Baaghi TV

Tag: وزیر خزانہ

  • پاکستان کے موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تشویشناک ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    پاکستان کے موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تشویشناک ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس پالیسی یونٹ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ میں شامل کر رہے ہیں –

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وفا قی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل کے وفد نے ملاقات کی جس کے دوران وزیر خزانہ نے منصفانہ ، موثر اور بہترین ٹیکس کے نظام کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی یونٹ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ میں شامل کر رہے ہیں جس کا مقصد ٹیکس پالیسی کو ریونیو کلیکشن کے دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے،وزارت خزانہ نے نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے مشاورتی عمل شروع کردیا ہے-

    سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیمیں آنے والے دنوں میں تمام تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیں گی پاکستان کے موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تشویشناک ہے اور 8 سے 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی سے ملکی معشیت اور عالمی حیثیت کے لیے ناقابل قبول ہے،وزیر خزانہ نے اس تناسب کو اگلے 3 سال میں 13.5 فیصد تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

    دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام فیلڈ فارمیشنز سے دہری شہریت رکھنے والے افسران سے تفصیلات طلب کرلیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا 8 سال بعد افغانستان کا دورہ

    اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے تمام ڈائریکٹرز جنرلز، چیف کمشنرزکو مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ کی دہری شہریت کی تفصیلات بھی فراہم کرنا لازمی ہے مراسلے میں دہری شہریت رکھنے والے افسران سے نام، عہدہ، مدت ملازمت اور غیر ملکی شہریت کا ڈیٹا طلب کیا گیا ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان کو بڑا جھٹکا،درخواست خارج

    دہری شہریت رکھنے والے شوہر یا بیوی کا الگ الگ ڈیٹا فراہم کرنا ہوگا جبکہ اہل خانہ کی دہری شہریت کی تفصیلات بھی فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے،دہری شہریت رکھنے والے ایف بی آر افسران کو طلب کردہ تمام تفصیلات ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    مجھے یقین ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ثابت ہوگا،وزیراعظم

  • 18واں ایشین فنانشل فورم : وفاقی وزیر خزانہ  شرکت کیلئے  ہانگ کانگ روانہ

    18واں ایشین فنانشل فورم : وفاقی وزیر خزانہ شرکت کیلئے ہانگ کانگ روانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18ویں ایشین فنانشل فورم میں شرکت کے لیے ہانگ کانگ روانہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: وزارت خزانہ کے مطابق محمد اورنگزیب دورہ ہانگ کانگ میں اہم ایشیائی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے وزیر خزانہ ایشیائی مالیاتی فورم سے خطاب کے دوران ملک کے معاشی منظر نامے کو واضح کریں گے۔

    محمد اورنگزیب مقامی اور چینی حکام، فنانشل سیکٹر ماہرین، پروفیشنلز ، سرمایہ کاروں اور اعلیٰ کاروباری حضرات سے ملاقاتوں کے علاوہ چائنا انٹرنیشنل کیپیٹل کارپوریشن لمیٹڈ ،چائنا نیو انرجی سکائیرل لمیٹڈ اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک کے سربراہان سے بھی ملیں گے۔

    امریکی شہر مینہیٹن جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

    وزیر خزانہ عوامی جموریہ چین کے ہانک کانگ اسپیشل ایڈمنسٹریٹو ریجن کے چیف ایگزیکٹو جان کے سی لی سے بھی ملاقات کریں گے اور ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے سرکردہ ارکان اور رہنماؤں سے بھی ملیں گے ایشیائی مالیاتی فورم ایشیائی نقطہ نظر سے عا لمی معیشت پر اثر انداز ہونے والے اہم مسائل کے حل اور بصیرت کے اشتراک میں ایشیاء کے مالیات، کاروبار اور بااثر حکومتی رہنما ؤ ں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کام سر انجام دیتا ہے۔

    ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار کا دعویٰ

  • وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیوز کانفرنس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر تفصیل سے بات کی ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب مثبت سمت میں گامزن ہے اور حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جو معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں گے۔اڑان پاکستان پروگرام پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔

    ٹیکنالوجی کی ترقی اور وفاقی اخراجات میں کمی
    وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اخراجات کا حجم کم کر کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جس میں حکومت کے ارکان، حزب اختلاف کے رہنما اور نجی شعبے کے افراد شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے تاکہ معیشت میں پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہوگا۔ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے ملکی معیشت کی قیادت سنبھالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت رائٹ سائزنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ طویل عرصے سے کام جاری ہے۔ رائٹ سائزنگ کا مقصد اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون 2025 سے پہلے رائٹ سائزنگ کے عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 6 وزارتوں نے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے اخراجات کا جائزہ لیا ہے۔ اس عمل میں وزارتوں اور اداروں کے غیر ضروری اخراجات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ صرف ضروری اور اہم اخراجات پر توجہ دی جا سکے۔وفاقی حکومت کے حجم کو مرحلہ وار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں منظور شدہ ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے انضمام کا عمل جاری ہے۔ اس کے تحت وزارت امور کشمیر، سیفران اور آئی ٹی کے اداروں کو ضم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس اور ہاؤسنگ کے ذیلی اداروں کا انضمام بھی کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے جو اقتصادی پلان اور اصلاحاتی اقدامات ترتیب دیے ہیں، ان سے معیشت میں استحکام آئے گا اور سٹرکچرل اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ حکومت نے پبلک فنانس اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کے لیے عملی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔محمد اورنگزیب نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور نجی شعبے کی حمایت سے ملک کی معیشت کو نئے امکانات فراہم کیے جائیں گے۔

  • وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی سفیر  کی الوداعی ملاقات

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی سفیر کی الوداعی ملاقات

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے الوداعی ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: وزارت خزانہ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں میں دو طرفہ اقتصادی تعاون اور تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیر خزانہ نے میکرو اکنامک استحکام کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر زور دیا اور آئی ایم ایف سے قرض پر سہولت فراہم کرنے پر امریکا کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اعلامیے کے مطابق ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجا رتی شراکت دار ہے، امریکا پاکستانی مصنوعات اور خدمات کیلئے ایک اہم مارکیٹ ہے، دونوں ممالک قریبی اقتصادی تعلقات سے فا ئدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں، وزیر خزانہ نے خاص طور پربڑھتے ہوئےآئی ٹی ایکسپورٹ سیکٹر پر روشنی ڈالی اور آئی ٹی و ڈیجیٹل خدما ت کے شعبوں میں تجارت بڑھانے کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔

    کراچی:نیو ائیر نائٹ ، ٹریفک پلان جاری،دھرنوں کے باعث مزید راستے بند

    امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے امریکا اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور پائیدار تعلقات کو سراہا اور پاکستان کی اقتصادی اصلاحات و ترقی کی حمایت جاری رکھنے کے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔

    افغانستان میں خواتین کو ملازمتیں دینے والی این جی اوز بند کرنے کا اعلان

  • ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد بحال کریں گے،وزیر خزانہ

    ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد بحال کریں گے،وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے ہم ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد بحال کریں گے-

    باغی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں ممبران کمیٹی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر نے شرکت کی، اجلاس میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں جو ٹیکس جمع ہو ان کی بھلائی پر لگے، ٹیکس وصولی کے لیے شکنجہ تنگ، فون بند کردیں گے، اکاؤنٹ بندکردیں گے جیسی زبان درست نہیں، عوام اور حکومت میں اعتماد کا فقدان ہے، ٹیکس لینے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں، پکڑ دھکڑ کی باتیں درست نہیں، اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہماری طرف سے تو ایسا نہیں ہے۔

    آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کر دیا

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سینیٹر شبلی فراز کی باتیں بہت اہم ہیں، ہم ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد بحال کریں گے،کرپشن کا خاتمہ یقینی بنانا ہے، ایف بی آر کی تنظیم نو کی جا رہی ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا ٹیکس ترمیمی بل 2024 کا مقصد ٹیکسز کا دائرہ کاربڑھانا ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ زیادہ ہے، تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا جبکہ وفاقی حکومت میں بھی رائٹ سائزنگ کی جا رہی ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری کی آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت

    چیئرمین ایف بی آر نے کہا پاکستان میں زیادہ تر کاروبار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں اور صرف 62 ہزار کاروبار رجسٹرڈ ہیں، ان ہی سے زیادہ ٹیکس آ رہا ہے جو دے رہے ہیں، صارف سے سیلز ٹیکس وصولی کر کے آگے جمع بھی نہیں کیا جا رہا، شبلی فراز نے سوال کیا کہ ایف بی آر میں سرمایہ کاری سے ٹیکس کتنا بڑھے گا؟ اس پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ اس وقت ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.3 فیصد ہے، جی ڈی پی میں ٹیکس تناسب 13.5فیصدتک بڑھانا چاہتے ہیں، فالٹی پراسس کو ٹھیک کرنا ہے ورنہ نتیجہ صفر بٹا صفر ہو گا-

    بچے کا نام رکھنے پر شدید اختلاف، بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی

  • پاکستان بزنس فورم کا  وزیرخزانہ کو خط،آئندہ سال کیلئے قابل عمل معاشی روڈ میپ کی اپیل

    پاکستان بزنس فورم کا وزیرخزانہ کو خط،آئندہ سال کیلئے قابل عمل معاشی روڈ میپ کی اپیل

    لاہور:پاکستان بزنس فورم نے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کو خط لکھ دیا جس میں فورم نے ر سال 2025 کے لیے واضح اور قابل عمل معاشی روڈ میپ کا اعلان کرنےکی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : خط میں پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ سال 2024 بزنس کمیونٹی اور عوام کے لیے مشکل ترین سال رہا، بجلی بلوں اور شرح سود نے بزنس کمیونٹی کو جکڑے رکھا، پاکستان کاروبار فرینڈلی ملک نہیں رہا لہٰذا سب کو مل کر بیٹھنے کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف کے ایک اور پروگرام کےباوجود روپیہ مضبوط ہونے میں ناکام رہاحکومت روپے کو مضبوط کرنے کے لیے فوری اورفیصلہ کن اقدامات کرے، روپے کی مضبوطی کے بغیر مالی دباؤ کم کرنے کی کوششیں بے اثر رہیں گی۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ 2024 میں زرعی محاذ پربھی کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بہت سے لوگ اپنی پیداواری لاگت کی وصولی سے قاصر رہے، پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف 16.5 ملین ایکڑ کا تھا مگر صرف 12 ملین ایکڑ رقبے پر گندم کی فصل کی کاشت ہوئی-

    خط میں بزنس فورم کی جانب سے وزیر خزانہ کو مشورہ دیا گیا کہ اس وقت میثاق معیشت کی تشکیل کی فوری ضرورت ہے، چارٹر کو وسیع سیاسی اتفاق رائے اور سول سوسائٹی کی حمایت حاصل ہو، تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اکٹھے ہوں، قوم کی بہتری کے لیے پالیسیوں پر اتفاق رائے پیدا کریں۔

    دوسری جانب پاکستان بزنس کاؤنسل نے اضافی ٹیکسوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے،اپنے ایک بیان میں پاکستان بزنس کاؤنسل نے کہا کہ ایڈوانس برائے ڈپازٹ تناسب اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس نے بزنس کمیونٹی کو چیلینجز میں مبتلا کر دیا ہے اور بینکوں کی بیلنس شیٹ کو متاثر کررہا ہے، بیرون ملک اثاثوں کو ظاہر کرنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا اکٹھا ہونا سرمایہ کار کو پریشان کررہا ہے سی وی ٹی سے ریونیو بھی کم حاصل ہوا اور سپریم کورٹ میں اسکے خلاف مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔

    پاکستان بزنس کونسل نے مشورہ دیا کہ محصولات کی شرح نمو کو بڑھانے کیلئے حکومت طویل المدتی حکمت عملی اپنائے، مالیاتی پالیسی کا جائزہ لیاجائے، ٹیکس کا بوجھ پہلے سے دینے والوں پر نہ ڈالاجائے۔

  • ٹیکس پالیسی  ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے،وزیر خزانہ

    ٹیکس پالیسی ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے،وزیر خزانہ

    سیالکوٹ: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایف بی آرکا پالیسی میکنگ میں کوئی تعلق نہیں ہوگا، ان کا کام اب کلیکشن کرنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پالیسی ریٹ نیچے آیا ہے تو یہ خوش آئند ہے، اوورسیز چیمبرز میں گئے تو وہاں سب کا اپنا پوائنٹ آف ویو تھا، آپ لوگوں کی مدد سے آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ ملا ہے، بجٹ پیش کرتے ہیں تو اس کے بعد کچھ چیزیں رہ جاتی ہیں، اسے دوبارہ پورا کیا جاتا ہے، آپ ابھی سے ہمیں پرپوزل بھیجیں تاکہ اپریل میں آپ کو مسئلہ نہ ہو، ہم آپ سے ڈسکس کریں گے کہ ہم یہ چیزیں بجٹ میں لے کر جارہے ہیں۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سیلریڈ کلاس کی تنخواہ پر ٹیکس کٹ رہا ہے، ٹیکس پالیسی ہم ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے، ہرایک کو ٹیکس اتھارٹی کے ساتھ ڈیل کرنا پڑے گی، ایف بی آرکا پالیسی میکنگ میں کوئی تعلق نہیں ہوگا، ان کا کام اب کلیکشن کرنا ہوگا،تین چیزیں چکن، دال ماش اور دال چنا کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، اس پر کام کیا اور قیمتوں کو کم کیا جس کا فائدہ عام آدمی کو ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ کے ملک میں صرف دو فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں، صنعت کاروں پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے، مضبو ط معیشت ہماری سیکیورٹی کی ضامن ہے، حکومتی اقدامات سے مہنگائی میں کمی ہوئی، پالیسی ریٹ نیچے آیا، محنت کر رہے ہیں مہنگائی میں کمی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں، پاکستانی اشیا کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہو گا۔

    انہوں کہا کہ دھرنے اور احتجاج سے ملکی معیشت کو نقصان ہوتا ہے اور ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنا ہو گی کاروباری بندش سے 2.2 ارب روپے کا یومیہ نقصان ہوتا ہےمعاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے پالیسی ریٹ اور کرنسی مارکیٹ کی ذمہ داری اسٹیٹ بینک کی ہے، اور ہم مارکیٹ کے حساب سے کرنسی پر رائے دے سکتے ہیں اس بار سیلری کلاس نے ٹیکس دیاجبکہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں، چارٹرآف اکانومی کے لیے ہمیں ایک پیج پر ہونا ہو گا، اسمگلنگ پر ضرب لگائی اور پیٹرول اسمگلنگ پر قابو پایا، سگریٹ اسمگل کرنے پر 900 سے زائد دکانیں بند کی گئیں-

  • ٹھوس اقدامات سےمعیشت استحکام کی طرف گامزن ہے،وزیرخزانہ

    ٹھوس اقدامات سےمعیشت استحکام کی طرف گامزن ہے،وزیرخزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ معاشی میدان میں اہم کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے، معاشی استحکام کے ساتھ شرح نمو میں اضافہ ترجیح ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی میدان میں اہم کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے ،نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 10سال بعد اس لیول پر آیا ،ترسیلات زر میں 35فیصد اضافہ ہوا ہے،یقین ہے ترسیلات زر35ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گی،برآمدی شعبے میں بھی مثبت رجحان ہے،ٹھوس اقدامات سےمعیشت استحکام کی طرف گامزن ہے –

    انہوں نے کہا کہ مہنگائی 6سال کی کم ترین سطح پرہے،نومبر میں 4.9فیصد پر آگئی،مہنگائی کا اثر براہ راست عام آدمی پر پڑتاہے،کوشش کریں گے مہنگائی میں کمی کا فائدہ عام آدمی کو پہنچائیں، اسٹیٹ بینک نے مسلسل پانچویں بار شرح سود میں کمی کی ، شر ح سود کا 13 فیصد پر آنا معیشت کیلئے اہمیت کا حامل ہے ،کاروباری برادری کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

  • اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب نے اسلامک کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کے حوالے سے زوم پر خطاب کرتے ہوئے اظہار خیال کیا اور مختلف مالیاتی اداروں کی کاوشوں کی تعریف کی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے اور اس کے انعقاد پر پاکستان کے مالیاتی اداروں جیسے ایس ای سی پی (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان)، ایوفی (اسلامی فنانس انسٹی ٹیوٹ) اور اسلامی ترقیاتی بینک کو مبارکباد پیش کی۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ خود اس کانفرنس میں کراچی آ کر شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن اپنی مصروفیات کے باعث وہاں نہیں پہنچ سکے۔ تاہم، انہوں نے بیرونی مندوبین کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور اس بات کا یقین دلایا کہ پاکستان اسلامی مالیاتی مارکیٹس کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کا انعقاد اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان کا مالی نظام شریعہ اصولوں پر منتقلی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کی راہ میں پیش رفت انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی کا نشان ہے جو نہ صرف مالیاتی شعبے کو مستحکم کرے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی تقویت دے گی۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے اس سفر میں تمام اداروں اور افراد کو یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔ شریعہ اصولوں پر مبنی مالیاتی مصنوعات تیار کرنا اور ان مصنوعات سے صارف کا اعتماد حاصل کرنا اس تبدیلی کی بنیاد ہے۔ یہ صرف ایک مالیاتی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی تبدیلی کی طرف بھی ایک قدم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی خدمات کی مانگ بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو اس بڑھتی ہوئی عالمی طلب کا فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی مالیاتی مارکیٹوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر اسلامی فنانشل خدمات کے لیے ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے اور پاکستان کو اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔وزیر خزانہ نے ایس ای سی پی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یہ ادارہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ماحول فراہم کر رہا ہے تاکہ مالیاتی ادارے شفافیت اور اخلاقی اصولوں کے تحت کام کر سکیں۔ ایس ای سی پی کا یہ عمل مالیاتی شعبے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی اہم ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے اور ملکی معیشت میں استحکام آئے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے آخر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے عمل میں حکومت اور مالیاتی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر کو حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت

    ریڈ بال کوچ ٹم نیلسن کا پاکستانی ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر

  • معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے، محمد اورنگزیب

    معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے، محمد اورنگزیب

    سلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے-

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا کہ دھرنے اور احتجاج سے ملکی معیشت کو نقصان ہوتا ہے۔ اور ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنا ہو گی۔ کاروباری بندش سے 2.2 ارب روپے کا یومیہ نقصان ہوتا ہےمعاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ پالیسی ریٹ اور کرنسی مارکیٹ کی ذمہ داری اسٹیٹ بینک کی ہے اور ہم مارکیٹ کے حساب سے کرنسی پر رائے دے سکتے ہیںاس بار سیلری کلاس نے ٹیکس دیا جبکہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ چارٹرآف اکانومی کے لیے ہمیں ایک پیج پر ہونا ہو گا اسمگلنگ پر ضرب لگائی اور پیٹرول اسمگلنگ پر قابو پایا۔ سگریٹ اسمگل کرنے پر 900 سے زائد دکانیں بند کی گئیں مرغی اور دالوں کی عالمی قیمت کم ہو رہی ہے۔ اور مڈل مین کا کردار ختم کرنا ہو گا۔ پرائیوٹ سیکٹر کو لیڈ کرنا ہے۔ جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیز ے 2.2 ارب ڈالر کا منافع باہر بھیجا ہے۔ او آئی سی سی آئی کا کاروباری اعتماد سروے حوصلہ افزا ہے اور حکومتی پالیسیوں کی بدولت معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملٹی نیشنلز کمپنیز کو کہا ہے کہ ایکسپورٹ بڑھائیں اور سرمایہ کاروں کو سہولتوں کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کا معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کے مسائل کو حل کیا جائے گا پاکستان میں بنی اشیا کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہو گا تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔