Baaghi TV

Tag: وزیر خارجہ

  • ہمارے ارکان اسمبلی بکاؤ مال نہیں ، شاہ محمود قریشی

    ہمارے ارکان اسمبلی بکاؤ مال نہیں ، شاہ محمود قریشی

    میرپور خاص: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے ارکان اسمبلی زرداری بہکاوے میں نہیں آئیں گے، زر اور زرداری کی سیاست ان کو خرید نا چاہتے ہیں لیکن یہ بکاؤ مال نہیں-

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میر پورخاص میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ اینڈ ڈپلومیسی سے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ہمارا واضح مؤقف ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں پاکستان 20 سال حالت جنگ میں رہا اور معاشی نقصانا ت کا سامنا کیا۔

    تحریک عدم اعتماد پر ق لیگ مفت ووٹ نہیں دے گی،بڑی آفر کرنا پڑے گی ،بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس یوکرین جنگ میں شدت تمام یورپین ممالک کے لیے نقصان دہ ہو گا تاہم ہم کسی گروپ کا حصہ نہیں بنیں گے روس یوکرین تنازعہ پر منیر اکرم نے پاکستان کا مؤقف بہتر انداز میں پیش کیا۔

    انہوں نے کہا کہ یوکرین کی جنگ بڑھی تو یورپ کی معیشت پر منفی اثر پڑے گا، پاکستان امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے، مستقل حل ایک سفارتی حل ہے جس کیلئے پاکستان بھی اپنا کردار ادا کررہا ہے، یوکرین میں پھنسے پاکستانی طلباء کے محفوظ انخلاء کیلئے پولینڈ و دیگر ممالک سے مدد مانگی ہے اور انہوں نے مثبت تاثر دیا۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یورپی ممالک خود تسلیم کر رہے ہیں کہ روس پر پابندیاں مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ پولینڈ، ہنگری اور دیگر ممالک سے اپنے شہریوں کی حفاظت سے متعلق رابطے میں ہیں کئی طالبعلم محفوظ مقام تک پہنچا دیئے گئے ہیں اور باقی بچوں کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

    عدم اعتماد ق لیگ، ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں کے بغیر بھی ہوجائے گی، شاہد خاقان عباسی

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانے نے یوکرین میں بلا امیتاز بھارتی طلبہ اور شہریوں کو بھی مدد فراہم کی ہے جبکہ بھارتی طلبہ اور شہریوں کی امداد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی کیونکہ طلبہ گھبرائے ہوئے تھے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی ہوا نکل چکی ہے، ق لیگ نے اپنا عہد عمران خان کے ساتھ نبھانے کا اعلان کیا ہے، عمران خان کی چوہدری برادران سے ملاقات پہلی نہیں تھی بلکہ ہر ہفتے ملاقات ہوتی ہے جب کہ ہم تو روزانہ ہی ملتے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی گروپ نہیں ہے بلکہ ایک گروپ ہے جس کا نام عمران خان ہے، ہمیں اعتماد ہے ہمارے ایم این ایز اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے، زر اور زرداری کی سیاست ان کو خرید نا چاہتے ہیں لیکن یہ بکاؤ مال نہیں۔

    8 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالرتک پہنچ گیا

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہوا کہ کل کنڈیاری میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے میرے قافلے کو روکنے کی کوشش کی اور وہاں تصدم کی فضا پیدا کی، میچور سیاسی جماعتیں ایسا نہیں کرتی ہیں، بے نظیر کی عادت ایسی نہیں تھی، ہوسکتا ہے کہ نئی پیپلز پارٹی جو زرداری لیگ ہے اس کا شیوا ضرور ہوسکتا ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی پی نے سندھ اور کراچی کا وار زون بنا دیا ہے، خیرپور میں پرسوں 9 قتل ہوئے تھے جی تھری لے کر لوگ گھوم رہے تھے پولیس کے سامنے، نوابشاہ میں لاشیں پڑی ہوتی ہیں تو یہ جنازے پڑھنے نہیں جاتے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ آصف زرداری کی مخالفت کے باوجود بےنظیر بھٹو نے مجھے پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر بنایا تھا جبکہ آصف زرداری، احمد مختار کو پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر بنانا چاہتے تھے۔ آصف زرداری مجھے سمجھ ہی نہیں پائے۔

    اسلام آباد ائیرپورٹ سے سعودی عرب منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

  • پیپلزپارٹی اپنے مارچ میں رینٹ اے کارکا مجمع ساتھ لےکرچل رہی ہے، وزیر خارجہ

    پیپلزپارٹی اپنے مارچ میں رینٹ اے کارکا مجمع ساتھ لےکرچل رہی ہے، وزیر خارجہ

    نواب شاہ: پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ووٹوں کے فارمولےسے تو وزیراعظم نہیں بن سکتے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سکرنڈ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بلاول زرداری ووٹوں کے فارمولے سے تو وہ وزیراعظم نہیں بن سکتے، پنجاب میں ان کی مقبولیت 5 فیصد ہے، کے پی، بلوچستان اور کراچی میں بھی آپ نہیں ہو، تو وزیراعظم کیسے بنو گے-

    وزیر خارجہ نے بلاول سے کہا کہ بیٹا ابھی سیکھو ابھی آپ کو وقت لگے گا لکھی ہوئی باتیں بول دیتے ہو اچھا ہےایسے ہی انسان سیکھتا ہے، لیکن پودا ایک سال میں پھل دینا شروع نہیں کرتا، آپ پہلے یونین کالونی کا سفر طے کرو پھر اوپر آنا۔ میں نے 36 سال عملی سیاست کی ہے نرسری سے ایم اے کی کلاس میں داخل نہیں ہوا، بلدیہ سے آغاز کیا سیڑھی پر سیڑھی چڑھ کر آگے آیا ۔

    کومت نے ملک میں معیشت کی تباہی کیلئے بارودی سرنگ بچھا دی ہے،شاہد خاقان عباسی

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں سندھ کا حق نہیں دیا جارہا، سندھ کو اربوں روپے ملے ہیں، 9 ہزار ارب سندھ کے اکاؤنٹ نمبر ون میں آئے ہیں، 14 سالوں میں 1400 ارب سندھ کی ترقی کے لئے مختص کئے گئے ہیں، عمران خان نے صرف تین سال میں سندھ کے لئے ایک ٹریلین مختص کئے ہیں، بلاول 9 ہزار ارب روپے کا حساب دیں، آڈٹ رپورٹ کہہ رہی ہے 44 فیصد بجٹ کرپشن کے نظر ہوگیا ہے، یہ ہم نہیں کہتے سرکاری ادارے بتاتے ہیں-

    وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں اب پرانے نعروں کی کشش نہیں رہی، پیپلزپارٹی اپنے مارچ میں رینٹ اے کار کا مجمع لے کر ساتھ چل رہی ہے، پیپلزپارٹی سرکار کی بیساکھیوں پر سیاست کر رہی ہے، ، نام نہاد مارچ میں پولیس، ایمبولینس سرکاری وسائل استعمال ہو رہے ہیں، بلاول سے معصومانہ سوال ہے کہ جہاں جاتے ہیں شہر کیوں بند کرا دیتے ہیں، اگر عوامی مارچ ہے تو عوام کو کیوں دور رکھا جارہا ہے۔

    جعلی کرنسی سے خرید و فروخت کرنے والا نوسر باز گرفتار

    انہوں نے کہا کہ بلاول کہتے ہیں کہ میری جیب میں عدم اعتماد کی تحریک ہے، لیکن گزشتہ روز ان کی عدم اعتماد کی تحریک کی ہوا نکل گئی، چوہدری برادران نےوزیر اعظم کے ساتھ تائید کا اعادہ کیا، اور ہمارے باقی اتحادی بھی ہمارے ساتھ ہیں تحریک انصاف میں عمران خان کے علاوہ کوئی گروپ نہیں باقی سب کھیل تماشہ ہے، اپوزیشن کے پاس نمبر نہیں ہیں، ن لیگی انتخابات چاہتے ہیں اور پیپلز پارٹی والے انتخابات نہیں چاہتے ہیں-

    وزیرخارجہ نے کہاکہ روس اور یوکرین کی جنگ میں پاکستان امن کے ساتھ کھڑا ہے، یوکرین کے ساتھ تین ممالک کے سرحدی حدود لگتی ہے جن سے ہماری بات ہوئی ہے، اب تک 1 ہزار 132 بچے بارڈر کراس کر چکے ہیں، کل 3 ہزار طلباء و طالبات تھے ان سے بیشتر پہلے نکل آئے تھے جو رہ گئے ان کے ڈاکومنٹس تیار نہیں تھے اس لئے وہ رہ گئے ہیں، ان کے لئے کوشش کر رہے ہیں غافل نہیں ہیں-

    کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہونے کا امکان

    قبل ازیں نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اینکر سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ جہانگیر ترین گروپ کے اراکین وزیراعظم کے ساتھ ہیں چوہدری برادران نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے وزیراعظم دیگر اتحادیوں سے بھی ملیں گے جب کہ جہانگیر ترین گروپ کے اراکین ضلعی اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں وہ سب وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔

    واضح رہےکہ گزشتہ روز اسی پروگرام میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کو فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی ہے۔

    ہرن سے انسان میں منتقل ہونے والا پہلا کورونا کیس دریافت

  • کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی نے کہا ہے کہ کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ ہیں ،ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیف میں ہمارا سفارتخانہ تھا جس کو منتقل کردیا کیف سے سفارتخانہ منتقلی کرنے کا مقصد اپنے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے،کیف میں موجود پاکستانی سفیر سے رابطے میں ہوں وزیراعظم عمرا ن خان واضح کرچکے ہیں کہ ہم کسی بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے ،ہمیں اپنے ماضی کی تجربات کو دیکھتے ہوئے آگے جانا ہوگا،وزیراعظم کےدورہ روس پر ان کے ہمراہ تھے وزیراعظم عمران خان کو طویل عرصے بعد دورہ روس کی دعوت دی گئی تھی،بطور وزیرخارجہ روسی ہم منصب سے ملاقات ہوئی ،وزیراعظم عمران خان اورصدر پیوٹن کے درمیان ساڑھے 3 گھنٹے کی ملاقات ہوئی ،وزیراعظم اور پیوٹن نے افغانستان ،جنوبی ایشیا میں استحکام اور مقبوضہ کشمیر پرزیادہ گفتگو کی،وزیراعظم اور پیوٹن کے درمیان ملاقات میں اسلامو فوبیا پر بھی بات چیت ہوئی وزیراعظم عمران خان اورصدر پیوٹن نے مدت بعد طویل گفتگو کی ،وزیر اعظم عمران خان نے روسی صدر اور ہم منصب سے گیس سیکٹر میں تعاون پر با ت کی،وزیراعظم عمران خان سے ہوٹل میں روسی ہم ڈپٹی ہم منصب کی ملاقات ہوئی روسی ڈپٹی وزیراعظم کے ساتھ اعلیٰ وفد بھی تھا ،ہم نے تحفظات اور مشکلات پر گفتگو کی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ روسی قیادت نے پاکستان میں سرما یہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیس کی قلت ،توانائی کا بحران سمیت دیگر معاملات پرمثبت گفتگو ہوئی آئندہ دنوں میں روس کےساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پر کام ہوگا افغانستان میں صورتحال سے متعلق روس اور پاکستان کے سوچ کا زاویہ ایک ہے روس بھی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے وزیراعظم کے دورہ روس مختصر کرنے کی خبر پڑی ، جس پر حیرت نہیں ہوئی،بےبنیاد باتیں ہوتی رہیں کہ موجودہ حالات میں دورہ مناسب نہیں تھا پاکستان کو دورہ روس سے قطعا کوئی نقصان نہیں ہوگا،ہم نے دورہ روس سے قبل معاملات کا جائزہ لیاتھا سفارتی مذاکرات کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں

    دوسری جانب پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ پاکستانی طلبہ سے پہلے دن سے تعاون کررہا تھا،پہلے دن سے کہہ رہے تھے ملک چھوڑ دیں لیکن مجبوری کی وجہ سے نہیں گئے،ہم اب بھی پاکستانی طلبہ کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں،تمام طلبہ ٹرین یا ٹرانسپورٹ کے ذریعے جلد از جلد ترنوپل آجائیں یوکرینی حکومت نے اعلان کیا ہے ٹرین کا ٹکٹ فری ہوگا پاکستانی شہری اورطلبہ رابطہ کرکے بتائیں کہاں آرہے ہیں، لویف اورترنوپل میں سہولت مراکز قائم ہیں سہولت مراکز سے پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ بھیجیں گے یوکرین کی فضائی حدود بند ہے،پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ کی ٹکٹ لے کر وہاں سے پاکستان جاسکتے ہیں،یوکرین سے اپنے گھر واپسی کےلیے مدد کریں گے،طلبہ کو یوکرین سے بحفاظت نکالنے کےلیے اقدامات کررہے ہیں

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    یوکرین میں پاکستانی طلبا کو سفارتخانے نے لاوارث چھوڑدیا، طلبا کی اپیل

  • درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    ‏وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد(ISSI) اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کے محققین کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری خارجہ رضا بشیر تارڑ، ڈائریکٹر جنرل (آئی ایس ایس آئی) ایمبیسڈر اعزاز چوہدری اور صدر انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، ایمبیسڈر ندیم ریاض اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی ،دوران اجلاس خطے میں روابط کے فروغ، کووڈ 19 کے بعد بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز زیر بحث آئے ،‏وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج اس بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی منظر نامے میں خارجہ پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں، تھنک ٹینکس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ہمیں خارجہ محاذ پر درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی سطح کی تحقیق کو منظرعام پر لانا ہوگا پاکستان، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ۔آج بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال ہماری خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا، پاکستان، نے ناقابل تردید شواہد پر مبنی "ڈوزیر "کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی قابض افواج کے مظالم کی جانب مبذول کروائی،

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مخدوش معاشی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی ،ہماری اہم سفارتی کامیابی ہے، تیزی سے بدلتے ہوئے، عالمی منظر نامے میں ہمیں،درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ہم اپنے تحقیقی اداروں کو مزید فعال بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے ہر ممکن کوششیں اور وسائل بروئے کار لانے کیلئے پر عزم ہیں۔

  • مودی کو اگر اسلام آباد میں آنے پر مسئلہ ہے تو سارک  کانفرس میں ورچوئل شرکت کر لیں، شاہ محمود قریشی

    مودی کو اگر اسلام آباد میں آنے پر مسئلہ ہے تو سارک کانفرس میں ورچوئل شرکت کر لیں، شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کو جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دے دی-

    باغی ٹی وی :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوران پریس کانفرنس کہا کہ پاکستان کے نزدیک سارک اجلاس ایک اہم فورم ہے اور ہم 19واں سارک اجلاس کے انعقاد پر پُرعزم ہیں اور اگر بھارت کو اجلاس میں شرکت پر کوئی مسئلہ ہے تو وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنی شرکت کو یقینی بنا سکتے ہیں-

    بھارت:قوتِ گویائی سے محروم چیمپئن نے حکومتی وعدوں کو بے نقاب کردیا

    وزیر خارجہ نے آئندہ سربراہی اجلاس کے لیے تمام ممبران کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت، اسلام آباد میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکتا تو کم از کم وہ دوسرے اراکین کو روکنے سے گریز کرے بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سارک اپنی حقیقی صلاحیت کا ادراک کرنے میں ناکام رہا بھارت کے مایوس کن رویے کے باوجود سارک نے کووڈ 19 وبائی مرض سے نمٹنے میں فعال کردار ادا کیا۔

    سال 2021 میں 45 صحافیوں کو قتل کیا گیا،آئی ایف جے

    بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بدقسمتی سے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے امکانات اور اقتصادی ترقی کے وسیع امکانات اور علاقائی تعاون بھارت کے معاندانہ رویے کے باعث یرغمال ہو چکا ہے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت نے خاص طور پر غیر ذمہ دارانہ اور سیاسی طور پر محرک پاکستان مخالف مؤقف اور داخلی سطح پر مسلم مخالف رویہ اپنایا ہے۔

    یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

    انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے لیکن جیسا کہ وزیر اعظم (عمران خان) نے کہا کہ یہ ذمہ داری بھارت پر بھی ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے جموں و کشمیر تنازع کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کی شرط ہے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان کشمیری عوام اور رہنماؤں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔

    بھارت:قوتِ گویائی سے محروم چیمپئن نے حکومتی وعدوں کو بے نقاب کردیا

    خیال رہے کہ اسلام آباد 16 نومبر 2021 کو سارک سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنی تھی لیکن بھارت نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا تھا اس کے بعد سے سربراہی اجلاس نہیں ہوسکا کیونکہ سارک چارٹر کے مطابق سربراہان حکومت کا اجلاس منعقد نہیں کیا جاسکتا اگر ممبران میں سے کوئی شرکت کرنے سے انکار کرتا ہے۔

  • وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مقرر کردہ اہداف کو  حاصل کرنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں،شاہ محمود قریشی

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مقرر کردہ اہداف کو حاصل کرنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں،شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت، وزارتِ خارجہ میں اقتصادی سفارت کاری کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا-

    باغی ٹی وی : اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری خارجہ رضا بشیر تارڑ، مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء سمیت وزارتِ خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی اجلاس میں، نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب ایمبیسڈر منیر اکرم ،امریکہ میں پاکستان کے سفیر ایمبیسڈر اسد مجید ،ترکی میں پاکستان کےسفیرایمبیسڈر سائرس سجاد قاضی، آسٹریا میں پاکستانی سفیر آفتاب احمد کھوکھر، ایران میں تعینات پاکستانی سفیر رحیم حیات قریشی ،روس میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان، نیدرلینڈ میں تعینات پاکستانی سفیر سلجوک مستنصر تارڑ، جنیوا میں پاکستان کے مستقل مندوب خلیل ہاشمی شریک ہوئے۔

    پیپلزپارٹی ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں کرتی،جیالے تیاری پکڑیں، کٹھ پتلی کے خلاف اب وار کا وقت آگیا…

    اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ میں آپ سب کو اقتصادی سفارت کاری پر آج کے منعقدہ اجلاس میں خوش آمدید کہتاہوں ہماری آج کی ملاقات اقتصادی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کے لیے جاری ہماری کوششوں کا حصہ ہے۔ میں مختلف خطوں میں تعینات اپنے سفیروں سے بات چیت کرتا رہا ہوں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اقتصادی سفارت کاری پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ مشن کے سربراہان اب ذاتی طور پر اس حوالے سے دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آپ کو ادراک ہے کہ معاشی ترقی، قومی سلامتی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں، پاکستان، جغرافیائی سیاست سے جیو اکنامکس کی طرف توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اکیلے اقتصادی سفارت کاری تبدیلی کے راستے پر گامزن ہونے کے لیے جادو کی چھڑی نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ہمیں تمام کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ بطور سفیر، آپ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ وزارتِ خارجہ کی جانب سے، اقتصادی سفارت کاری پر دو سفراء کانفرنسیں منعقد کی گئیں ، جس کے بعد 2020 میں نیروبی میں پاک-افریقہ تجارتی ترقی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ افریقہ ہمارے لیے ایک اہم. خطہ ہے جس کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے، حکومت پاکستان نے افریقہ میں پانچ مشنز کھول کر اپنی سفارتی موجودگی کو بڑھایا ہے-

    ان اقدامات سے اب تک حکومت کی کوششوں سے درج ذیل فوائد حاصل ہوئے ہیں:

    پاکستان کی "کاروبار کرنے میں آسانی” کی درجہ بندی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران 39 پوائنٹس کی بہتری آئی ہے، ہماری اسٹاک ایکسچینج کو ایشیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی مارکیٹ قرار دیا گیا ہے، ہمارے کاروباری اعتماد کی درجہ بندی میں 59 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

    آئندہ قومی الیکشن میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا کیا جائےگا ،سینیٹر مولانا عطا الرحمان

    افریقی ممالک کے ساتھ 7 فیصد کے حوصلہ افزاء اضافے کے ساتھ پاکستان کی مجموعی تجارت بڑھی ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) اقدام کے تحت، 175 ممالک سے 299000 سے زیادہ اکاؤنٹس میں 2.9 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ رقوم جمع ہوئی ہیں، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں تقریباً 2 بلین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مقرر کردہ اہداف کو حاصل کرنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ اقتصادی سفارت کاری، محض درآمدات اور برآمدات سے کہیں زیادہ وسیع تصور ہے۔ اس میں وہ تمام اقدامات شامل ہیں جو ملک کی معیشت میں بہتری لانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ ان کاوشوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینا، بیرون ملک روزگار پیدا کرنا، ترسیلات زر میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنا شامل ہیں۔

    گزشتہ تین سالوں کے دوران تسلسل کیساتھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،حکومت کا اعتراف

    پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے کیلئے نئے اقدامات کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مستقبل کی صنعتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے مشنز کس طرح پاکستان کو مصنوعی ذہانت، الیکٹرک وہیکلز ٹرانسپورٹیشن، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق متحرک کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں مذہبی سیاحت سمیت سیاحت کی تمام جہتوں کو فعال انداز میں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی اقتصادی سفارت کاری پر جارحانہ انداز میں کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

    مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء نے اقتصادی سفارت کاری کے حوالے سے اب تک کی جانے والی کاوشوں سے وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔

    خودکشی کی کوشش کی سزا ختم کرنے اور ذہنی بیماری قرار دینے کا بل پیش

  • او آئی سی اجلاس،مہمانوں کی آمد جاری، وزیر خارجہ کا پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ

    او آئی سی اجلاس،مہمانوں کی آمد جاری، وزیر خارجہ کا پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ

    او آئی سی اجلاس،مہمانوں کی آمد جاری، وزیر خارجہ کا پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کیا ہے وزیر خارجہ کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے انتظامات پر بریفنگ دی گئی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ و دیگر وفود کی سہولت کیلئے ہر ممکن انتظامات کو یقینی بنایا گیا آج پارلیمنٹ میں اعلیٰ حکام کی بیٹھک ہو گی او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کا ایجنڈے کو کل حتمی شکل دی جائے گی، اسپیشل سیکرٹری خارجہ رضا بشیر تارڑ، ترجمان وزارت خارجہ عاصم افتخار و دیگر سینیر افسران وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے وزیر خارجہ کو پارلیمنٹ میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے کیے گئے انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی وزیر خارجہ نے کانفرنس ہال، وفود کی سہولت کیلئے بنائے گئے کاؤنٹرز، میڈیکل سینٹر، میڈیا سینٹر اور مختلف رومز ملاحظہ کیے ،وزیر خارجہ نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا

    افغانستان کی صورتحال پر او آئی سی کانفرنس کیلئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کا اجلاس ریڈ زون مکمل طور پر سیل کردیا گیا سرینا چوک ، ڈی چوک ، نادرہ چوک سے ریڈ زون جانے والے راستے بند کر دیئے گئے ہیں،

    اسلامی تعاون تنظیم (او ائی سی) کانفرنس کے شرکا کو افغانستان میں انسانی بحران پر بریفنگ کے لئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اسلام اباد پہنچ گئے ہیں ، کہتے ہین امن کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے ،پاکستان کے لیے بڑی خوشی کا موقع کہ وہ اتنے بڑے اجلاس کی میزبانی کررہا ہے ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان مین افغان سفارتخانے کے نمائندے کی قرغستان کے نائب وزیر خارجہ سے غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں افغانستان کی صورتحال بارے بات چیت کی گئی

    https://twitter.com/payf_urdu/status/1472131900454150148

    او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کیلئے تشریف لائے ہوئے ملایشیا کے وزیر خارجہ جناب سیف الدین عبداللہ کی وفد کے ہمراہ وزارتِ خارجہ آمد ہوئی ہے، ملائشیا کے وزیر خارجہ کی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے

    او آئی سی غیر معمولی اجلاس نائیجر کے نائب وزیر خارجہ يوسف المقطر شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان او آئی سی اجلاس میں شریک ممالک کے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچ گئے ہیں، بوسنیا کی وزیر خارجہ محترمہ بسیرہ ترکووچ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئیں۔ اسلام آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال نے معزز مہمان کا خیر مقدم کیا۔انڈونیشیا کے وزیرخارجہ بھی اسلام آباد پہنچ گئے ،ترکمانستان کے وزیر خارجہ جناب راشد مریدوف او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئے۔

    افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کی وزارت خارجہ اسلام آباد آمد ہوئی ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امیر خان متقی کا استقبال کیا۔او آئی سی کے اجلاس کے حوالے سے تبادلہ خیال۔اجلاس میں افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق/ کابل میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان بھی شریک تھے

    https://twitter.com/payf_urdu/status/1472139899801415681

    او آئی سی اجلاس کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے افغانستان کی صورتحال پر او آئی سی کے اجلاس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکریٹری حسین ابراہیم طٰہٰ پاکستان پہنچ گئے ہیں

    او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں کچھ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کو بھی مدعو کیا جارہا ہے- اس غیر معمولی اجلاس کا مقصد، افغانستان کی سنگین انسانی صورتحال پر غور و خوض کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے، اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت افغانستان کے 38 ملین افراد میں سے 50 فیصد کو بھوک کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور یہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

    ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

    امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    او آئی سے اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ نے او آئی سی اور عالمی دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی ڈومیسائل کا نیا قانون، او آئی سی نے بڑا اعلان کر دیا

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی نائیجر میں او آئی سی اجلاس سے قبل اہم ملاقات

     او آئی سی کو قابض قوتوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے

    اوآئی سی سیکرٹری جنرل کی پاکستان آمد،آج ہوں گی اہم ملاقاتیں

    ایک اور یوٹرن، ساتھ شیخ رشید نے اسلام آباد والوں کو خوشخبری بھی سنا دی

  • او آئی سی  اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پرغور کرنا ہے ،وزیر خارجہ

    او آئی سی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پرغور کرنا ہے ،وزیر خارجہ

    اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پر غور کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے-

    باغی ٹی وی : او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں کچھ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کو بھی مدعو کیا جارہا ہے-

    انہوں نے جاری بیان میں کہا کہ اس غیر معمولی اجلاس کا مقصد، افغانستان کی سنگین انسانی صورتحال پر غور و خوض کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے، اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت افغانستان کے 38 ملین افراد میں سے 50 فیصد کو بھوک کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور یہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

    کنگ سلمان ریلیف کی جانب سے بلوچستان میں موسم سرما کا امدادی سامان تقسیم

    وزیر خارجہ نے کہا کہ سردیوں کی آمد نے افغانستان کی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، اگر اس صورت حال پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، افغانستان او آئی سی کے بانی اراکین میں شامل ہے، امت مسلمہ کا حصہ ہونے کے ناطے، ہم افغانستان کے لوگوں کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے کے برادرانہ بندھنوں میں بندھے ہوئے ہیں، او آئی سی نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کی حمایت کی ہے، آج پہلے سے کہیں زیادہ افغان عوام کو او آئی سی سمیت عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے تاہم پاکستان اس ضمن میں مسلسل اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 3.2 ملین بچے شدید غذائی قلت کے خطرات سے دوچار ہیں، یو این او سی ایچ اے کے مطابق، جنوری اور ستمبر 2021 کے درمیان 665,000 نئے افراد افغانستان کے اندر بے گھر ہوئے ہیں، قبل ازیں، افغانستان میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے 2.9 ملین افراد اس کے علاوہ ہیں تاہم پاکستان اپنے محدود وسائل کے باوجود، پچھلی کئی دہائیوں سے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

    ڈرون حملہ،کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی ،امریکا

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے عالمی رہنماؤں کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر رابطے ہوئے ہیں، میں خود، علاقائی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل کی ترویج کیلئے افغانستان کے قریبی پڑوسی ممالک ایران، تاجکستان، کرغزستان اور ترکمانستان کا دورہ کرچکا ہوں، پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے افغانستان کے 6 پڑوسی ممالک کا پلیٹ فارم تشکیل پاچکا ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں شرکت اور ٹرائیکا پلس اجلاس کی میزبانی بھی انہی سفارتی کاوشوں کا تسلسل ہے، افغانستان کی صورتحال پر عالمی برادری کو تشویش ہے، مسلم امہ کی اجتماعی آواز کے طور پر OIC انسانی بحران پر قابو پانے میں ہمارے افغان بھائیوں کی مدد کرسکتی ہے، او آئی سی کی قیادت دیگر بین الاقوامی اداروں کو آگے آنے اور افغان عوام کی مدد کیلئے ہاتھ بڑھانے کی ترغیب دینے میں موثر ثابت ہو سکتی ہے، افغانستان میں انسانی بحران کے خاتمے کے ذریعے معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    سعودی عرب میں تبلیغی جماعت کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں پر بھی پابندی

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی برادری کی مسلسل معاونت ناگزیر ہے، اس پس منظر میں 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والا او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات پر غور و خوض کا موزوں موقع فراہم کرے گا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی یواے ای کے ولی عہد سے ملاقات

  • امریکی کانفرنس میں عدم شرکت،پاکستان اصولی طور پر بلاک پالیٹکس میں شامل نہیں ہونا چاہتا  ،دفتر خارجہ

    امریکی کانفرنس میں عدم شرکت،پاکستان اصولی طور پر بلاک پالیٹکس میں شامل نہیں ہونا چاہتا ،دفتر خارجہ

    اسلام آباد:ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اصولی طور پر بلاک پالیٹکس میں شامل نہیں ہونا چاہتا اس ضمن میں وزیراعظم کا بیان پاکستان کی طویل مدتی پالیسی کی عکاسی کیلئے کافی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی صدرجوبائیڈن کی دعوت پر بلائی گئی ڈیموکریسی کانفرنس میں پاکستان کی طرف سے شرکت سے انکارکے بعد دفترخارجہ نے جمعہ کو اپنے بیان میں امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی اہمیت کواُجاگر کیا ہے

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اصولی طور پر بلاک پالیٹکس میں شامل نہیں ہونا چاہتا اس ضمن میں وزیراعظم کا بیان پاکستان کی طویل مدتی پالیسی کی عکاسی کیلئے کافی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس کانفرنس سے الگ رہ کر حتمی طور پر اپنے چین کی طرف جھکاؤکی عکاسی کردی ہے،البتہ ترجمان دفترخارجہ نے اس بات کو بے بنیاد قراردیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان مزار قائد کیوں نہیں گئے؟ اہم انکشاف

    ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم متعدد معاملات پر امریکا کے ساتھ رابطے میں ہیں،ہم امریکا کے ساتھ شراکت داری کو اہم سمجھتے ہیں،علاقائی اوربین الاقوامی سطح پر دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے متمنی ہیں جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ اس ضمن میں پہلے ہی وضاحت کرچکی ہے،میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہتا،وزارت خارجہ کا بیان ہی کافی ہے۔

    نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ترجمان دفترخارجہ کی محتاط بیان اور توجیح سے لگتا ہے کہ پاکستان کیلئے یہ فیصلہ کوئی آسان نہیں تھا اگر سرکاری ذرائع پریقین کیا جائے تو چین پاکستان کو اس کانفرنس سے دور رکھنا چاہتا تھا کیونکہ چین کی نظر میں یہ کانفرنس جمہوریت کے بجائے امریکی جیوسٹریٹجک مفادکو آگے بڑھانے کیلئے بلائی گئی تھی۔

    پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا چونڈہ کا دورہ، وکٹری شیلڈ مشقوں کا جائزہ

    چین کی ترجمان وزارت خارجہ کا بیان جس میں انہوں نے پاکستان کوحقیقی آئرن برادر قراردینے کے ساتھ اس ضمن میں پاکستان کے دفترخارجہ کا بیان بھی شیئرکیا ہے،اس سے لگتا ہے کہ پاکستان کے اس کانفرنس میں شرکت کے معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل چین سے اس بارے میں مشاورت کی ہوگی۔

    رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت کے پیچھے صرف چین کا ایک فیکٹر ہی کارفرما نہیں بلکہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صرف چنیدہ لیڈروں نے کانفرنس میں امریکی صدرکو جوائن کرنا تھا،پاکستان سمیت باقی لیڈروں سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف پہلے سے ریکارڈ شدہ اپنے بیانات بھجوا دیں اس کانفرنس میں کسی مباحثے اور معاملات کو زیربحث لانے کی اجازت بھی نہیں تھی لہذا پاکستان نے اس کانفرنس کو مفاد پرستی کا ایک موقع سمجھ کرنے اس میں نہ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

    کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کومستحکم کرے،یہ سب کے مفاد میں ہے:امن مذاکرات ہی میں بھلائی ہے:افغان حکومت

    اس کانفرنس میں 100سے زائد مدعوتھے،چین اور روس کو نہیں بلایا گیا ،تائیوان جسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے مدعوتھا تائیوان کو بلانے پر چین شدید ردعمل کا اظہارکرچکا ہےامریکہ میں چین اور روس کے سفیروں نے ایک مشترکہ مضمون لکھ کر امریکہ پرایسی کانفرنسیں منعقد کرکے دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کا الزام لگایا ہےلیکن پاکستان میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے دوطرفہ تبادلوں کے زاویئے سے نہیں دیکھنا چاہیئے پاکستان اورامریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

    ابھی حال ہی میں امریکی کانگرس کی خارجہ امورکمیٹی کا ایک وفد گریگوری ڈبلیو میکس کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کرچکا ہے اور سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کا وفد سینٹ کنگ کی قیادت میں آج پاکستان پہنچ رہا ہے۔

    پاکستان نےامریکا کی دعوت ٹھکراکرحقیقی بھائی ہونےکا ثبوت دیا،عمران خان بھی فخرہے:…

  • تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’پرامن اور خوش حال جنوبی ایشیا کے عنوان سے ’اسلام آباد کا نکلیو۔2021‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ’انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز‘ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے آج اس مجلس کا اہتمام کیا ہے۔ یہ لائق تحسین اقدام ہے۔ ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے ’وژن 2023‘ پر عمل درآمد کے ضمن میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ’اسلام آباد کانکلیو‘ ان کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے تحقیق اور مکالمے کے ذریعے پاکستان کے نکتہ نظر کے فروغ دینے کے لئے اٹھائے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’اسلام آباد کانکلیو‘ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے پانچ مراکز_ فضیلت (Centers of Excellence) کی پانچ سالہ کاوشوں کا نکتہ عروج ہے۔ اس کے ذریعے ممتاز پاکستانی و بین الاقوامی ماہرین کو دو روزہ مکالمے کے لئے جمع کیاگیا ہے جو مختلف نشستوں میں شرکت اور اظہار خیال فرمائیں گے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہوگی کہ عالمی اور علاقائی منظر نامے کے وسیع بیانیہ کو آپ کی خدمت میں عرض کروں اور پھر امن وترقی کے لئے پاکستان کی سوچ اور بصیرت کا خاکہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ ہماری دنیا تبدیل ہورہی ہے۔ کثیرالقومیت کے نظریہ کو تنہائی پسندی یا یک طرفہ سوچ کی قوتیں توڑ رہی ہیں۔ ممالک قوم پرستانہ ایجنڈوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ طاقت کا اظہار ایک نیا معمول بنتا جارہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور کشمکش بڑھتی جارہی ہے جو تصادم کی طرف کھنچ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نئی مخالفتیں اور رقابتیں جنم لے سکتی ہیں اور دنیا کو پھر سے ’دھڑوں‘ کی سیاست کی نذر کررہی ہیں۔ ایک نئی سردجنگ کا ظہور ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ ہتھیاروں کے انباروں میں اضافہ اور نئی ابھرتی ہوئی جنگی ٹیکنالوجی سے حربی امور کے بنیادی تقاضے ہی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ جارحانہ جنگی نظاموں کے منظر عام پر آنے، اشتعال انگیز نظریات کی رونمائی اور جارحانہ جنگی قوت کا اظہار، کشدگیوں کو بڑھانے اور فوجی مہم جوئی جیسے عوامل، پہلے سے سٹرٹیجک عدم استحکام کے شکار ہمارے خطے کے لئے مزید خطرات کا موجب بن رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں سٹرٹیجک استحکام کے لئے جوہری صلاحیتوں سے متعلق متفقہ طور پر طے شدہ پابندیاں اور روایتی افواج ناگزیر ہیں۔ جنوبی ایشیاءدنیا کی تقریباً ایک چوتھائ آبادی کا مسکن ہے جہاں ’نیٹ سکیورٹی پروائیڈر‘ جیسے نظریات کا فروغ پانا، خطے کے دیگر ممالک کے جائز سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مفادات سے کلیتاً صرف نظر کرنا ہے۔یہاں کے عوام کے درمیان استوار تاریخی، ثقافتی، لسانی، نسلی اور جغرافیائی رابطوں سے قطع نظر، جنوبی ایشیاءتنازعات، جنگی جنون اور عدم اعتماد میں پھنسا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر تنازعہ جموں وکشمیر ایک دیرینہ اور قدیم ترین مسئلے کے طورپر موجود ہے جو تا حال کشمیر کے بہادر عوام کی امنگوں کے مطابق حل کا منتظر ہے۔ اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لئے تباہ کن ہوگا۔یہ خطہ چین اور بھارت کے درمیان جنگی محاذ آرائی، نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعے اور بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ کا مشاہدہ بھی کرچکا ہے۔ سری لنکا نے اپنی تاریخ کے 25 سال میں خونریز بغاوت کا سامنا کیا ہے۔ افغانستان چار دہائیوں سے تنازعے سے گزرتا آرہا ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں قومی سلامتی حکمت عملی میں انسانی سلامتی کو مرکزیت دینے کی ضرورت ہے۔ یعنی سلامتی پر مبنی پالیسیز سے خطے میں ترقی اور خوش حالی کی طرف جانا ہوگا۔ یہ ہے وہ حقیقی چیلنج جس کا آج جنوبی ایشیاء سامنا کررہا ہے۔ پاکستان نے اپنی توجہ تبدیل کرکے جیواکنامکس کی طرف مبذول کی ہے۔ خطے کو جوڑنا آج کا وہ لفظ ہے جسے مرکزیت و مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ہمیں قومی اور علاقائی ترقی کے لئے بے پناہ مواقع فراہم کرسکتا ہے۔پاکستان کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے چین کے مغربی حصوں اور وسط ایشیائی جمہوریتوں کی عالمی سمندروں تک رسائی کا مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کی سدا بہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری کا طرہ امتیاز ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ (سی پیک) رابطوں کی استواری کا ایک بہترین اور مثالی منصوبہ ہے۔ پاکستان کی معاشی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ’سی پیک‘ خطے کو جوڑنے کیلئے بھی ایک اہم راستہ ہے۔جنوبی ایشیاء کی خوش حالی کے لئے خطے میں علاقائی تعاون لازم ہے۔ سارک کو تنگ نظر سیاسی ایجنڈوں سے آزاد کرکے زندہ وفعال کرنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے خطے کے اندر تجارت انتہائی کم ہے، تجارت، شاہراتی نظام اور رابطوں میں حائل رکاوٹیں اور پابندیاں دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے کسی عالمی یا علاقائی تنازعے کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور صرف امن وترقی میں شریک کار رہنے کی راہ منتخب کی ہے۔ پاکستان اجتماعیت اور تعاون کی حامل سوچ وفکر پر مبنی وسیع تر معاشی واقتصادی شراکت داری پر زور دے رہا ہے۔

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت سارے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو معاشی سٹرکچرل وجوہات سے پیدا ہونے والے بہت سارے غیرروایتی سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے جن میں ماحولیاتی تغیر، غذا، توانائی اور آبی بحران، آبادی میں اضافے، بے محابہ شہروں کے بڑھنے اور غربت جیسے مسئلے شامل ہیں۔ نہایت فوری نوعیت کی تشویش کا باعث بننے والا مسئلہ، ماحولیاتی تغیر کا ہے جس کے براہ راست اثرات غذا اور آبی سلامتی پر ہوتے ہیں۔ عمران خان حکومت قومی سلامتی کے لیے، لاحق اس سنگین خطرے کا اداراک کرتے ہوئے ان اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ تجارت وسرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، انرجی سکیورٹی، زراعت، سیاحت میں تعاون اور عوامی رابطوں میں اضافہ ہماری ترجیحات ہیں۔ ہماری بنیادی دلچسپی پرامن اور مستحکم ’عالمی نظم‘ (انٹرنیشنل آرڈر) ہے جو سب کو اعتماد میں لے کر چلے۔پاکستان پرامن بقائے باہمی، تعاون پر مبنی کثیرالقومیت اور اتفاق رائے کی حامل فیصلہ سازی کے اصولوں کے عزم پر کاربند ہے۔ خطے اور دنیا میں امن، ترقی اور خوش حالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے ہم اجتماعیت کے حامل عالمی نظام (گلوبل آرڈر) کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم بیانیوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ پاکستان کے بیانیوں کی تشکیل اور ان کا فروغ ہم سب کے لئے ایک قومی ذمہ داری ہے۔ فیصلہ سازوں اور محقیقین کے درمیان خلیج کو پاٹنا ہوگا اور اتفاق رائے کے حامل بیانیوں کو پیش کرنا ہوگا، ’اسلام آباد کانکلیو‘ جیسے فورمز اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میں اس مجلس سے سامنے آنے والی سفارشات سے استفادہ کے لئے منتظر ہوں۔