Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم

    حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے، تاہم پاکستان دہشت گردی کے اس چیلنج کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔

    بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ اور پشتون عوام نے قیامِ پاکستان کے وقت تاریخی کردار ادا کیا اور اپنی قیادت کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کرکے قومی وحدت کو مضبوط بنایا، بلوچستان کی محب وطن قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور شریک رہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا لیکن رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں طویل فاصلے اور دشوار جغرافیہ ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں، اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق میں نمایاں اضافہ کیا گیا، اس فیصلے میں تمام صوبوں نے اتفاق کیا، جبکہ پنجاب نے رضاکارانہ طور پر سالانہ 11 ارب روپے اضافی دینے کا فیصلہ کیا اور 2010 سے اب تک تقریباً 150 ارب روپے بلوچستان کے لیے فراہم کیے جا چکے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ وفاقی یکجہتی اور بھائی چارے کا تقاضا تھا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ میاں نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی صوبے کے جائز مطالبات پورے کرنے کو ترجیح دی ہے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 75 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں وفاق نے تقریباً 50 ارب روپے فراہم کیے، تاکہ کسانوں کو بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے،بلوچستان کی ترقی کےلیے وفاقی حکومت کوئی کمی نہیں چھوڑے گی-

    وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک ایم-25 شاہراہ، جسے ماضی میں مسلسل حادثات کے باعث “خونی سڑک” کہا جاتا تھا، اسے جدید ایکسپریس وے میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تقریباً 300 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن ہوگا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ڈیڑھ سے دو برس میں یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ شاہراہ ترقی، تجارت اور امن کی علامت بن جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں اگر صرف ایک یا دو صوبے ترقی کریں اور د یگر پیچھے رہ جائیں تو اسے پاکستان کی ترقی نہیں کہا جا سکتا وفاق کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے ہر حصے کو مساوی ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

    وزیراعظم نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس عبدالقادر اور ان کے ساتھی اہلکار سمیت دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جن میں شہری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افواجِ پاکستان کے افسران و جوا ن شامل ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ 2017 اور 2018 تک پاکستان دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا چکا تھا، لیکن بعد ازاں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو دہشت گرد عناصر کو مالی اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہےپاکستان نے بارہا افغان عبو ری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہزار کلومیٹر سے زائد مشترکہ سرحد موجود ہے اور خطے میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، تاہم، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے، مگر پاکستان کے دشمن ان کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پا رہے انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائے تاکہ پاکستان دنیا میں اپنا حقیقی مقام حاصل کر سکے۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے قومی اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور انتھک محنت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ چاروں صوبوں اور 24 کروڑ عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

  • عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات نوجوان نسل کے لیے قابلِ تقلید ہیں، وزیراعظم

    عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات نوجوان نسل کے لیے قابلِ تقلید ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معروف سماجی کارکن اور انسان دوست شخصیت عبدالستار ایدھی کی دسویں برسی پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے-

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عبدالستار ایدھی کی دسویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ عبدالستار ایدھی جیسی انسان دوست اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار شخصیت بلا شبہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر اور ایک قومی اثاثہ ہے،وہ عبدالستار ایدھی کی گراں قدر قومی اور فلاحی خدمات پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ عبدالستار ایدھی نے رفاہِ عامہ کے مخلصانہ جذبے کے تحت معاشرتی مسائل کے حل کے سماجی پہلوؤں کو اجاگر کیا اور ان کی بے مثا ل خدمات پاکستان کی سماجی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب ہیں عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات نوجوان نسل کے لیے قابلِ تقلید ہیں، انہوں نے اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق معاشرتی اصلاح اور انسانیت کی خدمت میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ عبدالستار ایدھی کی عوامی خدمات نے معاشرے میں احساسِ ذمہ داری، رواداری اور باہمی ہم آہنگی جیسی مثبت اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ رہیں گی انہوں نے عبدالستار ایدھی کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سماجی اور فلاحی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی عبدالستار ایدھی کی دسویں برسی پر اپنے پیغام میں انہیں خدمتِ خلق اور انسانیت کی روشن مثال قرار دیا کہا کہ ایدھی نے اپنی زندگی غریبوں اور بے سہارا افراد کی خدمت کے لیے وقف کی جبکہ دنیا کا سب سے بڑا رضاکارانہ ایمبولینس نیٹ ورک قائم کرنا ان کا عظیم کارنامہ ہے عبدالستار ایدھی قومی فخر اور انسانیت کی لازوال علامت ہیں اور ان کی شفقت اور انسان دوستی کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا۔

  • بڑے  ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    بڑے ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف نےمتعلقہ حکام کوبجلی تقسیم کار بڑے اداروں(ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے-

    بجلی تقسیم کار سرکاری کمپنیوں(ڈسکوز) کی نجکاری سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی حصص کی فروخت شفاف اور مؤثر انداز میں کی جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے اور عوام کا اعتماد بھی برقرار رہےانہوں نے ہدایت دی کہ نجکاری کے بعد ایک مضبوط ریگولیٹری نظام قائم کیا جائے تاکہ صارفین کے مفادات کا تحفظ ہو اور بجلی تقسیم کے نظام میں بہتری آئے،ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے، تاکہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے اور معیشت پر مالی دباؤ کم ہو۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپگو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) سمیت متعدد کمپنیوں کی نجکاری کی منصوبہ بندی جاری ہے ان تینوں کمپنیوں کے لیے اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) پہلے ہی قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جا سکے۔

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

    اجلاس کو بتایا گیا کہ کابینہ کی نجکاری کمیٹی ان کمپنیوں کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے چکی ہے، جبکہ اس وقت مارکیٹ انگیجمنٹ اور سرمایہ کاروں سے رابطے کا عمل جاری ہےاس ماہ مختلف روڈ شوز بھی منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے سعودی عرب، ترکیہ اور چین میں خصو صی سیشنز بھی طے کیے گئے ہیں تاکہ اس عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت اور مسابقت کو یقینی بنایا جا سکے اس اقدام سے حکومت پر مالی دباؤ کم ہوگا اور بجلی کی تقسیم کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

    اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیرِاعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی-

    ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انتظامی بحران کا شکار،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

  • وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے،صدر کی وزیراعظم کو ہدایت

    وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے،صدر کی وزیراعظم کو ہدایت

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، داخلی و علاقائی صورتحال اور دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرا عظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ بھی موجود تھےملاقات میں سینیٹر شیری رحمان، رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر احد چیمہ بھی شریک تھے، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور اور رکن قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے بھی شرکت کی۔

    ملاقات کے دوران ملکی معیشت، آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ، گلگت بلتستان کے حالیہ انتخا بات، آزاد کشمیر کی صورتحال، امن و اما ن اور دیگر قومی اہمیت کے معاملات پر گفتگو کی گئی بجٹ تجاویز اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے صدر مملکت نے زور دیا کہ وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائےصدر نے ہدایت کی کہ آنے والے بجٹ میں اقتصادی ترقی کی شرح اور عوامی فلاحی منصوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صدرِ مملکت کو اپنے حالیہ دورہ ایران اور علاقائی سطح پر ہونے والے سفارتی رابطوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

  • جنوبی کوریا میں دو دہائیوں میں پہلی بار  خاتون بطور وزیر اعظم نامزد

    جنوبی کوریا میں دو دہائیوں میں پہلی بار خاتون بطور وزیر اعظم نامزد

    جنوبی کوریا کی صدر لی جے میونگ نے کاروباری اور ٹیکنالوجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ہان سیونگ سوک کو ملک کا نیا وزیرِ اعظم نامزد کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہان سیونگ سوک جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ناوِر کی سابق چیف ایگزیکٹو رہ چکی ہیں اور انہیں ملک کے ڈیجیٹل اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی نمایاں شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے،مزید برآں ہان سیونگ جنوبی کوریا میں 20 سال میں نامزد ہونے والی پہلی وزیر اعظم ہیں۔

    صدر لی جے میونگ کا کہنا ہے کہ ہان سیونگ سوک کی نامزدگی کا مقصد معیشت میں جدت، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ سیکٹر کو مزید فروغ دینا ہے۔

    مبصرین کے مطابق ایک کاروباری رہنما کو وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے منتخب کرنا نئی حکومت کی اقتصادی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے تاہم ان کی تقرری کو حتمی شکل دینے کے لیے جنوبی کوریا کی نیشنل اسمبلی میں سماعت اور توثیق کا عمل درکار ہے۔

  • وزیراعظم  نے نئے کاروباری اوقات کار کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کار کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔

    کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔

    نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تا کہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

  • پاکستان اور چین کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط

    وزیراعظم شہباز شریف اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان متعدد معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز)، پروٹوکولز اور تعاون سے متعلق دستاویزات پر دستخط اور ان کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق یہ معاہدے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، میڈیا اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق ہیں، دستخط شدہ دستاویزات میں تعلیمی تعاون اور تبادلوں سے متعلق ایگزیکٹو پروگرام، خشک میوہ جات اور مکئی کی برآمدات کے لیے قرنطینہ اور نباتاتی صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکولز، زرعی شعبے میں ترقیاتی تعاون اور جانوروں کی ویکسینز سے متعلق لیٹر آف ایکسچینج شامل ہیں جبکہ اقتصادی ترقی، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔

    علاوہ ازیں پاکستان نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور چین کی نیشنل اکیڈمی آف گورننس کے درمیان، جبکہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور چائنا ایسوسی ایشن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان بھی تعاون کی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا،میڈیا کے شعبے میں Xinhua News Agency اور Pakistan Broadcasting Corporation کے درمیان مفاہمتی یادداشت جبکہ China Media Group اور Pakistan Television کے درمیان مشترکہ ڈاکیومنٹری پروڈکشن کے تعاون پر اتفاق ہوا، پاکستان اور چین نے آزاد تجارت اور کثیرالجہتی نظام کی حمایت سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے، جبکہ چین کے صوبہ ژجیانگ اور پنجاب کے درمیان سسٹر-پروونس تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان معاہدوں پر دستخط پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعاون اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ معاہدے اہم شعبوں میں نئے مواقع پیدا کریں گے اور دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی اور فلاح و بہبود میں مددگار ثابت ہوں گے۔

  • پاکستان کو محض قرضوں کی نہیں بلکہ مہارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    پاکستان کو محض قرضوں کی نہیں بلکہ مہارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جلد خطے میں ترقی کے سفر میں چین کے ہم قدم ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے، پاکستان کو محض قرضوں کی نہیں بلکہ مہارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

    پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ پاک چین بزنس ٹو بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور اب آسمانوں کو چھو رہی ہے، ہانگژو جیسے خوبصورت اور ترقی یافتہ شہر کا قیام صدر شی جن پنگ کے وژن کا نتیجہ ہے، جنہوں نے چین کو دنیا کی ایک بڑی اقتصادی اور عسکری طاقت بنایا، پاکستان بھی اسی رفتار سے ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے اور جلد خطے میں چین کا ہم قدم ہوگا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں سے تقریباً 30 فیصد مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) عملی معاہدوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جن کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچتی ہے، پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو آئی ٹی ٹریننگ اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون کے اہم شعبوں میں زراعت، آئی ٹی، اکنامک زونز اور معدنیات شامل ہیں، اور ان شعبوں میں تیزی سے پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے پاکستان میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے پاکستان کو قرضوں کے بجائے مہارت اور براہِ راست سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،پیداوار بڑھانے کے لیے بہتر بیج، جدید مشینری اور عالمی معیار کے طریقے اپنانا ہوں گے، جبکہ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جائیں گے اکنامک زونز میں ون ونڈو آپر یشن اور سرمایہ کاروں کو ریڈ کارپٹ سہولیات دی جائیں گی، کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جا رہا ہے-

  • صدرمملکت سے وزیراعظم کی ملاقات

    صدرمملکت سے وزیراعظم کی ملاقات

    صدر مملکت آصف زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کی جس میں صدر مملکت نے وزیراعظم کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی صورت حال کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایوان صدر میں ملاقات کی ہے ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزیرِداخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال، افغانستان سے متعلق امور اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں معرکہ حق کے شہدا اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین، قومی دفاع پر غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    صدرِ مملکت نے کہاکہ مشکل جغرافیائی و علاقائی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی چین متاثر ہونے کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے صدرِ مملکت نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی۔

  • صدر مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات،قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    صدر مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات،قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوئےاس موقع پر قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے بھی شرکت کی ملاقات میں قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ خطے کی بدلتی صورتحال اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا، شرکا نے معاشی، توانائی اور سیکیورٹی چیلنجز پر بھی مشاورت کی،اس موقع پر قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اپنانے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔