Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • مشرق وسطیٰ میں قیام امن وقت کی اہم ضرورت ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    مشرق وسطیٰ میں قیام امن وقت کی اہم ضرورت ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس میں نگران وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں،

    ترجمان دفترخارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حریت جماعتوں پر بھارتی حکومت پابندیاں عائد کررہی ہے،کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق حق خود ارادیت ملنا چاہیے، پاکستان غزہ میں اسرائیل کی جاحیت کی مذمت کرتا ہے،غزہ میں شہری آبادی کی نشانہ بنایا گیا، معصوم بچے ،خواتین شہید ہوئیں،نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی طرف سے زمین تنگ کی جارہی ہے،اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سیز فائر کی بھرپور کوشش کرے،مشرق وسطیٰ میں قیام امن وقت کی اہم ضرورت ہے،

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ چینی صدر کی خصوصی دعوت پر نگران وزیر اعظم چین کا دورہ کررہے ہیں نگران وزیر اعظم بی آر ایف کی تقریب میں خطاب کریں گے،نگران وزیر اعظم اہم کاروباری اداروں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے،

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

  • پی آئی اے کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے دن رات کام کریں، وزیراعظم

    پی آئی اے کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے دن رات کام کریں، وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا،

    اجلاس میں نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر, مشیر نگران وزیراعظم براے ہوا بازی ایئر مارشل رٹائرڈ فرحت حسین مشیر نگران وزیراعظم احد چیمہ اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی.نگران وزیراعظم کو پی آئی اے کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی آئی اے ایکٹ 2016 میں حالیہ ترمیم سے پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کی راہ استوار ہوئی ہے

    اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پی آئی اے ایک اہم قومی ادارہ ہے جس کا شمار ایک زمانے میں دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا تھا . نگران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دور دراز علاقوں کا ملک کے دیگر شہروں سے فضائی رابطہ مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں . انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی پروازوں کے اوقات کار مسافروں کی سہولت کے مطابق رکھے جائیں. انہوں نے ہدایت کی کہ پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پی آئی اے انتظامیہ اور ہوا بازی ڈویژن دن رات کام کریں اور پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کے حوالے سے تفصیلی پلان جلد از جلد اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کیا جائے .

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    غیر قانونی کان کُنی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں،نگران وزیراعظم
    دوسری جانب نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت پیٹرولیم ڈویژن کےحوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ،نگران وزیراعظم کو پیٹرولیم ڈویژن کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم ڈویژن ملک میں تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کے پروگرام پر کام کر رہی ہے ،پیٹرولیم ڈویژن ملک میں مزید قدرتی وسسائل کی تلاش کے لیے کوشاں ہے مختلف ذخائر سے تیل اور گیس کی ترسیل کے لئے پائپ لائنوں کے پراجیکٹس کو ترجیح دی جا رہی ہے مائننگ سیکٹر میں غیر ملکی سر مایہ کاری کے فروغ کے لیے مثبت سمت میں پیش رفت جاری ہے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑکا کہنا تھا کہ پاکستان کے بے پناہ قدرتی وسائل کی صلاحیت کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ،قدرتی وسائل تک رسائی کے لیے روڈ انفراسٹرکچر بہتر بنانے کی ضرورت ہے ،غیر قانونی کان کُنی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں ،آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کی جلد تقرری کے لئے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جائیں

  • بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم

    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے چیئرپرسن قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال عائشہ رضا فاروق کی ملاقات ہوئی ہے

    عائشہ رضا نے وزیراعظم کو ملک میں بچوں سے زیادتی اور چائلڈ لیبر کی موجودہ صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کمیشن کی سہولت کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لانے کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بچوں کے حقوق کی پامالی کرنے والے مجرمان کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے گی۔“

    واضح رہے کہ پاکستان میں کمسن گھریلو ملازمین پر تشدد کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، سول جج کی اہلیہ والا کیس ابھی تک چل رہا ہے، کہ اسلام آباد میں ایک اور گھر میں گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، اسکے بعد رانی پور میں واقعہ پیش آیا، سفاک شخص نے 10 سالہ بچی کو مبینہ طور پرتشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے تڑپتا ہوا فرش پر چھوڑ دیا، بچی کی موت ہو گئی ،واقعہ کی سی سی ٹی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں کمسن بچی کو فرش پر تڑپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے،بچی کی والدہ کی مدعیت میں پولیس نے دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، واقعہ پر ایس ایس پی خیر پور کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد اسد شاہ اور اسکی اپلیہ کو نامزد کیا گیا ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

  • سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ مقررہ وقت پر انتخابات کروائیں ،دیانتدار ، محب وطن اور عوام کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے وزرا ءپر مشتمل مختصر کابینہ تشکیل دیں ، شاہانہ پروٹوکول پر پابندی عائد کریں ، مہنگائی کنٹرول کریں اور عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں ۔ اس وقت ملک نازک ترین حالات سے گزررہا ہے۔ یہ وقت سیاست نہیں ریاست بچانے آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کا ہے ۔ ان خیالات کااظہار سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا ۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستانی قوم پہلے ہی دکھوں، غموں اور مہنگائی کی ماری ہے ۔ ان حالات میں نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا قوم پر سب سے بڑا احسان یہ ہوگا کہ وہ مختصر مگر دیانتدار افراد پر مشتمل کابینہ تشکیل دیں ۔ منتخب حکومت کے قیام تک آئین اور قانون کے تحت ملک چلائیں ، میرٹ کی بالادستی قائم کرئیں اور ماورائے آئین اقدامات سے گریز کرئیں اس لیے کہ پہلے ہی ماوارئے آئین اقدامات کی وجہ سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ہر آنے والی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے وعدے کرتی ہے لیکن کچھ عرصہ بعد ہی اپنے سارے وعدے بھول کر عوام کا خون نچوڑنے لگ جاتی ہے اس وقت حالت یہ ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی کا فقدان ہے ، لوگوں کو انصاف میسر نہیں اور ہر حکمران کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا جائے ۔

    انھوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کی مدت میں توسیع کسی طرح بھی ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہوگا اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں جلد از جلد عدل وانصاف ، اور آئین قانون کی بالادستی قائم کی جائے ۔ ہمارے حکمران اور سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں ۔ ہماری سیاست اور وزارت ملک کے دم قدم سے ہے ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔ عوام کا باہمی اتحاد اور تمام سٹیک ہولڈرز کا ایک پیج پر ہونا اشد ضروری ہے ۔ نگران حکومت سے ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی بھر پور کوشش کرے گی ۔

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

  • مجھے کوئی شک نہیں کہ نئی بلندیوں سے ہمکنارہونا ہی پاکستان کا مقدرہے،شہباز شریف

    مجھے کوئی شک نہیں کہ نئی بلندیوں سے ہمکنارہونا ہی پاکستان کا مقدرہے،شہباز شریف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں میں آج 76 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے ، یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے تو وہیں سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے پیغامات کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اپنے قیام کے دِن ہی سے پاکستان کی کہانی مزاحمت اور جہد مسلسل کی رہی ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مشکلات اور مصائب کے پہاڑ عبور کرنے کے بعد گزشتہ 76 سال کے دوران ہم پے درپے مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔ بحران کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، پاکستان اُن میں سے ہمیشہ سرخرو ہوکر نکلا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چھہترویں یوم آزادی پر قوم کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے میں بابائے قوم حضرت قائداعظم ، لاکھوں شہیدوں اور آزادی کے ہیروز کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنا آپ پاکستان پر قربان کرکے خلوص، ایثار اور محبت کی لازوال مثال قائم کی۔ قائدکی مدبرانہ قیادت نے قیام پاکستان میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں میں ہم نے کئی مشکلات پر قابوپاکر سنگ ہائے میل عبور کئے ہیں لیکن ابھی کامرانی کی وہ منزل نہیں آئی جس کا پوری قوم کو شدت سے انتظار ہے۔ یک جہتی کے مظہر آج کے دِن کی طرح یہ جذبہ اور اتحاد ہمیں مادروطن کی تعمیر، ترقی اور معاشی خودانحصاری کاعظیم مقصد حاصل کرنے کے لئے بروئے کار لانا ہے جس کے ذریعے قوم ہر مشکل کو شکست دے سکتی ہے۔ تعمیر پاکستان کے لئے ہمیں قائد اعظم کے”کام، کام اور صرف کام“ کے سنہری راہنما اصول کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔و قت آگیا ہے کہ ہم گفتارکے بجائے عمل کی قوت بروئے کار لائیں۔ یہی ہماری کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ آئیں! تکمیل پاکستان کی کہانی لکھنے والوں میں ہم بھی شامل ہوجائیں ۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ نئی بلندیوں سے ہم کنار ہونا ہی پاکستان کا مقدرہے ،جشن آزادی مبارک

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    یوم آزادی کی مناسبت سے ریلیوں اور کیمپس کا انعقاد

     لیگ ن لاہور کے زیر اہتمام یوم آزادی کی تقریب منعقد 

  • 30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،وزیراعظم

    30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ملی تومہنگائی بہت زیادہ تھی، ہم نے چیلنجز سے نمٹنا تھا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے مہنگائی کم کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کیں، کچھ کم بھی ہوئی،میں نے تنقید اور تعمیر کو ہمیشہ خوش آمدید کہا، میں نے کبھی کسی صحافی سے کوئی گلہ نہیں کیا،بہت جگہ ہوتا ہے کہ سپیشل برانچ خوش کرنے کیلئے رپورٹ بھیجتی ہے میں نے صحافیوں پر یقین کیا کیونکہ وہ آزاد رپورٹ دیتے ہیں ہمیں سخت فیصلے اور ایکشن لینے پڑے کیونکہ ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے کبھی کوئی وزیراعظم ایسے الوداع نہیں ہوا جیسے میں جا رہا ہوں سب سے مل کر جا رہا ہوں30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،فخر ہے میرے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تعلقات ہمیشہ اچھے رہے، کس دورمیں میرے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے، لیکن یہ بتائیں کہ مجھے کب اور کس موقع پر رعایت دی گئی؟ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کالعدم ہونے سے نواز شریف کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،نواز شریف کی نااہلی 5 سال پورے ہونے پر ختم ہوچکی ہے،معاشی صورتحال کی وجہ سے ہمارے ووٹ بینک میں کمی ہوئی،ہم نے سیاست خطرے میں ڈال کر ریاست بچائی، نواز شریف کے واپس آنے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی،آئندہ انتخابات "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے پر لڑیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 16 ماہ مشکل حالات میں حکومت چلائی، اس دوران ایک روپے کا اسیکنڈل ہمارے خلاف نہیں آیا،الیکشن ایکٹ کی ترمیم سےنوازشریف کی نااہلی ختم ہو چکی اور متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر اکثریت ملی تو وزیراعظم نواز شریف ہوں گے ان کی واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں، سرمایہ کاری کونسل بنائی، اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے وزیراعظم اس کے سربراہ اور آرمی چیف رکن ہیں، چاروں وزرائے اعلیٰ بھی اس کے اراکین ہیں

    کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

  • اہلیہ کی طبیعت ناساز،وزیراعظم کی ہنگامی طور پرلاہور آمد

    اہلیہ کی طبیعت ناساز،وزیراعظم کی ہنگامی طور پرلاہور آمد

    وزیراعظم شہبازشریف کی اہلیہ نصرت شہباز کی طبیعت ناساز ہو گئی ہے وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف اپنی اہلیہ نصرت شہباز کی عیادت کرنے ہنگامی طور پر اسلام آباد سے لاہور آئے تھے، نصرت شہباز گزشتہ تین دنوں سے لاہور کے اتفاق ہسپتال میں زیر علاج ہیں،وزیراعظم شہباز شریف جب ہسپتال پہنچے تو حمزہ شہباز اور سلمان شہباز بھی انکے ہمراہ تھے، شہباز شریف نے اہلیہ کے ساتھ اسپتال میں وقت گزارا، وزیراعظم اہلیہ کی عیادت کے بعد دوبارہ اسلام آباد کے لئے روانہ ہو چکے ہیں

    سابق کوآرڈینیٹر وزیراعظم خواجہ احمد حسان نےوزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ بیگم نصرت شہباز کی جلد اور مکمل صحتیابی کیلئے دعا کی،

  • راجہ ریاض وزیراعظم ملاقات ختم، کل دوبارہ ملاقات طے

    راجہ ریاض وزیراعظم ملاقات ختم، کل دوبارہ ملاقات طے

    راجہ ریاض وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کرنے وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی،وزیرِ اعظم نے آئین کی روشنی میں قائد حزب اختلاف کو نگران وزیرِ اعظم کی تقرری کیلئے مشاورت کے حوالے سے ملاقات کی دعوت دی تھی.ملاقات میں وزیرِ اعظم اور قائد حزبِ اختلاف کے مابین نگران وزیرِ اعظم کے ناموں پر مشاورت کا پہلا دور خوشگوار ماحول میں ہوا۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس اہم قومی معاملے پر مزید سوچ بچار کے بعد کل، یعنی 11 اگست کودوبارہ مشاورت کی جائے گی۔

    ملاقات کے بعد راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کی تعیناتی سے متعلق وزیراعظم سے مشاورت ہوئی،وزیراعظم سے اچھے ماحول میں مشاورت ہوئی،نگران وزیراعظم کے نام پر ابھی اتفاق نہیں ہوا، امید ہے نگران وزیراعظم کے لیے نام پر اتفاق ہو جائیگا،وزیراعظم نے کہا آپ میرے اور میں آپ کے ناموں پر غور کرتا ہوں، نام ایک دوسرے سے شئیر کر دئیے ہیں ،کل پھر ایک نشست ہوگی

    ملاقات میں نگران وزیراعظم کے نام کے حوالے سے مشاورت کی گئی،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے 3 ،3 نام نگران وزیراعظم کے لیے پیش کیے گئے ،راجہ ریاض جب وزیراعظم ہاؤس آ رہے تھے تو صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ نگران وزیراعظم کے لئے کتنے نام لائے ہیں، جس کے جواب میں راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ میں تین نام لے کر آیا ہوں،باخبر ذرائع کے مطابق راجہ ریاض نے وزیراعظم کو نگران وزیراعظم کے لئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا نام بھی دیا ہے، ن لیگ کی جانب سے نگران وزیراعظم کے لئے کون سا نام دیا گیا ہے ابھی تک سامنے نہیں آ سکا، تاہم میڈیا پر کافی نام گردش کر رہے ہیں

    پیپلزپارٹی نے سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا نام دیا ہے، تاہم آج وزیراعظم اور راجہ ریاض کی ملاقات کے بعد بریک تھرو کا امکان ہے اگر کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو تین دن کے بعد معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا،پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کر سکی تو اگلے تین دن بعد معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا اور الیکشن کمیشن اگلے دو دن میں نگران وزیراعظ‌م کی تقرری کر دے گا،

    قبل ازیں قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد شہباز شریف نے نگراں وزیراعظم کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو خط لکھ دیا ہے ، وزیراعظم شہبازشریف نے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو مشاورت کیلئے خط لکھ دیا، وزیراعظم کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آپ کو علم ہے صدر مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل کردی ہے نگران وزیراعظم کا تقرر کیا جانا مقصود ہے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے آپ کو مشاورت کی دعوت دیتا ہوں خط میں وزیراعظم شہبازشریف نے آئین کے آرٹیکل 224کا حوالہ بھی دیا،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم اور راجہ ریاض کی ملاقات ہونی تھی تا ہم راجہ ریاض کی مصروفیت کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی،

    وزرا اور معاونین خصوصی کو دفاتر خالی کرنے کا نوٹیفکیشن
    دوسری جانب وفاقی کابینہ تحلیل ہونے پر کابینہ ڈویژن نے وزرا اور معاونین خصوصی کو دفاتر خالی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ میں 33 وفاقی وزرا اور 7 وزرائے مملکت تھے جبکہ 38 کی تعداد میں معاونین خصوصی تھی تھے جن کی مجموعی تعداد 78 بنتی ہے ان تمام حکومتی عہدیداران کو دفاتر الاٹ کئے گئے تھے جن کو اب کابینہ ڈویژن نے دفاتر خالی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے

    مادر وطن کو مشکلات سے نکال کر خوشحالی کی جانب لے کر جانا ہے،وزیراعظم
    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس اور آفس کے عملے کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج میرے لیے یہاں بہت اہم دن ہے، میں یہاں سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنے آیا ہوں عملے نے گزشتہ 16 ماہ میں وزیراعظم ہاؤس میں میری مدد کی،وزیراعظم ہاؤس اور آفس عملے نے حکومتی امور میں میری مدد کی یہاں گزرے 16 ماہ میری زندگی کا اثاثہ ہیں، پاکستان ہم سب کا پیارا وطن ہے، ہم سب پاکستان کی اجتماعی خدمت پر مامور ہیں، ہمیں آج قومی اتحاد اور اتفاق کی اشد ضرورت ہے مادر وطن کو مشکلات سے نکال کر خوشحالی کی جانب لے کر جانا ہے،ہمارے بزرگوں نے پاکستان کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں، بدقسمتی سے قائداعظم کے بعد ہم راستے سے بھٹک گئے، ایک لڑی میں پروکر ہمیں پاکستان کی خدمت کرنی ہے، وقت آئے جب بھکاری پن کو ہم ہمیشہ کیلئے خدا حافظ کہیں گے،

    اچھے کام کرنے والے افسران ہمیشہ بے جا تنقید کا نشانہ بنے ، وزیر اعظم
    دوسری جانب وفاقی سیکرٹریزسے الوداعی ملاقات کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 16 ماہ کا عرصہ چیلنجز سے بھر پور تھا،عوام کی خدمت کی، پختہ سوچ ہو تو اتحادی حکومت بھی چل سکتی ہے مخلوط حکومت کے فائدے بھی ہوتے ہیں اور نقصانات بھی ،13جماعتوں کی حکومت ملک کے عوام کیلیے کچھ کرنے کیلیے میدان میں آئی ،آنے والی مشکلات کو ایک سبق کے طور پر یاد رکھوں گا مخلوط حکومت بہت اچھے طریقے سے چلائی گئی ،مشکل سے مشکل مسائل کے حل کیلیے راستے تلاش کیے ،اچھے کام کرنے والے افسران ہمیشہ بے جا تنقید کا نشانہ بنے ،یہاں موجود معزز افسران میں سے بعض کو میں ذاتی طور پہ جانتا ہوں جنہوں نے بڑی محنت اور اخلاص سے کام کیا صوبہ پنجاب میں 10 سال میرا ان سے رابطہ رہا ہے جنہوں نے محنت سے کام کیا بدقسمتی سے وہی نشانہ بنے بعض لوگوں کی تنقید کا۔

  • وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.

    اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔

    جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔

  • سب نے اپنی سیاست کو قربان کر کے ریاست کوبچایا،وزیراعظم

    سب نے اپنی سیاست کو قربان کر کے ریاست کوبچایا،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی نے ہم پر 11 اپریل 2022 کو اعتماد کیا تھا، مدت پوری ہونے پر اللہ تعالٰی کا شکرادا کرتے ہیں،یہ تاریخ کی مختصر ترین حکومت تھی،

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب نے پورے پاکستان میں تباہی مچائی، سیلاب بہت بڑا چیلنج تھا، سیلاب کے دوران چاروں صوبوں نے دن رات محنت کی،سیلاب متاثرین میں بی آئی ایس پی کے ذریعے 80 ارب تقسیم کیے گئے بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ نے سیلاب کے دوران دن رات کام کیا،سیلاب کے دوران کسی صوبے کے ساتھ تفریق نہیں کی گئی، مہنگائی کا طوفان ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا گزشتہ حکومت کی غفلت سے داخلی و خارجہ محاذ پر پاکستان کا نقصان ہوا، چاروں صوبوں کی نمائندگی مخلوط حکومت میں شامل تھی،

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام مشکلات کے باوجود ہم سب 16 ماہ یکجا رہے، سمجھتا ہوں کہ سب نے مل کر اس کشتی کوپار لگانے کی پوری کوشش کی ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہر جگہ بے پناہ محنت کی ،پاکستان بچانے میں سب نے اپنی سیاست کو قربان کر کے ریاست کوبچایا، تاریخ آپ لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی، ہماری قومی خزانے کو بھرنے کی سوچ تھی، آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہم نے ہمت نہیں ہاری، اسحاق ڈار کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں،قرضوں کو رول اوور کرنے پر چین کے شکر گزار ہیں،چینی نائب صدر نے دورہ کر کے ثابت کیا کہ پاکستان بہترین دوست ہے،

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی پاکستان کے خلاف بد ترین سازش تھی،9 مئی پاکستان کے سپہ سالار کے خلاف سازش تھی، چیئرمین پی ٹی آئی نے جتھوں کو تیار کیا تھا،9 مئی پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش تھی ، اگر خدانخواستہ وہ کامیاب ہو جاتی تو پاکستان کا کیا حشر ہوتو اس کی تصویر کشی نہیں کر سکتا، نہ ہی اس کو بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ ہیں، وہ صورتحال اتنی بھانک ہوتی جس کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا ، اللہ نے ہمیں اس بدترین ناپاک ساز ش سے بچایا، کس طرح سے شہداءکی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی ، آج ہماری حکومت کا آخری کابینہ کا اجلاس ہے ، شائد پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی کوئی اور مثال نہیں ہے ، جہاں چاروں صوبوں کی لیڈر شپ اس طرح حکومت میں شامل ہے ، اس سے بعض فیصلے کرنے میں بہت آسانی ہوئی ، چاروں صوبوں کی سپورٹ ملی، چاروں صوبوں نے اپنے صوبے کیلئے بھر پور کام کیا، یہ حسین امتزاج ہے ، یہ ایک گلدستہ تھا جس کے خوبصورت رنگ تھے ، اس طرح کی شراکت داری قائم ہوئی، تمام چیلنجز کے باوجود ، اپنے اپنے بیانیے ہونے کے باوجود یکجا ہوئے کہ ہم نے پاکستان کو بچانا ہے

    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیلا کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو ملک کے ساتھ زیادتی کی گئی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ،ملکی سرحدوں کے محافظوں نے اپنا خون دے کر ملک کی حفاظت کی ،16 ماہ کسی سیاسی مخالف کو جیل بھجوانا تو دور ناجائز تنگ بھی نہیں کیا ،موجودہ حکومت میں کسی کے خلاف نیب کیسز نہیں بنائے ،پی ٹی آئی کا دور ظلم اور زیادتی کا فاشٹ دور تھا ، آج رات ایوان کی اجازت سے صدر پاکستان کو اسمبلی تحلیل کیلئے ایڈوائز بھجوں گا ،قرارداد کے ذریعے اس بات کا اعادہ کریں کہ قیامت تک 9 مئی جیسے واقعات نہ ہوں ، میری زندگی کا سب سے زیادہ مشکل امتحان یہ 16 ماہ تھے ، میں نے اتنا بڑا امتحان 38 سالہ سیاسی کیرئیر میں نہیں دیکھا ، دھرنوں ، لانگ مارچ کی باتیں ہو رہی ہوں تو کون سرمایہ کاری کرے گا جو پاکستا ن کے ڈیفالٹ ہونے کی دعائیں کررہے تھے انکا مکروہ چہرہ قوم کے سامنے آگیا ، کیا کیا سانحات ہوئے لیکن کسی نے اپنے کارکن کو نہیں کہا کہ جا کر حملہ کردو،

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

     ہم عوام کے نمائندے ہیں، ان کی خدمت ہمارا فرض ہے