Baaghi TV

Tag: وفات

  • بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار سڈنی پوٹیئر 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

    بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار سڈنی پوٹیئر 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

    نیویارک :بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار سڈنی پوٹیئر 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے،سڈنی پوئٹیئر، جنہوں نے فیلڈ للیز میں اپنے کردار کے لیے بہترین اداکار کے لیے بہترین اداکار کے طور پر پہلے سیاہ فام آسکر ایوارڈ یافتہ نسلی رکاوٹوں کو عبور کیا اور شہری حقوق کی تحریک میں پوری نسل کو متاثر کیا، 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

    پوئٹیئرز نے ایک سال میں 1967 کی تین فلموں کے ساتھ ایک قابل ذکر فلمی میراث بنائی جس وقت ریاستہائے متحدہ کے بیشتر حصوں میں علیحدگی کا راج تھا۔

    Guess Who’s Coming to Dinner میں، اس نے ایک سفید فام دلہن کے ساتھ ایک سیاہ فام آدمی کا کردار ادا کیا، اور آدھی رات میں اس نے ایک سیاہ فام پولیس اہلکار ورجل ٹِبس کا کردار ادا کیا جسے قتل کی تحقیقات کے دوران نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی سال انہوں نے فلم ’’ٹو سر، ود لو‘‘ میں لندن کے ایک مشکل اسکول میں استاد کا کردار بھی ادا کیا۔

    پوئٹیئرز نے 1963 کی فلم فیلڈ للیز میں بہترین اداکار کا آسکر جیتا، اس نے ایک ہینڈی مین کا کردار ادا کیا جو صحرا میں ایک چیپل بنانے میں جرمن راہباؤں کی مدد کرتا ہے۔ پانچ سال پہلے، Poitiers وہ پہلا سیاہ فام آدمی تھا جسے بولڈ میں اپنے مرکزی کردار کے لیے آسکر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

    “ان دی ہیٹ آف دی نائٹ” کے ان کے کردار ٹِبز کو دو سیکوئلز میں امر کر دیا گیا تھا – “مجھے مسٹر ٹِبس کہا جاتا ہے!” 1970 میں اور “آرگنائزیشن” 1971 میں – اور ٹی وی سیریز “ان دی ہیٹ آف دی نائٹ” کی بنیاد بنی جس میں کیرول او کونر اور ہاورڈ رولنز مرکزی کرداروں میں تھے۔

    اس وقت کی ان کی دیگر کلاسک فلموں میں دی بلیو پیس آف 1965 شامل تھی، جس میں ان کے کردار نے ایک نابینا سفید فام لڑکی، جنگل بورڈز، اور ریزنز ان دی سن سے دوستی کی، جسے پوئٹیرز نے براڈوے پر بھی پرفارم کیا۔

    “اگر آپ آسمان چاہتے ہیں تو میں آسمان پر خطوط میں لکھوں گا جو ایک ہزار فٹ اونچی پرواز کریں گے … سر کو… محبت کے ساتھ سر سڈنی پوئٹیئر RIP اس نے ہمیں ستاروں تک پہنچنے کا طریقہ دکھایا،” – ہووپی گولڈ برگ، اداکارہ آسکر اور ٹی وی پریزینٹر نے ٹویٹر پر اس کے بارے میں لکھا۔

    “وقار، معمول، طاقت، کمال اور صاف بجلی جو آپ نے اپنے کرداروں میں لائی ہے اس نے ہمیں دکھایا ہے کہ ہم، سیاہ فام لوگوں کے طور پر، اہم ہیں!!!”، آسکر ایوارڈ یافتہ وائلا ڈیوس نے لکھا۔

    پوئٹیئر 20 فروری 1927 کو میامی میں پیدا ہوئے، بہاماس میں ٹماٹر کے ایک فارم میں پلے بڑھے اور صرف ایک سال کی سرکاری تربیت حاصل کی۔ اس نے غربت، ناخواندگی اور تعصب کا مقابلہ کیا تاکہ وہ پہلے سیاہ فام اداکاروں میں سے ایک بن سکے جنہیں مرکزی سامعین نے جانا اور سمجھا۔

    ایک ہدایت کار کے طور پر، پوٹئیر نے اپنے دوست ہیری بیلفونٹے اور بل کاسبی کے ساتھ 1974 میں اپٹاؤن سیٹرڈے نائٹ پر اور رچرڈ پرائر اور جین وائلڈر کے ساتھ 1980 کی دہائی میں اسٹر کریزی پر کام کیا۔

    پوئٹیرس کو 1974 میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے نائٹ کیا تھا اور وہ جاپان اور اقوام متحدہ کی ثقافتی ایجنسی یونیسکو میں بہاماس کی سفیر تھیں۔ وہ 1994 سے 2003 تک والٹ ڈزنی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی رہے۔

    پوئٹیئرز کٹ آئی لینڈ کے چھوٹے سے بہاماس گاؤں میں پلے بڑھے اور ناساؤ میں، 16 سال کی عمر میں نیویارک جانے سے پہلے، انہوں نے اپنی عمر کے بارے میں جھوٹ بولا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تھوڑے وقت کے لیے اور پھر آرام دہ اور پرسکون ملازمتوں میں کام کیا، جس میں ڈش واشر بھی شامل ہے۔ اداکاری کی مہارت کا وقت۔ اسباق

    نوجوان اداکار کو پہلا وقفہ اس وقت ملا جب اس کی ملاقات امریکن نیگرو تھیٹر کے کاسٹنگ ڈائریکٹر سے ہوئی۔ وہ فلم “ڈیز آف آور یوتھ” میں بیک اپ تھا اور اس نے دفتر سنبھالا جب بیلفونٹے کا اسٹار، جو پہلے سیاہ فام اداکار بھی بن گیا، بیمار ہوگیا۔

    پوئٹئیر 1948 میں فلم “اینا لوکاسٹا” میں براڈوے پر کامیاب ہوئے اور دو سال بعد رچرڈ وڈ مارک کے ساتھ فلم “نو وے آؤٹ” میں پہلا کردار ملا۔

    مجموعی طور پر، وہ 50 سے زیادہ فلموں میں نظر آ چکے ہیں اور 1972 سے لے کر اب تک نو فلمیں بک اینڈ دی پریچر بنا چکے ہیں، جس میں انہوں نے بیلفونٹے کے ساتھ اداکاری کی۔

    1992 میں، پوٹیئرز کو امریکن فلم انسٹی ٹیوٹ سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملا، جو آسکر کے بعد سب سے باوقار ایوارڈ ہے، جس میں بیٹ ڈیوس، الفریڈ ہچکاک، فریڈ ایسٹر، جیمز کیگنی اور اورسن ویلز جیسے انعام یافتہ افراد میں شامل ہوئے۔

    پوئٹیر نے سامعین کو بتایا کہ “مجھے بزرگ یہودی ویٹر کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے جس نے نوجوان سیاہ فام کلینر کو پڑھنا سیکھنے میں مدد کرنے کے لیے وقت نکالا۔” “میں تمہیں اس کا نام نہیں بتا سکتا۔ میں اسے کبھی نہیں جانتا تھا۔ لیکن اب میں کافی اچھی طرح سے پڑھتا ہوں۔”

    2002 میں، اعزازی آسکر نے “بطور فنکار اور ایک شخص کے طور پر ان کی شاندار کامیابیوں کو” نشان زد کیا۔

    1970 کی دہائی کے وسط میں، پوئٹیرز نے اپنی دوسری بیوی اداکارہ جوانا شمکس سے شادی کی۔ اپنی دو بیویوں کے ساتھ، اس کی چھ بیٹیاں تھیں اور انہوں نے تین کتابیں لکھیں، یہ زندگی ہے (1980)، مینز میسر: ایک روحانی خود نوشت (2000)، اور لائف بیونڈ میجر: لیٹرز ٹو مائی گرانڈ ڈوٹر (2008)۔ )۔

    انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا، “اگر آپ عقل اور منطق کو میرے کیریئر پر لاگو کرتے ہیں، تو آپ زیادہ دور نہیں جائیں گے۔” “یہ سفر شروع سے ہی ناقابل یقین تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ زندگی میں بہت کچھ خالص اتفاق سے طے ہوتا ہے۔

    پوئٹیئر نے تین سوانحی کتابیں لکھی ہیں، اور 2013 میں اس نے مونٹارو کین شائع کیا، ایک ناول جسے ایک اسرار کے طور پر بیان کیا گیا تھا، جزوی طور پر سائنس فکشن کے طور پر۔

    2009 میں، صدر براک اوباما نے پوئٹیئرز کو ریاستہائے متحدہ کا سب سے بڑا شہری اعزاز صدارتی تمغہ آزادی سے نوازا۔

    2014 کے اکیڈمی ایوارڈز نے Poitier کے تاریخی آسکر کی 50 ویں سالگرہ کا نشان لگایا، اور وہ بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ پیش کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔

  • بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت   ماما محمد خان مینگل  گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے

    بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت ماما محمد خان مینگل گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے

    کوئٹہ :بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت ماما محمد خان مینگل گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت اور سابق ایکس ای این محکمہ بی اینڈ آر انجینئر ماما محمد خان مینگل طویل علالت کے بعد گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے.

    مرحوم ماما محمد خان مینگل سابق انجینئر بی اینڈ آر احمد خان مینگل، ٹھیکیدار نور مینگل اور چیف انجنیئر بی اینڈ آر علی احمد مینگل کے بڑے بھائی جبکہ میٹروپولٹین کے چیف آرکیٹیکٹ حاجی محمد اسحاق مینگل، ایکس ای این ایریگیشن حاجی محمد ابراہیم ، ڈاکٹر محمد اسمٰعیل مینگل اور آصف مینگل کے والد تھے جبکہ ٹھیکیدار عبدالغنی مینگل، غلام مصطفی مینگل، اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر ٹو گورنر بلوچستان محمد عارف مینگل، حبیب اللہ مینگل، ماسٹر ناصر مینگل اور انسپکٹر سی آئی اے عامر مینگل کے ماموں تھے. اور عبدالمجید مینگل، عبدالعزیز مینگل اور کامریڈ عبدالواحد مینگل کے کزن تھے۔

    مرحوم انجنیئر ماما محمد خان مینگل کا نماز جنازہ کل بروز جمعرات صبح 10 بجے مدرسہ مطلع العلوم وحدت کالونی پہلا اسٹاپ بروری روڈ کوئٹہ میں ادا کی جائےگی. بعدازاں مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی مدرسہ مطلع العلوم مسجد میں ہی جاری رہے گی.

  • سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌:    سیاسی رہنماوں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ جاری

    سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌: سیاسی رہنماوں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ جاری

    اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌،اطلاعات کے مطابق سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ محترمہ آج شام قضائے الٰہی سے وفات پا گئی ہیں‌، بیگم سرتاج عزیز کی وفات کی خبر پرملک بھر کی سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا ہے ،

    دیگررہنماوں کی طرف نواز لیگ کے صدر پاکستان کے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے بیگم سرتاج عزیز کی وفات پرافسوس کرتے ہوئے اسے سرتاج فیملی کےلیے ایک بہت بڑا صدمہ قرار دیا ہے

     

     

    شہبازشریف نے اس حوالے سے اظہارافسوس کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ "پارٹی کے سینئر راہنما، سابق وزیر خزانہ محترم سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پر تمام اہل خانہ سے تعزیت اور افسوس کرتا ہوں۔ غم کی اس گھڑی میں ہم سب ان کے ساتھ شریک ہیں۔ اللہ تعالی مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں بلند مقام اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ آمین

     

    دوسری طرف خاندان کی طرف سے ان کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے حوالے سے بتا دیا گیا ہےکہ آج شام 4 بجے ان کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ہے اور بیگم سرتاج عزیز کو ایچ 8 قبرستان میں دفن کردگیا ہے

     

    لواحقین کی طرف سے یہ بھی پیغآم جاری جاری دیا گیا ہے کہ  کل  30 دسمبر سہ پہر 3 بجے چک شہزاد فارم اسلام آباد میں رسم سوئم ادا کی جائے گی

     

     

  • ولن يؤخرالله نفساإذاجاءأجلها ۚوالله خبيربماتعملون:2021 میں‌ نامورپاکستانی شخصیات جو دنیا فانی سےکوُچ کرگئیں

    ولن يؤخرالله نفساإذاجاءأجلها ۚوالله خبيربماتعملون:2021 میں‌ نامورپاکستانی شخصیات جو دنیا فانی سےکوُچ کرگئیں

    لاہور:ولن يؤخر الله نفسا إذا جاء أجلها ۚ والله خبير بما تعملون:سال 2021 میں‌ نامور پاکستانی شخصیات جو دنیا فانی سے کوُچ کرگئیں،تفصیلات کے مطابق ویسے تو اس ملک کے ہزاروں باسی اگلے جہان میں بسیراکرنےکے لیے موت کے منہ سے گزرتے ہوئے قبرستان کی وادی میں چلے گئے اورپھروہاں سے ہرکُوچ کرنے والے اپنے رب کے پاس پہنچ گیا ، دعا ہے کہ اللہ تعالٰی تمام وفات پانے والوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے

     

     

    جہاں تک تعلق ہےکہ کچھ نامور شخصیات کا توسب سے پہلے ذکرکرتے ہیں‌کہ 2021 میں پاکستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتقال ہو گیا، ان کی عمر 85 برس تھی ڈاکٹرعبد القدیر خان نے نومبر 2000 میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔

    بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی طویل علالت کے بعد جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ساتھ مقبوضہ وادی کی آزادی کےلئے کی جانے ولای ایک طویل جدوجہد کا باب بھی ختم ہو گیا۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے سید علی گیلانی کو گزشتہ12 برس سے سرینگر میں گھر میں مسلسل نظر بند کر رکھا تھا، جسکی وجہ سے انکی صحت انتہائی گر چکی تھی۔ سید علی گیلانی کو 20برس تک بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں قید رکھا گیا۔

    پاکستان کے سابق صدر پاکستان ممنون حسین بھی کئی عرصے کی علالت کے بعد انتقال کر گئے، سابق صدر پاکستان ممنون حسین 2013 سے 2018 تک پاکستان کے صدر رہے اور ان کا شمار مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماو¿ں میں ہوتا تھا۔ مرحوم ممنون حسین 23 دسمبر 1940 میں پیدا ہوئے۔ وہ جون1999 سے اکتوبر1999 تک گورنرسندھ بھی رہے تھے۔

    19 اپریل 1955 میں پیدا ہونے والے کامیڈی کے بادشاہ عمر شریف بھی اپنے مداحوں کو چھوڑ گئے، 14 سال کی عمر سے اسٹیج اداکاری شروع کرنے والے عمر شریف دیکھتے ہی دیکھتے کامیڈی کی دنیا کے کنگ بن گئے،ٹی وی، اسٹیج ایکٹر، فلم ڈائریکٹر، کمپوزر، شاعر، مصنف، پروڈیوسر یہ تمام صلاحیتیں عمر شریف کی شخصیت کی پہچان بنیں۔

    ماضی کے یادگار مزاحیہ ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی معروف اداکارہ دردانہ بٹ 83 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ دردانہ بٹ نے اداکاری کا آغاز 70 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور کامیڈی ڈرامہ ’ففٹی ففٹی‘ میں معین اختر کے ساتھ کیا تھا۔ سینئر اداکارہ کو ان کی بہترین صلاحیتوں کے اعتراف میں سال 1985 میں پی ٹی وی کی جانب سے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔

    معروف ڈرامہ نویس اور مکالمہ نگارحسینہ معین بھی اس سال انتقال کر گئیں، پی ٹی وی کی مقبول ترین ڈرامہ نویس کا اعزاز اپنے نام کرنے والی حسینہ معین نے بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں جنم لیا تھا۔ حسینہ معین نے پی ٹی وی کے لیے بہت سے یادگار ڈرامے لکھے جن میں شہزوری، زیر زبر پیش، انکل عرفی، ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے، دھند، آہٹ، کہر، پڑوسی، آنسو، بندش اور آئینہ سمیت دیگر شامل ہیں۔

    2021 میں معروف مزاح نگار فاروق قیصر (انکل سرگم) بھی انتقال کرگئے ، ان کا انتقال اسلام آباد میں ہوا ، وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے،فاروق قیصر، مصنف، کالم نگار، کارٹونسٹ اور ٹی وی پروڈیوسر تھے۔ وہ 31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے مختلف مزاحیہ کتب بھی لکھیں جنہیں عوام میں بہت پذیرائی ملی۔

    پاکستان کی پہلی ٹی وی میزبان کا اعزاز رکھنے والی ریڈیو اینکر کنول نصیر 70 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں، کنول نصیر ریڈیو اور ٹی وی سے 5 دہائیوں سے زائد عرصہ وابستہ رہیں، انہوں نے محض 17 برس کی عمر میں کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ماضی کی معروف ٹی وی اداکارہ خورشیدشاہد بھی 2021 میں انتقال کرگئیں ،

    2021 میں فلم، ٹی وی اور ریڈیو کے معروف اداکار سہیل اصغر جگر کے کینسر کے باعث دنیا چھوڑ گئے، 1970 کی دیہائی میں لاہور سے بطور ریڈیو جوکی اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والے سہیل اصغر کے مشہور ڈراموں میں ننگے پاو¿ں ، پیاس، کاجل گھر اور سمندر ہے درمیان جیسے ڈرامے شامل ہیں۔

    لیجنڈری اداکارہ بشریٰ انصاری کی بہن اداکارہ سنبل شاہد کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئیں، بشریٰ انصاری کی طرح ان کی بہن سنبل شاہد بھی کئی نامور ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دِکھا چکی ہیں۔

    اس سال ممتاز اداکارہ نائلہ جعفری بھی انتقال کر گئیں، ان کا انتقال کراچی میں ہوا، وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔

    فلم اور ڈراموں کے معروف اداکار انور اقبال بھی دنیا چھوڑ گئے، معروف اداکار انور اقبال نے متعدد ڈرامہ سیریل، سیریز اور لانگ پلیز میں کام کیا تھا۔ ان کے مشہور ڈراموں میں آخری چٹان، شاہین، خرمن، بابر، عشق پیچہ، رشتہ انجانے سے، حنا کی خوشبو، پل صراط، دوستیں جو پیار سمیت دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے چند اردو فلموں میں بھی کام کیا تھا۔

    رواں سال پاکستانی گلوکار و موسیقار اوراوور لوڈ کے میوزیشن فرہاد ہمایوں کے انتقال کی خبر ان کے آفیشل فیس بک پیج کے ذریعے دی گئی۔ فرہاد ہمایوں نے 2003 میں ’اوور لوڈ‘ نامی میوزک گروپ تشکیل دیا تھا، جس کا شمار ملک کے مشہور میوزک بینڈز میں ہوتا ہے۔

    پاکستان کے ممتازدانشور اور کالم نگار اجمل نیازی74 سال کی عمر میں وفات پاگئے، وہ طویل مدت تک ’بے نیازیاں ‘ کے نام سے معروف قومی اخبار میں کالم بھی لکھتے رہے۔ بہترین کالم نگاری پر سابق صدر آصف علی زرداری نے انہوں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

    رواں سال سابق گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز علی بھٹو بھی انتقال کر گئے، ممتاز علی بھٹو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے کزن تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے تھے۔ ممتاز بھٹو نے 22 دسمبر 1971 سے 20 اپریل 1972 تک سندھ کے آٹھویں گورنر کے فرائض سرانجام دیے، بعد ازاں یکم مئی 1972 سے 20 دسمبر 1972 تک وہ صوبہ سندھ کے 13 ویں وزیرِ اعلیٰ بھی رہے۔

    مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان 68 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مشاہد اللہ خان نے 1990 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ سال 2009 اور 2015 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔ مشاہد اللہ خان 2017 سے مئی 2018 تک وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی رہے۔دنیائے ہاکی کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی نوید عالم خون کے سرطان (بلڈ کینسر) کے سبب انتقال کر گئے ہیں۔وہ شوکت خائم ہسپتال لاہور میں زیرعلاج تھے

     

    آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں                                            سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

    آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں                                          کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں

    اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز                                    اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں

    کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو                                             وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں

    رکھتے قدم جو وادئ الفت میں بے دھڑک                                     حیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں

  • سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کی والدہ انتقال کر گئیں

    سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کی والدہ انتقال کر گئیں

    اسلام آباد: سابق فاسٹ بالر شعیب اختر کی والدہ انتقال کر گئیں۔

    باغی ٹی وی :سابق فاسٹ بولر کی والدہ کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر انہیں اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اطلاع دی کہ میری والدہ محترمہ رضائے الٰہی سے وفات پا گئ ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شعیب اختر نے کہا کہ میری ماں میرا سب کچھ اللہ کی مرضی سے جنت کے لئے روانہ ہوگئی ہیں

    شعیب اختر نے بتایا کہ والدہ کی نماز جنازہ بعد نماز عصر اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں ادا کی جائے گی-

    شعیب اختر کی والدہ کی وفات کی خبر کے بعد قومی و بین الاقوامی شخصیات اور مداحوں نے ان سے دلی تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی-

    شعیب اختر کو بین الاقوامی کرکٹ کے تیز ترین اور تیز ترین گیند بازوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس 2003 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 161 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ترین گیند کرنے کا ریکارڈ بھی ہے۔

    سابق کرکٹر نے 224 بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

    بھارتی فورسزکی فائرنگ اور تشدد سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

  • ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی وفات، صدر مملکت کا اظہار تعزیت

    ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی وفات، صدر مملکت کا اظہار تعزیت

    ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی وفات، صدر مملکت کا اظہار تعزیت

    پاکستان کے معروف ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی وفات پا گئے ہیں

    ڈاکٹر طاہر شمسی کی و فات کی تصدیق انکے اہلخانہ نے کی ہے، اہلخانہ کے مطابق ڈاکٹر طاہر شمسی برین ہیمرج کے بعد شہر قائد کراچی کی نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے اور انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں تھے، انکا علاج چل رہا تھا تاہم آج انکی موت ہو گئی ہے

    ڈاکٹر طاہر شمسی نے 1996 میں پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ متعارف کروایا تھا اور انہوں نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے 650 آپریشن کیے اور 100 سے زیادہ تحقیقی مضامین بھی لکھے۔ کرونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کے پلازما کے ذریعے کووِڈ 19 کے مریضوں کے علاج کا خیال بھی ڈاکٹر طاہر شمسی کو ہی پہلی بار آیا۔

    2011 میں ڈاکٹر طاہر شمسی نے خون سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار بلڈ ڈیزیز قائم کیا۔ ڈاکٹر طاہرشمسی این آئی بی ڈی میں اسٹیم سیل پروگرام کے ڈائریکٹر بھی تھے اور وہ رائل کالج کے پیتھالوجسٹ فیلو بھی تھے۔ ڈاؤ گریڈیٹس ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا نے ڈاکٹر طاہر شمسی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 2016 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا تھا۔

    صدر مملکت عارف علوی نے ماہر امراضِ خون پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے طب اور تحقیق کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں، ڈاکٹر طاہر شمسی کے بون میرو ٹرانسپلانٹ ،خون اور کینسر کے علاج میں خدمات ياد رکھی جائیں گی،

    کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

    بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

    کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

    کورونا سے صحت مند 80 افراد مزید 80 افراد کی جان بچا سکتے ہیں، ڈاکٹر طاہر شمسی

    پلازمہ کے عطیات کے حوالے سے لوگوں کا ردعمل کیسا ہے ؟ڈاکٹر طاہر شمسی نے بڑی اپیل کر دی

  • جانبحق نوجوان کو اٹھاتے پھر حادثہ،8 اور زخمی

    جانبحق نوجوان کو اٹھاتے پھر حادثہ،8 اور زخمی

    قصور
    کنگن پور سے لاہور جاتے ہوئے الہ آباد کے قریب کنٹیر کیساتھ ٹکرانے سے نوجوان موٹر سائیکل سوار جانبحق ساتھی زخمی،پیچھے سے ایک اور تیز رفتار موٹر سائیکل ٹکرا گئی،آٹھ مذید زخمی

    تفصیلات کے مطابق کنگن پور کا رہائشی نوجوان محمد علی ولد محمد اختر کنگن پور سے لاہور اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ جا رہا تھا کہ الہ آباد کے نزدیک سرور فوڈ کے قریب موڑ کاٹتے کنٹینر سے موٹر سائیکل جا ٹکرائی جس سے محمد علی موقع پر خالق حقیقی سے جا ملا اور اس کا دوسرا ساتھی شدید زخمی ہو گیا جنہیں لوگ اٹھانے میں مصروف تھے کہ پیچھے سے حجرہ شاہ مقیم سے آتی ہوئی تیز رفتار موٹر سائیکل زخمیوں کو اٹھانے والوں سے جا ٹکرائی جس کے باعث کل آٹھ افراد زخمی ہو گئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے
    حادثہ صبح 6 بجے پیش آیا
    حادثہ کنٹیر والے کی غفلت کے باعث پیش آیا

    خالق حقیقی سے جا ملنے والا محمد علی انتہائی متقی اور پرہیز گار نوجوان تھا جس کی وفات کی خبر سن کر پورا علاقہ غم میں ڈوب گیا
    اہلیان علاقہ نے محمد علی کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعائیں کی ہیں

    ریسکیو 1122 نے تمام زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور منتقل کر دیا ہے جن کا علاج جاری ہے

  • وفات پانے والے ڈولفن اہلکار کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    وفات پانے والے ڈولفن اہلکار کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    قصور
    کل دوران ڈیوٹی ڈولفن فورس لاہور کے اہلکار قصور کے رہائشی کی دوران ڈیوٹی ایکسیڈنٹ ہونے پر وفات ہو گئی تھی جس کی نماز جنازہ رات 10 بے آبائی گاؤں میں ادا کر دی گئی، علاقہ میں ہر آنکھ اشکبار

    تفصیلات کے مطابق کل صوا آصل میں دوران ڈیوٹی سرکاری موٹر سائیکل پر ایکسیڈنٹ سے وفات پانے والے قصور کے رہائشی نوجوان کی نماز جنازہ رات 10 بجے آبائی گاؤں میں ادا کر دی گئی
    وفات پانے والا نوجوانوں محمد توصیف ولد طاہر خان میئو بستی قاضی والی کھارا کا رہائشی تھا جو کہ دو اہلکار کل دوپہر 3 بجے صوا آصل رائیونڈ روڈ پر ڈیوٹی کے دوران پیٹرولنگ کر رہے تھے کہ دو موٹر سائیکل سوار نوجوان ان کی موٹر سائیکل سے ٹکرا گئے جس سے ٹکرانے والے دونوں موٹر سائیکل نوجوان بھی فوت ہوگئے تھے جبکہ توصیف کا ڈولفن اہلکار ساتھی شدید زخمی ہوا جو کہ ہسپتال میں زیر علاج ہے
    نوجوان توصیف انتہائی محنتی اور ہمدرد انسان تھا جس کی ایک معصوم تین سالہ بیٹی ہے
    توصیف کا جسد خاکی گھر پہنچنے پر پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشک بار ہو گئی نماز جنازہ میں علاقہ کی سیاسی،صحافی،مذہبی و دیگر مکتبہ فکر کے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی

  • وزیراعلیٰ پنجاب  عثمان بزدار کا ماضی کی معروف اداکارہ نیلو بیگم کے انتقال پر افسوس کا اظہار

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ماضی کی معروف اداکارہ نیلو بیگم کے انتقال پر افسوس کا اظہار

    لاہور31جنوری:
    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا ماضی کی معروف اداکارہ نیلو بیگم کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار, مرحومہ کے بیٹے شان اور سوگوار اہل خانہ سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت

    انکا کہنا ہے کہ نیلو بیگم فن اداکاری میں منفرد مقام رکھتی تھیں. نیلو بیگم کی یاد گار فلمیں آج بھی پرستار نہیں بھولے ۔ نیلو بیگم نے لازوال کرداروں سے فلموں کو امر کیا۔ نیلو بیگم نے فلم ”زرقا“ میں جاندار اداکاری کی۔نیلو بیگم کے انتقال سے فلم انڈسٹری کا ایک سنہری دور اختتام پذیر ہوا ۔

  • اہم سیاسی شحضیت کی وفات پر لوگوں کا اظہار غم

    اہم سیاسی شحضیت کی وفات پر لوگوں کا اظہار غم

    قصور
    اہم سیاسی و سماجی راہنما کی وفات،لوگوں کا اظہار تعزیت
    تفصیلات کے مطابق پی پی 160قصور کے سینئر رہنما رانا اعجاز احمد خاں کے بڑے بھائی اور بھٹی آرگنائزیشن ڈسٹرکٹ قصور کے صدر رانا عدنان بوبی خاں کے ماموں
    رانا پرویز احمد خاں اچانک ہارٹ اٹیک ہونے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
    لوگوں نے بتایا کہ رانا پرویز احمد خاں مرحوم لوگوں سے ہمیشہ پیار محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے غریبوں کا ہمیشہ احساس کرتے اور اور ان کی مدد کرتے رانا پرویز احمد خاں کی وفات پر راجہ جنگ پریس کلب ،انجمن تاجران راجہ جنگ ،ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور ۔ڈسٹرکٹ پریس کلب لاہور ،این اے 122 ،پی پی 160، پی پی 182، پی پی 183 کی تمام سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کی