Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی عرب اور  ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید

    اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی: سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویومیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہےکہ سعودی عرب کے ساتھ امن کئی طریقوں سے عرب اسرائیل تنازع کا خاتمہ کرسکتا ہے سعودی عرب نے یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ حالیہ معاہدہ کیا ہے۔

    یمن میں چیریٹی فنڈ کی تقسیم کے دوران بھگدڑ ،79 افراد ہلاک 100 سے زائد …

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ’میرے خیال میں اس معاہدے کا تعلق یمن میں دیرینہ تنازع کو کم کرنے یا ختم کرنے کی خواہش سے ہے جو ملک ایران سے پارٹنرشپ کرتے ہیں وہ مصائب کا شکار ہوجاتے ہیں، مشرق وسطیٰ میں 95 فیصد مسائل ایران کے پیدا کردہ ہیں۔

    نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے پر امید ہیں، یمن تنازع کے خاتمے کے لیے میرے خیال میں بہت کچھ کرناباقی ہے، سعودی عرب کی قیادت کو معلوم ہےکہ دوست کون ہے اور دشمن کون۔

    نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ شراکت داری پر خبردارکیا اور کہا کہ جولوگ ایران کے ساتھ شراکت داری کرتے ہیں،وہ بدحالی کے ساتھ شراکت دار ہیں۔لبنان کو دیکھو، یمن کو دیکھو، شام کو دیکھو، عراق کو دیکھو-

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین تنازع سے متعلق چین کی ثالثی کا علم نہیں، چین کے ساتھ اچھے تعلقات کااحترام کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں چین نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی پیشکش کی تھی چینی وزیر خارجہ چن گانگ نے اسرائیل اور فلسطین کے اعلیٰ سفارت کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو کی اور کہا کہ چین فریقین کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرخارجہ نے سعودی عرب کے دورے کا عندیہ دیا ہے اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا دورہ ٹیبل پر ہے،البتہ ابھی تاریخ طے نہیں ہوئی۔

    عیدالفطر کی چھٹیوں میں عمران خان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ رواں سال بھی ایک عرب ملک اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے گا، امریکی سینیٹر لنزےگراہم کی سعودی ولی عہد سے سعودی اسرائیل تعلقات پربات ہوئی تھی سعودی عرب کا دشمن اسرائیل نہیں ایران ہے، سعودی ایران تعلقات میں پیش رفت اسرائیل کیلئے خوش آئند ہو سکتی ہےسعودی ایران تعلقات،سعودی اسرائیل کے قریب آنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی سعودی اسرائیل تعلقات کو عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے میں بڑا قدم قرار دیا تھااسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے امریکی سینیٹرلنزےگراہم نے ملاقات کی جس میں نیتن یاہو نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں، ہم تعلقات کو عرب اسرائیل تنازع کےخاتمےکی جانب بڑےاقدام کےطورپردیکھتے ہیں۔

    ایک ہی دن انتخابات پر مشاورت کیلئےحکمراں جماعتوں کاعید کے بعد سربراہی اجلاس بلانے کا فیصلہ

  • عوام کی خدمت کا راستہ نہیں چھوڑوں گا،وزیراعظم

    عوام کی خدمت کا راستہ نہیں چھوڑوں گا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے پی کے ایل آئی میں جدید ترین روبوٹک سرجری کے آغاز پر اظہار مسرت، ڈاکٹرز اور عوام کو مبارکباد دی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الحمدللہ ، پاکستان میں جگر اور گردے کے علاج کا جو بیج بویا تھا، اس نے پھل دینا شروع کر دیا ہے پی کے ایل آئی بنانے کا بنیادی مقصد اہل وطن کو ملک کے اندر ہی جگراور گردے کے جدید ترین علاج کی سہولت دینا تھا پاکستان میں مریضوں کو جگراور گردوں کے ورلڈ کلاس علاج کی مقامی سطح پر سہولت میسر آگئی ہے پی کے ایل آئی پاکستان کا ‘جان ہاپکنز’ بنے گا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار 2019 میں اپنے بھائی کو زیادہ تنخواہ دلانے کے چکر میں چکر نہ چلاتے تو آج پی کے ایل آئی کہیں آگے ہوتا ،پاکستان میں گردے اور جگر کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، امید ہے پی کے ایل آئی سے ان امراض کو روکنے اور شرح اموات میں کمی لانے میں مدد ملے گی ،پاکستان میں گردے کے امراض سے وفات پانے والے مریضوں کی تعداد 2.77 فیصد ہے جسے روکنے کے لئے مزید اقداثکی ضرورت ہے ،پی کے ایل آئی جیسے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال اور علاقوں میں بھی بنائیں گے ،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابق حکومت اداروں اور سیاسی مخالفین کے خلاف روبوٹک ٹیکنالوجی استعمال کرتی رہی، ہم نے عوام کی بھلائی کے لئے استعمال کی تعلیم، صحت کی عالمی سطح کی سہولیات کی پاکستانیوں کو فراہمی اولین ترجیح ہے 2018 میں عوام کی بھلائی کا جو سفر روک دیا گیا تھا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب دوبارہ شروع ہو چکا ہے عوام کی خدمت کے لئے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے ادا کروں گا، عوام کی خدمت کا راستہ نہیں چھوڑوں گا

  • کرپشن میں کمی کیلئے نوازشریف کے دورمیں ہم دن رات کام کر رہے تھے،وزیراعظم

    کرپشن میں کمی کیلئے نوازشریف کے دورمیں ہم دن رات کام کر رہے تھے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے امامیہ کالونی میں ریلوے کراسنگ فلائی اوور کا افتتاح کیا

    وزیرِ اعظم کو اس موقع پر فلائی اوور منصوبے کی تعمیر کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعلٰی پنجاب بڑی محنت سے معاملات آگے بڑھا رہے ہیں، گزشتہ 4 سالوں میں بنجاب میں ترقیاتی کاموں کو جان بوجھ کر مؤخر کیا گیا، پچھلی حکومت میں کئی منصوبے عدم توجہ کے سبب دم توڑ گئے، سابق حکومت کو ترقیاتی منصوبوں سے تکلیف تھی،سابق حکومت نے جان بوجھ کر معاملات کو خرابی میں ڈالا،موجودہ حالت میں سادگی اپنانا ہو گی،کرپشن میں کمی کیلئے نوازشریف کے دور میں ہم دن رات کام کر رہے تھے، نواز شریف کی قیادت میں 2018 میں 20 ، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی،2018 میں جھرلو الیکشن ہوا، مہنگائی ہے، عام آدمی تنگ ہے اسی لیئے فری آٹا دینے کا انتظام کیا، چار سالوں میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں، صفائی کا نظام تباہ ہوا،فی الحال ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑ رہی ہیں، 2018 کے بعد کرپشن کی انتہا ہوئی ، تھانے بکتے تھے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    شاہدرہ فلائی اوور تقریب،وزیراعظم شہباز شریف تقریب کے لیے لگائے سٹیج کے سامنے مہنگا قالین بچھانے پر کمشنر لاہور علی رندھاوا اور ڈی سی لاہور رافعہ حیدر سے ناراض، کہنا تھا کہ موجودہ ملکی حالات میں ایسے شاہانہ انداز قالین بچھانہ زیب نہیں دیتا،مجھے کہا گیا امامیہ کالونی کا فلائی اوور 18 ماہ میں بنے گا میں نے کہا آپ کے پاس صرف 3 ماہ ہیں،اگر 18 ماہ میں ایک فلائی اوور بنانا ہے تو شہباز شریف اس سے بہتر ہے گھر چلا جائے ،وزیراعظم شہباز شریف نے میٹرو بس سروس شاہدرہ سے کالا شاہ کاکو تک بنانے کا اعلان کیا،

  • وزیراعظم سے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے صدر کی ملاقات

    وزیراعظم سے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے صدر کی ملاقات

    وزیراعظم سے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے صدر کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC) کے صدر اور سی ای او مسٹر ڈیوڈ ملی بینڈ نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔ پاکستان کے ساتھ آئی آر سی کی قابل قدر اور دیرینہ شراکت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کے دوران آئی آر سی کی بروقت مدد کو سراہا۔ انہوں نے صدر آئ آر سی کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے بارے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی اور آفات سے نمٹنے کے لیے استعداد کار کو مزید فروغ دینے میں IRC کی مسلسل حمایت کا منتظر ہے۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر نو اور مرمت کے لیے IRC کی گراں قدر مدد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

    مسٹر ڈیوڈ ملی بینڈ نے گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بروقت اقدامات کرنے پر حکومت پاکستان کے عزم اور لگن کو سراہا۔ انہوں نے آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے انتظام میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کی IRC کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔

    ملاقات میں وزیر اقتصادی امور سردار ایاز صادق،. وزیر اعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر جہانزیب خان، سید طارق فاطمی، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

  • حکمران اتحاد کا تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    حکمران اتحاد کا تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملکی موجودہ صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں حکمران اتحاد کا اجلاس ہوا، اجلاس شہباز شریف کی رہائشگاہ ماڈل ٹاؤن میں ہوا،

    اجلاس میں حکومت کے اتحادی جماعتوں کے کچھ ارکان آن لائن بھی شریک تھے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، عطا تارڑ، ملک احمد خان سمیت دیگر رہنما اجلاس میں شریک تھے .نواز شریف اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے
    اجلاس میں موجودہ سیاسی صورت حال اور زیر سماعت مقدمات میں تازہ پیشرفت پر غور کیا گیا،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمران اتحاد نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے گا، اجلاس میں نواز شریف نے فیصلے کی توثیق کی ہے اور کہا کہ اس بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے ، اٹارنی جنرل کو کہا جائے کہ وہ عدالت پیش ہو کر اس بینچ پر عدم اعتماد کر دیں،اجلاس میں دیگر جماعتوں نے بھی بینچ کے بائیکاٹ کا ہی مشورہ دیا،

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والا پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کا سربراہی اجلاس ختم ہو گیا ہے، اجلاس 3 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا،اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی جائے گی،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینج پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے، حکومت کا مطالبہ ہے کہ فل کورٹ تشکیل دی جائے، گزشتہ سماعت پر عدالت نے حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا تھا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • وزیراعظم کی ڈگری کی تفصیل مانگنے والے درخواست گزار پر جرمانہ

    وزیراعظم کے پاس کونسی ڈگری؟ عدالت میں درخواست پر عدالت نے درخواست گزار پر جرمانہ عائد کر دیا اور فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم کے پاس جو بھی ڈگری ہے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں

    فیصلہ بھارت کی عدالت نے دیا، گجرات ہائیکورٹ مین درخواست دائر کی گئی تھی جس پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے وزیراعظم آفس کو حکم دیا کہ انکی ڈگری کا سرٹفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں نہ ہی کسی کو وزیراعظم کی ڈگری بارے بتایا جائے، جسٹس بیرین نے فیصلے میں چیف انفارمیشن کمیشن کے پی ایم او کے پی آئی او کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا تھا کہ گجرات یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی مودی کی ڈگریوں کی تفصیلات فراہم کریں،گجرات ہائیکورٹ نے وزیراعظم کی ڈگری بارے کسی بھی قسم کی تفصیلات سے روک دیا،

    گجرات ہائیکورٹ نے فیصلہ کے ساتھ درخواست گزار دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجیریوال پر 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جنہوں نے مودی کی ڈگری کے لئے تفصیلات طلب کی تھی، عدالت نے درخواست گزارکی درخواست کو گمراہ کن قرار دے دیا

    عدالتی فیصلے کے بعد درخواست گزار اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ کیا بھارت میں کسی کو یہ جاننے کا حق بھی حاصل نہیں کہ بھارت کا وزیراعظم پڑھا لکھا ہے یا نہیں؟ اگر مودی پڑھا لکھا ہے تو ڈگری سامنے لائے اگر ایسا نہیں کرتا تو ان پڑھ وزیراعظم ملک کے لئے بہت خطرناک بات ہے، عدالت نے ہماری درخواست کی مخالفت کیوں کی،

    علاوہ ازیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جج اتُل سری دھرن نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ میری بیٹی آئندہ برس اسی عدالت سے جہاں میں ابھی فرائض انجام دے رہا ہوں وکالت کا آغاز کرے گی اس لیے میرا تبادلہ کسی اور ریاست میں کردیا جائے بطور جج اسی ہائی کورٹ میں رہنا مفادات کا ٹکراؤ ہوگا اس لیے اس سے بچنے کے لیے میرا تبادلہ کردیا جائے سپریم کورٹ نے جج کی استدعا منظور کرتے ہوئے ان کا تبادلہ مقبوضہ جموں کشمیر ہائی کورٹ میں کردیا ،

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

  • ایم کیو ایم قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات،مردم شماری پر تحفظات کا اظہار

    ایم کیو ایم قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات،مردم شماری پر تحفظات کا اظہار

    اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کے دوران مردم شماری کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کردیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آبادمیں ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نےشہباز شریف سے ملاقات میں کر اچی کےمسائل اور کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگا ہ کیا جس پر وزیراعظم نے تمام تحفظات کو دور کرنے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔

    پی سی بی کامورنے مورکل،مکی آرتھر اوراینڈریو پٹک کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

    متحدہ قومی موومنٹ کے وفد میں کنوینر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق شریک تھے۔ وفد ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری پر وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد پیش کی۔

    قبل ازیں جماعت اسلامی نے بھی کراچی میں ڈیجیٹل مردم شماری پر تحفظات کا اظہارکیا تھا حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سازش ہوئی ہے، اس بار بھی کراچی کی آبادی کو درست نہیں دکھایا جائے گاایم کیو ایم مردم شماری کو ریڈ لائن کہتی ہے، وزارتیں اور مراعات چھوڑ کر ریڈ لائن کا دفاع کرے۔

    امریکا میں سپریم کورٹ اور وفاقی ججز کیلئے نئے ضابطوں کا اطلاق

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سازش ہوئی ہے، اس بار بھی کراچی کی آبادی کو درست نہیں دکھایا جائے گا، تناسب کے اعتبار سے 5 سے 7 فیصد آبادی بڑھا کر دکھا دیں گے، کراچی کی آبادی ٹھیک گنی گئی تو سندھ اسمبلی میں تناسب تبدیل ہوجائے گا آبادی کا تناسب تبدیل ہونے سے پیپلزپارٹی کا وزیراعلیٰ آنے کا چانس کم ہو جائے گا۔

    ایئر سیال نے بین الاقوامی پروازوں کا آغاز کر دیا

  • عمران خان کی تباہی کا نتیجہ کہ آٹے کیلیے لائنیں لگی ہوئی ہیں،وزیراعظم

    عمران خان کی تباہی کا نتیجہ کہ آٹے کیلیے لائنیں لگی ہوئی ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان عدالتوں میں پیش نہیں ہورہے جب ہم اپوزیشن میں تھے تو کیسے اپوزیشن کے لوگوں اور ان کے خاندان کی ہنٹنگ کی گئی۔ کیسے بددیانتی سے جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کہ گزشتہ سال ہم اپوزیشن میں تھے، مختلف الخیال جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ ہم ریاست کو بچائیں، اتحادی جماعتوں نے ریاست کو بچانے کے لیے سیاست کو داؤ پر لگا دیا ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سفید پوش تنگدست ہوتا ہے لیکن ہاتھ نہیں پھیلاتا، آج وہ لائن میں لگا ہے تو اس سے بڑھ کر شرم کی کیا بات ہو سکتی ہے یہ ہے وہ تباہی جو عمران خان لے کر آیا اور اسکے نتائج سب دیکھ رہے، یہ کہا گیا کہ یہ حکومت امریکہ کے ساتھ سازش کے نتیجے میں قائم ہوئی، کئی ماہ یہ جھوٹ انتہائی بے شرمی کے ساتھ بولا گیا، ایک موقع آ گیا کہ ملک میں تقسیم بڑھتی جا رہی اور ایک طبقہ یہ سمجھنے لگ گیا کہ واقعی امریکہ کی سازش ہوئی اور یہ ایک امپورٹڈ حکومت ہے، پھر عمران خان نے قلابازی کھائی اور کہا کہ امریکہ کی نہیں اپنوں کی سازش تھی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ بڑے بڑے ڈرامے باز آئے لیکن اس جیسا تاریخ میں نہیں آیا، پاکستان کی بنیادیں ہلا دی گئیں، 11 ماہ سے ہم خارجہ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوست ممالک کو اس نے ناراض کیا، ہم ان 11 ماہ میں ابھی تک ممالک کو منوا رہے ہیں ، چین کے ساتھ بھی اس نے یہی کچھ کیا،اب عمران خان نے لاکھوں ڈالر پر امریکہ میں فرم ہائیر کر لیں ، ان سے کیا کام لیا جا سکتا ہے ؟ کسی کوکیا حق پہنچتا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں، یہی کہتے تھے کہ یہ چور ڈاکو انکو کوئی حق نہیں کہ ڈپلومیٹس کو جا کر ملیں، اب انکے بیان دیکھ لیں، خبروں میں شائع تصویریں دیکھ لیں، لاڈلے کو کس نے حوصلہ دیا؟ لاڈلہ عدالت میں پیش نہیں ہوتا، آئی ایم ایف سے معاہدہ عمران خان نے کیا تھا اور اسکی خلاف ورزی بھی کی ،ایک لاڈلہ کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتا، آج اس آئین کا مذاق اڑایا جارہا ہے، وہ عدلیہ کا مذاق اڑاتا ہے،ایک قوم کی بیٹی کو چاند رات کو گرفتار کیا گیا، کسی نے نوٹس نہیں لیا،ایک خاتون جج کے بارے میں جو القابات کہے، کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا، آج ایک لاڈلہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر تکبر کے ساتھ بات کرتا ہے، قانون اور آئین کو اس نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کے کیا مقاصد تھے تحقیق ہونی چاہیئے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے دہشت گردوں کو سوات میں بسایا ،دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ،دہشت گرد ہی ہوتا ہے ،خیراتی کاموں کا پیسہ عمران خان کی جیب میں چلاگیا ،چیف جسٹس آڈیولیک کا فرانزک کرائیں ،سیاست دانوں کے خلاف آنکھیں بند کر کے کیس بنائے جاتے ہیں ،نیب کے قانون میں ترمیم کا کسی نے نوٹس نہیں لیا ،عمران خان نے توشہ خانہ کے تحائف بیچے ،آڈیو لیک اگر سچ ہے تو سامنے آنا چاہیے ،سوشل میڈیا ٹرولنگ پر بھارت سب سے اوپر ہے عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس ثابت ہوچکا ہے اس سے پہلے دیر ہوجائے ہمیں اپنا لائحہ عمل اپنانا ہوگا ،عمران خان کے گھر دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں ،عمران خان دہشت گردوں کو اپنی شیلڈ بنا رہا ہے ملکی صورت حال کا پارلیمنٹ فوری نوٹس لے عمراں خان کو پاکستان سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، یہ 1973 کے آئین کو دفن کرنے میں مذموم ہے،کبھی دیکھا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایسا سلوک ہوتا ہوا ہو ،11 ماہ ہوگئے ہیں دوست ممالک کو راضی کرنے میں لگے ہیں پاکستان کے خلاف بیانات درج کروائے جارہے ہیں ،قوم کے اند ر تقسیم در تقسیم کر دی گئی ،اس لاڈلے نے سپریم کورٹ کے باہر کپڑے لٹکائے ،عمران خان کے 4 سالہ دور میں ملکی قرضے 70 فیصد تک بڑھ گئے عمران خان کے دور میں کوئی نیا منصوبہ نہیں لگایا گیا ،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا تھا جس میں صدرمملکت نے کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ہے، سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےالیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پر کیا اور ان سربراہان کو حکومت نے ہدایات دی تھیں۔


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیراعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کے پابند ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی، وزیراعظم انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں،الیکشن کا التوا توہین عدالت ہے ، حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔


    تاہم اب صدر عارف علوی کی جانب سے کو لکھےگئے خط کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں، 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے،کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی، اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں آئین کےآرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

    الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیےکیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

  • ملک میں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے،آئین سب پرمقدم ہے،وزیراعظم

    ملک میں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے،آئین سب پرمقدم ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام کوٹ میں 330 میگا واٹ تھرنووا کا افتتاح کر دیا

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے،ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاور پلانٹ کے کنٹرول روم کا دورہ کیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منصوبے پاکستان کی ترقی کا موجب بنے گا اور بن رہا ہے ،دہائیوں کی محنت اور بہتر حکمت عملی سے آج تھر بدل چکا ہے جوبجلی تھرمیں بن رہی ہے اگر امپورٹڈ کوئلے پرجائے تو اربوں ڈالر خرچ ہوں گے،کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کوئلے کی بنیاد پر بجلی نہیں بنتی تھر کوئلہ 100سال تک ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے ،ہمیں کسی الجھن کا شکا ر نہیں ہونا چاہیے ،بدقسمتی سے 4سال سے تھرمیں رتی برابر کا کام نہیں ہوا 4سال میں ٹرانسمشن لائنز پر رتی برابر کام نہیں ہوا ،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کے دشمنوں کو شکست ہوگی اتحادی حکومت سی پیک کو ترقی کا حصہ سمجھتی ہے سی پیک کا اگلا مرحلہ زراعت ،ٹیکنالوجی اوراکنامک زونز ہیں ،ملک میں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے،آئین سب پرمقدم ہے، ذاتی مفاد کوپاکستان کے وسیع تر مفاد پرایک نہیں ہزاربارقربان کرنا پڑے تو پرواہ نہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی حکومت کی جانب سے تھر کے لیے اسپتال کے تحفے کا اعلان بھی کیا،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی محنت کے تسلسل کا نتیجہ ہے شنگھائی الیکٹرک کے 2 بڑے منصوبو ں کا افتتاح کیا گیا ،وفاق اور سندھ مل کر کام کررہے ہیں،4 سال سے تھر کو ل پر محنت کررہے ہیں ،چند سال میں تھر پارکر کی شکل تبدیل ہوگئی ہے ،تھرمیں تعلیم ،صحت اورروز گار میں بہتری آئی ہے ،سازشی لوگ پراپیگنڈے میں مصروف ہیں،منصو بے کی وجہ سے لوگ تھر میں آکر کام کررہے ہیں تھر کول بلاک ون کے کوڈ، کوئلے کی کان اور بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے، منصوبہ جدید ترین ٹیکنالوجی سمیت عالمی معیارات کے مطابق مکمل کیا گیا ہے، سندھ کی ترقی میں تھر کول بلاک ون کا سی او ڈی ایک اہم سنگ میل ہے،ہم توماضی میں سنتےتھے کہ تھرپارکر سے لوگ کراچی پہنچتےہیں،اکنامک کوری ڈور کیوجہ سے پورے پاکستان سے لوگ یہاں کام کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں صوبائی اور وفاقی حکومت مل کے محنت کریں،مل کے کام کرنے سے محنت کا پھل بھی ملتا ہے اورملک کو فائدہ ہوتا ہے، بجلی کا بل بھرتے ہیں کیوں کہ ان کے کوئلےسے پورے پاکستان کو بجلی ملتی ہے،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے زلمے خلیل زاد کے بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکی سازش اور امپورٹڈ رجیم کی اصلیت سامنے آگئی ہے لابی اپنا سٹوج بچانے کے لیے سامنے آچکی ہے فارن فنڈنگ کے مجرم کے ہینڈلرز سامنے آتے جا رہے ہیں فارن فنڈنگ کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا فارن ایجنٹ کون ہے ثابت ہوگیا ،کٹھ پتلی نے چار سال انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کیں،آپ کا سٹوج پاکستان میں مالیاتی ، سیاسی اور سفارتی تباہی کا ذمہ دار ہے ،

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اسلام کوٹ تھر پہنچے ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو ، سالک حسین، احسن اقبال، خرم دستگیر وزیراعظم کے ہمراہ تھے ،مریم اورنگزیب، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ تھے ،

    قبل ازیں وزیراعلیی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری آج 3 منصوبوں کا افتتاح کریں گے ان منصوبوں میں 2 نجی پاور پراجیکٹس اور بلاک ون کول مائن کا افتتاح کریں گے،شنگھائی تھر بلاک ون کے سالانہ 6.7 ملین میٹرک ٹن کوئلے سے 1320 میگا واٹ بجلی کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے،شنگھائی تھر کول بلاک ون جنوری 2023 میں مکمل ہو چکا ہے شنگھائی الیکٹرک کے 660 میگا واٹ کے 2 پاور پراجیکٹس کا افتتاح ہو رہے ہیں، ان 2 بجلی اور ایک مائن کے منصوبوں سے ملک کے 40 لاکھ گھروں کو بجلی مہیا ہوگی، 2 بجلی اور ایک کول مائن منصوبوں پرتقربن 3 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی ہے،شنگھائی تھر بلاک ون ٹی ای ایل اور تھل نوا 4 روپیہ فی کلو واٹ (kwh) سستی بجلی نیشنل گرڈ میں دے رہا ہے،4 روپیہ فی کلو واٹ کی قیمت میں بجلی کی پیداوار سے سالانہ 1200 ملین ڈالرز زرمبادلہ کی بچت ہوگی،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے