Baaghi TV

Tag: وفاقی کابینہ

  • سیلاب .خواتین اور بچوں سمیت  1325 لوگ لقمہ اجل بنے،کابینہ میں بریفنگ

    سیلاب .خواتین اور بچوں سمیت 1325 لوگ لقمہ اجل بنے،کابینہ میں بریفنگ

    سیلاب، مرد، خواتین اور بچوں سمیت 1325 لوگ لقمہ اجل بنے،کابینہ میں بریفنگ
    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے تمام کابینہ ممبران کو خوش آمدید کہا۔

    کابینہ نے آج یومِ دفاع و شہدائے پاکستان کے موقع پر افواج ِ پاکستان کے شہدا اور سیلابی ریلوں کی نذر ہوجانے والے افراد کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کی۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں سیلاب اور اُس سے ہونے والی تباہی کی موجودہ صورتحال اور وفاقی اور صوبائی محکموں کی طرف سے جاری ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں پر مفصل بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حالیہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے جس میں سندھ اور بلوچستان بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔جن میں 81 اضلاع کی 6615 یونین کونسلیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ان میں بلوچستان کے 32 سندھ کے 23 خیبر پختونخواہ کے 17، گلگت بلتستان کے 6 اور پنجاب کے 3 اضلاع شامل ہیں۔ 14 جون سے اب تک پورے پاکستان میں پچھلے تیس سال کی نسبت 190 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، جبکہ سندھ میں اس کی شرح 465 فیصد اور بلوچستان میں 437 فیصد رہی ہے۔ ملک بھر میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت 1325 لوگ لقمہ اجل بنے۔ جن میں سندھ کے 522، خیبرپختونخواہ کے 289، بلوچستان کے 260، پنجاب کے 189، آزاد جموّں کشمیر کے 42 گلگت بلتستان کے 22 افرادشامل ہیں۔ مجموعی طور پر پورے ملک میں اب تک 12 ہزار 703 لوگ زخمی ہوئے جن میں سندھ کے 8321، پنجاب کے 3844، خیبرپختونخواہ کے 348، بلوچستان کے 164، آزاد جموں و کشمیر کے 21 اور گلگت بلتستان کے 5 افراد شامل ہیں۔

    حالیہ تاریخی مون سون بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں 16 لاکھ 88 ہزار گھر، 246 رابطہ پُل، 5 ہزار 735 کلومیٹر پر محیط سڑکیں اور 7 لاکھ 50 ہزار مویشی سیلابی ریلوں کی نذ رہوئے۔ وزیراعظم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض علاقوں جیسے سوات میں انسانی غفلت کے باعث تباہی آئی جہاں River Bed میں غیر قانونی طور پر ہوٹل تعمیر کیے گئے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی وہRiver Bed میں زمین کے استعمال سے متعلق زوننگ قوانین و ضوابط پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی تباہی سے بچا جاسکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ایسے معاملات پر سیاست بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ چند روز پہلے سیلاب زدگان کے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے وزیراعظم نے نیشنل فلڈ ریسپانس اینڈ کوارڈینیشن سینٹر(NFRCC) قائم کیا۔ NFRCC کے حکام نے کابینہ کو بتایا کہ اندازے کے مطابق ملک بھر میں زیرِ آب رقبے کا 80 سے 90 فیصد گندم کی کاشت کے لیے موزوں بنایا جاسکے گا، بصورتِ دیگر ملک میں خوراک کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نے BISP کے ذریعے12 لاکھ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں ترجیحی بنیادوں پر 25 ہزار روپے فی خاندان فلڈ ریلیف کیش کی تقسیم یقینی بنانے کا اہتمام کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم نے ابتدائی طور پر 28 ارب روپے مختص کیے۔ اب تک 20 ارب روپے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ بقیہ 8 ارب روپے اگلے تین دنوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اس فلڈ ریلیف کیش کا 55 فیصد بلوچستان میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافے کو مدِنظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے BISP کے ذریعے تقسیم کی جانے والی 28 ارب روپے کی رقم کو بڑھا کر 70 ارب روپے کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے اس رقم کو شفاف طریقے سے سیلاب زدگان تک پہنچانے کے لیے حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔ وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے سندھ کو 15 ارب روپے، بلوچستان کو 10 ارب روپے، خیبرپختونخواہ کو10 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان کو 3 ارب روپے کی مالی امداد دینے کا بھی اعلان کررکھا ہے۔ وفاقی حکومت NDMA کے ذریعے سیلاب میں جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 لاکھ فی کس کی مالی امداد بھی مہیا کردی ہے۔ وزیراعظم نے وزیراطلاعات و نشریات، مریم اورنگزیب اور وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کی کاوشوں کو سراہا۔جنہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں ملکی اور عالمی سطح پر میڈیاپر موثر انداز سے آگاہی مہم چلائی۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی،وزارتِ مواصلات، وزارتِ توانائی، اقتصادی امور ڈویژن(EAD)، پلاننگ کمیشن، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP)، وزارتِ ریلوے اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(FWO) کے حکام کی بھی ستائش کی جو سیلاب کی تباہ کاریوں کے اثرات کم کرنے اور آفت میں گِھرے ہم وطنوں کی آگاہی، ریلیف اور ریسکیو کے لیے دن رات کا م کررہے ہیں۔

    وزیرِ ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان ریلوے کی چاروں لائینز سیلابی ریلے سے بُری طرح متاثر ہوئی ہیں اورکوئٹہ۔سبی سیکشن میں ایک رابطہ پُل تباہ ہونے کی وجہ سے ریلوے کے آپریشنز تاحال بند ہیں۔ وزیرِ توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کابینہ کو بتایا کہ بلوچستان کی810 میگا واٹ کی تین بڑی بجلی کی ٹرانسمیشن لائینز میں سے دو بحال کردی گئی ہیں۔ وزارتِ توانائی نے کابینہ کو بتایا کہ ملک بھر میں صرف وہ ہی گرڈ اسٹیشنز بند ہیں جو ابھی تک زِیر آب ہیں۔ اِس موقع پر وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں سیلاب کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کے بارے کابینہ کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اُن کو یقین دہانی کرائی کہ NDMA اور PDMAs کے باہمی رابطے اور تعاون سے صوبائی حکومتوں کو سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے خیمے اور مچھر دانیاں ترجیحی بنیادوں پر مہیا کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں NDMA او رتمام پارٹیوں کے نمائندگان کا ہنگامی اجلاس کل طلب کرلیا۔ وزیراعظم نے وزیر منصوبہ بندی اور چیئرمین NDMA کو فوری کراچی روانہ ہونے کا حکم دیا تاکہ سندھ کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کو بہتر بنایا جاسکے۔ کیونکہ سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین NDMA نے کابینہ کو بتایا کہ اب تک سندھ میں 24ہزار خیمے مہیا کیے جاچکے ہیں۔

    وزیراعظم نے عالمی برادری خاص طور پر چین، ترکی، متحدہ عرب امارات، جاپان، ازبکستان، قطر، فرانس اور ترکمانستان کے ساتھ ساتھUNICEFاور UNHCR کا شکریہ ادا کیا ہے جن کی طرف سے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی اشیاء پاکستان پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 5 کروڑ ڈالر کا امدادی سامان بھیجا ہے۔ ترکی کی جانب سے ضروری امدادی سامان کی پہلی کھیپ دو دن قبل موصول ہوئی۔ چین نے اپنی امدادی رقم میں 40 کروڑ RMB کا اضافہ کیا ہے، جبکہ جبکہ برطانیہ نے امدادی رقم کو 15 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ 50 لاکھ پاونڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے 3 کروڑ ڈالر اور پرنس آغا خان نے 1 کروڑ ڈالرکی امداد کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب امدادی پروگرام کا آغاز کررہا ہے۔ جبکہ قطری امیر اور اماراتی صدر نے ہر قسم کی مدد کا وعدہ کیاہے۔ ورلڈ بینک(WB)، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور جائیکا(JAICA) پاکستان کو اس آفت سے نمٹنے کے لیے امداد مہیا کررہے ہیں۔ 2010 کے سیلاب کے دوران اعلیٰ غیر ملکی شخصیات نے پاکستان کا دورہ کیا اور سیلاب زدگان کی بحالی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال اُس سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ اس لیے میں ہر روز ذاتی طور پر اعلیٰ غیر ملکی شخصیات کو دوبارہ پاکستان کا دورہ کرنے پر قائل کررہا ہوں۔ کیونکہ ہم سب مل کر ہی اس آفت پر قابو پاسکتے ہیں۔ آئیے ہم اس چیلنج کو قبول کریں اور اپنے دُکھی ہم وطنو کی بحالی اور خدمت میں جُت جائیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر غیر ملکی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرکے اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی۔ وزیراعظم نے پاکستانی مخیر حضرات اور پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ICCI) اور ملک کے دیگر چیمبر آف انڈسٹریز کا بھی شکریہ ادا کیا جو سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے وزیرِ اعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں کے باعث پاکستا ن بھر میں سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا کام ایک تحریک کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں قومی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا جنہو ں نے دنیا بھر کو پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی اصل صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز اور تمام صوبائی محکموں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہو ں نے سیلاب میں پھنسے افراد کے ریسکیو اور ریلیف میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔وزیراعظم نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کرخلقِ خدا کی خدمت کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو مل جل کرکام کرنے کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک قومی المیہ ہے جس سے نبردآزما ہونے کے لیے تمام جماعتوں کو قومی جذبے سے سرشار ہوکر اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ دشواریوں کے باوجود ہمیں قومی وحدت کا مظاہرہ کرکے مشکل میں گِھرے ہم وطنو کی خدمت کو یقینی بنانا ہے۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، 10 نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، 10 نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا
    وزیراعظم اور کابینہ اراکین نے وفاقی وزیر صنعت و تجارت مخدوم مرتضیٰ محمود، سیکرٹری کیبنٹ احمد نواز سکھیرا، سیکرٹری صنعت وتجارت چوہدری امداد اللہ بوسال کو سول ایوارڈز ملنے پر مبارکباد دی اور ان کی خدمات کو سراہا۔

    کابینہ اجلاس میں وزراتِ موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ،بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلوبل وارمنگ گیسوں کے فضا میں اخراج میں ہمارا حصہ دنیا کا صرف 1 فیصد بنتا ہے، کابینہ میں جنگی بنیادوں پر رین ہاروسٹنگ کی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا،اسلام آباد میں اس منصوبے کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اجراء کرنے کی تجویز زیرِ غور آئی،متفقہ طور پر شیری رحمان کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی، کمیٹی میں متعلقہ وزارتوں کے وزراء بھی شامل ہوں گے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی اور خوراک کا تحفظ تینوں ایک دوسرے سے منسلک چیلنجز ہیں،ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو ان کے اثرات سے بچانے کیلیے اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے متوقع مسائل کا بخوبی ادراک ہے،اس مسئلہ کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے

    دِیت کی کم از کم حد 30 ہزار 630 گرام چاندی کے برابر مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی،دِیت کی کم از کم حد43لاکھ روپے کے برابرمقرر کرنے کی منظوری دی گئی، وفاقی کابینہ نے 35 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری متفقہ طور پر مسترد کر دی اور کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں وفاقی کابینہ کی منظور ی کے بغیر کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا،وفاقی کابینہ نے 10 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی وفاقی کابینہ نے 22 لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دیدی

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    وفاقی کابینہ نے ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے مستقبل میں صرف ایندھن پر چلنے والے ملکی بجلی گھر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں ملک میں حالیہ لوڈشیڈنگ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ،کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کےمعاملے پرکابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی وفاقی کابینہ نے سکیورٹی ایکس چینج پروگرام کے آڈٹ کی منظوری دی لوڈمینجمنٹ پلان پرکابینہ کو بریفنگ دی گئی،اس وقت بجلی کی پیداوار کی گنجائش 23ہزار نوسو میگاواٹ ہے جبکہ گزشتہ ماہ بجلی کی طلب 30 ہزار میگاواٹ کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے پی ٹی آئی حکومت نے توانائی منصوبوں میں تاخیر کی ،وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر پانچ افراد کے نام ای سی ایل سے ہٹانے کی منظوری دی ہے، بجلی کی قیمت میں 7 روپے 90 پیسے اضافے کی سمری موخر کر دی گئی

    وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے دور میں کارخانے لگاتی تو آج لوڈشیڈنگ کم ہوتی، بجلی کے شعبے میں 383ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے ڈیموں میں پانی کی مقداربڑھنےسے 2ہزارمیگاواٹ بجلی سسٹم میں آئےگی،پن بجلی سسٹم میں آنےسےلوڈشیڈنگ میں کمی ہوگی،لائن لاسزوالے علاقوں میں 16گھنٹےکی لوڈشیڈنگ ہوسکتی ہے، 283ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ بڑھا ہے، سابق حکومت نےبجلی کے کارخانے نہ لگا کرمجرمانہ غفلت کی،اگر تمام کارخانے بھی چلا دیں تو بجلی کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکتے، آئندہ کوئی ایسا پلانٹ نہیں لگائیں گے جس میں امپورٹڈ ایندھن استعمال ہو،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی کسی کے علم میں نہیں تھا۔ روس یوکرین جنگ سے ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

    وزیرتوانائی خرم دستگیر نے کہا کہ سی پیک کے تحت سات سو بیس میگاواٹ کا کروٹ پن بجلی منصوبہ فعال کردیا گیا ہے۔ دوہزار تیرہ سے اٹھارہ تک مسلم لیگ ن کے دور میں شروع کئے گئے چارہزار چھ سو تئیس میگاواٹ کے توانائی منصوبے اگلے سال تک پیداوار دینا شروع کردیں گے اگلے سال تک شمسی توانائی اور نجی نیٹ میٹرنگ کے ذریعے مجموعی طورپر سات ہزار میگاواٹ بجلی آنے والے سال تک سسٹم میں شامل ہوجائیگی جس سے لوڈشیڈنگ کے مسئلہ پر قابو پانے میں مدد ملے گی

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • ایف اے ٹی ایف،کابینہ اجلاس میں آرمی چیف کی کاوشوں کو سراہا گیا، احسن اقبال

    ایف اے ٹی ایف،کابینہ اجلاس میں آرمی چیف کی کاوشوں کو سراہا گیا، احسن اقبال

    ایف اے ٹی ایف،کابینہ اجلاس میں آرمی چیف کی کاوشوں کو سراہا گیا، احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور قمر زمان کائرہ نے پریس کانفرنس کی ہے’

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے وزیراعظم نے کابینہ کو اعتماد میں لیا وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیرمملکت حنا ربانی کھر نے کابینہ کو بریفنگ دی،حکومت ملک کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے بھرپور کوشش کررہی ہے،امید ہے پاکستان کا گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں جانے کا راستہ کلیئر ہوجائے گا، کابینہ میں کسانوں کے لیے یوریا کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی بات ہوئی کابینہ نے ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ کی نظر ثانی کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،دنیا میں تمام سپلائی چین یوکرین وار کی وجہ سے بحران کا شکار ہے، پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر ملک کو مشکلات کا سامنا ہے، کابینہ نے جی ایس پی پلس معاہدے کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا،جی ایس پی پلس پاکستان اور ای یوکے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے اہم ہے،

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کی بڑی کامیابی ہوگی،آرمی چیف کی نگرانی میں ایک سیل بنایا گیا تھا، وفاقی کابینہ اجلاس میں آرمی چیف کی کاوشوں کو سراہا گیا،

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ غریب کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،

    گرفتاری کا خوف، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عدالت پہنچ گئے

    مریم نواز کی جعلی ویڈیو پوسٹ کرنیوالا پی ٹی آئی کارکن گرفتار

    سوشل میڈیا پر غیراخلاقی ویڈیوز چلانے والوں کیخلاف کریک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا ہے

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس ، وزیراعظم کی انڈونیشیا سے خوردنی تیل منگوانے پر وزیرصنعت اور ٹیم کو مبارکباد

    وفاقی کابینہ کا اجلاس ، وزیراعظم کی انڈونیشیا سے خوردنی تیل منگوانے پر وزیرصنعت اور ٹیم کو مبارکباد

    اسلام آباد: وزیراعظم میاں شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا معاملہ زیرغور آیا۔

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف، وزارت خارجہ اور ایف اے ٹی ایف سیل کو مبارک باد دی وفاقی کابینہ کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر بھی بریفنگ دی گئی وفاقی کابینہ کو ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت اپیل پر بھی وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔

    آج کا دن سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات

    وزیراعظم نے انڈونیشیا سے خوردنی تیل منگوانے پر وزیرصنعت اور ٹیم کو مبارک باد دی،ان کا کہنا تھا کہ خوردنی تیل کی کمی کی وجہ سے بحران پیدا ہوا، خوردنی تیل کی فراہمی کے لیے انڈونیشیا کے صدر سے بات کی تھی، وزارت صنعت اور وزارت خارجہ کے حکام نے اہم کردار ادا کیا، امید ہے کہ خوردنی تیل کی آمد کے بعد معاملات بہتر ہوجائیں گے۔

    شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی وفاقی کابینہ کو مختلف امور پر ویزہ پالیسی میں تبدیلی سے متعلق آگاہی دی گئی اجلاس میں سکوک بانڈ کے اجراء اور ائیر پورٹس پر انسداد منی لانڈرنگ پولیس اسٹیشن بنانےکی منظوری متوقع ہے-

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج بروز منگل کو طلب کر رکھا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی سکوک بانڈز کے اجرا کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل تھی۔

    سعودی سرمایہ کار پاکستان کی افرادی قوت سے فائدہ اٹھائیں،شہباز شریف

    کورونا سے بچاؤ کے انجیکشن ریمیڈیسور کی قیمت میں کمی بھی ایجنڈے کا حصہ تھی وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور ملتان ایئرپورٹس پر انسداد منی لانڈرنگ پولنگ اسٹیشنز بنانے کی منظوری ہونی تھی۔

    کراچی:مردوں اور خواتین کی باکسنگ ٹیم کے اوپن ٹرائلز کا انعقاد

  • عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل کے حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی بن گئی جو مذکورہ ڈیل اور آے آر یو کی کارروائی کے حوالے سے حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    گزشتہ دور حکومت میں برطانیہ سے آنے والے 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ ،وفاقی کابینہ نے این سی اے اور ملک ریاض خاندان کی خفیہ ڈیل کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے کابینہ نے ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی،3،12،19 کو یہ سیٹلمنٹ سیل کی گئی تھی جسے آج ڈی سیل کیا گیا ہے

    ملک ریاض نے کونسے وکیل کی خدمات حاصل کر لیں؟

    کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر نام نہاد مشیراحتساب تھے،شہزاد اکبر عمران خان دورحکومت میں معاملات مینج کرتے تھے ایک ڈاکومنٹ ترتیب دیاگیا جسے مصدق ملک شیئر کریں گے، گزشتہ دورحکومت میں کرپشن کے نئے طریقے دریافت کیے گئے پلان بنایا گیا کہ کس طرح 50 ارب روپے بچانا ہے اور حصہ نکالنا ہے،ڈاکومنٹ منظور کروا لیا گیا تو شہزاد اکبر وہاں گئے اور پورا عمل مکمل کروایا،وفاقی کابینہ نے ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ،کمیٹی ڈیل سے متعلق حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ بحریہ ٹاؤن کے 50 ارب روپے کو تحفظ فراہم کیا گیا، بحریہ ٹاؤن نے یہ زمین القادر ٹرسٹ کے نام ٹرانسفر کی،ڈونر بحریہ ٹاؤن اور دوسری جانب بشریٰ بی بی کے دستخط ہیں،خاتون اول خود اس کا حصہ تھیں اورخود سائن کیا،ٹرسٹی سابقہ خاتون اول اورعمران خان ہیں،بحریہ ٹاون کو پچاس ارب معاف کرنے پر بحریہ ٹاون کی طرف سے ساڑھے چار سو کنال زمین القادر ٹرسٹ کو دی گئی کاغذات میں مالیت 53 کروڑ روپے لکھی، اصل قیمت 10 گنا زیادہ ہے۔ روحانیت کے نام پر کوئی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی، صرف پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس کے نام کو القادر یونیورسٹی کا نام دے دیا۔ اور جب جب عمران خان وہاں گیا تو بحریہ ٹاؤن نے ہی فنکشنز کا انتظام کیا، اس کے علاوہ بھی تمام تعمیراتی اخراجات بحریہ ٹاؤن نے ہی کیے۔

    ملک ریاض ان دنوں خبروں میں ہیں، ملک ریاض کی آڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں، ایک آڈیو مبینہ طور پر ملک ریاض اور انکی بیٹی کی بات چیت ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو ہیروں کا ہار دینے اورکام کے بارے میں ہے، دوسری آڈیو عمران خان کا آصف زرداری کو پیغام پہنچانے کی ہے،دونوں آڈیو کی اگرچہ ملک ریاض تردید کر چکے ہیں تا ہم دوسری جانب یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک ریاض نے بنی گالہ کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح خان عرف فرح گوگی کے نام زمین بھی کروائی جس کی وجہ سے بھی وہ خبروں میں آئے


    شہزاد اکبر جو عمران خان کے دور حکومت میں وزیراعظم کے معاون خصوصی رہ چکے ہیں، انہوں نے اسوقت ایک ٹویٹ کی تھی جس میں کہا تھا کہ برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ ملک ریاض کے تصفیے کے بعد 19 کروڑ ملین پاؤنڈ (پاکستانی روپوں میں تقریباً 38 ارب) سپریم کورٹ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ میں جائیں گے 19 کروڑ میں سے 14 کروڑ پاؤنڈ (ساڑھے 28 ارب روپے) سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں سپریم کورٹ کو پیسے ملنے کے بعد حکومت کورٹ سے درخواست کرے گی کہ پیسے حکومت پاکستان کو دے دیے جائیں تا کہ عوام کی فلاح پر خرچ کیے جا سکیں

    شہزاد اکبر نے ٹویٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے کو صیغۂ راز میں رکھنے کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں حکومت نے برطانیہ سمیت دوسرے ملکوں سے بھی اسی طرح کے معاہدے کر رکھے ہیں اور ہمیں کروڑوں ڈالر آنے کی امید ہے اس لیے ہم صیغۂ راز میں رکھنے کے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے.

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کابینہ کو بجٹ کے نکات پر بریفنگ دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر 71 ارب 59 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔

    بجٹ تقریر کے اہم نکات سامنے آئے ہیں ،بجٹ تقریر کے نکات کے مطابق دفاع پر 1450 ارب روپے خرچ ہوں گے حکومت کے قرض لینے کی حد جی ڈی پی کا 60 فیصد مقرر کی گئی ریونیو میں صوبوں کا حصہ 35 سو 12 ارب روپے رہا ترقیاتی بجٹ کے لیے 800 ارب روپے مختص ہیں رمضان پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص ہیں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام اب ایک کروڑ افراد کو فنڈز دے گا بجٹ کا حجم 9 ہزار500 ارب روپے ہوگا، صنعت کے لیے رعایتی گیس کی سہولت دی جائے گی صنعتوں کے ٹیکس ریفنڈ فوری دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے گوادر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جلد گیس کے نئے نرخوں کا اعلان کرینگے نیشنل یوتھ کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا، وفاقی حکومت کے اخراجات 530 ارب روپے ہیں گرین یوتھ مومنٹ کا آغاز کیا جائے گا،سابق حکومت نے پونے 4 سال کے عرصے میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا،

    نئے مالی سال کیلئے 9 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 5 سو 23 ارب روپے رکھے جائیں گے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 2 سو 55 ارب روپے مقررکیا گیا ہے، دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 86 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں کسانوں کےلئے ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں مقامی خیراتی اسپتالوں کو امپورٹ پر چھوٹ دینے کی بھی تجویز ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہاز شریف نے حکومتی اتحادیوں کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، حکومتی اتحادیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بجٹ سے متعلق حکمت عملی پر بات ہو گی، اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لئے ہفتے کی چھٹی بحال کردی

    وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لئے ہفتے کی چھٹی بحال کردی

    اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور اس پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔

    سابق صدر آصف علی زرداری لاہور پہنچ گئے،حمزہ شہباز کو ظہرانے پر دعوت

    ذرائع کا کہناہے کہ وفاقی کابینہ نے ہفتے کی چھٹی بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم توانائی بحران پر قابو پانے کےلیے مارکیٹوں کی شام 7 بجے بندش کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کابینہ نے وزرا اور سرکاری ملازمین کے پیٹرول میں 40 فیصد کٹوتی کی منظوری بھی دے دی ہے۔

    توانائی کی بچت کا پلان کابینہ اجلاس میں پیش کردیا گیا وزارت توانائی کی جانب سےبجلی بچت کیلئے8 نکاتی فارمولا تیار کیا گیا بجلی بچت سےمتعلق تجاویزوزیراعظم کےقائم ورکنگ گروپ نےتیارکیں-

    اجلاس میں سرکاری تیل کے کوٹے میں 33 فیصد کمی کرنے کی تجویز دی گئی ہفتے میں ایک دن گھرسے کام کرنے کی تجویزبھی پلان کا حصہ تھا تجویز میں کہا گیا نجی شعبہ بھی ایک دن گھرسے کام کرنے کو ترجیح دے، گلیوں،شاہراہوں پرلگی لائٹس جزوی طورپرآن رکھنے کی تجویز بھی دی گئی-

    ،وزارت توانائی کی تجویز میں کہا گیا کہ مارکیٹس،شادی ہالزرات 10 بجےبند کیےجائیں توانائی کی بچت کیلئے بھرپورآگاہی مہم چلانے کی بھی تجویز دی گئی-

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا میرا پکا ارادہ ہے،یہ آدمی نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے،رانا ثناءاللہ

    دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ہفتے میں دو تعطیلات کی تجویز دی ہے خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حالات میں سارے مللک میں ہفتہ میں ہفتہ اتوار پور ی تعطیل اورجمعہ کےروز آدھادن یعنی ہفتہ میں 4 سے 5 دن کام ہوکام کےدنوں میں ایک گھنٹہ دفاتر کا دورانیہ بڑھا دیا جائے.سڑکوں پہ ٹریفک کم ہو گی.تیل اور بجلی دونوں کی بچت ہو گی.کفایت شعار ی کے کلچر کو فروغ ملے گا-

    عمران خان کے ایٹمی پروگرام اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بیان پر قرارداد پیش

  • وفاقی کابینہ کی چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری

    وفاقی کابینہ کی چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی :چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے دی گئی جس کے مطابق چین سے ملنے والا قرضہ تین سال کیلئے ہوگا۔ سمری کے مطابق 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرضہ ایک فیصد مارجن پر 2019 کے معاہدے کے تحت ملے گا۔

    معاشی مشکلات: حکومت کا کورونا لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کرنے پر غور

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ قرض واپسی مؤخر کرنے کی شرائط طے پا گئی ہیں، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ وفاقی کابینہ نے وزارت خزانہ کی سمری کی منظوری دی۔

    دوسری جانب پیٹرول کا درآمدی بل کم کرنےکیلئے حکومت کورونا لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کرنے پر غور کر رہی ہے رواں مالی سال کے 10 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 17 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہےملک بھر میں اس غیرمعمولی صورت حال پر حکومت نے فوری طور پر غیر معمولی اقدامات کرنے پرغور کیا ہے جیسا کہ زرمبادلہ کےذخائرکی بچت کیسےکی جائے؟ اور ملک و قوم کو معاشی مشکلات سے کیسے نکالا جائے؟-

    اس حوالے سے کئی تجاویز زیر غور ہیں، جن میں کورونا کے دنوں میں لاک ڈاؤن جیسے اقدامات، ہفتے کو سرکاری دفاتر میں چھٹی، 3 دن ورک فرام ہوم اور اتوار کو شہروں میں کاروں کے داخلے پرپابندی کی تجاویز شامل ہیں ان تجاویز پر عمل سے یومیہ 20 فیصد تک توانائی کی بچت کا امکان ہے،کورونا کے دنوں میں یومیہ چار سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ تک بجلی کی بچت ہوتی رہی ہے ۔

    سولہ سو ایک سواسی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

  • سرکاری افسروں کیلئے نئی گاڑیوں پر پابندی سمیت یوٹیلٹی بلوں میں  بھی کٹوتی کی تجویز

    سرکاری افسروں کیلئے نئی گاڑیوں پر پابندی سمیت یوٹیلٹی بلوں میں بھی کٹوتی کی تجویز

    حکومت نے کفایت شعاری مہم پر عملدرآمد شروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اراکین کے پیٹرول کوٹے پر 40 فیصد کٹوتی کی تجویز ہے جبکہ تمام وزارتوں کے سرکاری افسران کے پیٹرول کوٹے پر بھی کٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان اور سرکاری افسران کے بجلی، گیس اور ٹیلی فون بل پر بھی کٹوتی کی تجویز زیر غور ہے، تمام وزارتوں میں تزئین و آرائش پر بھی پابندی کی تجویزدی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام وزارتوں میں افسران کے لیے نئی گاڑیاں لینے پر بھی پابندی کی تجویز دی گئی ہے.

    واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد سندھ اور پنجاب نے کابینہ اراکین کے پیٹرول پر 40 اور کے پی نے 35 فیصد کٹ لگایا ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب نے کابینہ کے پٹرول الاؤنس کو مکمل ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تمام صوبائی محکموں کے پٹرول اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں.

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز اورصوبائی کابینہ کے ارکان سرکاری پٹرول نہیں لیں گے اور سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پٹرول کے اخراجات خود ادا کرینگے.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ میں اضافے کے حوالے سے عوام کی مشکلات کا پورا احساس ہے۔ بچت کا آغاز خود سے کریں گے۔ وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومتی سطح پر بچت،کھاد کی فراہمی اور دیگر اشیاء ضروریہ کے نرخ کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے.

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کوچینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہ دینے کی تجویز پیش کی جائے گی.وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لئے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے،ضرورت مند طبقے کو اشیا ضروریہ میں سبسڈی کے لئے تاریخی اقدامات کر رہے ہیں.

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری کیلئے سخت اقدامات کا اعلان کیاتھا اور
    وفاقی کابینہ کے ارکان اور سرکاری افسران کو ملنے والے فری پیٹرول میں کٹوتی کا فیصلہ کیا تھا.

    خیال رہے کہ ملک میں گزشتہ ایک ہفتے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی وزرا اور افسران کو ملنے والے فیول کا کوٹہ 40 فیصد کم کر دیا ہے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدامات کافی نہیں، بڑے اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے، کورونا کی وبا کے دوران کیے گئے فیصلوں جیسے اقدامات کی ضرورت ہے ، آسائشیں کم کی جائيں، بجلی کی بچت کیلئے بازاروں کے اوقات کار کم کیے جائيں۔