء کی مسلسل غیر حاضری اور ممبران کے اُٹھائے گئے سوالات پر وقت پر جواب نہ ملنے سے یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت قومی اسمبلی کی کاروائی میں دلچسپی نہیں رکھتی، وزرا جواب نہیں پڑھتے یا ان کی توجہ نہیں ہوتی،میں دو تین اس طرح کے سوال رکھتی ہوں اس طرح کے، میں نے سوال کیا تھا کہ سعودی عرب سے سو نرسیں جعلسازی کی وجہ سے واپس آئیں ،چھ مئی کو وزیراعظم کے پاس رپورٹ دی گئی،اس پر کیا ایکشن ہوا، اسکا جواب مجھے دیا گیا کہ ہم ٹریننگ کو بہتر کر رہے ہیں لوگوں کی، پھر سوال کیا کہ پاسپورٹ امیگریشن کے متعلق،کہ بیرون ملک میں ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملی،جس کا جواب دیا گیا کہ فنڈز کی کمی ہے 117 نئی آسامیاں بنائی گئی ہیں، اس میں پورا تضا د نظر آتا ہے، ،وزارتوں کی جانب سے صحیح جواب نہیں دیئے جا رہے،اسی طرح سوئی سدرن کے حوالہ سے بھی جواب صحیح نہیں دیا گیا ایک ادارہ تباہی کے دہانے پر ہے لیکن ادھر ایکسٹیشن دی جا رہی ہے، آج میرا سوال تھا جس افسر نے جواب دیا اسکے خلاف ایکشن لینا چاہئے،منسٹری آف کامرس ٹیکسٹائل کا جواب میں لکھا گیا حالانکہ ایسی کوئی منسٹری ہی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ انٹرسٹ ریٹ کم کرنے کی حکومت کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یہ حکومت نہیں سٹیٹ بینک کی ایک کمیٹی کرتی ہے، اس طرح کے غیر سنجیدہ جواب دینا ہاؤس کی توہین ہے، یہ بہت اہم معاملہ ہے

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

     

  • پاکستان میں مائننگ انڈسٹری ،  ڈنمارک کے بڑے گروپ  کا اظہار دلچسپی

    پاکستان میں مائننگ انڈسٹری ، ڈنمارک کے بڑے گروپ کا اظہار دلچسپی

    پاکستان میں مائننگ انڈسٹری میں بھاری سرمایہ کاری، ڈنمارک کے بڑے گروپ نے کاروباری سرگرمیوں میں اظہار دلچسپی کیا ہے

    ڈنمارک کے سفیر جیکب لینولف کی سربراہی میں ڈینش کمپنی ایف ایل سمڈتھ کے سی ای او جناب میکو کیٹو نےوفاقی وزرا سے تفصیلی سیشن کیا ہے،وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عبدالعلیم خان اور جام کمال خان نے ڈنمارک بزنس گروپ سے اجلاس کیا ہے، اس موقع پر وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور بڑی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے، ایف ایل سمڈتھ مائننگ کے شعبے دنیا بھر میں اہم مقام رکھتی ہے۔

    ڈنمارک کے سفیر کا کہنا تھا کہ ڈنمارک گذشتہ 30 برسوں سے پاکستان میں سٹیٹ آف دی آرٹ منصوبوں میں سرگرم عمل ہے، سی ای او ایف ایل سمڈتھ کا کہنا تھا کہ مائننگ انڈسٹری میں قابل عمل تجاویز اور فائدہ مند منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے، وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان معدنیات کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گا،ٹیکنالوجی کے تبادلے اور طلبہ کے لیے ریسرچ و ٹریننگ کے مواقع پر بھی کام کریں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے محکمے کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی،وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک سے سرمایہ کاری بہت حوصلہ افزا ہے، مثبت نتائج سامنے آئیں گے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں دلچسپی رکھتی ہے، جام کمال خان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک کےمعدنیات کے شعبے میں تعاون اور دو طرفہ کاروباری سرگرمیوں سے ملکی معیشت مضبوط ہو گی، ڈنمارک پاکستان کا انتہائی اہم کاروباری شراکت دار ہے ہم اس کورڈیل ریلیشن شپ کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

  • قومی اسمبلی میں وزراء کی عدم دلچسپی پر حکومتی اتحادی بھی نالاں

    قومی اسمبلی میں وزراء کی عدم دلچسپی پر حکومتی اتحادی بھی نالاں

    اسلام آباد (محمد اویس) قومی اسمبلی میں وزراء کی عدم دلچسپی پر حکومت اتحادی بھی نالاں، وزیر نہ ہونے پر اپوزیشن رکن کی کورم کی نشاندہی کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا گیا ۔

    منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس شروع ہوتو توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب دینے کے لیے متعلقہ وزیر نہیں تھے جس پر حکومت اتحادی نوید قمر نے کہاکہ اگر ساڑھے گیارہ کا وقت تھا، تو منسٹر صاحبان کی ڈیوٹی بھی ڈیوٹی ہےکہ ساڑھے گیارہ بجے پہنچ کر جواب دیں، حکومت سنجیدہ نہیں لے گی تو دنیا کیسے سنجیدہ لے گی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ آج کابینہ میٹنگ تھی،اسی دوران اپوزیشن رکن اورنگزیب کھچی نے کورم کی نشاندہی کردی اپوزیشن ارکان ایوان سے اٹھ کر لابی میں چلے گئے،گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس جمعہ ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا(محمداویس)

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    اپنی ہی بیوی کو نازیبا ویڈیو لیک کرنے کی دھمکی دینے والاپہنچا جیل

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارتوں کے اخراجات اور وزرا کی تعداد کم کرنےکی تجاویز

    سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارتوں کے اخراجات اور وزرا کی تعداد کم کرنےکی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: خبررساں ادارے”دی نیوز” کے مطابق قومی کفایت شعاری کمیٹی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی ،وزارتوں/ ڈویژنوں کے اخراجات میں 15 فیصد کمی اور وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تعداد 78 سےکم کرکے 30 کرنےکی تجویز کے حوالے سے آج یعنی بدھ کو اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔

    دبئی : وفاقی وزیر مملکت اورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل سردار سلیم حیدر کے اعزاز میں پر تکلف…

    قومی کفایت شعاری کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے رپورٹ وزیراعظم کو بھیجی جائے گی۔

    اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ این اے سی نے ایک سفارش کو حتمی شکل دی ہے کہ وزراء، وزیر مملکت، مشیروں اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی تعداد کو کم کر کے صرف 30 کر دیا جائے جب کہ بقیہ ضرورت پڑنے پر قومی خزانے سے کسی قسم کے وسائل سے مستفید نہ ہوں۔ انہیں بلامعاوضہ کام کرنا چاہئے۔

    حکومت کفایت شعاری سے متعلق سفارشات کو حتمی شکل دے رہی ہے جب ملک آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے جو بنیادی طور پر مالی استحکام کا مطالبہ کرتا ہے لیکن حکومت فنڈ پروگرام پر عمل درآمد سے گریزاں ہے اس نے پچھلے ڈھائی ماہ کی مدت سے تعطل پیدا کیا۔

    این اے سی نے صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر فنڈز کا استعمال روکنے، سرکاری ضمانتوں کے ذریعے قرضے حاصل کرنے کے لیے پبلک سیکٹر انٹرپرائزز پر پابندی عائد کرنے اور کئی دیگر کی بھی سفارش کی تاہم این اے سی بجٹ کے وسائل پر بڑے اخراجات میں کٹوتیوں کے لیے بڑے ٹکٹ لینے سے گریزاں ہے جیسے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وزارتوں/ ڈویژنوں کی تعداد کو کم کرنا کیونکہ وزارتوں/ ڈویژنوں اور محکموں کی اوور لیپنگ کا کام بلا روک ٹوک جاری ہے۔

    وفاقی سطح پر کئی اوور لیپنگ وزارتیں/ ڈویژن کام کر رہے ہیں اور مرکز کو چاہیے کہ ان کی تعداد صرف پانچ سے چھ تک محدود رکھے، جن میں دفاع، خارجہ امور، مالیات، سکیورٹی شامل ہیں جبکہ دیگر تمام منقولہ وزارتوں کو ختم کر دینا چاہیے۔

    لاہور: پرانی فرنیچر مارکیٹ میں آتشزدگی، کروڑوں روپے کا سامان جل گیا

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے تشکیل دی گئی کفایت شعاری کمیٹی نے منگل کو فنانس ڈویژن میں مسلسل دوسرے روز بھی غور و خوض جاری رکھا، بہت سے شرکاء نے آن لائن دوسرے شہروں سے حصہ لیا۔

    یہ بڑی عجیب بات ہے کہ حکومت ایک جانب کفایت شعاری کے نام پر سفارشات کو حتمی شکل دینے کا کام کر رہی ہے جبکہ حکومت نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام میں 3 ارب روپے کا اضافہ کیا اور صوابدیدی فنڈنگ ​​کو 86 ارب روپے سے بڑھا کر 89 ارب روپے کر دیا جو پارلیمنٹیرینز کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ این اے سی بڑے پبلک سیکٹر اداروں کے نقصانات سے کیسے نمٹے گا کیونکہ اس سال پی آئی اے کا خسارہ 67 ارب روپے تک پہنچ گیا پاکستان اسٹیل ملز، پاسکو، پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور دیگر بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں صرف پاور سیکٹر کو 1600 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

    کراچی ایئرپورٹ پر مسافر سے ایک لاکھ سے زائد ڈالر اور سونا برآمد

    این اے سی نے آئی ایس آئی اور آئی بی سمیت انٹیلی جنس ایجنسیوں کے صوابدیدی فنڈز منجمد کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا۔ کمیٹی نے دفاعی اخراجات میں کمی کی تجویز پر غور کیا تاہم سیکرٹری دفاع نے جواب دیا کہ مہنگائی اور شرح مبادلہ میں کمی کےپیش نظر یہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ تاہم کمیٹی کفایت شعاری کے اس وقت غیر جنگی اخراجات کو معقول بنانے پر غور کر سکتی ہے۔

    کمیٹی نے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی، مقامی اور بیرون ملک تمام مراعات منجمد کرنے اور مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں میں غیر ضروری آسامیوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کیا۔

    ورلڈ بینک نے پاسکو کو ترک کرنے کی سفارش کی تھی کیونکہ کسانوں اور ملرز کے درمیان براہ راست روابط ہونے چاہئیں اور اس قسم کی بین ثالثی تنظیم کو ختم کر دینا چاہیے۔پاسکو کے پاس 900 ارب روپے کا قرضہ جمع ہو چکا ہے اور یہ ایک اور قسم کے گردشی قرضے کا انبار لگا رہا ہے، جسے حکومت کو دن کے آخر تک ختم کرنا ہو گا۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئلی مذاکرات

    اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ این اے سی نے اپنی داخلی میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ پانچ دنوں میں اپنی سفارشات کو حتمی شکل دی جائے تاکہ وہ فنانس ڈویژن کے جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن میں 15 دن کی دی گئی آخری تاریخ سے بہت پہلے اپنی حتمی سفارشات پیش کر سکیں۔

    وزارت خزانہ کے ایک افسر نے تبصرہ کیا کہ این اے سی بڑی سفارشات کر رہی ہے لیکن موجودہ حکومت کے لیے ایسی کسی بھی تجویز پر عمل درآمد کرنا مشکل ہو گا۔ یہ صرف ایک ڈیبیٹنگ کلب رہے گا اور حکومت اپنےدور اقتدار کے اختتام کے وقت کوئی بڑا فیصلہ لینے کی جانب بڑھنے کے بجائے صرف اچھا تاثر دینے والے کام پر عملدرآمد کرے گی جب سیاسی درجہ حرارت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے سابق بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ کی سربراہی میں قومی کفایت شعاری کمیٹی تشکیل دی تھی۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کا ڈالر ریٹ کیپ ختم کرنےکا فیصلہ

    یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کو گیس مہنگی کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کرنے کے علاوہ پاکستانی روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے روکنے اور بجلی کی قیمت مہنگی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • پنجاب کابینہ میں توسیع: 15 مزید وزراء شامل کرنے کا امکان

    پنجاب کابینہ میں توسیع: 15 مزید وزراء شامل کرنے کا امکان

    لاہور:پنجاب کابینہ میں توسیع: 15 مزید وزراء شامل کرنے کا امکان،اطلاعات کےمطابق پنجاب کابینہ میں‌ توسیع کا فیصلہ ہوگیا ہے اوراس سلسلے میں بہت جلد 12 سے 15 صوبائی وزراء کو پنجاب کابینہ میں شامل کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں‌ ایک ہفتے میں ہی پنجاب کابینہ میں رد و بدل کے بعد اب کابینہ میں توسیع کے لئے 12سے 15 ارکان کو کابینہ میں شامل کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔

    پنجاب کابینہ کے وزرا نے عہدوں کا حلف اٹھا لیا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کابینہ میں جلد توسیع کا امکان ہے، اور کابینہ کی توسیع میں ق لیگ کے ارکان کو بھی شامل کئے جانا متوقع ہے۔ اس سے قبل ق لیگ کا ایک بھی رکن کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی، سابق صوبائی وزیر مخدوم ہاشم جواں بخت، جہانزیب کچھی کی بھی کابینہ میں شمولیت متوقع ہے۔اس کے علاوہ امیر محمد حسن خیلی، حافظ ممتاز، عبد الحئی دستی، غضنفر قریشی، محی الدین کھوسہ، اور راجہ راشد حفیظ کا نام بھی ممکنہ صوبائی وزراء میں شامل ہے۔

    پنجاب کابینہ کی حلف برداری مؤخر

    نئی توسیع شدہ کابینہ میں ق لیگ کے حافظ عمار یاسر اور باؤ رضوان کے علاوہ صمصام بخاری، ظہیر عباس کھوکھر کو بھی شامل کئے جانے کا امکان ہے، جب کہ رائے تیمور بھٹی، آشفہ ریاض فتیانہ ، خوشاب سے ملک حسن اسلم اعوان کا نام بھی زیرغور ہے۔

     

     

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس کورم کی نذرہو گیا،مہنگائی،امن وامان،آئینی بحران پر عام بحث ایجنڈا میں شامل ہونے کے باجود تیسرے روز بھی نہ ہو سکی،اپوزیشن ارکان کا کورم کی نشاندہی پر شور شرابا،حکومت نے شور شرابا میں چار بل ایوان میں متعارف کردئیے۔

    آنٹی پیرنی کا گلے کا لاکٹ ہاتھ کی انگوٹھی، اس کا حساب کون دے گا؟ طلال چودھری

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر واثق قیوم عباسی کی زیر صدارت 2 گھنٹے چودہ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس میں محکمہ زراعت و آبپاشی کے کئی ماہ پرانے سوالات ایجنڈے میں شامل ہونے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے اعتراضات اٹھا دئیے۔

     

    صوبائی وزیر راجہ بشارت بولے ایوان میں سوالات کے جواب تاخیر سے آنے پر کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ رولز آف پروسیجر میں ترمیم کی جائے۔پیپلزپارٹی کے سید عثمان محمود نے کہا تین سال پی ٹی آئی حکومت رہی لیکن جواب اب آ رہے۔ڈپٹی سپیکر نے سوالات کے جواب میں تاخیر ہونے کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دینے کی رولنگ دیدی۔

     

     

    اجلاس میں محکمہ زراعت و آبپاشی سے متعلق سوالات کے جوابات میں صوبائی وزیر حیسن جہانیاں گردیزی نے کہا پی ٹی آئی حکومت کے دور میں شعبہ زراعت نے ترقی کی،جس کا اعتراف ن لیگ کی حکومت نے بھی کیا۔

     

     

    جب باری آئی مہنگائی،امن و امان اور آئینی بحران پر بحث کی تو اپوزیشن ارکان نے کورم کی نشاندہی کردی،مہنگائی،آئینی بحران اور امن و امان پر بحث تو نہ ہو سکی لیکن حکومت نے اپوزیشن کے شور شرابا میں ایوان میں چار بل پیش کر دئیے۔

     

     

    راجہ بشارت نے موٹر گاڑیاں ترمیمی بل،سیڈ کارپویشن ترمیمی بل،فیکٹریز ترمیمی بل اور جنگلات ترمیمی بل 2022 ایوان میں متعارف کرائے۔ڈپٹی سپیکر نے بلز کمیٹی کو ریفر کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

  • پنجاب حکومت نے وزرا کے سرکاری پیٹرول پر پابندی عائد کردی

    پنجاب حکومت نے وزرا کے سرکاری پیٹرول پر پابندی عائد کردی

    لاہور: صوبائی وزیر عطااللہ تارڑ کا کہنا ہےکہ پنجاب میں وزرا کے سرکاری پیٹرول پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ آٹے کی اسمگلنگ روکنےکے لیے پنجاب کے بارڈرزکی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں وزیروں پرسرکاری پیسے سے پیٹرول کے استعمال پرپابندی لگادی گئی ہے، کوئی بھی وزیر سرکاری پیٹرول نہیں لے گا، تمام وزرا ذاتی خرچ پر پیٹرول ڈلوائیں گے، سرکاری کام کے لیے جانے والے وزرا بھی ذاتی خرچ پرپیٹرول ڈلوائیں گے، اس کے علاوہ سی ایم ہاؤس پر شاہانہ اخراجات پر فوری پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، پنجاب حکومت بجٹ میں بڑا ریلیف دے گی اور مختلف سبسڈیز فراہم کی جائیں گی۔

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    عطا تارڑ نے کہا کہ آٹے کی اسمگلنگ روکنےکے لیے پنجاب کے بارڈرزکی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے،پنجاب نے 50 لاکھ ٹن گندم کے حصول کا ہدف پورا کیا ہے اور پنجاب حکومت گندم کی قلت کا شکار صوبوں کی مدد کرے گی۔

    صوبائی وزیرنےعمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا کہ عمران نیازی سے زیادہ ڈرپوک ملکی تاریخ میں نہیں آیا، وہ آج بھی سرکاری اخراجات پر پل رہا ہےعمران نیازی منرل واٹربھی کے پی حکومت کےخرچ سے پیتا ہے عمران نیازی نے اپنے دور حکومت میں ملک وقوم کو دیوالیہ کردیا، انہوں نے دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا، عثمان بزدار کی رہائشگاہ پر عوام کے پیسے کو بیدردی سے خرچ کیا گیا۔

    پنجاب کے صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑ نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز آج احتساب عدالت میں پیش ہو ئے۔ یہ مقدمات پچھلے دور حکومت میں سیاسی انتقام لینے کے لیے بنائے گئے ۔ سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا ۔

    عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہمارے پچھلے دور حکومت میں مہنگائی کی شرح 4فیصد تھی اور اب مہنگائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو پی ٹی آئی حکومت کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ ہم نے تمام مقدمات کا سامنا کیا اور اور ہر پیشی پر عدالت کے روبرو پیش ہو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے پچھلے چار سالوں میں عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ 4سال کے دوران ملک کا دوالیہ نکال دیا گیا۔ فرح گوگی کے زریعے اربوں روپے کی کرپش کی گئی۔عمران خان نے کہا کہ سائیکل پر دفتر جاوں گا اور موصوف روزانہ ہیلی کاپٹر پر گھومتے رہے ۔پورے پنجاب میں غریب عوام کوسستے آٹے کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ حکومت سستے آٹے کی مد میں 16 ارب روپے ماہانہ سبسڈی دے رہی ہے۔ پورے پنجاب میں دس کلو آٹے کا تھیلا 490 روپے میں دستیاب ہے۔غریب عوام کوریلیف فراہم کرنے کے لیے ہماری حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اشیا خوردونوش اور منگائی کنٹرول کرنے کے لیے ہر ضلع کے سیاسی رہنمااورافسران کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ 50لاکھ ٹن گندم کا ٹارگٹ ہم نے مکمل کیا۔ ۔مسلم لیگ نون کی حکومت تمام چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خلوص نیت اور درست ڈائریکشن کے ذریعے تمام مسائل پر قابو پالیا جائے گا پنجاب حکومت بجٹ میں غریب عوام کو لئے بہت بڑا ریلیف فراہم کرے گی۔ عمران خان آج بھی کے پی کے حکومت کے سرکاری پیسے کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔عمران خان خیبرپختونخوا کی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اتحادی حکومت نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پٹرول کی قیمتیں بڑھائیں تو سابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی اور کہا کہ عوام پر پٹرول بم گرا دیا گیا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کا معاہدہ تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا تھا اور یہ طے تھا کہ تیل کی قیمتیں 30 روپے تک بڑھائی جائیں گی ،آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف کے معاہدے کی کاپی باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے، معاہدہ فروری 2022 میں کیا گیا تھا جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابھی تک جمع نہیں ہوئی تھی،تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا تھا-

    تحریک انصاف کے رہنما، وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے معاہدے کے اعتراف کر چکے ہیں پی ٹی آئی کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے قبول کرلیا کہ موجودہ مہنگائی، ڈالر، پٹرول اور بجلی کی قیمیتیں آئی ایم ایف سے ہمارے کئے گئے معاہدوں کی وجہ سے بڑھیں ہیں.

    پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر مسلم لیگ ن کی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے حالانکہ یہ پی ٹی آئی کی حکومت کی ڈیل تھی آئی ایم ایف کے ساتھ ،اب آپ کہ رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ ہونے جارہا ہے تو دو ماہ پہلے آپ کی حکومت تھی تو تب ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا تھا ؟

    تحریک انصاف کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالہ سے قوم کو سچ بتانا چاہئے اور عمران خان میں اتنی جرات ہونی چاہئے کہ وہ قوم کو سچ بتائیں کہ یہ معاہدہ ہم کر کے گئے تھے، پاکستانی قوم کو مہنگائی میں جکڑنے کے ذمہ دار عمران خان اور انکی کابینہ ہے جنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ 30 روپے پٹرول کی قیمت بڑھانے کا معاہدہ کیا، اب سب سامنے آ چکا،عمران خان جو یوٹرن خان کے نام سے مشہور ہیں قوم کو جھوٹ بتانے کی بتائیں سچ بتائیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک انصاف کے احتجاج میں بھی اس بات کو بتایا جائے کہ یہ گڑھا تحریک انصاف نے ہی عوام کے لئے کھودا تھا، اب صرف سیاست کی جا رہی ہے-

    لاہور: چلڈرن اسپتال کی تیسری منزل پر آتشزدگی

  • وزارت اطلاعات ٹاپ 10 میں جگہ بنانے میں ناکام

    وزارت اطلاعات ٹاپ 10 میں جگہ بنانے میں ناکام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ہم اسلام آباد پہنچیں گے اور وزیراعظم سے حساب لیں گے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت کی نااہلی بے نقاب کریں گے،ہمیں حکومت کیخلاف عدم اعتماد مہم چلانی ہے،سابق صدر پرویزمشرف بھگوڑا ثابت ہوچکا،عمران خان کا بھی یہی حال ہو گا،آج عمران خان خود ہی اپنے وزرا میں سرٹیفکیٹ بانٹ رہے تھے ،عمران خان نے ملتان سے ناانصافی کی ،صرف دس وزیر عمران خان کی شاباشی کے لائق ہیں،ہمارے وزیر خارجہ کو ایک سرٹیفکیٹ بھی نہیں ملا،10چہیتوں کو عمر ان خان نے سرٹیفکیٹ دیئے اورباقی وزرا پر عدم اعتماد ظاہر کیا،مارچ آنے سے پہلے ان کا ایک وکٹ گر چکا ہے ہم نے اس کٹھ پتلی نظام کا خاتمہ کرنا ہے،ملتان والوں کے ساتھ زیادتی ہے کہ اُنکے وزیرِ خارجہ کو سرٹیفکیٹ نہیں مِلا اگر چین کا دُورہ اِتنا ہی کامیاب تھا تو ایک کاغذ کا سرٹیفکیٹ بنتا تھا-پیپلزپارٹی نے سلیکٹڈ اور نالائق حکومت کیخلاف اعلان جنگ کیا،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم کہیں نہیں بھاگے،صدر زرداری بھی یہیں ہے، میں بھی یہیں ہوں، آصفہ بھی یہیں ہے، پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو۔ حکومت تبدیلی کے نام پر تباہی کر رہی ہے،تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن خان صاحب کی حکومت نے کی،عمران خان ہمیں اور ہمارے مخالف کو بھی چور چور کہتے تھے، آصف زرداری اور میں بھی موجود ہوں، پکڑ سکتے ہو تو پکڑلو،

    پیپلز پارٹی کے رہنما، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حکومت کیلئےایوارڈعوام کی پذیرائی ہوتی ہے، مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ٹیم کےکپتان نے اپنی ٹیم کومبارکباد پیش کی،وزیراعظم کہتے ہیں معیشت کودوبارہ سے کھڑا کر دیا،وزیرخزانہ شوکت ترین کا ایوارڈکیلئے نام نہیں کہتے ہیں دنیا میں پاکستان کی بہترطریقے سے نمائندگی کی ،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کوایوارڈ نہیں دیا گیا ،وزارت اطلاعات اچھا کام کررہی ہے توفواد چودھری کوایوارڈ کیوں نہیں دیا گیا؟

    پیپلزپارٹی کی مرکزی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے "بہترین کارکردگی” دکھانے والے وزراء کو تعریفی سرٹیفکیٹ دیئے ہیں جو قوم کے ساتھ ایک اور مذاق ہے، وزیراعظم گالم گلوچ اور الزام تراشی کی بہترین کارکردگی پر وزراء کو ضرور تعریفی سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں حکومت کی تین سالہ کارکردگی بدانتظامی، کرپشن اور ناکامیوں سے بھری ہوئی ہے، کون سی وزارت ہے جس کی وجہ سے ملک میں بحران پیدا نہیں ہوا؟ ہر وزارت میں بحرانی صورتحال ہے معیشت، خوراک، پیٹرولیم، توانائی، خارجہ، داخلہ، صحت اور دیگر تمان وزارتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، وزراء اورحکومت کی کارکردگی پر اب عوام ووٹ کے ذریعے اپنی رائے دیں گے

    وزیراعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹاپ 10 وزارتوں کا اعلان کردیا ،وزارت خارجہ ، وزارت اطلاعات ٹاپ 10 میں جگہ بنانے میں ناکام ہو گئی ہیں،وزارت خزانہ بھی متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی وزارت ریلوے ، بحری امور ، وزارت توانائی کی کارکردگی بھی متاثر کن نہ رہی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ،وزارت دفاع اور موسمیاتی تبدیلی بھی نام بنانے میں ناکام رہی

    وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہزادارباب نےپہلےہی بتا دیا تھا ٹاپ 10کون ہیں اس لیے باقی وزرانہیں آئے وزارت مواصلات بہترین کارکردگی میں نمبر ون قرار پائی ہے ،بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرنیوالی وزارتوں کومراعات دی جائیں گی بیوروکریسی میں کارکردگی کی بہتری کے لیے مراعات دینے چاہییں سزا اورجزا کے بغیر نظام نہیں چل سکتا،پرائیویٹ سیکٹر میں سرٹیفکیٹ بہترین کارکردگی پردیئے جاتے ہیں لوگ نجی اسپتالوں کا رخ اس لیے کرتے ہیں کہ سزا جزا کا قانون نہیں،دیگر وزراسے بھی کہوں گا محنت کریں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ارباب شہزاد کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتاہوں وزارتوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تعریفی اسناد سے آئندہ بھی وزارتو ں کی کارکردگی بہتر ہوگی،دنیا میں وزارت ہو یا شعبے سب میں سزا اور جزاکا نظام ہونا چاہیے،وزارتوں پر اسناد ان کی اچھی کارکردگی پر دینا مثبت کام ہے میرا خیال تھا تبدیلی جلدی لائی جاتی ہے مگر نظام میں کمزوریوں کے باعث ایسا نہیں ہوتا

    دوسری جانب ٹاپ ٹین میں نام نہ آنے پرفواد چودھری کا کہنا ہے کہ کابینہ کے دس وزارتوں کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد، ہم اس بار اس لئے جگہ نہیں بنا سکے کہ کارکردگی ان پراجیکٹس پر عملدرآمد سے جانچی جاتی ہے جو وزارت وزیراعظم آفس کو دیتی ہے میں نے کچھ منصوبوں میں ردوبدل کیا ہے جو میرے خیال میں زیادہ سود مند ہوں گے اگلی دفعہ انشاللہ 🙂

    وزراء میں بہترین کارکردگی کے لیے تعریفی اسناد مراد سعید کا پہلا نمبر،اسد عمر دوسرے نمبر پر براجمان . ثانیہ نشتر کا تیسرا نمبرہے چوتھے نمبر پر شفقت محمود، پانچویں نمبر پر شیریں مزاری رہیں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی وفاقی وزارتوں میں مواصلات،منصوبہ بندی، ہوا بازی، تعلیم، صنعت، قومی سلامتی، تجارت، داخلہ، قومی غذائی تحفظ اورانسانی حقوق کی وزارتیں شامل ہیں

    وزیراعظم عمران خان کوملازمین پرترس آگیا:سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

    وفاق میں بہترین کارکردگی دکھانے پر تمام وزراء کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے، نئے پاکستان میں عوامی فلاح وبہبود کے کاموں کو سراہنا قابل ستائش ہے

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کیا ہے حکومت نے کم تنخواہ والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کردیا، تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق یکم مارچ سے ہوگا۔ ذرائع کے مطابق بی ایس 1 سے 19 گریڈ تک کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ پر 15 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

    آئی جی پنجاب کا پب جی گیم پر پابندی کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کو خط

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ 15 فیصد سپیرٹی الاؤنس میں اضافے کی سفارش کردی گئی ہے، صوبائی حکومتوں کو بھی ملازمین کو اپنے فنڈز سے الاؤنس دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ بعد میں ہوگا، ٹائم اسکیل پروموشن کی سمری پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    اس سے قبل سینیٹر فیصل جاوید نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا تھا کہ مہنگائی میں کمی آنے کے ساتھ تنخواہوں میں بھی اضافہ کیاجائے گا۔فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ریکارڈ ایکسپورٹس، ترسیلات اور ریونیو کلیکشن سے چند ہفتے میں مہنگائی میں کمی آئے گی۔

    بلاول بھٹو نےحکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا